لندن کی ایک رات : ایک رو مان انگیز ناولٹ




اسلم جمشیدپوری
10 Aug, 2017 | Total Views: 615

   

اردو فکشن کیا ادب میں ہی بعض تخلیقات کی شہرت اتنی ہے کہ ان کا نام لیتے ہی، ان کے مصنف، ان کا عہد اور دیگر انسلاکات ذہن کے پردے پر واضح ہونے لگتے ہیں۔’’لندن کی ایک رات‘‘ کو اپنے زمانے ہی میں شہرت حاصل ہوگئی تھی۔ بعد میں جیسے جیسے ترقی پسند ادب اور سجاد ظہیر کا دائرہ وسیع ہو تا گیا’لندن کی ایک رات‘ کو بھی شہرت و مقبولیت حاصل ہو تی گئی۔
عجیب اتفاق ہے کہ جب ہم لوگ بی۔اے اور ایم۔ اے کے طالب علم تھے،تو اس ناولٹ کا نام اس لیے جانتے تھے کہ اس میں، اردو میں پہلی بار شعور کی رو تکنیک کا استعمال ہواہے۔ کہاں ہوا ہے؟ کیسے ہوا ہے؟نہ ہم نے ناول پڑھاتھا اور نہ ہمیں اس کا علم تھا۔ جب ناول کا مطا لعہ کیا تو بہت ساری باتیں سامنے آئیں۔ ناولٹ کے تعلق سے بہت سے جالے صاف ہوئے۔ اس تخلیق کے تعلق سے کافی زمانے تک یہ صاف نہیں ہوا کہ یہ ناول ہے یا ناولٹ؟ ناول پر تنقید لکھنے والے اسے ناول اور ناولٹ کے یار کو اسے ناولٹ قرار دیتے ہیں۔خود سجاد ظہیر اس بات سے نا واقف تھے کہ انہوں نے ناول تحریر کیا ہے، ناول کے فن کو زندہ کیا ہے یا ایک بے حد طویل افسا نہ قلم بند کیا ہے۔ناول سے قبل ان کی تحریر سے یہی پتہ چلتا ہے:
’’
اس کتاب کو ناول یا افسانہ کہنا مشکل ہے۔ یورپ میں ہندوستانی طالب علموں کی زندگی کا ایک رخ اگر دیکھنا ہو تو اسے پڑھئے۔‘‘
)
لندن کی ایک رات، سجاد ظہیر،مرتبہ ڈاکٹر محمد فیروز،ص64ساقی بک ڈپو، دہلی2001ء(
بیان سے صاف ظاہر ہے کہ سجاد ظہیر یعنی مصنف کے ذہن میں خود واضح نہیں تھا کہ وہ کس صنف میں طبع آزمائی کررہے ہیں۔ لیکن وہ یہ ضرور جانتے تھے کہ یہ ناول نہیں ہے۔ ناول کے فن پر یہ پو را نہیں اترتا ہے۔ انہیں یہ بھی علم تھا کہ یہ طویل افسا نہ بھی نہیں ہے۔ کیو نکہ افسا نے کے تقاضے الگ ہو تے ہیں۔ ایسے میں سجاد ظہیر نے صنف کے چکر میں پھنسے بغیر اسے ناقدین اور قارئین کے سپرد کردیا کہ وہ پڑھنے کے بعد طے کریں کہ آیا یہ ناول ہے، ناولٹ یا طویل افسانہ___
’’
لندن کی ایک رات‘‘ کے ناول یا ناولٹ ہونے کے تعلق سے کافی زمانے تک بحث جاری رہی اور بہت زمانے تک بہت سے لوگ ناول کہتے رہے جب کہ بہت لوگ ناولٹ مانتے رہے۔ یہ معاملہ قار ئین اور ناقدین دو نوں کا تھا۔ معروف محقق اور ناقد ڈاکٹر محمد فیروز اس سلسلے میں اپنی کتاب’’ لندن کی ایک رات: خصوصی مطالعہ اور تجزیہ‘‘ میں اس مسئلے پر خاصی طویل بحث کے بعد اس نتیجے پر پہنچتے ہیں:
’’
راجندر سنگھ بیدی کے ناولٹ’’ ایک چادر میلی سی‘‘ اور عزیز احمد کے ناول’’ جب آنکھیں آہن پو ش ہوئیں‘‘ کو ناول بھی کہا گیا اور ناولٹ بھی۔ اسی طرح ناول کی ادبی تاریخوں میں ’’لندن کی ایک رات‘‘ کو کبھی ناول کہا گیا اور کبھی ناولٹ بھی۔ اس نکتے کو زیا دہ وا ضح کر نے کے لیے مذکو ر ہ بالا امور کی رو شنی میں ہم ’جب آنکھیں آ ہن پوش ہوئیں‘ اور ’’لندن کی ایک رات‘‘ کو ناولٹ کہنا ہی زیادہ منا سب سمجھتے ہیں۔‘‘
)
لندن کی ایک رات، سجاد ظہیر،مرتبہ ڈاکٹر محمد فیروز،ص22ساقی بک ڈپو، دہلی2001ء(
بہر حال یہ معاملہ تو سلجھا کہ لندن کی ایک رات، ناول نہیں ناولٹ ہے۔ ویسے ناولٹ کے فن و ارتقا پر پہلا مبسوط تحقیقی مقالہ ڈا کٹر وضاحت حسین رضوی کا ہے جو’’ اردو ناولٹ کا تحقیقی و تنقیدی تجزیہ‘‘2001ء میں شائع ہوا۔ ڈاکٹر وضاحت حسین نے اپنے مقالے میں ناولٹ کی صنف کے وجود کے لیے کافی مدلل بحثیں کی ہیں۔لندن کی ایک رات، کو ناولٹ قرار دینے والوں میں ان کا نام بھی شامل ہے۔
جہاں تک لندن کی ایک رات، ناولٹ کے موضوع، پلاٹ، کینوس، اسلوب کا تعلق ہے تو اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ لندن کی ایک رات، اپنے مو ضوع اور Treatment کے اعتبار سے اہم ناولٹ ہے بلکہ اردو ناولٹ کی تاریخ میں ہم اسے’ امراؤ جان ادا ‘سے تعبیر کرسکتے ہیں۔ یعنی ناول کے آغاز و ارتقا میں جو کردار یا مقام امراؤ جان ادا کاہے وہی ناولٹ کے آ غاز و ارتقا میں لندن کی ایک رات کا ہے۔ اس کا مو ضوع لندن میں مقیم ہندوستانی طلبہ کے توسط سے ہندوستانی غلا می کی تصویر ہے بلکہ انگلینڈ میں رہ رہے طا لب علموں کی زندگی، انگلینڈ میں انگریزوں کی زندگی اور ہندوستان پر قا بض انگریزوں کی زندگی ہے۔ اس سلسلے میں معروف نقاد ڈا کٹر خلیل الرحمن اعظمی کا خیال ہے:
’’
اس ناول کا موضوع اس اعتبار سے نیا ہے کہ اس میں ان ہندوستانی طا لب علموں کی ذہنی و جذباتی کشمکش کی عکاسی کی گئی ہے جو بر طانوی حکو مت کے دور میں انگلستان بغرض تعلیم جا تے تھے اور انہیں وہاں مغربی تہذیب کے جگمگاتے ہوئے مناظر اور سر مایہ دارانہ نظام کے تضا دوں سے بہ یک وقت سابقہ پڑتا تھا۔‘‘
)
اردو میں ترقی پسند ادبی تحریک، خلیل الرحمن اعظمی،ص247، ایجو کیشنل بک ہاؤس، علی گٖڑھ(
لندن کی ایک رات کے تعلق سے ڈا کٹر خلیل الرحمن اعظمی کی را ئے متوازن ہے۔ میرا بھی خیال ہے کہ لندن کی ایک رات، موضوع کے اعتبار سے جہاں انفرادیت کی حامل ہے وہیں Treatment کے لحاظ سے بھی منفرد ہے۔ ناول میں کسی ایک کردار کو مرکزیت حاصل نہیں ہے۔ یہ بات اس عہد خصوصاً ترقی پسند عہد اور اس سے قبل کے اردو ناول سے انحراف ہے۔ انحراف یعنی روا یت سے مختلف، یعنی نیا پن، ناول کے بندھے ٹکے اصولوں سے الگ، اپنی راہ نکالنے جیسی بات ہے۔ یہ بات ناولٹ کو خاص بناتی ہے۔ ڈاکٹر وضاحت حسین رضوی کی اس ناولٹ کے تعلق سے رائے ذرا مختلف ہے۔
ناولٹ’لندن کی ایک رات‘ در اصل لندن میں تعلیم، تفریح اور نام کے لیے رہ رہے طالب علموں کی زندگی اور ہندوستان کی غلامی کی صورت حال کا بہترین عکاس ناولٹ ہے۔ ڈا کٹر وضاحت حسین رضوی’ لندن کی ایک رات‘ کو بہت اہم یا اچھا ناولٹ نہیں مانتے۔ اپنی کتاب میں ناولٹس کا تفصیلی جائزہ پیش کرتے ہوئے’لندن کی ایک رات کے تعلق سے لکھتے ہیں:
’’
اس ناولٹ کے پلاٹ سے، اس کی کردار نگاری سے بحث کرنا فضول محسوس ہوتا ہے۔ لیکن اس مو قع پر اتنا کہہ دینا ضروری ہے کہ اس ناولٹ میں دوسرے ناولٹوں کی طرح کوئی باضابطہ یا مربوط پلاٹ نہیں ہے اور نہ کوئی مرکزی کردار ہے۔ (390(
آگے ایک جگہ اور لکھتے ہیں:
’’
لندن کی ایک رات بنیادی طور پر ناولٹ ہی ہے۔ کیو نکہ اس کا کینوس وسیع ہونے کے بعد بھی وسیع نہیں ہو پاتا۔ یعنی پلاٹ کے نام پر اس ناول میں کوئی چیز ایسی نظر نہیں آ تی جس کے گرد تمام کردار گھومتے ہیں۔(393(
اپنی بات کو مزید واضح کرتے ہوئے ڈاکٹر وضاحت مزید لکھتے ہیں:
’’
راقم الحروف اس کہانی کو ناولٹ کہنے پر اس لیے مصر ہے کہ یہ کہانی پلاٹ اور کردار کی وجہ سے ناول سے مختلف ہے۔ یوں کہ نہ ناول کی طرح اس میں کوئی بڑا مسئلہ واقع ہے اور نہ ناول کی طرح کوئی بڑا کردار جس کے گرد کہانی گھو متی ہے اور نہ ناول کی طرح اس میں کوئی کشمکش اور ٹکرا ؤ ہے، جو کہانی کو آگے بڑھاتی ہے۔‘‘(395(
ڈاکٹر وضاحت حسین رضوی کے مندرجہ بالا تینوں اقتباسات سے’لندن کی ایک رات‘ کے تعلق سے قاری کی الجھنیں مزید بڑھ جاتی ہیں۔ڈاکٹر وضاحت خود اپنی بات سے الجھتے سے نظر آ رہے ہیں۔کہیں ایک بات کہتے ہیں تو پھر اس کی تردید بھی کرتے ہیں مثلا پہلے اقتباس میں’’ اس ناولٹ میں دوسرے ناولٹوں کی طرح کوئی با ضابطہ یا مربوط پلاٹ نہیں ہے۔‘‘ لکھتے ہیں جب کہ دوسرے اقتباس میں ’’ یعنی پلاٹ کے نام پر اس ناول میں کوئی چیز ایسی نظر نہیں آتی جس کے گرد تمام کردار گھومتے ہیں۔‘‘ پلاٹ ہونے کی تردید کررہے ہیں،جبکہ ناول میں پلاٹ موجود ہے۔ یہی نہیں کہیں اسے ناولٹ قرار دینے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھتے۔’’راقم الحروف اس کہانی کو ناولٹ کہنے پر اس لیے مصر ہے‘‘ تو کہیں اسے ناول لکھتے ہیں’’ پلاٹ کے نام پر اس ناول میں کوئی چیز....‘‘ پھر ناول سے موازنہ کرتے ہوئے اس ناولٹ کو بہت بونا کم تر اور کم معیار ثا بت کرتے ہیں۔’’ اس کا کینوس وسیع ہونے کے بعد بھی وسیع نہیں ہو پاتا۔‘‘ وسیع ہونے کے بعد بھی وسیع نہیں ہو پاتا، لکھ کر کیا ثا بت کرنا چاہتے ہیں۔ پھر آگے مزید لکھتے ہیں’’ نہ ناول کی طرح اس میں کوئی بڑا مسئلہ واقع ہے اور نہ ناول کی طرح کوئی بڑا کردار ...اور نہ ناول کی طرح اس میں کوئی کشمکش اور ٹکرا ؤ۔‘‘ میری سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ وضا حت حسین ایک ناولٹ کا ناول اور اس کے اجزائے ترکیبی یا اوصاف سے موازنہ یا تقابل کیوں کررہے ہیں۔ ناولٹ کا کینوس، ناول کی طرح وسیع نہیں ہو تا۔ کردار نگاری کا جہاں تک تعلق ہے تو ناول میں کردار نگاری کے مواقع ، ناولٹ سے زیادہ ہو تے ہیں۔ ناولٹ میں کردار اپنا وجود اس طرح ثابت نہیں کرتے جس طرح ناول میں ہو تا ہے۔ ناولٹ کے کردار تو اپنا مخصوص عمل اور افعال انجام دے کر چلے جاتے ہیں۔ ناولٹ میں اپنے عہد کا کوئی بڑا مسئلہ، ناول کی طرح نہیں آتا۔ ناولٹ تو اپنے عہد کے مسائل کو اشا رتاً پیش کرتا ہوا چلتا ہے۔ ایسے بہت سے ناول اور ناولٹس ہیں جن میں کسی ایک کردار کی مرکزی حیثیت ابھر کر سامنے نہیں آتی۔ ایسے ناولوں یا ناولٹس میں دو یا کبھی تین کردار مرکزی حیثیت میں ہوتے ہیں۔بہر حال میری رائے ڈا کٹر وضاحت سے ذرا مختلف ہے۔’لندن کی ایک رات‘ ایک مکمل ناولٹ ہے۔ جس میں لندن کے آئینے میں ہندوستان کی غلا می کی تصویر ہے، ایسی تصویر جس میں اضطراب ہے جو آزادی کے لیے مچل رہی ہے۔ کسی ایک مرکزی کردار کا نہ ہو نا ناولٹ کا نیا پن ہے۔ در اصل یہ زندگی کو اصلی شکل میں دیکھنے کی ایک کوشش ہے۔ مرکزی کردار اور پھر اس کردار کی پختگی اور پورے ناولٹ کا اس کے گرد گھومنا حقیقت میں فسانے کا انضمام ہے۔ سجاد ظہیر نے ناول اور ناولٹ کی روایت سے انحراف کرتے ہوئے ایک خوبصورت ناولٹ تحریر کیا ہے۔
لندن کی ایک رات، کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہو جاتی ہے کہ اس میں شعور کی رو تکنیک کا پہلی بار استعمال ہوا ہے۔ایک شخص جسمانی اعتبار سے کہیں ہو تا ہے مگر اس کا تصور اور خیال کہیں ہو تا ہے۔ وہ تصور کی ایک الگ دنیا بسائے ہوتا ہے۔ یہ دو نوں صورت حال ایک ساتھ ہوتی ہیں۔شعور کی رو میں حال سے ماضی اور مستقبل کا رشتہ بیک وقت استوار رہتا ہے۔’ لندن کی ایک رات‘ کے کردار خصوصاً اعظم کی یہی صورتِ حال ہے۔ ہم کلامی اور تصور میں گم ہوجانا، اس کیفیت کے نشا نات ہیں ۔ ڈا کٹر سید مہدی احمد رضوی اپنی کتاب’’ اردو میں ناولٹ نگاری، فن اور ارتقا‘‘ میں’ لندن کی ایک رات ،میں شعور کی رو تکنیک کے استعمال پر یوں رقم طراز ہیں:
’’
قصے کا یہ اسلوب نگارش، تحریر کی یہ تکنک’’ لندن کی ایک رات‘‘ سے پہلے کہیں اور نہیں ملتی۔ سجاد ظہیر نے جزوی طور پر ہی سہی لیکن خو بصورتی اور کامیابی کے ساتھ شعور کی رو کے فنی تصور کو اردو میں استعمال کیا۔ اس لیے اسلوبی ندرت اور تکنیکی جدت کے لحاظ سے لندن کی ایک رات کو ایک سنگ میل کا درجہ حاصل ہے۔ مختلف النوع، مبہم اور منتشر یادوں کے ملے جلے جذبہ و احساس کی تر جمانی کے ذریعے ناولٹ نگار نے صرف اپنے کرداروں کی شخصیتیں ہی نمایاں نہیں کی ہیں بلکہ ان کرداروں کے حال کی تلخیاں اور مستقبل کی آرزو مندیاں بھی سامنے آگئی ہیں۔‘‘
[
اردو میں ناولٹ نگاری، فن اور ارتقا، ڈاکٹر سید مہدی احمد رضوی،ص120 ء]
درج بالا اقتباس سے ثا بت ہو تا ہے کہ اردو میں پہلی شعور کی رو تکنیک کا استعمال سجاد ظہیر کے ناولٹ ’لندن کی ایک رات‘ میں ہوا۔ بعد میں قرۃ العین حیدر کے افسا نوں اور ناولوں میں اس تکنیک کے استعمال کا عمدہ مظا ہرہ ملتا ہے۔
مجمو عی طور پر دیکھا جائے تو ’لندن کی ایک رات‘ اردو ناولٹ کا ایک اہم موڑ ہے۔ ناول کا مو ضوع جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے۔ ہندوستانی نو جوانوں کے قیام لندن کے ذریعے ہندوستان کی غلامی کی تصویر کشی ہے اور سجاد ظہیر یہاں کامیاب نظر آ تے ہیں۔ ناولٹ کا قصہ بس اتنا ہے کہ چند ہندوستانی طا لب علم لندن میں زیر تعلیم ہیں،ایک رات سب ایک جگہ جمع ہیں۔ محفل جمی ہو ئی ہے۔ ناچ گانا جاری ہے۔ ایک دوسرے سے واقفیت سے اجنبیت ختم ہو تی ہے۔ راؤ، نعیم الدین، اعظم، عارف، احسان، کریم، سب کی الگ الگ زندگی اور نظریے ہیں۔ نعیم الدین شیلا کو چاہتا ہے۔ اسی طرح اعظم جینی پر عاشق ہے۔ اسی ایک رات میں سارے قصے گھومتے ہیں اور بالآخر شیلا کی محبت کی کہانی پر ناولٹ ختم ہوتا ہے۔ یوں تو ناول میں سیاسی ،سماجی ہر طرح کے رنگ ہیں ۔لیکن ناولٹ کے آخر میں رو مانی قصہ، جس طرح انگڑائی لیتا ہوا قاری کے سامنے آ تا ہے، اس سے ناولٹ کا حتمی تاثر رو مانی ہی ہو جاتا ہے۔ میری ذاتی رائے بھی یہی ہے کہ لندن کی ایک رات‘ سماجی پس منظر میں تخلیق کردہ ایک رو مانی قصہ ہے۔ ناولٹ میں تین رو مانس ہیں۔ اعظم اور جین ایک دوسرے کو پیار کرتے ہیں۔ نعیم الدین اور شیلا ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں اور ناولٹ پر چھا جانے والا رومانس شیلا کا ماضی ہے جو وہ نعیم الدین کو سناتی ہے۔ یاد اور ماضی کو سجاد ظہیر نے بڑی فن کاری سے بیان کیا ہے۔ شیلا اور اس کا پہلا عاشق ہیرن پال کا عشق واقعی اثر انگیز ہے۔ ایک اقتباس ملا حظہ کریں۔ سجاد ظہیر نے رو مان میں فلسفہ اور نفسیات کا بہترین استعمال کیا ہے:
’’
دونوں ساتھ ساتھ زندگی کے اس را ستے پر چلیں گے، جو سہل نہیں، لیکن پھر بھی ان لطافتوں سے لبریز ہے جو صرف زندگانی کی جدو جہد کا انعام ہیں۔‘‘
’’
میری جان! ہما را عشق خود انہی لطا فتوں کا نمو نہ ہونا چاہئے اور اگر ایسا نہ ہو گا تو وہ اس چراغ کی طرح ہو گا جو تیل ختم ہوجانے کے بعد گل ہوجاتا ہے اور جس پر رات کا اندھیرا غالب آجاتا ہے۔ لیکن شیلا ہم اسے گل نہ ہونے دیں گے! ہم اپنی باہم کوششوں کے پسینے سے اس چراغ کو جلتا رکھیں گے۔‘‘
’’
اور اگر زمانے کے بے رحم ہاتھ نے ہمیں ایک دوسرے کے پہلو سے جداکردیا؟اگر نسل، قوم،ملک و ملت کے خدا نے ہمیں بے دردی کے ساتھ ایک دوسرے کا ہاتھ بٹا نے سے رو کا اور غربت اور فاصلے کی زنجیریں ہمارے پیروں کی بیڑیاں بن گئیں۔ تب؟پھر ہم کیا کریں گے؟‘‘ شیلا نے کہا تھا
’’ شیلا مجھے ڈراؤ مت! میرے پاس تمہارے سوالوں کا کوئی جواب نہیں۔ سوا کوشش اور امید کے، ہر ممکن کے قریب نا ممکن کی بھیا نک شکل منڈلایا کرتی ہے، اگر ہم اس کو اپنے ذہن میں جگہ دیں تو موجودہ اور آ نے وا لی دو نوں، زندگی بد مزہ، نا قابل برداشت ہو جائے گی۔‘ (ص174-75)
اس اقتباس سے صاف ظاہر ہے کہ شیلا اور ہیرن ایک دوسرے کو جنون کی حد تک چاہتے ہیں۔ ان کے ارمان، خواہشیں اور امنگیں ناولٹ کو نہ صرف رو مانی بنا رہی ہیں بلکہ قاری کو جذبات کے سمندر میں غو طہ زن کررہی ہیں۔ ناولٹ اپنے اختتام پر اس قدر رو مانی ہو جائے گا یہ قاری نے سوچا نہیں تھا۔ نعیم الدین ناولٹ کا ایسا کردار ہے جو اپنی محبوب کی محبت کی داستان سننے پر مجبور ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے، وہ کسی اور کو چاہتی ہے اور اس طرح محبت کی ایک تثلیث ابھرتی ہے جس میں ہیرن غا ئب رہتے ہوئے بھی کہانی پر چھا جاتا ہے۔ ناول کا اختتام یاعروج رو مانی ہو جانے سے ناول دلکش بھی ہوا ہے اور عجیب بھی۔ عجیب اس لیے کہ قاری جو طالب علم دوستوں کی زبانی ہندوستانی غلامی اور ظلم و ستم سہنے والے معاملات سنتا سنتا، سوچنے لگتا ہے کہ ناول ضرور حب الوطنی پر ختم ہوگا ۔لیکن سجاد ظہیر نے اسے رو ما ن انگیز ناول بنا کر قاری کو شاکShockپہنچا یا ہے۔ ساتھ ہی ترقی پسندی کی مقصدیت پر بھی کا ری ضرب لگتی ہے۔ دلکش اس لیے ہوگیا ہے کہ رو مان انسان کو جذبات سے جوڑتا ہے،رشتے ناطوں سے منسلک کرتا ہے اور سماج سے فرار کا راستہ بھی دکھاتا ہے۔ ایک نئے جہان، نئی دنیا،جسے تصور کی دنیا کہتے ہیں(جو موجودہ سماج سے الگ ہوتی ہے) کی سیر بھی کراتا ہے۔ پھر نئی نسل کو رومان کچھ زیادہ ہی بھاتا ہے۔ اس لحاظ سے ناول دلکش ہو گیا ہے۔ سجاد ظہیر نے رو مان انگیز لمحات اور واقعات کی زبردست عکاسی کی ہے۔ رومان کولفظوں میں خوبصورتی سے ڈھالا ہے:
’’
نعیم نے کہا’’شیلا! کیا ہماری مجبو ری کا کچھ علاج بھی ہے؟یہ بھی کتنا تکلیف دہ اتفاق ہے کہ ہم دو نوں جذبات کے اس طوفانی سمندر میں بے بسی کے ساتھ بے با دباں کشتیوں کی طرح تھپیڑے کھا رہے ہیں لیکن ایک دوسرے کی کوئی مدد نہیں کرسکتے۔‘‘ (ص173(
رو مان جب ایک خاص مقصد کے تحت سامنے آ تا ہے تو اس کا رنگ مختلف ہو تا ہے۔ ہیرن جو خود شیلا کے پیار میں دل و جاں نثار کرنے کو تیار ہے،اپنے پیار کو اپنے ملک کی محبت سے الگ نہیں کر پاتا بلکہ وطن کے ذرے ذرے میں اپنی محبت تلاش کرتا ہے۔ ناول کا یہ رنگ قاری کو حب الوطنی کے سمندر میں غو طہ زن کردیتا ہے۔ یہاں ہیرن کا محبوب شیلا بھی ہے اور اس کا ملک ہندو ستان بھی:
’’
شام کے وقت جب برسات میں سورج ڈوبتا ہے اور آ سمان پر آ گ لگ جاتی ہے اور جب چاندنی نکلتی ہے اور ہمارے ملک کے ہرے بھرے کھیتوں اور سر سبز میدا نوں کے بیچ سے گزرتے ہوئے، دریا، پگھلے ہوئے چاندی کی ایک تھرائی ہوئی درخشاں لکیر بن جاتے ہیں اور اس ملک کے کروڑوں محنت کر نے وا لے انسان جو اپنی غریبی اور غلامی کی زنجیرو کو توڑ دینا چاہتے ہیں، یہ سب بیش بہا ہیں ۔اس تصویر میں جس خوبصورتی میں اتنا سوز و گداز بھر اہوا ہے۔ میں بھی کسی طرح کھپ جانا چاہتا ہوں۔ اس بات کی خواہش، اس کی کوشش، یہی میرے لیے حیات ہے۔یہی زندہ رہنا ہے۔‘‘ (ص174(
یہ بات درست ہے کہ لندن کی ایک رات،بالآخر رو مان پر ختم ہو تا ہے۔ ناولٹ اپنے عہد کے اچھے رومانی ناول یاناولٹ سے کم رومانی نہیں ہے۔لیکن ناولٹ میں ترقی پسندی تلاش کرنے والوں کو ذرا ما یوسی ہوتی ہے خصوصاً حب الوطنی کا وہ رنگ جو ابتدا میں کئی کرداروں کی زبانی قاری پر اپنا اثر قائم کرتا ہے، قاری جس کی تلاش اور جستجو میں پورا ناول پڑھ جاتا ہے اسے مایوسی ہوتی ہے۔ ابتدا سے تین چو تھا ئی حصے تک حب الوطنی کے عناصر سے لبریز ناول لندن کی ایک رات، آخر آخر تک اپنے اسی رنگ کو قائم رکھتا تو ایک بڑا ناول کہلاتا۔ ناول میں حب الوطنی کے رنگ کا خوبصورت استعمال ہو اہے۔ دو ایک اقتباسات دیکھیں:
’’
راؤ کی آنکھوں کے سامنے یک بارگی ہندوستانیوں کی ایک بھیڑ نظر آ ئی، جس میں زیادہ تر غریب، میلے کچیلے کپڑے پہنے ہوئے، لوگ تھے، جن کے چہروں پر دھوپ اور ہوا اور بھوک کے اثر سے جھریاں اور گڈھے پڑے ہوئے تھے جن کے ہاتھ مزدوری کر نے سے سخت اور مضبوط معلوم ہوتے تھے،جن کی آنکھوں میں محنت کی روشنی تھی۔ جن کے کندھے جھکے ہوئے تھے، جن کی ٹا نگیں ان کی میلی دھو تیوں سے لکٖڑی کی طرح نکلی ہو ئی تھیں ، ان لوگوں کی بھیڑ سڑک کے چوراہے پر، اس بھیڑ میں ملے جلے ہندوستانی طا لب علم، وہ غریب جن کو پچیس روپے مہینہ تک کی نوکری اب نہیں ملتی، دبلے پتلے، سینہ کمزور، چار دن سے داڑھی نہیں بنائی۔ چھوٹا انگریزی کوٹ اور دھوتی میلی سی، عینک، ننگے سر، یہ بھی سیکڑوں کی تعدادمیں اور اسی طبقہ کے بہت سے لوگ۔ سارا مجمع ہل رہا ہے ،سمندر کی سی لہریں، آگے بڑھنے کی کوشش، مگر راستہ رکا ہوا ہے ۔گورے بندوقیں لیے ہوئے سامنے کھڑے ہیں۔ مشین گنیں بھی ہیں، سنگینیں دھوپ میں چمک رہی ہیں۔ سپاہیوں کے پیچھے گھوڑے پر سوار انگریزی افسر، تیز دھوپ، گرمی، چہروں پر پسینے کے قطرے نمایاں ہیں۔ہوا بند۔ راؤ اس مجمع کے بیچ میں کھڑا ہواہے۔ آخر ہم آگے کیوں نہیں بڑھتے؟ یہاں تک پہنچ کر رک جانے سے کیا فائدہ؟ اتنی دور تک آئے اور اب رکے ہو ئے ہیں۔’’آگے بڑھو‘‘.....آگے بڑھو‘‘ کی آواز یک بار گی اس کے کانوں میں آئی اور اس کے سارے جسم میں خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی۔‘‘ (ص78-79(
حب الوطنی کے بھی کئی رنگ موجود ہیں۔ انگریز افسران کے منہ سے ہندوستان کے خلاف نکلنے والے جملے اور لندن میں ہندوستانی مزدوروں کی حالت زار ،وہاں موجود ہندوستانی طلبہ کے اندر حب الوطنی میں اضافے کا سبب بنتی ہے:
’’
اس کی نظر چند اور اشتہاروں پر پڑی جو تختوں پر چپکے ہوئے تھے’’بیکار مزدوروں کا ہائڈ پارک میں جلسہ‘‘،’’دس انگریزی سپاہیوں سے دس ہزار ہندوستانی نیٹوز کو فساد کر نے سے روکا ‘‘’’ایک گورا زخمی ہوا اور ۱۵ نیٹوز کی جان گئی۔‘‘ بڑے بڑے، کوئی ڈھائی فٹ لمبے اور ایک فٹ چوڑے کاغذوں پر یہ اشتہار سرخ حرفوں میں لکھے ہوئے تھے۔ اعظم کا خیال ایک لمحے کے لیے اپنے دوست کے انتظار سے ہٹ کر ہندوستان، وطن کی طرف گیا۔’’ یہ کمبخت انگریزی اخبار کتنی حقارت کے ساتھ ہم ہندوستانیوں کاذکر کرتے ہیں۔’’ نیٹوز‘‘ ہم نیٹوز ہیں اور یہ لال منہے بندر جو اس ملک میں رہتے ہیں یہ کون ہیں؟ ‘‘ ( ص 69(
ایک اور اقتباس جس میں دو انگریز افسران ہندوستان کے تعلق سے گفتگو کررہے ہیں:
’’
ٹام!جم نے آہستہ سے کہا،لیکن اگر ہم ہندوستان کو چھوڑ دیں تو پھر اس ملک کی کیا حا لت ہو گی، ہم اخباروں میں پڑھتے ہیں کہ وہاں ہندو اورمسلمان دو مذہب کے لوگ ہیں اور ان میں ہمیشہ آپس میں لڑا ئی ہواکرتی ہے۔ یہ دونوں ایک دوسرے کے جانی دشمن ہیں۔ اگر ہم ہندو ستان میں امن نہ قائم رکھیں اور اس ملک کو چھوڑ کر چلے آئیں تو ہندوستان میں بہت خون خرابے کا ڈر ہے۔‘‘
ناول میں حب الوطنی کے متعدد Shaddes ہیں۔ ہندوستان کی غلامی اور ہندوستانی عوام کی حالت زار کے اسباب و علل پر طنز کی صورت بہت بہت کچھ موجود ہے۔ یہ بھی ایک قسم کی حب الوطنی ہی ہے۔ یہ طنز پارے قاری کو ملک دشمن عناصر، ایسے افراد جو ملک میں رہتے ہوئے، ملک کا دم بھرتے ہوئے کس طرح ملک کو کھوکھلا کررہے ہیں۔ کس طرح ملک کو انگریزوں کے ہاتھوں فروخت کررہے ہیں؟ناول میں اس طرح کے افراد کی طرف اشارے، قاری کو ایسے عناصر سے نفرت اور بدلے میں وطن محبت کے جذبے کو ہوا دیتے ہیں:
’’
یہاں کے ہندوستانی طالب علم ہندوستان کے امیر طبقہ کے نمائندے ہیں اور یہ طبقہ ضرور ایسا ہے جس کے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ اب بحیثیت مجمو عی اس میں کوئی بھلائی باقی نہیں رہی۔ بڑے بڑے راجاؤں، نوا بوں اور رئیسوں کو لے لو۔ ان کی ذات سے کسی کو کیا فائدہ پہنچتا ہے؟ ان مفت خوروں کو اس بات کابھی تو سلیقہ نہیں کہ اپنی دو لت اپنے ہی اوپر ٹھکا نے سے خرچ کریں۔ یہ تو عیاشی بھی کرتے ہیں تو بد تمیزی کے ساتھ، بے ہودے پن سے، دماغ کی جگہ ان کے سر میں گو بر بھرا رہتا ہے۔ صرف ایک کام ان کو خوب آتا ہے’’ ملک فروشی‘‘ اور اس مبارک کام کے لیے یہ بڑی بڑی قربانیاں تک کرسکتے ہیں۔‘‘ (ص147(
یہی نہیں،ایسے طالب علم جو آئی سی ایس افسر بن کر ہندوستان میں اعلیٰ عہدے پر پہنچنا چاہتے ہیں ان پر اور ان جیسے ہزاروں افسران پر سجاد ظہیر نے جس طرح طنز کیا ہے وہ بھی حب الوطنی کا ہی ایک رنگ ہے:
’’
تم سب کے سب رئیس، بنئے، مہاجن، بیرسٹر، وکیل،ڈاکٹر، پروفیسر، انجینئر، سر کاری نوکر، جونک کی طرح ہو اور ہندوستان کے مزدوروں اور کسانوں کا خون پی کر زندہ رہتے ہو۔ ایسی حالت قیامت تک قائم نہیں رہے گی۔ کسی نہ کسی دن تو ہندوستان کے لاکھوں ،کروڑوں مصیبت زدہ انسان خواب سے چونکیں گے بس اسی دن تم سب کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو جائے گا۔‘‘ احسان نے اپنے کرخت پنجابی لہجے میں کہا۔‘‘ (ص121(
یوں غور سے مطالعہ کیا جائے تو بات صاف ہو جاتی ہے کہ ناولٹ’ لندن کی ایک رات، لندن میں مقیم ہندوستانی طالب علموں کی زندگی، زندگی کے فلسفوں ،وطن کی صورت حال، غلا می کی تصویر اور ہندوستانی طلبا کے عشق و معاشقے کا عکاس ہے۔ ناولٹ میں دو واضح رنگ شامل ہیں ۔ایک حب الوطنی کا اور دوسرا رو مان کا۔ ناولٹ کا کمزور پہلو یہ ہے کہ حب الوطنی کا رنگ کم ہو تے ہوتے ختم ہو جاتا ہے اور رو مان کا رنگ ایک نشہ بن کر آہستہ آہستہ ناول کی فضا پر حاوی ہو جاتا ہے۔ ایسا ہوجانا یا ناولٹ نگار کا ایسا کرنا،ناولٹ نگاری کے فن کے خلاف نہیں ہے، لیکن سجاد ظہیر جیسے ترقی پسند ناولٹ نگار سے ایسی توقع نہیں کی جاتی یا تو ناولٹ رو مانی ہی ہوتا تو پھر کسی کو نہ کو ئی امید ہوتی نہ شکایت۔ لیکن جب حب الوطنی کے جذبے کو ہوا دی تھی تو اسے رومان کے پردے ہی میں پروان چڑھاتے اور ناولٹ کا اختتام بہتر تو یہ ہو تا کہ شیلا اور نعیم، ہندوستان آکر، بنگال کی خاک چھانتے، ہیرن پال کو تلاش کرتے اور وطن کی غلام عوام کی ذہنیت میں قربانی، ایثار، انقلاب اور انگریزوں کے خلاف غم و غصے میں اضافہ کرتے۔ناولٹ کے اختتام پر میں ڈاکٹر وضاحت حسین رضوی کے نظریے کو کچھ حد تک درست ماننے لگاہوں کہ ناولٹ، بڑا نہیں بن پایا ،بس تاریخی اہمیت کے پیش نظر ہی مقبو لیت کے زینے چڑھتا رہا۔
بہرکیف ناولٹ کے مطالعے کے بعد یہ کہا جاسکتا ہے کہ’ لندن کی ایک رات، جہاں اردو کا ایک اہم ناولٹ ہے ،جس سے اردو ناولٹ نگاری میں اہم موڑ آتا ہے وہیں فنی اعتبار سے کمزور ناولٹ ہے مگر اتنا کمزور بھی نہیں کہ ہم اسے خراب ناولوں کے زمرے میں شمار کریں بلکہ کئی اعتبار سے یہ نئے پن کی شروعات بھی ہے۔ ناولٹ، کسی کردار کی مرکزیت کی روا یت سے انحراف، شعور کی رو تکنیک کا استعمال اور پھر حب الوطنی کے جذبے کے ساتھ رومان کی آمیزش کا عمدہ نمونہ پیش کرتاہے۔
***
Dr. Aslam Jamshedpuri
HOD, Urdu, CCS University, Meerut
aslamjamshedpuri@gmail.com
09456259850

 مضامین دیگر 


Comment Form



اردو فکشن

© 2017 Urdu Fiction. All right reserved.

Developed By: Aytis Cloud Solutions Pvt. Ltd.