صادقہ نواب سحر کے فکشن کا موضوع اور اس کی سحر انگیزی




محمد ریحان
05 May, 2018 | Total Views: 508

   

ڈاکٹر صادقہ نواب سحر کا نام محتاج تعارف نہیں ہے۔یہ بہ یک وقت ایک ناول نگار،افسانہ نگار،ڈرامہ نگار،شاعر اور ناقد ہیں اور ان تمام حیثیتوں سے انہوں نے قابل قدر خدمات انجام دی ہیں۔فی الوقت ایم سی کالج کھپولی (ممبئی یونیوسٹی) کے شعبۂ ہندی میں درس و تدریس کے پیشے سے منسلک ہیں۔عام طور پر درس و تدریس کے پیشے سے جڑے ہوئے لوگ تخلیق کی طرف کم ہی دھیان دیتے ہیں۔ڈاکٹر صادقہ نواب کا معاملہ اس کے بر عکس ہے۔ انہوں نے اردو، ہندی اور انگریزی میں درجن بھر سے زیادہ کتابیں لکھی ہیں جو شائع ہو کر قاری سے داد و تحسین حاصل کر چکی ہیں۔صادقہ نواب اردو ا ور ہندی دونوں حلقے میں یکساں طور پر معروف و مقبول ہیں۔ یہاں یہ ذکر کرنا شاید بے جا نہ ہو کہ صادقہ نواب نے اردو ،ہندی اور انگریزی تینوں زبان میں ایم اے کیا ہے۔ اس طرح انہیں مذکورہ تینوں زبان کے ادب کے مطالعہ کا براہ راست موقع ملا۔ان کی تخلیق میں زبان و بیان کی صفائی ،خیال کی پختگی اورلہجے کا سکون شاید ان کے وسیع مطالعہ کی دین ہیں۔مغربی ادب پڑھنے کے باوجود اپنی سوچ اور فکر سے صادقہ خالص مشرقی رائٹر ہیں۔یعنی وہ اس بات سے واقف ہیں کہ ہر زبان اور جغرافیہ کی اپنی ایک تہذیب ہوتی ہے اور اس زبان کا ادب اس تہذیب کا پابند ہوتا ہے۔آپ ان کا کوئی بھی افسانہ یا ناول پڑھیں اس میں مشرقی تہذیب کی جھلک نظر آئے گی۔صادقہ نواب کی ادبی خدمات اور کاوشوں پر ملے انعام و اکرام کی ایک لمبی فہرست ہے۔ مختلف ریاستوں کی اکادمیوں نے انہیں انعامات سے سرفراز کیا ہے جتنی پذیرائی صادقہ نواب کے حصے میں آئی اتنی پذیرائی کے ملنے پر اردو ادیب عام طور پر عرش معلی پر جا بیٹھتے ہیں۔اتنا زعم اور غرور آجاتا ہے کہ اگر ٹالسٹائی،کافکا، دوستو وسکی،بالزاک، چیخوف اور موپاساں کی جماعت بھی ان کے سامنے سے گزرے تو یہ انہیں پہچاننے سے انکار کر دیں۔صادقہ نواب سے کبھی ملاقات تو نہیں ہوئی لیکن ان سے بات ہوتی رہی ہے۔انہوں نے کبھی بھی اپنے آپ کو بڑے رائٹر کے طور پر پیش نہیں کیا۔ان کی ذات کی پہلی صفت تواضع اور خاکساری ہے۔ تکبر اور گھمنڈ انہیں چھو کر بھی نہیں گزرتا۔صادقہ نواب اپنے آپ کو ورجینا اولف ثابت نہیں کرتیں اور نہ ہی کسی دوسرے مصنف سے اپنا تقابل پسند کرتی ہیں۔وہ اپنی شخصیت کے ساتھ کسی سے روبرو اور ہم کلام ہوتی ہیں اور اپنی ہی سحر انگیز شخصیت سے متاثر کرتی ہیں۔کرائے کے ناقد کے دم پر زندہ رہنے والے ناول نگاروں کے درمیان ڈاکٹر صادقہ نواب نے اپنے ناول "کہانی کوئی سناو متاشا"کے ذریعہ اپنی شناخت خود بنائی۔قاری تک پہنچنے کے لئے کسی ناقد کا سہارا نہیں لیا۔بیساکھی کی ضرورت تو اسے ہوتی ہے جس کو اپنی تخلیق پر یقین نہیں ہوتا۔ایک ناول نگار کے لئے یہ خوش آئند بات نہیں کہ بھارے کا ناقد اس کی شخصیت کے ساتھ چیخوف یا کافکا کا جھوٹا لیبل لگا ئے۔ میری نظر میں کسی مغربی ناول نگار کے جھوٹے لیبل کے لگنے سے بہتر یہ ہے کہ قاری اس کا ناول پڑھے ، لطف اٹھائے، محظوظ ہو اور تبصرہ کرے ۔کہانی کوئی سناو متاشا کے منظر عام پر آنے سے پہلے بھی ان کانام ادبی حلقوں میں عزت و احترام سے لیا جاتا رہا ہے۔غالبا انہوں نے پہلے پہل شاعری کی۔یعنی ادبی سفر کا آغاز شاعری سے ہوا۔ بعد میں فکشن کی طرف رخ کیا۔عام لکھنے والوں کی طرح ان کے یہاں موضوع کا بحران نہیں ہے۔ موضوع کا بحران اس لئے کہا کہ آج کل اکثر لکھنے والے موضوعاتی بحران کے شکار ہیں۔معلوم نہیں آپ میری بات سے اتفاق کریں یا نہ کریں لیکن یہ بات سچ ہے کہ ایک تخلیق کار کے یہاں موضوعات کی سطح پر زوال تبھی آتا ہے جب وہ تخلیقی جبلت(Creative Instinct) سے محروم ہوتا ہے۔آج اردو کے اکثر فکشن رائٹر مثبت فکر کو تخلیقی پیکر عطا کرنے میں قاصر ہیں۔ان کے اندر وہ تخلیقی وجدان (Creative Intuition) ہی نہیں جو موضوعات کے منفی اور مثبت پہلووں کا ادراک کر سکے۔وہ جنسیات کے مرض میں مبتلا ہیں۔باپ اور بیٹی میں جنسی کشش ڈھونڈنے والے رائٹر کیا آفاقی ناول تخلیق کرسکتے ہیں؟یہ بات ایک حد تک درست ہے کہ آج جنسی بے راہ روی عام ہے۔جائز اور ناجائز رشتے کا فرق مٹ گیا ہے۔یہ بات بھی سچ ہے کہ جنسی بیماری نے انسانی ذہن کو اتنا کھوکھلہ کر دیا ہے کہ انسان گندگی میں گردن تک ڈوبے ہونے کے باوجود خود کو صاف و شفاف بتاتے ہوئے شرم محسوس نہیں کرتا۔جن کے نام پر عفت و عصمت کی قسم کھائی جاسکتی ہے وہی غلاظت میں ڈوبے ہوئے پائے جاتے ہیں۔ادب سماج کا آئینہ ہوتا ہے۔آئینہ نہ سیاہی کا دشمن ہوتا ہے اور نہ سفیدی کا دوست۔ اس لئے ناول اور افسانہ میں سماج کا ہر رنگ اور روپ نظر آتا ہے۔اس میں ہر طرح کے مسائل موضوع بنتے ہیں۔ لیکن ادب کو سماج کا آئینہ کہنے والے یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ آئینہ کا مطلب یہ نہیں کہ سماج اس میں اپنا چہرہ دیکھ اپنی اصلاح کرنے کی بجائے مزید اس گندگی کی کھائی میں گرتا چلا جائے۔تصادم اور فساد کے موضوع پر ناول لکھتے ہوئے ناول نگار کو یہ خیال رکھنا ضروری ہے کہ قاری پڑھ کر ہاتھ میں پتھر نہ اٹھائے۔اسی طرح ایک فیشن مذہب کے خلاف خاص طور پر اسلام کے خلاف لکھنے کا چل پڑا ہے.جسے دیکھو وہی مذہب کے خلاف لکھنے بیٹھ جاتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ مذہب کا مطالعہ کبھی کیا نہیں ہوتا ہے۔یہ در اصل صرف اور صرف اپنی ہرمزدگی کو جائز ٹھہرانے کی غرض سے اسلام کے خلاف زہر افشانی کرتے ہیں۔آج کل در اصل لوگ مقبول ہونے سے زیادہ مشہور ہونے کو ترجیح دینے لگے ہیں۔اس لئے کوئی سلمان رشدی کے نقش قدم کی پیروی کرتا ہے اور کوئی تسلیمہ نسرین کا پلو تھامے ہوا ہے۔اس فکر کے رائٹر کو ہم شر کا سفیر کہہ سکتے ہیں تخلیق کار نہیں۔ یہ یاد رہے کہ اس طرح کے موضوع پر لکھ کر کوئی مشہور ہو سکتا ہے مقبول کبھی نہیں ہو سکتا۔ اب جو مشہور اور مقبول کے درمیان کے فرق کو سمجھتے ہیں انہیں میری بات زیادہ سمجھ میں آئے گی۔آپ ادبیات عالم کا مطالعہ کر لیں جتنے بھی ناول بڑے اور عظیم تسلیم کئے جاتے ہیں ان میں اسلام کے خلاف مواد نہیں۔ صادقہ سحر صالح فکر کی خاتون ہیں۔ان کا تخلیقی وجدان نہ صرف موضوع کے انتخاب میں ان کی مدد کرتا ہے بلکہ کہانی کے بیانیہ میں بھی قدم قدم پر ان کی رہنمائی کرتا ہے۔ ان کے یہاں موضوعاتی بحران نہیں ہے۔سماجی اور معاشی حالات کے بیان میں جنسی مسائل ذیلی طور پر احتیاط کے ساتھ پیش کرتی ہیں۔ صادقہ نواب پختہ اور مثبت ذہن کی مصنفہ ہیں۔وہ عورت ہیں لیکن اپنی کہانیوں میں صرف عورت کو ہی سماج کا مظلوم نہیں ٹھہراتی ہیں۔ایسا اکثر ہوتا ہے کہ کہیں کہیں گھریلو زندگی میں بکھراو کے لئے خواتین قصوروار ہوتی ہیں۔رشتوں کے ٹوٹنے اور بکھرنے کی وہ بھی ذمہ دار ہوتی ہیں۔نام نہاد آزادئی نسواں کا نعرہ بلند کرنے والے ہر جگہ یہی پکار لگاتے ہیں کہ عورت مظلوم ہے عورت مظلوم ہے۔صادقہ نواب خود عورت ہیں۔نسوانی احساسات و جذبات کی ترجمانی بہتر طریقے سے کر سکتی ہیں اور کیا بھی ہے۔ لیکن حقوق نسواں کے علمبرداروں کی طرح اس کو تخلیقی سطح پر فیشن کے طور پر استعمال نہیں کیا۔مجھے صادقہ نواب کی طرح حقیقت پسند آج کم ہی ادیب نظر نہیں آتے ہیں۔وہ عورت اور مرد کی ذمہ داریوں سے بخوبی واقف ہیں۔وہ خود کو نام نہاد آزادئی نسواں کے علمبرداروں سے کیسے الگ کرتی ہیں اس کو ان کے ہی ایک شعر سے سمجھئے:
میں عورت ہوں یہ فطرت میں ہے میری
میں اپنا گھر بسانا چاہتی ہوں
اسی سوچ اور فکر نے صادقہ نواب سحر کے تخلیقی موضوعات کو مضبوطی فراہم کی ہے۔صالح فکر کی وجہ سے موضوعاتی بے راہ روی کی شکار نہیں ہوتی ہیں۔معاشی پریشانیوں کے تحت جنم لینے والی سماجی بیماریوں کا تجزیہ حقیقت پسندانہ طریقے سے کرتی ہیں اور یہی ان کی انفرادیت ہے۔وہ اپنی کہانی کے تانے بانے فریب کے پردے میں نہیں بنتیں۔ ان کی کہانی کا آغاز بھی ہماری نظروں کے سامنے ہوتا ہے اور اختتام بھی۔اسی لئے قاری ان کے ناول میں شروع سے آخر تک بندھا رہتا ہے۔ اسی انداز تحریر نے صادقہ نواب اور قاری کے درمیان کے رشتے کو مضبوطی فراہم کی ہے۔اب جس کی تحریر کا رشتہ براہ راست قاری سے جڑ جائے تو پھر بیساکھی کی ضرورت کیوں پڑیگی۔ 
’’کہانی کوئی سناو متاشا‘‘ صادقہ نواب کا پہلا ناول ہے۔ یہ ۲۰۰۸میں شائع ہو کر منظر عام پر آیا۔اس کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ۲۰۰۸ سے لیکر اب تک اس ناول پر ادبی حلقوں میں گفتگو اور بحث کا سلسلہ جاری ہے۔حالیہ دنوں میں اس پہ کئی مضامین لکھے گئے۔۲۰۰۸سے اب تک اس کے چار ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔اس کی اسی مقبولیت کی وجہ سے اس ناول کے ہندی،تیلگو،انگریزی اور مراٹھی زبان میں ترجمے کئے گئے۔حالانکہ اس ناول کے بعد ان کا دوسرا ناول ’’جس دن سے‘‘ اور افسانوی مجموعہ’’خلش بے نام سی‘‘ دونوں منطر عام پر آ گئے ہیں۔ لیکن قاری ابھی تک ’’کہانی کوئی سناو متاشا‘‘کے سحر میں گرفتار ہے۔ان کے پہلے اور دوسرے ناول کی ایک خاص بات یہ ہے کہ پہلے ناول کا مرکزی کردار متاشا ایک لڑکی ہے اور دوسرے ناول کا کردار جیتیش ایک لڑکا ہے۔پہلا ناول ایک لڑکی کی زندگی اور اس کے نشیب و فراز کا بیانیہ ہے۔ اس کردار کے تحت انہوں نے کئی سماجی اور نفسیاتی مسائل سے قاری کو روشناس کرانے کی کامیاب کوشش کی ہے۔اگرچہ اس ناول کی کہانی ایک لڑکی کے ارد گرد گھومتی ہے تاہم اس میں وہ چیخ و پکار نہیں ہے جو آزادئی نسواں کے حامی لگاتے ہیں۔اس میں عورت ذات کے کرب اور اس کی بے بسی کا ذکر ہے لیکن اس بے بسی کے پردے میں ناول نگار نے جنسیات کے پہلو کو بے باکانہ طریقے سے کریدنے کی کوشش نہیں کی ہے۔اگر وہ اس گوشے کو زیادہ چھیڑ چھاڑ کرتیں تو اصل تھیم سے بھٹک جاتیں۔ان کا موضوع در اصل سماج میں ایک لڑکی کے وجود کا ہے۔اس کے پیدا ہونے سے لیکر اس کے جوانی کی دہلیز تک پہنچنے پھر جوانی کے طوفان سے لیکر اس کے شانت ہونے تک کے تمام مراحل میں جتنے مسائل سے ایک عورت دوچار ہو سکتی ہے وہ اس ناول کا موضوع ہے۔صادقہ سحر کا کمال یہ ہے کہ وہ کسی ایک مرحلے میں رک کر کردار کے اندر دیر تک تانک جھانک نہیں کرتیں بلکہ ہر اسٹیج کو اس کے تقاضے کے اعتبار سے بیان کرتی چلی جاتی ہیں۔بچپن کا ذکر بچپن کے تقاضے کے اعتبار سے اور جوانی کا اس کے اپنے مطالبے کے اعتبار سے کرتی ہیں۔اگرچہ ناول میں پیش کی جانے والی کہانی کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا تاہم بادیء النظر میں اس کہانی کو عقل کی کسوٹی پر پرکھتے ضرور ہیں۔اگر عقل کی کسوٹی پر کہانی کھڑی نہیں اترتی تو اس میں دلچسپی قائم نہیں ہو پاتی۔اس کی پکڑ ڈھیلی پڑ جاتی ہے۔میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر ناول میں واقعات فطری طور پر آگے نہیں بڑھتے تو پھر کہانی میں قاری کی دلچسپی کم ہوتی جاتی ہے۔مذکورہ ناول میں ایک دو جگہ یہ کمی مجھے نظر آئی۔کہانی کے آغاز میں ہی یہ ذکر ملتا ہے کہ متاشا کے پردادا کے پردادا کنوینٹ کے پڑھے ہوئے تھے۔یعنی انگریزی تعلیم حاصل کی تھی۔کنوینٹ کی تعلیم آگے کی نسل بھی حاصل کرتی ہے۔اگر گھر میں ماڈرن تعلیم کی روایت تھی تو پھر ایسا کیسے ممکن ہے کہ ماڈرن ایجوکیشن لینے کے بعد بھی ان کے گھر کا ماحول وہی روایتی قسم کا رہا کہ جب متاشا محض چار سال کی عمر میں ایک دن گھر میں کھیلتے کھیلتے دروازے سے باہر قدم رکھتی ہے تو اس کی ماں اسے بے شرم اور بے حیا کہنے لگتی ہے۔
’’لکشمی موسی ٹھیک ہی کہتی ہیں کہ اس لڑکی کے چرتر ٹھیک نہیں ہیں‘‘
(کہانی کوئی سناومتاشا.ص:20

ماں کے اتنے سخت تیور دیکھنے کے بعد قاری کے ذہن میں یہ بات ضرور آئے گی کہ متاشا کے جوان ہونے پر اس کے گھر والے اسے باہر قدم رکھنے کی اجازت نہیں دیں گے۔لیکن پھرقاری کے ذہن کو جھٹکا لگتا ہے جب متاشا یہ کہتی ہے ۔ 
’’میں اسکول میں تھی ، کوئی نویں کلاس میں یہ ایک اڑیا اسکول تھا پڑھائی تو میری ٹھیک ٹھاک
تھی ہی۔ فیل کبھی نہیں ہوتی تھی۔‘‘
(کہانی کوئی سناو متاشا. ص: 24(
صرف اسکول ہی نہیں بعد میں اسے کولکاتہ کالج میں داخل کرایا جاتا ہے۔میں بحیثیت قاری یہاں پر دو زاویے سے سوچتا ہوں۔ایک تو یہ کہ محض چار سال کی عمر میں صرف دروازے پر قدم رکھنے سے اسے بے شرم اور بے حیا کہنے والی ماں نے کیسے اسے گھر سے دور داخلہ دلوایا۔ دوسرا یہ کہ اگر اس کے گھر میں ماڈرن تعلیم کا رواج تھا تو پھر اس کی ماں کا رویہ ایسا کیوں تھا کہ چار سال کی بچی میں حیا اور شرم تلاش کرنے لگی۔ناول نگار کو یا تو متاشا کے خاندان کے بزرگوں کے ماڈرن تعلیم کا ذکر نہیں کرنا چاہئے تھا یا پھر متاشا کے چار سال کی عمر میں گھر سے باہر قدم رکھنے پر ماں کا اتنا سخت رویہ نہیں دکھانا چاہئے تھا۔ میں پھر بحیثیت قاری کے ہی اس کی توضیح پیش کرتا ہوں کہ ممکن ہے ناول نگار کی یہ دانشتہ کوشس رہی ہو کہ شروع سے ہی قاری متاشا کی طرف متوجہ ہو جائے یا متاشا کی ہمدردی قاری کے دل میں قائم ہو جائے۔شاید اس لئے چار سال کی عمر میں جس میں عام طورپر بچے دروازے پر ہی کھیلتے ہیں متاشاکے ساتھ اس کی ماں کے زدو کوب کا منظر دکھایا گیا۔بزرگوں کی ماڈرن تعلیم کے ذکر کے پیچھے ممکن ہے ناول نگار کے ذہن میں موجودہ دور کے تعلیم یافتہ گھرانوں کا وہ دہرا معیار ہو کہ جہاں لڑکے اور لڑکیوں کی تعلیم پر آج بھی یکساں طور پر توجہ نہیں دی جاتی۔ متاشا اور اس کے بھائیوں کے دو الگ الگ اسکول میں پڑھنے کاواقعہ در اصل اسی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ناول پڑھتے ہوئے میرے ذہن کے پردے پر کئی طرح کے اعتراضات ابھر کر سامنے آئیں لیکن غور و فکر کے بعد ان کی توضیح بھی تلاش کرلی۔البتہ ایک چیز جو سمجھ میں نہ آ سکی وہ یہ کہ متاشا کا باپ کیوں بار بار متاشا کو بھرت سے قریب کرنے اور اس سے شادی کے لئے راضی کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ بھرت ایک آدای واسی اور غیر تعلیم یافتہ ہے۔ اس کا نہ خاندانی اور نہ ہی سماجی وقار بلند ہے۔ سب سے بڑی بات یہ کہ ناول میں کہیں پر بھی یہ اشارہ نہیں کہ اس رشتے میں اس کے والد کا کوئی ذاتی فائدہ ہے۔ ایک جملے میں محض آدی واسی کے دولت مند ہونے کا ذکر ہے لیکن وہ بھی براہ راست نہیں۔ بھرت کے ساتھ متاشا کی شادی سے اس کے والد
کو براہ راست فائدہ پہنچنے کا ذکر ہوتا تو اس پلاٹ میں جان پیدا ہوجاتی۔
اپنے دوسرے ناول میں صادقہ نواب نے ایک ایسے لڑکے کی داستان پیش کرنے کی کوشش کی ہے جسے نہ باپ کا پیار ملتا ہے نہ ماں کی محبت۔ماں باپ کی طرف سے نہ ملنے والی فطری محبت کا انسان کی زندگی پر کیا اثر ہوسکتا ہے اسے اس ناول سے بخوبی سمجھا جا سکتا ہے۔ ایک طرح سے یہ ناول در اصل خالص نفسیاتی قسم کا ہے۔کیونکہ ماں باپ کی دوسری شادی کر لینے سے جیتیش کے دل اور دماغ میں کیا چل رہا ہوتا ہے اس کو ناول نگار نے کردار کے مکالمے اور اس کے عمل سے بخوبی واضح کیا ہے۔یعنی اس ناول میں در اصل صادقہ نواب نے ہر اسٹیج پرجیتیش کے کردار کو سمجھنے اور سمجھانے کے لئے تحلیل نفسی (Psycho Analysis)سے کام لیا ہے۔ ایک بہت دلچسپ اور قابل غور بات یہ ہے کہ ان کے دونوں ناول کے پلاٹ میں بہت حد تک یکسانیت ہے۔ ایک میں متاشا کی زندگی کا المیہ بیان کیا گیا ہے تو دوسرے میں جیتیش کی زندگی کے نشیب وفراز کا واقعہ پیش کیا گیا ہے۔جس طرح متاشا پہلے پہل اپنے ہی گھر کے ماحول سے جوجھتی ہے اس طرح جیتیش کی زندگی پر سب سے پہلے اس کے والدین کے غیر ذمہ دارانہ فیصلے اور خود غرضی کا منفی اثر پڑتا ہے۔ ناول میں جس طرح متاشا کے رابطے میں کئی مرد اور لڑکے آتے ہیں جو اس کی کمزوری کا فائدہ اٹھاکر اس کی عزت ناموس کرتے ہیں اسی طرح دوسرے ناول میں بھی جیتیش کی زندگی میں کئی لڑکیاں آتی ہیں لیکن سب وقتی اور مطلبی نکلتی ہیں۔ کسی کی محبت ٹھوس،پائدار اور سچی نہیں ہوتی۔یک طرف متاشا ہے جو اپنی زندگی بہتر کرنے کی اپنی بساط بھر کوشش کرتی ہے ، ہر طرح کے حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کرتی ہے اور زندہ رہنے کا جتن کرتی رہتی ہے۔ اس کا فولادی حوصلہ اور Optimistic Attitude آخری وقت تک اس کے ساتھ رہتا ۔ دوسری طرف جیتیش ہے جو ماں باپ کی محبت سے محروم ہے۔ اس کو بھی حالات کے سرد و گرم سے سابقہ پڑتا ہے۔ زندگی کے بھنور میں اس کی کشتی کبھی ڈوبتی ہے کبھی سطح آب پر ابھرآتی ہے۔جیتیس اپنی زندگی موج و ساحل کے درمیان بسر کرتے ہوئے اپنی قوت ارادی اور صبر و تحمل سے ایک وکیل بننے میں آخر کار کامیاب ہو جاتا ہے۔ دونوں ہی کردار ناول کے آخر میں جس طرح کا فیصلہ لیتے ہیں وہ قاری کے ذہن پر مثبت اثر ڈالتے ہیں۔ ناول کے اندر بیان کئے گئے واقعات ایک جیسے تو نہیں لیکن واقعات کی نوعیت ایک جیسی ضرور ہے۔صادقہ نواب کی فنکاری اور تخلیقی ہنر مندی کی داد دینا ہوگی کہ بظاہر واقعات کی نوعیت کی یکسانیت کے دونوں نالوں کے تھیم میں کوئی یکسانیت پیدا نہیں ہوتی۔ دونوں کے موضوع مختلف ہیں، کردار الگ ہیں اور قاری پر دونوں کے مختلف طرز کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔’’کہانی کوئی سناو متاشا‘‘کا موضوع عورت کا وجود، جنسی نا برابری اور استحصال ہے جبکہ ’’جس دن سے‘‘کا موضوع مرد کا وجود اور اس کا استحصال نہیں بلکہ اس کا تھیم یہ ہے کہ فطری محبتوں کے فقدان سے انسانی ذہن و دماغ پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں اور محبت سے محروم شخص کس نفسیات میں جی کر اپنی شخصیت کی تعمیر کرتا ہے۔ اس کے علاوہ دونوں ناولوں کے ذیلی موضوعات بھی ہو سکتے ہیں جن کا ذکر غیر ضروری ہے۔
صادقہ نواب کے پہلے ناول میں مرکزی کردار کے طور پر ایک لڑکی کو پیش کئے جانے کے بعد دوسرے ناول میں لڑکا کو مرکزی کردار کے طور پر پیش کرنے کے پس پردہ کوئی خاص وجہ تو نہیں؟اگر سرسری طور پر اس سوال پر نظر ڈالیں تو یہ بے تکا سا لگتا ہے لیکن تھوڑی سی سنجیدگی سے اس کے اسرار رموز پر غور کریں تو اس کی اہمیت ظاہر ہو جاتی ہے ۔کیا انہیں اس بات کا خدشہ تھا کہ بونے اور متعصب ناقدین ان کے
پہلے ناول کے موضوع کی مناسبت سے ان کی فکر پر تانیثیت کا لیبل لگا کر ان کی ہمہ جہت شخصیت کو محدود کرنے کی کوشش کریں گے؟؟اس سوال سے ایک بار پھر ہم ’’کہانی کوئی سناو متاشا‘‘ کی طرف لوٹتے ہیں۔ مذکورہ ناول پڑھتے ہوئے کیا یہ احساس ہوتا ہے کہ ناول نگار نےFeminismکے نظریے کو جبری طور پر پیش کیا ہے؟صادقہ نواب کوئی ہنگامی یا وقتی قسم کی ناول نگار نہیں ہیں۔میں نے پہلے بھی ذکر کیا ہے کہ ان کے یہاں ٹھہراو اور سکون کی کیفیت پائی جاتی ہے۔ انہیں معلوم ہے آئیڈیولوجی کے جبری پیش کش سے تخلیق کی نہ صرف عمر کم ہو جاتی ہے بلکہ اس کا حسن بھی ختم ہو جاتا ہے۔وہ جانتی ہیں کہ بہت بلند آواز میں کوئی زیادہ دیر تک چیخ نہیں سکتا۔ ’’کہانی کوئی سناو متاشا‘‘ کی کہانی اعتدال اور توازن کی بہترین مثال ہے۔ ناول میں عورت کے وجود سے جڑے مسائل کا بیان ہے لیکن ناول نگار نے عورت کی حمایت کرتے ہوئے سارے مرد کو کٹہرے میں نہیں کھڑا کیا۔ ارادی طور پر ہو یا غیر ارادی طور پر صادقہ نواب نے متاشا پر سختی کا پہلا واقعہ اس کی ماں کی طرف سے دکھایا ہے۔یہیں سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ انہوں نے غیرجانب درانہ طریقے سے ایک مسئلہ کو تخلیقی پیکر عطا کرنے کی کوشش کی ہے نہ کہ تانیثی نظریے کو کہانی کی آڑ میں پیش کرنے کی سعی کی ہے۔ اس ناول میں کئی مرد کردار جیسے سمیر، لکی اور خود متاشا کے ادھیر عمر کے شوہر کا مثبت رویہ پیش کیا گیا ہے۔ کہانی کو اختتام تک پہنچانے میں نہ تو بہت عجلت سے کام لیا گیا ہے اور نہ ہی بہت آہستہ روی سے۔ کہانی فطری طور پر توازن کے ساتھ آگے بڑھتی جاتی ہے اور خود انجام تک پہنچنے کا راستہ ہموار کرتی چلی جاتی ہے۔صادقہ نواب عورت کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے جذبات کی رو میں نہیں بہتیں۔ وہ جبری طور پر نظریات پیش کرنے سے زیادہ احساس کی ترسیل میں یقین رکھتی ہیں۔اس لئے ان کی تخلیق میں نظریات کے غالب ہونے کا امکان کم رہتا ہے۔بہر کیف ناول اپنے موضوع ،تکنیک اور فن کے اعتبار سے مکمل ہے۔ لیکن چونکہ موضوع عورت کے وجود کا ہے اس لئے غالب امکان تھا کہ ناقدین وقت ان کے خلاف کسی خاص نظریے کے پرچارک کا فتوی صادر کر دیتے۔ شاید اس لئے صادقہ نواب نے اپنے دوسرے ناول ’’جس دن سے‘‘میں ایک لڑکا کو مرکزی کردار کے طور پر پیش کیا اور موضوع کا دھارا بھی بدل دیا۔ ناول میں جیتیش کے باپ کا رویہ منفی ہے تو اس کی ماں کا کردار بھی مثبت نہیں کہا جا سکتا۔ اس کے علاوہ ناول میں کئی عورت کے کردار منفی ہیں۔ 
دونوں ناول کے موضوعات اور کرداروں کے پیش کش کے تقابلی مطالعے سے یہ بات صاف ظاہر ہو جاتی ہے کہ ناول نگار نے دوسرا ناول اپنے اوپر کسی بھی طرح کے ٹیگ کے لگنے سے بچنے کے لئے لکھا ہے۔اب اگر یہ بات صحیح بھی ہے کہ صادقہ نواب نے اپنا دوسرا ناول در اصل پہلے ناول کی وجہ سے اپنے تئیں قائم ہونے والے ایک خاص نظریے سے بچنے کھ لئے لکھا ہے تو بھی یہ کوئی جرم نہیں ہے۔ جرم تب ہوتا جب وہ تخلیقی سطح پر اپنے موضوع کے ساتھ انصاف کرنے میں ناکام رہتیں۔ایک اچھا تخلیق کار کسی بھی موضوع پر کہانی لکھنے سے پہلے وہ خود اس کہانی کا حصہ بن جاتا ہے ۔ اس کے ایک ایک کردار کی زندگی خود جیتا ہے اور اس کے احساسات و جذبات اپنے اندر جذب کر لیتا ہے۔جب اس پروسیس سے ہو کہانی صفحۂ قرطاس پر اترتی ہے تو وہ فن کی کسوٹی پر بھی کھڑی اترتی ہے۔صادقہ نواب کہانی کی تخلیق سے پہلے وہ کہانی کا حصہ بن کر کردارکی روح میں اتر جاتی ہیں۔ ان کے دوسرے ناول کو پڑھتے ہوئے پہلے ناول کی طرح ہی فنی تکمیلیت کا احساس ہوتا ہے۔کردار چاہے متاشا کا ہو یا جیتیش کا دونوں کے ساتھ ناول نگار کا Treatmentفطری ہے۔ صادقہ نواب عورت کا کردار پیش کرنے میں بھی کامیاب ہیں اور مرد کا کردار بھی۔صادقہ نواب دو متضاد صنف کے کردار کو یکساں طور پر پیش کرنے میں کامیاب اس لئے ہیں کہ وہ ایک عورت ہونے سے پہلے ایک تخلیق کار ہیں۔ایک تخلیق کار کا ایک جنس ضرور ہوتا ہے لیکن وہ فن اور نظریے کو کسی جنس کے تحت نہیں دیکھتا ۔ یہی معاملہ صادقہ نواب کے ساتھ ہے۔ وہ عورت ضرور ہیں لیکن ایک اوریجنل فنکارہ اور تخلیق کار ہیں اس لئے وہ نظریات اورفن کو جنس سے اوپر اٹھ کر دیکھتی ہیں۔ ان کی Originalityکو ان کا فن واضح کرتا ہے چاہے وہ ناول کا فن ہو یا افسانے کا۔
صادقہ نواب سحر نے ناول کے ساتھ ساتھ افسانے بھی لکھے ہیں۔ان کے دو مجموعے اب تک شائع ہو چکے ہیں۔ان کے ناول اور افسانوں کے بیانیہ میں کوئی نمایاں فرق نہیں۔کہانی لکھتے ہوئے وہ اتنی ہی بات کہتی ہیں جتنی کہ موضوع کی ترسیل و تفہیم کے لئے ضروری ہوتی ہے۔ وہ قاری اور اس کی فہم و فراست پر مسلط نہیں ہوتیں۔ یعنی وہ افسانہ لکھتے ہوئے قاری کو Dictateکرانے کے بجائے اصل مدعا تک پہنچنے کے لئے کچھ اشارے کر دیتی ہیں۔اب قاری اگر سنجیدہ ہوتا ہے تو ان اشاروں کو سمجھ لیتا ہے نہیں تو افسانہ کو ناقص قرار دے دیتا ہے۔صادقہ نواب لفظوں کے بے جا استعمال سے ہر جگہ گریز کرتی ہیں۔ جنسیات کے موضوع پر بھی لکھتے ہوئے لفظوں کو برہنہ ہونے سے بچا لے جاتی ہیں۔صادقہ نواب اس امر سے واقف ہیں کہ کہانی میں تفصیلی منظر کشی کی ضرورت کہاں پر زیادہ اثر دار ہوتی ہے اور کہاں اشاروں کی اہمیت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔اگر ایک اشارے سے قاری وہاں تک پہنچ سکتا ہے جہاں ناول نگار یا افسانہ نگار اسے لے جانا چاہتا ہے تو پھر کاغذ پر نقشہ بنانے کی کوئی ضرورت نہیں۔اگر کوئی ناول نگار یا افسانہ نگار اشارہ و کنایہ کے بجائے نقشہ ہی کھینچ دے تو قاری اس کا مطلب یہی اخذ کرے گاکہ ناول نگار اس کی ذہانت اور علمیت پر اعتبار نہیں کرتا۔ عام طور پر ناول اور افسانے پر گفتگو کرتے ہوئے زبان و بیان کے حوالے سے بھی گفتگو کی جاتی ہے ۔ اس ضمن میں میرا صرف یہ ماننا ہے کہ زبان پر مکمل گرفت کے بغیر تخلیق کی طرف رخ کرنے کا ارادہ کرنا ہی گناہ ہے۔یہ اردو زبان وادب کی خوش قسمتی ہے کہ موجودہ دور میں اس میں جو چار پانچ لکھنے والے ہیں ان کے زبان و بیان کے بارے میں کوئی کلام نہیں کر سکتا۔ان چند لکھنے والوں میں ایک اہم نام صادقہ نواب سحر کا بھی ہے۔ان کے زبان و بیان پر گفتگو کرتے ہوئے شہاب ظفر اعظمی نے لکھا ہے :
’’در اصل صادقہ اس بات کی قائل ہیں کہ برہنہ حرف نہ گفتن کمال گویا ئیست۔ اس لئے وہ کیا 
کہنا ہے سے زیادہ اس پر توجہ دیتی ہیں کہ کیا نہیں کہنا ہے۔‘‘

(اردو فکشن ڈاٹ کام(
افسانہ لکھتے وقت یہ دھیان میں رکھنا ضروری ہوتا ہے کہ کوئی ایسا موضوع منتخب نہ کیا جائے جس کو چھوٹے کینوس پر پیش کرنا مشکل ہو کیونکہ افسانہ میں زیادہ پھیلنے کی گنجائش نہیں ہوتی۔ایک بڑے کینوس کی چیز کو چھوٹے کینوس پر اتارنے کی کوشش میں اکثر افسانہ بکواس ہو کر رہ جاتا ہے۔البتہ جو فنکار کمال فنکاری سے ایسا کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو پھر وہ ادب کا پریم چند ہو جاتا ہے۔صادقہ نواب اس حقیقت سے واقف ہیں کہ افسانے کا کینوس چھوٹا ہوتا ہے اس لئے وہ اپنے افسانوں کے لئے ایسے موضوع کا انتخاب کرتی ہیں جس کو فنی لوازم کے ساتھ پیش کرنے میں دشواری نہ ہو۔مثال کے طور پر ان کے افسانے ’’شیریان والی‘‘،’’ٹی شرٹ‘‘،’’ایس ایم ایس‘‘ اور ’’ابارشن‘‘ وغیرہ کو دیکھیں ان میں کوئی بلند خیالات یا زندگی کا بہت بڑا اور گہرا نظریہ نہیں پیش کیا گیا ہے۔ان میں ہماری عام زندگی اور نئے دور کے چھوٹے چھوٹے مگر اہم مسائل کو موضوع بنایا گیا ہے۔کہیں رشتوں کے بکھرنے پر افسوس کا اظہار ہے، کہیں نئے دور کے کھلے پن اور برہنہ پن پر بزرگوں کی حیرانی ہے ، کہیں نئی نسل پر انفارمیشن اور ٹکنالوجی کے منفی اثرات کا ذکر ہے اور کہیں انسان کی خود غرضی کی کہانی ہے۔ یہ وہ موضوعات ہیں جن کو مختصر سے افسانے میں پیش کیا جا سکتا ہے اور صادقہ نواب نے یہی کیا ہے۔ لیکن ظاہر ہے ان موضوعات پر صرف صادقہ نواب کی نظر نہیں۔ اور بھی لکھنے والے ان موضوعات پر افسانے لکھتے ہیں اور لکھ رہے ہیں۔لیکن ان کے درمیان صادقہ نواب کی انفرادیت ان کے لہجے کی سادگی میں ہے۔زبان و بیان کی گھن گرج اور تیزی سے قاری کو متاثر کرنے کے بجائے احساس کی شدت سے قاری کو مسحور کرتی ہیں۔ صادقہ نواب اپنے افسانوں میں مغرب سے درآمد کئے گئے نظریات کو خالص مشرقی موضوعات کے ساتھ خلط ملط نہیں کرتیں۔جیسا کہ آج کل یہ فیشن بنا ہوا ہے کہ فرائڈ اور یونگ کے نظریات کو اکثر افسانہ نگار اور خاص طور پر کچے’’لکھاڑی‘‘ خالص مشرقی موضوعات کے ساتھ پیش کرنے میں افسانے کے فن کا گلا گھونٹ رہے ہیں۔ صادقہ نواب کے افسانوں میں فکر کی بلندی سے زیادہ احساس کی شدت ہے ۔ اب جیسے ان کا افسانہ’’منت‘‘ پڑھیں۔ اس میں کوئی بہت بلند خیال پیش نہیں کیا گیا ہے۔ ایک لڑکی کا رشتہ محض اس لئے کہیں طئے نہیں پاتا کہ اسے ماہواری نہیں آتی ہے۔حالانکہ اس کے دل میں شادی کے ارمان ہیں۔ وہ چپکے چپکے محبت بھی کرتی ہے لیکن اس کے دل کے نہاں خانے میں ایک معلوم درد بھی ہے کہ اس کی شادی ممکن نہیں۔کہانی کے شروع میں افسانہ نگار نے ’’مکتا‘‘ کی ماں کے مندر میں منت مانگنے کا واقعہ بیان کیا ہے۔ اس کی ماں مندر جاتی ہے اور بھگوان کے سامنے یہ گوہار لگاتی ہے کہ اگلے سال وہ تبھی آئے گی جب اس کی بیٹی شادی کے لائق ہو جائے گی۔دوسری طرف ’’مکتا‘‘جس لڑکے سے خاموش محبت کرتی ہے وہ باہر سے شادی کر کے جس لڑکی کو اپنے گھر لاتا ہے اس کی کوکھ بھی بنجر ہوتی ہے۔ لڑکے کی ماں مندر جاتی ہے اور منت کرتی ہے کہ اب وہ مندر تبھی آئے گی جب اس کی بہو کی گود بھر ے گی۔کہانی یہیں ختم ہو جاتی ہے۔کہانی کا یہ اختتامیہ انداز موپاساں کی کہانیوں سے بہت قریب ہے۔ کہانی کے ختم ہوتے ہی قاری ایک عجیب و غریب احساس میں جکڑا ہوا محسوس کرنے لگتا ہے۔اس کہانی میں احساس کی شدت اس لئے بڑھ جاتی ہے کہ لڑکے کی ماں کو یہ پتہ ہوتا ہے کہ ’’مکتا‘‘ اس کے بیٹے ’’ببن راو‘‘سے محبت کرتی ہے لیکن وہ اس محبت کو شادی میں اس لئے نہیں بدلنا چاہتی ہے کہ ’’مکتا‘‘ کو ماہواری نہیں آتی۔ اب جب یہ مندر جا کر اپنی بہو کی گود بھر دینے کی دعا مانگتی ہے تو قاری بس احساس کے دریا میں غرق ہو جاتا ہے۔ صادقہ نواب کی یہ کہانی در اصل ایک بڑے کینوس کی کہانی ہے لیکن انہوں نے اس کہانی کو کمال فنکاری سے محض نو صفحات میں پیش کر دیا۔اس ذیل کے افسانے کم ہیں جن میں بڑے کینوس کی کہانی پیش کی گئی ہے لیکن ان کے ان افسانوں کی تعداد بہت ہے جن میں احساس کی شدت موجود ہے۔ ان کے ناول اور افسانے کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ ان میں ممبئی اور آس پاس کے شہر اور گاوں بار بار نظر آتے
ہیں۔ بعض دفعہ ایک ہی جگرافیائی نقشے پر چلنے والی کہانی سے بیزاری کی کیفیت پیدا ہونے لگتی ہے۔ ان کی ہر کہانی یا تو مہاراشٹرا میں جنم لیتی یا وہاں ختم ہوتی ہے۔یہ در اصل صادقہ نواب کی ممبئی سے ایک خاص لگاو اور محبت کی علامت بھی ہے۔ بہر کیف صادقہ نواب سحر کے افسانے اور ناول فنی اور موضوعاتی اعتبار سے کامیاب ہیں۔۔ اردو زبان ان پر جتنا ناز کرے کم ہے۔
 ریسرچ اسکالر، جامعہ ملیہ اسلامیہ
skhansahil9@gmail.com
9540382480
 

 مضامین دیگر 


Comment Form



اردو فکشن

© 2017 Urdu Fiction. All right reserved.