07 Jul, 2017 | Total Views: 328

اردو ناو ل اور تانیثی مسائل

ڈاکٹر محبوب حسن

تانیثیت( Feminism)ایک ایسی تحریک اورایسا نظریہ ہے جس کے ذریعہ سماج کی ستائی ہوئی عورت کی کرب ناک زندگی اور اس کے گو ناگوں مسائل کو منظر عام پر لانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ در اصل اس نظریے کے تحت سماجی،معاشرتی،سیاسی،اقتصادی اور تعلیمی سطح پر مرد اور عورت کے درمیان حائل فرق کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی جاتی ہے۔اس تحریک کا اصل مقصد عورتوں کے جائز حقوق کی بازیافت ہے۔ یہ تحریک مغربی ممالک کے زیراثر ہندوستان پہنچی اور بہت جلد ہی یہاں کے مختلف زبان و ادب پر اپنے دیرپا اثرات مرتب کیے۔ آج بھی یہ تحریک سماج کی مظلوم عورتوں کے حقوق اور مساوات کے لیے سرگرم عمل ہے۔
اردو ادب ،بالخصوص اردو فکشن میں تانیثی نظریات و تصورات کے گہرے نقوش ملتے ہیں۔داستانوں سے قطع نظراردو ناولوں میں عورت کو سماج کے ایک جیتے جاگتے کردار کے طور پرپیش کیا گیا۔ناول نگاروں نے اس طبقے کو زبوں حالی اورپسماندگی کے گڈھے سے نکالنے کے لیے اس کی زندگی کے تمام تر حالات ومسائل کو موضوع بحث بنایا۔اردو ناول میں اس کی ایک مستحکم روایت ملتی ہے۔یوں تو ترقی پسند تحریک کے قبل ہی سے اردو ناول میں عورتوں کے مسائل کی صدائے بازگشت سنائی پڑتی ہے۔اگر ہم اس ہمہ گیر تحریک کے بعد اردو ناولوں میں تانیثی فکروعمل کا جائزہ لیں تو،ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ مرداور خواتین قلم کاروں کی ایک بڑی جماعت ہے جس نے عو رتوں پر ڈھائے گئے ظلم و ستم کے خلاف اپنی تیز تر آواز بلند کی۔ٹھیک یہی زمانہ ہے جب ’’انگارے‘‘ (۱۹۳۲)منظرے عام پر آتا ہے۔اس کی اشاعت کے ساتھ ہی اردو فکشن میں ایک نیا انقلابی رویہ جنم لیتا ہے۔’’انگارے ‘‘کے مصنفین نے سماج کے اس دبے کچلے طبقے کے جنسی اورنفسیاتی مسائل سے پردہ اٹھایااور اس پر تھوپی گئی بے بنیاد مذہبی اور خلاقی پابندیوں کے خلاف بے باکانہ تخلیقی اظہار کیا۔اردو ناول نگاری بھی ’’ انگارے‘‘ کے اس انقلابی رویے سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکی۔بقول صغرا مہدی:
’’
انگارے نے تانیثیت کا ایک مضبوط تر نظریہ اردو ادب میں داخل کیا۔اردو ناول نے اس نظریہ کو اپنے رگ و پے میں شامل کر لیا۔دیکھتے ہی دیکھتے یہ طرز فکر اردو ناول نگاری کا ایک ناگزیر حصہّ بن گیا۔عورتوں کے بے شمار مسائل اس میں سانس لینے لگے۔کہیں کہیں یہ سانس للکار کی شکل اختیار کر گئی ہے۔‘‘
)
صغرا مہدی،اردو ناولوں میں عورت کی سماجی حیثیت،نئی دہلی،صفحہ:۷۹(
اردو میں ناول نگار ی کا آغاز ڈپٹی نذیر احمد کی تخلیقات سے ہوتا ہے۔انہوں نے سماج و معاشرے کے جن مسائل پر اپنی خاص توجہ مرکوز کی،ان میں خواتین کے حالات و کوائف کو مرکزیت حاصل ہے۔انہوں نے اس طبقے کی تعلیم و تربیت اور اصلاح کو بنیادی اہمیت دی۔اگر ہم تانیثی نقطۂ نظرسے ڈپٹی نذیر احمد کے ناولوں کا جائزہ لیں تو ہمیں بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ یہاں تانیثی رجحانات کے گہرے نقوش ملتے ہیں۔’’مراۃالعروس‘‘ ’’توبتہ النصوح ‘‘ ’’ابن الوقت‘‘ ’’فسانۂ مبتلا‘‘ وغیرہ اس کے عمدہ نمونے ہیں۔انہوں نے اصغری اور اکبری جیسے مثالی کرداروں کے ذریعہ معاشرے کو روشنی دی۔ڈپٹی نذیراحمد نے اپنے ناولوں میں عورتوں کے جائز حقوق کی بازیافت کی اوران کے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک اور سماجی ناہمواریوں کے خلاف آواز اٹھائی۔اس طرح واضح رہے کہ ا ردو ناول نگاری میں تانیثی فکرو شعور کی اوّلیت کا سہرا ڈپٹی نذیر احمد کو جاتا ہے۔
ترقی پسند تحریک سے قبل کے ناول نگاروں میں رتن ناتھ سرشار،عبدالحلیم شرر،علامہ راشدالخیری،مرزارسوا، نذرسجاد اورعظیم بیگ چغتائی وغیرہ نے اپنے ناولوں کے ذریعہ سماج کے اس دبے کچلے طبقے کی زندگی کی تلخ سچائیوں کو منظر عام پر لانے کی کوشش کی ۔ عورتوں کے سیاسی،سماجی،اقتصادی،اورتعلیمی مسائل کوعصری تناظر میں دیکھنے کی کوشش کی۔ان تخلیق کاروں کے یہاں تانیثیت کابہت مضبوط رجحان تو نہیں ملتا لیکن عورت اب پردے سے باہر نکل کر اپنا مقام بنانے لگی تھی۔سرشار نے ’’فسا نہ آزاد‘‘ اور ’’کامنی‘‘میں تعلیم نسواں اورخواتین کی اذیت ناک زندگی پر روشنی ڈالی ہے۔عبدالحلیم شررنے بھی تعلیم نسواں پر اپنی توجہ مرکوز کی ہے۔وہ جدید تعلیم کو لڑکیوں کے لیے لازمی قرار دیتے ہیں۔ان کے یہاں بے جا مذہبی پابندیوں کے خلاف احتجاج ملتا ہے۔ان کے ناولوں میں تعلیم نسواں کا تصور زیادہ ترقی پسندانہ اور پختہ ہے۔ان کے ناول’’مینا بازار‘‘ اور’’بدرالنساء کی مصیبت‘‘وغیرہ میں ان مسائل کی خوبصورت عکاسی ملتی ہے۔ان کے ایک دوسرے اہم ناول’’دلچسپ‘‘میں بیوہ کی شادی کی پرزور حمایت کی گئی ہے۔ 
تانیثی فکرکے اعتبار سے علامہ راشدالخیری کا نام ناقابل فراموش ہے۔انہوں نے اپنے بیشتر ناولوں میں خواتین کے معاشرتی،سماجی،تعلیمی،سیاسی ،تہذیبی مسائل کی ترجمانی کی ہے۔’’صبح زندگی‘‘اور ’’شام زندگی‘‘جیسے ناول ان کے اس فکری رویے کی شہادت فراہم کرتے ہیں۔ڈپٹی نذیر احمد کی طرح انہوں نے بھی خواتین کی تعلیم و تربیت ،عزت نفس، خودداری جیسے اخلاقی پہلؤں کو روشن کرنے کی کوشش کی ہے۔اپنی انہی خدمات اور کوششوں کے سبب ’’ مصور غم‘‘اور ’’لڑکیوں کے سر سید‘‘ کہلائے۔ان کے بیشتر کرداراسی فکری دائرے میں سرگرم عمل ہیں۔اس روایت اور سلسلے کا ایک اہم نام مرزا رسوا کا بھی ہے۔انہوں نے عورت کی نفسیاتی وذہنی کشمکش کو فن کارانہ انداز میں پیش کی ہے۔’’امراؤجان ادا‘‘ ان کا مشہور ترین اور شاہکار ناول ہے۔اس میں ایک طوائف کو بطورمرکزی کردار پیش کیا گیا ہے۔اس ناول کی ہیروئن سماج کی چیر ہ دستیوں کا شکار ہوکر ایک طوائف بننے پر مجبور ہوتی ہے۔ان کے دوسرے ناول’’اکبری بیگم‘‘ ’’اختری بیگم‘‘ اور ’’ذات شریف ‘‘ میں بھی معاشرے کی ناہمواریوں کو پیش کیا گیا ہے۔ مرزا رسوا نے اپنے نسوانی کرداروں کے ذریعہ سماج کے کھوکھلے پن اور بے بنیاد رسم ورواج سے پردہ اٹھایا ہے۔ 
منشی پریم چند کے ذریعہ اردو ناول نگاری میں ایک نئی روایت کی داغ بیل پڑی۔انہوں نے اردو ناول نگاری کو نت نئے مسائل سے روشناس کرایا۔انہوں نے کئی اہم ناول تخلیق کیے ہیں۔ان کے ناولوں میں تانیثی فکرو شعور کے گہرے نقوش ملتے ہیں۔انہوں نے عورتوں کی سماجی ناہمواریوں کو دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ان کے ناولوں میں اس طبقے پر ہونے والی ظلم و زیادتی اور غیر انسانی افعال کے خلاف شدید احتجاج ملتا ہے۔ انہوں نے’’ ستی پرتھا‘‘ جیسی منحوس رسم،بیواؤں کی شادی اور خواتین کے دوسرے سنجیدہ و نازک مسائل کو منظر عام پر لانے کی کوشش کی۔’’بیوہ‘‘ ’’بازارحسن‘‘’’نرملا‘‘’’میدان عمل‘‘’’گودان‘‘ وغیرہ اس کے بیّن ثبوت ہیں۔مذکورہ ناولوں میں عورتوں کے نا گفتہ بہ حالات حقیقی انداز میں پیش کیے گئے ہیں۔انہوں نے خواتین کی بے جوڑ شادی،طلاق، آزادیِ نسواں،طوائف بازاری،جہالت،ذہنی غلامی ، اقتصادی پسماندگی جیسے ا ہم مسائل کو آئینہ دکھلایا ہے۔ان کے ’’ناول نرملا‘‘ میں سمترامرد کی بالادستی کے خلاف کہتی ہے:
’’
عورت مردکے پیروں کی جوتی کے سوااور ہے ہی کیا؟مرد چاہے جیسا ہو،چور ہو،ٹھگ ہو،بدکار ہو،شرابی ہوعورت کا فرض ہے کہ اس کے پیردھو کے پیے۔ ‘‘
)
پریم چند،نرملا،صفحہ:۱۵۲(
دنیائے ادب میں قاضی عبدالغفار اپنے منفرد لب و لہجہ کے باعث مشہور ہیں۔ انہوں نے طوائفوں کی تلخ زندگی کو اپنے ناولوں میں پیش کیا ہے۔ان کے ناول’’مجنوں کی ڈائری‘‘اور’’لیلیٰ کے خطوط‘‘ میں فرسودہ سماج کے جبرو تشدد اور استحصال کو ہدف تنقید بنایا گیا ہے۔انہوں نے طوائفوں کی زبان سے سماج کے فرسودہ رسم وروا ج اور مرد اساس معاشرے پر اپنے طنز کے نشتر چلائے ۔ان سے قبل بھی طوائف اردوناولوں میں نظر آتی ہے لیکن قاضی عبدالغفار کے یہاں اس کی شخصیت ذرا مختلف ہے۔وہ مثالی نہیں ہوتی بلکہ اس کے اندرزندگی کی رمق نظر آتی ہے۔وہ سوچتی اورمحسوس کرتی ہے۔اس کے یہاں زندگی کے تئیں ایک واضح نظریہ ملتا ہے۔’’لیلیٰ کے خطوط ‘‘ میں طوائف لیلیٰ سماج کے پدرانہ نظام اور اپنی ذہنی پسماندگی کو آئینہ دکھاتے ہوئے کہتی ہے:
’’
عورتیں ناقص العقل ہوتیں ہیں۔فطرتاًمرد سے کمتر ہیں۔آج میں بالائے بام پر کھڑی ہوکر پکارتی ہوں،بر سربازار پکارتی ہوں کہ ہمارے وہ محافظ و نگراں کہاں ہیں،مسجدوں میں ڈھونڈوںیا مندروں میں۔‘‘
)
قاضی عبدالغفار،لیلیٰ کے خطوط،صفحہ:۳۲۵(
اردو فکشن میں عصمت چغتائی کا نام محتا ج تعارف نہیں۔وہ اپنے تانیثی نظریات وتصورات کے سبب اردو ناول کے میدان میں ایک منفرد مقام رکھتی ہیں۔ان کے ناول’’ضدّی‘‘’’ٹیڑھی لکیر‘‘’’دل کی دنیا‘‘’’معصومہ‘‘ وغیرہ میں عورتوں کی زندگی کے تلخ حقائق کی بازگشت صاف سنائی پڑتی ہے۔انہوں نے اس طبقے کی زندگی خصوصاً جنسی اور نفسیاتی مسائل کو مضبوطی کے ساتھ بیان کیے ہیں۔ان کے یہاں مرد اساس سماج کے جبروتشدد اور طبقاتی کشمکش کے خلاف صدائے احتجاج ملتا ہے۔’’ضدّی‘‘ کی آشا اور’’ٹیڑھی لکیر‘‘ کی شمن سماج کی فرسودہ روایات اور طبقاتی کشمکش کے خلاف ایک مستقل احتجاج کی حیثیت رکھتی ہیں۔ آشا سماج کے بے جا رسم ورواج اور ناہمواریوں کے خلاف اپنی جان دیتی ہے توشمن قدم قدم پر ایسے ماحول سے ٹکراتی ہے۔یہ دونوں معاشرے کے ظلم و ستم کا شکار ہوتی ہیں۔عصمت کے یہاں سماج کی درندگی اور بے حسی کی جیتی جاگتی تصویریں ملتی ہیں۔ ان کے ناولوں میں تانیثی فکر کی روح سمٹ آئی ہے۔
قرۃالعین حیدر اردو ناول کا ایک اہم اور معتبر نام ہے۔انہوں نے کئی اہم ناول تخلیق کیے۔ان کے ناولوں کے تانیثی رویّے،دوسرے تخلیق کاروں سے ذرا مختلف ہیں۔انہوں نے عورت کو زماں و مکاں کے تناظر میں دیکھنے کی کوشش کی ہے۔ان کے ناولوں میں عورت کے استحصال،جلا وطنی،تنہائی،ہجرت اور لاچاری جیسے کوائف سانس لے رہے ہیں۔انہوں نے عورتوں کی مجروح روح اور ان کی جنسی و نفسیاتی کشمکش کو جلا وطنی اور تنہائی کے پس منظر میں دیکھنے کی کوشش کی ہے۔’’سیتا ہرن‘‘کی سیتا،’’آگ کا دریا‘‘کی چمپا،’’میرے بھی صنم خانے‘‘کی رخشندہ،’’ہاؤسنگ سوسائٹی‘‘کی ثریا حسین اور’’آخری شب کے ہم سفر‘‘ کی دیپالی سرکار وغیرہ اس کی خوبصورت مثالیں ہیں۔ سماج ان نسوانی کرداروں کے جذبات و احساسات نیز ان کے وجود سے کھیلتا ہے۔ممتاز نقاد پروفیسر شمیم حنفی ان ناولوں پراپنی رائے کا اظہارکرتے ہوئے کہتے ہیں:
’’
ان میں عورت کے مقدر،مرد کے ہاتھوں اس کے استحصال،اس کی خودسپردگی،قربانی اورذہنی جلاوطنی کے تجربے بہت مؤثراور حقیقت پسندانہ طور پرسامنے آئے ہیں۔‘‘
)
پروفیسر شمیم حنفی،قرۃالعین حیدر، ’ آواز ‘ ، صفحہ:۶(
مذکورہ بالااقتباس سے قرۃالعین حیدرکے تانیثی تجربے اور فکروعمل کی نشاندہی ہوتی ہے۔تانیثی فکر کے اعتبار سے خدیجہ مستور کی ادبی خدمات بھی ہماری توجہ کا مرکز ہیں۔ان کے ناول ’’آنگن ‘‘میں عورتوں کے ذہنی کرب،داخلی گھٹن،لاچاری اور بے بسی کی جیتی جاگتی تصویریں ملتی ہیں۔اس ناول میں انہوں نے تقسیم ہند کے تناظرمیں خواتین کو در پیش مسائل کی نہایت حقیقی تصویرکشی کی ہے۔نسوانی کردار عالیہ اور چھمی کو معاشرے کی ان بدعنوانیوں اور ناہمواریوں سے دو چار ہوتے ہوئے دکھلایا گیا ہے۔جیلانی بانو بھی اپنے بے لاگ تخلیقی اظہار کے لیے جانی جاتیں ہیں۔انہوں نے اپنے منفرد ناول’’ایوان غزل‘‘میں مرد اساس سماج اور مردانہ بالادستی کو ہدف تنقید بنایا ہے۔در اصل ان کے یہاں جاگیردارانہ طرزمعاشرت میں خواتین کی پسماندگی اوربدحالی کی سچّی ترجمانی ملتی ہے۔ان کے دوسرے اہم ناول’’بارش سنگ‘‘میں بھی عورتوں کی کرب ناک اورشکستہ حال زندگی کی درد ناک کہانی بیان کی گئی ہے۔یہ دونوں ناول جیلانی بانوں کی جدت پسندتخلیقی روییّ کو آشکارا کرتے ہیں۔
آج کی عصری زندگی میں بھی یہ طبقہ زبوں حالی اورکسمپرسی سے یکسر آزاد نہیں۔ادیب سماج کا ایک حساس فرد ہوتا ہے۔اس کی یہی فطرت اسے سماجی سروکار سے وابستہ رکھتی ہے۔ہم عصر ناول نگاروں نے بھی عورتوں کی زندگی کوتانیثی تناظر میں دیکھنے اور پرکھنے کی کوشش کی ہے۔اردوناول’’مکان‘‘(پیغام آفاقی)،’’دھنک‘‘(عبدالصمد)،’’بادل‘‘(شفق)،’’فرات‘‘(حسین الحق)،’’ندی‘‘(شموئل احمد)،’’کینچلی‘‘(غضنفر)، ’’مورتی‘‘(ترنم ریاض)اور’’اندھیرا پگ‘‘ (ثروت خان)اپنے تانیثی شعور کے باعث فکر کی نئی راہیں ہموار کرتے ہیں۔پیغام آفاقی کا ناول’’مکان‘‘ تانیثی آگہی کے سبب ایک اہم پڑاؤ کی حیثیت رکھتا ہے۔اس ناول کی ہیروئن ’’نیرا‘‘ اپنے حرکت و عمل اور جذبات و احساسات کی بنا پر تانیثی فکرو عمل کی مضبوط ترین آواز بن کرابھرتی ہے۔اس کی خود کلامی (Dramatic Monologue)تانیثی بغاوت کاا علامیہ بن گئی ہے۔میرا خیال ہے کہ’’مکان‘‘ کی’’ نیرا‘‘ کے بعد’’اندھیرا پگ‘‘ کی ’’روپی‘‘ اس روایت کی پاسداری کرتی ہے۔یہ دونوں نسوانی کردار اپنی تانیثی فکر کی روشنی میں کسی نئی منزل کا پتہ دیتے ہیں۔
اس طرح واضح رہے کہ اردو ناول نگاروں نے ابتدا سے ہی تانیثی ڈسکورس کوشعوری یا غیر شعوری طور پر اپنے ناولوں میں جگہ دی۔مرد فکشن نگار کے شانہ بہ شانہ خواتین ناول نگار بھی اپنے عہد کے مخصوص سماجی،سیاسی،تہذیبی،معاشرتی اور اقتصادی پس منظر میں عورتوں کے گونا گوں مسائل کی عکاسی میں پیش پیش رہی ہیں۔آج کی عصری زندگی مختلف نوع تغیرات سے دو چار ہے۔نئے نئے سماجی رشتے اور مسائل جنم لے رہے ہیں۔فکرو شعور کی نئی نئی راہیں کھل رہی ہیں۔ایسے میں خواتین طبقے کے نت نئے عصری مسائل کوناول کے کینوس پرپیش کرنے کی اشد ضرورت ہے۔اس سے غوروفکر کے نئے نئے دریچے وا ہوں گے اور سماج کی ناہمواریاں دور ہوں گی۔
***
شکریہ 

 مضامین دیگر 

Comment Form