قاسم خورشید کا تخلیقی انفراد




شہاب ظفر اعظمی
22 Jun, 2017 | Total Views: 192

   

قاسم خورشید ذہنی طورپر ترقی پسند نقطۂ نظر کے حامل ہیں،اس لیے ترقی پسندتحریک کے نظریات و خیالات کا اثر ان کے حساس ذہن پر گہرا رہاہے۔لہذا جب بھی انہوں نے قلم اُٹھایاانہیں وہ دنیا سب سے پہلے دکھائی دی جو دبے کچلے ،تباہ حال ،کمتر وسائل حیات کے ساتھ زندگی گزارنے والے غریب اور نادار لوگوں نے بسائی ہے۔اس طبقے میں بھی انسانوں کی جو متنوع اور ہمہ رنگ اقسام پائی جاتی ہیں،ان میں سے انہوں نے ایسے کرداروں کا انتخاب کیاہے ،جن پر عام فن کاروں کی نظر نہیں پڑتی۔شاید ان لوگوں کے مسائل کی تہ میں اترنا ہر کس وناکس کے بس کی بات بھی نہیں ہے،کہ اپنی لائبریری میں بیٹھ کر غریبوں کے مسائل پر لکھنے اور ایسے کرداروں کے ساتھ زندگی کے شب وروز گزارنے میں بڑا فرق ہے۔قاسم خورشید ایسے افسانہ نگار ہیں جنہوں نے اپنی بے شمار صبحیں اور ان گنت شامیں ترقی پسند قافلوں ،نکڑ ناٹکوں ،مزدوروں کی لڑائیوں اور احتجاجی جلوسوں کی نذر کی ہیں،اور تب انہوں نے غریبوں ،مظلوموں اور تباہ حالوں کا دکھ درد قریب سے دیکھاہے۔لئی کھاتا ہوا بچہ،میّا،سُبّا،کنّی،سائمن باسکی،چھو بابا،سُکھیا،جتندرپرساد،مُنّو پہلوان،کِسنا،پھولی اور وہ لڑکی جیسے کردار ان کی کہانیوں میں اپنی تمام جلوہ سامانیوں ،دنیائے سوز والم،خوبیوں اور خامیوں کے ساتھ موجود ہیں۔ان کی کہانیوں میں مظلوموں اور غریبوں کا دل دھڑکتا ہے۔قاسم خورشید نے ایسے ہی دلوں کی نفسیات ،محبتوں ،وفا داریوں اور نارسائیوں کے کامیاب مرقعے پیش کیے ہیں۔
موضوع کے اعتبا ر سے قاسم خورشیدکی کہانیوں کو تین رنگوں میں تقسیم کیا جا سکتاہے۔یہ تینوں رنگ بنیادی طورپر افسانہ نگار کے اُس نقأہ نظر کا عکس ہیں جس کا ذکر اوپر کیا گیاہے۔پہلا رنگ اتحاد،یگانگت اور اخوت و محبت سے علاقہ رکھتاہے مثلاً میّا،کشن پور کی مسجد،کوئی ہاتھ،ریت پہ ٹھہری ہوئی شام،جڑیں وغیرہ ۔دوسرے رنگ میں محبت ،تنہائی،اقدار کی بازیافت اور ناسٹلجیا کی جھلک ملتی ہے جیسے کاہے راکھے سائیاں،دیواریں،رات ،پھانس،اندر بارش باہر دھوپ،کوئی آواز وغیرہ اور تیسرے رنگ کی کہانیاں غربت ،ظلم اور استحصال کے خلاف احتجاج پر مبنی ہیں مثلاً باگھ دادا،کنّی کا راجکمار،وہ لڑکی،سیلاب ،حربہ،تجارت،پوسڑ،اندرآگ ہے،سائمن باسکی وغیرہ۔اِن تینوں رنگوں میں بعض بہت اچھی کہانیاں بھی ہیں اور بعض اچھی اور کم اچھی بھی۔مگر ایک بات ان سب میں مشترک ہے کہ افسانہ نگار نے زندگی اور اس کے واقعات و مفروضات کو طرح طرح سے دیکھ کر اپنی کہانیوں میں تنوع اور رنگا رنگی پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔یہ رنگا رنگی کہانیوں کی وجہ سے انداز بیان اور تکنیک میں بھی دکھائی دیتی ہے ،کہ بعض کہانیاں راوی نے صیغہ واحد غائب کی شکل میں بیان کی ہیں تو بعض میں راوی واحد متکلم بن گیاہے۔کسی میں پوری کہانی مکالموں میں مکمل ہوئی ہے تو کسی میں ڈراما یا فلیش بیک تکنیک کا خوبصورت استعمال کیا گیاہے۔یعنی اِن افسانوں میں بیانیہ کی مختلف تکنیکیں کم وبیش کامیابی کے ساتھ برتی گئی ہیں۔لہذا ان کو پڑھتے وقت کسی قسم کی تکرار کا احساس نہیں ہوتا ۔
قاسم خورشید افسانہ گوئی کے فن سے واقف ہیں۔کسی واقعے یا تجربے کو کس طرح قصہ بنا نا چاہیے وہ یہ فن جانتے ہیں۔وہ اپنے افسانے کا موضوع ہمیشہ پیش نظر رکھتے ہیں اورمختلف واقعات میں مختلف کردار اس طرح لاتے ہیں جیسے وہ ان ہی واقعات کے لیے بنے ہوں۔انسانی رشتوں اور اس کی فطری جبلتوں سے متعلق ان کرداروں کی داخلی اور خارجی کشمکش ،ان کی حسرت و ناکامی،بے یقینی و بے اطمینانی،عیش و طرب اور دردو کرب کی تصویریں بنا کر وہ قاری کو زندگی کی حقیقی تصویریں دکھاتے ہیں۔مثلاً کینوس پر جو چہرے اتحاد،یگانگت اور اخوت و محبت کا رنگ بکھیرتے ہیں اُن میں ’میّا‘کو آپ چاہ کر بھی فراموش نہیں کر سکتے۔یہ انسان کی انسان سے بے لوث محبت کا نمائندہ کردار ہے ،جس نے جعفر امام کو دو بتاشے پر خرید کر اُس کی تقدیر بدل دی۔افسانے میں نیم کے پیڑ کا کٹ جانا در اصل ایسے ہی بے لوث کرداروں اور قدروں کے ختم ہونے کا استعارہ ہے جنہیں ہمارے صارفیت زدہ سماج نے کاٹ کر ہمارے سروں سے محبتوں ،شفقتوں اور روایتی قدروں کا سایہ چھین لیاہے۔اِنہیں قدروں کو زندگی بخشنے والے افسانے کشن پور کی مسجد،کوئی ہاتھ اور جڑیں وغیرہ بھی ہیں۔وطن پرستی ،سیکولرزم اور بابری مسجد انہدام کے المیے پر بہت ساری کہانیاں لکھی گئی ہیں۔ایسی ہر کہانی میں سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ہندستان فرقوں میں کیوں بٹاہوا ہے؟ہم سکون کی زندگی کیوں نہیں گزارپاتے؟آزادی مل گئی مگر زندگی خون آلود کیوں ہے؟جیسے سوالات۔قاسم خورشید نے ان سوالات سے نبردآزما ہونے کے بجائے اتحاد ،یگانگت اور سیکولرزم کی اُس روح تک پہنچنے کی کوشش کی ہے جو ان سوالات کا واحد جواب ہے۔انہوں نے مسجد یا مندر کے انہدام کا ذکر کیے بغیر ’کشن پور کی مسجد‘ میں ہندستان کے زیادہ تر ہندؤں اور مسلمانوں کا نقطۂ نظر پیش کر دیاہے،جو نہ تو کسی مسجد کا انہدام چاہتے ہیں اور نہ کسی مندر کی مسماری۔’کوئی ہاتھ‘اور ’جڑیں‘ جیسے افسانوں میں بھی اخوت ،محبت اور یگانگت کا ایسا ہی ماحول خلق کیا گیا ہے جہاں مثبت قدروں کی بازیافت اور رمضانی اور شیخ جمعراتی جیسے کرداروں کی تلاش سے معاشرے کو منزہ بنانے کا جذبہ دکھائی دیتاہے۔یہ افسانے مندر اور مسجد کے نام پر سیاست کی روٹیاں سیکنے والوں ،اپنی روایات کو فراموش کرنے والوں اور اخوت و اخلاقیات کی دھجیاں اڑانے والوں کے لیے تازیانۂ عبرت سے کم نہیں۔
دوسرے رنگ کی نمائندگی میں قاسم خورشید نے عشق ومحبت کے موضوع پر جو کہانیاں لکھی ہیں وہ اِس موضوع پر ان کی دسترس کا اظہار کر تی ہیں۔اس سلسلے میں وہ چھوٹے سے چھوٹے واقعے کو ایک بڑا قصہ بنا کر پیش کرنے میں مہارت رکھتے ہیں۔مثال کے طور پر پھانس،رات،اندر بارش باہر دھوپ اور کوئی آواز وغیرہ پڑھ جائیے۔یہاں عشق کی وارفتگی،یادوں کا عذاب اور ناسٹلجیائی کرب تو دکھائی دے گا،وہ بے راہ روی ،بے اعتدالی یا عریانیت نہیں ملے گی جسے بعض لوگ رومانی کہانیوں کی جان سمجھتے ہیں۔رات،دیواریں اور کوئی آواز جیسی کہانیاں تنہائی کے اُس کرب کو بڑے دلآویز اسلوب میں پیش کرتی ہیں ،جب انسان دعا کرنے لگتا ہے:
یاد ماضی عذاب ہے یارب چھین لے مجھ سے حافظہ میرا
ریت پر ٹھہری ہوئی شام‘راجستھان کے ایک غریب قبیلے کی کہانی ہے جہاں پھولی اور کِسنا کی محبت پروان چڑھتی ہے۔محبت اور اعتماد کا رشتہ اتنا مضبوط ہے کہ غربت اور بھوک بھی نہ تو کسنا کی محبت کو نقصان پہنچا پاتی ہے اور نہ پھولی کی معصومیت پر اثر انداز ہوتی ہے۔’پھانس‘اِس رنگ کی سب سے الگ کہانی ہے جو مکالماتی تکنیک کے سہارے پایۂ تکمیل کو پہنچتی ہے۔مُسکان ایک ماڈرن لڑکی ہے مگر مشرقی انداز فکر اور قدروں سے وابستہ ہے ،اس لیے وہ واحد متکلم سے بے انتہا عشق کے باوجود اپنے پاپا کی تنہائی کے خوف سے نہ صرف شادی سے انکار کردیتی ہے بلکہ واحد متکلم کی شادی روبینہ سے کرواکر اس کی زندگی سے نکل جاتی ہے ۔مگر کہاں؟وہ تودور جاکر بھی واحد متکلم کی سانسوں میں بسی ہوئی ہے،اور اس قدر رچی بسی ہے کہ وہ اس سے مُکتی پانے کی دعائیں کرتاہے۔یہاں قاسم خورشید نے فرد کی نفسیات اور اس سے متعلقہ مسائل کو اجاگر کرنے میں اپنی بھرپور صلاحیت سے کام لیاہے۔یہ کہانیاں رشتوں کو لے کر لکھی گئی ہیں جہاں رشتے اپنے تقدس ،اپنی حرمت کے تحفظ اور فرائض و ذمہ داریوں کے تئیں حساس ہوتے ہیں۔یہاں مرکزیت نسوانی کرداروں کو ہے جو حالات سے سمجھوتہ تو کرتی ہیں مگر نہ ضمیر فروشی کی ترغیب دیتی ہیں اور نہ خودکشی کا تصور ۔مذکورہ افسانوں کے علاوہ’ٹھیس‘’اندر بارش باہر دھوپ‘’رات‘’سبا رو نہیں سکتی‘وغیرہ بھی زندگی کا محاصرہ کیے ہوئے ایسے ہی توانا کرداروں اور زندہ احساسات کی نمائندگی کرتے ہیں۔
تیسرے رنگ کے نمائندہ افسانے ،کنّی کا راجکمار،وہ لڑکی ،حربہ ،تجارت ،پوسٹر ، اندر آگ ہے اور سائمن باسکی وغیرہ میں قاسم خورشید نے غربت ،ظلم ،نفرت اور استحصال کے خلاف زبردست احتجاج کو موثر اور بلند آواز کے ساتھ ابھارنے کی کوشش کی ہے۔استحصال اور احتجاج کے سایے تلے لکھی گئی یہ کہانیاں ہمارے سماج کی مختلف سچائیاں اجاگر کرتی ہیں،جہاں غربت ،ظلم ،دہشت گردی ،حیوانیت اور مشینی زندگی نفرت کے بیج بو رہی ہے ۔انسان میکانکی نفسیات کا شکار ہو رہاہے اور مادیت روحانیت کی جگہ قبضہ جمانے پر تلی ہے۔ایک حساس آدمی ایسے ماحول سے متاثر ہوکر کیسی feelingsرکھتاہے،اس کی اچھی عکاسی ان کہانیوں میں دیکھنے کو ملتی ہے۔’پوسٹر‘ تو وہ مشہور زمانہ افسانہ ہے جو قاسم خورشید کی شناخت بنا،اس لیے اس پہ زیادہ گفتگو نہیں کروں گا ،مگر احمد یوسف کی اِس بات سے ضرور اتفاق کرنا چاہوں گا کہ ’پوسٹر جیسا افسانہ کبھی کبھی سرزد ہوتاہے‘۔محمد حسن سے وہاب اشرفی تک سب نے پوسٹر کو اتنا سراہاہے کہ اب یہ اردو فکشن کا ایک اہم حصہ بن گیاہے۔اس میں ایسی سفاک حقیقتوں کا بیان ملتاہے جس کا تصور وہ شخص کبھی نہیں کر سکتا جس کا تعلق زمینی سچائیوں سے نہ ہو۔قاسم خورشید نے چونکہ اپنے شب وروز مزدوروں کے بیچ ،جھریا کی کولریوں میں،کسانوں کے گاؤں میں اور اِپٹا کو متحرک کرتے ہوئے پٹنہ جیسے کئی شہروں کی سڑکوں پہ گزارے تھے اس لیے انہوں نے پوسٹر،اندرآگ ہے،سائمن باسکی اور کنّی کا راجکمار جیسی سچائیوں کا سامنا کیاہے۔اور انہیں سچائیوں کو بڑے خلوص ،ذمہ داری اور سنجیدگی کے ساتھ قاری کی نذر کر دیاہے۔اِن کہانیوں کی سب سے بڑی خوبی ان کی صداقت اور جذبے کا خلوص ہے جو محمد حسن کو ہی نہیں انور سدیداور وہاب اشرفی جیسے ناقدین کو بھی متاثر کرتاہے۔
اندر آگ ہے‘بھی کوئلری مزدوروں کی زندگی ،اُن کے کرب کو موثر ڈھنگ سے پیش کرتاہے۔یہاں کوئلری کے اندر کی آگ کب کس زندگی کو خاکستر کردے ،کہا نہیں جا سکتا۔اب تک بے شمار زندگیاں اس کی نذر ہو چکی ہیں۔مگر یہی آگ جب احتجا ج بن کر سینوں میں جل اٹھتی ہے تو زندگیوں کو روشن بھی کر دیتی ہے۔ایساہی رام دین کے ساتھ ہوا جس نے سُکھیا کی زندگی کو تو خاکستر کیا مگر دوسرے مزدوروں کو بیدار بھی کرگیا۔افسانے کا آخری جملہ’’ یہی انگارے مزدوروں کے وجود میں منتقل ہونے لگے‘‘ دراصل احتجاج کی آگ کا اشاریہ ہے جو مزدوروں کے اندر رام دین کی موت پر دھیرے دھیرے پیدا ہونے لگی تھی۔اِس افسانے میں ’’پنجرے کی مینا ‘‘ بھی اہم کردارہے جو سُکھیا کے ساتھ ساتھ رہتی ہے۔یہ تو افسانہ پڑھ کر ہی آپ کو پتہ چل سکتاہے کہ آخرکوئلری کا ہر مزدور اپنے گھر کے سامنے پنجرے میں مینا کیوں رکھتاہے؟
افسانہ ’تجارت‘ ہمارے نام نہاد ترقی پذیر ،روشن خیال سماج میں عورت کے استحصال کا روشن آئینہ ہے۔ماتھر جو بظاہر بے حد معزز،مخلص اور دولت مند شخصیت کا مالک ہے،جیتندر پرساد کے خلوص ،اعتماد اور بھروسے کو اُس وقت چور کردیتاہے جب وہ جیتندر کی بیٹی سیما کی عزت لوٹ لیتاہے ،اور بدلے میں جیتندر پرساد کا ایک ٹنڈر پاس کردیتاہے۔یہ افسانہ بدلتی قدروں اور رشتوں کا نوحہ ہے۔افسانہ ’وہ لڑکی‘ میں بھی اسی طرح کے ایک استحصال کی دردناک داستان سنی جا سکتی ہے۔انسان کی حیوانیت پر مبنی مختصر افسانہ ’سیلاب‘ پڑھنے سے تعلق رکھتاہے جس میں لوگ سیلاب میں مرنے والوں کی لاشوں سے اُن کے زیورات نوچ رہے ہیں۔اس بیچ گہنے سے لدی عورت کسی کو نظر آئی۔اُس نے اسے نوچنا شروع کیاہی تھا کہ وہ کراہ اٹھی۔آدمی پل بھر کے لیے پیچھے ہٹتاہے اور پھر عورت کو یہ کہتے ہوئے موجوں کے حوالے کر دیتا ہے کہ ’سالی زندہ ہے‘۔ظاہر ہے انسانیت کے زوال،اور حیوانیت و سفاکیت کی اس سے بدترکہانی مشکل سے مل سکتی ہے۔یہی سفاکیت ’حربہ‘ میں بھی دکھائی دیتی ہے جب شیر خاں اپنی فتح اور انا کی تسکین کے لیے نہ صرف منو کا استحصال کرتاہے بلکہ بے قصور نصرت بائی کا بھی قتل کروادیتاہے۔اس طرح کے افسانوں سے زوال پذیر سماج کی مختلف تصویریں ہمارے سامنے آتی ہیں۔ایسا لگتاہے معاشرہ ناسوروں سے بھر چکاہے،جان کی کوئی قیمت نہیں رہ گئی ہے،خون کی ہولی فخر کے ساتھ کھیلی جارہی ہے۔قتل کا تیوہار منایا جارہاہے ۔ہر بڑی مچھلی چھوٹی مچھلی کے سر پہ سوارہے۔نفرت ،بدلے اور ظلم کی آگ میں جلتاہوا سماج دوزخ میں تبدیل ہو چکاہے۔ظاہر ہے اس میں تبدیلی آسانی سے نہیں ہونے والی اور نہ افسانہ نگار کا مقصد اصلاح کا سبق پڑھاناہے۔جب پورا معاشرہ ہی زہر آلود ہو گیاہو تو اس میں اصلاح کی گنجائش کہا ں رہ جاتی ہے؟ ہاں کچھ کردارو کی تخلیق کر کے افسانہ نگار نے روشن مستقبل کی ایک امید ضرور جگائی ہے۔سائمن بوسکی کا لڑکا،منّو پہلوان کی فتح،اجّو بابا ،شیخ رمضانی،منّو اور رام دین بابو وغیرہ اس روشن مستقبل کا اشاریہ ہیں کہ افسانہ نگار ناامید نہیں ہے۔یہ کردار ’’افراد‘‘ نہیں ہیں بلکہ بیشتر دلوں میں احتجاج اور بغاوت کے جو شعلے روشن ہیں،اُن شعلوں کی علامت ہیں،جن سے ایک دن ظلم و استحصال کا خاتمہ ہو گا اور انسانیت مسکر ا اٹھے گی۔
قاسم خورشید نے افسانوی کینوس پر بڑی والہانہ کیفیت میں چہرے پینٹ کیے ہیں۔یہ چہرے ہمارے مکروہ سماج کا آئینہ ہیں۔ان چہروں کے پیچھے آگ کا صحرا بھی ہے اور قلم کی آگ بھی۔اُس وقت جب اردو افسانے میں کہانی کی گم شدگی اور قاری کی عدم دلچسپی کی بات ہو رہی تھی،قاسم خورشید جیسے لوگوں نے احساس دلایاکہ کہانی زندہ ہے،مری نہیں۔وہ سادہ بیانیہ اندازمیں کہانیاں لکھتے ہیں مگران کہانیوں میں قلب اور قرب کا بہت گہرا عنصر ہوتاہے۔انہوں نے کہانیاں وہی لکھی ہیں جن کے مشاہدے یا تجربے سے وہ گزر چکے ہیں۔وہ ایر کنڈیشنڈ روم میں بیٹھ کر جھونپڑیوں کی کہانیاں نہیں لکھتے اور نہ ہی عیش و طرب کی محفل میں درد کا نغمہ سناتے ہیں۔انہوں نے جس درد کو جیاہے،جس کرب کو سہاہے اسی کو اپنی کہانیوں میں پیش کیاہے۔اس لیے داخلی کشمکش ،ذہنی تناؤ،باطنی کرب،انسان کی بے حسی،بے مروتی،استحصال ،جبر کے مسائل اور المیوں کا سچا بیان انُ کی کہانیوں میں ملتاہے۔ان افسانوں کو پڑھتے ہوئے قاری سرسری طورسے نہیں گزر سکتا۔کوئی افسانہ اسے چونکائے گا تو کوئی غوروفکر کے لیے مجبور کرے گا۔کوئی واقعہ اپنے حیرت انگیز اختتام کی بنا پر اسے استعجابی کیفیتوں میں مبتلا کرے گا تو کوئی کردار اپنے غیر یقینی رویے اور ردّعمل کی بنا پر اُس کی فکر کو منتشر کر دے گا۔۔ان افسانوں کی قرأت جب تک مکمل نہیں ہوتی قاری کسی نتیجے پر نہیں پہنچ پائے گا۔اکثر افسانوں کا آخری جملہ تاثرات کی بکھری کڑیاں جوڑنے میں معاون ہوتاہے اور کاغذ پہ ختم ہونے کے بعد کہانی دوبارہ ہمارے ذہن میں شروع ہو جاتی ہے۔شاید ایک اچھے افسانے کی یہی خوبی ہوتی ہے ،اور یہ خوبی قاسم خورشید کے افسانوں میں بہت حد تک موجود ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(شہاب ظفر اعظمی)
شعبۂ اردو ،پٹنہ یونیورسٹی،پٹنہ۔۸۰۰۰۰۵sshahabzafar.azmi@gmail.com 
رابطہ:9431152912

 مضامین دیگر 


Comment Form



اردو فکشن

© 2017 Urdu Fiction. All right reserved.

Developed By: Aytis Cloud Solutions Pvt. Ltd.