08 Jul, 2017 | Total Views: 209

صادقہ نواب سحر-------اردو ادب کی چاندنی

ڈاکٹر مشتاق احمد وانی

 عورت اپنی ذات وصفات کے لحاظ سے گونا گوں مسائل کی آماجگاہ ہوتی ہے ۔ماں؛بہن؛بیٹی اور بیوی اس کے وہ روپ ہیں جن سے گزرنے کے دوران اسے کئی طرح کی ذہنی الجھنوں؛ کوفتوں اور صبر آزمائی کے امتحان دینے پڑتے ہیں۔عورت کی حیات اور اس کی وجودی حیثیت پہ غور وفکر کریں تو دکھ درد کا ایک لامتناہی سلسلہ ہمارے ذہن ودل کو جھنجھوڑتا ہوا گزر جاتا ہے۔مرد بہت حدتک آزاد ہوتا ہے لیکن عورت ہر وقت ایک نیا اور دلکش جہاں آباد کرنے کی فکر میں رہتی ہےعصری سماج میں عورتوں نے بہت حدتک زندگی کے ہر میدان میں اپنی ذہنی صلاحیتوں اور نفاستوں کا اظہار مختلف صورتوں میں کیا ہے۔ سیاسیات؛سماجیات اور ادبیات کے شعبوں میں عورتوں کی دلچسپی اور ان کے کارہائے نمایاں اس بات کی روشن دلیل ہیں کہ وہ کسی بھی صورت میں مردوں سے کمتر نہیں ہیں۔صادقہ نواب سحر کا شمار بھی انہی باصلاحیت عورتوں میں ہوتا ہے جنھوں نے اپنی دیانتداری؛ہوشیاری؛    سنجیدگی محنت ولگن اور ذوق وشوق کے جذبے سے شرشار ہوکر نہ صرف اپنے گھر آنگن کو چار چاند لگائے بلکہ گوناگوں مسائل سے نمٹنے کے بعد شعر وادب میں بھی نام کمایا۔
            صادقہ نواب سحر 18 اپریل1959 کو بمقام گنٹور(آندھرا پردیش) میں پیدا ہوئیں ۔انھوں نے اردو میں ایم اے  اورپی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ علم وادب کے نئے آفاق معلوم کرنے کی چاہت میں ہندی اور انگریزی میں بھی ایم اے کی ڈگریاں حاصل کیں ۔اردو ادب کی دنیا میں وہ ایک ناول نگار؛افسانہ نگار ؛شاعرہ؛ڈراما نگار؛تنقید نگار؛مترجم  اور بچوں کی ادیبہ کی حیثیت سے معروف ہیں۔حیرت اس بات کی ہے کہ موصوفہ نے ان ڈھیر ساری ادبی اصناف پہ اس طرح اپنا تخلیقی تسلط جمایا ہے کہ اردو ادبی حلقوں میں ان کے ناولوں؛افسانوں ؛ڈراموں اور شاعری کو نہایت دلچسپی سے پڑھا جارہا ہے۔ادب سماج کا آئنیہ ہوتا ہے ؛اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے وہ اپنے سماج ومعاشرے میں وقوع پزیر حالات وواقعات اور حادثات کے علاوہ کچھ ایسے مسائل ومعاملات پہ مکالمہ کرتی نظر آتی ہیں جو تشویشناک بھی ہیں اور توجہ طلب بھی۔ایک خوشگوار اذدواجی زندگی کا سرتال برقرار رکھنے کی تگ ودو کے ساتھ ساتھ صادقہ نواب سحر بڑی جانفشانی سے اردو ادب کے گیسو سنوارنے میں جٹی ہیں ۔کسل مند اور باتونی مردوں کے لیے صادقہ نواب سحر کا یہ فعال ادبی کردار تازیانئہ ہوشربا کا درجہ رکھتا ہے۔1996 میں ان کا پہلا شعری مجموعہ"انگاروں کے پھول" منظر عام پر آیا؛جس کی اشاعت کے لیے انھیں مہاراشٹر اردو ساہتیہ اکادمی کا مالی تعاون حاصل رہا۔2003 میں ان کا بچوں کی نظموں پہ مشتمل مجموعہ"پھول سے پیارے جگنو"شائع ہوا۔صادقہ نواب سحر کو جس تخلیقی فن پارے نے شہرت ومقبولیت کی بلندیوں پر پہنچایا وہ ان کا ناول "کہانی کوئی سناو متاشا"ہے۔اس ناول کی پزیرائی اور کامیابی کے نتیجے میں کئی سرکاری اور غیر سرکاری اداروں نے مصنفہ کو انعامات واعزازات سے نوازہ۔ڈراما بینی اور ڈرامانگاری سے اپنی دلچسپی کا اظہار انھوں نے" مکھوٹوں کے درمیان"طبعزاد ڈرامائی مجموعے کی صورت میں کیا جو 2012میں  زیور طباعت سے آراستہ ہوکر ڈرامے کے شائقین کی توجہ کا مرکز بنا۔2013 میں صادقہ نواب سحر کے افسانوں کا مجموعہ"خلش بے نام سی" کے نام سے شائع ہوا اور2015 میں ان کا 356 صفحات پہ مشتمل ناول"جس دن سے" چھپا ۔صادقہ نواب سحر کے مذکورہ ناولوں اور شاعری کے بارے میں ہم آگے اظہار خیال کریں گے ۔اس سے پہلے یہاں مصنفہ کی ایک اور حیران کن ادبی جہت کو سامنے لانے کی ضرورت محسوس ہورہی ہے وہ یہ کہ   صادقہ نواب سحر بنیادی طور پر ہندی کی پروفیسر ہیں ۔کے ایم سی کالج؛کھپولی(ممبئی)ضلع رائیگڑھ؛مہاراشٹر میں ہندی درس وتدریس کے فرائض انجام دے رہی ہیں۔ہندی میں ان کی جو کتابیں چھپ چکی ہیں ان میں "پاوں کی زنجیر نہ دیکھ"(مجروح سلطان پوری کی کلیات کا ہندی میں ترجمہ ہے) 0 200 میں شائع ہوئی۔"لوک پریہ کوی مجروح سلطان پوری"( یہ مجروح کی غزلوں پہ مشتمل مجموعے کا ہندی میں ترجمہ ہے)"ہندی غزل---فکروفن"ایک طرح کا تحقیقی مقالہ ہے جو2007 میں کتابی صورت میں شائع ہوا۔" منت"(2012) افسانی مجموعہ ہے۔"ساہتیہ میں آلوچنا کی چنتا"ان کے تنقیدی مضامین کا مجموعہ ہے جو2012 میں شائع ہوا ۔صادقہ نواب کی تحقیقی؛تنقیدی اور تخلیقی نگارشات کی اہمیت وافادیت کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئے ان کا ترجمہ پنجابی؛تیلگو؛انگریزی؛مارواڑی اور مراٹھی میں کیا گیا۔یہ بات ان کی ادبی خدمات کا نہ صرف اعترافیہ ہے بلکہ بہت بڑا اعزازیہ بھی ہے۔صادقہ نواب سحر کے تحقیقی؛تنقیدی مضامین؛ افسانے ؛ غزلیں اور نظمیں "شاعر"سب رس" اردو دنیا"ایوان اردو"نیا دور"آج کل"انشا"ابجد"بزم سہارا"تکمیل"اسباق"تحریر نو"بے باک"جدید ادب"عالمی سہارا"اور "تکمیل"جیسے اردو کے معیاری رسائل وجرائد میں چھپ چکی ہیں۔علاوہ ازیں نصابی کتابوں میں ان کی نظمیں؛ڈرامے اور کہانیاں شامل کی گئی ہیں۔
          جہاں تک صادقہ نواب سحر کے ناول"کہانی کوئی سناو متاشا"کا تعلق ہے۔اس ناول کی سب سے بڑی خوبی بے ساختگی؛دلچسپی اور موضوعاتی انفرادیت ہے۔درمیانہ طبقے کی زندگی کو مصنفہ نے ناول کے مرکزی کردار متاشا کے ذریعے نہایت خوبی سے نبھایا ہے۔متاشا زندگی کی تلخیوں؛مشکلوں اور الجھنوں سے گزرنے کا حوصلہ رکھتی ہے۔عہد طفلی سے لے کر زندگی کے آخری پڑاو تک وہ اپنے خاندان والوں سے حسن سلوک سے پیش آتی ہے لیکن اسکے بدلے اسے بد سلوکیاں جھیلنی پڑتی ہیں۔افتخارامام صدیقی نے صادقہ نواب سحر کے ناول کو کہانیوں سے بنا ناول قراردیا ہے ۔وہ ایک جگہ لکھتے ہیں=
       "کہانی کوئی سناو متاشا"ایک طرح کا سوانحی ناول ہے اوراس
         میں اپنے بچپن؛جوانی کے ماہ وسال کو مختلف عنوانات کے
            ذریعے ایک دلچسپ کہانی کو متجسس پیرائے میں کیا بیان
         ہے۔اس طرح صادقہ نے صرف واقعات کو متاشا کے ذریعے قلم
        بند کیا ہے۔کردارآزادانہ طور پر خود کو بیان کر رہی ہے۔یہ بھی
         ناول کا رنگ وصف ہے۔اس میں مختلف شہروں میں علیگڑھ؛
          ممبئی؛کھنڈالہ؛لوناولہ وغیرہ شہر اور علاقے اپنے آب وہوا اور
        تہزیب کے ساتھ متاشا کا بیانیہ بنے ہیں"
   (۔کہانیوں سے بناناول ۔مشمولہ؛ کہانی کوئی سناو متاشا(ایجوکیشنل پبلشنگ ہاوس دہلی2014)ص10
      صادقہ نواب سحر نے ایک نئی تکنیک میں مزکورہ ناول کو ترتیب دیا ہے ۔زیر نظر ناول میں دراصل مختلف کہانیوں کے عنوانات کو ایک مرکزی کردار‛ متاشا‛ سے اس طرح منسلک کیا ہے کہ ناول ایک واقعاتی اور فنی ارتقا کے ساتھ اختتام کو پہنچ کر قاری کے ذہن ودل پہ ایک گہرا تاثر مرتسم کرتا ہے۔اس ناول میں پیش کیے گئے کرداروں کی گفت وشنید اور ان کی حرکات وسکنات سے کہیں نفرت اور کہیں محبت کا تاثر ابھرتا ہے ۔زبان وبیان کے برتاو میں اگر چہ کہیں کہیں مراٹھی الفاظ در آئے ہیں لیکن سیدھی سادی زبان میں پورے واقعات کا ربط وتسلسل قائم رکھنے کی بھر پور کوشش کی گئی ہے۔
           صادقہ نواب سحر کا ایک اور ناول"جس دن سے" عنوان کے لحاظ سے ہی متجسس ہے۔یہ ناول 2016 میں اشاعت پزیر ہوا ہے۔اس ناول میں جیتیش نام کے ایک ایسے لڑکے کی کہانی بیان کی گئی ہے جو عہد طفلی سے عہد شباب تک تکلیفوں اور مصیبتوں کا شکار رہا۔ایک نچلے متوسط طبقےسے تعلق رکھنے والے اس ناول کی کہانی میں ہمیں ممبئی کا ماحول دکھتا ہے۔جتیش نام کا لڑکا ابھی ساتویں کلاس میں ہوتا ہے کہ اسکے والدین کا اذدواجی بندھن ٹوٹ جاتا ہے ۔ماں کے ہمراہ اس کا بڑا بھائی نکھل چلا جاتا ہے اور وہ اپنے باپ کے پاس رہ جاتا ہے۔باپ ایک آوارہ قسم کا آدمی ہوتا ہے۔ وہ پہلے ایک عورت کوگھر لاتا ہے اور پھر دوسری عورت کو۔جیتیش دونوں عورتوں سے متنفر رہتا ہے کیوں کہ وہ ان کو اپنی ماں تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا ہے۔سن بلوغت کو پہنچنے سے پہلے ہی اسے بہت خراب ماحول ملتا ہے۔ماں کی ممتا اور شفقت پدری سے محرومی کے سبب اسے تعلیم ترک کرنا پڑتی ہے۔اس کا بڑا بھائی نکھل بھی اعلیٰ تعلیم حاصل نہیں کرپاتا ہے۔جب جیتیش باپ سے لڑنے کے بعد ماں کے پاس جاتا ہے تو وہاں بھی اس کو ماں کا پیار نصیب نہیں ہوتا کیونکہ ماں کا تعلق کسی دوسرے مرد سے ہوچکا ہوتا ہے۔وہ نوکری بھی کرتی ہے اور دوسرے مرد کے گھر کو بھی دیکھتی ہے۔چناں چہ جیتیش تنہا زندگی گزارنا چاہتا ہے۔ وہ اپنی زندگی سے اس قدر بیزار ہو جاتا ہے کہ خودکشی پہ آمادہ ہوجاتا ہے۔وہ خودکشی کی کوشش کرتا ہے لیکن اسے بچالیا جاتا ہے۔جیتیش کا وہ زمانہ کہ جو اسکے لیے کالج میں گزرنا چاہیئے تھا کال سینٹر کی نوکری میں گزرتا ہے۔ماں باپ کا دلار نصیب نہ ہونے کی صورت میں وہ احساس کمتری کا شکار ہوجاتا ہے۔زندگی کے آخری پڑاو پر وہ اپنی محنت ولگن اور کوشش پیہم سے ایک وکیل بننے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔غرضیکہ زندگی کے سفر میں جیتیش جہاں اپنے والدین کی شفقت سے محروم رہتا ہے تو وہیں اسے اور کوئی بھی مونس وغمخوار  نہیں ملتا جواسے سچی محبت دے ۔
        صادقہ نواب سحر کا ناول"جس دن سے" اپنے موضوع اور مواد کے اعتبار سے کثیرالجہات کہا جاسکتا ہے کیونکہ زیر نظر ناول میں  مصنفہ نے ہمارے معاشرتی نظام کی خرابیوں پہ مختلف انداز میں گہرا طنز کیا ہے۔ایک طرف والدین اپنی اولاد کو لخت جگر کہتے ہیں تو دوسری جانب انھیں صرف اپنی خوشی عزیز ہوتی ہے۔اپنی خوشی کی خاطر وہ اولاد کی پرواہ نہیں کرتے۔دوسرا مسلہ اس ناول میں یہ ابھارا گیا ہے کہ جدید ترقی یافتہ معاشرے میں جنسی بے راہ روی کا گراف کافی بڑھ چکا ہے اور یہ جنسی بے راہ روی نہ صرف نوجوان نسل میں عام ہے بلکہ ہر عمر کے لوگ اس بری روش کو اپنائے ہوئے ہیں۔شوہر بیوی کے مقدس رشے میں وہ پائداری نہیں رہی جو کسی زمانے میں ہوا کرتی تھی ۔اب بیوی ؛شوہر پہ شک کرتی ہے اور شوہر بیوی پر ۔  سچی محبت کے فقدان کو اس ناول کی تیسری جہت کہا جاسکتا ہے؛کیونکہ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ایک  دوسرے سے محبت کاڈھونگ محض اس لیے رچاتے ہیں کہ انھیں ایک دوسرے سے جنسی تلذذ حاصل ہو۔ اس ناول میں قابل حیرت بات یہ بھی ہے کہ کسی زمانے میں لڑکا بہت سی گرل فرینڈز رکھتا تھا ۔لڑکیوں کے جذبات سے کھیلنا اس کے لیے بڑی آسان بات تھی لیکن ا س ناول  میں یہ روایت بالکل بدلی ہوئی معلوم ہوتی ہے یعنی اب ایک لڑکی کئی بوئے فرینڈز رکھتی ہے۔وہ انھیں باری باری بے وقوف بناتی ہے اور پھر اس کے پاس چلی جاتی ہے جو سب سے زیادہ سرمایا دار ہوتا ہے۔جیتیش کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ پیش آتا ہے۔وہ بھی سچی محبت کرنے والی لڑکی کے لیے ترستا رہا۔صادقہ نواب سحر نے مذکورہ ناول میں اس مسلے کو بھی ابھارنے کی بہتر کوشش کی ہے کہ عصری سماج میں اذدواجی رشتوں میں بے مہار آزادی کے سبب دراڑیں پڑ رہی ہیں۔مرد ایک بیوی پہ قناعت نہیں کرتا ۔وہ پہلی بیوی سے اوب جانے کے بعد دوسری ڈھونڈنے لگتا ہے اور بیوی بھی اپنے شوہر سے نالاں رہنے کی صورت میں کسی دوسرے مرد کے ساتھ ناجائز تعلقات استوار کرلیتی ہے۔بہرحال صادقہ نواب سحر کے ذہن ودل میں سماجی برائیوں اور حیات وکائنات کی صداقتوں کو قصہ کہانی بنانے کی للک موجود ہے۔ان کے ناولوں اور افسانوں کا مطالعہ کرنے کے دوران یوں معلوم ہوتا ہے کہ جیسے وہ کسی اونچی کگار پہ بیٹھی ایک ایسے ماحول ومعاشرے کا معائنہ کررہی ہیں جو معاشرہ بے حسی اور بےراہ روی کا شکار ہے۔ 
             جیسا کہ اس بات کا ذکر ہوچکا ہے کہ صادقہ نواب سحر کی ادبی شخصیت مختلف جہات کی حامل ہے ۔ ان کی محققانہ اور ناقدانہ صلاحیتوں کااعتراف اہل نقد ونظر نے کیا ہے۔ وہ فکشن نگار تو ہیں ہی ؛ایک شاعرہ کی حیثیت سے بھی ادبی حلقوں میں اپنی شناخت بنانے میں کامیاب ہوئی ہیں۔ان کی شاعری میں ہمیں عورت کا ایک آدرش روپ ملتا ہے۔وہ فرماں بردار بیوی؛ پاکدامن عورت اور محبت کے جزبے سے سرشار خاتون کی حیثیت سے مرد کی برتری سے انکار نہیں کرتی ہیں۔وہ اپنے رفیق حیات کے سارے دردو غم اپنے دامن میں سمیٹ لینے کو تیار ہیں۔ان کے کلام میں نسوانی جذبات کی صداقت اور خلوص بیکراں کی قوس قزح کے رنگ دکھائی دیتے ہیں۔یا یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ ان کی شاعری ایک دلربا نغمہ ہے جس میں ایک جہان نو کی تعمیر وتلاش کی جستجو بھی ہے اور ایک ایسے غمگسار کا انتظار بھی جو ہر قدم پہ ساتھ نبھائے؛دل کے نہاں خانوں میں جھانکے اور حقیقی محبت کا شناور ہو۔چناں چہ صادقہ نواب سحر کی کئی غزلیں ایسی ہیں جن میں وہ اپنے محبوب سے ہمکلام بھی ہوتی ہیں اوراسے آزمانا بھی چاہتی ہیں۔مثلا"چند اشعار ملاحظہ ہوں---
                                         کوئی ہمدرد ؛کوئی غمگسار ملے
                                        زندگی بخش  دے  وہ یار       ملے
                                       غم شناسا   نہ  جاں  نثار         ملے
                                                   --------
                      جستجو کی ہے بہت  ہاتھ    نہ آیا  کچھ بھی
                    دل دیا جان بھی دی پھر بھی نہ پایا کچھ بھی
                     میں نے دل کھول کے رکھا ہے تمہارے    آگے
                   تم نے لیکن  مجھے   اب  تک نہ بتایا  کچھ بھی
                                                              ---------
                     آج تک اک بے وفا سے  کیوں    وفا  کرتے رہے
                      آج سوچا تو یہ سمجھا ہم  خطا کرتے رہے
                     دکھ ملے سب سے ہمیں ہم نے سبھی کو سکھ دیا
                      اس طرح ہم زندگی کا قرص ادا کرتے   رہے
                                                             ---------
            لیکن اسکے باوجود اپنے دلبر کی خاطر اپنی جان نثار کرنے کا جذبہ بار بار عود کر آتا ہے۔اس کے ارمانوں اور خوشیوں کا خیال اس قدر شدید ہے کہ سب تکلیفیں خود برداشت کرنے کو تیار رہتی ہیں۔وارفتگی کا یہ انوکھا انداز بڑا ہی متاثر کن ہے اور ایک عام عورت کے لیے قابل نصیحت بھی۔ صادقہ نواب سحر اپنے محبوب سےاس طرح مخاطب ہیں۔
                     سنگ ترے جب چلتی ہوں تو سب کچھ اچھا لگتا ہے
                 اتنا بتا دے مجھ کو دلبر تجھ  کو کیسا    لگتا       ہے
                     تیرے رہنے تک ہی دل میں خوشیوں کا تھا شور بہت
                    تجھ بن میرے دل کا آنگن سونا  سونا    لگتا  ہے
                                                      ------------ٰ
             صادقہ نواب سحر کے شعروں کی خوب صورتی اس بات میں ہے کہ ان کے یہاں نسوانیت عورت ذات تک محدود نہیں رہ جاتی بلکہ نسائی زاویہ فکر اور طرز اظہار واحساس متعدد سطحوں پر پھیلتا ہے۔سحر کے یہاں اپناپن اور اپنا سا دیانتدارانہ رویہ ہے ۔ جوموجودہ خواتین شعرا سے جداگانہ ہے۔وہ شاعری کو اپنے جذبات وتصورات کے اظہار کاایک موثر ذریعہ سجمھتی ہیں اور اپنے مچلتے ارمانوں؛خوابوں اور امنگوں سے آگاہ کرنا اپنا فرض منصبی خیال کرتی ہیں۔ان کے کلام سے یہ لگتا ہے کہ وہ اپنے محبوب کی پجارن ہیں اور اپنی شاعری کے ذریعے اس کی محبت کا راگ الاپنا چاہتی ہیں تاکہ دل میں تھوڑا سکون ملے اور درد محبت میں ذرا سا افاقہ ہو۔
          آخر پر اس بات کا اظہار لازمی معلوم ہوتا ہے کہ صادقہ نواب سحر ملازمت ؛اذدواجی مسائل اور گھریلو ذمہ داریوں کو احسن طریقے پر نبھانے کے ساتھ ساتھ چمنستان ادب میں نئے نئے گل کھلارہی ہیں۔اردو ادب میں قرتہ العین حیدر کی طرح کچھ اور بھی خواتین ہیں جن کا بہت بڑا نام ومقام ہے لیکن یہ خواتین اذدواجی زندگی سے پرے رہ کر ادب کی خدمت کرتی رہیں ۔ کمال یہ ہے کہ ایک شادی شدہ خاتون بہت سے گھریلو مسائل اور معاملات کو انجام دینے کے بعد ادب کی خدمت کرے یہ بڑی بات ہے***
                          .                            ---*----*-----*
      Dr Mushtaq Ahmed wsni
    Lane No 3  House No 7 Firdousabad
     Sunjwan Jammu (JK) 180011
     Mobile No . 09419336120
      Email.drmushtaqahmedwani@gmail.com                                  
 

 مضامین دیگر 

Shahnaz
Bht khoob
2017-07-26 10:23:18

Comment Form