07 Aug, 2017 | Total Views: 562

رسوا کی ناول نگاری

صفدر امام قادری

انیسویں صدی کے نصف دوم میں جب اردو کے ناول نگاروں کا ایک سلسلے سے ورودِ مسعود ہوتا ہے، اس وقت سماجی اور مذہبی اصلاح کے ساتھ ساتھ ماضی کی مہتم بالشّان روایتوں کی یاد ایسے حتمی موضوعات بن گئے تھے جن سے الگ کسی لکھنے والے کی نگاہ نہیں جاتی تھی۔ ڈپٹی نذیر احمد، رتن ناتھ سرشار اور عبدالحلیم شرر کے علاوہ الطاف حسین حالی، شادعظیم آبادی، علی سجّاد عظیم آبادی اور رشیدۃ النّسا، سب کے سب مذہب و اخلاق اور رشدوہدایت کے پروں سے اردو ناول کے کارواں کو اڑا رہے تھے۔ انیسویں صدی کے آخری برسوں میں جب مرزا محمد ہادی رسوا نے’ امراوجان ادا‘ نام سے ایک نیا قصّہ پیش کیا تب اندازہ ہوا کہ کس طرح سخن ور سہرا کہتے ہیں۔’ امراوجان ادا‘ اپنے اختصار، جامعیت، ارتکاز اور رِقّت آمیز پس منظر کی وجہ سے اب بھی ایک صدی سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود اپنی تازگی اور فن کاری میں بے مثال ہے۔ مرزا رسوا نے متعدّد ادبی ناول لکھے اور دیگر افسانوی تحریریں بھی خاصی رہیں لیکن انھیں صرف’ امراوجان ادا‘ کی وجہ سے جانا گیا۔
امراوجان ادا‘ ایک طوائف کی کہی ہوئی کہانی ہے۔ اِس کے اکثر اہم کردار بھی اِسی طبقے سے آتے ہیں۔ وہ کردار جن میں زندگی کی رمق ہے اور ناول پر فیصلہ کُن طریقے سے جو اثرانداز ہوتے ہیں، وہ سب کے سب کوٹھوں سے ہی آتے ہیں۔ مرزا رسوا نے جب یہ ناول لکھا، اُس وقت ہندستانی سماج اور بالخصوص اودھ میں طوائفوں کی سماجی حیثیت کے بارے میں کوئی بحث نہیں شروع ہوئی تھی۔ اِس کے باوجود مرزا رسوانے اُن کی زندگیاں قلم بند کرنے کا جو نشانہ’ امراوجان ادا‘ میں طے کیا، وہ شاید وقت سے آگے کی بات تھی۔ حالاں کہ کم از کم اودھ کے ماحول میں اور خاص طور پر شرفا کے گھر آنگن تک طوائفوں کے دخل سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ کوٹھے پر آنے جانے میں صرف عیش کوشی اور بداخلاقی ہی اسباب نہ تھے بلکہ شریف گھرانوں کے لڑکے اور لڑکیاں تھوڑے تھوڑے وقفے کے لیے ان کو ٹھوں پر اس لیے بھیجے جاتے تھے کیوں کہ لوگ مجلسی آداب سے واقف ہوجائیں۔ اس سچّائی کے باوجود کیا طوائفیں اَودھ کی سماجی زندگی میں کوئی مساویانہ وجود رکھتی تھیں ؟ ہر گز نہیں۔
موضوع کی پیش کش میں مرزا رسوانے اودھ کے ماحول کے اِسی تضاد پر اُنگلی رکھی ہے۔ پورے ناول میں پس منظر کے طور پر لکھنؤ کے بدلنے، لحظہ بہ لحظہ منتشر ہونے اور کسی ایسے راستے کی طرف بڑھنے کے آثار ملتے ہیں جہاں شاید اندھی گلی ہی میسّر آئے۔ کیا اِس پس منظر کو نوابین کے محلوں سے نہیں دکھایا جا سکتا تھا؟ آخر رسوانے خانم کے کوٹھے کا ہی انتخاب کیوں کیا؟ اگر اُن کا مقصد اودھ کے روبہ زوال ماحول کی عکاّسی تھا؟ انھی سوالوں میں مرزا رسوا کی وسیع النظری اور درّا کی کے مظاہر ہمارے سامنے آتے ہیں۔
مرزا رسوانئے زمانے کے آدمی ہیں۔ روایتی تعلیم سے الگ سائنس کی جدید تعلیمات اور ریسرچ سے اُن کا سروکار ہے۔ قصّے کا جو دَور ناقدین نے مختلف قرائن سے طے کیا، اُس اعتبار سے یہ کہانی ۱۸۵۷ء سے پہلے شروع ہوجاتی ہے۔ کہنا چاہیے کہ اودھ کی شمع آخری بار اپنی تیز لَو کے ساتھ موجود ہے۔ اگر یہ واقعہ بعد کا ہوتا تو امراو جان ادا کا قصّہ اس قدر اطمینان اور ٹھہراو کے ساتھ آگے نہیں بڑھتا۔ اُتھل پُتھل اور انتشار کے عناصر کافی زیادہ ہوتے لیکن رسواجس وقت اِسے لکھ رہے ہیں، انھیں پتا ہے کہ حکومت کے ساتھ ساتھ اِس تہذیب کے اجزا بھی زوال کے راستے پر تیز رفتاری کے ساتھ آگے بڑھ چکے ہیں۔ پورے ناول میں اودھ کی تہذیب کے ضمنی دفاع کے باوجود مرزارسوا نے ایک حقیقت پسندانہ رویّہ اپنا رکھا ہے۔
یہ سوال اہم ہے کہ رسوانے زوال کی کہانی کو امراوجان کی زبانی کیوں سنایا۔ وہ چاہتے تو واجد علی شاہ کی آنکھوں سے بھی یہ منظر دیکھ سکتے تھے اور انھیں ہی اِس قصّے کا راوی بنا سکتے تھے لیکن وہ جدید ذہن کے آدمی تھے۔ اُن کے دماغ میں اودھ کا زوال اگر بنیادی استعارہ ہے تو صرف یہی کافی نہیں۔ اودھ کے معاشرے کو جن کے وجود نے رنگ ونور کی شعاعوں سے بھردیا تھا، کیا زوال کے اس لمحے میں انھیں بھول جایا جائے۔اس وقت تک ایسی نصف درجن کتابیں سامنے آچکی ہیں جن میں معاشرۂ اودھ کے مخصوصات اور طوائفوں کے سماجی زندگی میں سرگرم وجود کے قصّے موجود ہیں۔ کیا اِن طوائفوں کی زندگی پر زوال کی کوئی پرچھائیں پڑرہی تھی؟ مرزارسوا نے اودھ کے زوال کے ساتھ ساتھ ان کو ٹھوں کے زوال کو بھی اپنے سامنے رکھا۔
رسوامنظّم پلاٹ نگاری کے طرف دار ہیں۔ انھوں نے اپنے بعض مضامین میں قصّہ نویسی کے جو اصول وضوابط تحریر کیے ، اُن میں بھی جامعیت اور ارتکاز کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے۔ طوائف کے کوٹھے سے قصّے کو بُننے میں لکھنے والے کے لیے کئی طرح کی سہولیات موجود تھیں۔ یہاں نوابی معاشرے کے منتخب اصحاب اپنے آپ چلے آتے تھے۔ اِس کے علاوہ غیر اشراف طبقے کے افراد بھی اپنی اپنی وجوہات سے یہاں پہنچ جاتے تھے۔ اس طرح مرزا رسوا کو بڑے نواب صاحب سے لے کر ایک پیشہ ور ڈاکو تک کے کردار اس کوٹھے پر ہی مل جارہے تھے۔ حد تو یہ ہے کہ اچھّے خاصے مذہبی اور مقطّع مولوی بھی یہاں حاضر ہیں۔ طوائفوں میں بھی نہ جانے کتنے اندازو اسلوب کی شخصیات یہاں موجود ہیں۔ کسی کا ماضی شاندار رہا ہے تو کسی کا آنے والا دن روشن تر ہوگا۔کسی نے خود سے آنا طے کیا تو کوئی ہے جسے زبردستی اِس ماحول میں پہنچادیا گیا۔ کسی کی طبیعت یہاں لگ گئی ہے اور کوئی ایسا ہے جو اس ماحول میں رہتے ہوئے بھی رات دن گھُٹ رہا ہے۔ ظاہر ہے، معاشرے کی یہ رنگا رنگی شاید ہی کسی دوسرے مقام سے ناول نگار دکھا پاتا۔
امراوجان ادا ناول کا موضوعاتی اعتبار سے سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ سماج میں عام طور پر جسے بدنام اور غلط کاری کا منبع سمجھا جاتا ہے، اُسے مرزارسوا نے موضوع بنایا۔ رسوا سماج کے اس تضاد کو سمجھتے ہیں جس میں اِن طوائفوں سے اخلاقی اور غیر اخلاقی استفادہ کرنے میں سب کی سرگرمیاں رہتی ہیں لیکن انسانی زندگی اور معاشرتی حقوق کی ترازو پر اپنے برابر تولنے کی ہمّت کسی میں نہیں۔ رسوانے یہ حوصلہ دکھایا اور پورے قصّے کی بنیاد اِسی ماحول اور معاشرت کو بنایا۔ اودھ کے زوال اور انتشار سے اُن کی ہمدردیاں ظاہر ہیں لیکن اِن کو ٹھوں پر بھی زوال کا ایک تیز رفتار حملہ ہے اور اِن کا نظام بھی جلد ہی تِتّربِتّر ہوجائے گا، اِس لیے ناول نگار کمال ہمدردی کے ساتھ اِن طوائفوں کی زندگیوں کے مختلف پہلوؤں کو ابھارتا ہے۔پورے ناول میں انھیں انسانی چہرہ اور حسن وحرکت عطا کر کے رسوانے اپنی سماجیاتی فکر کو انقلاب آفریں پر واز عطا کی ہے۔
یہ ناول اپنے موضوع کے ساتھ اندازِ فکر کی وجہ سے بھی ممتاز قرار دیا گیا۔ ۱۸۶۹ء سے آج اکیسویں صدی کی ابتدا تک اردو فکشن میں امراوجان ادا سے الگ کوئی ایسا کردار دکھائی نہیں دیتا جس پر سماج کی ہزار تہمتیں ہوں؛ اس کے باوجود ناول نگار نے اسے ہی مرکزیت عطا کررکھی ہو۔ بعض ناقدین نے مرزا رسواکے ایسی محفلوں کا رَسیا ہو نے کی بات کہی ہے۔ اس لیے زیادہ توجّہ اِس امرپر نہیں ہونی چاہیے کیوں کہ امراوجان ادا میں کوئی محفلِ طرب نہیں برپا ہوتی۔ اگر ایک مشاعرے کا ذکر طویل تر ہوگیا ہے تو اِس میں بھی ادبی موشگافیاں اور چھیڑ چھاڑ کے پہلو زیادہ اُبھرتے ہیں اور مختلف عمر اور اندازکے اہلِ قلم کے درمیان نظریات کی سطح پر جو آویزشیں ہوتی ہیں، اس کا زیادہ اظہار ہوا ہے۔
امراوجان ادا ایک طوائف کے معاشرتی زوال کی کہانی ہے۔ اسی لیے اس کا مرکزی کردار حلقۂ اودھ کا کوئی شہزادہ نہیں بلکہ گانو دیہات سے ایک سازش میں پھنس کر خانم کے کوٹھے تک پہنچنے والی امیرن ہے۔ یہ دل چسپ بات ہے کہ امراوجان ادا میں تمام اہم کردار طبقۂ نسواں سے تعلّق رکھتے ہیں۔ اِس ناول کے کسی مرد کو رسوانے انفرادی طور پر توجّہ کا مرکز بنایا ہی نہیں۔ بھانت بھانت کے لوگ آتے جاتے رہتے ہیں۔ کوٹھے پر مختلف طبقوں کے افراد اپنے اپنے مزاج اور ارادے کے مطابق کام کرکے واپس ہوجاتے ہیں لیکن پڑھنے والے کی نگاہ خانم کے کوٹھے کے مختلف کمروں میں مقیّدروحوں کی بے چینی پر ٹکی رہ جاتی ہے۔ کوئی پرندہ ہے جو پھڑ پھڑا کر رہ جاتا ہے۔ چاہیے تو تھا کہ اُس کا گھر آسمان میں بن جائے لیکن وہ خانم کے کوٹھے کی بند زندگی میں سمٹ گیا۔ رسواخود بھی یہی دکھانا چاہتے ہیں۔ مختلف عمر کی طوائفوں کے مزاج اور سوچنے کے طریقے میں بھی خاصا فرق ہے۔ اس کے سہارے ناول نگار وقت اور حالات کی تبدیلی کے تناظر کو قائم کرتا ہے۔
مرزارسوااِن کو ٹھوں کی زندگی کو عام لوگوں کی طرح ایک جھٹکے سے ردنہیں کرتے۔ اودھ کے پُرانے معاشرے میں ان کی اہمیت کے وہ قائل ہیں لیکن اِس سے بھی زیادہ وہ انھیں ایک آزاد اکائی تصوّر کرتے ہیں۔ اِسی لیے اُن کی سماجی حیثیت اور پیدایش سے موت تک کے سفر کے مختلف پڑاؤ پر ناول میں شرح وبسط کے ساتھ روشنی ڈالتے ہیں۔ طوائفوں کو آزادانہ اکائی تصوّر کرنا اور اُن کی زندگی کی ضروریات اور مسائل کو نگاہ میں رکھنا اِس ناول کے ایسے پہلو ہیں جن کی وجہ سے گذشتہ صدی میں اِس پر بار بار خصوصی توجّہ دی گئی۔ مرزارسوا نے اُس زمانے کی پیچیدگیوں میں پڑنے کی زیادہ ضرورت نہیں سمجھی جب امراوجان کا سورج نصف النہار پر تھا۔ رسوا امراو کی ابتدائی پرورش و پرداخت کی کجی اور عمر کی ڈھلان پر اُس کے تھکے ہارے قدموں کا تجزیہ زیادہ کرتے ہیں۔ یہ بھی ایک پہلو ہے کہ رسواکو ٹھوں کے مسئلوں کو مکمّل شکل میں پہچاننا چاہتے ہیں۔ ناول میں بزمِ طرب، رقص وسرود کی محفلیں اور عشق وہوس کی سرمستیاں ایک سطح پرہی موجود ہیں۔ شمعِ محفل امراو اوردیگر دو شیزائیں ہی ہیں،اِس کے باوجود ناول کے ایک ایک لفظ سے اُس معاشرے کے انتشار اور سب کچھ لُٹ پِٹ جانے کا دردو سوز اتنی طاقت سے ابھرتا ہے کہ پڑھنے والا ناول کے اصل سوز تک خود بہ خود پہنچ جاتا ہے۔
امراوجان ادا‘ جب لکھا گیا، اُس وقت اردو میں ناول نگاری کا کوئی تنقیدی پیمانہ وضع نہیں ہوا تھا۔ سب اپنے اپنے مزاج اور انداز سے آگے بڑھ رہے تھے مگر مرزا رسوا پلاٹ اور کرداروں کی سطح پر فنّی اعتبار سے چابک دست ہونے کا مکمّل فریضہ ادا کرتے ہیں۔ رسوانے کبھی یہ کوشش نہیں کی کہ ناول کے مختصر پلاٹ کو بے وجہ طول دیا جائے۔ انھوں نے جو پس منظر منتخب کیا تھا، اُس کے آئینے میں وہ چاہتے تو ہزاروں اور چہرے انھیں مل سکتے تھے جن سے ناول مزید پھیل سکتا تھا لیکن ایک ہوش مند ماجرا نگار کے بہ طور مرزارسوا قصّے کی مرکزیت اور اثرآ فرینی کو اوّلیت دینا چاہتے تھے۔ اردو میں اب تک جو ناول یا تمثیلیں لکھی گئی تھیں، اُن میں فنّی سطح پر ایسے فیصلے کرنے کا رجحان ’باغ وبہار‘ کے علاوہ کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ زندگی کے الگ الگ مرقعوں کے پیچھے سرشار کی طرح بھاگنے سے زیادہ بہتر رسوا نے یہ سمجھا کہ ایک تصویر پیش کی جائے لیکن وہ زندگی سے بھرپور ہواور اس میں زندگی کی دھوپ چھانو کا تناسب بھی معلوم ہو سکے۔’ امراوجان ادا‘ ایک ایسا ناول ہے جس کے بیان میں نہ کہیں بے جاطوالت ہے اور نہ کبھی اپنے مرکزی کردار سے دوچار قدم دور جاکر ناول کا کوئی اور سِرا ڈھونڈا جاسکتا ہے۔
تکنیک کی سطح پر مرزارسوانے ایک بڑا کام یہ کیا کہ اِس ناول کو فلیش بیک (Flash Back) تکنیک میں مکمّل کیا۔ کہانی موجود سے شروع ہوکر ماضی تک پہنچتی ہے اور پھر گھوم پھر کر دنیا جہان کواپنے اندر سمیٹ لیتی ہے۔ قصّہ اپنے آپ نہیں اُبھرتا بلکہ ناول کا مرکزی کردار اپنے واقعات خود سناتا ہے۔ ڈپٹی نذیر احمد نے اپنے ناول’ اَیّٰامیٰ‘ میں Subjective reportage کی ایک تکنیک ابتداءً استعمال کی تھی لیکن امراوجان ادا اِس اسلوب کا شاید نقطۂ عروج ہے۔ جس کی زندگی پر سب کچھ بیت جائے، اُسے ہی اپنی کہانی سنانے کی ذمہ داری بھی عطا ہوتو اس سے سچّی اور پُر اثر کون سی بات ہوگی۔ اس ناول میں احوال، احتیاط اور توازن کا دامن اِس وجہ سے بھی نہیں چھوڑ سکتے کیوں کہ قصّے کی بنیادی رَوامیرن کے ہاتھ میں ہے۔ اُس امیرن کے ہاتھ میں، جس کی زندگی کے بننے بگڑنے میں پورا سماج شریک رہا ہے لیکن یہ عورت شکست کو مقدّر نہیں سمجھتی اور مشکل حالات کے باوجود زندگی جینے کا مکمّل حوصلہ رکھتی ہے۔
اِس ناول کے تعلّق سے ایک سوال ناقدین کو کافی پریشان کرتا ہے کہ یہ قصّہ کتنا سچّااور کتنا جھوٹا ہے۔ ناول کا پیشِ لفظ اور مرزا رسوا کے آشنا لوگوں کے بیانات قارئین کو اور بھی اُلجھا وے میں ڈال دیتے ہیں۔ امیرن نام کی طوائف تھی یا نہیں یا جیسا کہ رسوا نے کہا ہے کہ یہ قصّہ اُن کا نہیں بلکہ امیرن بولتی جاتی تھی اور وہ اُسے لکھتے جاتے تھے۔علی عباس حسینی اور تمکین کا ظمی قصّے کی سچّائی پر زور دیتے ہیں۔ اِس کے برخلاف مختلف ناقدین اِسے عام ناول کا قصّہ سمجھتے ہیں۔ ناول سے ایک صدی سے زیادہ دور کھڑا ہوکر آج شاید یہ فیصلہ کیا ہی نہیں جا سکتا۔ کم از کم یہ کہ یہ سچّی کہانی ہے، اسے طے کرنے کے لیے جو شواہد چاہئیں، وہ سب کے سب تاریخ کے نہاں خانے میں گُم ہوچکے ہیں۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ اس قصّے میں حقیقت کا کوئی معاملہ نہیں تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر رسوانے ایسی پیش بندی کیوں کی؟ 
یاد رکھنا چاہیے کہ جس وقت مرزا رسوایہ ناول لکھ رہے تھے، اس زمانے تک اردو میں غیر حقیقی زندگی کی ترجمانی کرنے والی داستانوں کی بہتات تھی۔ نذیر احمد کے اصلاحی قصّے حالاں کہ حقیقی زندگی کے ترجمان تھے لیکن بیش تر بے رنگ تھے۔ ایسے ماحول میں مرزا رسوا نے اپنی تحریر کو قبولِ عام کی سند دلانے کے لیے یہ ڈارا مائی کیفیت پیدا کی کہ یہ کوئی خیالی قصّہ نہیں، یہ ایسی تحریر بھی نہیں جسے عام ناول نگاری کہا جائے۔ قصّے پر سب کا دھیان اور ایمان مرتکز ہو، اس کے لیے مرزا رسوانے یہ خوب ترکیب نکالی کہ یہ قصّہ امیرن نے خود اپنی زبان سے لکھا یا ہے۔ فکشن کی تاریخ میں ایسی ڈرامائیت اور بھی کئی کتابوں میں موجود ہے۔ اِس لیے ناول یا افسانہ پڑھنے والے سنجیدہ قارئین اِسے ناول نگار کے دعوے کے برخلاف ایک عام قصّے کی طرح ہی پڑھیں گے۔ ہاں، مرزارسوا نے یہ ڈراماپیدا کرکے اپنے ہزاروں اور لاکھوں غیر تربیت یافتہ قارئین کے دل میں امیرن کے لیے ہمدردی کا ایک اضافی حصّہ بھی ڈال دیا۔ فنِ ناول نگاری کے اعتبار سے یہ تکنیک ناول نگار کو کامیابی کے دوچار قدم اور عطا کرتی ہے۔
ناول نگار کی حیثیت سے مرزارسواکو اردو ادب میں جو مقام حاصل ہوا، فنّی سطح پر اگر اُس کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ بنیادی جوہر کردار نگاری ہے۔’ امراوجان ادا‘ کا پلاٹ مقصود بالذّات قصّہ گوئی نہیں بلکہ سب سے زیادہ کرداروں کے مکالموں سے گفتگو آگے بڑھتی ہے۔ اِس لیے ’امراوجان ادا‘ کی تمام خوبیاں یہاں تک کہ قصّے کا پھیلاو بھی کرداروں کی سطح سے سامنے آتا ہے۔ اردو ناول کی پچھلی تاریخ میں کوئی ایسی مثال نہیں ملتی جس میں کردار اتنے سلیقے سے اور محتاط طریقے سے گڑھے گئے ہوں۔ ڈپٹی نذیر احمد اور سرشار نے ایجاز بیانی کا وہ ہنر شاید پایا ہی نہیں تھا۔ مرزا رسوا نے اپنے کرداروں کو اُن کی طے شدہ شکل میں ابھار نے کے لیے کافی محنت کی ہے۔ یہ نہیں ہونے دیا کہ کردار جیسے تیسے منزلِ مقصود تک پہنچ جائیں بلکہ انھوں نے ہر کردار کی ایک طے شدہ زندگی ،اُس کے خواب اور مسائل، حالات کا جبر اور زندگی کی مختلف آویز شیں اپنی تحریر میں شامل کیں۔ اِس لیے ’امراوجان ادا‘ کے کردار اردو نال کی تاریخ کے کُل وقتی عظیم کردارقرار دیے گئے۔ آج جب دورِ اوّل سے اردو ناول کے اہم کرداروں کی فہرست تیار کی جاتی ہے تو اُس میں ہوری، نعیم، گوتم جیسے کرداروں کے مقابل امراوجان کو بھی پیشِ نظر رکھّا جاتا ہے۔
یہ ناول فنّی سطح پر جدّت پسندی کا اشاریہ ہے۔ اس لیے کردار بنانے میں بھی حُسنِ ترتیب کے ساتھ ضروری کاٹ چھانٹ کو بھی ملحوظ رکھا گیا ہے۔ مرزا رسوا کا یہ مزاج نہیں کہ وہ سب کچھ ایک ہی بار میں پیش کردیں۔ وہ اشیا اور اشخاص کو مختصر اکائیوں میں بانٹ کر دیکھتے ہیں اور تب ایک کلّی شکل بناتے ہیں۔ امراوجان ایک دن میں ایسی زندۂ جاوید کردار نہیں بن جاتی ہے۔ اُس کے کردار کی گُتھّیاں رفتہ رفتہ کھُلتی ہیں اور آسانیاں پیچیدگیوں میں بدلتی جاتی ہیں۔ ایک شریف گھرانے کی دو شیزہ جس کا منگیتر حسین اور جوان ہے لیکن وقت کے طوفان کے سہارے وہ اچانک ایک ڈیرے دار طوائف خانم کے کوٹھے پر پہنچا دی جاتی ہے۔ اب نئے سرے سے اُسے ایک ایسی زندگی شروع کرنی ہے جس کے بارے میں اس نے کبھی سوچاہی نہیں تھا لیکن امراو کی ایک بنیادی خوبی یہ ہے کہ وہ حالات اور وقت کی تبدیلی کے ساتھ جی مرکر ہی سہی، خود کو بدل لینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ شاید اُس نے اپنی زندگی کے الگ الگ خانے بنارکھے ہیں۔ مرزا رسواکا کمال یہ ہے کہ امراو کو زندگی کے سبھی الگ مرحلوں میں فطری طور پر کامیاب ثابت کردیتے ہیں۔
امراوجان کے دل میں کسی کی بیوی اور کسی کی ماں بننے کے بھی ارمان ہیں۔ وہ بیٹی اور بہن تو پہلے سے ہی ہے۔ اس کا پیشہ تمام فرائض یا خواہشات پر توجّہ دینے کی اجازت نہیں دیتا۔ خاص طور پر خانم کی سخت نگہداشت میں یہ کس کی مجال کہ اپنی طبیعت سے کوئی چلے۔ اِس کے باوجود امراوجان زندگی کے ان مختلف خانوں کے فرائض سے نہ صرف واقف ہے بلکہ اُن کی ادایگی کے لیے بھی کوشاں رہتی ہے۔ زندگی کے آخری دوَر میں جب رقص وموسیقی کی محفلوں میں وہ ایک غیر ضروری شَے بن چکی ہے، اُس وقت بھی معاشی سطح پر آزاد رہنے کے لیے نجی کاروبار کی طرف وہ کامیابی سے بڑھ جاتی ہے۔ امراوجان کردار کی حیثیت سے اپنی اِسی فرض شناسی اور توازن کے سبب عظمت حاصل کر سکی ہے۔ اُس کے عاشقوں کی فہرست میں جو تنوّع موجود ہے اور نواب صاحب سے لے کر فیضو تک اُس پر جان چھڑکنے کے لیے تیار ہیں، یہ اِس لیے ممکن ہوسکا کہ امراوجان بھی ان کے تئیں ایسی ہی محبّت اور جاں نثاری کا جذبہ رکھتی ہے۔
بعض ناقدین نے مرزا رسواپر یہ سوال اٹھایا ہے کہ امراوجان ادا کی ایک شخصیت میں جتنی خوبیاں اور زندگی کی ادائیں محفوظ کی گئی ہیں، شاید اِن کا اصلی چہرہ ڈھونڈا نہیں جا سکتا۔ لکھنؤ کی طوائفوں کی تاریخیں بھی موجود ہیں لیکن اُن میں ایک بھی ایسی نہیں جس میں حُسن، علم، تہذیب وتربیت اور فراست کی تمام تر جلوہ سامانیاں موجود ہوں۔ شاید یہیں اُس بحث کا نتیجہ بھی نکلتا ہے کہ ناول اور حقیقی زندگی کے کرداروں میں یکسانیت ضروری نہیں۔ عین ممکن ہے کہ یہ کردار مختلف کرداروں کا مجموعہ ہو۔ اِسی لیے بعض ناقدین نے پایا کہ امراوجان کی شخصیت میں ماورائیت بھی ہے۔یعنی زندگی کے کسی موڑ پر وہ حقیقی انسانی چہرے سے آگے نکل جاتی ہے لیکن مرزارسوانے ڈرامائیت کی اتنی سطحیں اس ناول میں ڈال رکھی ہیں کہ پڑھنے والا آسانی سے ہر موڑ پر حقیقی اور ماورائی زندگی کا موازنہ نہیں کرسکتا۔ اِسی لیے اردو ناول کے دل پسند کرداروں اور جادونگار نسوانی کرداروں کی جب بھی بات اٹھتی ہے تو ہماری نگاہِ انتخاب امراوجان پر آکر ٹھہر جاتی ہے۔
مرزارسوانے یہ ناول امراوجان کے لیے ہی لکھا لیکن اُس کی زندگی کو مزید روشن کرنے کے لیے چند اور کردار ہیں جنھیں قصّے میں شامل کیا گیا ہے۔ امراو کے ساتھ ہی خورشید اور بسم اﷲ تازہ واردانِ بساطِ دل ہیں۔ نئی عمروں میں انھیں کوٹھے پر اپنی خدمات ادا کرنی ہیں۔دونوں کے کردار دوطبقے سے آتے ہیں، اس لیے اِن کی شخصیت بھی الگ الگ دکھائی دیتی ہے۔ خورشید ایسے طبقے کی چشم وچراغ ہے جہاں شرافت اور نجابت ہی شناخت نامہ تھا لیکن کوٹھے پر آکر اُسے خانم کے کاروبار کا حصّہ بننا پڑا۔ امراوجان اُس پر بجاتبصرہ کرتی ہے: ’’سچ تو یہ ہے کہ وہ کسی مرد آدمی کی جورو ہوتی تو خوب ۔۔۔، عمر بھر مردپاؤں دھو دھو کر پیتا۔‘‘ اِس پیشے میں رہنے کے باوجود خورشید کبھی اِس ماحول میں مدغم نہیں ہوتی بلکہ ہر لمحہ بے اطمینانی اور تنقید کی چنگاریاں موجود رہتی ہیں۔ اِس ناول میں اکثر وبیش تر کردار یا تو حالات کے مطابق چلتے ہیں یا تھک ہار کر بیٹھ جاتے ہیں لیکن ایک یہی خورشید ہے جس میں حالات کو ہر حال میں قبول کرنے سے گریز کی ایک آگ موجود ہے۔ اِسی لیے اپنے احتصار کے باوجود یہ کردار اِس ناول میں الگ سے اپنی پہچان رکھتا ہے۔
بسم اﷲ خانم کی بیٹی ہے ؛اُس کی تمام پرورش وپرداخت طوائفوں کی مانوس فضامیں ہوئی ہے۔ پیشے ورانہ طور پر وہ کسی سے بھی آگے نکل جانا چاہتی ہے۔ حالاں کہ زندگی کے کسی نازک موڑ پر وہ بھی کسی کو اپنا دل دے بیٹھتی ہے لیکن اُس کی ماں کی ایسی تربیت ہے کہ وہ پیشے کی کریہہ اور غیر اخلاقی زندگی کا ترجمان آخر کار بن کر رہتی ہے۔ رسوانے امراوجان میں بغاوت کی آگ نہیں رکھی تھی اور اُسے خورشید کے لیے بچالیا تھا۔ اُسی طرح امراوحالاں کہ ایک کامیاب طوائف ہے، بہترین شاعرہ ہے، اس کے باوجود زبان وبیان اور گفتگو کی بزم آرائیاں اصل میں بسم اﷲ کا حصّہ ہیں۔ اُس کے بیان میں وہ چٹخارہ ہے جس پر حدیث وفقہ کے ماہرین بھی پکّی عمر کے باوجود نثار ہونے کے لیے مچلتے ہیں۔ بسم اﷲ کی نظر ہمیشہ گاہک کی جیب پر رہتی ہے۔ شاید اِس ناول میں بسم اﷲ کی غیر موجود گی سے سب کچھ بے مزہ اور بے رنگ ہوجاتا۔
امراوجان ادا کی پوری کہانی خانم کے کوٹھے پر بُنی گئی ہے۔ خانم کا روباری سطح پر واقعتا مہارت رکھتی ہے۔ کم عمر بچّیوں کو ہر اعتبار سے لیس کر کے شرفا کی بزمِ طرب کا حصّہ بنا نااُسے خوب آتا ہے۔ محسوس ہوتا ہے کہ ایک مشینی شخصیت ہے اور اُسے کچھ کچّا مال مل گیا ہے جس سے اُسے اپنے کام کی چیز میں بنا سنوار کر تبدیل کردینا ہے۔ خانم کی شخصیت میں سا لمیت اور پختگی تو ہے لیکن اس کے جسم سے مرزا رسوانے انسانی چہرہ چھین کر قصّے کے بہاو کو امراوجان کی طرف موڑا ہے ورنہ خانم کی شخصیت کا سِحرا پنے آپ میں کم نہیں تھا۔
لکھنؤ کی سرزمین پر ۱۹؍ویں صدی کے آخری برسوں میں امراوجان ادا کی شکل میں ایک ایسی کتاب سامنے آئی، جس کی عظمت کا اعتراف چہار طرف ہوا۔ مرزا رسواکی نثر نگاری، پلاٹ کا ترقّی یافتہ شعور، کردار کا فطری اور مکمل ارتقا اور سب سے بڑھ کر افسانوی فن کا سحر کارانہ استعمال ایسے اجزا ہیں جن کی بدولت امراوجان ادا کو لافانی مقام عطاہوا۔ اردو ناول نے گذشتہ صدی میں اپنے رنگ اور روپ میں ہزار تبدیلیاں کیں۔ زمانے کا مزاج بھی یک گونہ بدل گیا۔ انیسویں صدی کے آخر سے آج اکیسویں صدی کے آغاز کا مقابلہ کریں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ واقعتا کوئی نئی دنیا ہے۔ گذشتہ سے بالکل الگ اور شاید بے تعلق۔ اقدار، سماج اور ادب دونوں کی دنیا بدل گئی۔ جاگیردارانہ نظام پورا کاپورا زمیں دوز ہوگیا۔ سامراج بھی برطانیہ کے ہاتھ سے نکل گیا۔ جمہوریت معاشرے کا نیا طَور بن کر اُبھری۔ ان سب کے باوجود ناول’ امراوجان‘ ادا جیسی تخلیق کو اردو کی تاریخ میں اس لیے نہیں گمشدہ قرار دیا جا سکا کیوں کہ انسانی زندگی سے متعلّق اسی ازلی اور آفاقی سوز کو مرزا رسوانے بنیاد بنایا جسے وقت اور زمانے کے بدلنے کے باوجود غیر اہم نہیں مانا جا سکتا۔
فنّی اعتبار سے بھی ایجاز کا ہنر ایسا حربہ تھا جس نے اِس کتاب کو ہر دوَر میں پڑھنے والے عطا کیے۔ اس کے کردار ہماری زندگی کے آس پاس اس طرح بکھرے پڑے ہیں کہ جب بھی آپ آنکھ کھولیے، معاشرے میں امراوجان سے لے کر بسم اﷲ اور نواب صاحب سے لے کر فیضو یا مولوی صاحب تک مختلف ناموں سے موجود رہتے ہیں۔ کہنا چاہیے کہ مرزا رسوانے ایسے انسانی چہرے تراشے جن کا ہر دوَر میں موجود ہونا ایک تاریخی سچّائی ہے۔ امراوجان کی مقبولیت کے پیچھے یہ حقیقت بھی ہے کہ ناول کا قصّہ نئے انسانی چہروں کی مدد سے نئے پس منظر میں ایک علاحدہ کہانی بن کر ہمارے سامنے آجاتا ہے۔’ امراوجان ادا‘ ایک بے مثال تخلیقی شہ پارہ اس لیے بھی مانا گیا کیوں کہ بدلتے ہوئے وقت میں اس نے اپنی معنویت قائم رکھی۔ آج بھی اِس کتاب پر وقت کے گردو غبار نہیں جمے۔(2003(
***
SAFDAR IMAM QUADRI
Department of Urdu, College of Commerce, Patna-800020(Bihar)
safdarimamquadri@gmail.com

 مضامین دیگر 

Comment Form