جدید افسانے کا فن




پروفیسر طارق چھتاری
01 Oct, 2017 | Total Views: 1450

   

افسانہ ایک ایسی صنف ادب ہے جس کی عمر سب سے کم ہے لہٰذا ابھی تک اس کی جامع اور مکمل تعریف متعین نہیں ہوسکی ہے۔ افسانوں کا مطالعہ کرنے سے چند اجزائے ترکیبی سامنے آتے ہیں۔ ان میں سے کچھ ایسے ہیں جو کم وبیش ہر افسانے میں موجود ہوتے ہیں اور چند خال خال ہی نمایاں ہوپاتے ہیں۔ افسانے میں جن جن عناصر کا وجود ملتا ہے ان کا ذکر آگے آئے گا لیکن ضروری نہیں کہ تمام عناصر کسی ایک افسانے میں بیک وقت موجود ہوں۔ 1960ء کے بعد اردو اور ہندی افسانوں نے اپنی ہیئت اور موضوع دونوں میں تبدیلی کی ہے لہٰذا ان میں چند نئے عناصر بھی داخل ہوگئے ہیں۔ اردو میں جدید رجحان کے تحت اور ہندی میں نئی کہانی تحریک نے افسانے کی پرانی اور مروجہ تعریف کو نامکمل بنا دیا ہے۔ اس مضمون میں ہندی اور اردو دونوں رجحانات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے افسانے کے فن کا جائزہ لینے کی کوشش کی گئی ہے۔
کہانی پن 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
افسانے کا فن بنیادی طورپر کہانی کہنے کا فن ہے۔ اگر کسی افسانے میں ’’کہانی پن‘‘ نہیں ہے تو وہ افسانہ مضمون، انشائیہ یا محض نثر کا ایک ٹکڑا ہی معلوم ہوگا۔ 1960ء کے بعد اردو میں ایسی کہانیاں بھی لکھی گئی ہیں جن میں کہانی پن کا فقدان ہے یا ان کا عدم وجود برابر نظر آتا ہے۔ مثال کے طورپر سریندر پرکاش کی کہانی ’’تلقارمس‘‘ میں یہ عنصر قطعاً مفقود ہے۔ کسی افسانے میں کہانی پن ہے یا نہیں ، اسے پررکھنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ جب کوئی کہانی پڑھ چکے تو اس افسانے کی کہانی زبانی سنانے کو کہا جائے، اگر اس میں کہانی پن ہوگا تو خواہ کیسی بھی تجریدی کہانی کیوں نہ ہو اور واقعات کو کتنا ہی توڑ مروڑ کر یا ان کی ترتیب بگاڑ کر کیوں نہ پیش کیا گیا ہو، زبانی بیان کرتے وقت سنانے والا لا شعوری طورپر اپنے حساب سے واقعات کو ترتیب دے کر کہانی سنا دے گا جیسے انور سجاد کی کہانی ’’مرگی‘‘ جو ایک تجریدی کہانی ہے اور بظاہر اس کی کوئی ہیئت نظر نہیں آتی لیکن اس میں کہانی پن موجود ہے اور اس کو زبانی سنانا عین ممکن ہے۔
مگر اس کے برخلاف سریندر پرکاش کی کہانی ’’تلقارمس‘‘ میں اور دوسری خوبیاں تو ہیں مثلاً ’’شعور کی رو‘‘ جیسی تکنیک سے بھرپور کام لینے کی کوشش کی گئی ہے مگر اس میں کہانی پن کا حددرجہ فقدان ہے لیکن ایسا زیادہ تر کہانیوں میں نہیں ہے۔ اکثروبیشتر جدید کہانیوں میں بھی یہ عنصر پایا جاتا ہے۔ یہ دوسری بات ہے کہ اب اس کی صورت بدل چکی ہے اور اب کہانی پن اس انداز سے نہیں ملتا جس انداز سے پریم چند یا ترقی پسند افسانہ نگاروں کے یہاں پایا جاتا تھا۔ آج کے تناظر میں ’’کہانی پن‘‘ کی تعریف شمس الرحمن فاروقی کے الفاظ میں ملاحظہ ہو:
’’.....’’
کہانی پن ‘‘ سے مراد ہے کہانی کی وہ صنف جس کے ذریعہ وہ آگے بڑھتی ہے لیکن آگے بڑھنا بھی ہمیشہ سیدھی لکیر میں بڑھنے کے مترادف نہیں ہوتا۔ بعض اوقات کہانی اپنے گردوپیش میں پھیلتی ہے یعنی جن واقعات کا اس میں ذکر ہوتا ہے وہ زمانی ترتیب سے نہیں درج کیے گئے ہوتے بلکہ ممکن ہے بیک وقت مختلف کرداروں کو الگ الگ پیش آرہے ہوں یا ممکن ہے کہ وہ ایک ہی کردار کے محسوسات، اس کی یادیں، اس کے تاثرات ہوں۔ ممکن ہے محض تاثرات کا بیان اس طرح ہو کہ اس میں کہانی کو پھیلنے کا موقع مل جائے۔بہر حال کہانی، کہانی پن کے ذریعہ آگے بڑھتی ہے اورآگے بڑھنا واقعے کی کثرت کے مرادف ہوتا ہے اگر اس کثرت میں کسی طرح کی زمانی ترتیب نہ ہو تو آگے بڑھنے کا احساس فوری اور شدید نہیں ہوتا لیکن کہانی بڑھتی اورپھسلتی ضرور ہے کیو ں کہ کہانی کسی ایک نقطے کسی ایک لمحے کا نام نہیں ہے بلکہ ایک سلسلے کا نام ہے۔ اس سلسلے میں زمانی ربط ہوسکتا ہے، تاثراتی ربط ہوسکتا ہے یا محض وہ ربط ہوسکتا ہے جو ایک کردار کے مختلف صورت حال سے دوچار ہونے یا کئی کرداروں کے کئی صورت حالات سے دوچار ہونے یا ایک ہی صورت حال سے دوچار ہونے سے پیدا ہوتا ہے۔‘‘
 )
شمس الرحمن فاروقی: اردو افسانہ: روایت اور مسائل ص704(
اگر کوئی افسانہ قاری کو یہ سوال کرنے پر آمادہ کرے کہ ’’پھر کیا ہوا‘‘؟ تو یہ بات افسانے میں کہانی پن ہونے یا نہ ہونے کی دلیل نہیں ہے۔ ہاں اس سوال کا یہ مطلب ضرور ہوسکتا ہے کہ افسانے میں تجسس کا عنصر موجود ہے۔
’’کہانی پن‘‘ کیا ہے؟ یہ سمجھنے کے لیے ہمیں ان دوکہانیوں ’’مرگی‘‘ اور ’’تلقارمس‘‘ کی مدد لینی ہوگی۔ دونوں جدید کہانیاں ہیں۔ ایسی کہانیاں جنہیںANTI STORYکہا گیا ہے ۔ یعنی دونوں تجریدی کہانیاں ہیں لیکن جیسا کہ پہلے کہا جاچکا ہے کہ ’’تلقارمس‘‘ میں ’’کہانی پن‘‘ نہیں ہے جب کہ تجریدی (یعنی ایسی کہانی جس کی کوئی ہیئت کوئی جسم نہ ہو) .ہوتے ہوئے بھی ’’مرگی‘‘ میں کہانی پن کا عنصر موجود ہے۔ کہانی ’’تلقارمس‘‘ سے چند اقتباسات ملاحظہ ہوں:
)
کہانی یہاں سے شروع ہوتی ہے)۔ ’’ستمبر کے مہینے میں آنسو گیس کا استعمال ٹھیک نہیں۔ ان دنوں کسان شہر سے راشن کا رڈ کا بیج لینے آیا ہوتا ہے وہ بڑے مہمان نواز قسم کے لوگ تھے۔ انہوں نے انڈوں کی جگہ اپنے بچوں کے سرابال کر اور روٹیوں کی جگہ عورتوں کے پستان کاٹ کر پیش کردیے مگر آخری وقت جب میں نزع کے عالم میں تھا وہ میرا راشن کارڈ چرانے کی ترکیبیں سوچ رہے تھے۔ انہوں نے اپنے خوانچے اونچی اونچی دیواروں پر لگا رکھے تھے اور نیچے وادی میں جھونپڑیاں جل رہی تھیں۔ جھونپڑیاں جلنے تک گاڑی پلیٹ فارم پر آجاتی ہے اور سب لوگ آگے آگے بڑھ کر اپنی اپنی لاش پہچان لیتے ہیں۔ پھر وہ گرم کباب کی ہانک لگاتے کوئی نہ پوچھتا کس عزیز کے گوشت کے کباب ہیں۔ آج کتنے بڈھے جمع ہوئے درخت نے کتنی بار جھک کر سلام کیا توری کے بیل پر کتنے پھول لگے...‘‘
اس اقتباس میں بہت سی باتیں ہیں۔ اگر کوئی سوال کرے اس میں کیا لکھا ہے تو قاری کچھ اس قسم کے جواب دے گا
۱۔ ستمبر کے مہینے میں کسان اپنے کھیت میں ربیع کی فصل بونے کی تیاری کرتے ہیں اور شہر میں بیج لینے کے لیے آتے ہیں۔ اگر شہر میں دنگے فساد ہوں اور پولیس کو اشک آور گیس چھوڑنی پڑے تو اس سے نہ صرف یہ کہ شہر کے لوگ ہی متاثر ہوں گے بلکہ ہمارے دیہات کی آبادی بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے گی۔
ب۔ وہ لوگ یعنی کسان( یہاں کسان سے مراد ہندوستانی عوام سے ہے) بڑے مہمان نواز تھے، جو غیر ملکی آئے ان کے لیے انہوں نے اپنے بچوں اور عورتوں کی قربانیاں دینے سے بھی دریغ نہ کیا مگر ایک وقت ایسا آیا کہ وہ یعنی غیر ملکی راشن کا رڈ چرانے کی ترکیبیں سوچنے لگے یعنی ہندوستانی عوام کے بھوکوں مر نے کی نوبت آگئی۔
ج۔ تقسیم ہند کے وقت لوگوں نے اپنے خیالوں اور خوابوں کے خوانچے اونچی اونچی دیواروں پر لگا رکھے تھے۔ مگر فساد کی آگ ملک بھر کی جھونپڑیوں کو جلاکر خاکستر کررہی تھی۔ ٹرینوں میں کٹے پٹے انسان لاشوں کی شکل میں آتے اور پلیٹ فارم پر کھڑے ہوئے لوگ اپنے عزیزوں کی لاشیں پہچاننے میں مصروف ہوجاتے۔
د۔ آج کتنے بڈھے جمع ہوئے، درخت نے کتنی بارجھک کر سلام کیا، توری کے بیل پر کل کتنے پھول لگے۔ (اس جملے کا بظاہر کوئی مطلب سمجھ میں نہیں آرہا ہے)۔
بہر حال ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس اقتباس سے چند باتیں اخذ کی جاسکتی ہیں۔ ان باتوں کا ایک دوسرے سے کسی حدتک ربط بھی قائم کیا جاسکتا ہے لیکن اس میں کہانی کی تلاش ایک سعی لاحاصل ہوگی۔ اس لیے کہ اگر کوئی یہ سوال کرے کہ اس اقتباس کو پڑھ کر بتائیے کہ کیا ہوا؟ یا کیا ہورہا ہے؟ یا کیا کچھ ہوتے ہوئے نظر آیا؟ تو جواب نفی میں ہی ہوگا۔ اس سے ظاہر ہوا کہ جب ہم اس اقتباس کی کہانی زبانی بیان کرنے سے قاصر ہیں تو ہم بلا شبہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس میں ’’کہانی پن‘‘ موجود ہی نہیں ہے البتہ کچھ باتیں ، کچھ حادثات، کچھ واقعات ضرور ہیں۔ جو افسانہ نگار کے تحت الشعور میں تھے اور وہی صفحۂ قرطاس پر ابھر کر آگئے ہیں۔ افسانہ نگار نے دراصل کہانی نہیں کہی ہے بلکہ زندگی کے متعدد مسائل ’’شعور کی رو‘‘ کی تکنیک میں یکجا کردیے ہیں۔ اس کہانی سے دوسرا اقتباس پیش خدمت ہے:
’’
دونوں ایک دوسرے کی عورت پر بری نظر رکھتے ہیں، کاش میری موروثی تلوار مل جاتی تو میں ان کی دودھ کی دھار کاٹ ڈالتا۔ شکستہ دیوار پر اب عکس نہیں پڑتا شاید سورج نے رخ پھیر لیا ہے۔ یہ بتانے کی کیا ضرورت تھی کہ قلعے میں تلوار نیام کی کوئی چیز بھی قدیمی شکستہ دیوار پر نہیں ٹنگی ہوئی تھی۔ سورج کی روشنی کسی غیر مرئی شے پر پڑتی تھی اور دیوار پر اس طرح عکس پڑتا تھا گویا تلوار ٹنگی ہو۔ ہم سب اسے موروثی سمجھتے رہے۔ خیال تھا جنگ میں کام آئے گی مگر تلوار کی تلاش میں ساری دیوار تڑوادینی پڑی ‘‘۔
ہم دیکھتے ہیں کہ اس اقتباس میں بھی کہانی آگے بڑھتی ہوئی نظر نہیں آتی۔ ہاں کچھ دھندلے دھندلے سے عکس ضرور بنتے ہیں مگر فوراً مٹ جاتے ہیں۔ تلوار ٹنگی نظر آتی ہے تو فوراً ہی دیوار ٹوٹنے کا عمل جاری ہوجاتا ہے او رآگے بڑھیں تو زندگی کا کوئی دوسرا مسئلہ سامنے آجاتا ہے۔ غرضیکہ کہیں کوئی معنوی ہم آہنگی یا پیش رفت نظر نہیں آتی۔ اس افسانے میں ایک خاص خوبی یہ ضرور ہے کہ پورا افسانہ ایک ہی جملے میں بغیر کاما یا فل اسٹاپ کے چلتا ہے۔ اس سے یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ جدید دور میں ( جس دور میں یہ افسانہ تخلیق ہوا) زندگی کے بہت سارے مسائل ایک دوسرے میں اس طرح گڈ مڈ ہیں کہ کہانی کار کو کہیں کا ما یا فل اسٹاپ لگانے کا موقع ہی نہیں ملتا یعنی ان مسائل کو ایک دوسرے سے الگ کرنا اس کے لیے ناممکن بن جاتا ہے۔اگر پوچھا جائے کہ اس کہانی کا موضوع کیا ہے تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ جدید کہانی کے بہت سارے موضوعات ایک ایک جملے میں اس کہانی میں پرودیے گئے ہیں۔ اس کہانی میں سینکڑوں مسائل کی جانب مبہم اشارے کیے گئے ہیں اور وہی مسائل جدید کہانی کے موضوعات ہیں۔ یعنی جدید کہانی کے موضوعات کی نشانددہی دراصل اس کہانی کا موضوع ہے۔ یہ تمام تو ضیحات اپنی جگہ درست ہیں لیکن جب پھر وہی سوال ابھرتا ہے کہ کیا اس افسانے میں کوئی ’’کہانی‘‘ بھی ہے تو جواب نفی میں ہی ملتا ہے کیوں کہ اس پورے افسانے کو پڑھ کر اس کی کہانی زبانی بیان کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔ اس کے برعکس اگر ہم دوسری تجریدی کہانی ’’مرگی‘‘ پر نظر ڈالیں اور اس کے اقتباسات کامطالعہ کریں تو ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ اس میں ’’کہانی پن‘‘ کا عنصر نمایاں ہے۔ تلخیص ملاحظہ ہو:
’’
جب اس کی آنکھیں کھلیں تو اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ وہ وہاں بیٹھا کیا کررہا ہے۔ اس نے آنکھیں مل کر کرنوں کے ننگے آئینے میں چاروں اور دیکھا۔ پھیلی ہوئی پتلیوں میں شیشے کی کرچیں تھیں۔ اس کی نظریں سمندر کے چکنے کنارے پر بھاگتے ہوئے کیکڑے کے پیروں میں الجھ الجھ کر ٹوٹنے لگیں تو مجھے پھر دورہ پڑا تھا؟ اس نے اپنے ٹوٹتے ہوئے جسم کو کانپتے گھٹنوں پر سیدھا کرنے کی کوشش کی، کہ ہوا تھا؟
میں ٹرام میں بیٹھا تھا، ٹرام کسی چیز سے ٹکرائی تھی۔ پتہ چلا کہ کوئی ٹرام کے نیچے آگیا ہے۔ ٹرام رک گئی تھی۔ چند ایک متجسس لوگوں کی گردنیں ٹرام کی کھڑکیوں سے باہر جھانک رہی تھیں۔ کیا ہوا ہے؟ ٹرام کے سارے مسافر نیچے اتر گئے تھے اور تیز تیز قدموں سے بس اسٹاپ کی طرف بڑھ رہے تھے۔ کیا مصیبت ہے پہلے ہی دفتر سے دیر ہوگئی ہے۔ میں ٹرام سے اتر کر آگے بڑھا تھا اور میری نظریں غیر ارادی طورپر ٹرام کی پہیوں کی طرف اٹھ گئی تھیں۔ ایک بہت خوبصورت مکرانی گجری کچلی پڑی تھی۔ میں ایک لحظہ کے لیے رکے بغیر سیدھا دفتر کو چل دیا تھا، مجھے پہلے ہی دیر ہوگئی تھی، بس کا انتظار کون کرتا او رپھر جانے جگہ ملتی یا نہ ۔ نہیں اس واقعے کا اثر نہیں تھا۔
تو پھر؟
دفتر میں بھی کوئی خاص بات نہیں تھی۔ یہ دن بھی دوسرے دنوں کی کاربن کاپی تھا تو آج پھر یہ دورہ کیوں پڑا؟ مالک نے میرے کام سے خوش ہوکر میری تنخواہ میں اضافے کا وعدہ بھی کیا تھا جس سے میری شادی کے امکانات روشن ہوگئے تھے لیکن کبھی کبھی پھر مجھے یہ کیا ہوجاتا ہے؟
اچھا بھلا دن گزررہاہوتا تھا۔ بیٹھے بیٹھے یک دم اسے جانے کیا ہوجاتا کہ پتلیوں میں زلزلہ آجاتا۔ اس کی آنکھیں ساری کائنات کے ملبے میں دب جاتیں۔ جب ا س کا احساس لوٹتا تو وہ ( کرنوں کی) انی پر تڑپ رہا ہوتا۔ وہ گر پڑتا اٹھ کھڑا ہوا اور سمندر کے کنارے جھاکنے لگا۔ پیروں میں پڑتیں سمندر کی زنجیریں توڑتا ہوا، ہانپتا ہوا، اس کا جی چاہا کہ بہت زور سے چیخے۔ اس نے چیخ ماری۔ آواز سمندر کی چیختی چپ میں ڈوب گئی۔
وہ ہنسا ( میں ہنسا تھا؟(
ننھی منی تارا مچھلیوں او رگھو نگھوں نے سکیٹ پہن لیے۔ پانی کی چنگھاڑ تی ڈائن چٹانوں کو پھنکار سے اڑاتی سمندر سے اٹھی او راس کے جسم میں روئی کے دانت گاڑ کے بلبلوں میں پھوٹ بہی۔وہ بھاگتا بھاگتا رک گیا اور غصے میں بلبلوں کو ٹھوکریں مارنے لگا۔ تم چپ کیوں ہو؟
پھوار اس پر آکے پڑی( لہر کا خون) میں بھی کیوں نہ تھوڑا سا خون بہالوں تاکہ شریانوں میں لہو کے بجائے اچھی طرح خلا رچ جائے، لیکن اس کا جی اٹھنے کو نہ چاہا۔ اس نے آنکھیں موند لیں اور موت کے سکوت میں پہلا قدم رکھ دیا۔
)’’تم اپنا علاج کراؤ، تم ایسا قابل اور محنتی لڑکا‘‘(
)’’
تم میں اچھی خاصی تخلیقی صلاحیتیں ہیں۔ اگر ذرا توجہ کرو نئے جنریٹروں کے ڈیزائن‘‘(
.....
کسی نے پھر اس کے چہرے کو ہلایا۔
’’آنکھیں کھولیے نا‘‘....
’’.....
آپ چٹان سے ٹکرا گئے تھے‘‘۔
..... مجھے واقعی آواز سنائی دی؟ مجھے واقعی کسی نے چھوا ہے؟ ..... 
’’
آپ بیہوش ہوگئے تھے‘‘۔
اس نے لڑکی کی آنکھوں میں دیکھا۔ یہ بھی مجھے دیکھ رہی ہے۔ 
’’ہم پکنک منانے آئے ہیں۔‘‘ اس نے دور جھونپڑیوں کی طرف اشارہ کیا۔ میں سیر کرتی ادھر نکل آئی....... آپ..... آپ کو کیا ہوگیا تھا...... میموں کی طرح کٹے ہوئے بال، کالی ساڑھی، بغیر بازو اور گہرے چاک کے گریبان والا سرخ بلاؤز۔ بغلوں کے بالوں میں اٹکے ہوئے پسینے کے قطرے۔ گریبان کی اوٹ سے جھانکتی دودھیا چھاتیوں پر پھسلتی نظروں کی زبان پر کانٹے پڑگئے..... ہوا میں لہراتا سیاہ ساڑی کا پلو، ناگ کا سر ہے..... یہ آواز کیسی آرہی ہے؟ چریخ، چراخ، کھٹا کھٹ، ٹھکا ٹھک، چرخ چراخ۔ یہ تو ابھی ابھی اس لڑنے کچھ کہاتھا....... لڑکی نے اسے اٹھانے کے لیے ہاتھ اس کی طرف بڑھایا۔ اس نے اپنے اکٹرے ہوئے ہاتھ سے لڑکا ہاتھ پکڑا... یہ ... یہ لوہے کا ٹکڑا کہاں سے آگیا؟ اس نے فوراً اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور لڑکی کی طرف دیکھا۔ چریخ، چراخ، غراریوں کے دانت اور ان میں چمکتا ہوا موبل آئل..... تم کہاں چلی گئیں.... اس نے آپنی آنکھیں مل کر سامنے دیکھا۔ لوہے کے بازو اس کو اٹھانے کے لیے اس کی طرف بڑھے تھے، شیشے کی گول گول چمکتی آنکھیں، تمام جسم جامد، میں نے تو نرم نرم ہاتھ چھوئے تھے یہ پسٹن کہاں سے آگئے؟..... وہ لڑکی کہاں گئی ..... اوہ ہاں یہ اس کا گریبان ہے....... اس کی آنکھیں گریبان کی بھول بھلیوں میں ٹکڑانے لگیں..... اس کے کانوں میں لاتعداد کارخانے چل رہے تھے ..... اس نے فوراً بڑھ کر پاس سے گزرتے ہوئے سیاہ کپڑے کو پنجے میں پھنسا لیا۔ ساڑی کا پلو پھٹ گیا، اس کے ہاتھ میں لوہے کا ہینڈل تھا.... اس نے لیر کو بے بسی سے غصے میں زمین پر دے مارا اور گھٹنوں پر گر کر جنون میں اپنی اکڑی ہوئی انگلیوں سے گیلی زمین میں گڑھا کھودنے لگا دیوانہ وار ..... وہ ہانپتا ہوا گڑھے میں جاپڑا۔ اس نے اپنی آنکھوں پر پڑے تکھاوٹ کے غلاف کی اوٹ سے دیکھا کہ سمندر کے سانس منہ سے نکلتی جھاگ میں ٹوٹ رہے ہیں اور چٹان کے بل سے کئی کیکڑے نکل کر بڑی تیزی سے اس کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
اس نے کروٹ بدل کر گڑھے کی آغوش میں منہ چھپالیا اور پوری قوت سے آنکھیں میچ لیں۔‘‘
’’
مرگی‘‘ کی یہ تلخیص پڑھنے کے بعد ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ ایک تجریدی کہانی ہے۔ اسے علامتی کہانی کے زمرے میں نہیں رکھا جاسکتا۔ دراصل علامت کا تعلق موضوع سے ہوتاہے اور تجرید کا تعلق ہیئت یا اسلوب سے۔ اس کا اسلوب تجریدی ہے لیکن اس میں سیدھی سادی ایک کہانی بھی موجود ہے۔ جس میں کہانی کار نے تجریدی اسلوب کے تقاضے کو پورا کرنے کی خاطر واقعات کی ترتیب کو توڑ مروڑ کر پیش کیا ہے اور کہانی کی فضا بھی نیم تاریک رکھی ہے۔ اگر کوئی اس افسانے کی کہانی زبانی سنانے کو کہے تو یہ کہانی ان الفاظ میں بیان کی جاسکتی ہے:۔
’’ایک کارخانے میں کام کرنے والا آدمی جو مرگی جیسے کریہہ مرض میں مبتلا ہے جب مرگی کے دورے کے بعد پوری طرح ہوش میں آنے سے پہلے اس کے منہ سے جھاگ ٹوٹ رہے ہوتے ہیں تو وہ نیم بے ہوشی کے عالم میں پڑا اپنے خوابوں کی تکمیل کررہا ہوتا ہے۔ شادی کی خواہش اسے سمندر کی سیر کرتی ہوئی ایک دوشیزہ سے ملاقات کراتی ہے۔ وہ اس کی مرمریں بانہوں میں کھوجاتا ہے لیکن جیسے جیسے ہوش آنے لگتا ہے اس کی مرمریں بانہیں اپنا وجود کھونے لگتی ہیں اور ان کی جگہ اس کارخانے کے لوہے کے پسٹن آجاتے ہیں جہاں کام کے دوران اسے دورہ پڑگیاتھا۔جب وہ اس دشیزہ کی کالی ساڑی کا پلو ہاتھ سے پکڑتا ہے تو موبل آئل میں آلودہ کالا میلا کپڑا ا س کے ہاتھ میں آجاتا ہے او ر چٹان ( لوہے کی مشین) سے کئی کیکڑے (لوہے کے پرزے) نکل کل تیزی سے اس کی طرف بڑھنے لگتے ہیں۔
وہ کروٹ لے کر گڑھے کی آغوش میں منہ چھپا لیتا ہے اور پوری قوت سے اپنی آنکھیں میچ لیتا ہے۔‘‘
یہ تھی اس کی کہانی۔ اس کے موضوع پر اگر غور کریں تو اس کے آخری جملے پر خصوصی توجہ دینی ہوگی۔ یعنی مرگی کے بعد نیم بے ہوشی کا عالم( جو بظاہر ایک کریہہ لمحہ ہوتا ہے، منہ سے جھاگ نکل رہے ہوتے ہیں) اس کے لیے نعمت اور عافیت کا لمحہ بن جاتا ہے، وہ اپنی اصل زندگی میں ( جو اس سے بھی زیادہ کریہہ ہے) لوٹ کر نہیں آنا چاہتا اور پوری قوت سے آنکھیں میچ لیتا ہے۔ یہ مشینی دور پر بھرپور طنز ہے۔
بہر حال جہاں تک ’’کہانی پن‘‘ کا سوال ہے تو وہ اس کہانی میں میں موجود ہے۔ لہذا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ صرف سیدھی سادی’’بیانیہ‘‘ کہانی میں ہی ’’کہانی پن‘‘ نہیں پایا جاتا بلکہ تجریدی اور علامتی افسانوں میں بھی کہانی پن پایا جاسکتا ہے جس کی متعدد مثالیں موجود ہیں۔
واضح رہے کہ بیانیہ انداز تحریر سے کہانی پن کا کوئی لازمی تعلق نہیں ہے۔


کردار
اردو افسانے میں کردار نگاری پر بہت کچھ لکھا جاچکا ہے۔ یہاں صرف نئے افسانے میں کردار کس شکل میں آتے ہیں، اس پر بحث کی جارہی ہے۔ کردار افسانے کا سب سے اہم پہلو ہے، اس کے بغیر افسانے کی عمارت کھڑی ہی نہیں ہوسکتی۔ کردار کی کئی قسمیں ہیں۔ کردار کوئی انسان بھی ہوسکتا ہے، کوئی جانور بھی۔ کوئی شے بھی اور کوئی غیر مرئی شے بھی۔ لیکن مرئی شے ہو یا غیر مرئی۔ جانور ہو یا انسان، اگر وہ افسانے میں بحیثیت کردار آتا ہے تو اسے انسان کا درجہ حاصل ہوجاتا ہے۔ وزیر آغا تو یہاں تک لکھتے ہیں کہ کردار ہی کیا، افسانے کاموضوع ومحور بھی انسان کے سوا کچھ نہیں ہوسکتا۔ ملاحظہ ہو:
’’.....
کہانی کا بنیادی موضوع انسان کے سوا او رکوئی نہیں حتیٰ کہ جب جانور، پودا یا ذرہ کہانی کا موضوع بنتا ہے تو بھی انسان کی صورت ہی اس میں منتقل ہوتی ہے اور وہ بھی انسان ہی کی طرح جذبات او راعمال سے گزرتا ہوا نظر آتا ہے‘‘۔

 )وزیر آغا: اردو افسانہ روایت او رمسائل ص116(
1960
ء سے قبل اردو افسانہ نگار کی وابستگی (INVOLVEMENT)افسانے کے سارے کرداروں کے ساتھ نہیں ہوتی تھی لیکن 1960ء کے بعد کے افسانوں میں یہ رجحان عام ہوگیا ہے کہ کہانی کار افسانے کے ہر کردار سے INVOLVEہوجاتا ہے۔ ادیبوں کا ایک طبقہ کردار نگاری کا مطلب کردار کی خارجی حیثیت سے لیتا ہے یعنی اگر وہ بظاہر اچھا انسان ہے تو اسے اچھا کردار بنا کر پیش کریں گے اور اگر اس میں بدی کا عنصر پایا جاتا ہے تو اس کی ’’بدی ‘‘ پر ہی کردار نگاری کاسارا ہنر صرف کرڈالیں گے۔ اسی رویے سے ادب میں ہیرو او رویلین کی داغ بیل پڑی ہے۔ حالانکہ یہ سوال کہ اچھا کیا ہے او ربرا کیا؟ ایک انتہائی پیچیدہ اور الجھا ہوا سوال ہے۔ اچھے میں بھی برائیاں موجود ہوتی ہیں اور برے میں بھی اچھائیاں کہیں نہ کہیں کروٹیں بدلتی نظر آجاتی ہیں۔ کبھی اس کی برائیاں اچھا ئیاں بن جاتی ہیں اور کبھی تمام تر اچھائیاں برائیاں بن کر سامنے آتی ہیں۔ جو ادیب اپنے کردار کے باطن تک رسائی حاصل نہیں کرپاتے ان کی کہانیاں اکہری اور سطحی ہوکر رہ جاتی ہیں۔ ایسی کہانیوں میں کردار وں کے لباس، چال ڈھال، ان کے خدوخال یا زیادہ سے زیادہ ان کی عادتوں کو نمایاں کردیا جاتا ہے۔ خاص طور سے ابتدائی دور کے کچھ افسانہ نگاروں کے یہاں یہ چیز زیادہ پائی جاتی ہے۔ اس کے بعد Ist PERSONیعنی ’’میں‘‘ کی کہانی کا دور شروع ہوا۔ ایسا کرنے کی ضرورت غالباً اس لیے پیش آئی تھی کہ افسانہ نگار اپنی ذات میں سماکر اسے کھنگال سکے اور پھر اپنی داخلی کیفیت کو بیان کرسکے۔ ایسی کہانیوں میں داخلی کیفیت او راندرونی احساسات کا اظہار تو بخوبی ہوامگر چونکہ انسان اپنے وجود سے ایک فاصلے پر کھڑا ہوکر اپنی خارجی ہیئت اور چہرے کے تاثرات دیکھنے سے قاصر ہے اس لیے ان کہانیوں میں بھی کردار کا ایک ہی پہلو بیان کیا جاسکا، یعنی داخلی پہلو۔ اور چوں کہ قاری کے ذہن میں کرداروں کی شکل وصورت ان کی ہیئت، چہرے پر ابھرتے جذبات، آنکھوں کے تاثرات وغیرہ نمایاں طورپر منعکس نہیں ہو پاتے تھے اس لیے کردار اپنا وجود کھونے لگے۔ یہی وجہ ہے کہ اس دور میں کسی اہم اور زندۂ جاوید کردار کی تخلیق نہیں ہوسکی۔ ایسا کردار جسے ہم نام یا صفت سے یاد رکھ سکیں۔ جب کہ اس سے پہلے کے دور کے کئی کردار مثلاً ’’بابو گوپی ناتھ‘‘، ’’کالو بھنگی‘‘، ’’گھیسو‘‘، ’’سوگندھی‘‘ وغیرہ آج بھی قاری کے ذہن میں اپنی تمامتر صفات کے ساتھ محفوظ ہیں۔
Ist PERSONکی کہانی میں ایک خامی یہ بھی ہے کہ جب افسانہ نگار ’’میں‘‘ کو کردار بنا کر کہانی لکھ رہا ہو تو کہانی کے دوسرے کرداروں کے ساتھ نہ تو وہ INVOLVEہوسکتا ہے اور نہ کسی دوسرے کردار کی نفسیاتی تحلیل کرسکتا ہے او رنہ ہی یہ لکھ سکتا ہے کہ اب اس نے کیا سوچا یا اب اس کا ارادہ کیا کرنے کا ہے۔
لیکن اب افسانہ نگار کی ذمہ داریوں میں خاصہ اضافہ ہوگیا ہے کیوں کہ اب وہ صرف اپنی ذات میں یا مرکزی کردار کی ذات میں ہی نہیں بلکہ افسانے کے ہر کردار کی ذات میں داخل ہوکر اسے کھنگالتا ہے اور اس کی اندرونی کیفیات سے آشنا ہوکر اس کی تخلیق کرتا ہے، یعنی ہر کردار میں کہانی کار نہ صرف خود موجود ہوتا ہے بلکہ یہ بھی محسوس کرتا ہے کہ کہانی کا ہر کردار وہ خود ہے خواہ کردار اچھا ہو یا برا، ظالم ہو یا مظلوم، جب وہ کسی افسانے میں ظالم کی کہانی بیان کرتا ہے تو خود کو ظالم تصور کرتے ہوئے اس کے تمام مسائل، نفسیاتی گرہوں اور نیک وبدارادوں سے کما حقہ باخبر ہوجاتا ہے اور جب اسی افسانے میں وہ مظلوم کا کردار تخلیق کرتا ہے تو خود مظلوم بن کر اس کے دکھ درد اور کرب کو دل کی تمامتر گہرائیوں سے محسوس کرتا ہے۔ ظاہر ہے ان حالات میں وہ ہر کردار کے ساتھ پورا پورا انصاف کرسکے گا او رہر کردار سے اسے ہمدردی ہوگی۔ اس طرح اگر کوئی ظالم ہے تو سراپا ظالم اور مظلوم ہے تو سراپا مظلوم، یہ اکہرا پن اس کی کہانی سے دور ہوجاتا ہے ۔
انسان اپنے ہر عمل کا جواز رکھتا ہے۔ شرابی، جواری، ڈاکو اور قاتل سبھی اپنے نیک وبد اعمال کے سلسلے میں کوئی نہ کوئی تاویل یا جواز پیش کرتے ہیں او رکبھی خود گنہگار نہیں ٹھہراتے۔ اگر کبھی اپنے گناہ کا اعتراف کرتے بھی ہیں تو سماج، حالات یا بری صحبت کو ذمہ دار ٹھہرا دیتے ہیں۔ یہ ہر انسان کا ایک فطری عمل ہے۔ اسی طرح افسانہ نگار کو بھی اپنے ’’کرداروں‘‘ کے اعمال کا جواز فراہم کرنا ہوتا ہے او رکسی بھی عمل کی اصل وجہ تلاش کرنی ہوتی ہے۔ اگر افسانہ نگار ہر کردار کو اپنی ذات سے منسوب کرکے اس کے اندرون میں داخل ہوکر اس کی تخلیق کرے تو اسے نیک، بد، ایماندار، بے ایمان، وفادار، غدار وغیرہ سب کی زندگی جینی پڑے گی اور ہر عمل کا ہمدرد ی کے ساتھ جائزہ لینا ہوگا۔ایسی صورت میں وہ زیادہ صحیح او رمنصفانہ نتائج اخذ کرسکتا ہے۔ ادیب کو عام آدمی کی طرح ایسا نہیں کرنا چاہیے کہ بادی النظر میں جس کا جو خارجی عمل دیکھا یا پہلی ملاقات میں جس کا جو تاثر قائم ہوا اس کو سچ اور کلیہ مان کر ایک حتمی رائے بنا لی او رانہیں بنیادوں پر کہانی لکھ ڈالی۔ کچھ افسانہ نگاروں کا طرز عمل ایسا ہی ہوتا ہے۔ مثال کے طورپر اگر ایک مزدور اور ایک مل مالک پر افسانہ لکھا جارہا ہے تو ایسے موقع پر مذکورہ بالا رجحان کا حامل افسانہ نگار یا تو مزدور سمجھ کر مل مالک کو اپنا ازلی دشمن مان لیتا ہے اور مل مالک کا کردار تخلیق کرتے وقت اس کی عصبیت غالب آجاتی ہے، اس کی تمام تر ہمدردیاں ہر مرحلے میں مزدور ہی کے ساتھ رہتی ہیں۔ ایسی صورت میں وہ فطری طورپر مل مالک سے ایک فاصلہ قائم کرلیتا ہے۔ اس کے باطن تک پہنچنا تو دور رہا، وہ اس کے نزدیک آنا بھی گوارا نہیں کرتا۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مل مالک کا کردار اکہرا، غیر فطری او ربے جان بن کر رہ جاتا ہے۔ حالانکہ ہونا یوں چاہیے کہ ایک ہی کہانی میں کبھی وہ مل مالک بن جائے اور کبھی مزدور تاکہ دونوں کرداروں کے ساتھ انصاف ہوسکے۔ جب مقصد ی افسانے لکھے جاتے تھے تب افسانہ نگار ایک نظریۂ حیات کے تحت سوچتا تھا اور کردار تخلیق کرتا تھا، اس کی اپنی رائے کہانی میں بار بار مداخلت کرتی تھی اور بالآخر وہ کسی ایک کردار کا ہمنوا بن جاتا تھا۔ کہانی کار کا نظریۂ حیات یا زاویۂ نگاہ افسانے میں اب بھی کار فرما ہوتا ہے لیکن اب اس کی شکل بدل چکی ہے۔ (اس کا تفصیلی ذکر آگے آئے گا)افسانہ نگار کے لیے یہ قلب ماہیئت کا عمل مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں ۔ کیوں کہ ایک افسانہ نگار یا ادیب عام آدمی سے مختلف ہوتا ہے اور اس کی شخصیت کے ان گنت پہلو ہوتے ہیں۔ میں یہاں ایک چھوٹی سی مثال دینا چاہوں گا:
’’
متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والی ایک ماں اسپتال جانے کے لیے اپنے بیمار بچے کو گود میں لیے رکشے کے انتظار میں کھڑی ہے۔ گرمیوں کے دن میں دھوپ بہت تیز ہے۔ ایک رکشہ آتا ہے۔ وہ اسے روکتی ہے۔ رکشے والا اسپتال جانے سے انکار کردیتا ہے۔ وہ اس سے اصرار کرتی ہے لیکن رکشے والا جھنجھلا کر کچھ تلخی سے جواب دیتا ہے، دوچار لوگ جمع ہوجاتے ہیں، وہ کہتے ہیں، ’’بھئی تم اپنی مزدوری سے دوگنے پیسے لے لینا، اگر تم اس بچے کو اسپتال نہیں لے گئے تو یہ مرجائے گا‘‘۔ لیکن اس کے باوجود رکشے والا اپنے انکار پر بضد رہتا ہے۔وہ ایسا علاقہ ہے جہاں بآسانی دوسرا رکشتہ ملنا ممکن بھی نہیں ہے۔ رکشے والے کی ضد او ربدتمیزی پر ایک نوجوان کوغصہ آجاتا ہے اور وہ اس کے دوچار ہاتھ جڑ دیتا ہے اور زبردستی عورت کو رکشے میں بٹھا کر اسپتال روانہ کردیتا ہے۔بچے کی جان بچ جاتی ہے۔‘‘
اگر افسانہ نگار خود کو ماں محسوس کرکے کہانی لکھے تو ماں کے احساسات اور اس کی نفسیات کو بخوبی تخلیق کرسکتا ہے لیکن اگر وہ رکشے والے کے کردار کو نظر انداز کردے اور اس کی گہرائیوں میں اترنے کی کوشش نہ کرے تو اسے بلاشبہ رکشے والے کے انکار کی بنا پر اس سے نفرت ہوجائے گی اور وہ اس کردار کے ساتھ انصاف نہیں کرسکے گا۔ نتیجتاً رکشے والے کا کردار ایک سنگدل او رظالم انسان کا کردار بن کر ابھرے گالیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایسا کرکے کہانی کار نے اپنا فرض ادا کردیا؟ میرے خیال میں نہیں ۔ دراصل اسے رکشے والے کے کردار کو بھی کھنگالنا چاہیے کہ آخر کیا امکانات ہوسکتے ہیں جن کی بنا پر اس نے بیمار بچے کو اسپتال پہنچانے سے انکار کیا؟ ہوسکتا ہے کہ رکشے والے کا اپنا بچہ شدید بیمار ہو، اس کی جان بھی خطرے میں اور وہ بدرجۂ مجبوری اتنے پیسے کمانے کی غرض سے گھر سے نکلا ہو جتنے میں بچے کی دوا مل سکے یا شاید اب وہ دوالے چکا ہو او رگھر جلد از جلد پہنچنا چاہتا ہو، ہوسکتا ہے کہ اس کی ذرا بھی تاخیر بچے کی موت کا سبب بن جائے۔ الغرض افسانہ نگار کا فرض ہے کہ وہ رکشے والے کے انکار کی وجہ جاننے کے لیے اس کے اندر داخل ہونے کی کوشش کرے اور پھر اس کشمکش سے جو جھے جس سے اس وقت رکشے والا جوجھ رہا ہوتا ہے ۔ نئے افسانے میں یہ تمام خوبیاں درآئی ہیں اورا ب اس طرح کہانی میں کئی سطحیں پیدا ہوجاتی ہیں اور کہانی زیادہ حقیقی اور سچی ہوجاتی ہے، اس کا سپاٹ پن خود بخود دور ہوجاتا ہے لیکن ایسا جب ہی ممکن ہے جب افسانہ نگار ہر کردار سے یکساں ہمدردی اور وابستگی رکھے۔ ڈاکٹر وزیر آغا نے افسانے کے جدید دور میں کردار نگاری کے دواہم رجحانات کی نشاندہی ا ن الفاظ میں کی ہے:
’’........
ان میں ایک تووہ ہے جس میں افسانہ نگار نے ایک ایسے زاویے سے ماحول کو دیکھا ہے کہ افسانے کے کردار محض ننگے جسموں کے ساتھ نہیں بلکہ ان جسموں سے لپٹی ہوئی لمبی پر چھائیوں کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔ کردار سے براہ راست متعارف ہونے والا افسانہ نگار اول تو کردار سے اپنی نظریں ہٹا ہی نہیں پاتا اور اگر لحظہ بھر کے لیے ہٹا بھی لے تو اسے وہ مدھم سی پرچھائیں شاذ ہی نظر آتی ہے جو سورج کی بے پناہ روشنی میں کردار کے قدموں سے چمٹی ہوئی ہے۔ مگر جب افسانہ نگار اپنے ماحول کے درمیان فاصلہ کم کرکے وہ طریق اختیار کرتا ہے جس کا ذکر وان گاگ نے اپنے دوست کے نام ایک خط میں کیاتھا، ’’جب لوگ میری تصویروں کی اشیا کو پوری طرح پہچان نہیں سکتے تو میں خوش ہوتا ہوں۔ کیوں کہ میری یہ آرزو ہوتی ہے کہ اشیا اپنی خواب ناک کیفیات سے دست کش نہ ہوں‘‘۔ تو وہ اصل کردار میں پرچھائیں کی ایک نئی اور انوکھی سطح کا اضافہ کرکے نہ صرف بے رحم حقیقت نگاری کے سپاٹ پن سے افسانے کو بچا لیتا ہے بلکہ کردار کے مخفی گوشوں کو روشنی میں لاکر قاری کو زندگی کہ تہہ داری کا احساس بھی دلاتا ہے۔ ہوتا یوں ہے کہ افسانہ نگار کو اچانک کردار سے کہیں زیادہ اس کی پرچھائیں HAUNTکرنے لگتی ہے اور وہ خود سے سوال کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ یہ پرچھائیں کون ہے؟ ا س کا کردار سے کیا رشتہ ہے اور کہیں ایسا تو نہیں کہ اصل کردار یہی پرچھائیں ہو؟ اور پھر عام روش سے ہٹ کر خوابوں سے مملو ایک ایسا ماحول خلق کرلیتا ہے جس میں اصل کی پہچان کا واحد ذریعہ وہ نقل ہے جسے انسانی فلسفہ نے ہمیشہ بنظر تحقیر دیکھا ہے۔‘‘

 )وزیر آغا: روایت اور مسائل ص120(
کردار کے جسم اور پرچھائیں دونوں پر جدید اردو افسانے میں توجہ دی گئی مگر ہوا یوں کہ 1960ء کے بعد یہ رجحان عام ہوا اور پھر اس میں اتنی شدت آگئی کہ اب انسانوں سے جسم غائب ہوگئے اور محض پرچھائیاں ہی باقی رہ گئیں۔ لہٰذا کرداروں نے اپنا وجود کھودیا او رچند ہیولے ہی نظر آنے لگے لیکن یہ سلسلہ اردو میں زیادہ دنوں تک نہیں چلا۔ دس سال بعد یعنی 1970ء کے قریب پھر سے کردار نمایاں طورپر دکھائی دینے لگے۔ یہ الگ بات ہے کہ پریم چند یا ترقی پسندی کے دور میں کردار جتنے واضح تھے اب اتنے واضح نہیں رہ گئے تھے مگر ان سے ’’اکہرا پن‘‘ ختم ہوچکا تھا۔ اب یہ نہ تو محض جسم ہی تھے اور نہ صرف پرچھائیں یا ہیولا۔ اب کرداروں میں اعتدال پیدا ہوگیا تھا اور جسم کے ساتھ پرچھائیں لے کر اردو افسانے کے کینوس پر نمایاں ہونے لگے تھے۔آج کے افسانے کا غائر مطالعہ کرنے کے بعد یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ نئے افسانہ نگاروں نے کردار نگاری پر نئے انداز سے سوچا ہے اور اسے افسانے کا ایک اہم عنصر سمجھ کر اس پر توجہ دی ہے۔


جزئیات:
اردو افسانے کے دور آغاز میں جزئیات نگاری کا جو تصور تھا، جدید افسانے میں وہ نہیں رہا۔ پہلے جزئیات نگاری کے دو اہم مقاصد تھے۔ ایک تو فضا او رماحول تخلیق کرنا، دوسرے منظر کو زندہ جاوید بنا دینا۔ اس دور کا قاری ان جزئیات او رتفصیلات سے لطف اندوز ہوتا تھا لیکن بعد میں یہی تفصیلات قاری کو بور کرنے کا سبب بن گئیں اور افسانہ نگاروں نے مجبور ہوکر اپنے افسانوں سے جزئیات کو کافی حدتک کم کردیا۔ 1958ء کے بعد سریندر پرکاش، بلراج مین را، انور سجاد وغیرہ نے جو افسانے لکھے ان میں جزئیات نگاری کو قطعی اہمیت نہیں دی گئی اور نتیجتاً افسانے میں فضا کا فقدان ہوگیا۔ اس ضمن میں چند اقتباسات ملاحظہ ہوں:
’’
ہر سمت دور بہت دور نظروں کی سرحد پر نیم روشن قمقموں کی لکیر دائرے کی صورت کھینچی ہوئی تھی اور ویرانی اور سیاہی کی کتنی تہیں اوپر تلے چڑھی ہوئی تھیں، کچھ پتہ نہ چلتا تھا کہ چھت کی بلندی اور قمقموں کی لکیر کی پستی کے بیچ آوازوں کا کوئی سلسلہ موجود نہ تھا‘‘۔

 )مقتل : بلراج مین را(
’’
یخ بستہ ہواؤں کے تھپیڑے سہتے، امڈتے، ٹھٹھرتے سیاہ بادلوں کے پیچھے سرد سورج، آسمان اور زمین کے اتصال میں دراڑ بنا تا یوں اترتا ہے کہ بادلوں کے پیچھے لرزتی پیازی نارنجی کرنیں، نیلاہٹ مائل سرمئی چٹان کی دراڑالٹے پاؤں اتر تے سردی میں کانپتے کیکٹرے کی تھراتی ٹانگیں دکھائی دیتی ہیں۔ شاید اس لیے کہ سورج ان دنوں چوتھے برج یعنی سرطان میں غروب ہوتا ہے۔ چند لمحوں میں سب کچھ تاریک بادلوں میں ٹھٹھرتا تاریک ہوجاتا ہے۔‘‘

 )کینسر: انور سجاد(
مندرجہ بالا دونوں اقتباسات جدید منظر نگاری کے نمونے ہیں۔ اول الذکر اقتباس سے محض نیم روشن قمقمے ہی نظروں میں محفوظ رہ پاتے ہیں، باقی تمام چیزیں کچھ دیر بعد ذہن سے غائب ہوجاتی ہیں۔ اس طرح ایک مبہم سا منظر بن پاتا ہے۔ ایسے افسانے فضا تخلیق کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے اس کی وجہ یہی تھی کہ ان افسانہ نگاروں نے جزئیات کو بری حدتک نظر انداز کردیا۔ دوسرے اقتباس (جو انور سجاد کی کہانی’’کینسر‘‘ سے ماخوذ ہے) میں بھی جزئیات نگاری کے قدیم فن کو مجروح کیا گیا ہے نتیجہ کے طورپر افسا نے سے بھی قارئین کے ذہن میں ایک دھندلا سا منظر بن پاتا ہے۔
ایسا نہیں تھا کہ یہ افسانہ نگار منظر نگاری یا جزئیات نگاری کے فن سے یکسر نا آشنا تھے بلکہ انہوں نے اس فن کو فرسودہ اور روایتی مان کر اپنے افسانوں سے خارج کردیاتھا۔ اس دور میں جو افسانے لکھے جارہے تھے ان میں وہی باتیں لکھی جاتی تھیں جن کا کہانی یا کہانی کے موضوع کے باطن سے تعلق ہوتا ہے۔ کہانی کار اس کی پروا نہیں کرتا تھا کہ کہانی میں فضا یا منظر بن رہا ہے یا نہیں۔ وہ دراصل غیر ضروری طوالت اور لاتعلق باتوں سے اجتناب کرنا چاہتا تھا لیکن نتیجہ یہ ہوا کہ جب کہانی سے فضا غائب ہوگئی تو کہانی بھی قاری کے ذہن کو اپنی گرفت میں رکھنے سے قاصر ہوگئی۔ پہلے جزئیات کی زیادتی قاری کی اکتاہٹ کا موجب بنی تھی اور اب جزئیات کی یکسر کمی نے قاری کو ایک طرح کی الجھن اور بے چینی میں مبتلا کردیا۔
پھر تقریباً ایک دہائی کے بعد افسانہ نگاروں نے جزئیات نگاری کی اہمیت کو محسوس کیا او راپنے افسانوں میں بھی اسے اہم مقام دیا۔ فرق صرف اتنا ہوا کہ صرف منظر نگاری اور فضاتخلیق کرنے کے لیے جزئیات کو نہیں برتا گیا بلکہ اب افسانہ نگاروں کی ذمہ داری دہری ہوگئی کیوں کہ اب افسانہ نگار کہانی میں غیر ضروری اشیا سے قطع نظر صرف انہیں چیزوں کا انتخاب کرتا ہے جو کہانی کے مرکزی خیال یا کسی خاص SITUATIONیا کہانی کے کسی کردار کی نفسیات پر روشنی ڈال سکیں اور ساتھ ہی ایک فضا، ایک ماحول بھی CREATکرسکیں نیز منظر کو بھی ابھارنے میں معاون ہوں۔
مندرجہ ذیل اقتباس جو سلام بن رزاق کی کہانی ’’حمام‘‘ سے ماخوذ ہے، ملاحظہ ہو:
’’
سامنے فٹ پاتھ پر ایک شخص آرہا تھا۔ میری نظریں اس پر جم گئیں۔ وہ جوں جوں قریب آتا جارہا تھا، میری آنکھیں حیرت واستعجاب سے پھسلتی جارہی تھیں۔ میں اب اسے اچھی طرح دیکھ سکتا تھا۔ وہ ایک مضبوط او رتوانا شخص تھا۔ اس کے سرپر جمے ہوئے بال دھوپ میں چمک رہے تھے۔ شیو بنا ہوا تھا۔ کلائی پرگھڑی بندھی ہوئی تھی۔ پیروں میں چمچماتے ہوئے بوٹ تھے۔ بوٹوں کی کھٹ کھٹ سے دوپہر کا سناٹا کراہ رہا تھا۔‘‘
ان سطور کو پڑھنے سے احساس ہوتا ہے کہ افسانہ نگار نے روایتی جزئیات نگاری کے فن کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ سطریں قلمبند کی ہیں۔ بات کس قدر صاف ہوگئی ہے اور سیدھا سادا منظر نظروں میں گھوم جاتا ہے لیکن حقیقتاً ایسا نہیں ہے، ان سطور سے محض جزئیات نگاری کے روایتی فن کا مظاہرہ مقصود نہیں۔ اگر صرف یہی مطمح نظر ہوتا تو افسانہ نگار فٹ پاتھ پر چلتے پھرتے دوسرے غیر ضروری کرداروں کا بھی ذکر کرتا اور فٹ پاتھ پر بکھری ہوئی دوسری اشیا کو بھی مرکز توجہ بناتا۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس اقتباس کی تمام تر جزئیات کہانی کے مرکزی خیال سے تعلق رکھتی ہیں یا نہیں ؟ مثلاً ’’میری نظریں اس پر جم گئیں۔ وہ جو ں جوں قریب آتا جارہا تھا میری آنکھیں حیرت واستعجاب سے پھیلتی جارہی تھیں‘‘۔ کیا یہ حیرت اس کے دھوپ میں چمکتے ہوئے سرکے بال، کلائی پر بندھی ہوئی گھڑی، چمچماتے ہوئے بوٹ یا اس کے بنے ہوئے شیو کی مرہون منت تھی؟ اگر نہیں تو پھر گھڑی، بال، چمچماتے بوٹ اور بنے ہوئے شیو کو اس طرح اجاگر کرنے کا کیا مقصد ہے؟
اس سوال کا شافی جواب ہمیں اس وقت خود بخود مل جائے گا جب ہم اس کہانی کا اگلا جملہ پڑھیں گے:
’’
مگر اس شخص کے بدن پر کپڑوں کے نام پر ایک تار بھی نہیں تھا، وہ بالکل ننگا تھا۔‘‘
اب ہم پورے وثوق کے ساتھ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس اقتباس کی ایک چیز بھی غیر ضروری نہیں ہے۔ ہر چیز کا کہانی کے مرکزی خیال سے براہ راست تعلق ہے، ساتھ ہی فضا او رمنظر کی بھی تخلیق ہورہی ہے۔
اس سلسلے میں چیخوف کا کہنا ہے کہ کہانی میں کچھ بھی بے مقصد نہیں ہوتا، مثلاً اگر آپ ایک کمرے میں بندوق لٹکی ہوئی دکھاتے ہیں تو آپ کو یقینی طورپر یہ بات ذہن نشین کرلینی ہوگی کہ افسانے کے دوسرے، تیسرے، چوتھے یا پانچویں یا کسی بھی مرحلے میں وہ بندوق چلے۔ اگر بندوق کا استعمال سرے نہیں ہوتا تو پھر اس کی وہاں موجودگی فضول او ربے معنی ہے۔


حقیقت نگاری
حقیقت نگاری افسانے کا ایک اہم جزو ہے۔ حقیقت نگاری کے دونمایاں پہلو ہیں: خارجی حقیقت نگاری۔ داخلی حقیقت نگاری۔ 
1936ء کے دوران ہی افسانے میں زندگی کے تمام حقائق پیش کرنے کا رجحان عام ہوگیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ چند افسانہ نگاروں کو REALISTSکہا جانے لگاتھا۔ REALISTS کی فہرست میں مندرجہ ذیل نام خاص طورپر لیے جاتے تھے:
منٹو، حیات اللہ انصاری، شوکت صدیقی، راجندر سنگھ بیدی، خدیجہ مستور، ہاجرہ مسرور، رشید جہاں، سہیل عظیم آبادی، خواجہ احمد عباس، عصمت چغتائی، کرشن چندر، اوپندر ناتھ اشک، اختر اور ینوی، بلونت سنگھ، انور، قدرت اللہ شہاب، ابولفضل صدیقی، صدیقہ بیگم، تسنیم سلیم چھتاری وغیرہ۔
خارجی حقیقت نگاری کی بھی کئی اقسام ہیں: مثلاً سیاسی حقیقت نگاری، سماجی حقیقت نگاری، جنسی حقیقت نگاری وغیرہ۔ حقیقت پسند افسانہ نگاروں کے بارے میں ڈاکٹر وزیر آغا رقمطراز ہیںٖ
’’
زمین پر اتر کر کردار کے تمام پہلوؤں کا مطالعہ کرنے کا رجحان ان کہانی کہنے والوں کے یہاں عام ہے جو خواب کار کم اور حقیقت پسند زیادہ ہیں۔ ایسے لوگ بڑے سنجیدہ شہری ہوتے ہیں اور ان کے شعور میں ہمیشہ سوسائٹی کی بے اعتدالیوں یا ناہمواریوں کو طشت از بام کرنے کا رجحان موجود رہتا ہے۔‘‘

 )وزیر آغا: اردو افسانہ: روایت او رمسائل ص119(
یہ بات بلا خوف تردید کہی جاسکتی ہے کہ پریم چند سے پہلے صحیح معنوں میں حقیقت نگاری کا وجود نہیں تھا۔ پریم چند نے کہانی کے رشتے کو زمین سے جوڑا او رکہانی میں خواب وخیال کی باتوں کے بجائے حقیقت بیانی کو ترجیح دی۔ پریم چند کے زمانے میں ہی دوسرے لکھنے والے جن میں سجاد حیدر یلدرم، ل احمد، نیاز فتحپوری اور مجنوں گورکھ پوری وغیرہ حقیقت نگاری کی بہ نسبت تخیل آفرینی نیز اساطیری او رداستانی اسلوب کے زیادہ دلدادہ تھے لیکن پریم چند نے اس ڈگر سے ہٹ کر سوچا اور حقیقت نگاری کی بنیاد استوار کی۔ وزیر آغا کا ایک اقتباس ملاحظہ ہو:
’’
پریم چند زمین کی سوندھی سوندھی باس سے بہت قریب تھا، اس نے تخیل کی رفعتوں کے بجائے زندگی کے ارضی پہلوؤں او رسماج کی واضح کروٹوں کو اپنے افسانوں کا موضوع بنایا۔‘‘

)وزیر آغا۔ اردو افسانہ: روایت او رمسائل ص125(
یہ درست ہے کہ پریم چند حقیقت نگاری کے علمبردار تھے لیکن ان کے افسانوں میں بھی محض خارجی حقیقت کے نقوش ملتے ہیں۔ داخلی حقیقت نگاری کی جانب ان کی توجہ مبذول نہیں ہوئی تھی۔ پریم چند تخیلاتی فضا سے نکل کر زمینی فضا سے قریب تو ضرور ہوگئے لیکن ان کے افسانے قصہ گوئی سے اوپر اٹھ کر انکشاف ذات اور عرفان حیات وکائنات کے مدارج تک نہیں پہنچ سکے۔ بقول ڈاکٹر وزیر آغا:
’’........
پریم چند کا رجحان بڑی اہمیت کا حامل تھا اور اس کے تحت اردو افسانہ تخیل محض کی فضا سے نکل کر زمینی فضا سے قریب تر ہونے میں یقیناًکامیاب ہوا لیکن ایک خالص تخیلی رجحان کی طرح ایک خالص ارضی رجحان بھی عظیم فن کی تخلیق کے لیے کچھ زیادہ ساز گار نہیں۔ عظیم فن تو آسمان اور زمین، تخیل او رجذبے کے ربط باہم کی پیداوار ہے۔ پریم چند اردو افسانے کے معماروں میں ایک بڑی امتیازی حیثیت کا حامل ہے اور اس نے حقیقت پسندی کے رجحان کو اختیار کرکے اردو افسانے کی بڑی خدمت سرانجام دی ہے۔ اس کے باوصف اگر اس کے ہا ں اردو افسانہ دنیا کے عظیم افسانوی ادب کے معیار تک نہیں پہنچا تو اس کی وجہ محض یہ ہے کہ پریم چند نے زمین کی عکاسی میں تخیل کی لطافت او رسوچ کی روشنی کو پوری طرح شامل نہیں کیا اور اس کے ہاں افسانہ، قصہ گوئی سے اوپر اٹھ کر انکشاف ذات اور عرفان کائنات کے مدارج تک نہیں پہنچ پایا۔‘‘
افسانہ جیسے جیسے ارتقائی منازل طے کرتا گیا اس میں کچھ تبدیلیاں رونما ہوتی گئیں، حقیقت نگاری کی شکل بھی بدلی، جب افسانے میں خارجی مسائل کے بجائے داخلی مسائل کا رجحان عام ہوا تو حقیقت نگاری کے قدم ڈگمگاتے محسوس ہوئے۔ حقیقت نگاری کی جگہ علامتوں او راستعاروں نے لے لی مگر یہ کہنا مناسب نہ ہوگا کہ حقیقت نگاری افسانے سے یکسر غائب ہوگئی۔ ہاں اس کی شکل اور ہیئت یقیناًبدل گئی۔ 1960ء کے بعد کے افسانوں میں جو حقیقت نگاری نظر آتی ہے وہ پریم چند، منٹو بی بیدی کی حقیقت نگاری سے مختلف ہے۔ جدید دور کے افسانوں میں جو حقیقت نگاری پائی جاتی ہے اسے ہم داخلی حقیقت نگاری کہہ سکتے ہیں۔ ایسا صرف اردو میں ہی نہیں ہوا، ہندی افسانے میں بھی حقیقت نگاری کے کئی پہلو نمایاں ہوئے۔ مثلاً کا لپنک یتھار تھ، آنترک یتھارتھ اور ماننیے یتھارتھ وغیرہ۔
جدید ناقدین نے بھی خارجی حقیقت نگاری سے بیزاری کا اظہار کیا ہے اور داخلی حقیقت نگاری کی ضرورت کی طرف اشارے کیے ہیں۔ محمود ہاشمی کا ایک اقتباس درج ذیل ہے:
’’1936
ء کے بعد والی افسانہ نگاروں کی یہ نسل ( جس کا ایک سرا پریم چند سے ملتا ہے اور دوسرا منٹو سے) حقیقت نگاری کی دعویدارہے لیکن حقیقت نگاری کے چکر میں اس کے سامنے انسان کا صرف وہ کردار رہا جس کا تعلق سماج، سوسائٹی او راقتصادیات سے ہے۔ اس نسل نے کبھی یہ کوشش نہیں کی کہ انسان کے ذہن اور اس کی فطرت کے عمق میں چھپے ہوئے زندگی کے غیر مرئی او رزیادہ حقیقی خدوخال کو پہچانے‘‘۔

)محمود ہاشمی۔ اردو افسانہ: روایت او رمسائل ص493(
اس اقتباس میں افسانہ نگاروں سے محمود ہاشمی نے جو شکایت کی ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ خارجی حقیقت نگاری کے اکہرے پن کو نئی نسل نے محسوس کرلیاتھا۔ محمود ہاشمی اپنے اسی مضمون میں آگے چل کر ’’حقیقت ‘‘ کے مفہوم کو سمجھانے کی کوشش ان الفاظ میں کرتے ہیں:
’’
میرے نزدیک حقائق صرف وہ نہیں ہیں جنہیں ہم ثابت یا رد کرسکتے ہیں، جو چیز فن اور تخلیق کے دائرے میں حقائق کے عنوان سے آتی ہے وہ ہے جو زندگی اور کائنات کے متعلق ایک نئے احساس کا اظہار ہو۔ حقیقت کوئی سادہ تصور نہیں ہے، یہ وہ چیز ہے جس کو ہم نشانات کا سرچشمہ اور سیاق تصور کرتے ہیں۔ وہ نشانات جن کا ہم کامیابی سے جواب دیتے ہیں۔ یہ کچھ مبہم سی تعریف ہے لیکن لفظ حقیقت ہی کچھ مبہم سی اصطلاح ہے اور منطق میں تو اس کی تشریح ایک مستقل قضیہ بنی ہوئی ہے۔ اس لیے حقیقت نگاری کا ذہن رکھنے والے افسانہ نگاروں کو’’حقیقت‘‘ کے نئے اور زیادہ واضح مفہوم کو پہنچان کر افسانے کو تخلیق کے دائرے میں لانا چاہئے۔‘‘

)محمود ہاشمی۔ اردو افسانہ: روایت او رمسائل ص496(
محمود ہاشمی نے افسانہ نگاروں کی توجہ ان حقائق کی جانب مبذول کرائی ہے جنہیں داخلی حقائق کہہ سکتے ہیں۔ یہ حقائق مرئی بھی ہوسکتی ہیں اور غیر مرئی بھی۔ 1960ء کے بعد اردو او رہندی دونوں زبانوں کے افسانوں میں داخلی حقیقت نگاری کے نمونے مل جاتے ہیں۔
اردو کہانی میں تنہائی کا کرب، ذات کا مسئلہ، وجود کے کھونے کا احساس جیسے موضوعات پر جب کہانیاں لکھی گئیں تو ان میں خارجی حقیقت نگاری کا فقدان ہوگیا لیکن ایسا بھی نہیں کہ یہ کہانیاں حقائق سے یکسر خالی ہوں۔ ذات کا مسئلہ بھی ایک حقیقت ہے اور تنہائی کا کرب بھی۔ نئے افسانہ نگاروں نے ان حقیقتوں کو ایک نئی حقیقت نگاری کے روپ میں پیش کیا ہے اور اسی حقیقت نگاری کو ہم داخلی حقیقت نگاری کہہ سکتے ہیں۔ داخلی حقیقت نگاری کاایک وصف یہ بھی ہے کہ وہ خارجی حقیقت نگاری کی طرح اکہری اور سپاٹ نہیں ہوتی بلکہ اس میں کہانی کار کردار کی نفسیاتی پیچیدگیوں، ذہنی الجھنوں او راس کی نقل وحرکت کی وجوہات کو تلاش کرتا ہے اور اس کی ذات کی گہرائی میں اتر کر اصل حقیقت کا پتہ لگاتا ہے اور پھر جب وہ اس حقیقت کا بیان استعاراتی یا علامتی انداز میں کرتا ہے تو اس میں کئی معانی او رکئی سطحیں پیدا ہوجاتی ہیں اور یہ خارجی حقیقت نگاری کی طرح اکہری اور سپاٹ نہیں رہ جاتی ۔


لاشعوری خیالات کی تصدیق
خیالات دوقسم کے ہوتے ہیں: شعوری خیالات اور لاشعوری خیالات۔ شعوری خیالات سے مراد وہ خیالات ہیں جو انسان کے شعور میں ہوتے ہیں اور وہ ان خیالات سے بخوبی واقف ہوتا ہے، نیز وقتاً فوقتاً ان کا اظہار بھی کرتا رہتا ہے۔
لاشعوری خیالات انسان کے ذہن کے کسی گوشے میں چھپے وہ خیالات ہیں جن کا اس کو واضح علم نہیں ہوتا۔ ذہن کی کسی گہرائی میں ان کو محسوس تو کرتا ہے لیکن انہیں الفاظ کے پیرائے میں ڈھالنے سے قاصر نظر آتی ہے۔ اگر کوئی افسانہ نگار اپنی تخلیق کے ذریعے قاری کے لاشعور ی خیالات کو اس کے ذہن کی گہرائی سے نکالنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو وہ تخلیق اس قاری کی پسندیدہ تخلیق بن جاتی ہے۔ اس بات کو ہم دوسرے الفاظ میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ انسان ہر وہ بات پسند کرتا ہے جو اس کے اپنے خیال کی تصدیق کرے۔ لیکن خیالات لاشعوری ہوں شعوری نہیں۔ کیوں کہ کوئی بھی شخص خواہ وہ قاری ہو یا سامع اگر کوئی ایسی بات پڑھتا یا سنتا ہے جو اس کے اپنے خیالات کے عین مطابق ہے اور وہ اس خیال کا اظہار زبانی یا تحریری شکل میں کربھی چکا ہے یعنی اس کا خیال شعوری ہے تو اسے وہ بات گھسی پٹی، فرسودہ ، بے لطف او رعام سی نظر آئے گی اور اسے اس کے پڑھنے یا سننے میں کوئی خاص کیف محسوس نہیں ہوگا لیکن کوئی ایسا خیال جو قاری کے لاشعور میں تو ہو مگر کسی واضح شکل میں تحت الشعور سے باہر نہ نکل پایا ہو اور کوئی تخلیق کار اس خیال کو اپنی تخلیق میں ظاہر کردے توبے ساختہ قاری کے منہ سے ’’واہ‘‘ نکل جائے گی اور وہ اس تخلیق سے اپنا ایک رشتہ قائم کرلے گا اور انتہائی لطف اندوز ہوگا۔ بالفاظ دیگر یوں سمجھیے کہ ایسا کوئی خیال جو قاری کے لاشعور میں ہو لیکن وہ اسے پورے طورپر محسوس نہ کرپارہا ہو، اگر وہی خیال اسے کسی افسانے میں واضح طورپر نظر آجائے تو وہ یہ کہہ اٹھے گا کہ یہ تو میں کہنا چاہتا تھا مگر اسے الفاظ کا جامہ پہنانے سے قاصر تھا۔ تو سمجھیے کہ قاری کے خیال کی تصدیق ہوگئی، یعنی وہ تخلیق ، قاری کے لاشعوری خیالات کو روشن اور واضح کرنے میں کامیاب ہوگئی۔ ایسی کہانی، قاری کی اپنی کہانی بن جاتی ہے اور یہ عنصر بلا شبہ افسانے کی کامیاب او رپسندیدگی کا سبب بن جاتا ہے۔
جدید افسانوں میں اس عنصر پر بطور خاص توجہ دی گئی ہے۔ اس سے پہلے بھی افسانے میں لاشعور ی خیالات کو اجاگر کرنے کا فن موجودتھا جو نفسیات کا ذیلی عنصر تھا مگر جدید افسانے میں نفسیات سے الگ بھی اس عنصر کی انفرادی حیثیت ہوگئی ہے۔ مثال کے طورپر 1960ء کے بعد شائع ہونے والی منو بھنڈاری کی ہندی کہانی ’’تیسرا آدمی‘‘ کا ایک اقتباس ملاحظہ ہو۔ کہانی کچھ اس طرح ہے کہ ایک کلرک کی بیوی کاشنا سا ایک ادیب آلوک باہر سے اس کے گھر ملنے آتا ہے۔ کلرک، ادیب کو خود سے برتر سمجھتا ہے اور احساس کمتری کا شکار ہوجاتا ہے، ساتھ ہی اس کے دل میں شک پنپنے لگتا ہے لیکن وہ مہمان ادیب کو گھر پر چھوڑ کر دفتر چلا جاتا ہے ......مگر دوپہر ہی کو چھٹی لے کر واپس گھر آجاتا ہے۔
اقتباس:۔
’’پر گھر آیا تو پتہ نہیں کیوں، اس نے سائیکل گھر سے دس قدم دور ہی رکھ دی۔ دبے پاؤں سیڑھیاں چڑھا۔ اس کا دل گھبرانے لگا تھامانو وہ کسی دوسرے کے گھر میں چوری سے گھس رہا ہو۔ کچھ لمحے برآمدے میں کھڑے رہ کر وہ آہٹ لیتا رہا۔ شاید کچھ بات کی آواز ہی آرہی ہو۔ پر کہیں کچھ نہیں تھا۔ دروازہ بند تھا، پھر بھی ا س نے ہلکے سے دھکا دیا، شاید کھل ہی جائے۔ نہیں دروازہ اندر سے بند تھا۔اب؟ پھر اس نے دروازے میں کان لگایا۔ باہر کے کمرے میں بیٹھ کر بات کررہے ہوتے، تب تو باہر صاف صاف آواز آتی۔ اس کا مطلب ہے سونے والے حصے میں بیٹھے ہیں۔ پھر ادھر تو شکن کسی کو آنے نہیں دیتی۔ آلوک شاید ’’کسی‘‘ کے زمرے میں نہیں آتا۔ تب؟ اور ایکا ایک من ہوا کہ لات مار کر دروازہ توڑدے اور اندر دونوں کو رنگے ہاتھوں پکڑلے۔ شکن کو باتیں کرنی تھیں اس لیے تو چھٹی لی تھی۔ پر باتوں کا تو کوئی سلسلہ ہی نظر نہیں آتا۔ اندر کیا ہورہا ہے آخر؟ کیسے معلوم ہو؟ کہاں سے معلوم ہو؟ اس وقت گھر کا دروازہ روز ہی بند رہتا ہے۔ پر روز شکن گھر پر نہیں رہتی ہے اس لیے۔ کیا آج اس کا اندر سے بند ہونا کوئی خاص معنی نہیں رکھتا؟ کیا وہ لوٹ جائے؟ نہیں وہ لوٹ کر نہیں جائے گا۔ وہ دروازہ کھٹکھٹائے گا اور دیکھے گا کہ کھلنے میں کتنی دیر لگتی ہے۔ وہ چہرہ دیکھ کر ہی بھانپ لے گا کہ اندر کیا ہورہا تھا۔
وہ پھر ایک قدم آگے بڑھا، دروازہ کھٹکھٹانے کے لیے ہاتھ بھی اٹھایا، پر بس دروازے کو چھوکر رہ گیا۔ نہیں اسے اس طرح بے صبر نہیں ہونا چاہیے۔ مان لو کچھ نہیں ہواتو وہ ان کی نظروں میں تو آگے گرے گاسوگرے گا، اپنی نظروں میں کتنا گرجائے گا۔ ایک دم اسے کھڑکی کا خیال آیا۔ گھرکی بھی اندر سے بندتھی، اچھا کھڑکی بند کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ ایسی سردی تو اب رہ نہیں گئی۔ کمرے میں ہوا آنے کے لیے یہ کھڑکی اور دروازہ تو ہیں ہی بس ، دونوں ہی بند ہیں، تو ؟ اس نے ساری کھڑکی پر نظر دوڑائی..... کہیں کوئی چھید ہی ہوجہاں سے وہ اندر جھانک سکے۔ پر کہیں ایک چھوٹا سا سوراخ تک بھی نہیں ملا۔ پھر اس نے دروازے کوٹٹولا۔ کہیں کچھ نہیں۔ اسے پہلے اس بات کا خیال کیوں نہیں آیا؟ ایک سوراخ ہی کرکے رکھ دیتا۔‘‘
یہ تفصیلات بظاہر کردار کی نفسیاتی کشمکش کی غمازی کرتی ہوئی معلوم ہوتی ہیں لیکن غائر مطالعہ کے بعد ظاہر ہوتا ہے کہ دراصل یہ محض تحلیل نہیں ہے بلکہ تخلیق کا ر کردار کی ذہنی کیفیات کے ذریعے قاری کے ذہن کی پرتیں کھرچ کر لاشعوری خیالات اجاگر کرنے کی کوشش کررہاہے۔ ایسی صورت میں قاری بھی اسی طرح سوچے، یہ احساس قاری کو تخلیق کار دلا رہا ہے۔ پہلے سے دروازے میں سوراخ کردینے کی خواہش کردار کے ذہن میں انگڑائیاں لیتی ہے توقاری بھی اپنے لاشعور میں چھپی ہوئی یہ خواہش یا اس جیسی متعدد خواہشات سے اس واقعے یا اس آرزو کا رشتہ جوڑ نے لگتا ہے۔ ’’کبھی اس کی زندگی میں بھی کوئی ایسا لمحہ آیا ہے اور اس وقت وہ فیصلہ نہیں کرپایا ہے کہ اسے کیا کرنا ہے ، وہ کیا سوچ رہا ہے، اس کی دراصل خواہش کیا ہے؟‘‘اگر اس کے لاشعور کے نہاں خانے میں پوشیدہ یا اس طرح کے دیگر خیالات روشن ہوجاتے ہیں تووہ کہانی اسے اپنی کہانی لگنے لگتی ہے اور اس کی پسند یدگی کی ایک اہم وجہ بن جاتی ہے۔
اس سے قبل عام طور پر ان جزوی او ربظاہر اہم تفصیلات میں جانے کا رواج نہیں تھا۔ قاری اور کردار کے ذہن کو آہستہ آہستہ کرید کر ایک دوسرے سے رشتہ قائم کرنا، جدید افسانے کی ہی دین ہے۔ نفسیاتی کہانیاں ابتدا سے ہی لکھی جارہی ہیں لیکن محض نفسیات کی خاطر اتنی تفصیلات کی چنداں ضرورت نہیں تھی۔ یہاں یہ تفصیلات لاشعور کے بحر بے کراں میں غوطہ لگاکر خیالات کے گہرہائے آبدار نکالنے کا فریضہ انجام دے رہی ہیں اور یہی تفصیلات قاری اور کردار کے ذہن میں ہم آہنگی پیدا کررہی ہیں۔ جس کی بنا پر کہانی قاری کی اپنی کہانی بن جاتی ہے۔
یہاں ایک سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ کیاجدید افسانہ نگار قاری کے لاشعوری خیالات کی محض تصدیق ہی کرتا ہے یا قاری کے ذہن اور خیالات کو بدلنے کا کام بھی کرتا ہے؟ اس سوال کے جواب میںیہ بات کہی جاسکتی ہے کہ جدید افسانہ نگار قاری کے ذہن کو بدلنے کے لیے کوئی فتویٰ جاری نہیں کرتا اور نہ ہی ’’پندونصیحت ‘‘ کے دفتر کھولتا ہے بلکہ وہ خیالات اور ذہنیت میں تبدیلی لانے کے لیے بھی قاری کے لاشعوری خیالات میں سے ان عناصر کو اجاگر کرتا ہے جو اس کے مقصد کو پورا کرسکیں۔
دراصل ہر انسان کے لاشعور میں بے شمار خیالات کا خزانہ پوشیدہ ہوتا ہے۔ ہر انسان کا ذہن بیک وقت کسی چیز کو پسند بھی کرتا ہے اور ناپسند بھی۔ وہ اس کی مخالفت میں بھی اتنے ہی دلائل رکھتا ہے جتنے کہ موافقت میں ۔ فرق صرف یہ ہے کہ کچھ باتیں اس کے لاشعور میں ہوتی ہیں اور کچھ شعور میں۔ یہاں کہانی کار کی فن کاری یہ ہے کہ اگر وہ ایسے خیالات کااظہار کرتا ہے جو قاری کی رائے کے عین مخالف ہیں تو اسے قاری کے ذہن کی تہہ میں پہنچ کر اپنی بات اس طرح پیش کرنی ہے کہ قاری کے لاشعور میں چھپے خیالات ابھر کر شعور کی حدوں میں داخل ہوجائیں او ربالآخر ان کی تصدیق ہوجائے۔ ایسی صورت میں کہانی کار اپنے مقصد میں کامیاب ہوجاتا ہے اور قاری ا س کے خیال کو اپنا ہی خیال تسلیم کرلیتا ہے۔
یہ بات وثوق کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ یہ فن اردو اور ہندی دونوں زبانوں کے جدید افسانہ نگاروں کے ہاں موجود ہے۔


اسلوب(STYLE)
جدیدافسانوں میں عموماً تین قسم کے اسٹائل رائج ہیں:
ا۔ بیانیہ اسلوب 
ب۔ تجریدی اسلوب
ج۔ منظری اسلوب 
بیانیہ اسلوب کے سلسلے میں عام رجحان یہ ہے کہ یہ فرسودہ او رپرانا طرزہے۔ جدید دور میں بیانیہ کہانیاں لکھنے کا رواج ختم ہوگیا ہے لیکن یہ خیال دردست نہیں ہے۔ افسانے کے جدید دور میں بھی بیانیہ افسانے بکثرت لکھے جارہے ہیں۔ اکہرے او رسپاٹ افسانوں کو بیانیہ کے زمرے میں لانا دانش مندی نہیں ہے۔ کامیاب علامتی افسانے بھی بیانیہ اسلوب میں لکھے گئے ہیں۔ دراصل علامت کا تعلق افسانے کے موضوع سے ہے نہ کہ اسٹائل سے۔ افسانہ نگار کسی بھی شے کو علامت بنا کر پیش کرسکتا ہے، ضروری نہیں کہ علامتی کہانی لکھتے وقت وہ تجریدی اسلوب ہی اپنائے۔ مثال کے طورپر بلراج مین را کی کہانی ’’وہ ‘‘خالص علامتی کہانی ہے لیکن اس کا اسلوب بیانیہ ہے۔ ایک اقتباس ملاحظہ ہو:
’’
جب اس کی آنکھ کھلی، وہ وقت سے بے خبر تھا۔ اس نے دایاں ہاتھ بڑھا کر بیڈ ٹیبل سے سگریٹ کا پیکٹ اٹھالیا اور سگریٹ نکال کر لبوں میں تھام لیا۔ سگریٹ کا پیکٹ پھینک کر اس نے پھر ہاتھ بڑھایا اور ماچس تلاش کی۔ ماچس خالی تھی۔
اس نے خالی ماچس کمرے میں اچھال دی۔
خالی ماچس چھت سے ٹکرائی اور فرش پر آن پڑی۔
اس نے ٹیبل لیمپ روشن کیا۔ 
بیڈ ٹیبل پر چار پانچ ماچس الٹی سیدھی پڑی ہوئی تھیں۔ 
اس نے باری باری سب کو دیکھا۔ سب خالی تھیں۔‘‘ 
اسی کہانی سے دوسرا اقتباس:
’’
اس نے لالٹین کی بتی سے سگریٹ سلگانے کے لیے قدم اٹھایا ہی تھا کہ ..... کون ہے؟ 
وہ خاموش رہا۔
سیاہی کی ایک انجانی تہہ کھول کر سپاہی اس کی طرف لپکا۔ 
کیا کررہے تھے؟ 
کچھ نہیں۔
میں کہتا ہوں کیا کررہے تھے.....؟‘‘
ایک اور اقتباس ملاحظہ ہو
’’
جب وہ تھانے سے باہر آیا۔ وہ بری طرح تھک چھکا تھا۔ اس نے اس نہ ختم ہونے والی سڑک پر دھیمے دھیمے چلنا شروع کیا۔ اس کی ناک سوں سوں کرنے لگی تھی اور اس کا بدن ٹوٹنے لگا تھا۔ سگریٹ پینا اور علت ہے۔ میں نے یہ علت کیوں پال رکھی ہے؟
ماچس کہا ں ملے گی؟ نہ ملی تو؟ .... وہ وقت سے بے خبر تھا۔ لیمپ پوسٹوں سے بے خبر تھا، سڑک سے بے خبر تھا، اپنے بدن سے بے خبر تھا۔ وہ گرتا پڑتا بڑھ رہا تھا۔ 
اس کے لغزش زدہ قدموں میں نشے کی کیفیت تھی۔
پوپھٹی اور وہ دم بھر کو رکا۔ 
دم بھر کر رکا اور پھر سنبھلا۔
سنبھلا او راس نے قدم اٹھانا چاہا کہ......سامنے سے کوئی آرہا تھااو ر اس کے قدم لغزش کھارہے تھے۔ 
وہ اس کے قریب آکر رکا۔
اس کے لبوں میں سگریٹ کانپ رہاتھا۔
آپ کے پاس ماچس ہے؟ 
ماچس؟ 
آپ کے پاس ماچس نہیں ہے؟
ماچس کے لیے تو میں........ 
وہ اس کی بات سنے بنا ہی آگے بڑھ گیا۔
آگے...... جدھر سے وہ خود آیا تھا۔ اس نے قدم بڑھا یا۔
آگے۔ جدھر سے وہ آیاتھا......‘‘

“)’وہ‘‘ .......... بلراج مین را(
بلراج مین را کی یہ کہانی ایک علامتی کہانی ہے مگر اس کہانی کا اسلوب خالص بیانیہ ہے۔ کہیں کہیں بیان پر مکالمے غالب آجاتے ہیں لیکن پھر بھی اس اسلوب کو بیانیہ اسلوب ہی کہا جائے گا۔ 
اس کے برعکس بلراج مین را کی ہی ایک کہانی ’’مقتل ‘‘ہے جس کا اسلوب بیانیہ نہیں تجریدی ہے۔
’’کئی بار میرے پاؤں پھسلے او رہر بار یوں ہوا کہ پسلیوں کا جال کیلوں میں پھنس گیا، آنکھوں کے گہرے گڈھے کیلوں میں الجھ گئے اور میں ٹنگ گیا اور ہربار میں نے کیلوں میں پھنسا ہوا جال جماتا، نوکیلی کیلوں میں الجھے ہوئے آنکھوں کے گڈھے علیٰحدہ کیے او رپھر ایک ایک کیل تھامتا، ایک ایک کیل پر پاؤں جماتا چھت کی جانب بڑھا۔ دیواریں کتنی اونچی تھیں او رچھت کون سے آسمان پر تھی، کچھ پتہ نہ چلتا تھا                                           (’’مقتل‘‘۔ بلراج مین را)
اس اقتباس کے مطالعہ کے بعد یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس کہانی کا اسلوب بیانیہ نہیں تجریدی ہے۔ اردو افسانے میں تجریدی اسلوب کی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔ جدید افسانے میں تجریدی اسلوب پر سب سے زیادہ زور دیا گیا ہے۔ خاص طورپر بلراج مین را، انور سجاد، انور عظیم، سریندر پرکاش وغیرہ اس ضمن میں قابل ذکر ہیں۔ انورسجاد کے متعلق شہزادمنظر رقم طراز ہیں:
’’
جدید افسانے میں انور سجاد کو اس لیے بھی اہمیت حاصل ہے کہ انہوں نے اردو میں فارمولے کی بنیاد پر قائم کرافٹ اسٹوری کی روایت کو توڑ ا اور مصوری، شاعری اور افسانہ نگاری کی روایت کے امتزاج سے افسانے کو نئی شکل دینے کی کوشش کی‘‘۔

       (شہزاد منظر : افسانہ (۲) تخلیقی ادب ۲کراچی)
1960ء کے بعد تجریدی کہانی کا رواج عام ہوگیا۔ انور سجاد، بلراج مین را، سریندر پرکاش، احمد ہمیش، انور عظیم وغیرہ کے علاوہ بہت سے کہانی کار تجریدی کہانیاں لکھ رہے تھے لیکن تجریدی کہانی قارئین میں دلچسپی پیدا نہیں کرسکی۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر وحید اختر کا اقتباس درج ذیل ہے
’’
جس چیز کو تجریدی کہانی کہا جاتا ہے اور جسے کبھی کبھی اقلید سی شکلوں، نقطوں اور ریاضیاتی یا کیمیائی علامتوں میں لکھا جاتا ہے، وہ زبان کے استعمال کی نادر مشق سہی، کہانی کا حق ادا نہیں کرتی۔ اسی لیے قارئین میں دلچسپی پیدا نہیں کرتی۔‘‘                

   (ڈاکٹر وحید اختر: ’’الفاظ‘‘ افسانہ نمبر 1981ء ص21)
اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آہستہ آہستہ تجریدی کہانی کی طرف افسانہ نگاروں کی توجہ کم ہوگئی۔ ابہام (ABSTRUCTION) زیادہ دنوں تک افسانہ نگاروں کو اپنے حصار میں نہیں رکھ سکا اور اسی دوران ایک اور اسلوب فروغ پانے لگا جسے ہم منظری اسلوب کہہ سکتے ہیں۔ منظری اسلوب کا تعلق منظر نگاری سے قطعی نہیں ہے۔ دراصل یہ ایک ایسا اسلوب ہے جو بیانیہ اور تجریدی اسلوب سے مختلف ہے، اس میں کہانی بیان نہیں کی جاتی بلکہ خود بخود ہوتے ہوئے نظرآتی ہے۔ اس رجحان کا فروغ ٹیلی ویژن دور کا تقاضہ تھا۔ 1970ء سے پہلے کی نسل نے دادی اور نانی اماؤں سے کہانیاں سنی تھیں اور انہیں اپنے طور پر محسوس کیا تھا۔ دیہات میں چوپالوں اور الاؤ کے گرد بیٹھ کر آپ بیتی اور جگ بیتی سننے سنانے کا رواج تھا۔ قصبوں میں بیٹھکوں یا چبوتروں پر لیمپ پوسٹ کی روشنی میں مونڈھوں پر بیٹھ کر حقے کی محفلیں جمتی تھیں اور قصے کہانیوں کا دور چلتا تھا، کبھی طلسم ہوش ربا پڑھی جاتی تو کبھی زبانی قصے بیان ہوتے۔ گویا بیان ایک ذریعہ تھا سامع یا قاری تک کہانی پہنچانے کا۔ مگر 1970ء کے بعد صورت حال بدلی، اب بچوں سے ان کی دادی امائیں چھین لی گئیں اوران کے سامنے رنگین ٹیلی ویژن رکھ دیے گئے، اب وہ کہانیاں سنتے نہیں کہانیاں دیکھتے ہیں۔اب دیہاتی بھی چوپالوں میں کم بیٹھتا ہے، سنیما گھروں میں زیادہ۔ لہٰذا نئے افسانہ نگاروں نے یہ محسوس کر لیا کہ آج کا قاری وہی کہانی دلچسپی سے پڑھے گا جسے پڑھتے وقت سنا نہیں دیکھا جاسکے۔ پہلے اگر کہانی میں کوئی بات بیان کی جاتی تھی تو قاری کا ذہن خود بخود عکس او رمنظر بنا لیا کرتا تھا مگر اب ذہن کو سنیما او رٹیلی ویژن نے اس حدتک مفلوج کردیا ہے کہ وہ اپنے سابقہ عمل سے عاری ہوگیا ہے لہٰذا افسانہ نگاروں نے بھی عکس ابھار نے کے اصولوں میں تبدیلی کی اور وہ NARRATION کے بجائے VISUALITYپر زیادہ زور دینے لگے۔ کردار کے خارجی عمل کا اظہار تو منظری اسلوب کے ذریعے بآسانی پیش کی جاسکتا ہے مگر دیکھنا یہ ہے کہ نئے افسانہ نگاروں نے کردار کی ذہنی کیفیت یا کسی داخلی حالت کو منظری اسلوب کے ذریعے کس طرح پیش کیا ہے۔ مثال کے طورپر بیانیہ اسلوب میں ایک بات کو اس طرح کہا گیا ہے۔
’’وہ شخص گھوڑے پر سوار اپنی منزل کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اسے منزل پر پہنچنے کی اتنی جلدی ہے کہ ایک لمحے کے لیے بھی رکنا گوارہ نہیں ۔ راستہ بہت خراب ہے اور اس کے گھوڑے کی نعلیں گھس گئی ہیں اور پیروں سے خون رس رہا ہے۔ اس نے سوچا کہ کتنا اچھا ہوتا اگر اپنے ساتھ کچھ نعلیں او رکیلیں بھی لیتا آتا۔ کسی طرح جلدی سے نعلیں بدل دیتا۔ اس نے سوچا کہ جلد سے جلد وہ کس طرح نعلیں بدل سکتا ہے۔ کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ چلتے گھوڑے کے نعلیں ٹھوک دے۔ پھر اپنے اس خیال پر وہ خود ہنس پڑا۔‘‘
اگر اسی بات کو منظری اسلوب میں پیش کیا جائے تو اس میں ’’اس نے سوچا‘‘، ’’اس کی خواہش ہوئی‘‘ وغیرہ جیسے بیانات نہیں لکھے جائیں گے بلکہ افسانہ نگار منظر کے ذریعے اس کی سوچ کر اجاگر کرنے کی کوشش کرے گا اوراس کی صورت کچھ اس طرح ہوگی:
’’......
کیا کبھی وہ اپنی منزل پاسکے؟ اس نے گھوڑے کے چابک مارا، گھوڑے نے ہنہنا کر اپنے دونوں پیر اوپر اٹھائے اور پھر بری طرح لنگڑانے لگا۔ اس نے اپنے جھولے سے ہتھوڑی، نعلیں او رکچھ کیلیں نکالیں۔ گھوڑا دوڑ رہا تھا۔ وہ رکاب میں پاؤں پھنسا کر سرکس کے رنگ ماسٹر کی طرح گھوڑے کے پیروں کی طرف جھک گیا۔ نعل کے سوراخ میں ایک کیل پھنسا ئی، جیسے ہی قدم بڑھانے کے لیے گھوڑے نے پیر اٹھایا اس نے بڑی مہارت سے کیل ٹھونک دی، دوبارہ پیر اٹھایا تو دوسری کیل او رپھر تیسری، اس طرح اس نے چاروں پیروں میں نعلیں ٹھونک دیں..... گھوڑا لنگڑا رہا تھا، اگر وہ اپنے ساتھ نعلیں او رکیلیں لے بھی آتا تو کیا اس طرح چلتے گھوڑے کے .... نہیں ....‘‘!!
مندرجہ بالا اقتباس میں افسانہ نگار نے منزل کو جلد سے جلد پالینے کی خواہش کو اس منظر کے ذریعے دکھانا چا ہا ہے۔ کہانی کار نے کہیں یہ کہا کہ اس کی خواہش تھی کہ وہ جلد از جلد منزل پر پہنچ جائے ۔اس نے ایک منظر پیش کیا ہے جس سے کردار کی خواہش کا علم ہوجاتا ہے۔ ذہنی کیفیات کے اظہار کے لیے جدید افسانہ نگاروں نے اس اسلوب کا اپنے افسانوں میں اکثر سہارا لیا ہے۔
مثلاً اگر اسے یہ کہنا ہے کہ .......’’یہ بات اس کی سماعت پر گراں گزری.......‘‘ تو نئے افسانہ نگار نے اسے اس طرح پیش کیا ہے ........’’یہ بات سن کر اس کے ذہن میں سانپ رینگنے لگے اور پھر کئی سانپ کانوں کے سوراخوں سے باہر نکلنے کی کوشش کرنے لگے۔ اس کے کانوں کے سوراخ بند ہوگئے اور ذہن پر ایک بڑا پتھر آکر ٹک گیا.........‘‘
جدید افسانہ نگاروں نے ایسے مناظر ی اسلوب سے ذہنی کیفیات کا اظہار بھی کیا ہے اور کہانی میں ایک فضا بھی تخلیق کی ہے نیز ڈرامائیت کے عنصر کو بھی ابھارا ہے۔ 
اس سے قبل افسانہ نگاروں نے بیانیہ اسلوب سے انحراف کرکے تجریدی اسلوب اختیار کیاتھا۔ دراصل ’’تجریدی‘‘ فن مصوری کی اصطلاح ہے۔ نئے افسانہ نگاروں نے فکشن کو شاعری یا مصوری کے اصولوں پر پرکھنا مناسب نہیں سمجھا اور NARRATION کے عوض ABSTRACTION کو نہیں بلکہ VISUALITYکو اپنا یا ۔


وجہ کی تلاش
جب خواب وخیال کی دنیا یعنی داستانوں کا دور ختم ہوا اور پریم چند نے کہانیاں لکھنے کی بنیاد ڈالی تو ہمارے گردو پیش پھیلے ہوئے بے شمار سماجی مسائل پر روشنی پڑی۔ پریم چند نے محض مسائل ابھارے ہی نہیں، ان کا حل بھی تلاش کیا لیکن پریم چند کے بعد جب ترقی پسند تحریک کا دور شروع ہوا تو ادیبوں نے محسوس کیا کہ ادیب کا کام صرف سماج کے اچھے اور برے پہلوؤں کو اجاگر کرنا ہے نہ کہ ان کا حل بھی ڈھونڈنا۔ اس دور میں لاتعداد کامیاب افسانے لکھے گئے۔ ادیبوں نے بڑی فن کاری کے ساتھ سماجی مسائل کو ابھار کر قارئین کے روبرو پیش کیا لیکن اسی دور میں بیشتر افسانے محض’’فوٹو گراف‘‘ بن کر رہ گئے۔ نئے افسانہ نگاروں نے محسوس کیا کہ کہانی کا فن فوٹو گرافی کے فن سے مختلف ہے، ہم جو کچھ بظاہر دیکھتے ہیں، من وعن وہی پیش کردینا ادیب کا منصب نہیں۔ ادیب ایک ’’تیسری آنکھ‘‘ بھی رکھتا ہے جس کا استعمال اسے اپنی دونوں ظاہری آنکھوں سے زیادہ کرنا چاہئے اور یہی تیسری آنکھ کسی مسئلے کی وجہ تلاش کرنے کا کام انجام دیتی ہے۔ سماج کی کوئی برائی، کوئی واقعہ یا کوئی حادثہ دیکھ کر نئے افسانہ نگار نے اسے بعینہ پیش کرنے کے بجائے تیسری آنکھ کا سہارا لے کر اس کی تہہ تک پہنچنے کی کامیاب کوشش کی اور اس کی وجہ ڈھونڈنکالی۔ ادیب کا یہ عمل اسے حقیقت پسندی، گہرائی، وسعت، نفسیات اور فلسفے کی پرپیچ راہوں سے گزرنے پر آمادہ کرے گا اور کرداروں کے ساتھ صحیح معنوں میں INVOLVEMENTبھی ہوسکے گا۔ دراصل ادیب کا کام اتنا آسان نہیں ہے کہ ایک واقعہ دیکھا یا سنا او رکہانی لکھ دی یا کوئی کردار بھایا اور اس میں کچھ انوکھا پن نظر آیا تو کردار نگاری کرڈالی یا زیادہ سے زیادہ نفسیات کے بندھے ٹکے اصولوں کی روشنی میں اس کردار کی نفسیات بیان کردی۔ مثلاً: ’’کتا انسان کو پہنچانتا ہے او ربلی جگہ کو۔‘‘یہ بات ہم مشاہدہ یا مطالعے کی روشنی میں بڑی آسانی سے کہہ سکتے ہیں مگر اس کے اسباب وعلل کو سمجھنا ہر ایک کے بس کا روگ نہیں لیکن نئے افسانہ نگاروں نے اس قسم کے جملے لکھنے سے قبل ان کے ہر پہلو پر پوری طرح غور وخوض کرلیا ہے اور یہ سمجھ لیا ہے کہ ان عوامل کے پیچھے کون سی نفسیات پوشیدہ ہیں۔
ادیب کا فرض ہے کہ کسی بھی نفسیات کا تجزیہ کرنے یا کسی واقعے کو قلم بند کرنے سے قبل اس پر اچھی طرح غور کرلے او راس وقت تک غور فکر کا سلسلہ جاری رکھے جب تک کوئی معقول وجہ سمجھ میں نہ آجائے اور اگر کوئی وجہ سمجھ میں آبھی جائے تو یہ دانش مندی کا تقاضا نہیں کہ اس واقعے کو بنیاد بنا کر فوری طورپر ایک عدد کہانی گھڑدے۔ یہاں اس تلاش کا مطلب یہ ہے کہ پہلے کتے بلی کی نفسیات سے کما حقہ آگاہی حاصل کی جائے تب یہ جملہ تحریر کیا جائے۔ ہوسکتا ہے آئندہ کہانی کار کی تلاش کی ہوئی وجہ کہانی کے موضوع پر بھرپور روشنی ڈال سکے۔ لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ کہانی میں جو کچھ لکھا جائے، کہانی کار اس کی وجہ تلاش کرنا ہی اپنا اولین مقصد بنا لے مگر اتنا ضرور ہونا چاہیے کہ قاری کو محسوس ہوجائے کہ افسانہ نگار کا INVOLVEMENTاپنی کہانی اور کرداروں کے ساتھ سطحی نہیں بلکہ کافی گہرا ہے۔ ارسطوؔ کا یہ قول ’’نقل اصل سے زیادہ خوبصورت ہوتی ہے‘‘ اپنے اندر کتنی سچائی رکھتا ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے ہوسکتا ہے کہ جب ہم کسی گاؤں کی سینری دیکھتے ہیں جس میں ایک جھونپڑی، ایک درخت، ایک ندی، آسمان پر تھوڑے سے بادل کے ٹکڑے او رایک بیل گاڑی دکھائی گئی ہو تو وہ زیادہ حسین لگتی ہے۔ اس اصل منظر کے مقابلے میں جو ہم گاؤں میں جاکر بچشم خود دیکھتے ہیں۔ ارسطوؔ نے اپنے مشاہدے کی روشنی میں جو بات کہی ہے وہ صدفیصد سچ ہے مگر ہمیں اس پر بھی غور کرنا چاہیے کہ آخر ایسا کیوں ہوتا ہے۔ اس کی متعدد وجوہات ممکن ہیں مثلاً ہم بغیر تھکے ہارے، گھر بیٹھے، اپنے تمام حواس کی یکجائی کے ساتھ بیک نگاہ کئی چیزیں دیکھ کر زیادہ متاثر اور مسرور ہوسکتے ہیں، بہ نسبت اس کے کہ ہم دیہات جاکر ان مناظر کو خود اپنی آنکھوں سے دیکھیں کیو ں کہ ایسی صور ت میں ذہن کا ایک حصہ چلنے پھر نے کے عمل کی طرف لگا ہوگا۔ جسم میں تھکن یا بھوک کا احساس بھی ہوگا او ر جن کاموں کو چھوڑ کر ہم دیہات آئے ہیں ان کے زبان کی طرف بھی ذہن کا ایک گوشہ مصروف فکر ہوگا۔ علاوہ ازیں ہم ایک نظر میں یا تو ندی دیکھیں گے یا جھونپڑی کی شکستہ دیوار کا حصہ یا بیل گاڑی کاایک رخ یا آسمان پر ابر کے چلتے پھرتے ٹکڑے۔ ظاہر ہے ایسی صورت میں ان مناظر کامکمل تاثر (TOTAL EFFECT)نہ بن پانے کی بنا پر وہ تمام چیزیں اتنی خوبصورت نہیں محسوس ہوں گی جتنی سینری میں نظر آتی ہیں۔ یہاں اس مثال کا مقصد صرف اتنا تھا کہ افسانہ نگار کو چاہیے کہ ہر چیز کا مشاہدہ عام آدمی کے زاویہ نگاہ سے ہٹ کر کرے۔ نئے افسانہ نگاروں کا زاویہ نظر کچھ اسی قسم کا تھا۔ جس کی وجہ سے ان کی تخلیق میں INVOLVEMENT)اور ندرت کی پرچھائیاں تو ابھریں سوا بھریں، ایک واضح سمت بھی نظر آنے لگی او رکہانی ابہام کے بھنور سے نکلتی ہوئی محسوس ہوئی۔ دوسری مثال ملاحظہ ہو:
جب ہم کسی کی جانب حقارت آمیز نظروں سے دیکھتے ہیں یا اس سے سخت نفرت کرتے ہیں تو اکثر اسے کتا کہہ کر پکار تے ہیں۔ جب کہ حقیقت یہ کہ کتا سب سے وفادار جانور ہے لیکن اس کی حد سے بڑھی ہوئی وفاداری کے باوصف کوئی بھی وفادار شخص خود کو کتنا کہلوانا عام طورپر پسند نہیں کرے گا۔ آخر کیوں؟ ہم نے ہزاروں بار کہانیوں میں کسی کوحقارت سے کتا کہہ کر پکارتے ہوئے پڑھا ہوگا مگر کیا کبھی یہ سوچنے کی ضرورت محسوس کی ہے کہ کتے میں کون سی برائیاں ہیں جس کی بنا پر ہم اسے حقارت سے دیکھ رہے ہیں۔ صرف آنکھ بند کرکے یہ مان لینا کہ کتنا حقیر جانور ہے۔ اب کہانی کار کے لیے کافی نہیں ۔ آج کا کہانی کار اس کی تہہ میں اترتا ہے اور حقیر کہلانے کے اصل اسباب کی جستجو کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ’’کتے‘‘ کو نئے کہانی کاروں نے کئی شکلوں میں پیش کیا ہے۔ انتظار حسین اور غیاث احمد گدی نے کافی گہرائی میں جاکر کتے کامشاہدہ کیا ہے اور اسے نئی نئی علامتوں کے روپ میں اپنے افسانوں میں جگہ دی ہے۔ غیاث احمد گدی کے ایک افسانے کااقتباس پیش خدمت ہے۔
’’وہ رورہاتھا اور ا س کے کان بج رہے تھے۔ لگاتار وہی منحوس الفاظ گونج رہے تھے اور جب وہ رورہاتھا، اس نے دیکھا وہ دم کٹا کتا جسے وہ دروازے کے باہر چھوڑ آیا تھا اور اندر آکر دروازہ بند کرلیاتھا، وہ پتہ نہیں کیسے اندر آکر اس کے لحاف میں آگھسا تھا۔
اس نے دیکھا دم کٹا کتا اس سے تقریباً چمٹا اس کے گال سے اپنے تھوتھنے لگائے تھا اور اس کی آنکھوں سے لگاتار آنسو بہہ رہے تھے اور وہ کتا اس کی گردن کو ہولے ہولے چاٹ رہاتھا...... اور اس کے کان بدستور بج رہے تھے اور آنسو بہہ رہے تھے.....‘‘

  (تج دوتج دو۔ غیاث احمد گدی۔ پرندہ پکڑنے والی گاڑی ص38)
اس کہانی میں غیاث احمد گدی نے دم کٹے کتے کو ضمیر کی علامت بنانے میں انتہائی فن کاری سے کام لیاہے۔
اس کے علاوہ تحریروں کی ہمیں چند ایسے مقولے پڑھنے کو ملتے ہیں جو زبان زد ہر خاص وعام ہوتے ہیں،مثلاً ’’کمزور آدمی کو غصہ زیادہ آتا ہے‘‘۔ لیکن جب کہانی کار صرف اس مقولے کو مقولہ سمجھ کر بلا چوں وچرا تسلیم نہیں کرلیتا بلکہ وہ اس کی وجہ تلاش کرنے کی بھی کوشش کرتا ہے کہ آخر کمزور آدمی کو زیادہ غصہ کیو ںآتا ہے، وہ کمزور آدمی کی نفسیاتی پیچیدگیوں کو سمجھنے اور یہ جاننے کی کوشش کرتا ہے کہ غصے کے عالم میں اس کی اندرونی وبیرونی کیفیت کیا ہوتی ہے، وہ کیا سوچتا ہے اور کیا کرنا چاہتا ہے اور جب وہ اپنے مقصد میں ناکام رہتا ہے تو اس کے ذہن میں شکست وریخت کی کون سی لہر اٹھتی ہے اور اس کے رد عمل میں وہ کیا کر گزرتا ہے او راسے غصہ آنا فطری کیوں ہوجاتا ہے۔ بعض کہانیاں تو محض اسی کشمکش کی عکاسی پر ختم ہوجاتی ہیں۔ غصے کی کیفیت کے آغاز سے لے کر اس کے نقطۂ عروج تک کے عمل پر محیط متعدد کہانیاں لکھی جاچکی ہیں۔
اس کے علاوہ ’’کلرک‘‘ کی نفسیات پر بے شمار کہانیاں موجود ہیں۔ عام طورپر یہ خیال پایا جاتا ہے کہ کلرک کی نفسیات یہ ہوتی ہے کہ وہ کام کے سلسلے میں متعلقہ لوگوں کو بلا وجہ پریشان کرتا ہے لیکن جدید افسانہ نگاروں کا اس ضمن میں رویہ یہ رہا ہے کہ جب وہ ’’کلرک‘‘ پر کہانی لکھیں گے تو اس کی نفسیات کا گہرا مطالعہ کرلیں گے کہ وہ ایسا کیوں کرتا ہے۔ نیز یہ کہ وہ ایسا کرتا بھی ہے یا ہم اپنے کام کروانے میں حد سے زیادہ تعجل پسندی کا ثبوت دینے لگتے ہیں اور ہمیں اپنے کام سے جو جذباتی لگاؤ ہوتا ہے وہ ہماری توقعات کو کافی حدتک بڑھا دیتا ہے، جس کے نتیجے میں اس کا مناسب او رآئینی عمل بھی ہمیں غیر مناسب اور تکلیف دہ لگنے لگتا ہے۔
بہتیرے واقعات او رکردار تو ہم سب اپنی حقیقی زندگیوں میں دیکھتے ہی رہتے ہیں پھر ہمیں ان ہی جیسے واقعات اور کرداروں پر مشتمل سیدھی سادی کہانی سے دلچسپی کیوں کر ہو۔ ہاں اگر ہم کسی واقعہ یا کردار کی نفسیات سمجھنے سے قاصر ہیں او رکسی کہانی کے ذریعے ان پر بھر پور روشنی پڑجاتی ہے یا بہ الفاظ دیگر اس واقعہ کی نفسیاتی گر ہیں کھل جاتی ہیں تو ایسی کہانی سے بلا شبہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ بالکل اسی طرح جیسے یہ بات تو سب جانتے تھے کہ درخت سے پھل ٹوٹ کر زمین پر گرے گا ہی لیکن نیوٹن کی اہمیت اس لیے بڑھ گئی کہ اس پھل کے نیچے گرنے کی وجہ ٹھونڈ نکالی۔ 
الغرض نئے افسانہ نگار کا کام آسان نہیں ہے۔ وہ بیک وقت ماہر نفسیات بھی ہوتا ہے، ماہر سماجیات بھی، فلاسفر بھی اور سائنس داں بھی۔ کرداروں کا ہمراز بھی اور ان کا ہمدرد بھی۔ وہ کرداروں کے بہت سے گناہوں میں شریک بھی ہوتا ہے اور ان کا گواہ بھی بن جاتا ہے۔ وہ گناہ کرنے کی ترغیب بھی دیتا ہے او ربازرہنے کی تلقین بھی کرتا ہے جو افسانہ نگار اتنے سارے فرائض بحسن خوبی انجام دیتا ہے، اس کی کہانی کبھی اکہری نہیں ہوگی بلکہ وہ زیادہ نفسیاتی، حقیقی، فلسفیانہ اور سائنٹفک ہوجائے گی اور خود بخود اس میں کئیDIMENSIONپیدا ہوجائیں گے او رکہانی باربار پڑھی جانے کے قابل ہوجائے گی۔ یہی وہ عناصر ہیں جو نئی کہانی کا طرہ امتیاز ہیں۔
نئے افسانے میں شعور کی رو کی تکنیک بھی عام ہوئی ہے۔ قرۃ العین حیدر کے افسانوں میں بھی یہ تکنیک پورے طورپر پائی جاتی ہے۔ ا س پر کافی لکھا جاچکا ہے۔ علاوہ آزیں جدید افسانہ نگار علامتی کہانیاں، تمثیلی کہانیاں اور SITUATIONکی کہانیاں بھی لکھ رہے ہیں۔ ’’سب رس‘‘ کی تمثیل او رجدید کہانیوں کی تمثیل میں بنیادی فرق یہ ہے کہ ’’سب رس‘‘ میں غیر مرئی شے کو جسم عطا ہوگیاتو وہ جاندار وں کی مانند بولنے، چلنے پھرنے، رونے ہنسنے اور کھانے پینے لگی لیکن جدید تمثیلی کہانی اس اسلوب سے قدرے مختلف ہے۔ جدید افسانے میں جب کوئی غیر مرئی شے مجسم شکل میں سامنے آتی ہے تو ضرور ی نہیں کہ وہ انسانوں کی طرح چلے پھرے، بات چیت کرے یا ہنسے روئے۔ اس تمثیل کا اظہار علامتی انداز میں بھی ہوتا ہے، استعاروں کی شکل میں بھی اور تجریدی اسلوب میں بھی۔ یہی وجہ ہے کہ تمثیلی، علامتی اور تجریدی افسانوں میں عام قاری تفریق نہیں کرپاتا۔ کچھ کہانیاں محض SITUATIONسے متاثر ہوکر بھی لکھی جاتی ہیں۔ ایسی ہی کہانیوں کے سلسلے میں انور سجاد رقمطراز ہیں:
’’.......
مجھے ایکSITUATION نے DISTURBکیا۔ میرے ذہن میں پتا نہیں اس کے POLITICAL SIGNIFICANCE کئی تھے۔ اگر اس سچویشن کا کوئی میننگ (MEANING) بنتا ہے تو وہ الگ بات ہے لیکن میں نے اس میں جو کچھ لکھا ہے وہ صرف ایک اسٹیٹ آف ٹینشن (STATE OF TENSION) چاہے میں اسے کسی طرح بیان کردیتا۔‘‘

    (نقوش افسانہ نمبر 1968ء مذاکرہ 641)
افسانے کے چند ایسے اجزائے ترکیبی ہیں جن پر افسانے کی پیدائش سے اب تک بحث جاری ہے۔ مثلاً وحدت تاثر، پلاٹ، نقطہ نظر او رمنظر نگاری وغیرہ۔ افسانے میں وحدت تاثر پر کافی زور دیا گیاہے۔ 1942ء میں امریکی افسانہ نگار EDGAR ALLA POEنے افسانے کو ایک واضح صنف ادب بتایا، اپنے ہمعصر ہاتھورن کی کہانی کا تعارف کراتے ہوئے اس نے لکھا:
’’
ایک چابکدست فن کار نے ایک کہانی لکھی ہے۔ اس نے بڑی احتیاط اور غور وفکر کے بعد یہ طے کیا کہ وہ اپنے قاری کے ذہن پر کون سا واحد تاثر قائم کرنا چاہتا ہے۔ اسی واحد تاثر کو پیش نظر رکھ کر ہو ایسے واقعات مہیا کرتا ہے جن سے یہ مقصود تاثر پیدا ہوسکے۔ اس کی پوری کہانی میں ایک لفظ بھی ایسا نہیں جس کا مقصد براہ راست یا بالواسطہ اسی مخصوص تاثر کا پیدا کرنا نہ ہو۔‘‘      

    (سید وقار عظیم: فن افسانہ نگاری)
لیکن یہ ضرور ی نہیں کہ ہر کہانی میں ایک ہی تاثر ہو، اب بہت سی ایسی کہانیاں لکھی جارہی ہیں جو بیک وقت کئی تاثر قاری کے ذہن پر چھوڑ تی ہیں اور ان میں کلائمکس (C LIMAX) بھی بدرجہ اتم پائے جاتے ہیں۔
اور یہ بھی ضروری نہیں کہ مندرجہ بالا تمام عناصر ہر کہانی میں موجود ہوں۔ ان میں سے چند عناصر کی موجودگی بھی کہانی کو کامیاب بنانے میں معاون ثابت ہوسکتی ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ کسی کہانی میں مذکورہ تمام عناصر موجود ہوں۔ پھر بھی وہ کہانی ’’ناکام کہانی ‘‘ بن جائے۔


 مضامین دیگر 


Comment Form



اردو فکشن

© 2017 Urdu Fiction. All right reserved.

Developed By: Aytis Cloud Solutions Pvt. Ltd.