’’سیّد محمد اشرف: ماحول اور اپنی تخلیقات کے آئینے میں‘‘




طارق چھتاری
22 Jun, 2017 | Total Views: 318

   

یہ وہ زمانہ تھا جب علی گڑھ کی پُرکشش اور سحرآگیں فضا یونیورسٹی کے طلبا کی تخلیقی صلاحیتوں کو اُبھارنے اور استعمال کرنے کی محرک ہوا کرتی تھی۔ کنیڈی ہاؤس کا خوش نما احاطہ، لائبریری کے سامنے کا وسیع سبزہ زار، فیکلٹی آف آرٹس کی سہ منزلہ جدید طرز کی خوب صورت عمارت کے دروازے پر بنے حوض، مختلف عمارتوں کو ایک دھاگے میں پرونے والی صاف شفاف دہلی دھلائی سی سفید ٹھنڈی سڑکیں۔ پام، ساگون، گل مہر، مولسری اور یوکلپٹس کے اونچے اونچے درخت۔ یونیورسٹی کینٹین کے وسیع و عریض ہال کی نیم تاریک اور پُرسکون فضا کہ صوفے نہایت سلیقے سے آراستہ ہیں، طالبِ علم خراماں خراماں چلے آرہے ہیں، برآمدے نما پورٹیکو میں داخل ہوتے ہیں اور رنگین شیشوں والے محراب دار بڑے دروازے سے اندر پہنچ کر صوفوں پر بیٹھ جاتے ہیں۔ سعادت مند ویٹر پانی کے گلاس ٹرے میں لیے قریب آتے ہیں اور جھک کر میز پر سجا دیتے ہیں۔ سینئرطالبِ علم آرڈر دے دیتاہے۔ اس کی آواز اتنی نرم اور دھیمی ہوتی ہے کہ اگر خاص سے سننے کی کوشش نہ کی جائے تو شاید برابر بیٹھا شخص بھی نہ سن سکے۔ کبھی کبھی یوں بھی ہوتاہے کہ طلبا گفتگو میں محو ہی رہتے ہیں اور ویٹر پانی لگاکر خاموشی سے بغیر آرڈر لیے واپس چلا جاتاہے مگر تھوڑی دیر بعد وہ ایک ٹرے میں ٹیکوزی ڈھکی کیتلی، دودھ دان، شکردان، چمچے اور چند پیالیاں لے کر اس طرح آتاہے جیسے طالب علموں کی ہرخواہش اور ضرورت سے وہ پہلے سے واقف ہو۔ نہ کسی کو آرڈر دینے کی ضرورت ہے، نہ اسے آرڈر لینے کی، گویا وہ سب کے دل کی زبان سمجھتاہے۔
اُسی زمانے میں اس کینٹین کا کنٹریکٹ اردو کے مشہور شاعر جناب جاویدکمال کے پاس تھا۔ کاؤنٹرپر کبھی وہ اور کبھی میکش بدایونی بیٹھے نظر آتے۔ ریٹائر ہونے کے بعد کبھی کبھی جذبی صاحب بھی شام کی چائے پینے اسی کینٹین میں چلے آتے۔ ان شخصیات کی موجودگی آشفتہ چنگیزی، ابوالکلام قاسمی، مہتاب حیدرنقوی، عقیل احمد، شارق ادیب، فرحت احساس، خورشید احمد، غضنفر، نسیم صدیقی، عبیدصدیقی، اظہار ندیم، پیغام آفاقی، پرویزجعفری، صغیرافراہیم، اسعدبدایونی، شہپر رسول، قمرالہدیٰ فریدی، غیاث الرحمن، ابنِ کنول اور سیّد محمد اشرف کو اکثر و بیش تر یہاں کھینچ لاتی۔ گفتگو شروع ہوتی، کبھی کسی ادبی مسئلے پر بحث ہورہی ہے، کبھی کوئی مضمون پڑھا جارہاہے، کبھی شاعری سنی جارہی ہے اور کبھی افسانہ۔ یہاں سے اُٹھ کر یہ احباب کبھی شہریارصاحب تو کبھی قاضی عبدالستارصاحب کے دولت کدے پہنچتے اور بہت سی گتھیاں ان اہلِ دانش کی گفتگو سن کر سلجھ جاتیں۔ ان دنوں علی گڑھ کے یہ نوجوان ادیب ترقی پسندتحریک اور جدیدیت دونوں کے فکری اور فنی رویّوں سے غیرمطمئن تھے اور کسی نئی راہ کی تلاش میں تھے کہ سیدمحمد اشرف نے کئی اچھے افسانے تخلیق کرکے ادب کے نئے لینڈاسکیپ کے لیے زمین ہموار کردی۔ 
سید محمد اشرف کا تعلق خانقاہ برکاتیہ مارہرہ شریف سے ہے۔ اردو تہذیب کے مخصوص ماحول میں آنکھ کھولی، بچپن میں ہی بزرگوں کے ذاتی کتب خانے میں موجود کلاسیکی ادب کی کتابیں پڑھ ڈالیں۔ ان کے دادا حضرت آوارہ صاحب کی تربیت نے ادبی ذوق نکھارا، زبان کی اصلاح کی اور ’’ڈار سے بچھڑے‘‘، ’’نمبردارکا نیلا‘‘ اور ’بادِصبا کا انتظار‘‘ جیسی کتابیں لکھی جانے کے لیے فضا تیار ہوگئی۔ سید محمد اشرف اپنے گھر کے ماحول کا تذکرہ ان الفاظ میں کرتے ہیں:
’’
بہت وسیع و عریض قلعہ نما مکان، باہر چوکر اور بڑا پھاٹک۔ گھر کے برابر خاندانی مسجد اور خانقاہ شریف۔ صدر دروازے سے نکل کر درگاہ شریف، یہاں زائرین کی آمدورفت رہتی تھی اور رہتی ہے۔ عرسوں کے زمانے میں زائرین کا مجمع اور نعرۂ تکبیر اﷲاکبر، نعرۂ رسالت یا رسول اﷲؐ، غوث کا دامن نہیں چھوڑیں گے، خواجہ کا دامن نہیں چھوڑیں گے۔ جیسے نعروں کی تکرار۔ مسجد اور درگاہ شریف کے برآمدے میں گھر کا مدرسہ، جہاں ایک حافظ صاحب اور ایک منشی جی محوِ تدریس۔ مکتب کے بچوں کے ساتھ پہاڑے اور گنتی رٹنے کا کورس اور فاضل بریلوی مولانا احمدرضاخاں علیہ الرحمۃ کی نعتوں اور ان کے مشہورِ زمانہ سلام، مصطفی جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام کی مشق کی آوازیں۔‘‘
جس وقت سید محمد اشرف کو اپنے لاشعور میں موجود بیش قیمت خزانے کا ادراک ہورہا تھا، اس وقت قصباتی زندگی کی یہی پُراسرار فضا اور خانقاہ کا پاکیزہ اور روحانی ماحول ان کی تخلیقی قوت کو استحکام بخش رہا تھا۔ اس ماحول کی عکاسی انھوں نے اپنے کئی افسانوں میں نہایت فن کاری کے ساتھ کی ہے:
’’
مجھے حجرے کے نیم تاریک ماحول میں بیٹھے بیٹھے نظر آیا جیسے صحرا میں اونٹوں کا طویل قافلہ چلا جارہا ہو اور کسی بڑے دشمن کے نیزہ بردار سپاہیوں نے تیز اور لمبے نیزوں سے اونٹوں کی گردنوں کو چھید دیا ہو اور زخمی اونٹ بلبلابلبلاکر چیخ چیخ کر تڑپ رہے ہوں۔۔۔ ہم لوگ جب حجرے سے نکلے تو آسمان صاف تھا اور ستارے بہت روشن تھے۔ ہم لوگوں کے لمبے لمبے سائے میاں کے حجرے سے دور ہورہے تھے۔ مُڑکر دیکھا تو سفیدپوش میاں حجرے کے دروازے پر کھڑے ہمیں جاتے ہوئے دیکھ رہے تھے اور اسی وقت اجنبی آسمان کے نیچے چلتے چلتے ہم سب نے شاید ایک ساتھ سوچاکہ خدا جانے کل کیا ہوگا۔ دوسرے دن ظہر کے بعد ہم لوگ نہر کی طرف چل پڑے تھے۔ نہر کے پل پر کھڑے ہوکر میں نے سوچاکہ پرسوں اسی جگہ کھڑے ہوکر میں نے سوچا تھاکہ اونٹوں کے قافلے کے ساتھ رمضان اب رخصت ہونے ہی والے ہیں۔ شیشم کے دو بوڑھے درختوں کے درمیان کچھ بھی نہیں تھا جس سے خوف محسوس کیا جاسکے۔ سامنے نہر کے کنارے دور تک درختوں کا سلسلہ چلا گیا تھا اور ان میں سے کسی بلند شیشم کے اوپر سے بڑی فاختہ کی ’’یاحق تو‘‘ ’’یا دوست تو‘‘ کی مسلسل صدائیں اس کنارے سے بالکل صاف سنائی دے رہی تھیں اور اب غلام ماموں نے سوچاکہ جو دن میں سوچو رات کو وہی خواب میں نظر آتاہے۔‘‘
یہ اقتباس سید محمد اشرف کے ایک افسانے ’’منظر‘‘ سے ماخوذ ہے، جو ہندوستان کی ایک مخصوص تہذیب کی نمائندگی کرتاہے۔ اس تہذیب کے دامن میں پرورش پانے والا ایک خوب صورت نوجوان جب مختلف رنگوں کی خوش نما روشنیوں سے جگمگاتے علی گڑھ کی دل کش فضا میں داخل ہوتاہے تو اس کے جوہر نکھرنے لگتے ہیں اور تخیل کی پرواز بلند سے بلندتر ہونے لگتی ہے۔ اس وقت علی گڑھ میں کئی ایسے ریسٹورنٹ تھے جہاں ادیب اور شاعر بیٹھتے۔ آفتاب کے پیچھے ’’کیفے ڈی پھوس‘‘، دیر رات تک کھلنے کے لیے مشہور ’کیفے ڈی لیلہ‘، ’پیراڈائز‘، ’کبیرکا ٹی ہاؤس‘، ’کوزی کورنر‘، ’رائل کیفے‘ اور 'Monsieur' کے علاوہ راجا پنڈراول کا ایک خوب صورت ریسٹوراں 'Seven Stars' بھی تھا۔ رائل کیفے اور Monsieur جدید طرز کے ریسٹورنٹ تھے جہاں بلیرڈ کی میزیں بھی تھیں مگر سیون اسٹارس ایسا ریسٹوراں تھا جس میں قدیم وضع کے صوفے، نقشیں چمنیوں والے شمع دان، عالی شان فانوس، انگلستانی کروکری اور خوش اخلاق و خوش گفتار و خوش رو راجا قاسم علی خاں نواب آف پنڈراول کی بہ نفسِ نفیس موجودگی۔ وہ اکثر شاعروں اور ادیبوں کے ساتھ آکر بیٹھ جاتے، شعر سنتے اور شعر سناتے۔ اسی ریسٹوراں میں میری پہلی ملاقات شارق ادیب کے ساتھ بیٹھے اس خوب صورت نوجوان سے ہوئی۔ تعارف ہوا تو معلوم ہواکہ یہی کیمپس کے معروف افسانہ نگار سید محمد اشرف ہیں۔ ہم لوگوں کی ملاقاتیں ہوتی رہیں، دوستیاں بڑھتی رہیں اور پھر آہستہ آہستہ ادبی حلقہ وسیع ہونے لگا۔ اس وقت سید محمد اشرف سائنس کے طالب علم تھے مگر وہ سائنس فیکلٹی میں کم اور ادبی محفلوں، شعری نشستوں، بیت بازی کے مقابلوں اور کھیل کے میدانوں میں زیادہ وقت گزارتے تھے۔ ایسا فن کار جس کے اندر تخلیق کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا ہو، فکر کی بے شمار لہریں بن رہی ہوں مٹ رہی ہوں اور جو کسی بھی طرح کی پابندی میں حبس محسوس کرتا ہو وہ بھلا خود کو سائنس کے بندھے ٹکے فارمولوں میں کب تک قید رکھ سکتاتھا۔ یہی ہوا، سائنس سے آرٹس اور پھر ادب اور صرف ادب ۔۔۔ یہاں کھلی فضا تھی اور کشادہ ماحول۔ ہال کی لٹریری سوسائٹی سے نکل کر یونیورسٹی کے مرکزی لٹریری کلب کی طرف کوچ کیا اور سکریٹری شپ حاصل کرلی اور پھر ان کی تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار کے مختلف امکانات پیدا ہوگئے۔ جس محفل میں وہ افسانہ سناتے، کیا ان کے ہم عصر اور کیا بزرگ ادیب، سبھی متاثر ہوتے۔ اس زمانے میں علی گڑھ ایک بڑا ادبی مرکز تھا۔ رشیداحمد صدیقی، آل احمد سرور، خورشیدالاسلام، پروفیسر نذیر احمد، پروفیسر وحید اختر، پروفیسر اسلوب احمد انصاری، پروفیسر مختار الدین احمد آرزو، پروفیسر مسعود حسین خاں، معین احسن جذبی، اختر انصاری، خلیل الرحمن اعظمی، قاضی عبدالستار، شہریار، سعیدالظفرچغتائی، ساجدہ زیدی، زاہدہ زیدی، سید امین اشرف، وارث کرمانی، ایس.این.شاہ، بشیربدر، صلاح الدین پرویز اور منظورہاشمی وغیرہ تو یہیں مقیم تھے، باہر سے بھی ادب کی گراں قدر ہستیاں علی گڑھ تشریف لاتیں اور اردو ادب کا ذوق رکھنے والے طالب علم جن کی تعداد خاصی تھی، ان محفلوں میں شریک ہوتے۔ مجھے یاد ہے کہ اس زمانے میں عصمت چغتائی، قرۃالعین حیدر، علی سردار جعفری، جاں نثاراختر، شمس الرحمن فاروقی، گوپی چند نارنگ، اخترالایمان اور محمودہاشمی وغیرہ اکثر علی گڑھ آتے اور ہم لوگ کبھی یونیورسٹی کی کسی انجمن میں تو کبھی کسی بزرگ ادیب کے گھر پر ان کا کلام سنتے، ان سے گفتگو کرتے اور اپنی تخلیقات سناتے۔ سننے اور سنانے والوں میں سیدمحمداشرف پیش پیش رہتے۔
ایک تخلیق کار جو خوب صورت بھی ہو، نوجوان بھی، مہذب بھی، افسانہ نگار بھی اور شاعر بھی، وہ ارمانوں کی اس خلدِ بریں کی شہزادیوں کی توجہ کا مرکز نہ ہو، یہ کیوں کر ممکن ہے۔ لہٰذا سیدمحمد اشرف کے قریب وہ چہرے بھی نظر آنے لگے جن کو دور سے دیکھ کر اطمینان کرلینا ہی ہم لوگوں کے لیے بڑی خوش نصیبی کی بات تھی۔ لٹریری کلب کے سکریٹری کا الگ کمرہ تھا۔ دیواروں اور پردوں کا خوب صورت رنگ، کھڑکیوں کے بڑے بڑے شیشے، گول محرابوں والی نیچی نیچی چھتیں جیسے کسی بزرگ نے سرپر دستِ شفقت رکھ دیاہو۔ چند آرام دہ کرسیاں، بڑی میز ایک صوفہ اور سامنے گدے دار کرسی پر بیٹھے لٹریری کلب کے سکریٹری سیدمحم اشرف۔ ادب کی چند شوقین دوشیزائیں یا کسی اور شوق میں ادبی ذوق کا اظہار کرنے والے ماہ پارے سامنے بیٹھے ہیں۔ گفتگو ہورہی ہے۔ اشرف صاحب کی زبان سے شیریں، دل کش اور لطیف جملے ادا ہورہے ہیں۔ جب لفظ پھول بن کے جھڑتے ہیں تو ریشمی دامن میں بھرلیے جاتے ہیں اور جب تیر بن کے چبھتے ہیں تو پگھلے ہوئے شیشے کے موتی اشرف صاحب کے دامن میں آگرتے ہیں۔ ان کے پاس ایسے حسین و جمیل چہرے بھی نظر آتے جن کے بارے میں مشہور تھاکہ وہ جدھر سے گزر جائیں لوگ قدموں کی دھول چرا کر پیروں، فقیروں کے پاس دوڑ پڑتے ہیں کہ شاید کچھ۔۔۔ کچھ کے آگے وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔
جب شام ہوتی اور سورج کی سرخی ماہ جبینوں کے رخساروں میں اُتر آتی تو نہ جانے کیوں ہمیں احساس ہوتاکہ کوئی ایسا چہرہ جو مثلِ ماہ نہیں، ماہِ کامل ہوگا، لٹریری کلب کے سکریٹری کی میز پر رکھا ہوگا اور کھلی ہوئی گھنیری زلفیں میزپر بکھری ہوں گی اور ۔۔۔ اور یہ جانتے ہوئے بھی کہ کلب کا سکریٹری ان سب باتوں سے بے نیاز ہے ان کے ہم عصر رشک اور قیاس کے رنگوں سے اپنے ذہن کے کینوس پر بنائے اس منظر کو نظروں میں بسائے آہیں بھرتے رہتے۔ حالاں کہ وہ جانتے تھے کہ سچے فن کار کو کسی ایک رنگ کی نہیں بلکہ کائنات کے مختلف رنگوں کی تلاش رہتی ہے۔ ماحول اور مقام محض وسیلہ بنتے ہیں اور وہ کسی رنگِ رائیگاں کو تلاش کرتے کرتے کہہ اُٹھتاہے کہ:
’’
یہی وہ جگہ ہے جہاں بیٹھ کر ہم نے اپنی محبت کے قصے بنے تھے۔ یہیں بیٹھ کر میں نے تم سے کہا تھاکہ چاہو مجھے کہ میں چاہے جانے کے لائق ہوں۔ یہیں بیٹھ کر ہم نے سوچا تھا ہم تم بہت اچھے انسان ہیں۔ یہیں ہم نے رنگوں کی باتیں سنی تھیں۔ خوشبوؤں کی کہانی لکھی تھی۔ یہیں ہم نے جھگڑوں کے حل اپنی محدود عقلوں کے بوتے پر طے کرلیے تھے۔ یہیں سب سے چھپ کر کبھی سب کے آگے ملاقاتیں کی تھیں۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں میں نے خودسرا ناؤں کو معصوم جذبوں کی چادر اُڑھاکر تمہارے بدن کو چھوا تھا۔ یہیں تم نے معصوم آنکھوں سے پہلی دفعہ مجھ کو دیکھا۔ یہیں نرم ہونٹوں کو تم نے میرے ہاتھ کی پشت پر رکھ دیا تھا۔ یہیں اپنی گود میں سررکھ کے تم نے کہا تھاکہ میں آپ کو چاہتی ہوں کہ اتنا کسی کو نہیں چاہتی میں۔ یہیں بیٹھ کر میں نے پہلی دفعہ زندگی میں یہ سوچاکہ جس سے محبت کرو اس کو چھولو تو سارے بدن میں عجب برق سی دوڑتی ہے۔ یہیں میں نے تمہاری گود میں سررکھ کے سوچا تھاکہ اس سے زیادہ پناہیں کہیں بھی نہیں ہیں۔ اور آج میں خود کو بہت مطمئن سا دکھاکر تمہیں، سوچتا ہوں کہ تم دور جانے والے کسی راستے پر اپنے خیمے کا بوجھا اُٹھائے رواں ہو۔ بوجھل تھکن تمہارے چہرے پر سجی ہوئی ہے۔ خدا تم کو خوب خوشیاں دے عشو، کہ تمہارا غم مجھ سے کسی بھی طرح کم نہیں ہے۔‘‘ 
(
تلاشِ رنگِ رائیگاں)
مارہرہ شریف کے ماحول نے جہاں ان کی زبان کو صاف ستھرا اور شائستہ بنایاہے وہیں علی گڑھ کی فضا فنی لحاظ سے ان کے افسانوں کی تکنیک اور اسلوب پر اثرانداز ہوئی ہے۔ علی گڑھ کی دوستیاں، جھگڑے اور پھر کسی سینئر کی مدد سے کمپرومائز کی روایت کا اثر ان کے افسانوں میں محبت اور نفرت کے شدید جذبے اور بالآخر خوش گوار صلح کے مناظر کی روح میں دیکھا جاسکتاہے۔ علی گڑھ میں طالب علم زندگی کے ہرمرحلے کو مل جل کر طے کرتے ہیں۔ اسی لیے یہاں ڈائننگ ہال کھانا کھانے، شمشاد مارکیٹ چائے پینے، تصویرمحل فلم دیکھنے، فیکلٹی اور لائبریری بلکہ کسی ذاتی کام سے بھی تنہا جانے کو معیوب سمجھا جاتاہے ۔۔۔ اشتراک کے اسی رویّے نے سید محمد اشرف کو معاشرے کے اجتماعی مسائل کو سمجھنے اور فن پارے کے تاثر میں وحدت پیدا کرنے کا ہنر سکھایا۔
کھانے پینے کے آداب اور تکلّفات ۔۔۔ چائے کے کپ میں چمچہ اتنا آہستہ چلاؤکہ کھنکھناہٹ نہ ہو، منھ کے نوالے کی آواز برابر بیٹھے شخص تک نہ پہنچ جائے، چائے کی چُسکی، چائے کی چُسکی ہی لگے حقّے کی گڑگڑاہٹ نہیں۔ آہستہ بولیے، انگلی اُٹھاکر کوئی اشارہ مت کیجیے وغیرہ وغیرہ۔ یہ پابندیاں شروع میں نئے طالب علم کو بھلے ہی سخت اور بے جا لگتی ہوں لیکن کچھ دنوں بعد اس کی شخصیت کا حصہ بن جاتی تھیں۔ اس وقت چائے خانوں کو ڈھابا نہیں کہا جاتاتھا اور ان کے سامنے کھلے میں بیٹھ کر چائے پینے کا رواج نہیں تھا۔ ہرچائے خانے کے سامنے خوب صورت پردوں کی قناتیں لگادی جاتی تھیں۔ پردے کے اندر کرسیاں لگی ہوتیں اور دھیمی آواز میں رکارڈپلیئر بج رہا ہوتا۔ بیگم اختر، مہدی حسن اور غلام علی کی غزلوں کے سُر گونج رہے ہوتے۔ چائے پیتے وقت گپ بازیاں ہوتیں، یونیورسٹی کے مسائل پر گفتگو ہوتی، ادبی بحثیں چھڑتیں اور میدانِ عشق کی فتوحات بیان کی جاتیں۔ اس طرح بیٹھناکہ سڑک سے گزرنے والے کی نظر چائے پیتے طالب علم پر پڑجائے علی گڑھ کی تہذیب کا یہ دور ۱۹۷۵ء بلکہ ۱۹۸۰ء تک رہا۔ سید محمد اشرف کے افسانوں میں بات کو کھلے طورپر نہ کہہ کر بہت خوب صورتی کے ساتھ اشاروں، علامتوں اور استعاروں کے ذریعے کہنے کا فن کارانہ انداز کہ بات مبہم بھی نہ ہو اور تہہ دار بھی ہوجائے علی گڑھ کے اسی ماحول کا وہ اثر ہے جو انھوں نے شعوری یا لاشعوری طورپر قبول کیا۔
سید محمد اشرف نے طالب علمی کے زمانے میں نہ صرف اچھے افسانے لکھے بلکہ یونیورسٹی کی سیاست میں بھی حصہ لیا۔ سید حامد صاحب کے دور میں وہ چند گھنٹوں کے لیے جیل بھی گئے، اپنی تعلیم پر بھی توجہ دی اور ایک دن سول سروس کے امتحان میں کامیابی حاصل کرکے انکم ٹیکس کے محکمے میں افسر ہوگئے۔ ملازمت کی ذمے داریوں کے ساتھ ساتھ افسانے بھی لکھتے رہے۔ اسی زمانے میں انھوں نے ایک ناولٹ ’’نمبردارکا نیلا‘‘ لکھا، جسے پڑھ کر شمس الرحمن فاروقی صاحب نے فرمایاکہ: ’’اشرف کا ناول خوب، بہت خوب ہے۔ بے شک اتنا عمدہ فکشن اردو تو کیا انگریزی میں بھی میں نے بہت دن سے نہیں دیکھا ۔۔۔‘‘
ان کے تازہ مجموعے ’’بادِصبا کاانتظار‘‘ کی بھی تمام کہانیاں اردو کے ناقدین اور قارئین نے بے حد پسند کی ہیں۔ اس کتاب پر ساہتیہ اکادمی نے ۲۰۰۳ء کا انعام دے کر سید محمد اشرف کی صلاحیتوں کا اعتراف کیاہے۔ اس عہد میں جہاں بیش تر لکھنے والوں کی تحریروں میں زبان کی غلطیوں کا شکوہ کیا جارہا ہو وہاں اگر چند افسانہ نگار زبان نہ صرف صحیح لکھتے ہوں بلکہ وہ اسلوب کی فنی نزاکتوں سے بھی واقف ہوں تو ادب کی صورت حال مایوس کن نہیں ہوسکتی۔ ایسے چند ہم عصر افسانہ نگاروں میں سید محمد اشرف کا نام بہت نمایاں ہے۔ انھوں نے اردو کو ’’نمبردارکا نیلا‘‘ جیسا ناولٹ اور ’ڈار سے بچھڑے‘، ’منظر‘، ’لکڑبگّھا چپ ہوگیا‘، ’آخری بن باس‘، ’روگ‘، ’آدمی‘، ’نجات‘، ’ساتھی‘، ’بادِصبا کا انتظار‘ اور ’تلاشِ رنگِ رائیگاں‘ جیسے بہترین افسانے دیے۔
اس کے علاوہ وہ اپنی انتظامی صلاحیت کی بنا پر ترقی کی منزلیں طے کرتے کرتے اب انکم ٹیکس کمشنر کے عہدے پر فائز ہیں اور آگرہ، کان پور، علی گڑھ اور بمبئی میں مختلف عہدوں پر رہنے کے بعد ان دنوں پھر علی گڑھ کمشنری کے پہلے کمشنر کی حیثیت سے یہاں مقیم ہیں۔ ان کی انتظامی صلاحیت کی ایک زندہ مثال جامعہ البرکات بھی ہے، جس کے قیام اور نظم و نسق میں ان کا بھرپور تعاون شامل ہے۔ یہ تعلیمی ادارہ نہ صرف اپنی خوب صورت اور مستحکم عمارتوں کے لیے مشہور ہے بلکہ تعلیمی معیار اور ڈسپلن میں بھی اپنی مثال آپ ہے۔
سید محمد اشرف ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہیں۔ وہ دوسروں کے جذبات کا خیال رکھتے ہیں تو خود میں سرشار بھی رہتے ہیں۔ وہ جتنا بزرگوں کا احترام کرتے ہیں اتنی ہی سیلف رسپیکٹ بھی۔ ان کی ہردل عزیز شخصیت انکساری اور خودداری، رکھ رکھاؤ اور بے تکلفی، دل جوئی اور صاف گوئی کا خوب صورت امتزاج ہے۔ اسی توازن اور تناسب کی وجہ سے سید محمد اشرف کو ادیب ہوں یا عام شہری، دوست ہوں یا بزرگ، افسر ہوں یا ماتحت سبھی بہت پسند کرتے ہیں اور جہاں وہ ہوتے ہیں ان کی شخصیت مرکزی حیثیت اختیار کرلیتی ہے۔

 مضامین دیگر 


Comment Form



اردو فکشن

© 2017 Urdu Fiction. All right reserved.

Developed By: Aytis Cloud Solutions Pvt. Ltd.