11 Jul, 2017 | Total Views: 280

پیغام آفاقی کا ناول ’’مکان‘‘:چند سماجی و سیاسی سروکار

ڈاکٹر محبوب حسن

پیغام آفاقی کا شمارعصر حاضر کے ان اہم فکشن نگاروں میں ہوتا ہے،جنہوں نے اپنے فکروفن کی بنیاد پر ایک نئی تخلیقی راہ ہموار کی۔در اصل پیغام آفاقی نے اپنے سلگتے ہوئے جذبات و احساسات اور اپنے عمیق مشاہدات کو فکشن کا روپ دیا ہے۔ انہوں نے اردو افسانہ اور ناول دونوں میدانوں میں اپنے فن کا لوہا منوایا۔ان کے متعدد افسانوی مجموعے منظر عام پر آچکے ہیں۔ ’’مکان‘‘اور’’پلیتہ‘‘ ان کے دو اہم ترین ناول ہیں۔انہوں نے اپنے دونوں ناول کے توسط سے موضوعات و مسائل اور افکارو نظریات کے نئے دریچے وا کیے ہیں۔’’ایک پھول کا مضمون ہو تو سو رنگ سے باندھوں‘‘ کے مصداق پیغام آفاقی نے انسانی زندگی کے عام مسائل کو ایک نئے تیور اورتخلیقی جدت پسندی کے ساتھ پیش کیاہے۔ ان کی تخلیقات میں حالات حاضرہ کی سنگینی اور مستقبل کے امکانات کا عرفان نظرآتاہے۔ان کا شہرۂ آفاق ناول ’’مکان‘‘ اس کا بھرپور جواز پیش کرتا ہے۔ پیش نظر ناول عصر حاضر کی سماجی،سیاسی،تہذیبی اور اقتصادی صورت حال کو زوال پذیر انسانی قدروں کی روشنی میں بے نقاب کرتا ہے۔ناول ’’مکان‘‘ انسانی زندگی کی پستی،بے بسی، انتشار،بدعنوانی،بداخلاقی اوربے راہ روی کی مختلف پرتوں کوکھولتا ہے۔واضح رہے کہ پیغام آفاقی انسانی زندگی کے عصری سیاق سے کبھی غافل نہیں رہے۔یہی وجہ ہے کہ ان کے فن پارے میں سماجی،سیاسی اورتہذیبی سروکار کے گہرے نقوش نظر آتے ہیں۔
ایک فن کار /ادیب سماج کا حساس ترین فرد ہوتا ہے۔اس کے تجربات و مشاہدات کسی ادب پارے میں ڈھل کر اس کے سماجی و سیاسی منصب و ذمہ داری کو شعوری یا غیر شعور طور پر سامنے لاتے ہیں۔ادیب قلم کا سپاہی ہوتا ہے۔اس کے لیے قلم کی عظمت و حرمت کی حفاظت اولین شرط ہے۔اس لیے تخلیق کار کے ذہن پر فکر کے پہرے بٹھانا غیر منطقی اور غیر فطری ہے۔کسی بھی رجحان /تحریک سے ذہنی مناسبت یاوابستگی میں کوئی قباحت نہیں لیکن کسی فکری یا نظریاتی رویے سے مرعوب ہونا درست نہیں۔پیغام آفاقی کبھی بھی کسی فکری و فنی رجحانات/ میلانات سے مرعوب نہ ہوئے۔انہوں نے ہمیشہ ہی ذہنی آزادی کے ساتھ انسانی زندگی کے ناسور پر اپنے نشتر چلائے۔ان کے یہاں روایت شکنی کا حوصلہ ملتا ہے۔ان کی تخلیقات دعوت فکردینے کے ساتھ ساتھ بعض اہم سوالات بھی قائم کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے تخلیقی سرمائے میں ٹوٹتی بکھرتی انسانی قدروں اور سماج کے سڑتے گلتے زخموں کی آنچ محسوس ہوتی ہے۔ان کاناول ’’مکان‘‘موضوعاتی جکڑبندی اور فکری جبر کے خلاف مضبوط ترین ہے۔زیر مطالعہ ناول میں انہوں نے ظلم و استحصال کی ایک نئی تعبیر پیش کرتے ہوئے جدید شہری معاشرے کی گھٹن و تلخی اورسماج کے مسخ چہرے سے پردہ اٹھایا ہے۔ وہ پولیس محکمے سے وابستہ رہے۔انہوں نے قریب سے اس محکمے کے کھوکھلے پن کا مشاہدہ کیا تھا۔ان کے ناولوں و افسانوں کے واقعات وکردار بھی ان کے عمیق مشاہدے اورگہرے تجربات کا ٹھوس ثبوت پیش کرتے ہیں۔ناول ’’مکان ‘‘ میں نیرا،اشوک، کمار اور الوک جیسے کردار ناول کے پلاٹ کی ترنگوں پر ہچکولے کھاتے ہوئے سماج و معاشرے کی قابل رحم صورت حال کی نہایت حقیقی تصویریں سامنے لاتے ہیں۔ 
اردو ناول میں ظلم و استحصال کوئی نیا موضوع نہیں۔اس موضوع پر خاصی تعداد میں ناول لکھے گئے۔غور طلب بات یہ ہے کہ قلم کارکی پیش کش کا رویہ کیا ہے؟ ۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ کسی خاص مقصد ونظریے کے تحت کوئی ناول لکھا گیا ہے۔ ترقی پسند تحریک کے مفکرین ونظریہ ساز نقادوں نے سماج کو دو طبقے میں تقسیم کیا ہے۔اس تحریک کے اشتراکی نظریے کی بنیاد پر سرمایہ دار طبقے کو ظالم او ر پسماندہ وغریب طبقے کو مظلوم قرار دیا گیا ہے۔ترقی پسند تحریک کی تخلیقی عمارت اسی اساس پر ٹکی ہوئی ہے ۔ منشی پریم چند کا ’’گؤدان‘‘ اس کی بہترین مثال ہے۔پیغام آفاقی نے اپنے ناول ’’مکان‘‘ کے ذریعہ اس روایتی بت کو توڑنے کی شعوری کوشش کی ہے۔اس ناول میں پہلی بار ایک سرمایہ دار یعنی مکان مالک کو بطور مظلوم اور کرایہ دار کو ظالم کی شکل میں پیش کیا گیا ہے۔یہ سب کچھ وقت وحالات کی تبدیلی اور جدید نظام زندگی کے بدلتے ہوئے پیمانے کا نتیجہ ہے۔ 
پیغام آفاقی نے شہر کی بے روح زندگی،سماجی بے راہ روی،اخلاقی زوال،اقتصادی بدعنوانی،جنسی پامالی،ظلم و استحصال اورسیاسی جبر وغیرہ کو خوبصورتی سے اپنے تخلیقی سانچے میں ڈھالا ہے۔انھوں نے موضوع کی مناسبت سے کرداروں کو خلق کیا ہے۔ان کرداروں کی حرکت و عمل سے ناول میں جان سی پڑ گئی ہے۔ناول کی ہیروئن ’’نیرا‘‘ میڈکل کی ذہین طالبہ ہے۔وہ اپنی بوڑھی و بیمارماں کے ساتھ اپنے ذاتی مکان میں رہتی ہے۔کمار نامی شخص اس کا کرایہ دار ہے۔وہ ’’نیرا‘‘ کے مکان کوناجائز طریقے سے ہڑپنا چاہتا ہے۔اس کے لیے وہ ہر ممکن کوشش بھی کرتا ہے۔ناول کے دوسرے اہم کرداروں میں اشوک ،الوک اور نیّروغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔
اشوک شہر کا ایک پراپرٹی ڈیلر ہے۔وہ ایک بد اخلاق اور مادہ پرست انسان ہے۔جرائم پیشگی،مادہ پرستی اورصارفیت اس کے خون میں شامل ہے۔اس کے نزدیک اخلاقی قدروں کی کوئی اہمیت نہیں۔وہ نیرا کے مکان پر ناجائز قبضہ کرنے کے لیے کمار کو ہر طرح کے وسائل فراہم کرتا ہے۔الوک شہر کا ایک اسسٹنٹ کمشنر آف پولس ہے۔وہ نیرا کی سہیلی سرلا کا مامو زاد بھائی ہے۔الوک سے نیرا کی ملاقات اس کی سہیلی سرلا کے توسط سے ہوتی ہے۔وہ ایک نیک دل اور اخلاق مندکردار کے بطور ہمارے سامنے آتا ہے۔لیکن جلد ہی معاشرے کی بے راہ روی اوربدعنوانی اسے اپنا شکار بنا لیتی ہے۔شراب اور شباب کی بری لت میں پڑ کر الوک جیسا فرشتہ صفت انسان بھی زندگی کے عظیم مقاصد سے بھٹک جاتا ہے۔پیغام آفاقی نے ان کرداروں کی بنیادپرہی اپنے ناول کی عمارت کھڑی کی ہے۔
بظاہر اس ناول کا موضوع ایک مکان ہے۔لیکن اس مکان کے پس پردہ شہر کی بے روح زندگی،ٹوٹتی بکھرتی انسانی و اخلاقی قدریں اورظلم واستحصال کی ایک جیتی جاگتی دنیا آباد ہے۔ناول کا ابتدائی جملہ ’’یہ ایک سنگین مسئلہ تھا ۔نیرا کا مکان خطرے میں تھا۔‘‘ہی قاری کے ذہن میں تجسس پیدا کرتا ہے۔نیرا نامی ایک تنہا لڑکی کو اپنا مکان بچانے کے لیے پرخطر راہوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ مکا ن نہیں بلکہ اس کے وجود کا حصہ ہے۔وہ قدم قدم پر خطرناک اور اندھی قوتوں سے ٹکراتی ہے۔اشوک اور الوک جیسے طاقت ور لوگ اپنی تمام تر کوششوں کے باوجودنیرا کے سامنے مجبور محض ثابت ہوتے ہیں۔در اصل نیرا کی جیت حیات وکائنات کی جیت ہے۔اور اس فتح سے نیرا کی زندگی کی نہ جانے کتنی خوشیاں اور کیسے کیسے حسیں خواب وابستہ تھے؟نیرا کمار کی حرکتوں سے اس کی گندی نیت کو جلد ہی بھانپ لیتی ہے۔اس کے دل کی آہٹ ملاحظہ ہو:
’’جب اسے یہ محسوس ہوا کہ کمار اپنی دولت کی ان دیکھی قوتوں کا سہارا لے کراس کے پورے مکان کو ہڑپ لینا چاہتا ہے تو وہ گھبرا گئی۔پھر جب اس نے کمار کے قدموں کو روکنے کی کوشش کی اور لوگوں کے پاس مدد کے لیے گئی تو دیکھا کہ تمام لوگوں کے چہرے اور تمام چیزوں کے رنگ بدلنے لگے تھے۔اسے اپنے سامنے کی حقیقت پر خواب کا سا گمان ہوااور اسے لگا کہ اس کے مکان کی چھت اب آسمان تک اٹھ گئی تھی۔اور اس کی دیواریں افق تک بھاگ گئی تھیں۔‘‘
)مکان،پیغام آفاقی، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس ،دہلی،۲۰۰۴،ص:۶۵(
مذکورہ اقتباس کے آئینے میں زمانے کی بے حسی و ستم ظریفی کو محسوس کیا جا سکتا ہے۔ اس ناول میں ظلم و استحصال کی کئی شکلیں و کئی روپ نظر آتے ہیں۔ نیرا کا مکان در اصل اس کا ضمیر ہے۔مکان کا تعلق براہ راست اس کی زندگی اور اس کے وجود سے ہے۔وہ کسی بھی قیمت پر مکان کو کھونا نہیں چاہتی۔افسوس کا مقام ہے کہ کس طرح سے پورا زمانہ اس کے خلاف ہو جاتا ہے۔پیغام آفاقی اپنے اس ناول کے ذریعہ نام و نہاد مہذب معاشرے کو آئینہ دکھلایا ہے۔نیرا جب اپنے مکان کی حفاظت کو چیلنج کے طور پر لیتی ہے تو اس کی آواز کو دبانے کی ہر ممکن سعی کی جاتی ہے۔کبھی اسے جان سے مارنے اور اغوا کی دھمکی دی جاتی ہے تو کبھی انتظامیہ و عدلیہ کا خوف دکھا کر اس کے بڑھتے قدم کو روکنے کی کوشش کی جاتی ہے۔اس جدو جہد اور کشمکش میں سارا معاشرہ ننگا نظر آتا ہے۔
پیغام آفاقی کے اس ناول سے جدید زندگی کی زوال پذیر اخلاقی قدریں،بے چہرگی،لاقانونیت،انتشار،بد امنی اورخوف وغیرہ مترشح ہے۔کمار اور اشوک کی ہزار دھمکیوں کے باوجود نیرا کے قدم نہیں ڈگمگاتے۔وہ زمانے کی ستم ظریفی اور ناانصافی کے خلاف لڑنا اپنی زندگی کا اہم مقصد قرار دیتی ہے۔کمار، اشوک کی مدد سے نیرا کے مضبوط ارادے وحوصلے کوکچلنا چاہتا ہے۔لیکن نیرا معاشرے و زمانے کی تمام تراندھی قوتوں کے خلاف ایک مضبوط ترین آواز بن کر ابھرتی ہے۔حق و باطل کی اس جنگ میں کمار اور اشوک جیسے لوگ اپنی طاقت کے باوجود بونے ثابت ہوتے ہیں۔ ناکامی کے احساس سے وہ انتہائی حد تک خوف زدہ ہوتے ہیں۔اشوک کمار کو مشورہ دیتے ہوئے کہتا ہے:
’’دیکھو کمار۔۔۔یہ لڑکی تو ایسے مانے گی نہیں۔تم کو میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ کچہری و چہری سے وہ نہیں دبے گی۔ اس قسم کے لوگوں کا ایک ہی علاج ہے ۔سیدھی بات یہ کہ اب ایک بار جم کر کچھ ہو جائے اور اس کو اس کی اوقات کا احساس کرا دیا جائے ورنہ یہ سالی چھوکری بہت اچھل کود کرے گی۔کچھ آدمی بلاؤ،اور اس کا وہ کمرا جس میں وہ رہتی ہے اس کو بھی خالی کرا کے اس کی چھٹی کرو،پہلے تو اس سے مار پیٹ کرو ادو سڑک پر ،پھر تھانے جائے گی ۔وہاں اس کی رپورٹ نہیں درج ہونی چاہیے ، چاہے اس کے لیے جو کرنا پڑے۔۔۔اس کے بعد دوبارہ پھر پٹائی کراؤ، اگر نہیں بھاگتی ہے تو پھر پٹائی کراؤ،ضرورت پڑے تو اس کو بند کراؤ،اپنے بھی کچھ آدمی بند ہونے دو،۔۔۔نہیں مانتی تو سالی کو اٹھوا لو۔۔۔اور اس کے ساتھ بلیو فلم بنوا لو اور ۔۔۔اسٹامپ کاغذ پر دست خط کروا لو۔۔۔یہ سب اتنا زیادہ کرو کہ یہاں رہنے کے بجائے وہ اپنے گھر تالا لگا کر چلی جائے۔(ایضاً،ص:۲۸۷(
ایک ادیب معاشرے کا حساس فرد ہوتا ہے۔وہ اپنے عہد کی تلخی و کڑواہٹ کو اپنے فن پارے میں پیش کرتا ہے۔اس کی تخلیقات میں سماج و معاشرے کی ٹیڑھی میڑھی لکیریں پڑھی جا سکتی ہیں۔منٹو نے اپنے زمانے کی اسی تلخی کو عورت کی گھایل روح کی شکل میں پیش کیا۔ہزار لعن طعن کے باوجودوہ ایک حساس اور بے باک قلم کار کے بطوراس بات پر اڑا رہا کہ اس کی تحریروں میں پائی جانے والی برائیاں دراصل معاشرے کی بے راہ روی و بد عنوانی کی پرچھائیاں ہیں۔یہی خوبی فن کار کو زندہ رکھتی ہے۔پیغام آفاقی نے بھی ایک بے سہارااور بے دست و پا لڑکی کی گھایل روح کوگویائی عطا کی ہے۔یہ ناول عصری اور شہر کی جدید زندگی کی پیچیدگی اور سفاک حقیقت کو آشکارا کرتا ہے۔ناول کے مسائل اور کردار کی پیش کش کے پس پردہ ناول نگار کا کوئی خاص نقطۂ نظرکارفرماء ہے۔ بلا شبہ اس ناول میں جبرو تشددکی عکاسی کی گئی ہے۔لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ اس کی نوعیت کیا ہے؟ناول کی قرأت ہمیں بتاتی ہے کہ روایت سے قطع نظر یہاں نیرا نامی ایک نسوانی کردارطبقۂ نسواں کا نمائندہ بن کر ابھرتا ہے۔اس کا نسائی و تانیثی رویہّ مرد اساس معاشرے کے خلاف احتجاج و مزاحمت کی علامت بن گیا ہے۔ 
اس سیاق میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پیغام آفاقی نے ایک تنہا لڑکی اس قدر مجبور ولاچار بنا کرکیوں پیش کیا ہے؟در حقیقت وہ سماج کے ظلم و استحصال اور چیرہ دستیوں کی شدت کو پیش کرنا چاہتے ہیں ۔وہ نیرا کے ذریعہ خواتین طبقے کو ضمیر وخودی کی بیداری،ذہنی آزادی،قوت و آگہی اور اپنے حقوق کی بازیافت کا پیغام دینا چاہتے ہیں۔پیغام آفاقی کی نیرا کسی داستان یامثنوی کی ہیروئن نہیں ہے جوناسازگار حالات میں آنسو بہائے۔بلکہ وہ عصری حالات و مسائل کی پروردہ ایک ایسی خاتون ہے جو ہواؤں کا رخ موڑنے کی طاقت رکھتی ہے۔ اس کے اندر زمانے کے سردوگرم اور نشیب وفراز سے آنکھ ملانے کا حوصلہ و قوت ہے۔وہ کسی صورت میں زندگی سے فرار نہیں چاہتی۔وہ ’’ٹیڑھی لکیر‘‘ کی ہیروئن سے کہیں زیادہ باشعور و ترقی پذیر کردار ہے۔ اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ نیرا وقت اور حالات کی بدلتی ہوئی آواز ہے۔اوریہ آواز ہمیں دعوت فکر کے علاوہ دعوت عمل بھی دیتی ہے۔
پیغام آفاقی نے شہری معاشرے کی چیرہ دستیوں،حاکم طبقے کی شاطرانہ حرکتوں،عدلیہ وانتظامیہ کی بد نظمی وغیرہ کی کئی پرتیں کھولی ہیں۔اس ناول کی ہیروئن کی بے بسی و لاچاری میں در حقیقت انسانی معاشرے کی بے بسی و لاچاری جھلکتی ہے۔انھوں نے اس ناول میں شہر کی گھناونی زندگی پر کڑی تنقید کی ہے،جہاں انسانی سماج کئی طبقے میں بٹا ہوتا ہے،جہاں کوئی کسی کا پرسان حال نہیں ہوتا۔یہ ناول وہاں کی بظاہر خوشنما اور پر کشش زندگی کی تہہ میں پوشیدہ گھٹن ،مفاد پرستی،مایوسی،تنہائی،بے بسی،مکروفریب اور کراہیت وغیرہ کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ اس کے برعکس گاؤں کی زندگی آج بھی اطمینان بخش اور پرسکون ہے۔وہاں انسانی ہمدردی ، بھائی چارگی اور امن و آشتی کا دیا روشن ہے۔’’مکان‘‘ کے کردار ان تمام ترسچائیوں اور تلخ حقائق کوروشن کرتے ہیں۔جب کمار مکان کے لالچ میں نیرا کو زدوکوب کرنا شروع کرتا ہے تو وہ انصاف کی غرض سے عدلیہ و انتظامیہ کا رخ کرتی ہے۔ایسے میں کچھ لوگ اس کی مدد کی خاطر ضرور سامنے آتے ہیں۔نیرا کئی لوگوں سے فریاد بھی کرتی ہے۔لیکن کمار اور اشوک جیسے لوگوں کے اثر اور دبدبے کے آگے سب کے سب مجبور اور لاچار ثابت ہوتے ہیں۔انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ اس کے پڑوسی بھی اس کی مدد کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔اتنا ہی نہیں کمار و اشوک کے دباؤ وبہکاوئے میں آکر نیرا پر بد چلنی کا الزام بھی لگاتے ہیں۔ اقتباس پیش خدمت ہے:
’’اب یہ گھر کوٹھا بن گیا ہے۔کیا بہترین صوفہ سیٹ ہے۔اور پورا کمرا کتنے قرینے سے سجا ہوا ہے۔تم پریشان ضرور ہو لیکن اس پریشانی سے نکلنے کا بھی خوب طریقہ ڈھونڈا ہے۔پریشان لوگ اپنے محلے کے لوگوں سے اپنا دکھ بیان کرتے ہیں۔اس طرح کی لاپرواہی کا مظاہرہ نہیں کرتے۔ ہمیں بے وقوف سمجھ رہی ہو؟یہ ضرور تمہارا گھر ہے لیکن محلے سے باہر تو نہیں ہے۔یہ مکان بھی تو اسی محلے کاایک حصہ ہے اور تم بھی محلے کا ایک حصہ ہو۔یہاں رہنا ہے تو ٹھیک سے رہو۔‘‘(ایضاً،ص:۱۲۱
لفظ’’کوٹھا ‘‘ سنتے ہی نیرا کے پاؤں سے زمین کھسک جاتی ہے۔اس کا پورا وجود کانپ جاتا ہے۔حیرت و افسوس کی بات یہ کہ انسپیکٹر نیّرکی موجودگی میں یہ سب کچھ ہوتا ہے۔جدو جہد کی اس راہ میں اس کی ملاقات کئی طرح کے لوگوں سے ہوتی رہی۔ انسانی شکل میں کئی ایسے بھیڑیے بھی ملے جنھوں نے مدد دینے کے بدلے میں اسے بستروں پر مدعو کیا۔نیرا نے اپنے مضبوط ارادوں اور بیدار ضمیرکی بنا پر خود کو جنسی استحصال سے محفوظ رکھا۔ غور طلب بات یہ ہے کہ ایسے کسی بھی ظلم وجبر کے لیے صرف حکومت ذمہ دار نہیں ہوتی بلکہ بڑی حد تک ہمارا معاشرہ بھی جواب دہ ہے۔کیوں کہ حکومت کے کسی بھی معاملے میں بل واسطہ یابلا واسطہ طور پر سماج و معاشرے کا دخل ہوتا ہے۔ اس سیاق میں پیغام آفاقی کا یہ ناول عصری انسانی معاشرے کے گال پر ایک زور دار طمانچہ ہے۔انھوں نے اس جبرسے نہ صرف پردہ اٹھایا ہے بلکہ اس کا مداوبھی پیش کیا ہے۔
یہ سچ ہے کہ آج کی اس بھاگ دوڑ بھری زندگی میں مادہ پرستی انسانیت کے جذبے کو نگلتی جا رہی ہے۔انسانی قدریں رو بہ زوال ہیں۔ایسے میں تمام تر سرکاری ادارے بد نظمی و بد عنوانی کا شکار ہیں۔عدلیہ اور انتظامیہ کی نااہلی کے باعث شریف انسان بھی غلط راہ اختیار کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔پیغام آفاقی نے ناول کے پلاٹ و کرداروں کے توسط سے ان تمام تر مسائل کو اپنے طنز کا نشانہ بنایا ہے۔یہ ناول پولس محکمے کے داخلی انتشار اوربے راہ روی کو نمایاں کرتے ہوئے ہمیں یہ باور کراتا ہے کہ پورا کا پورا سماجی ڈھانچہ بکا ہوا ہے۔ پیغام آفاقی نے پولس افسران اور سیاسی رہنماؤں کے کردار کے پس پردہ حکومت میں پھیلی ہوئی لاقانونیت،کرپشن،غنڈہ گردی وغیرہ کو اجاگر کیا ہے۔آج کمزوروں کے لیے انصاف کے دروازے بھی بند ہو چلے ہیں۔اس ناول میں کچہری و عدالتوں میں پھیلے ہوئے انتشار کو بھی نمایاں کیا گیا ہے ۔ناول میں نیّر نامی ایک انسپکٹر کا کردارملتاہے۔وہ نہایت مکار اور موقع پرست قسم کا انسان ہے۔نیّر، الوک اور اشوک کا ساتھ دیتاہے۔وہ نیرا سے اناپ شناپ سوالات کر کے اسے پریشان کرتا ہے۔وہ انسان کے روپ میں ایک ایسا بھیڑیا ہے جو نیرا کی عصمت و عفت لوٹنا چاہتا ہے۔لیکن نیرا اس کی ہر ہر حرکت کا معقول جواب دیتی ہے۔ایک جگہ نیر کو مخاطب کرتے ہوئے وہ شدید غصے میں کہتی ہے کہ:
’’آج میں اس پوری بھیڑ کے سامنے یہ بتاتی ہوں کہ آ پ مسٹرکمار سے مل کرہتھکنڈے رچ رہے ہیں۔اور وہ میرا مکان چھیننا چاہتا ہے۔اور آپ مجھے کال گرل بنانا چاہتے ہیں۔اگر مجھے بکھر کر دوبارہ اپنے کو سمیٹنے کے لیے کال گرل بھی بنناپڑے تو میں بنوں گی لیکن میں بکھروں گی نہیں۔۔۔۔آپ کے اندر ایک کمینہ انسان ہے ۔ذلیل کتا۔مسٹر نیّر میں جانتی ہوں کہ یہ ساری پوچھ تاچھ ایک بکواس،ایک غیر قانونی حرکت اور ایک ڈرامہ ہے۔یہ کہتے ہوئے نیرا کی نظریں پوری بھیڑ میں ٹارچ کی روشنی کی طرح نیّر کے چہرے پر پڑ رہی تھیں۔‘‘(ایضاً،ص:۱۲۷(
پیش نظر اقتباس اس بات کی شہادت فراہم کرتا ہے کہ نیرا تنہاضرور ہے لیکن کمزور بزدل نہیں۔اس کے ساتھ اس کا ضمیر ہے۔وہ تن تنہا یہ جنگ لڑنے کا حوصلہ رکھتی ہے۔زمانے کی بے مروتی اور بے اعتنائی نے اسے شعلہ صفت بنا دیاہے۔آخر کاروہ اپنے مقصد میں کامیاب و کامران ہوتی ہے۔نیراکی فتح میں قاری کو اپنی فتح محسوس ہوتی ہے۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ وہ نازک سے نازک حالات میں بھی اپنے ضمیر و روح کا سودا نہیں کرتی۔کبھی اپنے اصولوں سے سمجھوتہ نہیں کرتی۔ اس کے اصول ہی اسے ناسازگار حالات میں زندہ رکھتے ہیں۔اس کا کرایہ دارکمار،تھانہ انچارج اور انسپکٹر نیّرکو رشوت دے کرخرید لیتا ہے۔دونوں نیرا کے خلاف سازشیں رچتے ہیں۔لیکن نیرا آندھیوں میں بھی شمع روشن رکھنے کا ہنر جانتی ہے۔اس کے حوصلے و کوششوں کے آگے تھانے کا پورا عملہ قدرے خوف زدہ رہتا ہے۔انسپکٹر نیّر کمار سے سنجیدگی و گھبراہٹ کے ساتھ کہتا ہے:
’’میں اس لڑکی کو کس خوبصورتی سے ہینڈل کرتا ہوں۔آپ دیکھیے تو۔رفتہ رفتہ تھانے اور کورٹ بھگاتے بھگاتے اور قدم قدم اسمارٹ نس کا استعمال کا موقعہ دیتے دیتے اور ساتھ ہی ساتھ چابکدستی سے اس کے اوپر دباؤ بڑھاتے بڑھاتے میں اس کے پرس کے پیسے آنکھوں کی جھجھک سب کچھ چھین لوں گااور پھر وہ دن آئیں گے کہ ہماری ہر چوٹ کو وہ اپنی دونوں ٹانگوں کے بیچ روکے گی۔‘‘(ایضاً،ص:۱۱۹(
اس اقتباس کی روشنی میں یہ اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں کہ نیرا کے وجود و ضمیر کو کچلنے کے لیے کتنی خطرناک سازشیں کی گئیں۔ سوال یہ ہے کہ دنیا کی تمام تر طاقتیں نہ جانے کیوں ظالم قوتوں کا ساتھ دیتی ہیں؟۔وہ چاہیں تو ظلم و استحصال اور جبروتشددکا طوفان تھم سکتا ہے۔یہ خاموشی در حقیقت ضمیر کی سودے بازی کا نتیجہ ہے۔الوک شہر کا اسسٹنٹ کمشنر آف پولس ہے۔وہ ایک دیانت دار اور نیک پولس افسر ہے۔وہ نیرا کی مددکرنے کے لیے آگے آتا ہے۔لیکن اس کے نیک ارادے وفرائض جلد ہی اندھی قوتوں کی سازش کا شکار ہوکر سسکنے و دم توڑنے لگتے ہیں۔ اشوک ، الوک کو رنگین آسائشیں فراہم کراتا ہے۔لڑکی اور شراب کے نشے میں الوک جیسے سادہ لوح نوجوان کو بھٹکنے میں دیر نہیں لگتی۔
پیغام آفاقی نے ناول میں کیبرے ہاؤس کی گھناونی تصویریں بھی پیش کی ہیں۔جہاں حوا کی بیٹی کی عصمت دو ٹکے میں بکتی ہے۔ یہاں کی کڑوی سچائیاں چیخ چیخ کر موجودہ سماج کے ناسور کو بیان کر رہی ہیں۔ اشوک ایک جگہ کمار سے کہتا ہے’’بوتل اور سولہ سال کی کھول کر ،اس کے سامنے رکھ دیں گے ،پھر دیکھیں گے الوک کدھر جاتا ہے۔‘‘ کمار اور اشوک اپنے مقصد میں کامیاب ہوتے ہیں۔مدھو نامی ایک خوبصورت و حسین لڑکی کوالوک کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے۔اشوک اور الوک اس کی سادہ لوحی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کا بلیو فلم تیار کر کے اس کا بلیک میل تک کرتے ہیں۔اشوک ویڈیو کیسٹ کے ساتھ کمار کے گھر آتا ہے۔دونوں ساتھ میں بیٹھ کر اس ویڈیو کو دیکھتے ہیں۔جنسی ہیجان سے بھرپور آوازوں کی آہٹ سن کر نیرا ٹھٹھک جاتی ہے۔اور ٹیلی ویزن پر آتی ہوئی تصویروں کو غور سے دیکھنے لگتی۔ایک اقتباس دیکھیے:
’’وہی جنسی ہیجان سے بھرپور آوازیں۔اور دو ننگے بدن آپس میں ایک دوسرے سے الجھے ہوئے ،اور پھر اس میں سے ایک مردانہ چہرا بڑا ہوکر ابھرا۔۔۔یہ الوک تھا۔وہ چند لمحے وہیں کھڑی رہی جیسے یہ مناظر دیکھ رہی ہو‘‘(ایضاً،ص:۳۶۳(
نیرا کو الوک سے کتنی امیدیں وابستہ تھیں۔اس کے نزدیک الوک فرشتہ صفت انسان تھا۔جو کسی مجبورکے کام آ سکتا تھا۔لیکن اب اس کی تمام تر امیدیں ٹوٹ جاتی ہیں۔اسے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کائنات کی ہر شے اس کے خلاف ہے۔پیغام آفاقی اپنے اس ناول میں خود کلامی(Dramatic monologue)سے بہت کام لیا ہے۔نیرا کے جذبات واحساسات، ارمان وخواہشات اورزندگی کے تئیں اس کے نظریات اور اس کی پوری شخصیت خود کلامی کی صورت میں نمودار ہوتی ہے ۔زمانے کی بے توجہی کے سبب اس کی فکر میں غیر معمولی تبدیلی واقع ہوتی ہے۔وقت اور حالات کی ستم ظریفی کو اس کے اس داخلی مکالمے محسوس کیا جا سکتا ہے’’آج میں آگ کے شعلوں میں سارے جراثیم جلا آئی ہوں۔‘‘اکثرو بیشتر جگہوں پر نیرا کی خود کلامی فلسفیانہ لمس اختیار کر گئی ہے۔خود کلامی کی کثرت سے کہیں کہیں ناول کاپلاٹ متاثر ہوا ہے۔ایسے میں بوجھل پن کا احساس ہوتا ہے۔ خود کلامی کی صور ت میں نیراکے دل کی کیفیت دیکھیے:
’’یہ پوری کائنات میرے ساتھ ایسا کیوں کر رہی ہے؟یہ پوری کائنات میرے خلاف کیوں ہے؟کیا میں غلط،غیر منطقی راستے پر چل رہی ہوں ؟کیا میرے ارادے ،میرے خیالات،اور میرے اعمال غیر حقیقی ہیں،مصنوعی،مقامی اور وقتی ہیں؟کیا آخر کار مجھے ان طاقتوں سے سمجھوتہ کرنا پڑے گا جو حد نگاہ سے آگے تک چاروں طرف پھیلی ہوئی کائنات ستون بن کر کھڑی ہیں؟اور یہ سب طاقتیں کمار کے ساتھ ہیں۔تو میرے مکان کا بچنا غیر فطری اور غیر حقیقی خیال ہے۔اور میری جنگ مصنوعی۔۔۔خلاف فطرت۔۔۔کیا میں کائنات کی ساخت کو توڑ کر چل رہی ہوں۔۔۔اور میری یہ دشواریاں ،کائنات کی ساخت کو توڑنے کے عمل کا حصہ ہیں اور یہ مشقت اسی کی پیداوار ہیں۔تو میں اس ساخت کو کہاں تک توڑ پاؤں گی ۔اپنے ارد گرد کچھ توڑ پائی ہوں لیکن آگے تو یہ پہاڑ کی مانند ہیں۔۔۔کیا آخر میری تھکن بھی میری قسمت بن جائے گی۔اور مجھے ہار تسلیم کرنی پڑے گی۔تو پھر میں یہ کیوں کر رہی ہوں۔۔۔میں نے جس قوت سے جنگ لی ہے ،وہ کمار نہیں بلکہ وہ خود کائنات ہے۔خود لا محدود وسعتوں تک تنہا پھیلی ہوئی۔‘‘ (ایضاً،ص:۳۶۳(
یہ ا قتباس خودکلامی کی صورت میں خود احتسابی کا عمل ہے۔وہ اشوک اور کمار کے علاوہ اپنے آپ سے بھی لڑتی ہے۔یہ سچ ہے کہ خود کو سمجھنے کے بعد ہی انسان پر دنیا کی حقیقت واضح ہوتی ہے۔عرفان ذات اور خود شناسی کے عمل سے گزرنے کے بعد وہ اپنے اندر پوشیدہ قوت وتوانائی کو پہچان لیتی ہے۔ وقت اور حالات کے تھپیڑے اسے انگاروں پر چلنا سیکھاتے ہیں ۔اب وہ ناسازگار حالات کو بھی اپنے موافق بنا لینے میں کامیاب ہوتی ہے۔وہ اشوک سے کہتی ہے ’’سورج جب آہستہ آہستہ اپنی جگہ بدلتا ہے تو زمین پر موسم بدل جاتے ہیں۔‘‘(ص:۴۱۲)یہ عین انسانی فطرت ہے کہ وہ ایک نہ ایک دن اپنی بداعمالیوں پر نادم ہوتا ہے۔اور احساس گناہ ہی اس کی مثبت سزا ہے۔نیرااشوک کے ضمیر کو للکارتے ہوئے کہتی ہے:
’’آپ اپنی تاریکیوں پر کیوں قناعت کیے بیٹھے ہیں۔آپ کے یہاں روشنیوں کی بھی بڑی گنجائش ہے۔آپ ان انجان وادیوں سے،جن سے آپ کو بہت الجھنا پڑے گا ،گھبرائیے نہیں۔آپ محض مجھے اور میری باتوں کو یاد رکھیئے ،جھاڑیاں خود بخود صاف ہوتی چلی جائیں گی۔اور راہیں بنتی چلی جائیں گی۔‘‘(ایضاً،ص:۴۱۱(
یہ ناول ان لوگوں کو احتجاج ومزاحمت کادرس دیتا ہے جو خاموشی سے ظلم واستحصال سہتے ہیں۔ کیوں کہ ظلم و تشدد کوبرداشت کرنے سے بھی ظالم کی مددہوتی ہے۔آج بھی ہمارے معاشرے میں کمار و اشوک جیسے مکار وبدکارلوگ موجود ہیں۔سماج کے ایسے ناسوروں کو پہچاننے ،بے نقاب کرنے اوران کے خلاف احتجاج و بغاوت کی ضرورت ہے۔پیغام آفاقی نے ایک نہایت نازک اوربے حد سنجیدہ موضوع پر قلم اٹھایا ہے۔یہ ناول عصر حاضرکے سماجی ،معاشرتی تہذیبی اور سیاسی سروکار سے گہری وابستگی رکھتا ہے۔انھوں نیرا کی شکل میں اردو ناول کو ایک ایسازندہ وتابناک کردار دیا ہے جس کی بصیرت اور آگہی سے معاشرے کو روشنی ملتی رہے گی۔نیرا اپنا مکان بچا کرسماج و معاشرے اور انسانی حقوق کی حفاظت کرتی ہے نیز انسان کی ذہنی تاریکی کو روشنی بخشتی ہے۔نیرا کی بغاوت آمیزاور حوصلہ بخش کوششیں غیر انسانی ،ظالمانہ اوراستحصالی قوتوں کے خلاف تازیانہ ثابت ہوں گی۔ مختصر یہ کہ پیغام آفاقی کا ناول ’’مکان‘‘ اپنے گہرے سماجی،سیاسی اور تہذیبی سروکار کے سبب اردو ناول نگاری کے سفر میں میل کا پتھر ثابت ہوگا۔بقول پروفیسر مولابخش:
’’در اصل مکان پڑھتے وقت ہم اپنے اندر نیرا کے شب و روز کی اذیت اور اس کے اندر ہونے والی تبدیلی نیز زندگی سے متعلق اس کے نظریات کی گرمی محسوس کرتے ہیں۔اس طرح مکان دنیائے فکشن میں ہی نہیں انسانی اذہان کی تاریخ کا ایک نیا تناظر سامنے لے کر آتا ہے۔یہاں انسان تنہا اور منہ بسورتا سا محسوس نہیں کرتا بلکہ اپنے اندر اکچھ ابھرتا ہوا محسوس کرتا ہوا اور اپنے چھوٹے چھوٹے مقاصد سے پرے ایک عظیم انسانی آزادی اور اس کے اقدار کی بازیافت کی طرف سفر کرتا ہوا محسوس کرتا ہے۔بلا مبالغہ مکان اردو ناول کی معیار سازی میں اہم کردار اداکرنے والا رجحان ساز ناول ہے۔‘‘ 
(اردو ناول کا معیار و مکان،پروفیسر مولا بخش،مشمولہ مکان،پیغام آفاقی، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،دہلی، ص:۶۳(

 مضامین دیگر 

Comment Form