16 Jul, 2017 | Total Views: 176

مسلم انڈیا اور شناخت کی جنگ

ڈاکٹر مولا بخش

’’جنگ جاری ہے‘‘ اردو کے اس افسانہ نگار کا پہلا ناول ہے جس نے اپنے دو افسانوی مجموعے ’’منڈیر پر بیٹھا پرندہ‘‘ اور ’’انا کو آنے دو‘‘ کے ذریعے ۸۰ء کے بعد کے افسانوی متون میں اپنے وجود کا احساس دلایا ہے۔ اردو کے کئی افسانہ نگاروں نے تنقید کے علاوہ ناول سے بھی راہ و رسم پیدا کرنے کی کوششیں کی ہیں جن کے ناول کسی طویل افسانے سے تھوڑا آگے کھسک کر ناولٹ کی شکل میں نمودار ہوئے۔ ان میں بعض کامیاب اور بعض فلاپ ہو گئے۔ آج کا ناول فنی و اسلوبیات اعتبار سے گذشتہ بیس پچیس سال یا چالیس سال پہلے لکھے گئے ناولوں سے کئی اعتبار سے مختلف ہے کیونکہ آج کی میڈیائی سوسائٹی اور اس کی نفسی سیاسیات میں زمین و آسمان کا فرق پید اہو گیا ہے۔ پھر یہ کہ ہندوستان میں جہاں کئی اقلیتیں ہیں اور ان کے اپنے مسائل ہیں اور جس طرح سے یہ اقلیتیں بقا کی جنگ لڑ رہی ہیں ان میں مسلمانوں کے تشخص کا مسئلہ بڑا ہی لاینجل مسئلہ ہے۔ ایسے میں سچ پوچھئے تو ان مسائل پر کوئی فیصلہ کن مضمون لکھنا بھی مضحکہ خیز ثابت ہوگا تو پھر ’’جنگ جاری ہے‘‘ سے یہ توقع کرنا کہ مصنف نے فن کی بلندیوں کو چھوتے ہوئے اس مسئلے کی جڑوں تک رسائی حاصل کر لی ہوگی۔ صحرا میں پانی تلاش کرنے کے مترادف ہوگا۔ اس ناول میں ہندوستان میں رہنے والے اکیسویں صدی کے مسلمانوں کے ممکنہ مکاتب فکر کا جائزہ بابری مسجد کے انہدام کے بعد پیدا شدہ مختلف الاسلوب ردِّ عمل کی روشنی میں لیا گیا ہے اور اس اعتبار سے یعنی موضوع کے اعتبار سے یہ ناول نیا ضرور ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ غدر کے بعد بھی ہر مسلمان پدرم سلطان بود کے تصور سے چمٹا ہوا تھا۔ سر سید کا کردار اس تصور پر کاری ضرب لگاتا رہا کہ مسلمانوں میں مکاتب فکر کے ابھار کا زمانہ شروع ہو گیا۔ کچھ کانگریسی ہو گئے اور سر سید ہی کی سوچ کی ردِّ تعمیر ہونے لگی۔ انگریزوں اور مسلمانوں میں ایک عجیب سی رسا کشی رہی کہ ایک نئے فلسفے نے مسلمانوں کے مکاتب فکر میں اضافہ کیا۔ ۳۶۔ ۱۹۳۵ء میں مارکسی نظریے نے مسلمانوں میں اپنی جگہ بنائی۔ اب کچھ مسلمان کانگریسی‘ گاندھیائی‘ یعنی نیشنلسٹ مسلمان تھے تو کچھ اپنی الگ شناخت قائم کرنی چاہی اور مسلم لیگ کا قیام عمل میں آگیا۔ مسلم لیگ نے مذکورہ بالا مہا بیانیوں کے متوازی اپنا وجود قائم کیا۔ آخر کار جیت اسی مہا بیانیے کی ہوئی مسلمانوں کی جماعت دو حصوں میں بٹی اور مسلمانوں کی اجتماعی شناخت دو لخت ہو گئی یعنی ’’مسلمان‘‘ پاکستانی اور ہندوستانی وغیرہ جیسے خانوں میں بٹ گئے۔ پاکستان میں علاقائی اور جغرافیائی عصبیتوں نے سر ابھارا اور وہاں کے مسلمان مہاجر اور اصلی پاکستانی شہری کے روپ میں بٹ گئے۔ ہندوستان میں کچھ مسلمان مسلم لیگ‘ کچھ جمیعت علمائے ہند‘ کچھ مارکسی اور کچھ الگ تھلگ قسم کے پڑھے لکھے انٹیلیکچول لوگوں کے روپ میں ارتقائی عمل سے گزرتے رہے جو مسلمانوں کی بستی سے جب گزرتے ہیں تو ناک پر رومال رکھ لیتے ہیں۔ ان میں کچھ ایسے ہیں جو ہندو دوستوں کے بیچ مسلمانوں کو گالی دے کر اپنے آپ کو سیکولر مسلمان ثابت کرتے ہیں۔ ادھر ہندوؤں میں جو طبقہ مذہبی طور پر بیدار تھا اور ہندوستان کو ہندوؤں کا ملک مانتا تھا اُسے آخر کار بالادستی حاصل ہو گئی اسی بالادستی کی علامت بابری مسجد کے انہدام کی صورت میں ظاہر ہوئی۔ یہی وہ دور تھا جب مسلمانوں نے خواہ وہ کسی بھی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے ہوں یہ سوچنے پر مجبور ہوئے کہ آیا وہ جس ملک میں رہ رہے ہیں کیا انہیں پھر سے ہندوستانی بننے کے لیے ان مہابیانیوں یعنی خطرناک فلسفوں سے جنگ لڑنی پڑے گی۔ جن کی نظر میں مسلمان بدیسی ہیں۔ یہ ناول اسی تاریخی پس منظر میں ذہنی جنگ کے جاری رہنے کی طرف اشار کرتا ہے۔
ناول کا پہلا فقرہ ہے ’’۶ دسمبر ۱۹۹۲ء ہندوستان کا وہ سیاہ دن جس نے جمہوری ہندوستان کو کلنکت کر دیا‘‘۔ اخیر کا جملہ ہے ’’سفیر نے نرنجن کمار کی طرف دیکھا اور نرنجن کمار نے جیل کی چھت پر لہراتے ترنگے کو151!‘‘
انجام اور آغاز دونوں میں یہی پیغام دیا گیا ہے کہ ہندوستان کی جمہوریت خطرے میں ہے۔ اسے بچانا چاہیے۔ انجام پڑھ کر فلم کے کچھ سین یاد آجاتے ہیں۔ کوئی اسے فلمی قسم کا انجام بھی کہہ سکتا ہے جو صحیح بھی ہے تاہم گہرے معنی بھی اس انجام سے برآمد کئے جا سکتے ہیں۔ یعنی ہندوستان میں جمہوریت کی پامالی پر معنی خیز طنز اخیر کے خاموش مگر معنی خیز اشارے میں پوشیدہ ہے۔
آئیے میں ناول کی کہانی آپ کو پہلے بتاؤں۔
بہار کا ایک گاؤں جو گیا سے قریب ہے عرفان کے لیے بہت عزیز ہے۔ پتہ چلا ہے کہ بلوائی اس کے گاؤں پر حملہ کرنے والے ہیں۔ اسی لیے وہ اسرار کی مدد سے ہتھیار حاصل کرتا ہے۔ ہتھیار کے آنے سے قبل ہی اس کے ماں باپ فساد کے شکار ہو جاتے ہیں۔ عرفان غم و غصے میں آپے سے باہر ہو جاتا ہے اور اُسی ہتھیار کا استعمال وہ پولس کے محاصرے میں آنے کے بعد کرتے ہوئے بچ کر نکل جاتا ہے۔ عرفان دلی میں پناہ لیتا ہے۔پولس اس کی تلاش میں ہے۔ وقار عرفان کا دوست بھی پولس کی گالیاں کھاتا ہے اور آہستہ آہستہ اس کی سوچ عرفان سے مل جاتی ہے۔ وہ قوم کو صحیح راہ دکھانے کے سلسلے میں ایک مسلم تنظیم بنانا چاہتا ہے۔ اس کے کچھ دوست اس سے متفق ہو جاتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ سفیر بھی کمیونسٹ پارٹی چھوڑ کر ان کے گروہ میں مل جائے مگر سفیر الٹا ان کو سمجھاتا ہے کہ الگ سے کوئی مسلم تنظیم بنانا بیوقوفی ہوگی۔
عرفان دلی آکر احمر کے ساتھ سیریل وغیرہ بنانے کا کام شروع کر دیتا ہے۔ احمر ایک ایسی جماعت سے جڑا ہوا ہے جس نے عرفان کی دنیا اجاڑ دی تھی لیکن اس کے باوجود تھک ہار کر احمر کا ہم خیال ہو جاتا ہے اور ایک لڑکی منجولا سے آخر کار وہ شادی بھی کر لیتا ہے۔ وقار کو میگزین کے ذریعے معلوم ہوتا ہے کہ وقار بہت بڑا سیریل میکر بن گیا ہے تو اسے لگتا ہے کہ اب ہماری تنظیم کے لیے عرفان اتنا پیسہ دے دے گا کہ وہ آسانی سے قومی فلاح و بہبود کا کام کر سکے گا۔ وہ دلی آتا ہے مگر عرفان سے مل کر وقار کو بڑی مایوسی ہوتی ہے کیونکہ اس کی آئیڈیالوجی کچھ اور ہو چکی ہے۔ وقار گیا لوٹ کر اپنے کامیں پھر سے جڑ جاتا ہے۔ ادھر منجولااور عرفان کے تعلقات خراب ہونے لگتے ہیں۔ عرفان کے ذہن میں تو کم مگر منجولا کے ذہن میں یہ بات کہیں نہ کہیں ہے کہ عرفان آخر ہے تو مسلمان۔ ادھر وقار گیا آکر کچھ ہی دنوں بعد آئی ایس آئی کے ایجنٹ ہونے کے الزام میں گرفتار ہو جاتا ہے۔ عافیہ جو وقار کی محبوبہ ہے سفیر اور وقار کے چچا سبھی شہر کے سارے ذرائع کا استعمال کرکے اسے جیل سے رہا کرانا چاہتے ہیں۔ مگر کامیابی نہیں ملتی۔ وقار جیل کی دیواروں سے سر ٹکرا ٹکرا کر اور اپنی محبوبہ عافیہ کی محبت اور اس کی جدائی کے صدمے کو سہتے سہتے نیم پاگل ہو جاتا ہے اور عرفان احمر کا ہم خیال بن جاتا ہے۔
ناول میں پیش کردہ اس کہانی کو پڑھنے کے بعد اردو کے دو ناول یاد آتے ہیں یعنی کوثر مظہری کا ناول ’’آنکھ جو سوچتی ہے‘‘ اور مشرف عالم ذوقی کا ناول ’’بیان‘‘ اور ’’مسلمان‘‘۔ ’’جنگ جاری ہے‘‘ میں ایک کردار ہے ’’وقار‘‘ اور آپ کی جان پہچان مختصراً اس کردار سے اب ہو گئی ہے۔ وقار نئی نسل کا وہ نمائندہ ہے جو اب بھی مسلمانوں کے لیے ایک جماعت ایک تنظیم کی ضرورت محسوس کرتا ہے مگر ہندوستانی سیاست میں ایسے نوجوانوں اور جماعت کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ حساس ہے ٹھیک اسی جس طرح کوثر کے ناول کا ہیرو رضوان حساس ہے۔ رضوان فساد‘ جنگ و جدل سے اس قدر دکھی ہوتا ہے کہ اس کی حالت پاگلوں کی سی ہو جاتی ہے اور اخیر میں جنگ جاری ہے کا وقار بھی پاگل ہو جاتا ہے۔ ان دونوں میں تھوڑے سے فرق کے ساتھ گہری مماثلت ہے۔ مشرف عالم ذوقی کے کردار بھی ناول بیان اور مسلمان میں انہیں سچائی سے جھوجھتے نظر آتے ہیں۔ ناول ’’بیان‘‘ میں بوڑھوں یعنی سرپرستوں کی نمائندگی برکت کر رہے ہیں۔ جن کے گہرے دوست یارغار بالمکند شرما ہیں (اردو ناول کا ایک ناقابل فراموش کردار) دونوں مذہب اور دھرم سے اپنی شناخت کا ذریعہ نہیں سمجھتے۔ یعنی حب الوطنی ان کی شناخت ہے مگر بعد میں برکت کو یہ احساس کرا دیا جاتا ہے کہ مسلمان ہے بعدمیں کچھ اور۔ اس طرح کے جھٹکے رضوان کو بھی ’’آنکھ جو سوچتی ہے‘‘ میں لگتے ہیں۔ ’’آنکھ جو سوچتی ہے‘‘ میں رضوان کا گہرا دوست راجیش ہے۔ وہ ہر حالت میں اس کا ساتھ دیتا ہے جیسے برکت اور بالمکند شرما کی دوستی مگر ’’منا‘‘ ’’بیان‘‘ کا وہ کردار ہے جسے بہت بڑے المیے سے مشرف عالم ذوقی نے اپنے ناول ’’بیان‘‘ میں دو چار کیا ہے۔ وہ بھاجپا میں اپنی شناخت کے گم کرنے کے بعد بھی اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ اسے اسی کی پارٹی کے لوگ مار دیتے ہیں۔ ’’منا‘‘ نے ایک بار پھر ’’عرفان‘‘ کی شکل میں اردو کے قاری کو چونکایا ہے اور رضوان ایک نئے انداز میں وقار کے صورت میں ’’جنگ جاری ہے‘‘ میں داخل ہوا ہے۔ ’’جنگ جاری ہے‘‘ کا عرفان ’’منا ‘‘سے کچھ الگ قسم کے حالات سے دو چار ہے۔ ’’منا‘‘ کی موت پر برکت حسین خوشی منائیں یا اس کا ماتم کریں انہیں سمجھ میں نہیں آتا۔ ’’جنگ جاری ہے‘‘ صرف عرفان جیسے مسلم نوجوانوں کے نشیب و فراز کے پس منظر میں نہیں ہے کیونکہ ’’بیان‘‘ میں ’’منا‘‘ واقعی چونکا دینے والا کردار تھا مگر اب حالات چونکانے والے نہیں ہیں۔ احمد صغیر کا ناول اب تک کے اس قبیل ناولوں سے الگ (میری مراد سیاسی ناولوں سے ہے) موضوع کے اعتبار سے ایک نیا ناول اس لیے معلوم ہوتا ہے کیونکہ اس میں مسلم معاشرے کے جملہ مکاتب فکر اور ان کے ڈسکورس کو متن کی شناخت کا حصہ بنایا گیا ہے۔ مثلاً :
۱۔ ’’وقار تمہیں نہیں لگتا کہ بابری مسجد ہماری شناخت تھی جسے شہید کرکے ہماری شناخت پر حملہ کیا گیا ہے۔ (عرفان(
۲۔ ’’بیٹا پورے ملک کا حال یہی ہے۔ ہم اقلیت میں ہیں‘‘ (وقار کے ابا نے اسے سمجھانا چاہا۔(
۳۔ ’’کیونکہ (بڈھے) صرف مشورے ہی دے سکتے ہیں۔ عملی طور پر کچھ نہیں کر سکتے۔‘‘ (نئی نسل اور پرانی نسل کا ٹکراؤ۔ عرفان(
۴۔ ’’وقار صاحب! میرا مشورہ ہے کہ الگ سے کوئی تنظیم نہ بنائی جائے بلکہ جو سیکولر تنظیمیں یہاں کام کر رہی ہیں ہم ان کے ساتھ مل ہی کام کریں۔‘‘ (سفیر(
۵۔ ’’بہت سوچ سمجھ کر میں نے اس پارٹی انتخاب کیا جس میں نہ صرف محفوظ ہوں بلکہ کسی کے لیے بھی کچھ کر سکتا ہوں۔ دلی آتے ہی مجھے وندنا مل گئی جو میری اچھی دوست بن گئی اور اب میری بیوی ہے۔ عرفان ادھر ہی چلو جس طرف ہوا بہہ رہی ہے... عرفان ایک بات بتاؤ دنیامیں مسلم سائنس داں کا فقدان کیوں ہے... مسلمانوں کو روزہ نماز گناہ ثواب‘ حرام و حلال کے جال میں اس طرح الجھا کر رکھا گیا ہے کہ وہ اس کے آگے کچھ سوچ بھی نہیں سکتے...‘‘ 
(احمر بھاجپا کا رکن(
۶۔ ’’عرفان پر احمر کی باتوں کا اثر ہونے لگتا ہے۔ اسے احمر کی باتیں مناسب معلوم ہوتی ہیں ... ہندوستان... مسلمان... مسلم سیاست...‘‘ (مصنف کی رائے151 یہاں بیانئے کا آہنگ کومینٹری کا سا ہو گیا ہے۔(
۷۔ ’’میں کسی سیاسی پارٹی میں رہ کر یہ کام نہیں کر سکتا۔ میں مسلمانوں کی ایک آزادانہ تنظیم چاہتا ہوں جو سیاسی سماجی حقوق کے لیے لڑ سکے۔ ان کا حق دلا سکے۔‘‘ (وقار(
۸۔ ’’یعنی ایک اور مسلم لیگ ... وقار یہاں مسلم تنظیم کا مطلب سیدھے سیدھے مسلم لیگ ہی سمجھتے ہیں۔‘‘ (عافیہ(
’’پھر عرفان اور منجولا سے ہونے والا بچہ... وہ کس مذہب کو اختیار کرے گا... کیا ایسا نہیں لگتا کہ آنے والے دقتوں میں ایک ایسی جماعت تیار ہو جائے گی جس کا کوئی مذہب نہیں ہوگا... جواب اس کے ہاتھ نہیں لگ سکا۔‘‘ 
(وقار عرفان کی نئی زندگی سے متاثر اور پریشان ہو کر سوچتا ہے(
’’(عرفان) اس نے اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیا ہے۔ نام‘ مذہب‘ پہچان اور نظریہ!‘‘
آئیے ان عوامل پر غور فکر کریں جس کا تحت متن (Sub Tent) ہے۔ ’’جنگ جاری ہے‘‘ کے مندرجہ ذیل بیانات :
۱۔ ’’نہ جانے کہاں کہاں سے آجاتے ہیں۔ لوگ دلی کی سڑکوں پر جنہیں چلنا بھی نہیں آتا ......... ہوگا کوئی بہاری‘‘ (منجولا(
۲۔ ’’سالا پاکستان بنا دیا ہے‘‘
’’سب آئی ایس آئی کے ایجنٹ ہیں‘‘
اتنا مارو سالوں کو کہ اپنا نام بھی بھول جائے۔
’’بہن چود151ہمارا کھاتا ہے اور ہم ہی سے غداری کرتا ہے‘‘ (پولس کا بیان..(
۳۔ ’’یعنی اپنی زمین سے بالکل کٹ کر رہ جاؤگے۔ ‘‘(وقار عرفان سے پوچھتا ہے(
۴۔ ’’میں ابو ہاشم کا آدمی ہوں... آپ کی رہائی ممکن نہیں ... آپ قوم پرست ہیں ... آپ اسی طرح کام کرتے رہیں جیسے پہلے کر رہے تھے۔ ہاں نوعیت ضرور بدل جائے گی ... اگر آپ کہیں تو ہم لوگ آپ کی مدد کر سکتے ہیں ... ہم آپ کو آسانی سے یہاں سے نکال سکتے ہیں ... ؟‘‘ (وقار کو ورغلاتا ہے ابو ہاشم مسلمانوں کا نمائندہ جسے ہم لوگ آج دہشت گرد کے نام سے جانتے ہیں۔(
۵۔ ’’ہاں دوسروں کی بیویوں کے ساتھ رنگ رلیاں منانا آج کے سماج کا کلچر ہو سکتا ہے لیکن میں اس کلچر کو نہیں مانتا...‘‘ (عرفان(
’’تم بہت ہی گھٹیا سماج سے آئے ہو ... یہ نہ کرو... وہ نہ کرو... تم دقیانوسی سماج کے پروردہ ہو۔ ‘‘ (منجولا عرفان کی بیوی(
ناول قرأت کے دوران مذکورہ جملے حافظے کا حصہ بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں کیونکہ کسی نہ کسی حوالے سے جملوں میں پیش کردہ خیالات مسلم معاشرے کے پڑھے لکھے طبقے میں بحث و مباحثے کے دوران پیش کئے جاتے رہے ہیں۔ جسے ناول نگار نے اپنے متن کا تانا بانا بنا لیا ہے۔ مصنف نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ مسلمان قوم سیاسی طور پر یتیم قوم بن چکی ہے۔ عجیب اتفاق ہے کم و بیش مشرف عالم ذوقی کے ’’بیان‘‘ ، ’’مسلمان‘‘ اور کوثر مظہری کے ناول ’’آنکھ جو سوچتی ہے‘‘ کے ناول میں سابقہ مہا بیانیوں مثلاً وطن پرستی‘ ہندو مسلم اتحاد اور کچھ عظیم روایتوں کے کھو جانے کے احساسات کے ساتھ اس بات کی طرف بھی اشارہ ملتا ہے کہ مسلمانوں کے اندر سیاسی بصیرت کے فقدان کی وجوہات ماضی کے ہاتھوں ہندوستان میں تعمیر شدہ ان کا مخصوص کلچر ہے۔
احمد صغیر نے بہ یک وقت سر سید اور پھر مسلم لیگ کی بحث چھیڑ کر یہ بتانا چاہا ہے کہ وقار جو عرفان کے بتائے ہوئے راستے پر چلتے ہوئے اپنی ایک الگ شناخت یعنی مسلمانوں کی شناخت چاہتا ہے۔ مگر وہ چاہتے ہوئے بھی ایسا اس لیے نہیں کر پاتا کیونکہ مسلم لیگ ایک سیاسی مہابیانیہ بن کر اس کی راہ میں پہاڑ کی طرح کھڑا ہے جس کا مطلب ہے کٹّر وادی مسلمان۔ دوسری طرف اس کے سامنے ہندوؤں کا وہ گروہ ہے جسے کٹّر وادی ہندو کے روپ میں ہم سب آر ایس ایس وغیرہ کے نام سے جانتے ہیں۔ عرفان ہو یا وقار، سفیر ہو یا احمر‘ ابو ہاشم ہو‘ عافیہ ہو یا نعیمہ‘ منجولا ہو یا نرنجن کمار۔ اس ناول کے جملہ کردار تشخص‘ شناخت کے مسئلے سے دو چار ہیں۔ اس ناول میں مسلمانوں کے چار ٹائپ ہیں۔ عرفان‘ وقار‘ احمر‘ سفیر اور ابو ہاشم۔ بابری مسجد کے انہدام کے بعدمسلمانوں‘ ہر فرقے میں ایک کشمکش پیدا ہوتی چلی جا رہی ہے۔ ہر حساس مسلمان کہیں نہ کہیں اپنے اندر کچھ ٹوٹ پھوٹ کا احساس کر رہا ہے۔ شاید اسی لیے اس ناول میں جا بجا کربلا کا سا منظر پیش کیا گیا ہے۔ جس سے نثری مرثیہ یا مقاتل کا سماں پیدا ہو گیا ہے۔ اس حوالے سے کچھ نام مثلاً ’’اکھاڑہ میدان‘‘ کا استعمال کیا گیا ہے۔ نیز فساد کے خوف کا بیان کرتے ہوئے ناول نگار کا یہ کہنا کہ ’’یوں محسوس ہوتا تھا عاشورہ کی شب شروع ہونے والی ہے‘‘ پھر عرفان کا احتجاج کے طور پر سیاہ جھنڈا لہرانا فسادزدگان کی چیخ کی مماثلت بین کرتی ہوئی آواز سے دنیا وغیرہ سے آج کی سیاسی صورت حال کو کربلا میں پیدا ہونے والے خلفشار سے جوڑ کر معنی خیز اور دلدوز بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ عرفان جو وقار کا سیاسی گرو تھا جو سبق اس نے وقار کو پڑھایا تھا وہ خود بھول گیا اور وقار تن تنہا جیل میں بند محبوبہ سے دور طرح طرح کے سوالوں کے درمیان گھرا ہوا ہے ایسا لگتا ہے کہ وہ کربلامیں ہے وغیرہ سے موجودہ عہد کے مسلم نوجوانوں کے اندر کی بے چینی کا اظہار ہوتا ہے۔ عرفان قوم کے لیے لڑتے لڑتے تھک کر احمر کی گود میں بیٹھ جاتا ہے اور اپنی آئیڈیالوجی بھول جاتا ہے۔ احمر کو کوئی پریشانی نہیں ہے۔ وہ بھی سب کو بھلا بیٹھتا ہے۔ وقار اپنی الگ تنظیم بناتا ہے۔ فلاح و بہبود کا کام کرتا ہے۔ عرفان سے مل کر وہ بجھ جاتا ہے۔ مذکورہ بالا جملوں کو نگاہ میں رکھیں تو عرفان اور وقار کے کردار کے یہ پہلو اجاگر ہوں گے۔ انہیں نوجوانوں میں کہیں سفیر ہے جو ایک کامریڈ ہے۔ اس کی اپنی الگ شناخت ہے جس کا کردار ناول میں بلند اقبال کے مکالمہ سے ہوتا ہے۔ احمر بھی اپنی شناخت بنا چکا ہے مگر کہیں نہ کہیں اس کے اندر بھی جڑوں سے بچھڑنے کا درد ہے۔ تبھی تو وہ عرفان کی قوم پرستی پر طنز کرتا ہے۔ مسلمانوں پر طنز کرتا ہے اور عرفان کو آخر کار بدلنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ ادھر وقار جو اپنی تنظیم کے کاموں میں مصروف ہے۔ اس کی آئیڈیالوجی کو اس کی محبوبہ عافیہ رد کر رہی ہے۔ عرفان اپنی شناخت نہیں کھونا چاہتا لیکن مذکورہ بالا جملے میں آپ نے پڑھا کہ لمحہ بھر میں شناخت کے مسئلے کو منجولا نے یہ کہہ کر حل کر دیا کہ ’’ہوگا کوئی بہاری‘‘ مسئلہ یہ ہے کہ وہ بہاری ہے یا مسلمان؟ عرفان سیریل بنانے کا کام شروع کرتا ہے مگر پولس اس کے پیچھے لگی ہوئی ہے اس ڈر سے وہ اپنا نام بدلنے پر مجبور ہے۔ اپنے آپ کو بڑی مشکل سے وہ ’’راجہ‘‘ کہلوانے کے لیے تیار ہوتا ہے۔ اس کی شناخت کے ختم ہونے کایہ دوسرا مرحلہ ہے۔ عرفان سے راجہ بننے تک کی کہانی ایک بے کار مگر حساس انسان کی بے چارگی کی کہانی ہے۔ وقار کو عافیہ اور راجہ کو منجولا مل جاتی ہے۔ وقار کی عافیہ سیاست سے دور صرف روزی روٹی تک محدود ہے مگر منجولا سیاست میں ہی نہیں بلکہ تجارتی سیاست میں ماہر نظر آتی ہے اور ناول میں اپنے وجود کا بھر پور احساس دلاتی ہے۔ عرفان بدل چکا ہے۔ منجولا سے شادی کرنے کے بعد وہ ایک بچے کا باپ بن چکا ہے مگر ذرا سی ناچاکی ہوتی ہے اور منجولا اسے مسلمان اور خود کو ہندو کہہ کر تقسیم کر لیتی ہے۔ منجولا کا Radical Democretic انداز پل بھر میں پگھل جاتا ہے اور اصلی چہرہ سامنے آجاتا ہے۔ منجولا اور عرفان کی نوک جھونک کی مثال مذکورہ اقتباس میں موجودہ ہے۔ مثال دینے کی ضرورت نہیں۔
وقار آہستہ آہستہ اس مقام پر پہنچ جاتا ہے جو عرفان کے لیے ایک یوٹوپیا سے زیادہ کچھ نہیں۔ وقار کی محبوبہ عافیہ بھی اس کے طرف حیات سے قطعی اتفاق نہیں کرتی۔ سفیر اپنی پارٹی میں خوش ہے۔ وہ وقار سے ہمدردی رکھتا ہے مگر اس کی تنظیم سے خوفزدہ ہے۔ وقار پر آئی ایس آئی کا ایجنٹ ہونے کا الزام لگتا ہے اور وہ جیل کی دیواروں میں سسکنے لگتا ہے۔ اس وقت اس کی مدد کرتے ہیں سفیر جیسے لوگ‘ نرنجن کمار جیسے کامریڈ ۔ عرفان بھی کہاں آزاد ہے۔ وہ منجولا کی قید میں سسک رہا ہے۔ دونوں نے طے کیا تھا کہ اپنی ازدواجی رشتے کے درمیان مذہب کو نہیں لائیں گے۔ ہمارے درمیان صرف محبت کا رشتہ ہوگا۔ کچھ اس طرح کا معاہدہ تو ہمارے لیڈروں نے آزاد ہندوستان کے لیے کیا تھا۔ مگر آج ... ؟ خیر عرفان نے اپنے آپ کو بھلا دیا۔ وقار جیل سے نرنجن کمار اور سفیر کی لاکھ کوششوں کے باوجود رہا نہ ہو سکا اور پاگلوں سا ہو گیا۔
احمد صغیر نے ان کرداروں کو کوئی واضح رخ عطا نہیں کیاہے یا کسی حل کی طرف اس ناول میں پیش رفت نہیں کی ہے۔ اس کے کئی وجوہ ہیں۔ اول یہ کہ ناول کوئی سیاسی تھیوری نہیں ہے کہ اس سے یہ تقاضا کیا جائے کہ مسئلہ پنجاب کا حل اور مسئلہ کشمیر کا حل کیا ہے؟ لیکن مصنف کی تحریر میں کچھ اشارے کنائے ضرور ہوں جس سے قاری کے ذہن میں مزید کنفیوژن پیدا نہ ہو اور وہ اس ناو ل میں غور کرنے کے بعد تلاش کیا جا سکتا ہے۔ عرفان‘ وقار‘ احمر‘ ابو ہاشم اور سفیر کے کردار کے نشیب و فراز سے ظاہر ہوتا ہے۔ جیسا کے ہیگل نے کہا تھا کہ آپ وہ ہیں جو دوسرے کو سمجھ میں آتے ہیں۔ یعنی Your Identity is confirmed by others. منجولا نے عرفان کو مسلمان کہنے کے بجائے پہلے بہاری کہا تھا۔ مثالیں اوپر دی گئی ہیں151
مارکس نے کہا تھا آپ کی شناخت آپ کا طبقہ ہے۔ عرفان‘ وقار اور احمر متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ اردو اور ہندی کے بیشتر ناول اسی طبقے کی عکاسی کرتے ہیں اور یہی وہ طبقہ ہے جو سماج میں اکثر تبدیلی کا خواہاں ہوتا ہے۔ وقار اس رو سے غلط ہے۔ مارکس کہتا ہے کہ مذہب کو اپنی شناخت بنانے والے مغالطہ آمیز شعور False Consciousness کے شکار ہوتے ہیں۔ جدیدیت میں شناخت Rationality سے بڑی ہوئی ہے۔ یہاں یہ کہا گیاہے کہ آپ کا موجودہ حلیہ‘ حیثیت اور کامیابی ہی آپ کی شناخت ہے۔ احمر اور عرفان اسی پونجی وادی تصور سے ملتے جلتے انسان نظر آتے ہیں۔ مابعد جدیدیت کی رو سے ’’شناخت‘‘ ایک پیچیدہ اور کسی تعریف کے زمرے میں نہ آنے والی اصلاح ہے یعنی Identity is multy Lared. اوپر سے کچھ اور دکھے گا اور جب کھرچئے گا تو کچھ اور نکلے گا۔ آدمی اپنے مقام سے ہی اکثر پہچانا جاتا ہے اور وہ اپنی جڑوں سے ہی جڑتا ہے۔ منجولا فوراً رنگ بدل دیتی ہے ذرا سا کھرچنے پر 151 عرفان فوراً گرم ہو جاتا ہے۔ اس وقت جب نام بدلنے کی بات اس سے کہی جاتی ہے۔ عرفان اپنا نام مجبوری کی وجہ سے راجہ رکھتا ہے مگر اندر سے اسے کچوکے لگتے رہتے ہیں۔ وقار ابو ہاشم کی آئیڈیولوجی سے متفق نہیں ہو پاتا کیونکہ اس کی نگاہ میں بھی اپنی شناخت کے جلوے ہیں۔ جیل میں رہنا پسند کرتا ہے مگر ان لوگوں کی مدد لینا نہیں چاہتا جو ملک و قوم کو جھوٹے فلسفوں سے گمراہ کر رہے ہیں اور جن کا مذہب دہشت گردی ہے۔ پہلے وقار مصلحت پسند تھا۔ اسی وقت عرفان کے احتجاج کا رویہ اسے غلط معلوم ہوتا تھا151 اب عرفان مصلحت پسند بن چکا ہے۔ یعنی وہ سیاسی تجارت اور تجارتی سیاست کا حصہ بن چکا ہے۔ اپنے احتجاج اور اپنے آدرش کا گلا کھونٹ چکا ہے۔ احمر پہلے کچھ اور تھا اب مصلحت پسند بن کر زندگی کا لطف لے رہا ہے۔ سفیر کسی ایک آئیڈیولوجی کا شکار ہے اور عرفان‘ وقار‘ احمر کے مقابلے سکون سے ہے مگر اس میں تلاطم اور بے چینی نہیں ہے۔ وہ زندگی کے کسی ایک رخ پر چلنا مناسب سمجھتا ہے۔
ان تمام مباحث کے بعد بھی یہ وثوق سے نہیں کہا جا سکتا ہے کہ احمر کا اگلا قدم یا وقار کا اگلا قدم یا عرفان کا دوسری قدم حتٰی کہ سفیر کے اندر کون سا نیا پہلو پیدا ہو جائے گا یا کب وہ کون سے روپ میں ڈھلیں گے۔ احمد صغیر نے انہیں مسائل کو اس ناول میں چھیڑا ہے اور قاری کے ذہن میں طرح طرح کے سوال پیدا کر دیے ہیں جن کا جواب بذاتِ خود ایک ناول کا موضوع ہے۔ ایک تحریک کا اشاریہ ہے۔
اس اعتبار سے یہ ناول نیااور قابل مطالعہ ہے بلکہ اس موضوع پر اردو میں شاید ناول نہیں ہے لیکن احمد صغیرکے بعض ابواب اور کئی جگہ بیانیے میں جھول سا بھی محسوس ہوا۔ انہوں نے انتہائی اختصار سے کام لیا ہے جو بعض جگہ قاری کے ذہن میں الجھنیں پیدا کرتا ہے۔ اس ناول کی نثر تفتیشی ہے۔ (Discursive Prose) اور کہیں کہیں اخبار ی بھی۔ پورے ناول میں ایک یا دو جگہ تشبیہ کا استعمال کیا گیا ہے۔ بعض جگہوں پ بلیغ جملے بھی ہیں جو ریگستان میں کسی درخت کی طرح ہیں۔ احمد صغیر نے ایک ایسے موضوع کو اپنے کاندھے پر رکھ لیا ہے جو ہر ہر قدم ان کی سانس پھلا دیتا ہے۔ کیونکہ یہ سارے مسائل ناول کے قالب میں غالباً پہلی بار آئے ہیں مگر میڈیا نے نمک مرچ لگا کر ان مسائل کو بار بار قارئین کے سامنے پروسا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ احمد صغیر نے سامنے کی سچائی میں ناول ڈھونڈھا ہے۔ یعنی Crude Realism سے کام لیا ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ اگر ادبی سچائی یعنی تخیل سے بھی کام لیا جاتا ‘ زبان میں یعنی نثر میں گہرائی پیدا کی جاتی تویہ ناول یقیناًاردو کا ایک اچھا ناول بن جاتا۔ تاہم قصہ مختصر ’’جنگ جاری ہے‘‘ ایک ایسا متن ہے جو حوالے کے طور پر پڑھا جائے گا اور بہر صورت ناول کی تاریخ میں اپنا نام درج کرائے گا۔ کیونکہ یہ ناول قرۃ العین حیدر کے بعض ناولوں کی طرح ناول کے نام پر گھپلا نہیں ہے۔

***

 مضامین دیگر 

احمد صغیر
مضمون شامل کرنے کے لیے شکریہ
2017-07-19 18:23:35

Comment Form