نسوانی کرداروں کے ترجمان :منٹو اور بیدی




مُدَثّر رشیٖد
12 Aug, 2017 | Total Views: 332

   

پریم چند کے بعد جن افسانہ نگاروں نے اردو افسانے کو جلابخشی اور پروان چرھا یا ان میں سعادت حسن منٹو،راجندر سنگھ بیدی ،کرشن چندر اور عصمت چغتائی صف اول میں جگہ پاتے ہیں۔یہ محض چارافسانہ نگار نہیں بلکہ افسانوی ادب کے چار زوائے اور چار رجحانات ہیں ۔اردوافسانے نے اپنے آغاز سے لے کر اب تک کے سفر میں مذکورہ دور سے زیادہ امتیازی دور کبھی نہیں دیکھا اور بلاشبہ اس دور کو اردو افسانے کا عہدذریں کہہ سکتے ہیں۔ منٹو،بیدی ،کرشن چندراور عصمت چغتائی میں اگر صرف دو کا انتخاب کرنا پڑے تو ظاہر ہے کہ ہماری تنقیدی نظر منٹو اور بیدی کی جانب ہی اٹھے گی۔منٹو اور بیدی کے کارناموں کو گہری نظر سے دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ بعض مماثلوں کے باوجود انہوں نے پہنچان کے وسیلے اور ذرائع کیسے علاحدہ کیے ۔یہ بات طے ہے کی جب دو عہد ساز فن کار جو ہم عصر بھی ہو ں ان کے یہاں اگر یہ صورت حال پیدا ہوتی ہے تو اس کے مفصل تجزیہ سے بعض اہم تنقیدی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں ۔
منٹو پوری زندگی اپنی جنس زدگی کے لیے بدنام رہے۔مقدمات اور جیل کی بھی باری آئی لیکن اپنے مزاج اور انداز پیش کش میں وہ ذرہ برابر تبدیلی لانے کے رواداد نہیں ہوئے۔ہمارے یہاں منٹو کی تحریر یں جنسی لذت پسندی کے طور پر لی گئیں اور ایسا نہیں ہے کہ منٹو کو حکومت اور عدالت میں ذلیل کرنے کی ناکام کوشش نہ کی گئی بلکہ عوامی عدالت میں ادب اور فن کے بڑے بڑے رمز شناسوں نے بھی شاید مصلحت کے تحت انہیں ’’راندہ درگاہ‘‘ قرار دیا۔ 
راجندر سنگھ بیدی کے یہاں معاملہ بالکل مختلف ہے ۔اپنے افسانوی مزاج میں وہ اتنے introvertہیں کہ ان کے کہے کو ٹھنڈے دل سے اگر نہیں سمجھا گیا تو بات واضع نہیں ہو سکے گی ۔دراصل وہ بولتے نہیں بل بلاتے ہیں اس لیے اپنے افسانوں کے مرکزی اور عورتوں کے کردار کو اس کے پیچھے در پیچھے مسائل کے آئینے میں دکھانے کے باوجود بیدی پر کھبی جنس زدگی یا اس طرح کے الزامات نہیں لگ سکے جو منٹوکی ذات پر ہمیشہ لگے رہے۔بیدی اور منٹو کے افسانوں میں یہی فرق ہے ۔جنس کے موضوع اور مسائل پر دونوں نے لکھا لیکن بدنامی منٹو کے حصے میںآئی ۔بیدی کے معاملے میں تو کوئی اس بات کو جلدی قبول نہیں کر سکتا کہ انہوں نے جنس زدہ کہانیاں بھی لکھی ہیں ۔
اچھی کردار نگاری کی پہچان یہ ہے کہ اس سے فرد کی نفسیات پوری طرح سامنے آجائے۔ ایسے کردار مکمل ہوتے ہیں۔ متضاد فطرت کے کردار کہانی میں جان ڈالتے ہے۔ راجندر سنگھ بیدی کے نسوانی کردار کا جائز ہ لیں تو احساس ہوگا کہ ان کے کردار منطقی بنیادوں پر کم اور جسمانی ، حسیاتی یاجبلی سطح پر زیادہ ابھرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ وہ کسی واقعہ کے حسن اور جنسی پہلو کو ایک ساتھ برت ڈالتے ہیں ۔نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دونوں ہی پہلو ایک دوسرے کو روشن اور واضح کرتے ہیں۔ ان کے کردار محض کٹھ پتلی بننے کے بجائے انسانی زندگی کی پیچیدگیوں کے آئینہ دار ہوتے ہیں اور اپنی داخلی و خارجی احوال میں پڑھنے والوں کو شریک کرلیتے ہیں۔ان کے یہاں فرد کی اندرونی کشمکش اور حالات کی ستم ظریفی ایک ساتھ ملتی ہے۔ وہ بہت سے کرداروں کے خالق ہیں اور ہر کردار ایک ہی مذہب اور ایک ہی طبقے سے وابستہ ہے۔ وہ اس محبت کا بیج اپنے کرداروں میں ڈال دینا چاہتے ہیں جو خود ان کی خمیر ہے۔ان کے یہاں سندر لال جیسا سوشل ورکر بھی ہے، سیاسی ورکر مکھن سنگھ بھی اور بیکری کا کام کرنے والا سندوار سوہن بھی۔ نسوانی طور پر ان کے افسانوں میں عورت کے متعدد روپ ملتے ہیں ۔ ماں ، بہن ، بیٹی اوربیوی غرض عورت کو اس کی مختلف شکلوں اور جہتوں میں دکھایا ہے اور ان سب پر ان کی گرفت ہے۔ کہیں پر تصنع کا نام ونشان نہیں بلکہ متحرک اور جاندار ہیں۔ 
اس کے برعکس منٹو کے یہاں کوئی واضح سیاسی فلسفہ نظر نہیں آتا ۔ وہ سماج کے کوڑا کرکٹ سمجھنے والے انسان کے روشن باطن کو ہم سے روشناس کراتے ہیں۔ وہ انسانی نفسیات سے بلاشبہ مکمل طور پر واقف تھے۔ ان کے یہاں زیادہ تر ایسے کردار ملتے ہیں جنھیں کئی اعتبار سے اچھوتا سمجھا جاتا ہے ۔ ان میں طوائف ، دلال ، جنس زدہ مرد اور عورتیں سادیت اور ساکیت سے ماری ہوئی عورتیں اور مرد نظر آتے ہیں ۔ ان کی تحریروں میں فحاشی کی چھاپ لگی ہوتی ہے لیکن منٹو کے یہاں جنسی کردار ہی نہیں بلکہ سماج کے مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والے کردار بھی ملتے ہیں۔ ان میں زاہد، سرمایہ دار،فوجی،پاگل، مزدور ، کلرک ، ماسٹر اور فلمی دنیا سے متعلق لوگ بھی ہیں جنھیں ان کے حالات کے تحت منٹو نے اپنے مخصوص انداز میں ان کے کرداروں کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا۔ ان کی سب سے اہم خصوصیات ان کے کردار کا نفسیاتی مطالعہ ہے۔
بیدی نے افسانہ’ لاجونتی‘ میں لاجونتی کی صورت میں ہندوستانی عورت کے جذبات کی بڑی کامیاب اور حسین تصویر کشی کی ہے۔ لاجونتی ایک مغویہ عورت کی کہانی ہے۔ جو اغواشدہ عورتوں کو بسانے کی تحریک کے ایک سرگرم کارکن بابو سندر لال کی دھرم پتنی تھی۔ اس تحریک کے زیر اثر مغویہ عورتوں کو دوبارہ عزت اور وقار کے ساتھ اپنے گھر میں بسانے کی بات چلتی تھی۔ جب مغویہ عورتوں اور لڑکیوں کا تبادلہ ہونے لگا تو بہت سے والدین ، بھائی اور شوہروں نے انھیں پہچاننے سے انکار کیا۔ اس کے برعکس کچھ لوگ مغویہ عورتوں کو اپنے گھر لے جانے پر آمادہ ہوگئے۔ بساؤ کمیٹی کے سندر لال کو جب لاجونتی کے متعلق پتہ چلا تو اس کے اندر کشمکش پیدا ہوگئی لیکن وہ تحریک سے الگ نہ ہوا بلکہ اپنی اندرونی پہچان پر قابو پاکر لاجونتی کو قبول کرلیا۔ اس کے بعد لاجونتی سندرلال سے پرانے رویے کی خواہش مند تھی۔ وہ سندر لال کے حکم کی منتظر رہی لیکن اس کے شوہر نے اسے ’’ دیوی‘‘ کے پاکیزہ سنگھاسن پر بٹھایا ۔ اس طرح اس کی شخصیت بالکل ہی ٹوٹ پھوٹ کر رہ گئی ۔ ایک جگہ لاجونتی کے احساسات کو اس طرح پیش کرتے ہیں:
’’ لاجونتی تو من کی بات کہہ نہ سکی اور چپکی رہی اور اپنے بدن کی طرف دیکھتی رہی جو کہ بٹوارے کے بعد اب دیوی کا بدن ہو چکا تھا۔‘‘
( لاجونتی،راجندرسنگھ بیدی اور ان کے افسانے، ص ۳۲) 
بیدی کا بڑا وصف نفسیاتی مطالعہ اور کردار نگاری ہے۔ وہ کردار میں ڈوب جاتے ہیں اور کردار کو اپنی مرضی سے پھلنے پھولنے کا موقعہ عطا کرتے ہیں۔ ان کے ہر افسانے کے اختتام پر مرکزی کردار کا گہرا نقشہ قاری کے ذہن پر سبط ہوتا ہے۔ بیدی کے کردار اسی جیتی جاگتی دنیا کے لوگ ہیں ۔ انھوں نے اردو افسانے کو لاجونتی ، بھولا، ہولی، اندو، رانو اور ستونت رام جیسے کردار عطاکئے۔ بیدی کی کردار نگاری میں ان کا وسیع مشاہدہ ، گہری جذباتیت اور نفسیات پر گرفت ہی ان کے کرداروں کو ہمارے جیسا بنادیتی ہے۔
گرہن افسانے کا مرکزی کردار ہولی ہے۔ ہولی جو اپنے سسرال میں ساس ، سسر اور نند کے ظلم و ستم کا شکار ہے۔ وہ کئی بچوں کی ماں ہے پھر بھی شوہر کا دل نہیں جیت پائی ۔ اس کے انسان نما جانور شوہر’’ رسیلا‘‘ کی مار کھا کھا کر اپنی زندگی سے تنگ آئی ہے اور اپنے اوپر ظلم و ستم کے باعث وہ حسین و جمیل سوکھ کر تپکی مانند ہوگئی ہے۔ اس کا شوہر مزدوروں کے ایک طبقے کی نمائندگی کرتا ہے ۔ وہ اپنی بیوی سے اس طرح مخاطب ہوتا ہے:
’’ رسیلے نے ایک پر ہوس نگاہ سے ہولی کی طرف دیکھا ’ میں پوچھتا ہوں بھلا اتنی جلدی کاہے کی ہے۔‘ 
جلدی کیسی؟
رسیلا پیٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا۔
ایسی ۔۔۔تم بھی تو کتیا ہو۔
ہولی سہم کر بولی۔تو اس میں میر اکیا قصور‘‘
بیدی نے ہولی کی ستم ظریفی کا احوال یوں بیان کیا ہے:
’’ ہولی نے ساڑھی کے کاٹھوں کو چار بچے دئے اور پانچواں چند ہی مہینو ں میں جننے والی تھی۔ اس کی آنکھوں کے گرد گہرے سیاہ ہلکے پڑنے لگے۔گالوں کی ہڈیا ں ابھر آئی اور گوشت ان میں چپک گیا۔ وہ ہولی جیسے میاپیار سے چاند رانی کہہ کر پکارتی تھی اور جس کی صحت اور سندرتا کا سیلا خاصہ تھاگرے ہوئے پتے کی طرح زرد اور پژمردہ ہوچکی تھی۔ ‘‘
( گرہن ، بیدی، مکتبہ اردو لاہور ۔ ص ۔۱۰)
گرہن میں بیدی نے عورت خاص کر مشرقی عورت کی فطری معصومیت سماج میں مرد کی بالادستی کا ہونا اور عورت کو اپنی ہوس کی چیز سمجھنے کی تصویر کشی کی ہے۔ 
بیدی نے گرم کوٹ میں بھی بڑے فنکارانہ طریقے سے ایک کلرک کی زندگی کی مجبوریاں ، خواہشات اور پھر گھر سے آفس تک بیوی بچوں کی یاد سمیٹتے انسان کی سچی تصویر پیش کی ہے۔ بیدی کا ماہر قلم کہانی میں جان ڈالتا ہے۔ اس کے کردار گوشت پوست کے نظر آنے لگتے ہیں ۔ گرم کوٹ کا کلرک ہماری شہری زندگی کا نمائندہ ہے۔ اس میں بیدی نے بڑی خوبصورتی سے ایک وسط درجے کے گھر کے مسائل کا احاطہ کیا ہے۔ کلرک ، اس کی بیوی شمی اور بیٹی پشپا منی کی خواہشات اور آرزؤں کا عمدہ نقشہ کھینچا ہے۔ 
افسانہ ’’کوکھ جلی‘‘ میں بیدی نے عورت کو ایک ماں کے روپ میں پیش کیا ہے جو اپنے بیٹے کو سماجی برائیوں اور آوارہ پن سے دور رکھنے کی انتھک کوشش کرتی ہے کہ اس کا بیٹا شرافت کی زندگی بسر کرعزت دار شہری بن سکے۔ ماں کی اس خوبی کو بید ی یوں بیان کرتے ہیں:
’’ دنیا میں کوئی عورت ماں کے سوا نہیں ۔ اگر بیوی بھی کبھی ماں ہوتی ہے تو بیٹی بھی ماں ۔۔۔ دنیا میں ماں اور بیٹے کے سوا کچھ اور نہیں ۔ عورت ماں ہے اور مرد بیٹا۔ ماں کھلاتی ہے اور بیٹا کھاتا ہے۔ ماں خالق ہے اور بیٹا تخلیق۔‘‘
( کوکھ جلی۔ مکتبہ جامعہ لیمٹیڈ نئی دہلی، ۲۰۱۱، ص ۔۴۲۔۴۳)
افسانہ ’’ اپنے دکھ مجھے دیدو‘‘ میں بیدی نے عورت کی وہ شان اور وہ خلوص بیان کیا ہے جس میں وہ اپنا سب کچھ قربان کردیتی ہے۔ عورت جب محبت پر آجائے تو وہ شوہر کے تمام رنج و غم اور مشکل حالات سے دوچار ہونے کے بجائے شانہ بہ شانہ چلنے پر آمادہ ہوجاتی ہے۔ اپنے دکھ مجھے دیدو میں عورت کے اسی خلوص کو ابھارا گیا ہے جس میں اندو اپنے شوہر مدن سے شادی کی پہلی ہی رات صرف اور صرف اس کے دکھ مانگتی ہے:
’’ میں اب تمہاری ہوں۔ اپنے بدلے میں تم سے ایک چیز مانگتی ہوں۔۔۔
۔۔۔’’ تم اپنے دکھ مجھے دے دو۔‘‘
( اپنے دکھ مجھے دے دو۔ راجندرسنگھ بیدی اور ان کے افسانے، ۔ص، ۱۷۴)
منٹو کے افسانوں میں نفسیاتی کشمکش مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ ان کے یہاں نفسیاتی عوامل حقیقتتاً جنسی عوامل کا نتیجہ ہیں۔ منٹو کی خوبی یہ ہے کہ جو باتیں ان کے افسانوں میں کانٹے کی طرح چبھتی ہیں ان میں بھی زیدگی کا کوئی نہ کوئی رخ اور اس کی اصلیت کا کوئی نہ کوئی پہلو ہوتا ہے۔زندگی کے مختلف حالات اور حقایق تک ان کی نظریں بڑی بے باکی اور درائی کے ساتھ پہنچتی ہیں اور ان کو پوری طرح نمایاں کر دیتا ہے۔منٹو اس اعتبار سے اپنا ثانی نہیں رکھتا۔ اس نے زندگی کو بہت قریب سے دیکھا اور اس کے رنگا رنگ پہلوؤں کو شدت سے محسوس کیا جو ان کے لکھے افسانوں میں نمایاں طور پر نظر آتے ہیں۔
منٹو نے اپنے افسانوں میں عورت کی سماجی اور نجی زندگی کے ہر پہلو کو پیش کیا۔ انہوں نے اپنے افسانوں میں محض عورت کی جذباتیت ارور رومانیت کو ہی بیان نہیں کیا بلکہ اس کی زندگی کے بڑے ہی تلخ پہلوؤں کی طرف بھی متوجہ ہوئے۔ان کی خاصیت یہ ہے کہ وہ سماج کے کوڑے کرکٹ سمجھے جانے والے انسان کے روشن باطن کو ہم سے روشناس کراتے ہیں۔منٹو اپنی حقیقت نگاری کے بارے میں ایک جگہ لکھتے ہیں:
’’وہ چکی پیسنے والی عورت جو دن بھر کام کرتی ہے اور رات کو اطمنان سے سو جاتی ہے میری ہیروئن نہیں بن سکتی، مگر میری ہیروئن چکلے کی ایک ٹکھیائی ہو سکتی ہے جو رات کو جاگتی ہیاور دن کو سوتے میں کبھی کبھی یہ ڈراونا خواب دیکھ کر اُٹھ بیٹھتی ہے کہ بڑھاپا اس کے دروازے پر دستک دینے آ رہا ہے۔‘‘
(لذتِ سنگ،ص۱۷)
منٹو کی خوبی یہ ہے کہ وہ اپنے نسوانی کرداروں کو حقیقت کا وہ جامہ پہناتے ہیں جن سے ہمارے روزمرہ زندگی کے پس پردہ ساری سچائی پنہا ہو جاتی ہے۔ ان کے افسانے ٹھنڈا گوشت، ہتک، کھول دو، بو، موزیل، پھندنے، سڑک کے کنارے، کالی شلوار وغیرہ فنی معراج کا عکس و آئینہ ہیں۔ ان کے یہاں طوائف کوئی بالکل ہی بری عورت نہیں ہوتی۔ سوگندی،شاردا، جانکی اور زینت پیشہ ورانہ طوائف تھیں لیکن ان میں کسی کو بھی اپنے پیشے سے دلچسپی نہیں تھی ان کو بھی کسی ایک کی ہو جانے کی خواہش دلوں میں مچلتی تھی لیکن حالات نے انہیں طوائف بنے پر مجبور کر دیا۔
منٹو کا افسانہ ہتک ایسی ہی محبت کی بھوکی طوایف کی کہانی ہے۔سوگندی سے جو بھی گاہک ہمدردی جتاتا تھاسوگندھی کے دل میں اس کے لیے جگہ بن جاتی تھی۔لیکن افسانے کا المیہ یہ ہے کہ سوگندھی کو کسی کا سچاپیار نصیب نہیں ہوتا اس کے زندگی میں کئی مرد آئے اور گئے لیکن سچی محبت کوئی نہ دے سکا بلکہ مرد اس کی اس کمزوری سے فائدہ اٹھاتے تھے جس کے سبب وہ ہمیشہ طوایف ہی بنی۔سوگندی جب ہر مصنوعی عاشق سے ٹھکرائی گئی وہ آدمی سے زیادہ اپنے کتے میں انسانیت دیکھتی ہے۔جب اسے انسان کتے سے بد تر معلوم ہوتا ہے تو وہ کتے سے لپٹ کر سو جاتی ہے۔
’’سوگندھی میں طوائف کی تمام خصوصیات موجود تھیں ۔لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ وہ جذباتی عورت بھی تھی ۔ہمشہ جذبا ت کی دھارے میں بہہ جایا کرتی اور فقط ایک پیاسی عورت رہ جایا کرتی تھی۔ہر روز اس کا پرانا یا نیا ملاقاتی اس سے کہا کرتا تھا ’سوگندھی میں تجھ سے پریم کرتا ہوں‘ اور سوگندھی یہ جان کر بھی کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے مو م ہوجاتی تھی۔۔۔ ‘‘
(سعادت حسن منٹو ،ص ۱۷۴)
منٹو اس افسانہ میں حقیقتوں کا ہو بہو نقشہ کھنچتا ہے۔جس میں ایک عورت کو طوائف بنے پر اسی معاشرے نے مجبور کیا ہے۔منٹو کو معاشرے میں جو بھی خرایباں اور بے اعتدالیاں نظر آئیں اسے انہوں نے کھلے لفظوں میں بیان کیا۔
افسانہ’جانکی‘میں جانکی بھی ایک طوائف ہے لیکن وہ پیشہ کرنے کے بجائے فلمی ایکٹرس بننے کی خواہش مند ہے۔ اس کے دل میں بھی عورت کی فطری ممتا ہے لیکن محبت کی تلاش اسے در در بھٹکاتی ہے۔ جانکی کے کردار میں جنسی پہلو بھی ہے نفسیاتی خواہش بھی اور اپنی فطری ممتا کی پابندی بھی۔ لیکن اس کی ممتا بھری فطرت اس کی نفسیات پر حاوی ہے اسی لیے وہ ’عزیز‘ کو چھوڑ کر’سعید‘ کے پاس اس وقت جاتی ہے جب وہ بیمار تھا۔ جانکی ایک ایسی نسوانی کردار ہے جو دوسروں کو مسرت دینے میں ہی خوشی محسوس کرتی ہے۔
افسانہ کھول دو میں منٹو نے پوری انسانیت اور نسوانیت کا دردپیش کیا ہے۔ سکینہ اور اس کے والد کا حال پڑھنے کے بعد انسان درد سے کرہ اٹھتا ہے۔ حیوانیت اور بے رحمی سے بھرے اس پورے واقعے سے شہوانیت نہیں بلکہ انسانیت جاگ اٹھتی ہے۔
افسانہ’’ کالی شلوار‘‘ کی ’سلطانہ‘ معصوم ذہن و دل معصوم جذباتو احساسات رکھتی ہے جو کسی بھی اچھی عورت کے سینے میں ہو سکتے ہیں۔ وہیں افسانہ ’’خوشیاں‘‘ کا موضوع بھی زندگی کے بعض ایسے پہلوؤں کی ترجمانی کرتا ہے جو حقیقت پر مبنی ہے۔ افسانے میں ایک ایسے دلال کو دکھایا گیا ہے جو ایک عرصے تک ’کانتا‘ کی دلالی کرنے کے بعد خود اس کو اپنے حوس کا شکار بناتا ہے۔ یہاں بھی عورت کی مظلومیت صاف طور پر نظر آتی ہے۔
منٹو کے ان مظلوم عورتوں میں صرف طوائف کا چہرا ہی نمایاں نہیں بلکہ اور بھی کئی قابل قدر صورتیں نظر آتی ہیں جن میں افسانہ ،فوبھابائی ،میں ایک ممتا بھری عورت کا کردار نظر آتا ہے جب کہ افسانہ’’ممی‘‘میں ماں کا روپ نکھر کر سامنے آتا ہے ۔غرض منٹو کے نسوانی کردار بھیڑ میں بھی صاف پہچانے جاتے ہیں ۔ان کی فنکارنہ عظمت یہ ہے کہ وہ ہر بد کردار سمجھی جانے والی عورت کے اندر خوبی اور عظمت کا پہلو تلاش کر لیتے ہیں ۔اخلاقی اور سماجی بکھراو اور عورتوں کے ساتھ وحشیانہ برتا ومنٹو کے لیے برداشت کرنا مشکل تھا اس لیے انھوں نے سماج کی ایک ایسی تصویر کشی پیش کی جو حقیقی تو تھی ساتھ ہی ناقابل برداشت بھی تھی۔
منٹو نے اپنے افسانوں میں عورتوں کے استحصال اور ان کی جنسی جذبات اور محرومیوں کو بڑی بے باکی کے ساتھ اپنے کئی افسانوں میں بیان کیا ہے جو صرف افسانے نہیں بلکہ اس وقت کے فرسودہ نظام کی تصویریں بھی ہیں۔ 

 مضامین دیگر 


Comment Form



اردو فکشن

© 2017 Urdu Fiction. All right reserved.

Developed By: Aytis Cloud Solutions Pvt. Ltd.