پریم ناتھ پردیسیؔ کا افسانوی فن:بحوالہ جموں و کشمیر




مدثر رشید
20 Aug, 2017 | Total Views: 379

   

ریاست جموں و کشمیر میں اردو زبان کو ۱۸۸۹ء میں مہاراجہ پرتاپ سنگھ کے دور اقتدار میں سرکاری زبان کا رتبہ حاصل ہوتے ہی یہ زبان وہاں کے تہذیب و تمدن،ثقافت و ادب کے قریب ہو گئی۔دیکھتے ہی دیکھتے کئی ادیب اس زبان کی وساطت سے اپنے خیالات کا اظہار پہلے شعری اور پھر نثری اصناف میں کرنے لگے۔یوں جموں و کشمیر میں اردو ادب کا آغاز ہوا، اور تب سے لے کر آج تک ریاست کے کئی اُدبا اسی زبان میں مسلسل لکھ کر اردو ادب کی خدمت کرتے آرہے ہیں۔
جموں و کشمیر میں اردو افسانے کی شروعات ۱۹۳۱ء کے آس پاس ہوئی۔ اگرچہ یہ سوال ابھی بحث طلب ہے کہ ریاست میں اردو کا پہلا افسانہ نگار کون ہے جس میں محققین کی مختلف آراء ہیں۔جہاں ’عبدلالقادر سروری‘ ؔ پریم ناتھ پردیسی ؔ کو اردو کا پہلا افسانہ نگار خیال کرتے ہیں وہیں ’ڈاکٹر برج پریمی ‘ نے منشی محمد دین فوقؔ کو فوقیت دی، لیکن یہ رائے سب کی یکساں ہے کہ فنی نقطۂ نظر سے پریم ناتھ پردیسیؔ ہی جموں و کشمیر کے پہلے افسانہ نگار شمارکئے جا سکتے ہیں۔
پردیسی نے اگرچہ ۱۹۲۴ء سے ہی اپنے خیالات کو لفظوں کا جامہ پہنانا شروع کیا اور ابتدا میں شاعری کی طرف متوجہ ہو کر رونقؔ تخلص اختیار کیا اور شعر کہنے لگے۔ لیکن بہت جلد یہ میدان ترک کر کے نثر کی طرف مائل ہو گئے۔ وہ شروعات میں ادبِ لطیف اور رومانی کہانیاں لکھنے لگے۔کچھ مدت بعد انہیں اپنی سوچ میں بدلاؤکی ضرورت محسوس ہوئی کیونکہ ایک طرف ہندوستان میں منشی پریم چند اور’ ’انگارے‘‘ گروپ کے قلمکاروں کا بول بالا ہو رہا تھا اور دوسری طرف ریاست جموں و کشمیرمیں قومی تحریک کاآغاز ہو کر سیاسی بیداری نے ایک نئی کروٹ بدلی تھی ۔پریم ناتھ نے اپنی سوچ کے ساتھ ساتھ ا ب اپنا تخلص بھی بدل کر رونق ؔ سے پردیسیؔ کر لیا۔ وہ محسوس کرنے لگے کہ ادبِ لطیف اور رومانی تخلیقات میں اُس نے ابھی تک صرف اپنا وقت ضائع کیا ۔ یوں وہ اب ادب برائے زندگی کے لیے سرمایہ دارانہ اور جاگیر دارانہ نظام کے خلاف اپنے مضامین لکھنے لگے ۔ وہ خود اس بات کا اعتراف یوں کرتے ہیں۔
’’۱۹۳۲ء سے ۱۹۳۸ء تک جو کچھ میں نے لکھا اس پر میں فخر نہیں کر سکتا۔ کیوں کہ اس وقت تک مجھے احساس ہی نہیں تھا کہ ایک افسانہ نگار کی حیثیت سے مجھ پر اپنے وطنِ عزیز کے کیا فرائض ہیں۔۔۔۔مجھے محسوس ہواکہ اب بھی اگرمیں اس نظریہ کا ساتھ نہ دوں تو میری افسانہ نگاری بے کار ہے اور آنے والا مورخ خدا جانے کن ناموں سے مجھے یاد کرے گا‘‘ ۱؂
نئے شعور کے طلوع ہونے کے ساتھ پردیسی بھی رومانی انداز سے ہٹ کر کشمیر اور کشمیر کے محنت کش عوام اور خاص طور پر نچلے طبقے کے لوگوں کی ترجمانی کرنے لگے۔ یہ وہ دور تھاجب ڈوگرہ شاہی کے خلاف سیاسی رہنما عوام کے اندر بیداری،حوصلہ اور ہمت کے ساتھ مقابلہ کرنے کی طاقت پیدا کر رہے تھے۔ جس کا اثربلواسطہ طور پردیسی پر بھی پڑا اور وہ اسی صورت حال سے وابسطہ موضوعات کو قلم بند کرنے لگے۔اُن کا افسانوی مجموعہ ’’بہتے چراغ‘‘اسی دور کے کشمیر کی عکاسی کرتا ہے۔پروفیسر حامدی کاشمیری رقمطراز ہیں؛ 
’’پردیسی کی نظر اردو افسانوی ادب اور اس کے اسالیب و موضوعات پر تھی۔ انہوں نے اپنے ذہنی رویّے میں تبدیلی پیدا کی اور اہلِ کشمیر کے گھریلو، سماجی ، سیاسی اور نفسیاتی مسائل کو اپنے افسانوں کا موضوع بنایا ہے۔‘‘ ۲؂
ریاست جموں و کشمیر کے ابتدائی اردو افسانوی دور کے دوران جہاں آزادی سے پہلے شمالی ہندوستان میں ۱۹۳۹ء کو ’’حلقہء اربابِ ذوق‘‘ کا وجود عمل میں آیا وہیں پردیسی نے بھی ایک وسیع ترادبی دنیا میں آکر اپنے چند دوستوں کے ساتھ مل کر ریاست میں’’ حلقہء اربابِ ذوق ‘‘کی ادبی انجمن تشکیل دی، لیکن اس انجمن کا لاہور میں بنی ہوئی ’’حلقہء اربابِ ذوق‘‘ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا۔ اسی زمانے میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ’’ شام و سحر‘‘ شائع ہوا۔اس افسانوی مجموعے میں’راجو کی ڈولی ، پارسل ، سنتوش ، سلاخوں کے پیچھے ، ماں کا پیار ، جے کارا ، سچا دوست وغیرہ افسانے شامل ہیں۔اگرچہ پردیسی کا پہلا افسانوی مجموعہ ہونے کی وجہ سے اس میں کہیں کہیں فنی اورہےئتی خامیوں کے علاوہ رومان اور جذبات کی کثرت نظر آتی ہے پھر بھی یہ مجموعہ ریاست کے ابتدائی افسانوی سفر میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔
’’حلقہء ارباب ذوق‘‘ کے کمزور پڑنے کے بعدپردیسیؔ نے رامانند ساگرؔ کے ساتھ مل کر’’ انجمن ترقی پسند مصنفین‘ ‘کی ایک شاخ سرینگر میں کھولی،جس میں غیر ریاستی ادیب بھی شرکت کرنے لگے۔ جن میں راجندر سنگھ بیدی،بلراج ساہنی، خواجہ احمد عباس،دیوندر ستیارتھی بھی شامل تھے۔جہاں’’ حلقہء اربابِ ذوق‘‘ کے دوران پردیسیؔ نے اپنا پہلاافسانوی مجموعہ شائع کیا وہیں’’انجمن ترقی پسند مصنفین‘‘ کے دور میں ان کادوسرا افسانوی مجموعہ ’’دنیا ہماری‘‘بھی منظر عام پر آیا۔اس افسانوی مجموعہ کی کہانیاں پہلے مجموعے سے بالکل الگ تھیں۔ جہاں پہلے افسانوی مجموعے میں کہیں رومانیت کا عکس نظر آتا تھا تو کہیں ٹیگور کا رنگ جھلکتا تھا وہیں دوسرے افسانوی مجموعے میں تکنیک اور ہیئت کے اعتبار سے کافی زیب و زینت تھی ۔جسمیں نہ کوئی ہیجان اورنہ کوئی تلملاہٹ نظر آتی ہے۔ ’’ دنیا ہماری ‘‘ کے افسانوں میں اگر چہ موضوع جُداگانہ ہیں لیکن جو چیز یکساں پائی جاتی ہے وہ ہے انسانی نفسیات کا ادراک ۔ پردیسی ؔ کا اس مجموعے میں اندازِ بیاں بالکل سادہ اور رواں ہے جہاں وہ کم الفاظ میں اپنے مقصد کو فنی پیرائے میں برتنے کی بھرپورکوشش کرتے ہیں،وہیں پلاٹ ، مقصد اور دلچسپی کے عناصر کو سمیٹ کر ایک نقطے پرلے آتے ہیں۔راجندر سنگھ بیدی ان کے افسانوی مجموعے ’’دنیا ہماری‘‘ کے پیش لفظ میں یوں تجزیہ کرتے ہیں:
’’اس مجموعے کی کہانیاں سادہ ہیں اور اپنی سادگی اور معصومیت کی بنا پر ہمیں ٹالسٹائی کی یاد دلاتی ہیں ۔ ان میں نہ صرف عنصری عواطف اور نفسِ انسانی کی بنیادی کیفیات کی انقاب کشائی کی گئی ہے بلکہ تفسیر کے ساتھ تنقید کا پہلو بھی نماناں ہے۔‘‘۳؂
پردیسی نے اپنے افسانوں میں ریاست کی صحیح عکاسی کر کے کشمیر کو اصلی رنگ و روپ میں پیش کیا ۔ وہ کشمیر کی خوبصورتی ہی نہیں بلکہ بد صورتی کو بھی منظر عام پر لاتے ہیں۔وہ کشمیر کے تپتے ہوئے دوذخ کدوں کی تصویر کشی کرتے ہیں۔غربت، بھوک ، افلاس ، پسماندگی، معاشی و اقتصادی بدحالی، بے کاری، بیگاری کی لعنت کو وہ اپنے افسانوں میں حقیقی طور پر پیش کرتے ہیں اور اس کے پیچھے چھپے وجوہات کی بھی کہیں دبے پاؤں تو کہیں کھلے عام نشاندہی کرتے ہیں۔یہ عکاسی پردیسی کے قلم سے شروع ہوئی اور پھر ان کے بعد کئی کشمیری مصنفوں نے یہی رجحان اپنایا جن میں پریم ناتھ در، برج پریمی، ورندر پٹواری قابل ذکر ہیں۔ پردیسی کے’ٹینکہ بٹنی‘، ’ان کوٹ‘،’اگلے سال‘ اور’ دیوتا‘جیسے افسانے کشمیر کے اس صورت حال کی خوب عکاسی کرتے ہیں۔وادی کے حالات کے بارے میں وہ خود یوں رقمطراز ہیں:
’’کشمیر کا ہر باشندہ بذات خود ایک افسانہ ہے جس کی طرف آج تک کسی نے توجہ نہ دی۔ یہاں کا سب سے بڑا مسلہ غلامی ہے، افلاس ہے، شخصی راج ہے۔‘‘ ۴؂
پریم ناتھ پردیسی کے انتقال کے بعدان کا ایک اور مجموعہ’’بہتے چراغ‘‘ شائع ہوا۔یہ دراصل ان کے غیر مطبوعہ افسانوں کا انتخاب ہے جس میں ’خطبہ،کاغذ کا جھنڈا ،تواری، جہاں سرحدملتی ہے ،بہتے چراغ، کاری گر، دھول، اگلے سال، سلیمان ، جھنڈیاں، دھواں‘ وغیرہ افسانے شامل ہیں۔یہ افسانے ایک حساس اورباشعور کہانی کار کا احساس دلاتے ہیں۔جس طرح پریم چند اپنے آخری ایام میں ہندوستان کے کسانوں کو زبان بخشتے ہیں اسی طرح پردیسی بھی اس مجموعے کی کہانیوں میں کشمیر کی اصلی روح کو منظر عام پر لاتے ہیں اور فنکارانہ ہنر مندی کے ساتھ کشمیریوں کے مصائب اور مسائل ان کے اصلی مزاج اور تیور ، سادگی اور شرافت ، عادات اور خصائل ، ظلمت اور احساس، بغاوت کی عکاسی پورے خلوص اور دیانت داری سے کرتے ہیں۔ وہ کشمیر کے حالات کو زیر نظر رکھ کے وہاں کی معاشرت اور اخلاقی قدروں کے علاوہ ریاست کی غلامانہ ذہنیت کی ترجمانی کرتے ہیں۔چونکہ وہ ایک سرکاری کرمچاری تھے اس لیے ان کے قلم سے نکلے ان بغاوت کے شعلوں سے انہیں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا لہذا وہ پردیسی کے بجائے کئی اور ناموں جیسے بالک ؔ رام،رونق کاشمیریؔ ،پریم ناتھ رونقؔ ناموں سے بھی لکھتے گئے ۔ اس دور کے افسانون نے قارئین کے ذہن میں اک الگ اور نئی چھاپ چھوڑی ۔بقولِ ڈاکٹر برج پریمی:
’’ریاست میں اس سے پہلے اردو کا مختصر افسانہ اس قدر منجھی ہوئی صورت میں نظر نہیں آتا۔ پردیسی نے کشمیر کو اپنے افسانوں میں پہلی بار پیش کیااور ہزاروں لاکھوں کشمیریوں کوزبان بخشی۔‘‘ ۵؂
کشمیریت پردیسی کے روم روم میں رچی بسی ہے۔ یہ کہنا بیجا نہ ہوگا کہ ان کے افسانے کشمیر کی ایک بولتی تصویر ہے۔ان کے افسانوں کے اکثر کردارکشمیر کے زندہ کردار ہیں جو چاروں پہر ان کے آس پاس زندگی بسر کر تے نظر آتے ہیں، کبھی ستم رسیدہ حالات میں بھی خاموش رہتے ہیں تو کبھی معمولی سی خوشی سے چونک اُٹھتے ہیں۔ان کرداروں کی ہر عمل مصنف کی داخلیت میں چھپے خواہشات اور درد و کرب کا آئینہ ہے ۔ چاہے وہ’ کیچڑ کا دیوتا‘کا ’’ممسو‘‘ یا ’’نندی‘‘ہو یا پھر دھول کی ’’مہتہ بی‘‘۔ وہ اپنے کرداروں کو اپنے معاشرتی پس منظر میں پورے نفسیاتی عوامل کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ خواہ وہ ’’امام دین ‘‘ ہو یا ’’جاوید‘‘،’’دشومبر‘‘ ہو یا ’’گنگا دھر‘‘، ’’ٹینکہ بٹنی‘‘ ہو یا ’’امام صاحب‘‘۔ وہ ان کرداروں کی نمائندگی کے ساتھ ان کی بنتی بگڑتی تقدیروں کا مشاہدہ بھی کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے یہاں رنگا رنگ مسائل اور کردار ملتے ہیں ۔پروفیسر حامدی کاشمیری رقمطراز ہیں:
’’پردیسی نے کشمیریت کو داخلی سطح پر محسوس کر کے اس کی مصوری کی ہے ۔ ان کے افسانوں کے کرداروں کے رویے ، محسوسات اور عقائد پردیسی کی شخصیت کے مختلف پہلو کو روشن کرتے ہیں۔‘‘ ۶؂
پردیسی کے افسانہ’’ دھول‘‘ سے ایک اقتباس:
’’اُس نے کئی بار پس انداز کرنے کا مصمم ارادہ کیا۔ جوں ہی تھیلی میں تین روپے سے زیادہ اکنّیاں اور دونّیاں جمع ہوتیں ‘یک لخت اس کا خاوند بستر پر دراز ہو جاتا۔ دوا داروُ کے لیے تھیلی بھی خالی ہو جاتی اور میر بحری کے مشہور سودخوار پنڈت سے بھی آٹھ دس روپے قرض پر لیے جاتے۔ ایسے موقعوں پر اس نے تھیلی کو کبھی نہیں چھپایا۔‘‘ ۷؂
پردیسی نے جاگیر شاہی کی چکی پیسنے والے کشمیریوں کے رنج وغم اور جستجو وآرزو کی تصویر کشی کرتے ہوئے انسان کے ازلی نفسیاتی پیچ وخم ،فریب ،شکستگی اور اجنبیت کی مصوری کی ہے ان کے یہاں انسان کشمیری بن کر ضرور سامنے آتا ہے جو کشمیری لب و لہجہ رکھتا ہے۔اس کی وضع، لباس، نفسیات، عقائد، نظریات ، اخلاقی اور مذہبی رجحانات کشمیری ہیں ۔وہ کشمیر کی تنگ وتاریخ گلی کوچوں میں زندگی کے دن گزارتا ہے۔ خداترسی، بھائی چارے،ایمانداری ،بے ایمانی،غیرت، بزدلی، روا داری، ایثار، روحانیت اور وطنیت کے متنوع اور متضاد جذبات سے کشمیری نظر آتا ہے لیکن افسانہ کے اختتام پر محسوس ہوتا ہے کہ یہ محض ایک کشمیری مزدور ،کاری گر ،کسان ، مولوی صاحب ، بانجھ یا بیوہ عورت کی کہانی نہیں بلکہ ہر انسان کی واردات ہے۔
پردیسی شعوری تجسُس سے کسی کشمیری موضوع کا انتخاب نہیں کرتے بلکہ کشمیریت ان کے باطن سے نمود ہو کر ایک تخلیقی ہیولے میں تبدیل ہوتی ہے۔کشمیرُ ان کے لئے دُکھی،مظلوم اور پسماندہ انسانیت کی علامت ہے۔ اہلِ کشمیر صدیوں کی غلامی افلاس اور استحصال کے نتیجے میں احساسِ کمتری ، کاہلی اور بے عملی کے شکار ہوئے ہیں لیکن ان کے اندر ایک انا پرست ،خودمختار اور غصیل انسان زندہ ہے۔’’کاری گر‘‘میں ایک ایسے بدیشی سیاح جو نفسیات کا معلم ہے لکڑی پر کھدائی کا کام کرنے والے کاری گر’’ امام دین‘‘ سے ملتا ہے اور اس کی فر مائش پر سنگار کیس پر بنائی ہوئی تصویر کو دیکھتا ہے تو مسرت سے جھوم اٹھتا ہے ۔ سنگار کیس پر ایک اژدہے کی تصویر کھودی ہوئی ہے جو منھ کھولے کسی چیز کے پیچھے بھاگا جا رہا ہے لیکن دوسرے ہی لمحے میں وہ محسوس کرتا ہے :
’’ اژدہے کی آنکھو ں میں نفرت ،کشمکش اور انتقام کی آگ دہک رہی ہے اور وہ جیسے سارے کرۂ ارض کو ڈسنے ،اپنے ذہن سے خاکستر کرنے کے لئے بھاگا جا رہا ہے ۔۔۔۔لمحہ بہ لمحہ اسے شک ہوتا ہے کہ یہ اژدہا نہیں،یہی کانپتا ہوا امام دین ہے ۔‘‘
’’کیچڑ کا دیوتا ‘‘میں غریبوں پر ہوئے مظالم کو بڑی خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے جس میں فیکٹری کا مالک مزدور ’’ممسو ‘‘کو شراب پینے اور پکوڑے کھانے کے جرم میں بے دردی سے پیٹتا ہے، یہاں تک کہ اس کے منھ سے خون اُگلتا ہے ۔ممسو کی بیوی اور بچے منت سماجت کر کے ممسو کو چھڑا کر لے جا تے ہیں حلانکہ مالک خود روز عیاشیاں کرتارہتا ہے۔
’’مالک : خاموش کیوں ہو ،تم نے شراب بھی پی تھی ۔
ممسو خاموشی اختیار کرتا ہے اور مالک اس کے منھ پر طمانچے 
اور مکے مارنے لگتا ہے اور پھر لاٹھی برسانے لگتا ہے۔ 
مالک: بول حرام زادے تو نے شراب پی لی تھی ۔
نندی : اب دیا کرو بابو جی ۔۔۔۔بھگون سوگندھ اب نہیں پئے گا۔‘‘
پردیسی کے افسانوں میں کشمیر اور کشمیریت کے آثار جگہ جگہ نظر آتے ہیں ۔وہ اپنے افسانوں میں وادی کے آبشاروں ،فلک بوس پہاڑوں ،برف سے ڈھکی چوٹیوں ،جھومتے ہوئے سفیدوں ،چناروں، بیرونِ ریاست سے آنے والے سیاحوں، دیہاتی زندگی،کشمیری لباس اور رہن سہن کی حقیقی منظر کشی کرتا ہے۔اگرچہ کرداروں کے نام فرضی ہیں لیکن جگہوں کے نام بالکل حقیقی ہیں ۔جیسے جھیلِ ڈل ،نشاط باغ، ڈلگیٹ، گلمرگ، پری محل، بلوارڈ، گگری بل، لال چوک وغیرہ۔
’’پری محل کی مہیب صورت پہاڑیوں کے پیچھے سے صبح کا مسکراتا سورج دو نیزے اوپر آچکا تھا اور ابھی تک اسے اپنے ہونٹوں میں آنسوؤں کی نمی کا احساس ہو رہا تھا ‘‘
’’۔۔۔وہ ڈل کے پار بلواڈ کے اس طرف اپنی ماں کے ساتھ رہتی تھی ۔۔۔اس وقت اسے یہ معلوم نہ تھا کہ ڈل کا یہ پانی جس کا بہاو بہتے ہوئے بھی محسوس نہیں ہوتا اسے اس جھونپڑی سے کبھی جُدا کرے گا ۔ان دنوں وہ ہر صبح اپنی سہیلیوں کے ساتھ ان پہاڑیوں پر چڑھتی اور سوکھی لکڑیوں کا ایک ٹوکرا بھر لاتی۔ ‘‘
پردیسی اپنے افسانوی کرداروں کے ذرئعہ اپنے اندر دہکتے شعلوں اور ان احساسات اور جذبات کو اُجاگر کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو کشمیر کے ظلم و تشددکے شکار ہونے کی وجہ سے ان کے اندر پیدا ہوئے ۔ ان کے افسانے ’’ اُجالے اندھیرے‘‘کا مرکزی کردار ’’جاوید‘‘ جو ایک حساس رومانی خواب پرست اور آزادی پسند نوجوان ہے ایسے ماحول کا مُقیدہے جہاں ایک طرف لوٹ کھسوٹ اور تشدد ہے اور دوسری طرف طبقاتی تفاوت، ایک طرف شاہی تانابا اور دوسری طرف گھر میں بڑوں کی بالا دستی۔ وہ اس سب کے خلاف احتجاج پر اتر آتا ہے۔
’’مجھے آزادی کا حق ہے میں اپنی ذات فنا کرنا نہیں چاہتا‘‘
’’کتبے‘‘ میں رحیم خان ایک چنار پر اپنا نام گہرائی سے کندہ کر کے محکومیت اور فنا انجامی کے خلاف احتجاج کرتا ہے اور انسان کے لازوال بننے کی آرزو رکھتا ہے۔
’’ کوٹھیاں بدلیں گی، گھاٹ آباد ہوں گے، وزیر بدلیں گے اور تنّے پر لکھا ہوا کتبہ امر ہو جائے گا۔‘‘
پردیسی نے اپنے آخری ادبی ایام میں اپنے افسانوں میں ہیئت اور تکنیک کے بہت سے تجربے کئے۔انہوں نے ایسے افسانے بھی تخلیق کئے ہیں جن میں نثر اور نظم دونوں کا التزام ہے۔ کبھی طویل تو کہیں منی افسانے بھی تحریر کئے۔وہ ایک ایسی کہانی کے حصہ بھی رہ چکے ہیں جو شروع تو کسی اور تخلیق کار نے کی لیکن مکمل پردیسی نے کی۔’’پربھات‘‘ نام سے شائع ہوئی ایک ایسی کہانی جس کا پہلا پارٹ رنبیر سنگھ نے تخلیق کیا اور دوسرا پارٹ پردیسی نے، لیکن کہانی پڑھ کر کہیں کسی پیوند کاری کا احساس نہیں ہوتااور نہ ہی اس بات کا اندیشہ بھی ہوتا ہے کہ یہ دو افسانہ نگاروں کی کاوش کا نتیجہ ہے۔
پردیسی کو اس بات کا بڑا دُکھ رہاکہ جو فنکارکشمیر کو اپنا موضوع بناتا ہے وہ بس یہاں کی خوبصورتی کی عکاسی کرتا ہے لیکن عوام کے دکھ درد کے قریب جانے سے شاید کتراتے ہیں۔یہاں کے قدرتی مناظر ان کے لیے محرک کا سبب بنتے ہیں لیکن کشمیر کے باطن میں جھانک نہیں سکتے۔ کشمیر سے متعلق اکثر واقعات و منظرکشی میں صرف یہاں کے برفیلے کوہساروں ، سبزہ زاروں، آبشاروں ، جھیلوں باغوں کے خارجی حسن کی عکس بندی کی گئی ہے لیکن یہاں کی داخلی پیچیدگی، ستم رسیدہ عوام کے حالات، تضاد و اسراریت اورمظلومیت کی طرف کم متوجہ ہوئے۔ وہ کشمیر کی عکاسی تو کرتے ہیں لیکن دیانت داری سے نہیں۔ڈاکٹر برج پریمی پردیسی کی اس دِل شکنی کو یوں قلم بند کرتے یں:
’’ انہیں کرشن چندر ، عزیز احمد اور ایسے بڑے فنکاروں سے ملامت تھا کہ جنہوں نے یہاں کی بد نصیب قوم کے ساتھ درد کا رشتہ پیدا نہیں کیا اور انکے غم کو ٹٹول کر نہیں دیکھا ۔ یہ فرض خود انہوں نے انجام دیا۔‘‘ ۸؂
پریم ناتھ پردیسی وہ پہلے ادیب ہیں جنہوں نے کشمیر کے ظاہر و باطن دونوں کو منظر عام پر لانے کی کوشش کی۔وہ کشمیر کی حقیقی روح میں اُتر کر اپنے افسانے اس طرح بُننے لگے کہ خود کو مجسمۂ کشمیر بنا دیاجہاں سے وادی کا ہر راز نمو دار ہوتا ہے ۔ اسی لیے بعض ناقدین پردیسی کو کشمیر کا پریم چند بھی کہتے ہیں۔

حوالہ جات
۱؂ برج پریمی،’’ جموں و کشمیر میں اردو ادب کی نشوو نما‘‘،رچنا پبلی کیشنز، جموں،۲۰۱۳ء،صفہ ۱۷۹
۲؂ حامدی کاشمیری،’’ریاست جموں و کشمیر میں اردو ادب‘‘،گلشن پبلیشرز،سرینگر،۱۹۹۱ء،صفہ ۸۱
۳؂ پریم ناتھ پردیسی ’’دنیا ہماری‘‘،مکتبہ لال رُخ ،سری نگر،۱۹۴۹ء،صفہ ۹
۴؂ برج پریمی،’’کشمیر کے مضامین‘‘،دیپ پبلیکشرز،سرینگر،۱۹۸۹ء،صفہ ۱۰۰
۵؂ برج پریمی،’’ جموں و کشمیر میں اردو ادب کی نشوو نما‘‘،رچنا پبلی کیشنز، جموں،۲۰۱۳ء،صفہ۲۹
۶؂ حامدی کاشمیری،’’ریاست جموں و کشمیر میں اردو ادب‘‘،گلشن پبلیشرز،سرینگر،۱۹۹۱ء،صفہ۱۲۲
۷؂ سلیم سالک،’’جموں و کشمیر کے منتخب اردو افسانے‘‘،میزان پبلیشرز ،سرینگر،۲۰۱۱ء،صفہ ۲۷
۸؂ برج پریمی،’’ جموں و کشمیر میں اردو ادب کی نشوو نما‘‘،رچنا پبلی کیشنز، جموں،۲۰۱۳ء،صفہ۱۸۱

 مضامین دیگر 


Comment Form



اردو فکشن

© 2017 Urdu Fiction. All right reserved.

Developed By: Aytis Cloud Solutions Pvt. Ltd.