عزیز احمد اور افسانے کی تنقید




نوشاد منظر
22 Aug, 2017 | Total Views: 3324

   

ترقی پسند ادبی تحریک کو جن ناقدین نے ایک سمت دی یا دوسرے لفظوں میں ترقی پسند تحریک کے لیے جن نقاد نے اصول وضع کیے ان میں احتشام حسین ،خلیل الرحمٰن اعظمی ،عزیز احمد ،علی سردار جعفری اور بعد میں محمد حسن وغیرہ کے نام قابل ذکر ہی نہیں بلکہ قابل اعتماد بھی ہے۔کسی بھی تحریک کی کامیابی کا انحصار اس کے قائم کردہ اصولوں اور پھر عملی ترجیحات پر ہوتا ہے۔ترقی پسند تحریک سے جڑے بیشتر حضرات کا تعلق اعلیٰ ادبی ذوق رکھنے والے ادیبوں اور قارئین سے تھا۔لہذا ان اہل علم و دانش حضرات سے ترقی پسند تحریک کو بہت فائدہ ہوا۔تاریخ گواہ ہے کہ کسی بھی نظریے کا سب نے یکساں طور پرقبول کرلیا ہو یہ ممکن نہیں۔لہذا ممکن ہے ہم میں سے بھی چند لوگ ترقی پسند نظریات کے مخالف ہوں،باوجود اس کے میرا خیال ہے کہ ترقی پسند ادبی تحریک سے اردو ادب کو بہت فائدہ ہوا۔تمام ہی اصناف سخن کے موضوعات میں اضافہ ہوا،نئے ادیب،شاعر،فکشن نگار اور ناقدین کا ایک بڑا حلقہ اسی تحریک کے زیر اثر وجود میں آیا ،جس نے براہ راست اردو ادب کے ذخیرہ میں بیش بہا اضافہ کیا ہے۔مگر میرا یہ مضمون تحریک سے وابستہ رہے تمام لوگوں پر رائے زنی کا نہیں ہے، بلکہ میرے مقالے کا موضوع’’ عزیز احمداور افسانے کی تنقید‘‘ ہے۔ لہذا میری کوشش ہے کہ میں ان مضامین کا مطالعہ پیش کر سکوں جن میں عزیز احمد نے افسانے پر تنقیدکی ہے۔
عزیز احمد کا شمار صف اول کے ترقی پسند ناقد ین میں ہوتا ہے ۔ عزیز احمد کے تنقید ی کارنامے کئی کتابوں پر محیط ہے۔ان کی مشہور و معروف تنقیدی تصنیف ’’ ترقی پسند ادب‘‘ ہے۔’ترقی پسند ادب میں شامل مضامین کے علاوہ بھی عزیز احمد نے متعدد موضوعات پر مضامین لکھے ہیں،جسے 2008ء میں ڈاکٹر صدیق جاوید نے ’’گم گشتہ متاع عزیز :کلیات نثر عزیز احمد‘‘ کے نا م سے مرتب کیا ۔کلیات کے ٹائٹل’’گم گشتہ متاع عزیز‘‘ کو پڑھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کتاب میں عزیز احمد کے وہ ہی مضامین شامل ہیں جوان کی کسی کتاب میں شامل نہیں،مگر برخلاف اس کے اس کلیات میں صدیق جاوید نے ان مضامین کو بھی شامل کرلیاہے جو عزیز احمد کی نہایت مشہور کتاب’’ترقی پسند ادب‘‘ کا حصہ ہے۔اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر ان مضامین کی شمولیت کا جواز کیا ہے؟کیونکہ مذکورہ کتاب بڑی آسانی سے مل جاتی ہے۔اس کلیات کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ مرتب نے پیش لفظ یا مقدمہ کے طور پر ایک لفظ بھی نہیں لکھا ہے،جو نہ صرف عجیب معلوم ہوتا ہے بلکہ کلیات میں شامل مضامین کی شمولیت کی وجوہات کے علاوہ بہت سی باتیں جن کی وضاحت مرتب کے ذریعے کی جانی چاہیے تھی وہاں بھی تشنگی اور مایوسی کے علاوہ کچھ نہیں ملتا۔
بہرکیف:فکشن کی تنقید لکھنے والوں کی ایک لمبی فہرست ہے۔مگر ایک فکشن نگار کا نظریہ فکشن کے تعلق سے کیا ہے ؟اسی سوال نے عزیز احمد کی طرف میرا ذہن مبذول کرایا ۔عزیز احمد کی مشہو ر کتاب ’’ترقی پسند ادب ‘‘میں بھی فکشن تنقید کی مل جاتی ہے جہاں انہوں نے پریم چند سے لے کر بیدی بلکہ عصمت چغتائی وغیرہ کے افسانوں کے موضوعات اور کرداروں کے حوالے سے گفتگو کی ہے ۔’’ترقی پسند ادب ‘‘کے علاوہ بھی عزیز احمد کے کئی مضامین ہیں جن میں افسانے کی تنقیدکا مسئلہ اور پھر چند نہایت ہی اہم افسانوں کا تجزیہ پیش کیاگیا ہے ۔ڈاکٹر صدیق جاوید کی مرتب کردہ کلیات نثرعزیز احمد میں افسانے کی تنقید سے متعلق پانچ مضامین شامل ہیں۔میں نے ان ہی مضامین کے حوالے سے عزیز احمد کے افسانہ کی تنقید کو سمجھنے کی ایک طالب علمانہ کوشش کی ہے۔
عزیز احمد کا ایک مضمون ’’افسانۂ افسانہ‘‘ہے ۔سب سے پہلی بات یہ کہ ’’افسانۂ افسانہ‘‘کی جو ترکیب عزیز احمد نے یہاں استعمال کی ہے وہ تنقید کی زبان کے منافی معلوم ہوتی ہے۔ بہرکیف:افسانے کے فن پر گفتگو کرتے ہوئے عزیز احمد لکھتے ہیں :
’’
افسانے کا جوہر ،اس کے بے پناہ امکانات ،اس کی توانائی کا مرکز محض واقعہ ہے جوہر کی طرح جب واقعہ پر افسانہ نگار کے تحلیل اور تجزیہ کرنے والے ذہن کی ضرب پڑتی ہے تو اس سے جو توانائی خارج ہوتی ہے اور جس طرح یہ توانائی اشخاص ،اشیا اور محرکات کے بیان میں اپنی خارجی تجسیم کرتی ہے ،وہی چیز افسانہ ہے‘‘۔
)کلیات نثر عزیز احمد :مرتب صدیق جاوید ص:261(
افسانے کی انفرادیت اس کی کہانی یا موضوع ہے ۔افسانے میں کہانی بہت نظم وضبط کے ساتھ بیان کی جاتی ہے ۔ لہذا عزیز احمد نے افسانے کی تعریف کرتے ہوئے افسانہ کو افسانہ نگار کے تحلیل اور تجزیہ کا جو نام دیا ہے، وہ ایک حد تک صحیح ہے ۔اردو افسانے کاجائزہ لیتے ہوئے ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ بیشتر افسانہ نگار وں نے کہانیوں میں ذاتی مشاہدات اور تجربات کو ہی پیش کیا ہے۔ بلکہ چند افسانہ نویس نے تو اس بات کا اظہار خیال بھی کیا ہے کہ انہوں نے اپنے افسانوں میں اپنے مشاہدات پیش کیے ہیں مثلاََسعادت حسن منٹو کی کہانیوں پر جب بہت اعتراضات کیے گئے تب منٹو نے اس بات کی وضاحت کی تھی کہ ان کے افسانے دراصل ان کے تجربات اور مشاہدات کا اظہار ہیں ۔ منٹو نے کہا تھا:
’’
زمانے کے جس دور سے ہم اس وقت گزر رہے ہیں اگر آپ اس سے نا واقف ہیں تو میرے افسانے پڑھیے ۔اگر آپ ان افسانوں کو برداشت نہیں کرسکتے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ زمانہ ناقابل برداشت ہے ۔میری تحریر میں کوئی نقص نہیں ،جس نقص کو میر ے نام سے منسوب کیا جاتا ہے ،وہ در اصل موجودہ نظام کا نقص ہے ‘‘۔
)بحوالہ سعادت حسن منٹو ،مرتبہ ،پریم گوپال متل ،ص:14(
’’
پریم چند،کرشن چند ر،بیدی ،منٹو اور عصمت وغیرہ گویا ایک لمبی فہرست ہے جن کے افسانوں میں انسانی زندگی کے مسائل ،گرد نواح کے وہ چھوٹے چھوٹے واقعات کو موضوع افسانہ بنایا گیا ہے جن سے ہمارا سامنا روزہوتا ہے ۔ان سارے واقعات کو فکشن نگار ایک خاص نقطہ نگاہ سے ترتیب دیتا ہے جسے ہم پلاٹ کہتے ہیں ۔
واقعہ یا کہانی افسانے کے لیے بہت اہم ہے۔واقعہ بقول عزیز احمد ایک طرح کاتصادم ہے جس سے حرکت پیدا ہوتی ہے اور اپنی خارجی وباطنی ،معروضی اور موضوعی تنظیم کرتی ہے ۔واقعہ ایک قسم کا حادثہ ہے جس پر انسان کا کوئی اختیار نہیں۔واقعہ کی ایک قسم یہ ہے کہ انفرادی یا اجتماعی طور پر لوگ کسی ایسے مسئلے سے دوچار ہوتے ہیں جن پر بظاہر ان افراد کا کوئی اختیار نہیں ہوتا ۔واقعے کی دوسری قسم یہ ہے کہ فرد واحد یا چند افراد مل کو کوئی ایسا واقعہ وجود میں لاتے ہیں جن کا اثر دوسروں پر ہوتا ہے ۔یہ سارے مسائل افسانے کا حصہ بن سکتے ہیں ۔ افسانے میں انفرادی اور اجتماعی مسائل کو پیش کرنے کی پوری آزادی ہے ،مگرترقی پسندوں نے اجتماعی زندگی پر زور دیا۔ ترقی پسند وں نے ادب برائے اجتمائی زندگی کانعرہ جس طرح بلند کیا اس سے ایک بڑا نقصان یہ ہوا کہ ادیب جو پہلے آزادی سے اظہار خیال کر رہا تھا اس کی آزادی میں ایک رکاوٹ پیدا ہوگئی ۔عزیز احمد اس مضمون میں ادب برائے زندگی اور سماج کی حمایت کی ہے،لیکن یہ تو کوئی بات نہیں ہوتی،ادب کا رشتہ تو زندگی اور سماج ہی سے ہوتا ہے لیکن دیکھنا یہ چاہیے کہ عزیز احمد اسے کس طرح تلاش کرتے ہیں۔ترقی پسند ادیبوں کے نزدیک ایک بڑا مسئلہ زبان کا بھی تھا ۔ رسالہ شاہراہ میں وامق جونپوری ،علی سردار جعفری اور ظ۔انصاری کے مضامین شائع ہوئے جن میں زبان کے متعلق ایک کھلی بحث چھیڑ گئی۔ گر چہ ان مضامین کے ذریعے ترقی پسند شاعری کی زبان کس طرح کی ہو، اس پر بحث کی گئی ہے۔ مگراس مضمون سے زبان کے متعلق ترقی پسندوں کے نظریے کا اندازہ تو لگایا ہی جا سکتا ہے۔وامق جونپوری کے نزدیک شاعری کی زبان عام بلکہ فلمی گیت کی زبان جیسی ہونی چاہئے جب کہ علی سردار جعفری اور بعد میں تفصیل سے ظ۔انصاری نے وامق کے نظریے کی مخالفت کی ہے ۔عزیز احمد بھی فکشن کے لیے عام فہم زبان کے استعما ل پر زور دیتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں :
’’
جہاں تک زبان کے استعمال کا تعلق ہے ۔بیسویں صدی کے مغربی ناول اور افسانے میں بعض حیرت انگیز تجزیے کیے گئے ہیں ۔جیمز جائس نے قریب قریب ایک نئی زبان تخلیق کی ہے جو نفس کردار ، نفس واقعہ میں اس حد تک ضم ہوگئی ہے کہ اس کا اظہار عام اظہار نہیں رہا ۔ایک خاص اظہار ہوگیا ہے لیکن اس طرح کی ’’خاص ‘‘زبان تخلیق کرنے میں دو طرح کے خطرے ہیں۔ایک تو یہ کہ اگر چہ یہ خاص زبان واقعہ کو زیادہ گہرائی اور سچائی سے بیان کرسکتی ہے مگر اس کے راستے افسانہ نگار کی اپنی داخلیت واقعہ پر چھا جاتی ہے ۔دوسرا خطرہ یہ ہے کہ یہ قریب قریب نظروں سے اوجھل ہوجاتا ہے اور ناظر اس گورکھ دھندے کو قریب قریب مقصود بالذات سمجھ کر ایک بالکل جدا گانہ نوعیت کی دلچسپی سے پڑھنے لگتا ہے ۔‘‘
)
کلیات نثر عزیز احمد مرتب۔ڈاکٹر صدیق جاوید ص:266-267(
یہ بات تو ایک حد تک صحیح ہے کہ فکشن کی زبان عام فہم ہونی چاہئے مگر اس بات کاخاص دھیان رکھنے کی ضرورت ہے کہ زبان سطحی نہ ہو اور نہ ہی اتنی مقفع ومسجع کہ قاری لفظوں میں الجھ کر رہ جائے ۔
عزیز احمد کا ایک مضمون ’’کرشن چندر کے ابتدائی افسانے ‘‘ہے ۔یہ مضمون دراصل کرشن چندر کے افسانوی مجموعہ ’’پرانے خدا‘‘کامقدمہ ہے ۔’’پرانے خدا‘‘کی پہلی اشاعت 1944میں ہوئی تھی۔ مگر مذکورہ مضمون کے آخر میں 25؍ اکتوبر 1943درج ہے جس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ مذکورہ مضمون 1943کے آخر میں لکھا گیا ہوگا ۔ عزیز احمد نے مذکورہ مضمون میں کرشن چندر کے فن پر گفتگو کی ہے ۔کرشن چندر کے افسانوں کا جائزہ لیتے ہوئے عزیز احمد لکھتے ہیں :
’’
اس نئے ادب میں کوئی نام اس قدر عزت اور توصیف کا مستحق نہیں جتنا کرشن چندر صاحب کا نام ہے۔اس کی کئی وجوہات ہیں۔نئے ادیبوں میں سے کسی کے فکر میں اتنا ٹھہراؤ ،اتنا سلجھاؤ نہیں جتنا ان کی فکر میں ہے۔نئے ادب کے محرکات سے ان کی ہمدردی بے لوث ہے ۔ان میں اندھا جوش یا انتہا پسندی نہیں اور اگر خیالات میں وہ نئے ادیبوں کے رہنماہیں تو فن کی حد تک بھی نئے لکھنے والوں میں کوئی ان تک نہیں پہنچ سکتا۔ یہ یاد رکھنا چاہئے کہ یہ ان کے فن کاابتدائی دور ہے ۔اگر وہ اس طرف لگے رہے اور ان کا انہماکِ فن اور خلوص فکر اسی طرح پروان چڑھتا گیا تو ایک دن ایسا بھی آئے گا کہ ان کا نام منشی پریم چند کے نام سے بھی زیادہ مستحق قرار دیا جائے گا ‘‘۔
)کلیات نثر عزیز احمد ،مرتب ۔ڈاکٹر صدیق جاوید ۔ص:269(
کرشن چند ر کی افسانہ نگار ی کی خوبیوں کا ذکر دوسرے ناقدین نے بھی کیا ہے ،اور یقیناًکرشن چندر کے افسانے اس لائق ہیں کہ ان کی تحسین کی جائے ۔مگراہم سوال یہ ہے کہ یہاں ’نئے ادب ‘ سے عزیز احمدکی مراد کیا ہے ؟اگر عزیز احمد نے ترقی پسند ادب کو ’نئے ادب‘ سے موسوم کیا ہے ،تو ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کرشن چندر سب سے بڑے ترقی پسند افسانہ نگار ہیں ؟کیونکہ ترقی پسند وں نے اپنا پیش رو پریم چند کو بتایا ہے ،بلکہ کچھ نے تو پریم چند ر کو پہلا ترقی پسند افسانہ نگار تک کہا ہے،اور پریم چند کی فنی خوبیوں سے بھی واقف ہیں،ایسے میں یہ سوال بھی اہم ہوجاتا کہ آخر کن بنیادوں پر عزیز احمد نے کرشن چندر کو پریم چند پر فوقیت دی ہے ؟عزیز احمد کا مذکورہ اقتباس ان کی شدت پسندی کو ظاہر کرتا ہے اور جس طرح کی زبان انہوں نے استعمال کی ہے وہ تنقید کی زبان نہیں معلوم ہوتی ،ایسی تاثراتی تحریروں سے کرشن چندر یاکسی دوسرے تخلیق کار کو دورس فائدہ بھی نہیں مل سکتا ۔بہر کیف مذکورہ مضمون میں عزیز احمد نے کرشن چندر کے افسانوی مجموعہ ’’پرانے خدا‘‘میں شامل افسانوں کے موضوعات پر مختصر روشنی بھی ڈالی ہے ۔
عزیز احمد کا ایک مضمون ’’ہم وحشی ہیں :کرشن چندر ‘‘ہے ۔کرشن چندر کا مذکورہ مجموعہ تقسیم ہند کے بعد پیش آئے اس سانحہ کی طرف اشارہ کرتا ہے جس نے انسانیت کو شرمسار کردیا تھا ۔مذہب کے نام پر اتنے قلیل عرصے میں جتنی جانیں ضائع ہوئیں اس کی مثال ملنی مشکل ہے ۔کرشن چندر کا افسانوی مجموعے’’ہم وحشی ہیں ‘‘ میں شامل بیشتر افسانوں کا موضوع اسی دل سوزواقعہ کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔عزیز احمد کا مذکورہ مضمون بہت اہم ہے،اس مضمون میں انہوں نے نہ صرف ’’ہم وحشی ہیں‘‘ کا جائزہ پیش کیا ہے بلکہ افسانے کا موضوع کیا ہو اس پر تفصیل سے گفتگو بھی کی ہے۔عزیز احمد خود بھی حقیقت نگار تھے اور ان کا خیال تھا کہ ادب میں حقائق ہی پیش کیے جائیں۔اور جہاں انہیں کسی تخلیق میں حقیقت نگاری نظر نہیں آتی وہ فوراََ اپنا رد عمل پیش کرتے ہیں۔
کرشن چندر کا افسانوی مجموعہ’’ہم وحشی ہیں‘‘ میں شامل افسانوں کا موضوع تقسیم ہند اور اس کے بعد کے وہ خوں ریزواقعات ہیں جس نے ہزاروں کی جان لی اپنوں کو اپنے سے جدا کردیا۔اور یہ سب مذہب کے نام پہ کیا گیا جب کہ تب بھی لوگ اس بات سے واقف تھے کہ ع
’’مذہب نہیں سیکھاتا آپس میں بیڑ رکھنا‘‘
کرشن چندر کا افسانوی مجموعہ بھی ہندو مسلم اتحاد کی طرف اشارہ کرتا ہے۔عزیز احمد ’’ہم وحشی ہیں‘‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’
ادب میں اس خوفناک صورتِ حال کا مقابلہ ضرور کرنا ہے۔مگر یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کس طرح؟صرف ایک ہی صورت ان ہنگاموں کے متعلق اثر پذیر ادب لکھنے کی ہے اور وہ یہ ہے کہ اس قسم کے ادب کی بنیاد ٹھوس اور تفصیلی واقعہ نگاری پر ہو۔ایسی واقعہ نگاری پر جو حقیقت اور سچائی پر مبنی ہے۔اس میں ادیب کو نہ فریق بننے کی ضرورت ہے نہ ناصح مشفق کیونکہ اگر ہنگامے واقعتا مہیب اور شرمناک ہیں تو واقعات کے بیان میں خود بخود مہیب اور شرمناک معلوم ہوں گے۔جہاں ادیب نے کسی سیاسی نقطہ نظر سے توجیہ اور تبصرہ کیا وہاں خود نفسِ واقعہ کی گردن کٹتی ہے اور اس قسم کا ادب،اپنی جان،اپنا مطلب یہاں تک کے اپنا اثر کھو بیٹھتا ہے۔اس قسم کی سچی ،ٹھوس واقعہ نگاری کی کرشن چندر کے زیر نظر افسانوں کے مجموعے میں کمی ہے۔‘‘
)
ہم وحشی ہیں ۔کلیات نثرعزیز احمد،مرتب صدیق جاوید ۔ص:275 (
یوں تو ہر ادیب کا اپنا ایک اصول ہوتا ہے اس کے پیش نظر کچھ خاص مقاصد ہوتے ہیں جن کا اظہار وہ اپنی تخلیقات کے ذریعے کرتا ہے مگر افسانے کے راوی کو ایک بات کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے کہ وہ بے جا تفصیل بیان نہ کرے ساتھ ہی واقعہ بیان کرتے وقت اس کے پیش نظر کوئی سیاسی مقصد بھی نہ ہو۔اور جہاں تک عزیز احمد کا یہ کہنا کہ کرشن چندر کے مذکورہ مجموعے میں سچی اور ٹھوس واقعہ نگاری کی کمی ہے توایک حد تک صحیح بھی ہے۔ عزیز احمد کا یہ مضمون 1948کے آس پاس لکھا گیا تھا تعجب کی بات ہے جب وہ 1943میں کرشن چندر کے افسانوں کا جائزہ لیتے ہیں تو انہیں کرشن چندر سے بڑا افسانہ نگار دور دور تک نظر نہیں آتا، مگر محض پانچ سالوں بعد کرشن چندر سے متعلق ان کا نظریہ بدل جاتا ہے آخر کیوں ؟ممکن ہے اس کی وجہ عزیز احمد کی جلد بازی ہو ۔کیونکہ مضمون’’کرشن چندر کے ابتدائی افسانے ‘‘میں کرشن چندر کو اردو افسانے کا سب سے بڑا نام بتانا بھی جلد بازی تھی اور بعد میں ان کے افسانوں کی تنقید بھی بہت معروضی نہیں معلوم ہوتی ۔عزیز احمد کی تنقیدکا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ وہ فن پارے کا مطالعہ تخلیق کار کی زندگی کی روشنی میں کر تے ہیں ۔اس بات کا اعتراف انہوں نے خودبھی کیا ہے ۔وہ لکھتے ہیں:
’’
میں یو ں ہی ذاتیات کا ذکر کرنے کے سلسلے میں بد نام ہوں لیکن ادب اور زندگی میں کوئی رشتہ ہے تو تنقید نگار کو ذاتیات کا ذکر کئے بغیر چارہ نہیں‘‘۔
)ص:277(
ذاتیات سے فن کا تعلق ہوتا ہے مگر فن پارہ ذات کا اظہار ہی نہیں ہوتا۔جہاں تک ’’ہم وحشی ہیں‘‘میں شامل افسانوں کے متعلق عزیز احمد کا یہ کہنا کہ اس کا موضوع فرسودہ ہے وہ اس حد تک صحیح ہے کہ ہندو مسلم اتحاد کو موضوع بنا کر بہت سے ادیبوں نے فن پارہ تخلیق کیا تھا ۔مگر قابل غور بات یہ ہے کہ جس بڑے پیمانے پر خون ریزی ،عصمت دری اور لوٹ مار کا واقعہ پیش آیا، ا س سے بھلا کوئی حساس شخص کیسے خود کو دور رکھ سکتا تھا؟ لہذا کرشن چندر نے بھی ان موضوعات کو اپنے مجموعہ ’’ہم وحشی ہیں‘‘میں پیش کیاہے ۔مگر عزیز احمد نے ’’ہم وحشی ہیں ‘‘میں شامل افسانوں کو ترقی پسند نظریے کی عینک سے دیکھا ۔عزیز احمد کا بار بار کرشن چندر کے افسانوں میں تشخیص کا پہلو تلاش کرنا اس لیے بھی عجیب لگتا ہے کہ علاج کرنے کا کام ڈاکٹروں کا ہے ادیبوں کا نہیں ۔ عزیز احمد کی اس بات سے اتفاق کیا جاسکتا ہے کہ ایک ہی موضوع کو بار بار دہرانے سے مضمون کی اہمیت اور لوگوں کی دلچسپی دونوں کم ہوجاتی ہے ۔لیکن کسی پامال موضوع کو تخلیقی سطح پرنئی زندگی مل سکتی ہے۔لہذا مضمون کا نیاہونا اس بات کی ضمانت نہیں کہ اس سے کوئی فن پارہ اہم ہوسکتا ہے اور لوگوں کی دلچسپی اس لیے ہوگی کہ وہ مضمون نیا ہے۔
عزیز احمد کا ایک مضمون ’’منٹو کایزید‘‘ہے۔یہ ایک مختصر اور تاثراتی قسم کا مضمون ہے۔ جس میں عزیز احمد نے سعادت حسن منٹو کے افسانوی مجموعہ ’’یزید‘‘پر اظہار خیال کیا ہے ۔منٹو کا شماراردو کے اہم افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے ۔مگر منٹو کے بعض افسانوں پر بہت اعتراض کیے گئے ہیں۔کچھ افسانوں پر فحش نگاری کے الزامات بھی لگائے گئے بلکہ ان پر مقدمات بھی چلے، مگرمنٹو نے لکھنا بند نہیں کیااور اس کا اثر یہ ہوا کہ گزرتے وقت کے ساتھ منٹو کے افسانوں میں ایک چمک پیدا ہوئی اور زندگی کاوہ کڑوا سچ جس سے لوگ نظریں نہیں ملا پاتے تھے ان کو قبول کرنے پر مجبور ہوگئے ۔عزیز احمد بھی منٹو کو ایک اہم افسانہ نگار بتاتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’
کون سی نا انصافی تھی جو منٹو کے ساتھ نہیں ہوئی ۔کون سا الزام تھا جو منٹو پر نہیں لگایا گیا ۔کون سی ایذا تھی جو اپنوں ہی نے اپنے اس سب سے بڑے افسانہ نگار کو نہیں دی ‘‘۔
)مضمون :منٹو کا یزید،کلیات نثر عزیز احمد ،ص:281(
عزیز احمد افسانہ نگار وں پر رائے زنی کرتے ہوئے ہمیشہ جلد بازی کا مظاہرہ کرتے ہیں کرشن چندر کے متعلق بھی انہوں نے جلد بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلے انہیں سب سے بڑا افسانہ نگار بتایا مگربعد کو کرشن چندر کے افسانے کمزور معلوم ہوئے اور مضامین فرسودہ ۔یہاں بھی وہ منٹو کو سب سے بڑا افسانہ نگار کہہ رہے ہیں ۔اہم سوال یہ ہے کہ آخر کن بنیادوں پر عزیز احمدکسی افسانہ نگار کو سب سے بڑا افسانہ نگار بتاتے ہیں۔اگر کسی افسانہ نگار کا ایک افسانہ یا ایک افسانوی مجموعہ اچھا ہے تو بس اس افسانے یا افسانوی مجموعہ کے حوالے سے گفتگو کی جائے تو بہتر ہے کیونکہ مستقبل میں ادیب کس طرح کا فن پارہ تخلیق کرے گا اس بارے میں کوئی پیشن گوئی نہیں کی جاسکتی۔منٹو کے افسانوی مجموعہ’’یزید‘‘ پر اظہار خیال کرتے ہوئے عزیز احمد لکھتے ہیں:
’’
منٹو کا انسان یزید ہے۔یعنی اس میں یزید کی بیہمیت،عیاشی،آوارہ مزاجی،خود غرضی سب کچھ ہے لیکن اس میں اس کی بڑی صلاحیت ہے کہ بجائے اس کے کہ وہ فرات کا پانی بند کرے،فرات سے نئی نہریں نکالے اور دنیا بھر کو سیراب کرے۔یہ انسان نہ محض ظالم ہے نہ محض مظلوم۔یہ ذرا بے وقوف ہے۔اس کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ یہ زندگی اور اپنے آپ سے دھوکا کھا جاتا ہے۔‘‘
)
ایضا، ص ۲۸۲(
کلیات نثر عزیز احمد میں عصمت سے متعلق دو مضامین شامل ہیں ایک کا تعلق ان کے مشہور ناول ’’ٹیڑھی لکیر‘‘ سے ہے جب کہ دوسرے کا تعلق ان کے افسانوی مجموعے ’’چھوئی موئی‘‘ سے ہے۔چونکہ میرا یہ مضمون افسانے کی تنقید کے حوالے سے ہے لہذا یہاں ’’ٹیڑھی لکیر‘‘پر کی گئی تنقید پر اظہار خیال کرنا مناسب نہیں۔ کلیات نثر عزیز احمد میں ایک مضمون ’’چھوئی موئی‘‘ہے۔ مذکورہ مضمون 1952میں لکھا گیا تھا ۔اس مضمون میں عصمت چغتائی کے افسانوی مجموعہ ’’چھوئی موئی ‘‘میں شامل ان کے افسانے اور چند مضامین پر عزیز احمد نے اظہار خیال کیا ہے ۔’’چھوئی موئی ‘‘میں شامل ایک مضمون ’’پوم پوم ڈارلنگ‘‘پر تبصرہ کرتے ہوئے جن خیالات کا اظہار عزیز احمد نے کیا ہے اس سے ان کی تنقیدی فکر کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔وہ لکھتے ہیں :
’’
تنقید میں جس بے لاگ موضوعی توازن جس ذہنی غیر جانبداری ،جس ادبی دیا نتداری ،جس نفس کش بے غرضی اور بے لوثی کی ضرورت ہوتی ہے اس کی ہمارے نقادوں کی جذباتی تحریروں میں بڑی کمی ہے ۔ فراق اور آل احمد سرور کے سوا مجھے کسی میں یہ خوبی نظر نہیں آئی ۔احتشام حسین اورممتازحسین کا دامن اگر چہ ذاتیاتی سے پاک ہے لیکن ان دونوں نے سخت نظریاتی قیود اپنے آپ پر عائد کرلی ہیں اور ہم سب کا دامن پاک نہیں ۔‘‘
)
مضمون :چھوٹی موٹی،کلیات نثر عزیز احمد ،ص:295(
عزیز احمد نے ناقدین کے لئے جو اصول اوپر مقرر کئے ہیں وہ اہم ہیں مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ عزیز احمد خود ان اصولوں کی پاسداری نہیں کرتے، دوسرے لفظوں میں تنقید سے متعلق عزیز احمد کے قول وفعل میں ایک تضاد نظر آتا ہے ۔
عزیز احمد اور عصمت چغتائی کے درمیان رشتے بہت اچھے نہیں تھے۔ کیونکہ مجموعہ’’چھوئی موئی‘‘میں شامل ایک مضمون جس کا عنوان ’’فسادات اور ادب ‘‘ہے ،میں اس بات کی طرف اشارہ ملتا ہے ۔ اس کے باوجود عزیز احمد نے عصمت چغتائی ے مجموعہ ’’چھوئی موئی‘‘پر تبصرہ کرتے ہوئے بڑی حد تک غیر جانبدارانہ رویہ اپنایا ہے ۔عزیز احمد کے مطابق ’’چھوئی موئی‘‘میں شامل افسانے بڑے پائے کے ہیں مگر مضامین خشک اور غیر دلچسپ ہیں ۔عصمت کے فن پر گفتگو کرتے ہوئے عزیز احمد لکھتے ہیں :
’’
جہاں تک تکنیک اور ہیئت کا تعلق ہے ۔عصمت کا مقام افسانہ نگاری میں قرۃ العین سے بہت بلند ہیں ۔زندگی کی نبض پر سے عصمت کا ہاتھ ہٹنے نہیں پاتا ۔ان کا قلم دھوکا نہیں کھاتا ۔انہیں اظہار پر قابل رشک اختیار ہے ۔لیکن ناول کی تکنیک میں پھر قرۃ العین ذرا آگے بڑھ جاتی ہیں ۔شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ ناول کے لیے ذرا زیادہ اطمینان ۔ٹھہراؤ ذرا کم جذباتیت کی ضرورت ہے ‘‘
)
کلیات نثر عزیز احمد ،ڈاکٹر صدیق جاوید ص:296(
یہ حقیقت ہے کہ بہت کم ادیب ایسے ہیں جنہوں نے مختلف اصناف میں یکساں مقبولیت حاصل کی ہو۔ اس ضمن میں اگر شاعری کی بات کریں تو اقبال کا نام فوراً زبان پر آجاتا ہے جن کی نظموں اور غزلوں نے یکساں طور پر مقبولیت حاصل کی،اور فکشن کی اگر بات کریں تو پریم چند کے علاوہ کوئی دوسرا فکشن نو یس نظر نہیں آتا جس نے ناول اور افسانہ دونوں ہی اصناف میں اپنے فن کو بام عروج پر پہونچادیا ہو ۔اور اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ ہر ادیب کی اپنی ترجیحات ہو تیں ہیں اور جن کی بنیاد پر وہ فن پارہ تخلیق کرتا ہے ۔عصمت کی شناخت ایک افسانہ نویس کی ہے اور اسی صنف میں انہیں مقبولیت بھی ملی جب کہ قرۃ العین حیدر بنیادی طو ر پر ناول نگاہیں باوجود اس کے عزیز احمد نے ان کا تقابل کیا ممکن ہے اس کی وجہ دونوں کاخاتون ہونا ہو۔
عزیز احمد کامطالعہ کرتے ہوئے جو بات مجھے بار بار کھٹکتی ہے وہ یہ کہ ان کے قول میں بہت تکرار ہے ۔کرشن چندر کے حوالے سے پیچھے گفتگو کی جاچکی ہے ۔عصمت کے حوالے سے بھی ان کے قول میں تکرار ہے ۔عزیز احمد کا ایک مضمون ’’ترقی پسند افسانہ اور ناول ‘‘ہے جو ان کی شہرہ آفاق تصنیف ’’ترقی پسند ادب ‘‘کا حصہ ہے ۔ڈاکٹر صدیق جاوید نے بھی اس مضمون کو اسی نام سے’’ کلیات نثر عزیز احمد ‘‘میں شامل کیا ہے ۔ ’’ترقی پسند افسانہ اور ناول ‘’میں عصمت چغتائی کے افسانوں پر گفتگو کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں :
’’
عصمت چغتائی کو ترقی پسند وں میں شمار کرنا ،ترقی پسند ادیبوں کی محض سر پرستی اور خاتون پرستی ہے۔ ان کا رجحان سعادت حسن منٹو سے بھی زیادہ رجعت پسند اور مریضانہ ہے ۔ان کا یہ دعویٰ کہ عورت اور مرد برابر ہیں بالکل صحیح ہے، لیکن اس آزادی کے ثبوت اور اظہار کے لیے وہ جو مضامین انتخاب فرماتی ہیں ۔وہ شاذ ونادر ہی کسی کو نے سے ترقی پسند معلوم ہوتے ہیں ‘‘۔
)ترقی پسند افسانہ اور ناول ۔کلیات نثر عزیز احمد ۔مرتب ڈاکٹر صدیق جاوید 722(
مذکورہ اقتباس سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ عصمت چغتائی ترقی پسند نظریات کی حامل ادیبہ نہیں تھیں ،بلکہ وہ رجعت پسند تھیں ۔مگر اسی مضمون میں چند سطروں کے بعدعزیز احمد لکھتے ہیں :
’’
لیکن ان [عصمت چغتائی] کے افسانوں میں حقیقی پسندی بھی ہے ۔واقعہ نگاری بھی اور اسلوب میں غضب کا جوش اور جدت بھی ۔‘‘
)
کلیات نثر عزیز احمد ۔ڈاکٹر صدیق جاوید ۔ص:723(
اب سوال یہ ہے کہ ایک ہی ادیب ایک ہی وقت میں ترقی پسند اور رجعت پسند دونوں کیسے ہوسکتا ہے؟ عصمت کے افسانوں ’’میرا بچہ‘‘’’چوتھی کا جوڑا‘‘’’کافر‘‘اور ’’خدمت گار‘‘کے علاوہ ’’جوانی ‘‘ وغیرہ میں کہیں نہ کہیں وہ رجحان غالب ہے جسے ہم ترقی پسند رجحان کہہ سکتے ہیں ۔اسی طرح چند افسانے ایسے بھی ہوسکتے ہیں جو ترقی پسند اصولوں پر کھڑے نہ اترتے ہوں ۔مگر اتنا ضرور ہے کہ عصمت کے افسانوں میں متوسط مسلم گھرانے کی عورتیں ان کے مسائل کوبہت سلیقے سے پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔عزیز احمد چونکہ ادب میں ترقی پسند عناصر دیکھنا چاہتے تھے ،لہذا عصمت کے جن افسانوں میں انہیں یہ عناصر نظر آئے اس کا ذکر کردیا۔دوسری بات یہ بھی ہوسکتی ہے تفصیل سے بچنے کے لیے عزیز احمد نے چند نکات کو نظر انداز کردیا ہو۔ مگر مجموعی طور پر عصمت چغتائی کو انہوں نے ترقی پسند نظریے کی روشنی میں ہی سمجھنے کی کوشش کی ہے ۔
’’کلیات نثر عزیز احمد ‘‘میں افسانوں کی تنقید کے حوالے سے ایک مضمون ’’تین افسانوی مجموعے‘‘بھی ہے ۔یہ دراصل تین الگ الگ افسانوی مجموعات ’’قید خانے (احمد علی)’’اوربنسری بجتی رہی (دیونیدر ستیارتھی )اور ’’بوچھار‘‘ (خدیجہ مستور)پر تبصرہ ہے۔ ظاہر ہے تبصرہ میں تفصیل کی گنجائش عموماً کم ہی ہوتی ہے ۔عزیز احمد کے تبصرے بھی مختصر ہیں بلکہ ان تبصروں کو اگر تعارف کہاجائے تو شاید غلط نہ ہوگا ۔
عزیز احمد کے جن مضامین کا مطالعہ میں نے کیا ہے ان کی بنیاد پر جو نتیجہ میں نے اخد کیا وہ یہ ہے کہ عزیز احمدپر جذباتیت حاوی ہے ۔بہرکیف:عزیز احمد خود ایک فکشن نگار تھے باوجوداس کے انہوں نے اپنے معاصرین کے افسانوں پر اظہار خیال کرتے ہوئے جس طرح کا اندازاختیار کیا اس سے تعجب اور افسوس دونوں ہوتا ہے۔ عزیز احمد کا شمار ترقی پسند نقادوں کے اس فہرست میں کیا جانا چاہئے جسے سخت گیر یا شدت پسند کہا جاتا ہے کیونکہ اسی سخت گیری اور شدت پسندی نے عزیز احمد کی تنقید کو نقصان پہونچایا ۔مجموعی طور پر عزیز احمد نے فکشن کی تنقید کو فراموش نہیں کیا جاسکتا ۔
****

 مضامین دیگر 


Comment Form



اردو فکشن

© 2017 Urdu Fiction. All right reserved.

Developed By: Aytis Cloud Solutions Pvt. Ltd.