07 Aug, 2017 | Total Views: 202

غضنفر کا افسانہ ’سانڈ‘ : ایک تجزیہ

صفدر امام قادری

ناول ہویا افسانہ، غضنفر کے یہاں بنیادی سوال سیاست یا سماج کے مرکزی کارپردازوں سے متعلّق ضرور ہوتا ہے۔ غالبؔ بادہ وساغر کے بغیر اپنی گفتگو مکمل نہیں کر سکتے تھے۔ غضنفر سیاسی کھیل تماشے کے دوچار پُرزوں کو اُکھاڑے بغیر اپنے قصّے نہیں بُن سکتے۔ ’’پانی‘‘ سے لے کر ’’وِش منتھن‘‘ تک، اور ’’حیرت فروش‘‘ کے بیشتر افسانوں میں سیاست اور سیاسی کھیل بہت باریکی سے ہماری توجّہ کا حصّہ بنائے گئے ہیں۔ اس کے باوجود افسانہ نگار کا کمال یہ ہے کہ انھیں سیاسی افسانہ لکھنے والا نہیں سمجھا جاتا۔ شوکت حیات، سلام بن رزّاق، عبدالصمد یا ساجد رشید کے بارے میں یہ بات عام ہے کہ وہ ہم عصر اردو فکشن میں سیاست کو مرکزیت عطا کرتے ہیں لیکن غضنفر کے ناولوں کے بارے میں بھی یہ براے نام کہا گیا کہ لکھنے والا سیاست کو مرکز میں رکھ کر اپنی بات سوچتا ہے۔ پہلی نظر میں یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے نقّادوں نے غضنفر کے سیاسی اشاروں کو سمجھنے میں زیادہ غور و فکر سے کام نہیں لیا ۔ ممکن ہے ‘یہ بات درست بھی ہو۔ لیکن اصل سبب شایدکچھ اور ہے۔ غضنفر کا مخصوص افسانوی اسلوب اس بات کی اجازت ہی نہیں دیتا کہ اُن کی علامتیں اور ادبی اشارے اس قدر واشگاف ہوں جس سے سیاسی منشا آسانی سے سمجھا جا سکتا ہو۔ پھر یہ بات بھی ہے کہ اُن کے سارے قصّے اپنے سیاسی اشاروں کے بغیر مکمل ہو جاتے ہیں اور اپنا علاحدہ معنوی نظام بھی قائم کر لیتے ہیں۔سیاست کہے بغیریہاں بہت ساری سیاست ہے اور شفّاف حقیقت پسندی سے گریز کر کے فنّی اقدار کے لیے اپنی توجّہ کا ثبوت دیا گیا ہے۔
غضنفر کا افسانہ ’سانڈ‘ ایک سیاسی افسانہ ہے-----از اوّل تا آخر۔ پریم چند کے ’دوبیل‘ سے اسے جوڑیے تو اس اعتبار سے یہاں یکسانیت ملے گی کیوں کہ دونوں افسانے جانوروں کے سہارے مکمل ہوجاتے ہیں۔ آپ اُن میں کوئی دوسرا مفہوم نہ ڈالیں ‘تب بھی یہ افسانے مکمل ہیں۔ لیکن یہ سوچنے کی بات ہے کہ غضنفر نے ۴۱؍ برس کی عمر یعنی ۱۹۹۴ء میں اور ۵۳؍ برس کی عمر میں پریم چند نے جانوروں کی کہانیاں محض معصوم بچّوں کی دلچسپی اور دل جوئی کے لیے نہیں لکھی ہوں گی۔ اگر اِن کہانیوں میں جانور ہیں تو اُن جانوروں کی معنوی سطحیں بھی بالکل علاحدہ ہوں گی۔ اسی لیے ’دوبیل‘ یا ’سانڈ‘ صرف تفریحِ طبع کی کہانیاں نہیں ہو سکتیں بلکہ ان کے سیاسی اور سماجی متعلّقات بھی اہم ہیں اور انھیں سمجھے بغیر یہ کہانیاں ادھوری تفہیم کے لیے ہم سے شکوہ سنج ہوں گی۔
غضنفر اپنے کسی بھی افسانے یا ناول کا پلاٹ پییجیدہ نہیں بناتے۔ کبھی کبھی محسوس ہوتا ہے کہ بہت ساری فلموں کی طرح اُن کے یہاں ناول اور افسانے کاایک ذاتی سانچا تیار رہتا ہے۔ اپنے واقعات اور کرداروں کو بس انھیں فِٹ کر دیناہے۔ ایک تخلیق کار کے طور پر یہ اُن کی سب سے بڑی حد ہے۔ ’’سانڈ‘‘ افسانہ اس سے مبّرا نہیں۔ مسئلہ جیسے قائم ہوتا ہے اور دھیرے دھیرے اُس کے اجزا پھیلتے ہیں،اُس سے محدود پیمانے پر افسانے کے اگلے پڑاو کا اندازہ ہونے لگتا ہے۔ اُن کا ناول ’وِش منتھن‘ یا مشہور افسانہ تانابانا‘ تو اسی فریم ورک کی وجہ سے اپنے سانچے کو متعیّن کرتا ہے۔ سانچا تیارہو جانے کے بعد افسانہ اپنے آپ کھڑا ہوجاتا ہے۔ مشّاق لکھنے والے کے لیے ڈھانچے کو گوشت پوست جسم میں تبدیل کر دینا کوئی مشکل امر نہیں۔
اس افسانے میں بھی سانڈ کا نکل آنا، تباہی پھیلا نا،پھر اس سے نجات حاصل کرنے کے لیے لوگوں کا پریشان ہونا----انھی بنیادوں پر غضنفر نے کہانی بُنی ہے۔ دھام پور اور سورج پور گانو کے نام اور اُس میں رہنے والے افراد، کانجی ہاؤس کے افسران اوردونوں گانو کے تھوڑے سے باشندے، انھی کرداروں میں یہ کہانی مکمّل ہو جاتی ہے۔ افسانہ نگار کی حیثیت سے غضنفر کی وہ حد یہاں بھی موجود ہے۔ وہ سادہ سا ڈھانچا کھڑا کرتے ہیں۔ جس طرح اکثر وبیش تر پریم چند کے افسانوں میں ہمیں دیکھنے کو ملتا ہے۔ غضنفر کا کارنامہ یہ ہے کہ انھیں معلوم ہے کہ اُن کا پڑھنے والا اکیسویں صدی میں کا باشندہ ہے۔اس لیے وہ سادہ پلاٹ کے باوجود ایک نہایت اشاراتی اور ساتھ ہی ساتھ ایک ر ڈرامائی اسلوب قائم کرتے ہیں۔ غضنفر کے فکشن کی یہ دونوں ایسی خوبیاں ہیں جنھیں اُن کے اکثر ہم عصروں میں نہیں پایا جا سکتا۔ ایک مختصر سے فقرے یا چند لفظوں سے غضنفر قصّے کی داخلی دنیا کو پورے طور پر بدل دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ طنز آمیز جملوں سے وہ افسانے میں ایجاز پیدا کرتے ہیں۔ اس طرح وہ منٹو اور عصمت چغتائی کے بیچ کی کوئی شکل بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔کہا نی کے بیچ وہ چھوٹے چھوٹے ڈرامے بھی قائم کرتے چلتے ہیں۔ یہ ڈرامے افسانے کے اسٹیج پر ہر چار قدم پررونما ہوتے ہیں اور اکثر وبیش تر المیہ کی اثرآفرینی میں اضافے کے باعث ہوتے ہیں۔ کئی بار چند لفظوں سے ہی یہ ڈراما مکمّل ہوجاتا ہے اور پورے قصّے کو ایک نیا تناظر عطا کر دیا جاتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ غضنفر نثر کے جملوں کو شعر کے مصرعوں کی طرح استعمال میں لے آتے ہیں۔
مذہب کے سیاسی استعمال پر اخبار کے سیاسی کا لموں میں تو اکثرلکھا جا تا ہے لیکن فی زمانہ ان دونوں کے خطرناک گٹھ جوڑ کا پردہ فاش کرنا تخلیق کاروں کے لیے اس وجہ سے آسان نہیں ہے کیوں کہ سیاست اور مذہب کے کئی ایسے پہلو بھی ہوتے ہیں جن پر ایک لفظ زیادہ کہہ دیا جائے تو کیا سے کیا ہو جائے۔ حقیقت سے ہر آدمی واقف ہے مگر الزام پورے طور پر کس پر عائد کیا جائے، اِسے بہ بانگِ دہل کہتے ہوئے لوگوں کے جسم پہ لرزہ طاری ہو جاتا ہے۔ غضنفر نے اس افسانے میں مذہب کے اجتماعی اور بالآخر سیاسی استعمال کے پردے میں خوف اور دہشت کا ماحول قائم کرکے سماج میں انتشار پیدا کردینے کے عوامل کی خوب خبرلی ہے۔ یہ بھی خوب ہے کہ تخلیق کار کمالِ ناوابستگی کو قائم رکھتے ہوئے آسانی سے کسی مرحلے میں یہ پتا بھی چلنے نہیں دیتا کہ وہ دھام پور کی طرف ہے کہ سورج پور کی طرف۔ اس طرح افسانہ اپنے فطری رنگ میں آگے بڑھتا ہے اور نتائج تک پہنچنے کے لیے مصنّف کی طرف سے کسی ہدایت نامے کا اجرا بھی نہیں ہوتا۔ یہی ناوابستگی تھی جس کی وجہ سے اس افسانے کا عنوان ’سانڈ‘ قائم ہوا ورنہ افسانہ نگار چاہتا تو کسی غیر منفی شَے کو اس کا سرنامہ بنادیتا۔
افسانہ ایک مختصر ڈرامائی کیفیت کے ساتھ شروع ہوتا ہے اور بوڑھا آدمی بھاگنے والے لوگوں سے پوچھتا ہے کہ بھگدڑ کیوں مچی ہوئی ہے؟ جواب میں پتا چلتا ہے کہ پھر سانڈ گانو میں گھُس آیا ہے۔ جواب نوجوان کی طرف سے ہے اور بوڑھے چاچا کو نقصانات کا سلسلے وار بیورا دیا جاتا ہے۔ اِن تفصیلات میں گانو کی چہار طرف تباہی کے اشارات موجود ہیں۔ اِس حصّے میں یہ تو پتا نہیں چلتا کہ سانڈ کا کام کوئی سیاست یا سازش کا حصّہ ہے۔ محض اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ مشکلات قائم ہیں اور چارہ جوئی کی صورت نہیں نکل رہی ہے۔ مسئلہ یہ بھی ہے کہ سانڈ دھام پور کا ہے اور نقصان سورج پور والوں کو اُٹھانا پڑرہا ہے۔ اسی لیے بوڑھے نے نوجوان سے کہا کہ دھام پور والوں سے ہی یہ کہنا چاہیے کہ وہ اپنے سانڈ کو روکیں۔ سب سے آسان علاج یہی ہے کہ جس چیز سے پریشانی ہو رہی ہے، اُسے اُس کی حد میں رکھا جائے۔
بوڑھے کے اس سوال کا نوجوان نے جو جواب دیا، اُسی سے کہانی کا مذہبی بُعد اُبھرتا ہے۔ دھام پور والوں کا بھی یہ کہنا درست تھا کہ جب دیوی دیوتا کے پرساد کے طور پر اِس سانڈ کو کھُلا چھوڑا گیا، تب اِسے کیسے روکا جا سکتا ہے؟ بھگوان کے نام کی چیز اُس کی بنائی ہوئی دنیا میں کھُلے عام اور بغیر روک ٹوک کے کیوں نہیں گھومے پھرے؟ یہ مسئلہ اور بھی مشکل ہے کہ سانڈ کو روک کر ایشور کی نگاہ میں پاپ کا بھاگی دار کیوں بناجائے؟ کہانی کے اِس موڑ کو واضح کرنے میں غضنفر نے دھیرے دھیرے مذہب کے نام پر ہونے والی بداعتقادیوں پر بھی نشانہ سادھنا چاہا ہے۔ بیان میں اشارے اس انداز کے بھی موجود ہیں جن سے ہمیں معلوم ہوجاتا ہے کہ افسانہ نگار مذہب کے نام پر چلنے والے اس کھیل کی تمام باریکیوں سے واقف ہے۔ اسی لیے طنز یہ اشارے ملنا شروع ہوجاتے ہیں۔ حالاں کہ ابھی پلاٹ کو کسی دوسری منزل پر فیصلہ کُن موڑ تک پہنچنا ہے۔ لیکن ایسے جملے ابتدائی حصّے میں ہی ملنے لگتے ہیں :
* ’’
بھگوان کے نام کا سانڈ بھگوان کی بنائی ہوئی اس دنیا میں کہیں بھی بِناروک ٹوک جا سکتا ہے-------وہ جو چاہے کھا سکتا ہے‘‘
* ’’
آزادی اور بے فکری سے خوب کھاپی کر بہت جلد بچھڑے سے سانڈ بن جاتا ہے۔‘‘
افسانے کے اگلے حصّے میں غضنفر سماج کی صحت مند اقدار کی پہچان کرتے ہیں۔ حالات مذہب یا سیاست، کسی بھی جبر کے تحت بے قابو ہو جائیں لیکن مشکلات اور بداندیشیوں سے مقابلہ آراہونے کی ہمارے سماج میں بہر صورت صلاحیت ہوتی ہے۔ اِسی لیے سورج پور کے نوجوانوں کو للکارتے ہوئے بوڑھا غضب ناک انداز میں گویا ہوتا ہے : ’کوئی اپنی بربادی کو چپ چاپ نہیں دیکھ سکتا۔ اپنے بچاو کے لیے اُسے بھی تو کچھ کرنا ہی پڑتا ہے۔‘ اب دھام پور والوں سے کہنے سے کچھ حاصل نہیں ہونا تھا۔ اس لیے کا نجی ہاؤس کے افسران سے سانڈ کی تباہ کاریوں کی شکایت کی جاتی ہے۔ بوڑھے نے سرکاری اداروں کے سامنے فردِ جرم کیسے عائد کی جاتی ہے،اس سلسلے سے اپنے تجربوں سے فائدہ اُٹھا تے ہوئے گانو کے نوجوانوں کو بتایا کہ کانجی ہاؤس کے اہل کاروں سے یہ کہناہے کہ سانڈ پاگل ہوگیا ہے اور وہ دوسرے گانو کو بھی اپنے دائرے میں کب لے لے گا، اس کا کیا پتا؟
گانو والوں کو کانجی ہاؤس کی طرف سے کوئی علاج نصیب نہیں ہوتا ہے۔ غضنفر نے سادہ سے لفظوں میں طنز کے ہرے بھرے زخم اُبھارتے ہوئے سرکاری کام کاج کے غیر جذباتی یا غیر انسانی ہونے کی بھرپور وضاحت کردی ہے۔لاوارث سانڈ کے لیے سرکاری کانجی ہاؤس میں کوئی گنجایش نہیں۔سرکاری افسروں کے نَپے تُلے جواب کو سُن کر گانو والے اپنی قسمت کو پیٹتے ہوئے لوٹ آئے۔ یہ عوامی بیداری کی مہم کی پہلی پسپائی تھی۔ ظالم کی نکیل کسنے کے لیے اجتماعی کا وشوں کا انجام اس قدر ناکامی سے بھراہوگا، یہ غیر متوقع تھا۔ لیکن اگلی بار جب پھر سانڈ نے تباہی مچائی، اُس وقت بوڑھے نے لوگوں کو مشورہ دیا کہ کانجی ہاؤس کے اوپر کے افسروں سے رابطہ قائم کیا جائے، شاید وہ ہماری مدد کریں ۔ غضنفر نے کہانی میں اس مرحلے میں کامیابی کی ایک صورت پیدا کردی ہے۔ شاید وہ سرکاری دفاتر میں دباو بنانے اور کام کرانے کی تکنیک کو یہاں اُبھارنا چاہتے ہیں، اسی لیے افسروں نے وعدہ کیا کہ اگر آپ لوگ سانڈ کو پکڑ کر لائیے، تواُسے کانجی ہاؤس میں بند کر دیا جائے گا۔ سانڈ کو پکڑنے کے لیے نوجوانوں کی ٹولی سرگرم ہوئی لیکن آخر کار سانڈ بھاگ نکلا۔ کئی نوجوان زخمی بھی ہوگئے لیکن اُس کا پیچھا کرتے رہے۔ سانڈ جان بچا کر محفوظ علاقے یعنی اپنے گانو دھام پور کی طرف بھاگ گیا۔
سانڈ کو پیچھے سے دوڑاتے ہوئے نوجوان دھام پور پہنچ جاتے ہیں۔ لیکن جیسے ہی دھام پور والوں کو لاٹھیوں کے ساتھ سانڈ کو مارنے کے درپے سورج پور کی آبادی دکھائی دیتی ہے، فوراً دھام پور کے لوگ بھی لاٹھی اور ہتھیاروں سے لیس ہو کر اپنے سانڈ کو بچانے اور سانڈ کو مارنے والوں سے مقابلہ کرنے کے لیے نکل آتے ہیں۔ سورج پور کے لوگ پھر نامراد واپس ہوتے ہیں۔ لیکن کئی بار کی کوششوں میں ناکامی انھیں فیصلہ کُن موڑ تک لے آتی ہے۔ جنھیں مشکلات کا سامنا ہے، انھیں کسی نہ کسی صورت اپنے مسائل سے مقابلہ کرنا ہی ہوتا ہے۔ آخر آخر یہ فیصلہ ہوتا ہے کہ سانڈ سے مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں بھی اپنے دیوتا کا سانڈ تیار کرنا ہوگا جو دھام پور والوں کے ساتھ ویساہی سلوک کرے گا جیسا دھام پور والوں کا سانڈ سورج پور والوں کے ساتھ متواتر کررہا ہے۔ یہ نسخۂ کیمیا بہ ظاہر جتنا معصوم ہے، اُسی قدر تباہ کُن اور غیر انسانی بھی ہے۔ سانڈ کا جواب سانڈ ہو سکتا ہے، یہ انتقامی جذبہ تھا جسے عوامی فیصلے میں تبدیل کر کے طاقت ور کو کمزور پر فتح یاب ہونے کے لیے چھوڑ دیا گیا۔
غضنفر نے کہانی کے اس موڑ پر یہ واضح کر دیا ہے کہ دونوں سانڈوں نے دونوں گانو کو الگ الگ تباہ کیا۔ جس کے ہاتھ میں طاقت ہے، اُس نے عوام کو بہر صورت مشکلات میں مبتلارکھا۔ کہانی اس موڑ پر بھی ختم ہو سکتی تھی اور غضنفر انسان کے اس تصوّر کو واضح کرنے میں کامیاب ہو سکتے تھے کہ شَر کو شَر سے ختم کیا جا سکتا ہے۔لیکن غضنفر اس تصوّر کے طرف دار نہیں، اس لیے انھوں نے کہانی کے انجام سے ذرا قبل ایک ڈراما پیدا کیا اور وہ یہ کہ لوگوں نے اچانک دیکھا کہ دونوں دشمن سانڈ ایک ساتھ مِل جُل کر گھوم رہے ہیں اور باری باری دونوں جگہ تباہیاں پھیلانے لگتے ہیں۔ اس منظر سے سب کی آنکھیں پھٹی رہ جاتی ہیں۔ یہاں غضنفر سیاسی اور سماجی گٹھ جوڑ کی طرف اشارہ کرتے ہیں جن کی پُشت پر اصل میں کوئی اصول یا انسان دوستی کا با لعموم تصوّر نہیں ہوتا۔
اس کلائمکس کے بعد بھی غضنفر کے پاس ایک اور ڈراما بچا ہوا ہے۔ اب دونوں گانو کے لوگ یک راے ہیں کہ دونوں سانڈوں کو مار دیا جانا چاہیے۔ لیکن ٹھیک اِسی مرحلے میں محکمۂ تحفّظِ وحشیان کے افراد پہنچ جاتے ہیں جن کے نزدیک جانوروں کا مارنا بڑا جُرم ہے اور اُن سانڈوں کو وہ اپنی حفاظت میں لے لیتے ہیں۔ اس مختصر ڈرامائی کیفیت سے افسانہ نگار کو حالات کے جبر اور اُس کی بوالعجبیوں کو واشگاف کرنے کا موقع ہاتھ آگیا ہے جس کے نتیجے میں گانو والوں کے لیے اپنے سرپیٹ لینے کے علاوہ کوئی چارۂ کار بھی نہیں رہتا ہے۔
اس افسانے کی دوباتوں کی طرف مزید توجّہ دینے کی ضرورت ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ مذہب اور سیاست کے اشتراک سے سماج میں کیا کچھ ہو رہا ہے، اس کا صاف صاف اشارہ اس افسانے میں موجود ہے۔ دوسرا یہ کہ آخر جانور کو بنیاد بنا کر انسانی زندگی کی کہانی کیوں لکھی گئی ہے؟ پہلے دوسرے پہلو پر غور کریں تو محسوس ہوگا کہ غضنفر جانوروں کے ارد گرد رہ کر بار بار اپنے افسانے بنتے دکھائی دیتے ہیں۔ اُن کے افسانوی مجموعے میں ’سانڈ‘، ’کڑواتیل‘، ’ایک اور ققنس‘، ’پہچان‘، ’بھیڑ چال‘، ’ڈوبرمین‘، ’ہَون کنڈ‘، ’اس نے کیا دیکھا‘، ’مٹھائی‘، ’ڈگڈگی‘، ’کلہاڑا‘ اور’اصلاح الوحشیان؛یعنی کُل بارہ افسانے جانوروں کے آس پاس کی زندگیوں سے عبارت ہیں۔ ان کے مجموعے کا ہر تیسرا افسانہ جانوروں یا پرندوں سے وابستہ ہو جاتا ہے۔ کیا وہ جانوروں کی کہانیاں سنانا چاہتے ہیں؟ انھیں انسانی زندگی کے پیچ وخم کی وضاحت کے لیے جانوروں کی مدد کی ضرورت ہے؟ یا جانور ان کے ہاں انسانی تشخّص حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں؟
جانوروں کی زندگیوں کی تفصیل بتاتے ہوئے انسانی کائنات کے تمام نشیب وفراز واضح کرنے کا غضنفر نے کوئی بالکل نیا اور ذاتی سلیقہ ایجاد کیا ہو، ایسا نہیں ہے۔ ’پنچ تنتر‘، ’منطق الطیر‘سے لے کر’ Animal Farm ‘تک؛ جانوروں کے ساتھ ساتھ ہماری قصّہ گوئی اپنی بھرپور مقصدیت واضح کرتی رہی ہے۔ غضنفر باربار جانوروں کے سہارے آخر کیوں اپنی بات ہم تک پہنچانا چاہتے ہیں اور وہ بھی جانوروں کی کم، انسانی سماج کی زیادہ۔ کم سے کم انھیں سیاسی اور معاشرتی کہانیاں تو جانوروں کے سہارے نہیں ہی کہنی چاہیے تھیں۔
ایک فن کار کی حیثیت سے غضنفر نے اس معاملے میں شاید بہت سوچی سمجھی حکمتِ عملی اختیار کر رکھی ہے۔ جانوروں کے سہارے طنز واستہزا کو وہ بآسانی بڑھا دیتے ہیں۔ انسانی جبر کے مظاہر دکھانے میں بھی انھیں جانوروں کا ذکر کرکے ایک تقابلی منظریہ قائم کرنے میں مدد ملتی ہے۔جہاں انھیں انسانی سماج کے کھیل تماشے دکھانے ہوتے ہیں، وہاں وہ من چاہے طریقے سے جانوروں کے واقعات بتاتے ہوئے انسانوں کے حال چال پس منظر میں دکھاتے چلتے ہیں۔ ہر جگہ انسان کی وہ جیسی شکل چاہتے ہیں، آسانی سے اُسے پیش کرسکتے ہیں۔ یہ غور کا مقام ہے کہ ’’کڑواتیل‘‘ کے کولھو کا بیل مظلوم صورت میں ہمارے سامنے آتا ہے اور کولھو کے مالک شاہ جی استحصال اور ظلم کے نمایندہ بن کر جانور کے مقابلے خود کم تر دکھائی دیتے ہیں۔ اس سے مختلف افسانہ ’سانڈ‘ کا سانڈ ظالم ہے اور استحصال کا خود نمایندہ معلوم ہوتا ہے لیکن افسانہ نگار کا کمال دیکھیے کہ پھر بھی وہ انسانوں کو ہی ظلم اور استحصال کا کارندہ بتانے میں کامیاب ہوگئے۔ یہاں جانور اگر ظلم کرتا ہے تو اس لیے کہ وہ انسانوں کے ہاتھوں کا کھلونا ہے۔ اس طرح بے زبان جانوروں سے افسانہ نگار کی محبت لائق توجّہ ہے جس کا عروج افسانے کے آخر میں اس طرح سامنے آتا ہے کہ سانڈوں کو مارنے سے پہلے تحفّظِ وحشیان کے افراد ان سانڈوں کو اپنی حفاظت میں لے کر انھیں مارے جانے سے بچالیتے ہیں۔ جذبوں کی سطح پر یہ معصومیت اور نرمی غضنفر کی ادبی شخصیت کی اصل روح ہے۔
اس افسانے کے سیاسی پہلو کی طرف ہم واپس آتے ہیں۔ گاے تقدیس اور معصومیت کا اشارہ ہے، بیل محنت کا اور سانڈ ظلم اور طاقت کا۔ غضنفر نے اس عام تصوّریے کو بدلنے اور بگاڑنے کی کوئی حکمت نہیں آزمائی۔ اس سے یہ فائدہ ہوا کہ عنوان دیکھتے ہی پڑھنے والا سانڈ کے عوام مخالف رویّے کو ذہن میں سمیٹ لیتا ہے۔ قاری کے جذبات اور دل پر افسانہ نگار کس قدر حاوی ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگانا چاہیے کہ افسانہ شروع ہوتے ہی سانڈ کی ظالمانہ حرکتوں کا اشارہ ملنے لگتا ہے۔ پہلے جملے میں ہی افسانہ نگار عوامی یادداشت کو اوّلیت دے کر پڑھنے والے کا بھرپور اعتماد حاصل کر لینے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ حالاں کہ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ غضنفر سانڈ کو ظلم کا نمایندہ نہیں بنانا چاہتے بلکہ سانڈ کے پالنے اور نچانے والوں پر نشانہ سادھتے ہیں۔ لیکن اسی کے ساتھ ایک ہوش مند قصّہ گو کا یہ فرض ہے کہ پہلے وہ قاری کو اپنا بنائے اور پھر اُس کے ذہن میں وہ سب کچھ ڈال دے جس کے لیے وہ افسانہ لکھ رہا ہے۔اس اعتبار سے سانڈ کے تصوّرکوقائم کرنے اور پھر غائب کر دینے میں غضنفر نے خاصی مہارت دکھائی ہے۔ 
غضنفر نے چوں کہ یہ طے کیا تھا کہ وہ سیاسی اور سماجی افسانہ لکھنے جارہے ہیں، اس لیے انھوں نے سانڈ کا بار بار ذکر تو کیا لیکن ہر بار انھوں نے سانڈ کے پیچھے انسانی جماعتوں کی طاقت کا کھیل بھی لازمی طور پر دکھایا۔ اس کھیل میں نہ جانے کتنے فریق ہیں اور سب موقع بہ موقع اپنا کام کرتے جاتے ہیں لیکن نتیجہ یہی ہوتا ہے کہ انسانی شکست کی کہانی میں چند اور اق پھر سے جوڑدیے جاتے ہیں۔ غضنفر چلتے پھرتے یہ دکھا دیتے ہیں کہ سانڈ تو پکڑ لیا جائے یا مار دیا جائے لیکن اُسے بچانے والوں کا کیا ہوگا؟ کبھی گانوکے نام پر، کبھی مذہب کے نام پر اور کبھی تحفّظِ وحشیان کے نام پرسانڈ تو بچ ہی جاتا ہے، اس قدر مدد سماج کی صالح قدروں کو کسی موڑ پر نہیں مل رہی ہے۔ واقعتا یہ لمحۂ فکر یہ ہے۔ غضنفر کوئی اعلان تو نہیں کرتے لیکن افسانے کو نہایت پُرسوز مقام پر اسی لیے چھوڑ دیتے ہیں تا کہ پڑھنے والے سماج ، سیاست اور مذہب کے اس کھیل کو سمجھ سکیں کہ کہیں کوئی مددگار یا طرف دار نہیں ہے اور انسانیت کو سفّاک جبڑوں میں برباد کرنے کا ارادہ ہے۔
سانڈ‘ میں نئی اور پرانی نسل میں کسی بڑی آویزش کو نہیں دکھایا گیا ہے۔ سورج پور کے نوجوانوں اور بزرگ کے تعلّقات پر غور کریں تو پتا چلے گا کہ دونوں کے بیچ اچھا خاصا تال میل ہے اور ایک دوسرے سے صلاح ومشورہ کا سلسلہ قائم ہے۔ دونوں کے درمیان ترسیل کی کوئی رکاوٹ نہیں ہے اور سماجی مسئلوں میں دونوں مل جُل کر غور وفکر سے کام لے رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ اس افسانے میں Synthesisکاعمل چل رہا ہے۔ پرانے اور نئے لوگوں میں نہ کوئی ضد ہے اور نہ مقابلہ آرائی۔ ایک دوسرے سے کسی بڑی شکایت کا بھی پتا نہیں چلتا۔ آنے والے دور میں شاید ایسا ہی سماج بنے جہاں نہ کسی کو احساسِ برتری ہو اور نہ احساسِ کمتری سے کوئی پسپا ہونے کے لیے مجبور ہو ۔ حالاں کہ یہ غم انگیز صورت ہے کہ پرانی اور نئی نسل کے ایک ساتھ سرگرمِ عمل ہونے کے باوجود ہمارے مسئلے حل نہیں ہوتے اور ہم بہ تدریج ختم ہوتے جانے کے لیے مجبور ہیں۔ 
اس افسانے میں اسطور کا بہت خوبی سے استعمال ہوا ہے۔ سانڈ یعنی ظالم قوت اسطور کے سہارے ہی جو از حاصل کرتا ہے۔ اصلاً مذہب اسی قدر اس افسانے میں اوپری سطح پر دکھائی دیتا ہے۔ لیکن افسانہ نگار کا یہ کارنامہ ہے کہ ایک ذرا سی بات سے اُس نے پورے افسانے میں استحصال کے قائم ہونے والے ڈھانچے کی پہچان کرلی اور ہمارے ذہن میں یہ سوال بھی بھر دیا کہ کس طرح مذہب اور دھرم کرم کے نام پر سماج دشمن تصوّرات استعمال میں لائے جاتے ہیں اور دھیرے دھیرے ہمارا سماج آپس میں لڑ کر بہ تدریج کمزور ہوتا جاتا ہے۔ اسطور کے استعمال سے یہاں سیاست کا اعلانیہ انداز بھی نہیں اُبھرا اور مذہب کے نام پر قائم غیرانسانی رواجوں کا بھی پردہ فاش ہو گیا۔
اپنی نسل میں زبان کی سطح پر غضنفر کے ہاں سب سے زیادہ تجرباتی ذہن دکھائی دیتا ہے۔ غضنفر کے ذریعہ وضع کی جارہی رنگ برنگی زبان کی طرف زبان کے اداشنا سوں کو توجہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس سادہ سے افسانے میں یوں تو انشا پردازی دکھانے، زبان کے گُل بوٹے ٹانکنے کی گنجایش نہیں تھی۔ اس کے باوجود اُن کے ہر جملے میں اُن کا مخصوص طریق کار ابھرتا نظر آتا ہے۔ بالخصوص جزئیات نگاری میں انھوں نے اپنی مہارت کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے۔ حالات اور کیفیت کو پوری اثر آفرینی کے ساتھ ابھارنے میں انھیں اپنی اسی قوت سے مدد ملتی ہے۔ ’سانڈ‘ میں طنز کی کیفیت، بیان میں اجمال اور بُنت میں استحکام اسی زبان دانی سے پیدا شدہ ہیں۔ اپنے اکثر افسانوں یا ناولوں میں غضنفر اپنی انشا پردازانہ صلاحیتوں سے قصّے کو پھیلانے کا کام کرتے ہیں جسے انھوں نے یہاں کسی بھی طور پر نہیں آزمایا ہے۔ یہاں زبان کے صرف تاثیری پہلو کو ہی انھوں نے ملحوظ رکھاہے اور اس میں انھیں بھرپور کامیابی حاصل ہوئی ہے۔
تو کیا ’سانڈ‘ ہمارے زمانے کا بڑا افسانہ ہے؟ کیا اسے اردو کے عظیم مختصر افسانوں میں جگہ دی جا سکتی ہے یا کیا اسے شہہ کار قرار دیا جا سکتا ہے؟ کیا یہ ’کفن‘، ’عیدگا‘، ’ہتک‘، ’لاجونتی‘ کی صف میں شامل ہو سکتا ہے؟ ان سوالوں کے جواب میں مجھے ’ہاں‘ نہیں کہنا چاہیے۔ غضنفر نے بڑی تخلیق لکھنے کے لیے بنیادی مسالہ جمع کر لیا ہے۔ ان کا مطالعۂ کاینات، زبان اور تکنیک پر قدرت ایسے جوہر ہیں جن کے بَل پر انھیں نہ صرف اپنے عہد کا بڑا ناول لکھنا ہے بلکہ ان پر کئی یاد گار افسانوں کا لکھنا بھی قرض ہے۔ انھیں اپنے عہد کا رزمیہ لکھنا ہے لیکن اس کے لیے غضنفر کو اپنی تخلیقی شخصیت کو شاید مزید صیقل کرنا پڑے۔ 
}
سنٹرل انسٹی ٹیوٹ آف انڈین لینگویجز، میسور کے سے می نار منعقدہ ۱۷۔۱۵؍اکتوبر ۲۰۰۷ء واقع حلیم پی۔جی۔ کالج، کان پور میں پیش کیا گیا۔{
***
SAFDAR IMAM QUADRI
Department of Urdu, College of Commerce, Patna-800020(Bihar)
safdarimamquadri@gmail.com

 مضامین دیگر 

Comment Form