اردو میں فکشن تنقید کی روایت




محمدسلمان بلرام پوری
12 Jul, 2017 | Total Views: 1044

   

نثری افسانوی ادب کے لیے انگریزی میں (prose fiction)کا لفظ مستعمل ہے اور اردو میں بھی افسانوی ادب کے لیے جو لفظ زیادہ مستعمل اور مروج ہے وہ لفظ ’’فکشن‘‘ہے۔ یہاں پر فکشن ناول اور افسانے پر لکھی جانے والی اہم تنقیدی نگار شات کا جائزہ لیا جائے گا تاکہ اردو فکشن کی تنقید کا پورا منظرنامہ سامنے آسکے ۔
اردو فکشن کی تنقید کا موازنہ مغربی فکشن کی تنقیدکے افکارواقدارسے ہرگزنہ کیاجائے گا۔مغربی تنقیدی اصول ونظریات کی اہمیت الگ مسلم ہے۔ مغربی فن پارے اپنے نظام اور بطن سے جنم لیتے ہیں ۔ اس لیے ان کا اطلاق مشرقی ادبیات پر کلی طور پر کرنا بہت زیادہ مناسب بھی نہیں ہے لیکن اردو کی ادبی تاریخ میں مغرب کی پیروی سے بھی انکار نہیں کیاجاسکتا ہے۔ اردو فکشن کی تنقید کے محاکمہ ومحاسبہ کاارادہ کرتے ہی ہمارا ذہن اپنے آپ مغرب میں فکشن کی تنقید کی روایت اور اس ادب کے معیاروں یا اصول سازوں کی طرف چلاجاتاہے ۔ جہاں تک نقد فکشن کے بنیادی اصول اور ضابطوں کاتعلق ہے۔ اردو کی طرح انگریزی میں بھی اس کی طرف توجہ دی گئی ۔ joseph Halder نے کئی برسوں پہلے اپنی کتاب The History of English criticism of prose Fiction" "میں اس طرح کے خیال کا اظہار کیا تھا ۔
حقیقت میں ارسطو نے ڈرامے اور شاعری کے حوالے سے اپنی کتاب 249249بو طیقا ،، میں تنقیدی خیالات کا اظہار کیاتھا اور اردو میں حالیؔ ’’مقدمہ ‘‘پیش کرچکے تھے ۔ پر فکشن کی تنقید کے اور راز زیر تشکیل وتعمیر ہی رہے ۔یہ کہنا کافی مشکل ہے ،آخر مغرب میں فکشن کی تنقید کب اور کیسے شروع ہوئی اور اسی طرح سے یہ شاعری کی تنقید سے کہاں سے الگ ہوئی ۔ لیکن ادبی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ انیسویں صدی عیسوی کے آخر تک انگریزی میں بھی تنقیدکا زیادہ تر موضوع شاعری ہی رہا ۔ چنانچہ R.Wel Leck فکشن کی تنقیدکی تلاش وجستجو کرتے ہوئے لکھتاہے کہ
" Literacy theory and ceriticism corcerned with the novel are much inferior in both quality and quantity to theory and critisim of poetry ,,
اردو فکشن کے ابتدائی نقوش جن مغربی نقادوں کے یہاں ملتے ہیں ان میں سے ہومر کا نام نمایاں ہے ۔ ایسے نقاد کم ہی ملیں گے جنہوں نے فکشن کی تنقید لکھی ہو ۔ ہومر کے بعد یہ سلسلہ دریدا تک جاری رہتا ہے ۔ 
اگر چہ مغرب میں فکشن کی روایت بہت پرانی ہے۔ اور ابتداء میں وہاں بھی فکشن کے نام پر Fairy Tales, RomencesاورAllegories وغیرہ ہی لکھے گےٗ ۔ انگریزی میں بھی اردو کی ہی طرح ان اصناف کو سنجیدہ ادب سے ان معنوں میں خارج کردیا گیا اس میں انسان یااصلی و ارضی زندگی کی کوئی تصویر نہیں ملتی ہے ۔ بلکہ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ ان کی غرض حقیقت نگاری کے بجائے حیرت انگیز ی ہوتی تھی۔ ان کا واحد مقصد تفریح وتفنن ہے نہ کہ مسائل زندگی کا بیان کیفیت وحالات کے لحاظ سے ادبی رویوں میں تبدیلی آتی رہتی ہے۔ لہذا سترہویں صدی کے وسط تک مغرب میں بھی رومانیت کا رواج کم ہوتا گیا ۔ اور بدلتے ہوئے سیاسی، سماجی اور تہذیبی تقاضے ناول کے خمیر میں شامل ہوتے گئے ۔ آخر کار اٹھارہویں صدی نے اس خلا کو پر کیا اس سلسلے میں سوئفٹ اور ڈیفور خاص اہمیت رکھتے ہیں انگریزی کے پہلے ناول نگاروں میں رچرڈسن کا نام آتا ہے جس نے "Pamela" نامی ناول لکھا ۔ اس کے بعد کے دوسرے اہم ناول نگاروں میں فیلڈنگ کا نام بہت اہم ہے جس کا "Tome Jones"بہت شاہکا ر ناول ہے ۔ اس کے بعد ناول نگاروں کی بڑی تعداد منظر عام پر آتی ہے لیکن ناول یا فکشن کے حوالے سے جو کچھ تنقیدی اشارے ہمیں دیکھنے کو ملتے ہیں وہ فیلڈنگ کے یہاں ہی موجود ہیں ۔ اگر اس اعتبار دیکھا جائے تو یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے ۔ کہ فیلڈنگ صرف ناول کا موجد ہی نہیں بلکہ ۱۷۴۲ء Joseph Andrews کا مقدمہ اور Tom Jones کے اٹھارہ حصوں پر اسکے دیباچے نقد فکشن کے بنیاد میں شامل کیے جاسکتے ہیں Joseph Andrews میں فیلڈنگ نے کہا تھا"Novel is the comic epic in the prose" اس صنف کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ صنف ان معنوں میں ’’رزمیہ‘‘ہے کہ اس میں معمولی اور عام انسانوں کی زندگی کو موضوع خاص بنایا جاتاہے ۔ اس کے کچھ ہی دنوں بعد ناول کا مقابلہ تاریخ ،کامیڈی ، اور رزمیہ سے کیا جانے لگا ۔ فیلڈنگ کے بعد والٹر بیسنٹ ، اسٹپونس اور ہینری جیمس وغیرہ نے ناول کو الگ صنف قرار دینے اور اصول وضوابط مقرر کرنے کی کوشش کی۔ Henery jemes کا شمار اگرچہ امریکی ناول نگاروں میں ہوتاہے لیکن اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ انگریزی ناول نگاری کی تاریخ میں اس کا مقام آج بھی وہی محفوظ ہے ۔اس نے اپنی تصنیفات پر خود مقدمے لکھے جن میں فکشن کی تنقید نمایاں طور پر دیکھی جا سکتی ہے ۔ ایذرا پاؤنڈ ان مقدمات کے بارے میں لکھتا ہے کہ :
’’ہینری جیمس کی یہ تحریریں انگریزی زبان میں ناول نگاری پر عظیم تنقید ی خیالات کی حیثیت رکھتی ہیں 
ان تحریروں میں سب سے اہم مضمون art of fiction ہے ۔جس کو ہینری جیمس نے ۸۸۴اء میں لکھا تھا حالانکہ ہینری جیمس نے فکشن کے فن پر مضمون لکھنے کی کوشش کی ہے لیکن یہاں ناول کی بحث نے زیادہ جگہ لے لی ہے ۔ مغرب کا ایک اور ناقد جس نے فکشن پر بہت لکھا D.H.Lawrenceہے اس نے تقریباً ۱۹۱۳ ء میں تنقید کی طرف توجہ کی اور اس کے نزدیک ’’ناول ایک روشن کتاب زندگی ہے۔‘‘
ٹھیک ناول کی طرح وہاں افسانے کی تنقید بھی دیر سے عمل آئی اس سلسلے میں سب سے پہلے واشنگٹن ارونگ نے اشارتہً اس صنف پراپنے تنقیدی خیالات کا اظہار کیا ۔ اور کہا کہ افسانے کا مقصد اصلاح تفریح طبع ہے ۔ لیکن جس مغربی افسانہ نگار نے باقاعدگی کے ساتھ صنف افسانہ کو دوسرے اصناف سخن سے الگ کرنے کو شش کی وہ ایڈگرالین پو تھا اس نے افسانے میں وحدت تأثر اور اختصار کو اہمیت دیا ۔ اسی طرح آہستہ آہستہ مغربی تنقید بیسویں صدی میں داخل ہو تی ہے ۔ اور فکشن پرکھنے کا رواج اور بڑھتا جاتا ہے ۔ کروچ ، فرائڈ ، ایف آرلیوس ،کرسٹوفر کاڈویل ،جیمس جوائس ،ورجینا وولف ، سومرسٹ ، جارج آرویل ، ای ایم فاسٹر ،گراہم گرین ،فلپ راو وغیرہ نے فکشن کی تنقید کے مختلف النوع رجحانات کی ترویج و اشاعت میں حصہ لیا ۔ اور متن یا فن پارے کے مطالعہ کے ایک سے زائد زاویے یا صورتیں پیدا کیں ۔ یہاں مغربی فکشن کی تاریخ بیان کرنا ہرگز مقصد نہیں بلکہ فکشن تنقید کی تاریخ سے آگہی ہے ۔ تاکہ اس کے مقاصد اور حقائق سے روشناس ہو سکیں ۔ ایک بڑی حقیقت یہ ہے کہ مغرب میں فکشن کی تنقید شاعری کی تنقید کے بعد وجود میں آئی ۔ دوسری اہم سچائی یہ ہے کہ وہاں بھی فکشن کے اہم ناقدین وہی لوگ نظر آتے ہیں جو بنیادی طور پر فکشن کے تخلیق کا ر، فن کا ر ہیں ۔ اردو ادب میں ابتدائی دور میں مولوی کریم الدین (۱۸۶۲ء) ،مرزا رسوا اور پریم چند نے کیا تو وہاں فلڈنگ ،ارونگ یاایڈ گرالین پونے ۔ 
انھیں تخلیق کاروں کی بدولت یہ بات وثوق کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ بیسویں صدی میں مغربی تنقید نے ہمہ جہت نہ صرف ترقی کی بلکہ فکشن کی پرکھ اور تفہیم کے نئے اصول ونظریات سامنے آئے لیکن ایک بڑی حقیقت سے انکار نہیں کرسکتے کہ فکشن کی تنقید میں جو سماجی یا مارکسی ، سائنٹفک طرز فکر معاون ثابت ہوئی وہ اور کوئی طرزفکر ثابت نہ ہوسکی ۔ مظفر علی سید کا بیان اس موقع پر بے حد مناسب ہے کہStructual crsticism فکشن کی تنقید کا حق کما حقہٗ ادا نہیں کر سکتی ۔وہ لکھتے ہیں ۔
’’ اسلوبیت کی تجزیہ جوہے یہ زیادہ سے زیادہ ہمیں یہ بات تسلیم کراسکتاہے کہ کسی فکشن لکھنے والے نے زبان کااستعمال کتنی ذمہ داری کے ساتھ کیا ۔اس سے آگے نہیں کہا جاسکتا مثلا یہ نہیں بتاسکتا کہ وہ چیزیں ہمیں کیوںhuntکرتی ہیں ۔وہ تصویریں جو اس فکشن میں آتی ہیں۔ وہ کردار جو اس فکشن میں آتے ہیں ۔ وہ کہانیوں کے موڑ جو اس فکشن میں آتے ہیں ۔وہ ہمارا پیچھا دیر تک کیوں کرتے ہیں ۔ اورm structuralis کا نقطہ صنف بھی یہی ہے کہ thematic structvres اورsfylistic structures میں کوئی ربط قائم نہیں ہوسکا جبکہ تنقید اسلوب اورمعنویت کو جدا کر کے نہیں رہ سکتی مگر اسلوبیاتی تنقید لکھیں گے تو زیادہ سے زیادہ آپ اسلوبیاتی مطالعہ اچھا پیش کرسکتے ہیں ، کسی نثر نگار کااس طرح اگر آپ صرف thematic st- -rcrures پر توجہ دیتے ہیں ۔ اور اسلوب کی طرف بالکل توجہ نہیں دیتے ۔ تو آپ سارے وسیلے ہی کو فراموش کردیتے ہیں ۔جس وسیلے سے thems ہم تک پہنچتی ہیں تو گویا یہ ایک مکمل قسم کی آدھی تنقید کی ایک مثال ہے ‘‘ ۔ 
جبکہ اس کے برعکس مارکسی ، سماجی ،سائنٹیفک تنقید فکشن کے تجزیاتی مطالعے میں ہیئت یا اسلوب پر بھی زور دیتی ہے ۔ اس کے علاوہ مواد کی اہمیت بطور خاص تسلیم کرتی ہے ۔ لیکن آج بھی فکشن کے نقادوں کے لیے یہ سوال جواب طلب ہے کہ ہم کس فکشن کو معیار ی قرار د یں یا پھر فکشن میں کن اصناف کو شامل کیا جائے اسی طرح سے فکشن کا کیا مفہوم ہے اور اردو فکشن کی تنقیدشاعری کی تنقیدسے کس طرح مختلف ہے ۔ایک اہم نقادکے کیافرائض اوراس کی کیاذمے داریاں ہیں۔ قبل اس کے کہ ہم فکشن کے مفہوم اورعناصرپربات کریں ہمیں شاعری اورفکشن میں فرق کوسمجھ لیناچاہیے ۔
کسی چیزکی حقیقت اورماہیت کے تعین کرنے کاآسان طریقہ یہ ہے کہ پہلے اس کاکوئی نمایاں وصف لے لیے جائے پھریہ دیکھاجائے کہ اس وصف میں اورکیاکیاچیزیں اس کے ساتھ شریک ہیں پھران صفات کوایک ایک کرکے متعین کیاجائے جن کی وجہ سے یہ چیزاپنی اورہم جنس چیزوں سے الگ اورممتازہو گئی ہے ۔
منطقی پیرائے میں شعرکی تعریف کرناچاہیں تویوں کہہ سکتے ہیں کہ جوجذبات الفاظ کے ذریعے سے اداہوتے ہیں وہ شعرہیں اورچوں کہ یہ الفاظ سامعین کے جذبات پربھی اثرکرتے ہیں اوران کے سننے سے سامعین پروہی اثر طاری ہوتاہے جوصاحب جذبہ کے دل پرطاری ہوتاہے اس لیے شعرکی تعریف یوں بھی کرسکتے ہیں کہ جو کلام انسانی جذبات کوبرانگیختہ کرے اوران کوتحریک میں لائے وہ شعرہے ۔ایک یورپین مصنف لکھتاہے کہ ’’ہروہ چیزجودل پر استعجاب یاحیرت یاجوش یااورکسی قسم کااثرپیداکرتی ہے شعرہے ۔‘‘ اس بنا پرفلک نیلگوں،انجم درخشاں،نسیم سحر، ۔۔۔۔ ، تبسم گل،خرام صبا،نالۂ بلبل ،ویرانی دشت،شادانی چمن غرض تمام عالم شعرہے ۔حضرت خواجہ فریدالدین عطارکے بقول
’’پس جاں شاعربودچوں دیگراں ‘‘
راجندرسنگھ بیدی لکھتے ہیں کہ:
’’افسانے اورشعرمیں کوئی فرق نہیں۔ہے توصرف اتناکہ شعرچھوٹی بحر میں ہوتاہے اورافسانہ ایک ایسی لمبی اور مسلسل بحرمیں جوافسانے کے شروع سے لے کرآخرتک چلتی ہے ۔مبتدی اس بات کونہیں جانتااورافسانے کوبہ حیثیت فن شعرسے زیادہ سہل سمجھتاہے ۔پھرشعر،فی الخصوص غزل میںآپ عورت سے مخاطب ہیں،لیکن افسانے میں کوئی ایسی قباحت نہیں۔آپ مردسے بات کررہے ہیں،اس لیے زبان کااتنارکھ رکھاؤنہیں۔غزل کاشعرکسی کُھردرے پن کا متحمل نہیں ہوسکتا،لیکن افسانہ ہوسکتاہے ۔بلکہ نثری نژادہونے کی وجہ سے اس میں کُھردراپن ہوناچاہیے ،جس سے وہ شعرسے ممیزہوسکے۔‘‘ 
شاعری کانمایاں وصف ہی یہ ہے کہ اس کی اثرانگیزی سب سے زیادہ وسیع ہوجوکہ تمام حواس پراثرڈال سکتی ہو ، باصرہ ،ذائقہ،شامہ ،لامسہ سب اس سے لطف اٹھاسکتے ہوں۔ وصف شاعری میںیہ بات بھی شامل ہے کہ جذبات انسانی کوبرانگیختہ کرے یعنی اس کوسن کردل میں رنج یاخوشی یاجوش کااثر پیداہوتاہو۔یہی خصوصیت شاعری کو سائنس اور دیگرعلوم وفنون سے الگ کرتی ہے ۔شاعری کاتخاطب جذبات سے ہے ۔شاعری محرکات کااستعمال کرتی ہے جب کہ اس کے برخلاف سائنس عقلی استدلال کی بات کرتی ہے ۔شاعری احساسات کودلکش مناظردکھاتی ہے ۔افسانہ اور شاعری میں فرق کرتے ہوئے شبلی نعمانی رقم طرازہیں:
’’افسانہ اسی حدتک افسانہ ہے جہاں تک اس میں خارجی واقعات اورزندگی کی تصویرہوتی ہے ۔جہاں سے اندرونی جذبات اوراحساسات شروع ہوتے ہیں وہاں شاعری کی حدآجاتی ہے۔افسانہ نگاربیرونی اشیاء کااستقصاء کے ساتھ مطالعہ کرتاہے بخلاف اس کے شاعراندرونی جذبات اوراحساسات کی نیرنگیوں کاماہربلکہ تجربہ کارہوتاہے ۔‘‘
قصہ ،کردار،پلاٹ ،زمان ومکاں،راوی،وحدت تأثر، نظریۂ حیات ،پس منظراورٹکنیک کامطالعہ فکشن میں کیا جاتاہے ۔فکشن کے زمرے میںآنے والی تمام اصناف کاتعلق نثری بیانیے سے ہے اس لیے اس کے تنقیدی اصول بھی الگ مقررکیے گئے ہیں۔مثلاً فکشن کے لیے یہ شرط ہے کہ وہ ڈھکے چھپے لفظوں میں بیان کیاجائے ۔اسی طرح سے کسی بھی افسانوی نثرکے لیے وعظ ونصیحت سم قاتل ہے۔
تنقیدکے کاروبارکاانحصارادب پارے کے مطالعے اورنقادکے اس رول پرہوتاہے جووہ ایک سچے قاری کے طورپرانجام دیتاہے ۔تنقیدنگارایک بلندپایہ ،باذوق اوربابصیرت کاحامل قاری ہوتاہے ۔یہ قاری فن پارے کی سطح ،فکرو فن،متناسب امتزاج کی نوعیت اورتخلیقی اظہارکے مسائل سے بخوبی واقف ہوتاہے ۔تنقیدنگارایک ذمہ دارقاری ہے جو اپنی تنقیدی تحریروں کے ذریعے قاری کے لیے افہام وتفہیم کی سبیل پیداکرتاہے ۔جس سے قاری پسندوناپسنداوردلائل کے ہتھیارسے لیس ہوجاتاہے ۔اوریہی نقادقاری کے لیے یہ سمجھنا آسان کردیتاہے کہ فکشن اورشاعری میں بنیادی فرق کیاہے ،دونوں کی مساویات کیاہیں،دونوں کے تنقیدی اصول کیاہوں گے،دونوں کی تنقیدمیں کون سے اصول ونظریات اپنائے جائیں۔ ناول کے ناقدکے لیے ضروری ہے کہ ناول کے تمام اجزاکے باہم ربط وتسلسل کوجانے ، اسی طرح نقادکے لیے یہ بھی جانناضروری ہے کہ ناول کے لیے موضوع کی کیااہمیت ہے چوں کہ موضوع کی تعریف نسبتاً دشوار ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ جہاں دوسرے اجزاء کردار، سیٹنگ، عمل وغیرہ ٹھوس(Concrete)ہوتے ہیں وہیں موضوع غیرمحسوس ،خیالی یاذہنی (Abstract)ہوتاہے ۔کردار اورسیٹنگ کوتونقاددیکھ سکتاہے اوراس طرح سے عمل کا بھی اندازہ لگاسکتاہے ،لیکن موضوع غیرمحسوس ہوتاہے ۔اس لیے اس کی تعریف کرنااوراس کوسمجھانا قدرے مشکل ہے ۔ یہ بات تویقین کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کسی بھی تخلیق کے لیے موضوع بہت ہی اہمیت کاحامل ہو تاہے ۔ موضوع پرہی ناول کی عمارت کھڑی کی جاتی ہے ۔ 
ازمحمدسلمان بلرام پوری
۱۳۷سینٹرل اپر ۔ایس.ایس.ہال نارتھ
اے.ایم.یو،علی گڑھ
salmankhan0009@gmail.com
موبائل نمبر9897908383

 مضامین دیگر 


Comment Form



اردو فکشن

© 2017 Urdu Fiction. All right reserved.