محبت کا نیا منظر نامہ’’ اجالوں کی سیاہی‘‘




نوشاد منظر
12 Sep, 2017 | Total Views: 38

   

’’اجالوں کی سیاہی‘‘ معروف اور دور حاضر کے اہم ترین فکشن نگار عبد الصمد کا نیا ناول ہے۔ناول کا عنوان بڑا دلچسپ ہے۔ عبد الصمد نے اس ناول کا عنوان ’’ اجالوں کی سیاہی‘‘ کیوں رکھا یہ قابل غور ہے۔ اجالوں کی سیاہی سے ان کی مراد کیا ہے، کہیں یہ ہمارے عکس سے بننے والی سیاہی تو نہیں ہے؟اس عنوان سے ناول نگار کا اشارہ آج کے سیاسی جملے بازی سے بھی ہوسکتا ہے جہاں سچ کو جھوٹ، غلط کو سہی، اور حق کو باطل بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔دیش بھکتی کے نام پر نعرہ لگانے والے اس خیال کی طرف بھی اشارہ ہوسکتا ہے جہاں دیش پریم کو ایک لفظ میں سمیٹ کر پیش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، عین ممکن ہے ناول نگار کے پیش نظر انسانیت کی مٹتی ہوئی موجودہ صورت حال اورآپس میں نفرت پھیلانے والی سوچ بھی ہوسکتی ہے ۔یہ ہمارے ماضی کے مٹتے ہوئے نقوش اور تابناک مستقبل کی امید کے درمیان کی کشمکش بھی ہوسکتی ہے۔ میرے خیال سے یہ سیاہی ہمارا عکس ہے جو ہمیں اجالے اور سیاہی کے فرق کو بتاتا رہتا ہے۔
’’ اجالوں کی سیاہی ‘‘ میں عبد الصمد نے موجودہ دور میں مسلمانوں کو در پیش دو بڑے اور اہم مسئلے کو موضوع بنایا ہے۔یعنی تعلیمات بالخصوص اسلامی تعلیمات کے فقدان کے اثرات اور مسلمانوں کے خلاف ہورہی سازشیں، جن میں سر فہرست لو جہاد اور مسلمانوں کی وطن پرستی پر قائم کئے جارہے منفی سوالات اہم ہیں۔عبد الصمد نے اس نہایت ہی اہم اور نازک مسئلے کو اپنے ناول کا موضوع بنایا ہے۔اس ناول میں بنیادی طور پر مولوی فضل امام، ان کے دونوں بیٹے قسیم اور فہیم، روپااور چودھری صاحب کا کردار اہم ہے، کچھ دوسرے کردار ابھی ہیں مگر ایک خاص وقت میں سامنے آکر غائب ہوجاتے ہیں۔ اس ناول میں بنیادی طور پر تین کہانیاں ہیں اول فہیم اور روپا کی محبت، دوم قسیم کی ذہنی الجھن(مذہب اور سماج کے تئیں)اور چودھری صاحب اور مولوی فضل امام کی گفتگو۔
مسلمانوں کی پسماندگی کی اصل وجہ کیا ہے؟اس پر صحیح معنوں میں غور و فکر نہیں کیا جاتاہے۔ مسلمانوں کی پسماندگی کی ایک بڑی وجہ قرآن اور اس کی تعلیمات سے دور ہوجانا ہے۔ عصری تعلیمات کی اپنی ایک ضرورت اور اہمیت ہے، باوجود اس کے مذہبی تعلیم کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ عبدالصمد کے پیش نظر بھی قرآنی تعلیمات کی اہمیت ہے۔ چودھری صاحب جو اس ناول کا ایک اہم کردار ہے وہ نہایت امیر ہے، اللہ پاک نے انہیں بے شمار مال و دولت اور جاہ و حشمت سے نوازہ ہے۔ چودھری صاحب کے پاس دنیا بھر کی تمام آسائشیں تو موجود تھیں مگروہ دینی تعلیمات سے دور بلکہ نا آشنا تھے۔ یہی وجہ ہے کہ جب چودھری صاحب کی عمر ڈھلنے لگی تو انہیں اپنی کمی کا احساس ہوا ،اور انہوں نے مسجد کے امام مولوی فضل امام سے قرآن کریم کی تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔مولوی فضل امام کو یہ جان کر یقین نہیں ہوا کہ چودھری صاحب قرآن کریم سے بالکل نا آشنا ہیں۔چودھری صاحب قرآن کے تئیں اپنی لا علمی کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں:
’’
اب آپ سے کیا چھپانا مولوی صاحب،آپ تو میرے استاد ہوہی گئے، دراصل میں نے باقاعدہ قرآن پاک پڑھا ہی نہیں، اس لیے میرے اندر یہ کمی رہ گئی ، اور پڑھا بھی تو بہت تاخیر سے ۔‘‘ (ص ۵۰)
چودھری شرف الدین کو اس بات کا بھی افسوس ہے کہ دنیا کی عیش و عشرت حاصل کرنے کے لیے انہوں نے اپنی پوری زندگی لگادی مگر اصل اور بنیادی تعلیم سے وہ محروم رہے۔ اس احساس ندامت نے ان کے اندر یہ جذبہ پیدا کیا کہ وہ اپنے پوتے پوتیوں کو قرآن کی تعلیم ضرور دلوائیں گے، اسی کے پیش نظر انہوں نے مولوی صاحب کو ٹیوشن پڑھانے کے لیے اپنے گھر پر مدعو کیا،نئے زمانے کے بچے مذہب اور مذہبی رواداری سے بڑی حد تک ناواقف نظر آتے ہیں۔چودھری صاحب کے پوتے پوتیوں کا حال بھی کچھ ایسا ہی تھا وہ مولوی صاحب کے سبق کو یاد تو کرلیتے مگر اس میں سیکھنے کا کوئی عنصر نظر نہیں آتا بلکہ وہ اسے ایک کھیل اور وقت گزاری کے طور پر لیتے ۔جب یہ بچے لوٹ گئے تو چودھری صاحب نے موقعہ کو غنیمت جانا اور خودبھی قرآن کریم سیکھنے کا فیصلہ کیا۔ 
عبد الصمد نے اپنے ناول کے ذریعے ’لو جہاد‘ کے اس موضوع کو بھی پیش کیا ہے جس کی حقیقت شاید کچھ بھی نہیں مگر اس کے ذریعے دو مذاہب کے درمیان ایک خلیج بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔روپا اور فہیم کی دوستی کو ہوئے چند دن ہی گزرے تھے۔ دوستی کیا بس اچانک ملاقات نے دونوں کو ایک دوسرے سے اس حد تک قریب کردیا تھا کہ وہ دونوں ہفتے میں ایک دو بار فون پر چند منٹ بات کرلیتے یا کالج کے پاس بینک کے زینے پر جہاں اکثر جم غفیر ہوتا وہاں ایک دوسرے سے دور بیٹھ کے فون پر بات کرلیتے، یعنی بقول میر ؂
دور بیٹھا غبار میر اس سے
عشق بن یہ ادب نہیں آتا
حالانکہ روپا اور فہیم کے رشتے کو عشق کا رشتہ اس لیے نہیں کہا جاسکتا کہ ان کے درمیان کوئی عہد و پیماں نہیں ہوا تھا، باوجود اس کے ان کے درمیان ایک رشتہ تو تھا۔ فہیم دنیا داری سے بالکل ناواقف ایک ایسا شخص تھا جو تعلیم کے ساتھ ساتھ دنیاوی معاملات میں بھی کورا ہی ثابت ہوا تھا۔دوسری طرف روپا تھی جو دنیا اور معاملات دنیا سے بڑی حد تک واقف تھی،یہی وجہ ہے کہ جب دونوں میں دوستی ہوتی ہے تو اسے یہ خطرہ محسوس ہوتا ہے کہ کہیں وہ لوگ غلط تو نہیں کررہے ہیں۔روپا اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے فہیم سے کہتی ہے۔
’’یہی تو تم نہیں سمجھ رہے ہو، یا جان بوجھ کر انجان بنے ہوئے ہو، میرے گھر میں روز ہی ’لو جہاد‘ کی بات ہوتی ہے، اخباروں میں اس قسم کی خبریں بھی رہتی ہیں۔ ان لوگوں کی بات سے ایسا لگتاہے کہ تم لوگوں نے باقاعاعدہ مہم چھیڑ رکھی ہے۔ اب اس میں کہاں تک سچ ہے، میں نہیں جانتی، مجھے تو بس بار بار یہی لگتا ہے کہ کہیں انجانے میں ہم بھی وہی تو نہیں کررہے۔۔۔‘‘ (ص ۵۷)
روپا کے اس سوال سے ظاہر ہے فہیم سکتے میں آگیا کیونکہ وہ خود اس طرح کی چیزوں سے لا علم تھا حالانکہ اس نے ایک دو بار لوگوں کی زبانی یہ سنا تھا مگر کبھی ایسی باتوں کی حقیقت پر اس نے غور بھی نہیں کیا تھا یہی وجہ تھی کہ جب روپا نے فہیم سے لو جہاد کا ذکر کیا اور اس بات کی طرف اشار دیا کہ اخباروں اور اس (روپا)کے گھر میں ہوئی باتوں سے لگتا ہے کہ مسلمان ایک منظم طریقے سے ہندو لڑکیوں کو اپنے عشق کے جال میں پھانس کر ان کا استحصال کرتے ہیں تو فہیم کو یہ ڈر ستانے لگا کہ کہیں روپا اس سے دوستی نہ ختم کرلے اور اس سے دور چلی جائے۔ اس نے یہ ارادہ کیا کہ وہ لو جہاد کے مفہوم تک رسائی حاصل کرے گا۔مگر اسے یہ بات سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ کس سے اس لفظ کا مفہوم معلوم کرے۔ بہت غور وفکر کرنے کے بعد اس نے یہ طے کیا کہ وہ اپنے بڑے بھائی قسیم سے ’لو جہاد‘ کا مطلب دریافت کرے گا۔ فہیم کے سوال کے جواب میں قسیم کہتا ہے:
’’
دراصل یہ لفظ ہمیں بدنام کرنے کے لیے ایجاد کیا گیا ہے۔ اس قسم کے اور بھی بہت سے لفظ ہیں، جیسے پاکستانی، پاکستانی ایجنٹ،میاں جی،کٹوا، ملا صاحب وغیرہ وغیرہ۔۔۔ دراصل ان لوگوں نے ہماری نفسیات کا بہت گہرا مطالعہ کیا ہے۔ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہم کس لفظ سے کتنا بھڑکتے ہیں۔ موقع مصلحت کے حساب سے وہ لفظ اس وقت استعمال کیا جاتا ہے۔‘‘ (ص: ۶۱)
آج سماج کی صورت حال بالکل بدل گئی ہے ، ہندوستان جو برسوں سے ہندو مسلم اتحاد کا گہوارا رہا اس کی سا لمیت کو نقصان پہنچانے کے لیے ایک خاص قسم کی ذہنیت کام کررہی ہے۔’لو جہاد ‘ کے نام پر مسلمانوں کو بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ’لو جہاد‘ ہی کیا اسلام تو غیر محرموں کے ساتھ بات چیت کو بھی ناپسند قرار دیتا ہے۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ اگر کوئی مسلمان لڑکا کسی غیر مسلم لڑکی سے محبت کرتا ہے تو اسے مسلمانوں کی سازش کے طور پر دیکھا جاتا ہے وہیں اگر کوئی غیر مسلم لڑکا کسی مسلم لڑکی سے محبت کرتا ہے تو اسے تسلیم کرلیا جاتا ہے۔اس ذہنیت کے لوگوں کا نعرہ ’’بیٹی بچاؤ اور بہو لاؤ‘‘ہے۔ میں دونوں ہی قسم کے رشتے کو موجودہ سماجی تناظر میں خطرناک سمجھتا ہوں۔ عبد الصمد نے نہایت خوبصورت انداز میں ’ لو جہاد ‘کی حقیقت کو اپنے ناول میں پیش کیا ہے۔آج اگر اخباروں کی ورق گردانی کی جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ ’ لو جہاد‘ کے نام پر مسلمانوں کو بدنام کرنے کے نئے نئے قصے سامنے آتے رہتے ہیں ۔ روپا اور فہیم کے بیچ جو رشتہ تھا اسے بھی لو جہاد کی نذر کردیا گیا۔روپا کے بھائی کو جب فہیم کے بارے میں معلوم ہوا تو اس نے نہایت شاطرانہ انداز میں اسے اکیلے میں ملنے کے لیے بلایا اور پھر غنڈوں کے ساتھ مل کر اس کی خوب پٹائی کی بلکہ اپنی دانست میں اسے مردہ سمجھ کر وہاں سے چلے گئے۔ اگر روپا نے وقت پر پولیس کو فون کر اس واقعہ کی اطلاع نہیں دی ہوتی تو شاید فہیم بے یارو مدد گار زخموں کی تاب نہ لاکر مر گیا ہوتا، مگر پولیس کے وقت پر آجانے کا فائدہ یہ ہوا کہ اس کی جان بچ توگئی مگر اس کی حالت ایسی بھی نہیں تھی کہ وہ اپنے اوپر ہوئے اس ظلم کی روداد کسی کو سنا پاتا۔ادھر روپا نے بھی اپنی دوستی کی خاطر جان دے دی، گویا اس نفرت کی وجہ سے دو جانیں ضائع ہوگئیں۔ایسا ہرگز نہیں کہ اس طرح کے واقعات میں مسلمان ہمیشہ معصوم ہی ہوتے ہیں، انہیں معلوم ہے کہ غیر مذہب کی لڑکی سے دوستی ان کے ساتھ ساتھ پورے سماج کے لیے کس حد تک خطرناک ہو سکتی ہے، حالیہ دنوں میں کئی فساد اسی لو جہاد کے نام پر ہوئے، گرچہ اس طرح کی تعلیم اسلام ہرگز نہیں دیتا مگر ہماری چھوٹی سی چھوٹی غلطی اکثر ہمارے ساتھ ساتھ ہمارے خاندان بلکہ مذہب اور معاشرے کو بدنام کرنے کے لیے کافی ہوتی ہیں۔
مسلمانوں کو طرح طرح سے بدنام کرنے اور اپنے ہی لوگوں کی نظر میں مشکوک بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ مسلمانوں کو شک کی نظر سے دیکھا جارہا ہے یہاں تک کہ ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو مسلمانوں کو ہندوستان کا باشندہ ماننے سے انکار کررہا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ مسلمان ایک تو بے حد جذباتی قوم ہے اور دوسری اہم بات یہ بھی ہے کہ مسلمانوں میں تعلیم کا فقدان ہے، وہ مذہبی تعلیمات سے بھی بالکل نہیں تو بڑی حد تک نا بلد ضرور ہیں۔بعض مسلمان تو اپنی مذہبی کتاب ’’ قرآن‘‘ اور اس کی تعلیمات سے بھی ناواقف ہیں۔ تعلیمات کی اس کمی کی وجہ سے کئی بار وہ بہکارے کا شکار ہوجاتے ہیں۔اس بہکاوے کی ایک شکل ’’جہاد‘‘ کی غلط تشریح و تعبیر ہے۔حالانکہ جہاد ایک عظیم عبادت ہے، مگر آج جن معنوں میں جہاد کو سمجھا جاتا ہے وہ غیر اسلامی ہے۔
ایسا ہرگز نہیں کے لوگوں کے دلوں میں اسلام اور تعلیمات اسلام کو سمجھنے اور اس کے مطالعے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے بلکہ سچ یہ ہے وہ اسلام کو سیکھنا تو چاہتے ہیں مگر زیادہ تر موقعوں پر ان کا سامنا کم پڑھے لکھے مولوی سے ہوتا ہے یا پھر مسلکی اختلافات اسلام کی صحیح تفہیم میں دشواری پیدا کرتی ہے۔ 
مولوی فضل امام کا بڑا بیٹا قسیم گاؤں سے دور ایک چھوٹے سے شہر میں رہتا ہے ، تعلیم کے فقدان کی وجہ سے اس کے اندر احساس کمتری کا ایک خاص جذبہ ابھرتا ہے۔شہر میں اس کی ملاقات کئی لوگوں سے ہوتی ہے، جو لوگ اس کے گھر پر آتے جاتے ہیں ان کی باتیں قسیم نہیں سمجھ پاتامگر ان باتوں سے بے حد متاثر ہوجاتا ہے۔ قسیم چونکہ بہت زیاد پڑھا لکھا نہیں ہے لہذا وہ پوری بات نہیں سمجھ پاتاحالانکہ اس کے اندر تجسس ہے، وہ ان سوالات کے جوابات چاہتا ہے مگر اس میں کئی بار ناکام ہوجاتا ہے۔ایک دن جب اسے جہاد کے بارے میں معلوم ہوتا ہے تو اس کے اندر کا تجسس بے قراری میں تبدیل ہوجاتا ہے اور وہ فیصلہ کرتا ہے کہ وہ اپنے والد مولانا فضل امام سے اس بابت دریافت کرے گا، مگر مولانا فضل امام بھی ان چیزوں سے پوری طرح واقف نہیں تھے لہذا انہوں نے قسیم کے سوالات کے حل کے لیے مولوی صاحب سے رجوع کیا ۔مولوی صاحب قسیم کو جہاد کا مفہوم بتاتے ہوئے کہتے ہیں:
’’
۔۔۔ اللہ تعالی نے جہاد کا درجہ بہت بلند رکھا اور شہید کے ہمیشہ زندہ رہنے کا وعدہ فرمایا ہے ۔ اس کا کیا مطلب ہے کہ ہم اپنے ہاتھوں میں تلوار لے لیں اور اپنے دشمنوں پر ٹوٹ پڑیں۔ اور پھر یہ بھی طے کرنا ہوگا کہ دراصل آپ کا دشمن ہے کون؟ آپ کے مذہب کو نہیں ماننے والا، آپ سے ذاتی دشمنی رکھنے یا آپ سے نفرت کرنے والا آپ کاوہ پڑوسی جس سے آپ کی کوئی راہ و رسم نہیں؟ ‘‘
(
ص ۶۵)
اسلام میں جہاد بالنفس کی اپنی ایک اہمیت ہے۔جہاد فی سبیل للہ کی بڑی فضیلت ہے۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ بیشتر لوگ جہاد کے اصل مفہوم سے ناواقف ہیں۔ جہاد کا یہ ہرگز مطلب نہیں ہوتا کہ ہم کسی بے گناہ اور بے قصور انسان کو مار کر یہ سمجھ لیں کہ ہمارے اس عمل سے اللہ پاک خوش ہوگا اور ہمیں جنت نصیب ہوگی۔ جس اسلام میں پانی کے فضول استعمال کویا برباد کرنے کی اجازت نہیں ہے وہاں معصوموں کے قتل کی سزا کیا ہوگی اسکا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔موجودہ وقت میں مسلمانوں کی معصومیت کا استعمال چندشورش پسند طاقتیں خوب کررہی ہیں۔ انہیں جنت کی امید دلا کر ان سے انسانیت کے قتل کا کام لیا جارہا ہے، کئی معاملات ایسے بھی سامنے آتے ہیں جن میں مسلمانوں کی شمولیت بھی نہیں ہوتی بس ان کے نام کا استعمال کر نفرت پھیلائی جارہی ہے۔عبد الصمد نے چودھری صاحب کی زبانی اس جانب اشارہ کیا ہے۔چودھری صاحب ایک دور بین ہونے کے ساتھ ساتھ سماج کی اس نبض سے بخوبی واقف ہیں۔ وہ اپنے جذبات کا اظہار اس طرح کرتے ہیں:
’’
مولوی صاحب خودکشی کرنا ہمارے ہاں حرام ہے نا، کرنے والا یقیناًجہنم میں جائے گا کیوں کہ زندگی خدا کی بہت بڑی نعمت ہے اور خودکشی کرنے والا اس عنایت کردہ عظیم نعمت کو حقارت سے ٹھکرا دیتا ہے۔ الاماں الحفی٭۔۔۔میدان جنگ میں لڑتے ہوئے مرنے کی بات اور ہے، وہ مرنے والا شہید ہوتا ہے، اب مشکل یہ ہے مولوی صاحب کہ ہم نے زندگی کے سارے مرحلوں پر میدان جنگ کھول رکھا ہے، خود ساختہ میدان جنگ، ہم سمجھ رہے ہیں اور ہمارے کچھ خود ساختہ قابل ہمیں سمجھا رہے ہیں کہ ہم خودکشی کرکے سیدھے جنت میں جائیں گے، بخدا کہتا ہوں مولوی صاحب، ایسے لوگوں کو جنت کی خوشبو بھی نہیں ملے گی۔۔۔‘‘ (ص ۷۴)
ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ موت کی تمنا بھی نہیں کرنی چاہیے، ایسے میں خودکش بم سے معصوموں کا قتل چہ معانی دارد،یہ نہ جہاد ہے اور نہ ہی تعلیمات اسلامیہ کا کوئی سبق۔بلکہ یہ تو عین اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔اس قسم کی خون ریزی کی اجازت اسلام نہیں دیتا۔اسلام نے ہمیشہ امن و امان قائم کرنے کی تعلیم دی ہے ، نبی کریم ﷺ کی حیات مبارکہ سے بھی یہ بات ثابت کی جاسکتی ہے، اس لیے جو لوگ اسلام کے نام پر دہشت گردی کو فروغ دینے میں لگے ہیں ان کا بائیکاٹ کیا جانا چاہیے، ان کی اس قسم کی حرکت کی مذمت ہی نہیں اس کے خلاف قانونی کاروائی کی جانی چاہیے۔
مسلمانوں کا ایک بڑا مسئلہ قیادت کا ہے، ساتھ ہی ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ جھولا چھاپ قسم کے مولویوں نے اسلام کو بدنام کر رکھا ہے۔ وضع قطع سے وہ ایسے معلوم ہوتے ہیں کہ عام انسان ان کی باتوں میں پھنس بھی جاتا ہے:
’’
اصل مسئلہ تو یہی ہے مولانا، ہمارے ہاں ایسے مولویوں کی بھرمار ہے جو جانتے وانتے کچھ خاص نہیں، مگر پوز ایسا دیتے ہیں کہ بہت کچھ جانتے ہیں۔ ان کے چال ڈھال، حلئے، لباس وغیرہ سے لوگ دھوکہ الگ کھاتے ہیں۔‘‘ (ص ۸۵)
ایسا نہیں ہے کہ تمام مولوی برے اور خراب ہوتے ہیں، دراصل پریشانی نیم حکیم قسم کے مولویوں سے ہے مذہب کو بھی ڈھنگ سے نہیں جانتے اور اکثر معاملات میں نہایت غیر ذمہ داری اور جذباتی قسم کے بیانات کی وجہ سے کئی بار پوری قوم کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔دراصل مولوی حضرات کا اصل اور بنیادی کام یہ ہے کہ وہ لوگوں کو مذہب کی ترغیب دلائیں، جو لوگ تعلیمات اسلامی سے محروم رہ گئے ہیں ان کی تربیت کریں قرآن و سنت کی صحیح تفہیم پیش کریں، تاکہ انسان کے اندر اخلاقیات کا اعلی نمونہ آجائے۔اسلام نے اخلاقیات کا جو درس دیا ہے اس کو از سر نو سمجھنے کی ضرورت ہے۔حقوق العباد کا مرتبہ بے حد بلند ہے۔آج انسان حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں بھول گیا ہے، چند لوگوں کو اللہ کا خوف ہے تو وہ نماز روزہ اور دوسری عبادتیں تو کرلیتا ہے مگر اکثر ایسا دیکھا گیا ہے کہ ہم حقوق العباد کو لے کر سنجیدہ نہیں ہوتے۔
’’حقوق اللہ پر تو ہم بہت زور دیتے ہیں کہ جہنم کی آگ کا خوف ہمیں لرزاتا رہتا ہے۔ حقوق العباد پر اس لیے دھیان نہیں دیتے کہ بچارہ کمزور ناتواں انسان جس کا حق ہم مارتے ہیں، وہ ہمیں کیا سزا دے گا، لیکن یہ ایک دم بھول جاتے ہیں کہ جس کمزور آدمی کا حق مارتے ہیں ،اس کے پیچھے خدائے بزرگ اپنے پورے جاہ و جلال کے ساتھ کھڑا رہتا ہے۔۔۔‘‘ (ص: ۱۰۷)
حقوق اللہ اور حقوق العباد کے فرق کو یوں بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ حقوق اللہ میں معافی شرط ہے اور حقوق العباد میں تلافی ضروری ہے۔اور جو شخص اس معافی اور تلافی کے بغیر اس دنیا سے رخصت ہوگیا اس کا فیصلہ روز محشرمیں ہوگا۔حقوق اللہ کا تعلق اللہ سے ہے وہ چاہے تو اسے نظر انداز کردے اور ہمیں معاف کردے مگر حقوق العباد میں جب تک وہ شخص جس کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے وہ معاف نہ کرے اس کی تلافی نہیں ہوگی۔آج اگر مسلمانوں کی پستی کے وجوہات پر غور و فکر کریں تو ہمیں اندازہ ہوگا کہ ہمارے اندر معاملات اور اخلاقیات میں کمی کا عنصر غالب ہوگیا ہے۔عبد الصمد کی خوبی یہ ہے کہ انہوں نے اپنے ناول کا پلاٹ کچھ اس طرح تیار کیا ہے کہ سماج میں پھیلی بد امنی کی نشاندہی کرنے کے ساتھ ساتھ اسلام کی صحیح شبیہ ابھر کر ہمارے سامنے آجاتی ہے ۔
عبد الصمد نے اردو اخبارات کی موجودہ صورت حال کی طرف نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ اشارہ کیا ہے۔ ایک اقتباس دیکھئے:
’’
تم لوگ اخبار نہیں پڑھتے ہو نا، صرف اردو کے وہ اخبار پڑھتے ہو جس میں بچوں کی سالگرہ کی مبارکبادیاں، شادیوں کی خبریں اور تصاویر، موت کی خبر، قل اور چہلم وغیرہ کی تفصیلات درج ہوتی ہیں، یا پھر کوڑھ کی فقیری دوا کا اشتہار، جنسی قوت بڑھانے کی دوائیں یا ہڈیوں کے درد کا شرطیہ علاج وغیرہ سے خبریں رہتی ہیں۔‘‘ (ص۔ ۱۰۲)
اس اقتباس سے اردو اخبارات و رسائل کے زبوں حالی کا بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔گرچہ مذکورہ باتیں اختر طنز میں قسیم سے کہتا ہے مگر دیکھا جائے تو حقیقی بات ہے۔اردو اخبارات و رسائل کی تاریخ بڑی تابناک رہی ہے۔جنگ آزادی میں اردو صحافت نے جو اہم رول ادا کیا ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے ،اس وقت اردو اخبارات کے قارئین اردو والے ہوا کرتے تھے ہندو یا مسلم نہیں مگرآج اردو اخبارات کے قارئین کی بہت بڑی تعداد مسلمانوں کی ہے۔لہذا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اردو اخبارات خبروں کی تہہ تک جائے اور سچ کو دکھائے اور ایسی چیزیں پیش کرے جس سے حوصلہ بھی ملے اور کامیابی کا راستہ بھی۔آج مسلمانوں کی جو حالت ہے اس سے ہر عام و خواص واقف ہے ایسی صورت میں اردو اخبارات کا رول بڑھ جاتا ہے مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ اردو اخبارات میں جو خبریں آتی ہیں ان میں اکثرخبر کا معیار پست ہوتا ہے یا پھر اکثرپرانی خبریں ہوتی ہیں۔اقتصادی، سماجی یہاں تک کہ سیاسی صورت حال پر جو کالم آتے ہیں وہ بھی اکثر غیر معیاری یا پھر Non informativeہوا کرتے ہیں، لہذا جن کی زبان اردو ہے یا جو صرف اردو جانتے ہیں ان کے لیے سماجی ، سیاسی اور معاشی صورت حال میں آرہی تبدیلی کا اندازہ لگانا بے حد مشکل ہوجاتا ہے۔اردو اخبارات کے مدیران کو اس بات کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے کہ ایسی خبریں نہ شائع کریں جس سے دو طبقوں کے درمیان کسی قسم کی نفرت کو فروغ ملے۔آج جو مواد انٹرنیٹ پر موجود ہے اس کا معیار کیا ہے؟یہ بھی ایک اہم سوال ہے۔زیاد ہ تر اخبار اور ٹیلی ویژن کے ویب پورٹل پر جو خبریں لگائی جاتی ہیں اس کی سرخی سے مواد تک نفرت کی بو آتی ہے۔ہماری مشترکہ تہذیب اورتمام مذاہب کے درمیان جو ایک ربط اور اتحاد ہے اس کو نقصان پہنچانے کی دانستہ کوشش کی جاتی ہے۔پچھلے چند دنوں میں جو فسادات ہوئے ان میں ان سوشل میڈیا کا منفی استعمال سب سے اہم تھا۔اسی کے ذریعے ایسا مواد ڈالا گیا جس سے نفرت کو فروغ ملے۔انٹرنیت اور سوشل میڈیا پر تمام طرح کی چیزیں دستیاب ہیں ایک کلک پر آپ کی پسند کی سائٹ کھل جاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ جب قسیم کے ذہن میں مذہب، سماج اور سیاسی منافرت کے متعلق طرح طرح کے سوال ابھرنے لگے اور اس کا جواب کہیں نہیں ملا،تو اس کے دل کی بے چینی بڑھتی چلی گئی۔ اسی دوران پہلے اس کی ملاقات اختر سے ہوتی ہے جو ایک اخبار میں صحافی تھا۔ قسیم کے اندر ہورہی اتھل پتھل اور بے چینی کو اختر نے نہ صرف بھانپ لیا تھا بلکہ وہ اس کے مسائل کا حل بھی بتاتا رہتا تھا۔قسیم بہت جلد اختر کی شخصیت سے متاثر ہوگیا۔ اختر نے ہی قسیم کو لیپ ٹاپ دلوایا تاکہ اس کے ذہن میں ابھرنے والے تمام سوالات کے جوابات کے ساتھ ساتھ قسیم اپنے احساسات کو دوسروں کے ساتھ ڈسکس کر سکے۔قسیم اپنے مقصد میں بڑی حد تک کامیاب بھی ہوجاتا ہے، بلکہ کئی ایسی چیزوں کا انکشاف بھی قسیم پر ہوتا ہے جس سے وہ اب تک ناواقف تھا:
’’
اسے[ قسیم] لیپ ٹاپ پر اپنی قوم کے سلسلے میں ایسی ایسی خبریں اور تصویریں ملتیں کہ اس کے اندر خون کی گردش بہت تیز ہوجاتی، اسے محسوس ہوتا کہ نالیوں کے ذریعہ خون اس کے دماغ تک پہنچ جاتا ہے، وہ جذبات سے مغلوب ہوجاتا ہے اور اگر فوراََ ان جذبات کو باہر نکلنے کا موقعہ نہ ملتا تو۔۔۔‘‘ (ص ۱۴۷)
سوشل میڈیا کا استعمال برا تو ہرگز نہیں مگر آج جس طرح سے سوشل میڈیا کا ہمارے نوجوان استعمال کررہے ہیں وہ بے حد خطرناک اور جان لیوا ہے۔بعض لوگ سوشل میڈیا کے ذریعے منافرت اور ایک دوسرے کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا کام منظم طریقے سے کررہے ہیں جو کہ سماج اور ملک کے ساتھ ساتھ تمام مذاہب کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔بہت سے معصوم لوگ جذبات میں بہہ کر ایسی خطا کر گزرتے ہیں جس کا اثر ان کے ساتھ ساتھ ان کے اہل خانہ بلکہ مذہب تک کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ آج پوری دنیا میں مسلمانوں کے خلاف خطرناک ماحول بنایا جارہا ہے، مسلمانوں کو امن کا دشمن بلکہ دہشت گرد بناکر پیش کیا جاتا ہے۔ اس قسم کی سازش کے خلاف ردّ عمل کا آنا فطری عمل ہے، مگر اس عمل میں مسلمانوں کو اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہیے کہ کہیں ہمارا عمل ایسا نہ ہو جائے جس سے مسلمانوں کے خلاف سازش کرنے والی طاقتوں کو اپنی بات ثابت کرنے کا موقعہ مل جائے۔ قسیم کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔اس نے جذبات میں ایک ایسے راستے کو اختیار کرلیا جو بنیادی طور پر بے حد خطرناک تھا۔قسیم نے اختر کے مشورے پر لیپ ٹاپ لیا اورسوشل میڈیا کے ذریعے اپنے جذبات و احساسات کوپیش کرنے لگا۔اس اظہار میں سوال بھی تھے اور مسلمانوں پر ہورہے مظالم کے خلاف ایک ردّ عمل بھی تھا، وہ ملک کے خلاف بغاوت نہیں کررہا تھا ،، مگرجس طریقہ اور جس انداز کو قسیم نے اختیار کیا اس سے تفتیشی ایجنسیوں کے کان کھڑے ہو گئے ، کئی روز کی مسلسل جانچ پڑتال کے بعد اچانک ایک دن تفتیشی ایجنسی نے مولوی فضل امام اور قسیم کے کرایے خانہ پر چھاپہ مار دیا۔مولوی فضل امام کے گھر سے انہیں توکچھ نہیں ملا مگر قسیم کی رہائش سے انہیں وہی لیپ ٹاپ ملا جس کے ذریعے قسیم اپنے جذبات دوسروں سے شیئر کرتا بلکہ کئی بار مسلمانوں پر ہورہے ظلم کے خلاف ردّ عمل کے طور پر دوسروں کو برا بھلا کہتا تھا۔پہلے تو قسیم کے ساتھ رہنے والے ساتھیوں نے اپنی لاعلمی کا اظہار کیا مگر جب پولیس نے قسیم کا لیپ ٹاپ کھولا تو وہ بھی حیران رہ گئے:
’’
اس کی بات کو کاٹ کر افسر نے پھر لیپ ٹاپ کو چالو کردیا۔ اس دفعہ اس کی اسکرین پر قسیم کی اوٹ پٹانگ تحریریں آنے لگیں۔طرح طرح کی گالیاں، قسم قسم کے حوالے، مجرمانہ اور ملک دشمن کاروائیوں کی تعریفیں اور حمایت، نا معلوم غصے کا بے حد جارحانہ اظہار اور نہ جانے کیا کیا۔۔۔‘‘ (ص: ۲۱۷)
قسیم کو گنہگار ثابت کرنے کے لیے پولیس کے یہ ثبوت کافی تھے، مبین اور دوسرے ساتھی جو قسیم کے ساتھ روم میں رہتے تھے ان کے بار بار اصرار کرنے اور خود کو بے گناہ کہنے کے باوجود پولیس انہیں پکڑ کر لے گئی اور پھر ہمیشہ کی طرح میڈیا والوں نے اس خبر کی حقیقت جانے بغیر اسے خوب اچھالا۔ قسیم کا تو معلوم نہیں مگر فضل امام کا حال بہت برا تھا، پولیس نے انہیں گرفتار تو نہیں کیا تھا مگر کہیں آنے جانے سے منع کیا تھا۔اس دھمکی کا اثر یہ ہوا کہ امام صاحب نے گھر سے نکلنا ہی بند کردیا گویا انہوں نے خود کو اپنے ہی گھر میں نظر بند کرلیا تھا۔ ایک دن چودھری شرف الدین صاحب کا ایک کارندہ ان کو ڈھونڈتا ہوا ان کے گھر آیا ، چودھری صاحب نے انہیں ملنے کے لیے بلایا تھا۔مولوی فضل امام کو لگا چودھری صاحب ان کی مدد کرسکتے ہیں ۔
مولوی فضل امام جب چودھری صاحب کے یہاں پہنچے تو انہوں نے سوالات کی جھڑی لگا دی، ان کی باتوں سے ایسا محسوس ہوتا تھا گویا وہ اس بات کی تہہ تک جانا چاہتے ہوں کہ مولوی صاحب اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ جو واقعہ پیش آیا، اس کی صداقت کیا ہے ۔ وہ جانتے تھے کہ مولوی فضل امام جیسا شریف بلکہ دنیا سے بے خبر رہنے والا انسان ملک مخالف سرگرمیوں میں شامل نہیں ہو سکتا مگر ان کے بیٹے قسیم اور فہیم کے متعلق ان کو شبہہ ضرور تھا۔ چودھری صاحب کے سوال پر مولوی فضل امام اس پورے واقعے کو ایک سازش قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ پولیس کی یہ کاروائی دراصل پوری قوم کو بدنام کرنے کی ایک کوشش ہے۔چودھری صاحب جواب دیتے ہیں:
’’
کمال یہ ہے کہ یہ تو ہمار قوم کا بچہ بچہ کہتا ہے کہ ہمارے خلاف عالمی سطح پر سازشیں ہورہی ہیں، مگر ہم اس کے تدارک کے لیے کیا کررہے ہیں ، اس کی کسی کو فکر نہیں۔۔۔‘‘ (ص ۲۳۱)
اس میں کوئی شبہہ نہیں کہ عالمی سطح پر مسلمانوں کے خلاف ساشیں رچی جار ہی ہیں، مگر چودھری صاحب نے جن نکات کی طرف اشارہ کیا ہے اس میں حقیقت پوشیدہ ہے۔مسلمانوں نے اپنی ہر ناکامی کو دوسروں کی سازش قرار دے کر گویا خود کو آزاد کرنے اور اپنی ذمہ داری سے بچنے کی کوشش کی ہے، دوسرے لفظوں میں وہ خود کو مظلوم ثابت کرنے میں لگے ہیں۔حالانکہ اگر ہم مسلمان سماج اور قوم کے تئیں اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے اپنی خامیوں پر قابو پانے کی کوشش کرتے تو یقیناًیہ پوری قوم کے لیے مثبت عمل ہوتا۔مذہبی نقطہ نگاہ سے بھی ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ سماج میں پھیلی برائیوں کو دور کرنے کی ذمہ داری ہم پر عائد کی گئی ہے۔مگر ہم تمام واقعات کو قسمت یا سازش قرار دے کر اپنی ذمہ داری سے بچ نکلنے کی ایک راہ نکال لیتے ہیں۔ہم سب کو معلوم ہے نبی اور پیغمبر کے آنے کا سلسلہ حضرت محمد ﷺ کے بعد ختم ہوگیا ہے اور قوم کی اصلاح کی پوری ذمہ داری ہم پر عائد کردی گئی ہے۔
’’ دیکھئے مولوی صاحب، اب تو ہماری سدھار کے لیے کوئی پیغمبر آنے سے رہا ، یہ کام تو بہرحال ہم آپ کو ہی کرنا ہے، ایک پریشانی یہ بھی ہے کہ ہم دین اور دنیا دونوں کو بالکل الگ کردیتے ہیں،اس سے نقصان یہ ہوتا ہے کہ نہ دین ملتی ہے، نہ دنیا۔میری ناقص رائے میں تو دنیا ، دین ہی کمانے کی جگہ ہے،دنیا کو ہمارے خالق نے یوں ہی نہیں پیدا کردیا،اس نے اس کا رشتہ دین سے جوڑ دیا ، کہیے میں غلط کہہ رہا ہوں کیا۔۔۔؟‘‘ (ص ۲۳۲۔ ۲۳۳)
ہم نے دین اور دنیا کو الگ الگ خانوں میں رکھ کر دیکھنا شروع کردیا ہے جو ہمارے لیے نقصاندہ ہے۔اگر دنیا کی کوئی اہمیت نہ ہوتی تواسلام میں سب سے اچھی اور عظیم عبادت اسے کہا جاتا جو جنگل یا پہاڑی پر کی جاتی ہو، مگر اسلام نے ایسا حکم نہیں دیا بلکہ دنیا کو دین کمانے کا ایک ذریعہ بتایا ہے ۔مگر آج یا تو ہم پوری طرح دنیا کے کاموں میں خود کو الجھا لیتے ہیں کہ مذہب اور مذہبی امور یاد ہی نہیں رہتے یا پھر مذہب کی طرف اس طرح مائل ہو جاتے ہیں کہ دنیاوی ذمہ داری کا خیال ہی نہیں رہتا، دراصل ہمیں بیچ کا راستہ اختیار کرنا چاہیے تاکہ مذہبی امور کی بھی ادائیگی ہو اور دنیاوی ذمہ داری کا خیال بھی رہے۔ ہمیں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنا ہوگا، ہمارے نوجوانوں کو یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ جذبات میں بہہ کر جو کام کیا جاتا ہے اس کا صرف نقصان ہوتا ہے۔ نفرت کا جواب نفرت نہیں ہوتا۔ نبی کریم ﷺ کی حیات مبارکہ کا جائزہ لیں تو ایسے بے شمار واقعات ہمارے سامنے آجاتے ہیں جن میں اللہ کے رسول ﷺ نے نفرت کا جواب محبت سے دیا ہے۔ انسان کا حسن سلوک ایک ایسا عمل ہے جو دشمنوں کو دوست بنا دیتا ہے۔مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے اندر دورا ندیشی تو رہی نہیں مصلحت پسندی سے بھی ہم دور ہوتے جارہے ہیں۔مولوی فضل امام کے ساتھ جو واقعہ رونما ہوا تھا، اس کے شکار وہ اکیلے نہیں تھے ،قسیم اور ان جیسے نا جانے کتنے نوجوان آج قید ہیں، ان میں سے کئی لوگ ایسے ہیں جو بالکل بے گناہ ہوتے ہیں، بعض لوگ ملک مخالف کاموں میں ملوث بھی ہوتے ہیں، مگر زیادہ تر لوگ جذبات میں ایسی حرکتیں کرتے ہیں جس سے پوری قوم بدنام ہوتی ہے۔اور یہ سب اس لیے ہوتا ہے کہ ہم تعلیم سے محروم ہیں،مذہبی امور کی ادائیگی میں ہماری دلچسپی بالکل بھی نہیں مگر مذہب کے نام پر دوسروں سے نفرت کرنے کا جذبہ نا جانے کہاں سے آجاتا ہے۔ہم جس دن اللہ کی رسی کو صحیح معنوں میں تھام لیں گے دنیا میں بھی کامیابی حاصل ہوگی اور آخرت میں اللہ کی خوشنودی بھی ہمیں نصیب ہوگی۔
ایسا نہیں ہے کہ تمام اقسام کی خطاوں کی ذمہ داری مسلمانوں پر ہی عائد ہوتی ہے، مگرجب کبھی کوئی خطرناک واقعہ رونما ہوتا ہے تواس کی ذمہ داری فورا مسلمانوں یا مسلمانوں کے نام سے منسوب تنظیموں کے سر ڈال دی جاتی ہے، جس سے سچائی تک ہماری رسائی نہیں ہو پاتی۔ بکری کو شیر اور شیر کو بکری بنا کر پیش کرنے کے بجائے بکری کو بکری اور شیر کو شیر بتانے کا حوصلہ ہماری تفتیشی ایجنسیوں کو کرنا ہوگا کیوں کہ ملک کے تحفظ اور اس کی سلامتی کی ذمہ داری ان پر عائد ہے۔
ہندوستان کی سیاست کی جو شکل آج ہمارے سامنے موجود ہے اس سے سب سے بڑا خطرہ خود ہندوستان کو ہے۔ہندو ، مسلم اتحاد کا مطلب اس ملک کی سا لمیت اور تحفظ کی ضمانت بھی ہے۔ ہندوستان کی سا لمیت کے لیے سب سے اہم عدلیہ کاروائی میں تیزی لانے اور انصاف کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔سرکار اور پولیس کو چاہیے کہ وہ اصل مجرموں کو سزا دلائے اور معصوم بے گناہ لوگوں کو انصاف مل سکے۔افسوس کی بات یہ ہے کہ مجرم آزاد گھومتے رہتے ہیں اور بے گناہ جیل کی سلاخوں میں قید کردیے جاتے ہیں، اس سے سماج کے ایک بڑے طبقے کے اندر یہ احساس اپنی جگہ بنا لیتا ہے کہ ان کے ساتھ نا انصافی ہو رہی ہے۔
عبد الصمد نے اپنے ناول میں جس طرح موجودہ سیاست اور سماجی صورت حال کو پیش کیا ہے وہ لائق تحسین ہے، قسیم جیسے کردار ہر نکڑ پر ہمیں مل جاتے ہیں، یہ دراصل ملک کے خلاف لوگ نہیں اور نہ ہی باہری طاقت سے انہیں کوئی تعاون حاصل ہے بلکہ اپنے آس پاس ہورہے ظلم پر ردّ عمل کا جو طریقہ انہوں نے اختیار کیا ہے وہ بنیادی طورپر ملک کی پالیسی اور تحفظ کے لیے خطرہ معلوم ہوتی ہیں۔
مجموعی طور پر یہ ایک عمدہ ناول ہے ۔ ناول نگار نے نہایت اہم موضوع کو اپنے ناول کے لیے منتخب کیا ہے، جہاں تک زبان و بیان کا تعلق ہے تو ایک دو جگہ کردار کا مکالمہ کردار کے ذہنی اور لسانی میلان کے خلاف نظر آتا ہے، خاص طور پر وہ مکالمہ جو روپا اور ان کے بھائیوں کے درمیان ہوتا ہے۔ باوجود اس کے ناول کا موضوع اچھوتا ہے۔عبد الصمد نے جس فن کاری کے ساتھ واقعات کو ترتیب دیا ہے اس سے جہاد، لو جہاد اور دہشت گردی میں ملوث نوجوانوں کی حقیقت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔اس ناول کا مطالعہ ہمارے آنکھوں سے پردہ اٹھانے اورہمیں خواب غفلت سے بیدار کرنے کا ایک ذریعہ بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

 مضامین دیگر 


Comment Form



اردو فکشن

© 2017 Urdu Fiction. All right reserved.

Developed By: Aytis Cloud Solutions Pvt. Ltd.