24 Nov, 2017 | Total Views: 187

مانجھی ایک تہذیبی و سماجی سروکار

امتیاز احمد علیمی

صوبہ بہار زمانہ قدیم سے ہی تہذیب وتمدن کا مرکز اور علم و فن کا گہوارہ رہا ہے۔ہر میدان میں چاہے وہ سیاست ہو یا اہل علم و دانش کا حلقہ،علوم شرعیہ ہو یا شاہی افسران یا ادب کی دنیا میں فکشن ہو یا فکشن کی تنقید یا تحقیق بہار کا اہم کارنامہ رہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج کے بیشتر فکشن نگار ناقدین و محققین کا تعلق اسی سر زمین سے ہے جہاں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے۔جدیدیت سے مابعد جدیدیت کی طرف مراجعت کرنے والے فکشن نگار غضنفر کا تعلق بھی اسی سرزمین سے ہے انہوں نے مختلف ادبی اصناف مثلاً ڈراما،تنقید،ناول ،افسانہ،خاکہ کے علاوہ شعرو شاعری میں طبع آزمائی کر کے اپنی انفرادی شناخت قائم کرنے کی کوشش کی اور اس میں کامیابی بھی حاصل کی،ساتھ ہی درس و تدریس جیسے مقدس پیشے کو اپناکر قدیم اور روایتی طریقہ تدریس کے بجائے جدید طریقہ تدریس کو متعارف کرانے میں ہمہ تن کوشاں نظر آتے ہیں۔غضنفر کی شخصیت ہمہ جہتی ہے لیکن دنیائے ادب میں ان کی بنیادی شناخت ایک ناول نگار کی ہے۔اس صنف میں اب تک ان کے ۹ ناول منظر عام پر آچکے ہیں اور قارئین ادب کے درمیان قبولیت بھی حاصل کرچکے ہیں۔ان کے ابتدائی ناولوں میں علامت،استعارہ،اور تمثیل کی دبیز چادر چڑھی ہوئی ہے جس کی وجہ سے قاری اس کی فنی اور فکری باریکیوں کی تہہ تک پہنچنے اور اس سے واقف ہونے سے محروم رہ جاتا ہے۔یہ مسئلہ صرف غضنفر کے ناولوں کے ناولوں کا نہیں بلکہ اس عہد میں لکھی جانے والی ہر تخلیقات کا مسئلہ تھا جس میں بات کو مبہم انداز میں پیش کیا جاتا تھا در اصل وہ ایک تجرباتی دور تھا جس میں ہر تخلیق کار نئے نئے تجربے کرتا تھاکبھی اسے کامیابی ملتی اور کبھی بری طرح ناکام رہتا۔غضنفر نے بھی اس صنف میں مختلف طرح کے تجربات کئے مثلاًلسانی تجربہ،ہیئتی و تکنیکی تجربہ،زبان و بیان اور اسلوبیاتی تجربہ وغیرہ ۔ان کا ہر تجربہ ان کی اختراعی طبیعت کی غمازی کر رہا ہے یہ اور بات ہے کہ ہر تجربہ کامیاب نہیں ہوا۔کسی کی حد درجہ پذیرائی ہوئی تو کوئی ھدف تنقید بھی بنا۔
بہر کیف زندگی کے رزم و بزم کے علاوہ سماج اور معاشرے کے المیاتی حقائق کو بے نقاب کرنے کی کوشش غضنفر کے تمام ناولوں میں صاف طور پر نظر آتی ہے۔مجھے اس مختصر سے مضمون میں ان کے تمام ناولوں پر تفصیلی گفتگو کر نے کے بجائے ان کے حالیہ ناول’’مانجھی‘‘کے تہذیبی و سماجی اور فنی و فکری مباحث سے سروکار ہے جو ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس کے زیر اہتمام ۲۰۱۲ء میں منظر عام پر آیا۔اس مختصر سے ناول میں سیاسی و سماجی جبر و استحصال ،معاشی و اقتصادی تنگ دستی،تہذیب و ثقافت کی ٹوٹتی بکھرتی روایت اور اس کے در پردہ جدید تہذیب کی باریابی،اکثریتی اور اقلیتی طبقوں کے مابین بڑھتی خلیج،قومی اور بین الاقوامی مسائل،اقتدار اور بالا دستی کی ہوس میں اپنے ضمیر تک کا سودا کرنا ،مذہبی توہمات و عقائد اور گنگا جمنی تہذیب کے اقداری زوال سے پردہ اٹھایا گیا ہے اور ان سب کو مختلف النوع حادثات و واقعات اور مناظر کے ذریعہ پیش کیا گیا ہے۔
اس ناول کا پورا تانا بانا دو مرکزی کردار، وی۔این۔رائے اورویاس مانجھی کے ذریعہ بُنا گیا ہے جس میں وی۔این۔رائے کی شخصیت ایک وضاحتی استاد(ExplainatryTeacher) کے طور پر ابھر تی ہے جو ہر چیز پر سوالیہ نشان قائم کرتا ہے اور خود ہی اس کا مدلل جواب بھی دیتا ہے اور قاری کو تخیلاتی دنیا میں پرواز کرنے اور اپنے تدبرانہ صلاحیت کے استعمال سے باز رکھتا ہے جب کہ ویاس مانجھی کی شخصیت جہاندیدہ،شہر ستم کے مظلوم دانشور ،سر بستہ رازوں کا در وا کرنے والے شاہد،کہی اور اَن کہی باتوں کا ادراک کرنے والے ایک ایسے قصہ گو کہ نظر آتی ہے جس کے قصے میں ماورائی یا ما فوق الفطری عناصر کے بجائے ذاتی تجربات و مشاہدات کا کافی عمل دخل ہے۔قصہ گو جس طرح مختلف تجربات و حوادثات سے مقابلہ کرکے جینے کا ہنر سیکھتا ہے اور حالات اور خود اپنے آپ سے ایک لمبی جنگ لڑ کر جس مقام پر فائز ہے وہ ہمیں دعوت فکر و عمل دیتا ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ کہانی کہنے والے اور کہانی سننے والے کا صدیوں کا ساتھ رہا ہے ایک حیات اور ما وراء حیات کی گواہی دیتا رہا اور دوسرا اس کی تصدیق کرتا رہا۔اس ناول میں ویاس مانجھی حیات اور ما وراء حیات کی کہانی سناتا ہے اور وی۔این۔رائے اس کی تصدیق کرتا ہے اور زندگی کے نشیب و فراز میں الجھی کڑیوں کو سلجھانے کی کوشش کرتا ہے۔یہ دونوں کردار اپنی اپنی شخصیت کے گوناگوں اوصاف قاری کے ذہن پر نقش کرنے میں کامیاب تو ہو جاتے ہیں لیکن دیر پا اثرات قائم نہیں رکھ پاتے اور قاری کو اپنا گرویدہ بنانے میں ناکام ہوجاتے ہیں کیونکہ کہانی ختم ہونے کے بعد نہ تو قاری کے اندر کوئی ہلچل پیدا ہوتی ہے اور نہ ہی اس کے ذہن و دماغ کو جھجھوڑ پاتا ہے بلکہ کہانی جہاں ختم ہوتی ہے وہاں قاری کے ذہن کو مہمیز کرنے ،اسے تخیلاتی دنیا میں پرواز کرنے اور دنیا و ما فیہا کے سر بستہ رازوں کی گرہ کھولنے پر آمادہ کرنے کے بجائے سکون و اطمینان کا قفل لگا دیتا ہے۔میرے خیا ل میں اگر ناول وضا حتی ہونے کے بجائے غیر وضاحتی اور Suspiciousہوتا تو زیادہ کامیاب ہوتا۔
اس ناول میں ناول نگار نے چھوٹے چھوٹے واقعات و حادثات اور مناظر جن کی حیثیت ایک الگ اکائی کی ہے اس کا سہارا لے کر بہت سے سماجی ،معاشی،اور اقتصادی مسائل کے ساتھ مذہبی توہم پرستی ،استحصال ،عورت کی پسماندگی،اور تہذیبی و اقداری روایات کے زوال پذیری سے پردہ اٹھایا ہے اور ان سب واقعات کو ایک دوسرے سے منسلک کرکے قصے کو آگے بڑھانے میں ناول نگار کے فکری تخیل اور ذاتی مشاہدے کا کافی عمل دخل نظر آتا ہے۔
غضنفر نے اپنے کئی ناولوں میں خواتین اور ان سے جڑے مسائل و موضوعات کو اٹھا یا ہے مثلاً’کینچلی‘میں انہوں نے مرد اور عورت کے باہمی رشتے کی بڑی خوبصورت تعبیر و تفسیر کی ہے جب کہ مانجھی میں عورتوں کے استحصال ،اس کی عزت نفس اور اس کی پا مالی،اس کے حکمرانی کی نفی، اس کے ذہانت و فطانت کو تسلیم نہ کرنا اور مرد کی انانیت پسندی کی شکار عورت کی کہانی چندن پور کے گھسیارے گھسیٹے رام کی بیٹی کے ذریعہ آشکار کیا ہے اور مشرقی تہذیب و اقدار کے بکھرنے اور مغربی تہذیب کے باریاب ہونے کا منظر ایک غیر ملکی دوشیزہ ’لیلا‘(جو سر سے پیر تک مادر زاد ننگی تھی) کے ذریعہ پیش کیا گیا ہے۔دراصل’ لیلا‘ اس ترقی یافتہ تہذیب کی پروردہ ہے جہاں فرد پر کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں ہے۔کوئی بندھن نہیں ہے۔اسے ہر طرح کی آزادی حاصل ہے ۔وہ اپنے اوپر شرم و حیا کی چادر پسند نہیں کرتی۔اسے کسے سے کوئی ڈر نہیں لگتا۔یہ ترقی یافتہ یا جدید تہذیب آج ہمارے معاشرے میں جس تیزی سے پنپ رہا ہے اور اس کے برے نتائج جس طرح سامنے آرہے ہیں وہ آخر کس چیز کی دین ہے؟ ناول نگار اس پر سوالیہ نشان قائم کرتے ہوئے اپنے قاری سے کہتا ہے کہ:
’’کیا یہ علم کا عروج ہے جس نے اس تہذیب کو جنم دیا ہے ؟
کیا مہذب عورت وہ ہے جسے دیکھ کر اس کی ہم ذات کی آنکھیں شرم سے جھک جائیں؟
کیا مہذب عورت وہ ہے جسے دیکھتے ہی مرد چیل،گدھ اور کتّا بن جائے؟‘‘ ص:۱۱۱
اگر عورت کا یہ روپ ترقی یافتہ تہذیب ،مہذب معاشرہ اور عروج علم کی دین ہے تو چھتیس گڑھ ،اڑیسہ اور جھارکھنڈ کے ان علاقوں جہاں علم کی روشنی نہیں پہنچ پائی ہے وہاں کی آدی باسی عورتیں جو مردوں کے ساتھ گندے نالوں کے ٹھہرے ہوئے پانی میں ایک ساتھ ننگی نہاتی ہیں اور ان کے کھلے ہوئے اَنگوں کا کسی پر کوئی اثر نہیں پڑتا،آخر کس تہذیب کی دین کہلائیں گی؟اس طرح مصنف جگہ جگہ سوالات قائم کرکے قاری کو مثبت و منفی، صحیح و غلط ،اچھے اور برے میں تمیز کرنے اور اس پر غور و فکر کرنے کی طرف راغب کرتا ہے۔ 
اس ناول کی فکری اعتبار سے تو پذیرائی ممکن ہے اور ہوئی بھی ہے لیکن اگر فنی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو یہ ناول اس لائق نہیں ہے کہ اسے کسی بڑے ناول کے مقابلے میں رکھا جا سکے۔کیونکہ فنی لحاظ سے اس میں کئی خامیاں در آئی ہیں پہلی یہ کہ اس میں تجسس کا فقدان تو نہیں ہے البتہ اس کی حد درجہ کمی ضرور ہے۔دوسری یہ کہ اس میں نہ تو کوئی پیچیدگی ہے اور نہ ہی کوئی الجھاؤ یا کشمکش،نہ نقطۂ عروج کی خبر ہے نہ نقطۂ زوال،بس چھوٹے چھوٹے واقعات ہیں ،مناظر ہیں اور کہانیوں کے در پردہ مصنف کے اپنے خیال کی پیش کش ہے جس میں نہ تحیر ہے اور نہ ہی اضطراب۔تیسری یہ کہ اس میں ہر کہانی ایک الگ اکائی کی حیثیت رکھتی ہے جس میں ربط و تسلسل کا مکمل فقدان ہے۔چو تھی یہ کہ اس ناول میں جو زبان استعمال کی گئی ہے وہ ہندیائی ہوئی اردو ہے جو غیر ہندی داں قاری کو بار ڈکشنری کھولوانے پر مجبور کرتی ہے جس کی وجہ سے قصے کی روانی بھی متا ثر ہوتی ہے۔ہندی کے ثقیل اور نا مانوس الفاظ کی بہتات قاری کو حد درجہ پریشان کرتی ہے اور یہ سلسلہ ناول میں شروع سے آخر تک موجود رہتا ہے۔پانچویں یہ کہ کہانی میں جگہ جگہ اشعار کا استعمال قاری کے فکری فضا کو متاثر کرتا ہے۔غضنفر چونکہ ایک اچھے شاعر بھی ہیں اور دویہ بانی میں شاعری کا جو عمدہ نمونہ انہوں نے پیش کیا شاید اس کی ستائش نے ان کے اندر اس تجربے کو بار بار دہراتے رہنے کی خُو پیدا کردی۔ضروری نہیں کہ ایک تجربہ جو ایک جگہ کامیاب رہا دوسرے مقام پر بھی کامیاب قرار دیا جائے۔چھٹی یہ کہ اس ناول میں غیر ضروری تفصیلات اور بے جا جز ئیات نگاری سے بھی کام لیا گیا ہے وغیرہ۔
جیسا کہ میں نے اوپر ذکر کیا کہ اس ناول میں تجسس کی بہت زیادہ کمی ہے چند جگہوں پر تجسس تو نظر آتا ہے لیکن وہ تھوڑی دیر تک برقرار رہتا ہے مثال کے طور پر جب ویاس مانجھی ایک راجکمار کی کہانی شروع کرتے ہوئے کہتا ہے کہ:
’’ایک بار کا ذکر ہے کہ ایک راجکمارکسی گاؤں سے گزر رہا تھا کہ اچانک اس کے کانوں میں یہ آواز سنائی پڑی:
’’دھتکار ہے اس عورت پر جو مرد کے ہاتھوں مار کھاجائے‘‘ ص: ۳۲
لڑکی کی اس آوازنے راجکمار کی مردانگی کو ایک طرح سے للکار دیا تھاچنانچہ راجکمار اپنی مردانگی کو ثابت کرنے کے لئے وہ اسی لڑکی سے شادی کرنے کا فیصلہ کرتا ہے جس نے مذکورہ جملہ ادا کیا تھا اور اپنے والد سے براہ راست یہ کہتا ہے کہ:
’’میں چندن پور کے گھسیارے گھسیٹے رام کی بیٹی سے وِواہ کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ ص:۳۲
یہیں سے قاری کا تجسس بڑھنے لگتا ہے اور وہ حیران ہوجاتا ہے کہ ایسا کیسے ممکن ہے کہ ایک راجکمار کی شادی ایک گھسیارے کی بیٹی سے ہو!آخر راجکمار نے اس میں کون سی ایسی خوبی دیکھی ہے جو اسی سے شادی کرنے کا اٹل فیصلہ کر لیتا ہے۔کچھ تو ہوگا ۔۔۔یہی کچھ تو ہوگا قاری کے اندر تجسس پیدا کرتا ہے اور یہی تجسس آگے چل کر مزید بڑھنے لگتا ہے جب شادی کے بعد راجکمار اپنی بیوی کے ذمہ تین ایسے کام سپرد کرتا ہے جو عورت ذات کے لئے نا ممکنات میں سے تھے لیکن اس گھسیارے کی بیٹی نے اپنی سوجھ بوجھ ،فہم و ادراک اور عقل سلیم کا استعمال کر کے اپنے شوہر کے ذریعہ دیئے گئے سارے سوالوں کا مثبت انداز میں جواب دیتے ہوئے سارے ٹاسک پوری کر لیتی ہے لیکن ٹاسک پورا کر لینے کے بعد اسے کیاملتا ہے کہانی کار یہ نہیں بتاتا اور یہیں آکر قاری کا تجسس دم توڑ دیتا ہے اور جب وی۔این۔رائے مانجھی سے کہتا ہے کہ:
’’کیا ہوا؟یہ ناؤ کیوں ڈگمگانے لگی؟
جواب میں مانجھی کہتا ہے کہ:
’’صاحب!ناؤ کے آگے کوئی لاش آگئی تھی۔وہ دیکھئے !اب ادھر بہ رہی ہے۔‘‘ص:۴۵
یہی سوال قاری کو راجکماری کے قصے سے ہٹاکر ناؤ اور اس کے آگے پڑی لاش کی طرف موڑ دیتا ہے اور یہیں سے تسلسل و روانی بھی ٹوٹ جاتی ہے اور قاری راج کماری کے انجام سے اس وقت واقف ہوتا ہے جب مانجھی اپنی داد طلب نظروں سے وی۔این۔رائے کی توجہ اپنی جانب مبذول کراتے ہوئے یہ کہتا ہے کہ:
’’صاحب!اس بار آپ نے واہ وا نہیں کی؟آپ کا چہرہ بھی گمبھیر ہوگیا!کیا کہانی کا انجام پسند نہیں آیا؟‘‘ص:۴۶
یہاں آکر کہانی کا منظر المیاتی رنگ اختیار کرلیتا ہے اور اس سمجھ دار ،بہادر لڑکی کی تعریف ،دادو تحسین ،شاباشی کے بجائے اس کے کارناموں کا صلہ موت کی شکل میں دیا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہمارا ملک ہندوستان جسے جنت نشان بھی کہا جاتا ہے کئی تضاد کا حامل نظر آتا ہے۔یہاں بظاہر عورتوں کو دیوی کا درجہ دیا جاتا ہے لیکن جب مرد اور عورت کے درمیان حقوق و اختیارات کی بات آتی ہے تو عام طور پر عورتوں اور لڑکیوں کو نظر انداز کردیا جاتا ہے اور ان کے ساتھ نا انصافی برتی جاتی ہے۔ہمارے معاشرے میں دور دور تک ایسی مثالیں نہیں ملتیں جو عورتوں کے مساوات کو ظاہر کرتی ہوں یہاں عورتوں کے ساتھ مختلف طرح کی جانب داری برتی جاتی ہے اور یہ جانبداری کا ہی نتیجہ ہے کہ مرد کی احساس برتری نے عورت کی سمجھ داری کو تسلیم نہیں کرنے دیااور اسے موت کی آغوش میں پہنچا دیا۔آخر ایسا کیوں ہے کہ مرد عورت کے اندر صرف جسم کو دیکھتا ہے؟عورت میں جسم کے علاوہ اسے اور کوئی چیز کیوں نہیں دکھائی دیتی؟اشتہاروں میں عورت کے ہی جسم کو کیوں زیادہ دکھایا جاتا ہے؟اشتہاروں میں اس کا دماغ کیوں نظر نہیں آتا؟ان سوالوں سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ناول نگار کی ہمدردی صنف نازک سے کس قدر ہے اور وہ اس کے لئے کتنا فکر مند ہے ذیل کے اقتباس سے بھی اندازہ لگایا جا سکتاہے:
’’تو کیا عورت صدیاں گزر جانے کے بعد بھی اپنے تشکیلی دور میں ہے؟کیا آگے بھی یہ اسی روپ میں رہے گی؟یا اس میں کوئی تبدیلی بھی آئے گی؟کیا مرد اس عورت کو کبھی تبدیل کرنا چاہے گا؟کیا یہ خود کھبی اتنی طاقتور بن سکے گی کہ یہ اپنے آپ کو بدل سکے؟‘‘ص:۴۸
مجھے لگتا ہے اسے کسی بھی سوال کا تشفی بخش جواب نہیں ملتا ہے ۔جس کی وجہ سے اس کی فکرمندی اس صنف کے ساتھ مزید بڑھ جاتی ہے اور جب کوئی صورت نظر نہیں آتی تو اس کی فکر مندی جھنجھلاہٹ ،میں تبدیل ہوجاتی ہے جس کا اظہار وہ غیر ملکی دوشیزہ ’لیلا‘جو مادرزاد برہنہ ہونے کے ساتھ ترقی یافتہ تہذیب کی پروردہ ہے اس کے ذکر میں کیا ہے۔
اس ناول میں جیسا کہ کہا گیا ہے کہ کچھ غیر ضروری تفصیلات بھی در آئی ہیں جس کی ابتدا پہلے ہی صفحے سے ہوتی ہے ۔مثال کے طور پر وی ۔این ۔رائے کے نظریات و خیالات اس کے خاندان کے نظریات و خیالات کی ضد تھے جس کی وضاحت درج ذیل اقتباس سے ہوجاتی ہے:
’’ان کی آنکھوں میں ایسا شخص ابھر آیا جو ان کے خاندان کا ہوتے ہوئے بھی خاندان سے الگ تھا۔جس کی سوچ مختلف تھی۔جس کی باتیں الٹی ہوتی تھیں۔‘‘ص:۹
مذکورہ اقتباس کے بعد ناول نگار کو یہ قطعی ضرورت نہیں تھی کہ وہ ذیل کے بے جا تفصیلات کو بیان کرے کہ:
’’جس کے خیالات سے
دھرم ناتھ رائے اور ان کے خاندان کی چولیں ہل جاتی تھیں
مروجہ افکار و نظریات پر ضرب پڑتی تھی
آستھاؤں کو چوٹ پہنچتی تھی
پرمپرائیں ٹوٹتی تھیں
سنسکار گھائل ہوتے تھے
جو زمانے کو برہم و برگشتہ کرتے تھے
اپنوں کو دشمن بنا دیتے تھے‘‘ص:۹
مذکورہ غیر ضروری تفصیلات کو پڑھ کر ایسا لگتا ہے جیسے ایک ماہر استاد اپنے غبی اور کند ذہن طالب علم کو دو متضاد نظریات و خیالات کے بارے میں تفصیلی مواد فراہم کرا رہا ہے۔حالانکہ یہ بات پہلے ہی اقتباس سے واضح ہو جاتی ہے۔یہ ناول مصنف کے تدریسی طریقہ کار پر مہارت رکھنے کا بین ثبوت فراہم کرتا ہے۔
اس ناول میں سنگم کا ذکر بہت خوبصورتی کے ساتھ کیا گیا ہے۔سنگم در اصل گنگا ،جمنااور سرسوتی کے ملاپ کو کہا جاتا ہے۔جہاں یہ ندیاں ملتی ہیں وہیں وہ ایک دوسرے میں ضم ہونے کے ساتھ اپنے وجود کو بر قرار بھی رکھے ہوئے ہیں۔گنگا جمنی تہذیب در اصل ہندوستان کی دو بڑی اقوام ہندو مسلمان کے آپسی اتحاد واتفاق اور میل ملاپ کا استعارہ ہے۔یہ صرف ایک ترکیب نہیں ہے بلکہ اس استعاراتی ترکیب میں صدیوں سے چلے آرہے اس خالص ہندوستانی تصور کی آمیزش ہے جو تعصب اور نفرت کی دنیا سے بالکل آزاد زندگی قائم کرنے میں کامیاب ہوا تھا لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا گنگا جمنی تہذیب اب بھی باقی ہے ؟یا لوگ صرف اس کا راگ الاپ رہے ہیں؟یا مغربی تہذیب نے اس کا جنازہ نکال دیا ہے؟مجھے لگتا ہے کہ مغربی تہذیب نے اپنی عصمت زدہ تہذیب کا لبادہ گنگا جمنی تہذیب پر ڈال دیا ہے جس کی وجہ سے رام کی گنگا میلی ہوگئی ہے اور ہماری تہذیب اپنی عصمت و عفت کے حفاظت کی بھیک مانگ رہی ہے اور شبانہ روز زوال کی طرف مائل نظر آرہی ہے۔یہی وہ سنگم ہے جو اپنے دیدہ وروں کو یہ درس عبرت دیتا ہے کہ جب دو ندیاں اپنے وجود کو برقرار رکھتے ہوئے ایک دوسرے کو چھیڑے اور ڈسٹرب کئے بغیر مل جل کر رہ سکتی ہیں تو بڑی اقوام دو پڑوسی ملک اپنے اپنے وجود کو برقرار رکھتے ہوئے کیونکر ساتھ نہیں رہ سکتیں!کاش اس سنگم پر جانے والے اپنے پوتر استھل سے پوتر جذبات کے ساتھ اس ادھ بھت ملن سے سبق حاصل کرتے۔۔۔لیکن افسوس صد افسوس سنگم کو دیکھنے والی آنکھ اور دل اب نظر نہیں آتے۔۔ ۔

 

امتیاز احمدعلیمیؔ 
ریسرچ اسکالر شعبہ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ ،نئی دہلی
 

 مضامین دیگر 

Comment Form