22 Jun, 2017 | Total Views: 232

کرشن چندر کے ناولٹ۔ انفراد وامتیاز

شہاب ظفر اعظمی

ترقی پسند تحریک کے دوران اردو فکشن میں جو فنکار آسمان ادب پر نمایاں ہوئے ان میں کرشن چندر کو غالباً سب سے زیادہ شہرت حاصل ہوئی۔دراصل کرشن چندر ایک بڑے فنکار تھے،جنہوں نے افسانے ،ناول ،ڈرامے ،رپورتاژ اور مضامین کی شکل میں اردو ادب کو اتنا بڑا ذخیرہ دیا کہ وہ ایک دبستان کی حیثیت اختیار کرگیا۔ان کی تحریروں میں زندگی کا جتنا بھرپور اور رنگارنگ تاثر ملتاہے وہ ان کے معاصرین کے یہاں نہیں دکھائی دیتا۔ہئت ،تکنیک اور اسلوب کی سطح پر بھی بیانیہ سے لے کر تمثیل نگاری تک جتنے تجربے انہوں نے کیے ،وہ ان کی فنکاری کا ثبوت فراہم کرتے ہیں۔
فکشن میں جو کچھ کرشن چندر نے لکھاہے اُس میں ناول ،افسانے اور مختصر ناول ہیں جنہیں ناولٹ کہا جاسکتاہے۔جس طرح افسانوں میں کرشن چندر کے ۲۰۔۲۵ افسانوں کے حوالے سے ہی باتیں ہوتی رہیں ،ایسے ہی ناول میں بھی بات شکست ،جب کھیت جاگے اور ایک گدھے کی سرگزشت و غیرہ تک ہی محدود رہی۔اُن کے اکثر مختصر ناولوں کو کمرشیل یا نیم ادبی کہ کر نظر انداز کیاگیا۔جبکہ کرشن چندرکے دیگر طویل یا مختصر ناولوں میں بھی اُن کی انسان دوستی،موضوعات کی نیرنگی ،افکارو خیالات کی وسعت اور اسلوب کی دلکشی وسیع کینوس پر ان کے مطالعے کی متقاضی رہی ہے۔
کرشن چندر نے اپنے کسی ناول کو ’’ناولٹ‘‘ کا نام نہیں دیا۔انہوں نے جو طویل افسانے لکھے انہیں ’’طویل مختصر افسانہ‘‘ کہااور مختصر ترین ناولوں کو بھی ناول ہی قراردیا۔اس لیے کرشن چندر کے ناولٹ پر گفتگو کرتے ہوئے سب سے پہلے یہی سوال اُٹھتا ہے کہ ان کے کن ناولوں کو ’ناولٹ‘ قرار دیا جاسکتاہے۔طویل مختصر افسانوں کو تو ناولٹ نہیں کہا جاسکتا ،اگرچہ ان داتا،زندگی کے موڑپر اور امرتسر جیسے طویل افسانوں کو بعض لوگوں نے ’ناولٹ‘لکھ دیاہے۔میرے خیال میں افسانہ خواہ کتناہی طویل ہو جائے وہ اپنی ہئت اور مخصوص اوصاف کی بنا پر افسانہ ہی کہلائے گا۔جبکہ ناول اگر محدود کینوس اور کم طوالت رکھتاہو تو اسے ’ناولٹ‘ کہا جا سکتاہے۔نیاز فتحپوری کے ’ایک شاعر کا انجام‘ سے سیدمحمداشرف کے ’نمبردارکا نیلا‘تک تمام ناولٹوں کا مطالعہ کیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ ناول اور ناولٹ کے تخلیقی مزاج میں یکسانیت اور موضوع ،اسلوب یا تکنیک میں ہم آہنگی کے باوجود ان دونوں کے درمیان بہر حال ایک خط امتیاز حائل ہے،جو اسے ناول اور افسانے دونوں سے ممتاز کرتاہے۔افسانے میں زندگی کا بالعموم کوئی ایک پہلو نمایاں ہوتا ہے ،ناول میں مکمل زندگی پیش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور ناولٹ میں زندگی کے چند مخصوص و منتخب پہلوؤں کا مظاہرہ ہوتاہے۔اس کی وضاحت ناولٹ پہ کام کرنے والے ایک محقق ڈاکٹر سید مہدی نے یوں کی ہے کہ مختصر افسانہ 
۲
زندگی کا ایک تار ہے ،ناول زندگی کے تاروں کا ایک جال ہے اور ناولٹ میں چند تار بٹ کر موٹے تار کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔ہیئتی طور پر ناولٹ ،افسانے کے اختصار اور ناول کی طوالت کے بیچ کی کڑی ہے۔بالعموم ایک ناولٹ کی ضخامت سو ڈیڑھ سو صفحات سے زیادہ اور پچاس ساٹھ صفحات سے کم نہیں ہوتی۔یہاں تاثرکی وحدت اتنی واضح اور مکمل ہوتی ہے کہ قارئین انجام پر کسی تذبذب یا انتشار میں مبتلا نہیں ہوتے۔واقعات کی تشریح و تفصیل یہاں نہیں ہوتی۔ایجاز و اختصار کے ساتھ علامتوں ، اشاروں اور کنایوں میں زندگی کے وہ پہلو پیش کردیے جاتے ہیں جن کی پیش کش کو ناولٹ نگار ضروری سمجھتاہے۔کینوس مختصر ہونے کی وجہ سے ناولٹ میں کرداروں کی تعداد کم ہوتی ہے اور جو کردار ہوتے ہیں اُن کی سیرت و اوصاف کی پیش کش میں بھی محدودیت سی ہوتی ہے۔ہاں ناولٹ کے پلاٹ کے لیے گٹھا ہوا اور مربوط واقعوں پر مشتمل ہونا ضروری ہے تاکہ اختتام پر اتحاد تاثر قائم رہے۔ناولٹ کی اس شناخت کے بعد کرشن چندر کے ناولوں کا مطالعہ کیا جاتا ہے تو پیار ایک خوشبو،دادر پُل کے بچے،برف کے پھول ،زرگاؤں کی رانی، غدار،اُلٹا درخت وغیرہ ہمارے سامنے ناولٹ کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔آسمان روشن ہے ،لندن کے سات رنگ ،پانچ لوفر اور میری دنیا کے چنار کا ذکر بھی مختلف لوگوں نے مختصر ناول یا ناولٹ کے طور پر کیاہے۔اِن مختصر ناولوں یا ناولٹوں میں فکری اور فنی طور پر جو ناولٹ سب سے زیادہ ہمیں اپنی طرف متوجہ کرتاہے وہ ہے ’’دارد پُل کے بچے‘‘(۱۹۶۱)۔
’’دادر پُل کے بچے‘‘ کے بارے میں اکثر ناقدین نے یہ اعتراف کیاہے کہ اِس میں کرشن چندر نے خدا ،جنت ،جہنم اور مذہب کے تصور کی بڑی بے باکی اور شدت سے شکست و ریخت کی ہے۔ظاہر ہے یہ عمل اُن کے اشتراکی نظریات کے عین مطابق ہے۔انہوں نے اپنے زور تخیل سے کام لے کر بھگوان کو ایک ذہین انسان کی شکل میں انسانوں کے درمیان اتاراہے جو بمبئی کی زندگی کے شب و روز کا جائزہ لیتاہے اور چشم حیرت سے معاشرے کے رِستے ہوئے زخموں کو دیکھتاہے۔بھگوان کھولی میں رہنے والے ایک غریب شخص کے ساتھ بمبئی کے مختلف علاقوں کی سیر کرتا ہے تو اُسے عجیب و غریب تجربات سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔وہ اُس غریب آدمی کے ساتھ بچے کے بھیس میں دادر پُل پہ بچوں کے لیے خوبصورت اور رنگ برنگی کتابیں لے کر کھڑا ہے جبکہ غریب آدمی امرود کا ٹوکرا لے کر کھڑاہے۔پُل پر سامان بیچنے کے لیے اُسے علاقے کے داداؤں اور پولس کی مٹھی گرم کرنی پڑتی ہے،مگر نتیجہ یہ سامنے آتاہے کہ امرود بِک جاتے ہیں اور کتابیں رہ جاتی ہیں۔غریب آدمی کہتاہے
’’جن کے پاس بچوں کی اسکول کی کتابیں خریدنے کے پیسے نہ ہوں وہ تمہاری کہانیوں کی کتابیں 
کیسے خریدیں گے؟‘‘(۱)
پھر دونوں ایک فلم اسٹوڈیو کی طرف سے گزرتے ہیں۔اسٹوڈیو میں برہما کی مورتی دیکھ کر بھگوان خوش ہوتے ہیں ،مگر ان کا 
۳
ہمراہی واضح کردیتا ہے کہ یہاں صرف نقد نارائن کی پوجا ہوتی ہے۔یہ مورتی صرف سیٹ کی زینت ہے جو شوٹنگ کے بعد توڑ دی جائے گی۔بھگوان سیر کرتے ہوئے بمبئی کے مختلف مقامات سے گزرتے ہیں۔ہر جگہ ان کا سامنا فریبیوں ،دھوکہ بازوں سے ہوتاہے۔ایک کم عمر نظر آنے والا نوجوان انہیں فلم اسٹار بنانے کا چکمہ دے کر روپے ٹھگ لیتاہے،ایک معصوم نظر آنے والے بچے پر ترس کھاکر وہ موم بتیاں خریدتے ہیں تو وہ ان کی جیب کاٹ لیتاہے۔ایک خوش لباس لڑکا اسکول بیگ میں ٹھرے کی بوتلیں سپلائی کرتا دکھائی دیتاہے،ایک ماڈرن اسکول کے صاف ستھرے لڑکے اپنے ہم عمر لڑکوں کے ساتھ کھیلنے سے صرف اس لیے انکار کردیتے ہیں کہ وہ غریب ہیں ،وغیرہ وغیرہ۔آخر میں دونوں سیر کرتے ہوئے ایک ایسے گروہ کے پلّے پڑتے ہیں جو بچوں کو اپاہج بنا کر بھیک منگواتاہے۔اس سے پہلے کہ وہ دونوں بھی معذور بنا دیے جائیں وہاں سے بھاگ نکلتے ہیں۔پھر بھگوان شاید واپس چلے جاتے ہیں اور ان کے ہم سفر کا ردّعمل ناول کی آخری سطروں میں سامنے آتاہے۔
’’لوگ کہتے ہیں ،یہ سب جھوٹ ہے۔نہ بھگوان میرے پاس کبھی آئے ،نہ میں نے ان سے 
باتیں کیں ،نہ میں انہیں لے کر بمبئی کی گلیوں میں گھوما۔زندگی میں آخری بار جب میں نے 
بھگوان کو دیکھا تو وہ چھ سال کا ایک ناتواں بچہ تھا اور اندھا تھااور شفق کے ڈھلتے ہوئے سایوں
میں دونوں ہاتھ پھیلائے روتا ہوا دادر پُل پر کھڑا بھیک مانگ رہا تھا‘‘(۲)
اس ناولٹ میں کرشن چندر کا اشتراکی نظریۂ حیات اور اس کے سبب جذبۂ احتجاج بھرپور انداز میں اجاگر ہوا ہے۔انہوں نے بمبئی جیسے صنعتی شہر کے ایک گھناؤ نے پہلو کی تصویر کشی کی ہے جو سرمایہ دارانہ استحصال کا نتیجہ ہے۔جہاں کاروباری قسم کی زندگی نے زندگی سے معصومیت چھین لی ہے۔انہوں نے یہ بھی دکھایاہے کہ سرمایہ دارانہ استحصال کے جال نے ادنیٰ اور اعلیٰ ،بڑوں اور بچوں سب کو اپنے رنگ میں رنگ لیاہے اور اس کے زیر اثر ہر اچھے اور برے جائز اور ناجائز طریقے سے سب روزی روٹی کمانے میں مصروف ہیں ۔یہاں بمبئی ،بھگوان اور اس کا ہم سفر سب علامتوں کی شکل میں ہیں،جس کے ذریعہ ہم اس معاشرے کے استحصالی نظام کا کچا چٹھا گہرائی کے ساتھ جان پاتے ہیں۔اِس میں شہر بمبئی علامت ہے سرمایہ دارانہ نظام کی،دادرپُل علامت ہے سرمایہ داری کے اُس غلیظ مرکز کی جہاں خرید وفروخت کا عمل لگا تار جاری رہتا ہے۔اور ’’میں ‘‘ علامت ہے اُس حساس دل کی جو دنیا کی تکلیفیں ،جرائم اور غلاظت دیکھ کر تڑپ اُٹھتا ہے۔جبکہ ’بھگوان‘ علامت ہے ’رجائیت‘ کی جو آخر تک ہراساں اور مایوس نہیں ہوتا۔اور اعتراف کرتا ہے کہ آدمی معصوم بھی ہے اور مجرم بھی۔مظلوم بھی ہے اور ظالم بھی،قاتل بھی ہے اور مقتول بھی۔اس لیے آدمی ہی در اصل خدا ہے،جس نے اپنے لیے جہنم سے زیادہ عذاب رساں بستیاں آباد کی اور چاہے تو اس دنیا میں ہی جنت تعمیر کر سکتاہے۔ظاہر ہے کہ یہ رجائی طرز فکر بھی اشتراکیت کی ہی دین ہے۔
۴
کرشن چندر نے اِس ناولٹ میں خدا اور بھگوان کے نام پر لوٹ کھسوٹ ،مذہب کا مصنوعی تصور ،تعلیم کی بے وقعتی اور حلال وحرام یا جائز اور ناجائز کے بناوٹی اصولوں پر جگہ جگہ طنز کیاہے۔ایک جگہ بھگوان دنیا کے انسانوں سے سوال کرتا ہے کہ
’’کانپور سے کلکتہ تک اور جموں سے جبل پور تک تم دھرم کرم کے نام پر جو کچھ کرتے ہو
وہ سب مجھ پر روشن ہے۔کیا کبھی تم نے ان زخموں کو گِنا بھی ہے ،جو تم نے آج تک 
میرا نام لے لے کر دیے ہیں۔‘‘(۳)
کرشن چندر کے خیال میں انسان درحقیقت اپنی نارسیدہ تمناؤں اور ناآسودہ آرزؤں کے سامنے سرنگوں ہوتاہے،بھگوان کے سامنے نہیں۔وہ بھگوان کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں
’’مگر اس دنیا میں کون تم سے بے غرض محبت کرتاہے،جس کی زندگی میں جس چیزکی کمی ہوتی ہے
صر ف اُسے مانگنے کے لیے تمہارے پاس جاتاہے۔ایک بیٹا،ایک گھر ،ایک شوہریا ایک روٹی۔
اور وہ جن کے پاس سب کچھ ہے وہ اِس دنیا میں اپنا سورگ تعمیر کرکے اگلی دنیا کے سورگ میں 
اپنی جگہ تعمیر کرنے کے لیے تمہارے پاس جاتے ہیں۔تمہیں نہیں پوجتے ،میرے بھولے بھگوان
وہ اپنی آرزؤوں کو پوجتے ہیں یا اپنے ڈرکو پوجتے ہیں‘‘(۴)
اس طرح کرشن چندر مذہب اور عبادت کے بیشتر روایتی تصورات پر طنز کرتے ہوئے اشتراکیوں کے اُس مادی نقطۂ نظر کی حمایت کرتے ہیں جو سزا و جزا ،جنت اور جہنم اور اس طرح کے دوسرے امور کو مہمل قراردیتاہے۔وہ انسانوں کی مادی ضرورتوں کی تکمیل یعنی روزی روٹی اور تعلیم وغیرہ کا پہلے تقاضا کرتے ہیں بھگوان کا بعد میں۔اسی لیے سٹہّ لگوانے والے چھوٹے سے بچے منہر کی زبان سے یہ احتجاج کر تے ہیں
’’منہر اوپن ٹو کلوز میں نو کا بھاؤ دیتا ہے۔تم اوپن ٹو کلوز یعنی زندگی سے موت تک کیا 
دیتے ہو؟ مکے ،بھوک ،بیکاری،مفلسی؟‘‘(۵)
اسی بچے سے جب بھگوان پوچھتے ہیں کہ تم اسکول کیوں نہیں جاتے تو وہ جواب دیتا ہے
’’بی اے پاس کرنے والے دادر پوسٹ آفس کے باہر خط لکھتے ہیں اور دس آنے روز کماتے ہیں۔
یہاں سٹیّ سے دن میں دس روپے کما لیتا ہوں،میں اسکول جاکر کیا کروں گا۔‘‘(۵)
یہ بچوں کے استحصال کے ساتھ ہمارے تعلیمی نظام پر بھی گہر اطنز ہے۔کرشن چندر نے اس ناولٹ میں تعلیمی نظام پر طنز کرتے ہوئے صرف لاوارث ،نادار اور غریب بچوں کے تعلیمی مسائل تک خود کو محدود نہیں رکھا ہے بلکہ بڑی خوبصورتی سے ہِل اسٹیشنوں 
۵
کے معیاری اسکولوں کی منظر کشی بھی کی ہے،جہاں ممتاز اور سرمایہ دار والدین کے بچے ہی داخلہ کے مستحق ہوتے ہیں۔وہاں بچوں کے ضمیر میں مادہ پرست عناصر کو پروان چڑھایا جاتاہے۔نتیجتاً یہ بچے بھی دوسرے بچوں سے نفرت کرنا سیکھ جاتے ہیں اور تہذیب کی طبقاتی بنیادوں کو منصفانہ خیال کرتے ہیں۔
ناولٹ ’دادر پُل کے بچے‘ کا سب سے اہم عنصر طنز ہے،جس سے کام لے کر مصنف نے معاشرے کے ہر تاریک پہلو کو بڑی خوبصورتی سے اُجاگر کیاہے۔کرشن چندر کی حس مزاح بے حد تیز ہے جس سے وہ برمحل کام لے کر ناولٹ میں نہ صر ف دلچسپی اور تبسم کی کیفیت پیدا کرتے ہیں بلکہ قاری کو غوروفکر پربھی مجبور کر دیتے ہیں۔فلمی ہیروئن آشا سے بھگوان کا عشق ،اس کے ساتھ قوالی سننا،فلم پریمیر دیکھنا اور گانا گنگنانا جہاں ہمیں مسکرانے اور کبھی کبھی قہقہہ لگانے پر مجبور کرتا ہے وہیں اِس قسم کے جملے ہمارے ضمیر اور فکر کو جھنجھوڑ کر بھی رکھ دیتے ہیں،مثلاً
’’بھگوان کے لیے یوں کمرے سے غائب ہو جانا کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے بلکہ اکثر
و بیشتر وہ تمام اہم موقعوں پر جو انسان کی تاریخ میں پیش آتے ہیں ،غائب ہی پائے جاتے
ہیں۔‘‘(۶)
’’
شاید تم نے کبھی بمبئی کی سلائس نہیں دیکھا ،اتنا مہین،پتلا اور باریک ہوتا ہے کہ تم اس کے
آر پار دیکھ سکتے ہو،بلکہ تھوڑا سا مکھن لگاکر اس سے شیو بھی کرسکتے ہو‘‘(۷)
’’
یہ پلاسٹر کی مٹی کے برہما جی ہیں۔سیٹ پر رکھے جائیں گے،اور جب ان کا کام ختم 
ہو جائے گا،انہیں توڑکر اسی مٹی سے راون کا بُت بنا لیا جائے گا۔(۸)
مختصر یہ کہ ناولٹ ’دادر پل کے بچے ‘میں کرشن چندر نے قصے کو علامتی او رتمثیلی انداز عطا کرکے اس سے معاشرے کی تنقید کا خوب کام لیاہے۔طنز ،حقیقت نگار ی اور ایک اچھے سماج کی شدید خواہش کے ساتھ کرشن چندر کا خوبصورت اسلوب ناولٹ کا بھرپور تاثر قائم کرتاہے،جس کی بنا پر ہم اسے فکری اور فنی طورپر کامیاب تخلیق کہ سکتے ہیں۔
انسان دوستی اور سماجی مساوات کے علاوہ فرقہ وارانہ فسادات اور تقسیم ہند کے واقعات کو بھی کرشن چندر کے موضوعات میں اہمیت حاصل رہی ہے۔اِس سلسلے میں اُن کے ناولٹ’’غدار‘‘ (۱۹۶۱) کو ایک نمائندہ تخلیق کہا جاسکتاہے۔یہ ناولٹ ۱۹۴۷ء کے فسادات کی براہ راست تصویر کشی پر مبنی ہے۔اس لیے تقسیم کے فوراً بعد رونما ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات اور ہجرت سے متعلق واقعات اس ناولٹ کا اہم حصہ ہیں۔مگر کہانی کا اختتام جس طرح انسان دوستی اور محبت پہ ہوتاہے ،اسے دیکھ کر پروفیسر اعجاز علی ارشدنے اس کا موضوع ’انسان دوستی‘ قرار دیاہے۔
۶
قصہ غیر منقسم پنجاب کے ایک گاؤں سے شروع ہوتاہے ،جہاں ۵ اگست ۱۹۴۷ء کو پڑوسی گاوءں کے مسلمان حملہ کردیتے ہیں۔ناولٹ کا مرکزی کردار بیج ناتھ اس حملے اور اس کے بعد پیش آنے والے سانحات سے لگاتار دوچار ہوتاہے ۔یہاں تک کہ فسادیوں کے ہاتھوں وہ اپنے دادا کی موت اور بہن کے اغوا جیسے کرب سے گزرتاہوا ہندستان پہنچ جاتاہے۔پاکستان سے ہندستان ہجرت کے طوفانی اور ہیجانی دورمیں اس نے اپنی آنکھوں سے جو واقعات و سانحات دیکھے اور اس دوران وہ جس کرب سے گزرا ،وہ پڑھنے والوں کا دل دہلا دیتے ہیں۔
ہندستان ہجرت کرنے کے بعد بھی اُس کا کرب ختم نہیں ہوتا۔وہ دیکھتاہے کہ یہاں بھی امن نہیں ہے۔ایک تو شرنارتھیوں کی دردناک کہانیاں ہیں،دوسر ے ہندستان سے ہجرت کرنے والے مسلمانوں کی آہ وفغاں ہے۔دریائے راوی کے پُل کے دونوں طر ف قافلے لوٹے جارہے ہیں۔اور لوٹنے والے انسان ہی ہیں،مگر الگ الگ جماعتوں اور مذہبی عقیدوں میں منقسم ہیں۔بیج ناتھ انسانیت کا علمبردارہے۔نام کے اعتبار سے اگرچہ وہ ہندو ہے مگر صفت کے اعتبار سے وہ ہندو ہے نہ مسلمان اور نہ ہی ہندستانی یا پاکستانی۔مذہبی تعصب اور بغض وعناد اسے چھو کر نہیں گزرا۔اس کردار کے ذریعہ کرشن چندر نے مذہب کے بے لچک کٹر پن اور بے معنی تعصبات پر کاری چوٹ کی ہے۔اِس نقطۂ نظر کی وضاحت ناولٹ میں موجود درجنوں واقعات سے ہوتی ہے۔آپ یہاں صرف ایک منظر دیکھیے۔فسادیوں کے ہاتھوں مارے گئے ایک مسلمان نوجوان کی قبر پر اس کا عمر رسیدہ باپ سورۂ فاتحہ پڑھتا رہا ،جبکہ قافلے کے لوگ وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے ۔اُس نے سورۂ فاتحہ شروع کیا
’’الحمد للہ رب العالمین‘‘
ست سری اکال ،ہر ہر مہادیو
ہوا میں برچھے چمکے اور بڈھے مسلمان کا جسم چار ٹکڑوں میں تقسیم ہوگیا۔مرنے والے کی زبان پر 
آخری نام خدا کا تھا اور مارنے والوں کی زبان پر آخری نام خدا کاتھا۔اور اگر مرنے مارنے والوں
کے اوپر ۔۔۔بہت دور کوئی خدا تھا تو بلا شبہ بے حد ستم ظریف تھا۔‘‘(۹)
یہ اقتباس مذہب اور خدا کے نام پر ہونے والے ننگ انسانیت کردار پر گہرا طنزہے۔کرشن چندر ایسے کرداروں سے نفرت کرتے ہیں اور بیج ناتھ جیسے کرداروں کو امن اور انسانیت کی بقا کا ضامن سمجھتے ہیں،جو فساد اور جنگ کے میدانوں میں بھی مذہب اور ملک کے بجائے ’’انسان‘‘ کو دیکھتا ہے۔اسی لیے ڈکی کے میدان میں لاشوں کے ڈھیر میں جب وہ مسلمان بچے کو بلکتا دیکھتا ہے تو اسے اٹھا کر سینے سے لگا لیتا ہے۔اس منظر کو کرشن چندر کے لفظوں میں دیکھیے
’’اور میں نے اس مسلمان بچے کو گلے لگا کر پرانے رسم و رواج کے غلیظ ڈھیر کو آگ لگادی۔
۷
میں نے بچے کو دونوں ہاتھوں سے اوپر اٹھا لیا او ر اس کے دونوں گالوں کو بوسہ دیا۔اس کی 
پیشانی کو چوما اور اسے کندھے پر بٹھا کر امید کی اس وادی میں چلا گیا جہاں سورج کبھی نہیں 
ڈوبتا‘‘(۱۰)
مجموعی طور پر ’’غدار ‘‘ کرشن چندر کا ایک نمائندہ ناولٹ ہے جس میں انہوں نے فسادات کے پس منظر میں ایک کربناک کہانی بُنی ہے اور اس کہانی کے ذریعہ انسانیت ،امن اور اخوت کا فلسفہ پیش کیاہے۔اسے بعض ناقدین کی طرح محض فسادات کی ادبی رپورٹ قرار دینا قطعی مناسب نہیں۔اشتراکی نظریات سے وابستگی کا ایک پہلو وسیع تر انسان دوستی بھی ہے،جو مل جل کر رہنا سکھاتی ہے اور ایک دوسرے کی مدد پر اکساتی ہے۔جو سکون و اطمینان کے ساتھ زندگی گزارنے کی خواہش اور دردمندی سے عبارت ہے۔یہ تمنا بیج ناتھ کے دل میں بھی شدت کے ساتھ موجود ہے ۔وہ محبت بانٹنا چاہتا ہے مگر اُسے سرحد کے دونوں طرف صرف نفرتوں میں حصہ داری کے مواقع دکھائی دیتے ہیں۔وہ حالات سے سمجھوتہ نہیں کرتا تو نفرت کے بیوپاری اسے ’غدار‘ قرار دے دیتے ہیں۔بیج ناتھ جیسے آئیڈیل کردار کی تخلیق اور انسان دوستی پر مبنی آئیڈیالوجی ہی اس ناولٹ کو کامیاب فن پاروں میں شامل کرتی ہے۔
۱۹۶۱ء میں ہی کرشن چندر نے ایک ناولٹ ’’برف کے پھول ‘‘ کے نام سے لکھا،جس میں انہوں نے جاگیردارانہ نظام کی استحصال پسندی اور محبت میں ناکامی کو موضوع بنایا۔کشمیر کی رومانی فضا میں ساجد اور زینب نام کے دو کردار وں کی محبت روایتی انداز میں پروان چڑھتی ہے ،مگر جاگیردارخان زماں کی دست درازی کا شکار ہو جاتی ہے۔ساجد اپنی سپنوں کی دنیا میں رہتاہے اور زینب کی شادی خان زماں سے ہو جاتی ہے۔اسے حاصل کرنے کی کوشش میں ساجد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتاہے،جس کے سبب قارئین کی تمام تر ہمدردیاں اس کردار کے ساتھ ہو جاتی ہیں۔مگر یہ ہمدردی صدائے احتجاج میں تبدیل نہیں ہو پاتی ،اس لیے ناول فکری طور پر کمزور ہو جاتا ہے۔کسی کی بیوی کو موقع پاکر اڑا لے جانا کسی مہذب سو سائٹی میں درست تسلیم نہیں کیا جاسکتا،شاید اس لیے بھی قارئین کو یہ ناولٹ پسند نہیں آسکا۔بہر حال محبت اور سرمائے کی کشمکش اور برفیلے پہاڑوں کی گود میں کشمیر کے رومانی مناظر اس ناولٹ کو پڑھوا تو گئے مگر ادبی اور فنی عظمت نہیں عطا کرسکے۔
۱۹۶۶ء میں ایک ناولٹ’’زرگاؤں کی رانی‘‘ شایع ہوا جس کے بارے میں ظ۔انصاری نے لکھاہے کہ
’’زرگاؤں کی رانی،مجھے ان کے تمام ناولوں میں زیادہ پسند ہے۔پاکٹ بُک کے سائزمیں سو صفحے کا یہ 
مختصر ناول پڑھنے والے کو اول سے آخر تک اپنی گرفت میں رکھتاہے اورشکست کے مصنف کے ذہن 
اور بیان کی تازہ ترین تصویر پیش کرتاہے،جس کے رنگ زیادہ گمبھیر ،کیفیت زیاد ہ متحرک اور جاندار،
۸
اور کینوس کا قدوقامت نہایت موزوں ہے۔‘‘(۱۱)
ظ۔انصاری کی یہ رائے ناولٹ کے تعلق سے مجموعی خوبی کا اظہار کرتی ہے۔مگر کرداروں کے نفسیاتی تجزیے کی جو صورت اس ناولٹ میں ملتی ہے وہ اسے ممتاز بناتی ہے۔اس میں ایک خاتون رانی صاحبہ کا نفسیاتی مطالعہ بے حد باریکی کے ساتھ کیاگیاہے۔یہ بنیادی طورپر رانی صاحبہ نام کی ایک حاکمانہ مزاج والی عورت کی نفسیاتی کشمکش کی کہانی ہے جو محبت جیسے لطیف جذبے کو بھی رعب ،تحکم اور سازشوں کا جال بُن کر حاصل کرنا چاہتی ہے۔اور اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے اپنی بہن اور بیٹی تک کے قتل سے گریز نہیں کرتی۔اور بالآخر اپنے شوہر کنور کی بھی جان لے لیتی ہے۔قتل کے الزام سے وہ کرنل وائیڈ کو دو کروڑ روپے دے کر بری بھی ہو جاتی ہے ،مگر اس کا احساس جرم اسے ستا تا رہتا ہے۔آخر کار وہ خود کو پر اسرار حالات کے گھیرے میں پاتی ہے۔یہ پر اسرار حالات در اصل نفسیاتی کشمکش تھی جو اسے طرح طرح کے واہموں میں مبتلا رکھتی ہے اور جس کی شدت سے مغلوب ہو کر بالآخر وہ اپنا گلا بھی گھونٹ لیتی ہے۔کرشن چندر نے رانی صاحبہ کی نفسیاتی کشمکش کے تعلق سے اس کے حرکات و سکنات اور نفسیاتی کیفیت کو بڑی فنکاری کے ساتھ پیش کیاہے۔مثلاً یہ منظر دیکھیے
’’میرا سینہ پھٹ جائے گا۔۔۔شاید میں پاگل ہو جاؤں گی،ذہنی توازن کھو دوں گی۔بیٹھے بیٹھے 
مجھے چکر آنے لگتے ہیں۔ساری دنیا مجھے گھومتی ہوئی دکھائی دیتی ہے اور پھر چاروں طرف ایک 
گونج میرے چاروں طرف لگاتی ہوئی ایک بھیانک چمگادڑ کی طرح چیختی چلاتی ہوئی رات کو 
میرے اس قدر قریب آجاتی ہے کہ میں اپنے بسترسے اٹھ کر بیٹھ جاتی ہوں۔۔۔۔۔مجھے وہ 
کلاک عجیب سا دکھائی دیا۔اس کا ڈائل ایسا لگا جیسے کسی خوفناک چیز کا چہرہ ہے اور اس کی سوئیاں
دو بڑے بڑے بازوں ہوں اور گھنٹوں کے حروف بہت سی بڑی بڑی آنکھیں ہوں جو پٹ پٹ
میری طرف سوالیہ انداز سے دیکھ رہی ہوں‘‘(۱۲)
اس اقتباس سے رانی صاحبہ کے کرب اور نفسیاتی کشمکش کا اندازہ لگایا جا سکتاہے۔ایسی ضدی اور سرکش عورت اپنی تمام برائیوں کے باوجود ہماری نفرت کا شکار نہیں ہوتی ،صرف اس لیے کہ اس کی غلط روی کی پوری ذمے داری مصنف نے محبت کے جذبے پر عائد کردی ہے۔عشق کی یہ مختصر کہانی دوسرے تمام جذبوں پر محبت کی بالا دستی کو ظاہر کرتی ہے اور رانی صاحبہ ،اُرملا اور چمپا کلی کے علاوہ کنور راج بہادر سنگھ کے کردار کی وجہ سے ہمیشہ یاد رہ جاتی ہے۔یہ ناولٹ کردار نگاری،نفسیاتی تجزیہ ،تکنیک اور پلاٹ کے خوبصورت استعمال کے سبب بھی کامیاب فن پارہ ہے جس کے تعلق سے ظ۔انصاری کے الفاظ ہیں
’’ایسے سبھاؤ سے،اس قدر عمدگی سے بنی ہوئی Compact کہانی کرشن چندر نے 
۹
برسوں بعد کہی ہے۔۔۔بیان کی خوشگوار سادگی اور بہاؤ میں اتنی احتیاط برتی ہے کہ 
کہیں ایک پیراگراف بھی نہیں کھٹکتا‘‘۔(۱۳)
رسالہ شاعر کے ناولٹ نمبر(۱۹۷۱ء) میں ایک ناولٹ ’’پیار ایک خوشبو‘‘ کے نام سے شایع ہوا جس میں کرشن چندر نے کشمیر کی گھاٹیوں میں بسنے والے بکروال قبیلے کے معاشرہ اور بودوباش کی تصویر کشی کی ہے۔خود مصنف نے بتایا ہے کہ یہ ایک ایسا قبیلہ ہے جس کے دیوی دیوتادوسرے قبیلوں سے نرالے ہیں۔زمین ،آسمان ،موت ،زندگی،روح اور بدروح کے متعلق ان کے معتقدات بابلیوں ،ہمیرجوہ اور کہیں کہیں عبرانیوں کی مقدس کتاب ژند سے ملتے جلتے ہیں۔قصہ آنسکی کے ڈرامے سے ماخوذ ہے اور اس کی فضا پوری طرح طلسماتی اور رومانی ہے۔ایک حسین لڑکی آنگی اور اس کے محبوب چنن کی یہ کہانی بالآخر محبت کی عظمت کا احساس جگاتے ہوئے ختم ہو جاتی ہے۔آنگی کے باپ نے اپنے پرانے دوست یعنی چنن کے باپ سے یہ وعدہ کیا تھا کہ اگر اس کے گھر لڑکی پیدا ہوئی تو وہ چنن کی شریک حیات بنے گی۔وہ اپنا وعدہ پورا نہ کر سکا مگر یہ دونوں مر کر ایک ہو گئے۔کرشن چندر نے خود لکھا ہے ’’یہ در اصل توہمات میں گھری ہوئی دو روحوں کے جذبۂ صادق کی کہانی ہے‘‘۔زندگی کے حقائق سے ’پیار ایک خوشبو‘ کے پلاٹ کا کوئی تعلق نہیں ہے۔یہاں تک کہ کشمیر کی جو علاقائی قبائلی زندگی پیش کی گئی ہے اس میں بھی ہماری دیہی یا شہری زندگی کی کوئی جھلک نہیں ملتی۔یہاں مفروضات اور توہمات کا پر اسرار ماحول ملتاہے اور فرسودہ اعتقادات کی حیرت انگیز وادیاں ملتی ہیں۔ان معتقدات اور توہمات کی پیش کش میں ناولٹ نگار نے کمال فن ضرور دکھلایا ہے۔آسیب و اسرار سے بھرے ہوئے مناظر قارئین کو تجسس و تحیر میں مبتلا کرنے کی قوت رکھتے ہیں ۔یہی کرشن چندر کے دلفریب اسلو ب اور کامیاب تکنیک کی دلیل ہے۔
مجھے احساس ہے کہ مضمون طویل ہوگیا ہے ،اس کے باوجود یہاں پر میں بچوں کے لیے لکھے گئے کرشن چندر کے ایک ناولٹ ’’الٹا درخت‘‘ (۱۹۵۴) کا ذکر بھی ضرور کرنا چاہوں گا جو بظاہر بچوں کا ناولٹ ہے مگر اس میں کرشن چندر کے سیاسی و سماجی نظریات و تجربات جس قدر فنی مہارت کے ساتھ پیش کئے گئے ہیں اس کے پیش نظر یہ بڑوں کو بھی دعوت فکر دیتا ہے۔ریوتی سرن شرما نے اس کے دیباچے میں جو کچھ لکھاہے اُس سے اِ س ناولٹ کا امتیاز و انفراد واضح ہوتاہے۔وہ کہتے ہیں
’’جو چیز اس لطیف کہانی کو سنجیدہ ادب کے زمرے میں شامل کرتی ہے وہ ہے مصنف کا بالغ سیاسی اور 
سماجی شعور۔اس شعور کے لمس سے یہ ساری کہانی ایک طنزیہ تمثیل بن گئی ہے اور ہر تخلیقی پیکر ایک گہری 
رمزیت اور ہر واقعہ ایک گہری معنویت کا حامل بن گیاہے‘‘(۱۴)
ناولٹ پڑھنے کے بعد کوئی بالغ نظر قاری اِس بیان کی صداقت سے انکار نہیں کر سکتا۔اِس پورے ناولٹ میں کرشن چندر کی انسان 
۱۰
دوستی ،سرمایہ دارانہ ذہنیت سے نفرت اور محنت کشوں سے محبت کے جذبات لہو بن کر دوڑ رہے ہیں۔اس میں معاشرتی طنز کی کاٹ بہت شدید ہے۔وہ معاشرے میں موجود زیادہ تر برائیوں کو نشانہ بناتے ہیں اور بچوں کے اندر ان برائیوں سے نفرت پیدا کرنا چاہتے ہیں۔وہ چاہتے ہیں کہ بچوں کے دلوں میں انسان کی عظمت کا سکہّ شروع سے بیٹھ جائے ۔اس لیے اُن کا ایک کردار کہتاہے
’’آدمی کے بغیر ان کی کوئی قیمت نہیں۔تمام چیزوں کی قیمت آدمی سے ہے۔کپڑے آدمیوں کے
لیے ہوتے ہیں،مٹھائیاں بچوں کے کھانے کے لیے ہوتی ہیں،سڑکیں راہ گیروں کے گزرنے کے
لیے ہوتی ہیں۔‘‘(۱۵)
ناولٹ میں یوسف کی جائداد پر بادشاہ کے زبر دستی قبضے سے لے کر سانپوں کے شہر کے تمام لوگوں کو ظالموں سے آزاد کرانے تک سینکڑوں واقعات ہیں جو بچوں کو دلچسپ اور متحیر کن لگتے ہیں اور اپنے ہی جیسے بچوں کو حیرت انگیز دنیا کا سفر کرتے ہوئے دیکھ کر انہیں مسرت سے ہمکنار کرتے ہیں۔مگر ان واقعات کی تہ میں ایک انفرادیت یہ ہے کہ اس کے تمام واقعات اور کردار موجودہ معاشرے کے کسی نہ کسی پہلو کی آئینہ داری کرتے ہیں اور مفاہیم کی ایک نئی دنیا آباد کرتے ہیں۔یہ مفاہیم بچوں کے ساتھ بڑوں کو بھی دعوت فکر دیتے ہیں۔محنت سے محبت اور سرمایہ داری سے نفرت جیسے نظریات کی پیش کش بچوں اور بڑوں دونوں کو روشنی بخشتی ہے۔بقول پروفیسر اعجاز علی ارشد
’’کرشن چندر کے نظریات کی اس قدر فنکارانہ لطافت کے ساتھ بچوں کے ناول میں پیش کش 
مصنف کے بالیدہ فنی و فکری شعور کی آئینہ دار ہے اور مختلف تعلیمی و ذہنی سطحوں پر اس ناولٹ کے
مطالعہ کا تقاضا کرتی ہے۔‘‘(۱۶
گویا فکری و فنی تہ داری اور کرشن چندر کے نظریات کی خوبصورت پیش کش کے لحاظ سے اس ناولٹ کو بھی کامیاب اور اہم قرار دیا جا سکتاہے۔
جیسا کہ میں نے پہلے بھی ذکر کیا کرشن چندر نے مختصر ناول یا ناولٹ بسیار نویسی یا کمرشیلزم جس بنا پر بھی لکھے ہوں ،ان کی تعداد اچھی خاصی ہے۔مذکورہ ناولوں کے علاوہ میری یادوں کے چنار،آسمان روشن ہے،لندن کے سات رنگ ،پانچ لوفر ، ستاروں کی سیر ،سونے کا سیب،بہادرگارجنگ ،چاندی کے گھاؤ ،بہروپیا ،چندا کی چاندنی اور آنکھ کی چوری وغیرہ کو بھی ان کے اختصار اور محدود کینوس پر مبنی قصوں کی بنا پر ناولٹ کہا جا سکتاہے۔مگر ان میں زیادہ تر ناولٹ اپنے معیار و مزاج کے اعتبار سے ایسی کوئی خصوصیت نہیں رکھتے کہ ان کا تفصیلی ذکر کیا جائے۔اُن کے مقبول و معروف ناولٹ دادر پل کے بچے،غدار،برف کے 
۱۱
پھول ،زرگاؤں کی رانی اور الٹا درخت وغیرہ ہی ہیں جن کا تجزیاتی مطالعہ کرشن چندر کی ناولٹ نگاری پر دسترس کے علاوہ ان کے مشاہدات کی وسعت اور نیرنگی کا احساس دلاتاہے۔یہ تنوع موضوعات و واقعات اور کردارنگاری کے ساتھ اسلوب اور تکنیک کی سطح پر بھی محسوس کیا جا سکتاہے۔
ان ناولٹوں میں کرشن چندر اگر ایک طرف رومانیت کے مختلف پہلوؤں سے قریب نظر آتے ہیں تو دوسری طرف ان کی شخصیت اور فکر پہ اشتراکیت کے غالب اثرات بھی بہ آسانی محسوس کئے جا سکتے ہیں۔برف کے پھول اور پیار ایک خوشبو کو اگر ان کی رومانی فکر کی نمائندگی کا شرف حاصل ہے تو غدار ،دادر پل کے بچے اور الٹا درخت کو پوری طرح ان کے اشتراکی طرز فکر کا نمونہ قرار دیا جا سکتاہے،جن میں اشتراکی فکر کے ساتھ انسانی ہمدردی اور انسان دوستی کے بے پناہ جذبے کا احساس ملتاہے اور مصنف کا رجائی نقطۂ نظر بھی سامنے آتاہے۔جنگوں کی مخالفت اور امن عالم کی حمایت کے ساتھ ایک پُر امید زندگی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کرشن چندر مایوسی کو کفر کے مترادف قرار دیتے ہیں۔چندا کی چاندنی اور بہروپیا جیسے کمرشیل اور فلمی انداز کے ناولٹ بھی انسانی ہمدردی کے جذبے کی ایک دستاویز اور سرمایہ دارانہ ذہنیت کے خلاف احتجاج کی آوازیں ہیں۔در اصل کرشن چندر ہم عصر مسائل سے کبھی بے نیازنہیں رہے۔خاص طور پر استحصال کی جتنی صورتیں معاشرے میں جہاں کہیں موجود تھیں وہ ان کی نظروں میں کھٹکتی رہیں اور انسانی ہمدردی کے جذبے سے لبریز ان کا دل اُن صورتوں کے خلاف احتجاج کرتا رہا۔وہ تمام صورتیں ان کے افسانوں ،ناولوں اور ناولٹوں میں موضوعات کی رنگارنگی کے طور پر موجود ہیں۔
موضوعات کی رنگا رنگی کی طرح ان کے کردار اور تکنیک کی نیرنگی بھی ہمیں متوجہ کرتی ہے۔کردار نگاری کے باب میں جہاں ایک طرف دادرپُل کے بچے،کا بھگوان توجہ کھینچتاہے تو دوسری طرف غدار کا بیج ناتھ بھی ہمارے دل و دماغ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتاہے۔برف کے پھول میں زینب اور ساجد محبت میں جان دینے والے کردار کی صورت متاثر کرتے ہیں تو زرگاؤں کی رانی کی رانی صاحبہ اپنی نفسیاتی کشمکش اور سرکش فطرت کے باوجود قاری کی محبو ب بن جاتی ہے۔اسی طرح ’پیار ایک خوشبو‘ کی آنگی اور ’الٹا درخت ‘کا یوسف بھی اپنی اپنی انفرادی شناخت کے ساتھ مصنف کی کردارنگاری کا عمدہ نمونہ بن کر سامنے آتے ہیں۔غرض یہ کہ کرشن چندر کے ناولٹوں میں بھی طرح طرح کے کردار ہیں جو معاشرے کے مختلف طبقات و رجحانات کی نمائندگی ہی نہیں کرتے مصنف کی کردارنگاری کے فن پہ قدرت کا ثبوت بھی فراہم کرتے ہیں۔حالانکہ اُن کے اکثر ناولٹ کرداری نہیں ہیں یعنی ان کی کہانیاں کرداروں کے گر د نہیں گھومتیں۔وہ بنیاد ی طور پر فضا آفرینی اور سحربیانی کے قائل ہیں اور ان کے سہارے معاشرے کے کمزور اور تاریک پہلوؤں کی بہت اچھی عکاسی کرنا پسند کرتے ہیں۔جہاں تک تکنیک کی نیرنگی کا سوال ہے ’دادرپل کے بچے‘ سے ہی اس کا اندازہ ہونے لگتاہے ،کہ اس میں ’بھگوان ‘ کو جس طرح زمین پر اتار کر اُسے ایک Tool کے طورپر استعمال کیا گیا 
۱۲
ہے،اس کی داد نہ دینا بے انصافی ہوگی۔اسی طرح ’الٹا درخت ‘ کا تمثیلی اور فنطاسیہ انداز بیان ،’غدار‘ کے وضاحتی اسلوب سے قطعی مختلف ہے ۔میرا خیال ہے کہ کرشن چندر اکہرے بیانیہ انداز تک کبھی محدود نہیں رہے ،اسی لیے ان کے افسانوں اور ناولوں کی طرح ناولٹوں میں بھی اسلوب اور تکنیک کا تنوع ان کے تغیر پسند اور تجرباتی ذہن کی طرف اشارہ کرتاہے۔
مختصر یہ کہ کمرشیل ازم اور مقصدیت کے باوجود کرشن چندر کے ناولٹوں میں ماجرابھی ہے کردارنگاری بھی،انسان دوستی کا جذبہ بھی ہے اور گہرا تاثر بھی۔کسی مصنف کی قدروقیمت کا تعین ہمیشہ اس کے اچھے اور معیاری فن پاروں کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔الٹا درخت،دادرپل کے بچے ،غدار اور زرگاؤں کی رانی وغیرہ کرشن چندر کے پانچ سات ایسے ناولٹ ہیں جو ہر اعتبار سے بہترین کہے جاسکتے ہیں۔راجندر سنگھ بیدی،عصمت چغتائی،سجادظہیر اور سہیل عظیم آبادی وغیرہ اپنے ایک یا دو ناولٹوں کی وجہ سے اگر تاریخ میں زندہ ہیں تو کرشن چندر اپنے اِن منفرد اور بہترین مختصر ناولوں کی وجہ سے اردو ناولٹ کی تاریخ میں اہم مقام پر کیوں نہیں فائز کیے جاسکتے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حوالے
۱۔ ’’دارد پُل کے بچے‘‘(۱۹۶۱) ص ۱۲۵
۲۔ ایضاً ص ۔۱۲۸
۳۔ ایضاً ص ۔۶۶
۴۔ ایضاً ص ۔۷۸
۵۔ ایضاً ص ۔۵۱
۶۔ ایضاً ص ۔۶۷
۷۔ ایضاً ص ۔۷
۸۔ ایضاً ص ۔۲۳
۹۔’’غدار‘‘ ۱۹۶۱ء ص۔۶۲
۱۰۔ ’’غدار‘‘ ۱۹۶۱ء ص۔۱۱۶
۱۱۔ کرشن چندر کے منتخب افسانے،ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس۔ص۔۳۵
۱۲۔ ’’زرگاؤں کی رانی‘‘۔۱۹۶۶ء۔ص۔۱۴۶
۱۳۔ کرشن چندر کے منتخب افسانے،ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس۔ص۔۳۶
۱۴۔ ’’الٹا درخت‘‘۔۱۹۵۴ء۔ص۔۳
۱۵۔ ’’الٹا درخت‘‘۔۱۹۵۴ء۔ص۔۴۵
۱۶۔ کرشن چندر کی ناول نگاری،بہار اردو اکادمی،پٹنہ۔ص۔۵۳

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شہاب ظفر اعظمی،شعبۂ اردو ،پٹنہ یونیورسٹی،پٹنہ۔۸۰۰۰۰۵
shahabzafar.azmi@gmail.com
08863968168

 مضامین دیگر 

Ghulam mustafa
مضمون دلچسپ اور جانکاری کا حامل ہے بعض جگہوں پر مضمون نگار نے جلد بازی سے کام لیا ہے بہر حال اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ مضمون سے کرشن چندر پر کام کرنے والوں کو فائدہ ہوگا
2017-07-19 18:24:24

Md Moshahid Alam
مضمون دلچسپ اور کارآمدہے کرشن چندر کے ناولٹوں کے حوالے سے ہم سب کو فائدہ ہوگا
2017-07-19 18:24:01

2017-07-19 18:23:46

Comment Form