وادئ کشمیر :اردو افسانوں کی دنیا میں




مد ثر رشید
06 Sep, 2017 | Total Views: 704

   

کشمیر صدیوں سے تہذیبی و تمدنی رنگ بدلتا رہا ہے۔ آبی ذخیرے سے لے کر ریل کی آمد تک اس وادی نے کئی نشیب و فراز دیکھے ہیں۔ تاریخ دانوں کا کہناہے کہ کشمیر کبھی ستی سرتھا مگر تالاب کا پانی خارج ہوکر کب سو کھااور بستی میں کب تبدیل ہوا، اس پر ابھی تحقیق جاری ہے ۔لوگ بستے گئے ، بستیاں آباد ہوتی گئیں،قبیلے بنے ،قبیلوں کے سردار مقرر ہوئے اور پھرقبیلوں کے درمیان جنگیں ہوتی رہیں، پھر بیرونی قوموں نے اس کو اپنی آماجگاہ بنایا اور اس طرح آپس میں بولیوں کا میل جول اور مخلوط زبانوں کی ترویج ممکن ہوئی ۔
دورِ جدید تک آتے آتے کشمیر میں کئی زبانیں بول چال کے لیے اختیار کی گئیں لیکن ادب خاص طور پر چار زبانوں میں مرتب ہوتا گیا ۔سنسکرت،کشمیری، فارسی اور اردو۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ کشمیر میں جو زبان آخر میں داخل ہوئی وہ اردو تھی جس کو آج ریاست میں سرکاری زبان کا رتبہ حاصل ہے۔ریاست جموں و کشمیر میں اردو زبان کو ۱۸۸۹ء میں مہاراجہ پرتاب سنگھ کے دورِ اقتدار میں سرکاری زبان کا رتبہ حاصل ہوتے ہی یہ زبان یہاں کے تہذیب، تمدن ،ثقافت اور ادب کے قریب آگئی۔ رفتہ رفتہ ادیب اس زبان کی وساطت سے اپنے خیالات کا اظہارشعری و نثری اصناف میں کرنے لگے۔اُدھر بر صغیر میں اِسی دور میں کئی بڑے شاعروں کے علاوہ افسانہ نگاروں نے بھی جنم لیا جن میں پریم چند، سجاد حیدر یلدرم، سعادت حسن منٹو،کرشن چندر ، راجندر سنگھ بیدی، عصمت چغتائی اور قرۃ العین حیدر قابلِ ذکرہیں۔چنانچہ ان افسانہ نگاروں میں سعادت حسن منٹو ، کرشن چندر اور قدرت اللہ شہاب کا تعلق کشمیر سے بالواسطہ طور رہا ہے اس لیے کشمیر کی جھلک منٹو کے افسانوں میں کہیں کہیں اور کرشن چندر کے افسانوں میں اکثر نظر آتی ہے۔بر صغیر کے ان بڑے افسانہ نگاروں کی دیکھا دیکھی کشمیر کے افسانہ نگا ر بھی اس صنف میں قسمت آزمائی کرنے لگے جن میں پریم ناتھ پردیسی ،اختر محی الدین ،پریم ناتھ در،پشکر ناتھ ، ڈاکٹر برج پریمی ، نور شاہ ، حامدی کشمیری، مخمور حسین بدخشی جیسے افسانہ نگاروں کے نام شہرت سے سرفراز ہوئے۔ بیرونِ ریاست کے افسانہ نگاروں نے جہاں اپنے افسانوں میں عام طور پر کشمیر کی خوشنما اور دلفریب جھلکیاں دکھائیں یا پھرخالص رومانوی رنگ میں رنگ لیا، وہیں کشمیر زاد افسانہ نگاروں نے خصوصاًکشمیر اور کشمیر کے حالات کو اپنی کہانیوں کا موضوع بنایا۔جس دور میں اردو افسانہ کشمیر میں پر پھیلانے لگا وہ سیاسی بحران اور تقسیم ملک کا زمانہ تھاجس کی وجہ سے کشمیر کے پسِ منظر میں لکھے گئے افسانے اپنے دور کی تباہی،مفلسی اور لاچارگی کی تاریخ بن کر ابھرے خواہ وہ بیرونِ ریاست افسانہ نگاروں کے قلموں سے تخلیق کی گئی کہانیاں تھیں یا کشمیر زاد افسانہ نگاروں کے۔
بیرون ریاست کے افسانہ نگارسعادت حسن منٹونے جو افسانے کشمیر کے پسِ منظر میں لکھے ان میں’’ ٹیٹوال کا کتا‘‘اور’’آخری سلیوٹ‘‘ اہم ہیں۔’ٹیٹوال‘ کشمیر کی وادی نیلم کا علاقہ ہے جہاں سے۱۹۴۷ء ؁ کے جنگ کے بعدسیز فائر لائین گزرتی ہے ۔اس سیز فائر لائین کے ایک طرف پاکستان اور دوسری طرف بھارت کی فوج ہے ۔منٹو کا افسانہ’’ ٹیٹوال کا کتا‘‘ اسی صورت حال پر لکھا گیا ہے۔۱۹۴۷ء کے بعد کشمیر کی سرحدی جھڑپیں اور ایک دوسرے کی چوکیوں پر قبضہ کرنے کی کوششیں جاری رہیں اوراسی پہلو کو منٹونے ’ٹیٹوال کا کتا ‘افسانے میں بیان کیا ۔کچھ اسی طرح کا موضوع افسانہ’ آخری سلیوٹ ‘میں بھی ملتا ہے جہاں کشمیر کی سرحد اور فوجیوں کے مورچے نظر آتے ہیں۔
کشمیر کے پسِ منظر میں لکھنے والے افسانہ نگاروں میں سب سے اہم کرشن چندر ہیں۔کشمیر سے دلچسپی کے حوالے سے خود کرشن چندر نے افسانوی مجموعہ ’’کشمیر کی کہانیاں‘‘کے دیباچے میں اعتراف کیا ہے :
’’میرے بچپن کی حسین ترین یادیں اور جوانی کے بیش قیمت لمحے کشمیر سے وابسطہ ہیں‘‘ ۱؂
کرشن چندر کے کئی افسانے کشمیر کے موضوع سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے افسانوں میں کشمیر کی منظر کشی،دیہاتی زندگی اوررومانی کیفیت کا ملا جلا سنگم ملتا ہے ۔وہ اپنے افسانوی مجموعے’’الجھی لڑکی کالے بال‘‘کے دیباچے میں لکھتے ہیں :
’’کشمیر کی جھیلیں اور آبشار ،پہاڑ اور وادیاں،دھان کے کھیت ،اور زعفران کی خوشبو، گھٹا عورت کی آنکھوں کی طرح برستی ہوئی اور برف کے گالے سفید گلاب کی پتیوں کی طرح بکھرے ہوئے لوگوں نے دھنک کے ساتھ رنگ دیکھے ہیں لیکن میں نے دھنک میں اتنے رنگ دیکھے ہیں جو میری دو زندگیوں کے لئے کافی ہیں۔‘‘ ۲؂
کشمیر کے پسِ منظر میں لکھا گیا افسانہ’’ جنت اور جہنم ‘‘کا موضوع کشمیر کی خوبصورت وادی اور فطرت کا تخلیق کردہ حسن اور کشمیر کی غربت ہے۔افسانے کاپلاٹ وادی کا سرمائی دارالخلافہ سرینگر اور اس کے مضافات کے علاقے ہیں۔اسی طرح’’ بندوالی ،کفارہ ،سڑک کے کنارے ،کشمیر کو سلام ،جیل سے پہلے اور جیل کے بعد ،لاہور سے بہرام گلہ تک،چاند کی رات ‘‘جیسے کئی افسانے ایسے ہیں جو کشمیر کے پسِ منظر میں یا کشمیر کے حوالے سے لکھے گئے ہیں جن میں کشمیر اور کشمیر یت کو جاننے کے لئے کافی کچھ مواد ملتاہے۔افسانہ’’ بند والی‘‘ میں کشمیر کی مشہور جھیل ڈل کی عکاسی یوں کرتے ہیں :
’’ڈل کی نیلی نیلی لہروں پر آفتاب کی آخری کرنیں لرزاں تھیں ۔ہوا میں پھولوں کی بٗو بسی ہوئی تھی۔ہمارے ارد گرد کنول کے پھو ل تیر رہے تھے اور ان کی نازک پتیوں پر پانی کے قطرے ٹِکے ہوئے تھے۔کسی کی پلکوں پر آنسوؤں کی طرح اور شفق کی ارغوانی روشنی میں چمک رہے تھے کسی کے گلے میں سرخ منکوں کی طرح ‘‘ ۳؂
قدرت اللہ شہاب نے جو اپنی تصنیف ’’شہاب نامہ‘‘ کے لیے مشہور ہیں بھی کشمیر کے پسِ منظر میں چند افسانے تخلیق کئے ہیں جن میں محض کشمیر کی خوبصورتی سے متاثر ہونے کا پہلو ہی نہیں بلکہ یہاں کے حالات وکیفیات کا بھی مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔ان افسانو ں میں ’’پکے پکے آم‘‘ اور’’پھوڑے والی ٹانگ ‘‘اہمیت کے حامل ہیں جن میں کشمیر یوں کی کسمپرسی اور مظلومیت کی داستان نظر آتی ہے۔
کشمیری لال ذاکر نے کشمیر سے قلمی وابستگی کی بنا پرکئی افسانے کشمیر کے پس منظر میں لکھے ۔ان کے افسانوی مجموعے ’’جب کشمیر جل رہا تھا‘‘ اور’’ چنار چنار چہرے‘‘ میں کئی افسانے کشمیر سے وابستہ ہیں ۔
دیکھا جائے تو ایک طرف کشمیر افسانوں میں خوبصورتی کی علامت بن کر ابھرتا ہے بقولِ شاعر :
ذرہ ذرہ ہے میرے کشمیر کا مہمان نواز 
راہ میں پتھر کے ٹکڑوں نے دیا پانی مجھے
دوسری طرف یہی کشمیر تقسیم ملک کے فوراً بعد ٹکڑوں میں بٹ کر رہ گیا اور ایک لمبی وجودی کشمکش میں پھنس گیا۔ آزادی سے قبل لکھنے والے آزادی کے بعد بھی فعال رہے اور انھوں نے کشمیری لوگوں کی کسمپرسی، غربت، عدم تحفظ اور بے روزگاری پر متعدد افسانے لکھے ۔ ان افسانہ نگاروں میں پریم ناتھ پردیسی، پریم ناتھ در، رامانند ساگر، حامدی کشمیری، تیج بہادر بھان، نور شاہ، ڈاکٹر برج پریمی،مخمور حسین بدخشی، پشکر ناتھ، کلدیپ رعنا، شبنم قیوم وغیرہ نمایاں ہیں۔ آزادی کے بعد جو نئی نسل سامنے آئی ان میں عمر مجید، وحشی سعید ساحل ، ڈی کے کنول(بعد میں دیپک کنول کا نام اختیار کیا)، ویریندر پٹواری، شمس الدین شمیم،جان محمد آزاد قابل ذکر ہیں۔ بیسویں صدی کی نویں دہائی میں یہ وادی دہشت گردی اور ظلم و تشددکا شکارہو گئی جہاں گھر، کاروبار، جانوں ،عصمتوں پر حملے ہوئے۔ہر طرف مایوسی اور افراتفری پھیل گئی، یوں جنت نما کشمیر دوزخ میں تبدیل ہو گیا۔چنار سرخ ہوگئے،معصوم چہرے گناہ گار بن گئے اور خوبصورت مناظر و خوشگوار موسم راکھ ہوگئے۔ایسے حالات میں لوگ نفسیاتی امراض میں مبتلا ہو گئے ۔ اس صورت حال کومعاصراردو افسانہ نگاروں نے بڑی چابک دستی سے قلم بند کرنے کی کوشش کی ہے ۔اس میں زیادہ تر کشمیر نژاد افسانہ نگار پیش پیش رہے، جنہوں نے کشمیر کے ان حالات کو جیا اور ان ستم رسیدہ واقعات کو اپنے افسانوں کا موضوع بنایا جن میں نور شاہ، عمر مجید، دیپک بدکی، دیپک کنول، ویریندر پٹواری وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔ان میں سے چند ایک مہاجر بن کر وادی سے ہجرت کر گئے مگر ان کی کشمیر سے وابستگی بدستور جاری رہی۔
ریاست کے اولالذکر افسانہ نگار پریم ناتھ پردیسی کے افسانوں میں کشمیر اور کشمیریت نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔ پردیسی نے اپنے افسانوں میں ریاست کی صحیح عکاسی کر کے کشمیر کو اصلی رنگ و روپ میں پیش کیا ۔ وہ کشمیر کی خوبصورتی ہی نہیں بلکہ بد صورتی کو بھی منظر عام پر لاتے ہیں۔وہ کشمیر کے تپتے ہوئے دوزخ کدوں کی تصویر کشی کرتے ہیں۔غربت، بھوک ، افلاس ، پسماندگی، معاشی و اقتصادی بدحالی، بے کاری، بیگار کی لعنت کو وہ اپنے افسانوں میں حقیقی طور پر پیش کرتے ہیں ۔ پردیسی کے افسانے ’ٹینکہ بٹنی‘، ’ان کوٹ‘،’اگلے سال‘ اور’ دیوتا‘ کشمیر کی حقیقی صورت حال کی بھر پور عکاسی کرتے ہیں۔وادی کے حالات کے بارے میں وہ خود یوں رقمطراز ہیں:
’’کشمیر کا ہر باشندہ بذات خود ایک افسانہ ہے جس کی طرف آج تک کسی نے توجہ نہ دی۔ یہاں کا سب سے بڑا مسئلہ غلامی ہے، افلاس ہے، شخصی راج ہے۔‘‘ ۴؂
افسانوں کے مجموعے’’ بہتے چراغ ‘‘ کی کہانیوں میں کشمیر کی اصلی روح کو منظر عام پر لانے کی کوشش کی گئی ہے اور فنکارانہ ہنر مندی کے ساتھ کشمیریوں کے مصائب اور مسائل، ان کے اصلی مزاج اور تیور ، سادگی اور شرافت ، عادات اور خصائل ، ظلمت اور بغاوت کی سلگتی چنگاریوں کی عکاسی کی گئی ہے۔ پردیسی نے کشمیر کے حالات کو زیر نظر رکھتے ہوئے وہاں کی معاشرت اور اخلاقی قدروں کی ترجمانی بھی کی ہے ۔بقولِ ڈاکٹر برج پریمی:
’’ریاست میں اس سے پہلے اردو کا مختصر افسانہ اس قدر منجھی ہوئی صورت میں نظر نہیں آتا۔ پردیسی نے کشمیر کو اپنے افسانوں میں پہلی بار پیش کیااور ہزاروں لاکھوں کشمیریوں کوزبان بخشی۔‘‘ ۵؂
کشمیریت‘ پردیسی کے روم روم میں رچی بسی تھی۔ یہ کہنا بیجا نہ ہوگا کہ ان کے افسانے کشمیر کی ایک بولتی تصویر ہیں۔ان کے افسانوں کے اکثر کردارکشمیر کے زندہ کردار ہیں جو آٹھوں پہر ان کے آس پاس زندگی بسر کر تے نظر آتے ہیں، کبھی ستم رسیدہ حالات میں بھی خاموش رہتے ہیں تو کبھی معمولی سی خوشی سے چونک اُٹھتے ہیں۔ان کرداروں کاہر عمل مصنف کی درون میں چھپی خواہشات اور درد و کرب کا آئینہ ہے ۔ چاہے وہ’ کیچڑ کا دیوتا‘کا ’’ممسو‘‘ یا ’’نندی‘‘ ہو یا پھر ’دھول‘ کی ’’مہتہ بی‘‘۔ وہ اپنے کرداروں کو اپنے معاشرتی پس منظر میں پورے نفسیاتی عوامل کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔چاہے وہ ’’امام دین ‘‘ ہو یا ’’جاوید‘‘،’’وشومبر‘‘ ہو یا ’’گنگا دھر‘‘، ’’ٹینکہ بٹنی‘‘ ہو یا ’’امام صاحب‘‘۔ ان کے بارے میں پروفیسر حامدی کاشمیری رقمطراز ہیں:
’’پردیسی نے کشمیریت کو داخلی سطح پر محسوس کر کے اس کی مصوری کی ہے ۔ ان کے
افسانوں کے کرداروں کے رویے ، محسوسات اور عقائد پردیسی کی شخصیت کے
مختلف پہلو کو روشن کرتے ہیں۔‘‘ ۶؂
ڈاکٹربرج پریمی جن کو کشمیر سے والِہانہ محبت تھی اور کشمیر کے اردو ادب سے متعلق کئی محققانہ اور ناقدانہ تصانیف شائع کیں، جن میں ’’جموں و کشمیرمیں اردو ادب کی نشوونما‘اور’ کشمیر کے مضامین ‘‘سرفہرست ہیں ،نے اپنے افسانوی مجموعے ’’سپنوں کی شام‘‘ میں ۱۶ مختصر افسانے تحریر کئے ہیں جو اکثر کشمیر کے حوالے ہی سے لکھے گئے ہیں۔انہوں نے کشمیر کے غریب کسانوں اور مزدوروں کی بد حالی کو اپنے افسانوں کا موضوع بنایا۔ برج پریمی کی رگ رگ میں کشمیریت کا جذبہ تھا۔ان کا ہر افسانہ اسی جذبے کی پہچان ہے۔افسانہ’’ خوابوں کے دریچے‘‘میں وہ کشمیر کے سرد ترین موسم کی عکس بندی یوں کرتے ہیں:
’’دسمبر کی ایسی ہی کالی اور بھیانک رات میری یادوں کے افق پر ابھرتی ہے روح کو منجمد کرنے والی سائیں سائیں کرتی ہوئی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں اب بھی میرے روم روم کو جھنجھوڑ دیتی ہیں اور جوتی کا جوالا مکھی کی طرح تپتا ہوا چہرہ میری نگاہوں کے سامنے جم جاتا ہے اور میرے من میں اتھل پتھل مچ جاتی ہے۔‘‘ ۷؂
برج پریمی کا افسانہ ’’ میرے بچے کی سالگرہ‘‘ میں کشمیر کا رنگ جگہ جگہ ابھرتا ہے ۔افسانہ’’ سپنوں کی شام‘‘ میں کشمیر کے ایک ضلع بڈگام کے ایک گاؤں کا پسِ منظر ہے۔’’ہنسی کی موت ‘‘میں کشمیری مفلسوں کے احوال کا ذکرہے۔افسانہ’’ شر نارتھی‘‘ جس کا موضوع ۱۹۴۷ء ؁ کے بعد کے حالات ہیں ایک حقیقی تاریخی واقعہ کے روپ میں ابھرتا ہے۔برج پریمی نے اس افسانے میں شیامؔ کا المیہ کردار پیش کر کے کشمیریوں کی مظلومیت کی بھر پور ترجمانی کی ہے۔ڈاکٹر محی الدین زور لکھتے ہیں :
’’انہوں نے کشمیری تہذیب تمدن و ادب کو لازوال تخلیقات سے مالا مال کیا جن میں کشمیر کی صحیح روح تھرکتی ہوئی محسوس ہوتی ہے وہ حقیقی معنوں میں کشمیری عوام کے نباض تھے۔‘‘ ۸؂
پشکر ناتھ جو کشمیر کے ایک اہم افسانہ نگا ر ہیں کے چار افسانوی مجموعے’’ اندھیرے اجالے،ڈل کے باسی، عشق کا چانداندھیر اور کانچ کی دنیا‘‘ شائع ہوئے ہیں ۔انہوں نے کشمیر کی ثقافت اور سماجی زندگی کی جو تصویر یں اپنے افسانوں میں پیش کیں ان میں کشمیر کی حقیقی زندگی کا مشاہدہ ہوتا ہے۔ ان کے شاہکار افسانے’’ درد کا مارا‘‘ کا مرکزی کردار کشمیر کا مہمان نواز، ہمدرد اور انسان دوست تاجر’ صمدؔ جو‘ ہے جس کوجنوبی ہند کی ایک لڑکی سمجھ نہیں پاتی اور صمدؔ جو کی شفقت اور ہمدردی کو دھوکا قرار دیتی ہے۔ یہ افسانہ ایک طرف سیاسی معنویت کا بھی حامل ہے اور کشمیر کے پورے درد کا احاطہ بھی کرتا ہے۔’’جوڑا ابابیلوں کا‘‘ افسانے میں کشمیر کے یخ بستہ سردی کا ایک منظر بڑی چابک دستی سے پیش کیا گیا ہے۔کشمیر کے پہاڑوں پر آباد گوجر لوگوں کی دنیا سے ’ایک بوند زہر‘اور’ ٹراوٹ مچھلی‘ جیسے افسانے تخلیق کیے گئے ہیں۔ 
اگرچہ ایک طرف متذکرہ بالا افسانہ نگاروں نے کشمیر کی کسمپرسی اور معصومیت کے موضوعات کو قلم بند کیا ہے تو وہیں ان کے بعد آنے والے افسانہ نگارایک ایسے دور سے گزرے جس نے کشمیر کے ادیبوں کو دو گروہوں میں بانٹ دیا۔ ایک گروہ کشمیر کومجبوراً چھوڑ کر جموں اور ہندوستان کے مختلف علاقوں میں گزر بسر کرنے لگے اوردوسرا گروہ جو کشمیر میں ہو رہے ظلم و تشدد کو برداشت کر کے اپنے اپنے دکھ سکھ کو افسانوں میں قید کرتے گئے۔
جو افسانہ نگارکشمیر کے بُرے دور سے گزر کر اپنے روایتی تہذیب و تمدن اور ثقافت کو یک طرفہ چھوڑ کر کشمیر سے ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے ان کے افسانوں میں اپنے وطن سے جدائی اور ہجرت کا درد کوٹ کوٹ کربھرا ہے۔ان افسانہ نگاروں میں ویریندر پٹواری،دیپک بدکی ،دیپک کنول وغیرہ قابلِ ذکر ہیں جن کا ہر افسانہ چیخ چیخ کر کشمیر کی بربادی کی تاریخ بیان کرتاہے۔
ویریندر پٹواری جنہیں دیگر پنڈتوں کے ساتھ کشمیر چھوڑنا پڑاکے کئی افسانوی مجموعے(ایک ادھوری کہانی ،اُفق، آفتوں کے شہر میں، دائرے، دوسری کرن، بے چین لمحوں کا تنہا سفر، آخری دن، فرشتے خاموش ہیں، آواز سرگوشیوں کی وغیرہ) منظرعام پر آئے ۔ان کی کہانیوں کے پسِ منظر میں کشمیر ہر طرف نظر آتا ہے۔ انہوں نے کشمیر کے جاری مصائب کو موضوع بنایا ۔ان کے یہاں ہندوا ساطیر کا بڑا عمل دخل ملتا ہے ۔ چنانچہ وہ جدید تحریک سے وابستہ رہے اس لیے ان کے افسانوں میں استعارات، علامات اور تلمیحات کا غلبہ ملتا ہے۔ وہ کشمیریوں کے ظلم و ستم اور دہشت کے ماحول کو خوشیوں اور امن میں بدلنے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے اس سسکتی وادی کا کرب گھول کر اپنے افسانوں میں بھر دیا ہے۔ وہ اپنے افسانوں میں عصری آگہی کے سلگتے ہوئے احساس کو پیش کرتے ہیں ۔کشمیر کے حوالے سے لکھی گئی ان کی کہانیاں سلگتے ہوئے کئی تاریخی سوالات چھوڑ جاتے ہیں۔ حقانی القاسمی ان کے بارے میں لکھتے ہیں :
’’ویریندر پٹواری کی کہانی میں کشمیر کا درد نظر آتا ہے۔اس زمیں کا نوحہ۔اس مٹی کا مرثیہ جو کبھی جنت تھی۔‘‘ ۹؂
ویریندر پٹواری کے کئی افسانے کشمیر کے واقعات اور لوگوں کی علامتیں بن کر ابھرتے ہیں افسانہ ’’سزا‘‘جہاں کشمیری پنڈتوں کی علامت کا استعارہ بنتا ہے وہیں’’ دھواں‘‘ توڑ پھوڑ اور تحریک کی علامت نظر آتا ہے۔افسانہ’’ ریچھ‘‘ میں انسان کی خون ریزی کو دیکھ کر ریچھ شرم سار ہو جاتا ہے اور افسانہ’’ قیدی ‘‘ میں وہ کشمیر کے حالات کا یوں جائز ہ لیتے ہیں :
’’پہلی بار احساس ہوا کہ اچھا انسان نہ ہندو ہوتا ہے نہ مسلمان ہوتا ہے۔مگر بُرا انسان ایک شیطان ہوتا ہے۔ شیطان ایک طوفان ہوتا ہے جو بھائی کو بھائی سے جدا کر کے اپنے مقصد کی خاطر دونوں کو قربان کردیتا ہے۔‘‘ ۱۰؂
ویریندر پٹواری کے افسانوں میں کشمیر کا تہذیبی اور ثقافتی پہلو بھی نمایا ں طور پر نظر آتاہے۔جس کی مثال ’برف، دسرتھ،لالہ رخ ‘جیسے افسانوں میں ملتی ہے’’برف‘‘افسانہ میں حالات کی وجہ سے بیروزگاری کا مسئلہ اجاگر کیا گیا ہے، ’’دسرتھ‘‘ میں برف کا موسم اور’’ لالہ رخ ‘‘میں کشمیر میں ہندو مسلم اتحاد کو ابھارا گیا ہے۔
کشمیر کے حالات پر لکھنے والے افسانہ نگار وں میں دیپک بدکی سرفہرست ہیں ۔ان کے کئی افسانوی مجموعے منظر عام پر آچکے ہیں جن کے عنوانات ہی سے کشمیر کی خوشبو محسوس ہوتی ہے ،جیسے ادھورے چہرے ،چنار کے پنجے ،زیبرا کراسنگ پر کھڑا آدمی، ریزہ ریز حیات اور روح کا کرب۔ ان کے علاوہ ان کا ایک افسانچوں کا مجموعہ ’مٹھی بھر ریت ‘ بھی شائع ہوا ہے۔ ان کے افسانے نہ صرف کشمیر بلکہ پورے ہندوستانی تہذیب و ثقافت کی نمائندگی کرتے ہیں کیونکہ انھوں نے زندگی کا بیشتر حصہ کشمیر سے باہر گزارا ہے ۔
کشمیر کے پسِ منظر میں ان کا افسانہ ’’نہتے مکان کاریپ‘‘ میں خالی مکان کا استحصال دکھایا گیا ہے ۔یہ وہ منظر نامہ ہے جو کشمیر کے جبرو استحصال کی علامت بن کر ابھرتا ہے۔افسانے میں مہاجر پنڈتوں کا کرب اور کشمیر میں ہو رہے ظلم وتشدد کو یوں تخلیقی روپ دیا گیا ہے جیسے کوئی کہانی نہیں بلکہ تاریخ کا ایک حقیقی واقعہ ہو۔ پنڈتوں کا چھوڑا ہوا مقفل گھر ،دہشت گرد کا اندر گھس کر توڑ پھوڑ کرنا، پھر فوجیوں کے ہاتھوں مکان کو گولیوں سے چھلنی کرناکشمیر کے الم کی بھر پور وضاحت کرتا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو جو منظر نامہ اس افسانے میں سامنے آتا ہے وہ دنیا کے کسی بھی مقام سے وابستہ ہو سکتا ہے جہاں امن و امان کے بدلے انتشار پھیلا ہو۔ایسی ہی صورت حال ان کے کئی افسانوں میں نظر آتی ہے جہاں کشمیر میں ہونے والی ناانصافیوں ، ظلم وجبر، استحصال اور زیادتی پر ردِعمل ظاہر ہوتا ہے مثلاً گھونسلا، مخبر، سفید کراس، چنار کے پنجے، وفادار کتا،زیبرا کراسنگ پر کھڑا آدمی وغیرہ۔’’ ریزہ ریز حیات‘‘ میں وہ کشمیر کی بد قسمتی ،معاشی اور سیاسی بدحالی کے بارے میں لکھتے ہیں :
’’نہ ہوا میں وہ تازگی رہی تھی اور نہ پانی میں وہ مٹھاس ،ہوا میں بارود کی وہ تیز بد بوبسی ہوئی تھی جبکہ پانی میں شورے کی تیز ا بیت گھلی ہوئی تھی ۔مغل باغات میں بھی وہ پہلی سی چہل پہل نہیں تھی اور نہ ہی کھیتوں میں وہ مدھر گیت گونج رہے تھے۔اگر تھا تو بس سونی سڑکیں، پولیس چوکیاں اور ڈرے سہمے لوگ۔‘‘ ۱۱؂
’’اب میں وہاں نہیں رہتا‘‘ میں دیپک بدکی نے کشمیری مسلمانوں پر گذشتہ پچیس برسوں کی داستان کو بڑی دردمندی سے بیان کیا ہے ۔ ’’زیبرا کراسنگ پر کھڑ ا آدمی‘‘ افسانہ ایک ایسے پنڈت بزرگ کے احساسات کی عکاسی کرتا ہے جو نقل مکانی پر مجبور ہوا لیکن کشمیر کی محبت وہ کبھی ترک نہ کر سکا وہ حیران ہے کہ آخر اس کا حقِ سکونت یکدم کیسے ختم ہو گیا۔اس افسانے میں کشمیری مکان کی بناوٹ اور اس کی طرزِ تعمیر کا نقشہ کھینچا گیا ہے ۔ ان کے یہاں صرف اس دور کا المیہ ہی نہیں ملتا بلکہ ان دنوں کی تصویریں بھی ملتی ہیں جب کشمیر میں حالات اچھے تھے ۔ اس حوالے سے ان کے افسانے ’شیر اور بکرا‘، ’اچانک‘،’ ورثے میں ملی سوغات‘،’ویوگ‘،’آؤکچھ اور لکھیں‘،’پہاڑوں کا رومانس‘، ’اداس لمحوں کا کرب‘، لمحوں نے خطا کی ہے، ٹھنڈی آگ، یومِ حساب وغیرہ افسانے کشمیر کے پس منظر میں لکھے گئے ہیں۔اُن کے افسانوں میں کشمیر کی تہذیب اور ثقافت کا رنگ بھی نمایاں نظر آتا ہے۔افسانہ ’’کبھی ہم سے سنا ہوتا‘‘ میں انسانی نفسیات اور استحصال کو موضوع بنایا گیا ہے۔ ’’پروٹوکول‘‘میں ٹورزم کی وجہ سے کشمیر میں بڑھتی ہوئی جسم فروشی کو بڑی باریکی سے پیش کیاگیا ہے ۔ سیدہ نسرین نقاش دیپک بدکی کے افسانوں کے بارے میں لکھتی ہیں :

’’دیپک بدکی کی لگ بھگ سبھی کہانیاں حقیقت پر مبنی ہیں۔ وہ کچلے ہوئے اور خوف زدہ انسانوں کو اپنے افسانوں کا موضوع بناتے ہیں۔ مسخ چہروں کو اپنے قلم سے حقیقی خدوخال دینے میں مصروف ہیں ،وہ ہونٹ جو جبرو استحصال کے اندھیروں میں اپنی مسکراہٹ اور دلکشی کو کھو چکے ہیں وہ ان کے لئے البیلی ہنستی گاتی زندگی کے خواہاں ہیں جہاں ہر طرف روشنی ہی روشنی ہو، محبت ہی محبت ہو‘‘۔ ۱۲؂
کشمیر کے ایک اور افسانہ نگاردیپک کنول ہیں جو پہلے ڈی کے کنول کے نام سے افسانے و ڈرامے لکھتے تھے۔ انھوں نے کشمیری پنڈتوں کی دربدری اور بے گھری پر افسانے لکھے ہیں۔ ان کے افسانوی مجموعے’’برف کی آگ‘‘کے سبھی افسانے کشمیرکے مسائل کا احاطہ کرتے ہیں جن میں ’مخبر، تفتیش، شعلے،حیوانوں کی بستی،کراس فائرنگ اور سزا ‘وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ 
ان کے افسانے میں عصمت لٹی بلقیس کا خاوند شہباز انصاف سے مایوس ہو کرخدا سے یوں فریاد کرتا ہے:
’’واہ رے مولا وہ (جہادی) کہتے ہیں کہ ہم فوج کی مخبری کرتے ہیں اوریہ (پولیس)کہتے ہیں کہ ہم ان کی مخبری کرتے ہیں ۔مولا اب تمہارا ہی سہارا۔ تو ہی مدد کر۔‘‘ ۱۳؂
اگرچہ ایک طرف مہاجر افسانہ نگار اپنے دردوکرب کو کہانیوں کی شکل دیتے رہے تو دوسری طرف کشمیر میں رہنے والے افسانہ نگاروں نے کشمیر میں ہو رہے ظلم و زیادتیوں کو اپنے افسانوں کا موضوع بنایا ۔ان افسانہ نگاروں میں نور شاہ ، حسن ساہو،عمر مجید ،ترنم ریاض،زاہد مختار ، وحشی سیدساحلؔ وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔
حامدی کاشمیری اور نور شاہ نے قریباً پچاس سال پہلے اپنے ہاتھ میں قلم اٹھایا ۔ حامدی کاشمیری نے اس کے بعد شاعری اور تنقید کو اپنایا مگر نور شاہ صنف افسانہ کے ساتھ ہمیشہ جڑے رہے اور ریڈیو کے لیے ڈرامے بھی لکھتے رہے ۔ ان کی یادداشتوں پر مبنی چند کتابیں بھی منظر عام پر آچکی ہیں۔دونوں قلم کاروں کے زیادہ تر افسانے رومانوی نوعیت کے ہوتے ہیں۔ ان کے یہاں کشمیر کا پسِ منظر بنیادی ہے۔زندگی کا حسن و جمال حامدی کاشمیری کے یہاں نمایاں ہیں ان کے افسانوی مجموعے’’سراب ‘اور’برف میں آگ‘‘ میں عشقیہ کہانیاں ہیں جو کشمیر کے قدرتی مناظر کے پسِ منظرمیں بھلی لگتی ہیں اور وادی کے نچلے طبقے کے لوگوں کی کسمپرسی بھی ہے۔ان کے افسانہ’’ اندھیرے کی روشنی‘‘ میں کشمیر کی روز مرہ زندگی اور جھیلِ ڈل میں رہنے والواں کی عکاسی کی گئی ہے۔’’بہار آنے تک‘‘افسانہ وادی کی بے روز گاری اور غربت کی ترجمانی کرتا ہے۔ مظہر امام حامدی کاشمیری کے افسانوں کے بارے میں لکھتے ہیں:
’’ حامدی کاشمیری کے افسانے کشمیری زندگی کی عکاس ہیں۔آج کم لوگوں کو احساس ہوگا کہ آج سے کئی سال پہلے کشمیر کے نچلے طبقے کی زندگی بیچارگی اور کسمپرسی کی شکار تھی۔‘‘ ۱۴؂
نور شاہ کے نو افسانوی مجموعے (بے گھاٹ کی ناو، ویرانے کے پھول، من کا آنگن اداس اداس،ایک رات کی ملکہ، گیلے پتھروں کی مہک، بے ثمر سچ، آسمان، پھول اور لہو، کشمیر کہانی) منظر عام پر آئے ہیں جن میں رومانوی افسانوں کے علاوہ کشمیر کی ثقافت،سماجی اور سیاسی کروٹوں کو بھی انہوں نے موضوع بنایا ہے۔ ان کا افسانہ ’’اس کمرے کی کھڑکی سے‘‘ کشمیریوں کی ان امیدوں کی عکاسی کرتا ہے جو کبھی بر نہیں آئے۔یہ افسانہ کشمیر کی آزادی کی اس صورت حال پر لکھا گیا ہے جس میں لوگ آزادی کے خواہاں تو ہیں لیکن اس خواب کو کشمیر میں دیکھنے پر پابندی عائد ہے۔جہاں ایک قیدی کو کھڑکی کے باہر خوبصورت نظارے نظر آتے ہیں وہیں دوسرے قیدی کو اسی کھڑکی کے پار ایک خستہ سنگی دیوار کے سوا کچھ نظر نہیں آتا ۔ نورشاہ کشمیر کے حسین مناظر کا شیدائی ہے اور رومانیت ،انسان دوستی، رواداری ان کے فن کے بنیادی عناصر ہے جس وجہ سے وہ اپنے افسانوی مجموعے ’’بے ثمر سچ‘‘میں لکھتے ہیں:
’’یہ وہ جگہ ہے جہاں پہاڑ، پانی اور سبزہ بیک وقت نظر آتا ہے ۔ کہنا یہ ہے کہ وادی کے اس حصے میں میری احساسِ جمال کی پرورش ہوتی ہے اور وہ جن کو میری آنکھوں نے سمیٹ لیا ہے لاشعوری طور پر میری کہانیوں میں منعکس ہوتا ہے۔‘‘ ۱۵؂
جب سے کشمیر میں حالات بگڑ گئے ، نور شاہ کا قلم حقیقت پسندی کی طر ف مائل رہا اور کشمیریوں کا درد قرطاس پر انڈیلتا رہا۔ ان کے گرد و نواح میں جو بے اعتمادی ،خوف ،غلامی اور دہشت کا دور جاری ہے اس سے ان کے رومانوی رنگ پراثر پڑنا لازمی تھا۔وہ وادی کی برہنہ سچایوں کو بیان کرتے ہوئے مصلحت اندیشی کا دامن نہیں پکڑتے بلکہ سچ کہنے کی ہمت رکھتے ہیں چاہے وہ سچ کتنا ہی بے ثمر کیوں نہ ہو۔’ایک رات کی ناوک ،بے گھاٹ کی ناو ،ویرانے کے پھول اور من کا آنگن اداس اداس افسانوں میں ان ہی زخم خوردہ دلوں کی دھڑکنیں سنائی دیتی ہیں۔’’اندھیرے اجالے‘‘ میں نور شاہ کشمیر کی تاریخ کو سمیٹتا ہے۔’’مر غابی‘‘ میں انھوں نے کشمیری عورتو ں کے تہذیبی نکتے کو ابھارا ہے۔’’بٹوت کی آخری رات ‘‘میں حسنِ کشمیر اور یہاں کے غریب عوام کے دکھ درد،رہن سہن اور کاروبار کو باریکی سے پیش کیا ہے۔’اجنبی شہر کے لوگ ،چراغ گل کرو،خواب بھی بکتے ہیں، میرے حصے کے خواب‘ وغیر ہ افسانوں میں کشمیری تہذیب و ثقافت کی منظر کشی کی گئی ہے۔ان کا مجموعہ ’’کشمیر کی کہانی‘‘ وادی کا وہ افسوس ناک تاریخی روپ ہے جو قارئین کی آنکھوں کو ترکر دیتا ہے۔
’’نور شاہ کی اکثر کہانیاں پڑھ کر اس بات کا بخوبی احساس ہوجاتا ہے کہ نور شاہ فکری وجذباتی اعتبار سے کبھی کبھی ایک باغی کی طرح ہی ظلم و بربریت کے خلاف ایک ہاتھ میں پرچم اور دوسرے میں ادب کی قندیل لئے نظر آتے ہیں۔‘‘ ۱۶؂
عمر مجید جدیدیت کے علمبردار تھے ۔ ان کے افسانوں میں کشمیر کی عکاسی جگہ جگہ ملتی ہے ان کا افسانہ’’ شہر کا اغوا ‘‘ شروعا ت میں ہی کشمیر کے حالات کی تصویر کشی کرتا ہے:
’’یہ کون سی جگہ ہے، کیسی خاموشی ہے ،یہ ویرانی کا عالم ،یہ ڈرانے والی خاموشی ،یہ مکان، یہ دکانیں ،یہ سڑکیں خالی کیوں ہیں۔اس شہر میں رہنے والے لاکھوں لوگ کہاں چلے گئے۔‘‘ ۱۷؂
عمر مجیدکی کہانیاں کشمیر کے گرد گھومتی ہیں۔ وادی کے حالات نے ان کے ذہن پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ ان کے موضوعات دکھ درد ،غربت اور امن پسندی وغیرہ ہیں ۔ان نکتوں کو ابھارتے ابھارتے ان کے یہاں کشمیری تہذیب و ثقافت کے نمونے بھی جلوہ گر ہوتے ہیں۔ ان کے بارے میں نور شاہ لکھتے ہیں :
’’اسلوب کا ستھرا پن ان کی کہانیوں کی نمایاں خصوصیت ہے۔کشمیر ،کشمیریت اور کشمیر کی زندگی ان کے محبوب ترین موضوعات ہیں ۔‘‘ ۱۸؂
ترنم ریاض عصرِحاضر کی ایک نمایاں خاتون افسانہ نگار اور ناول نگار ہیں۔ ان کے افسانوں اور ناولوں میں کشمیر کی فضائیں اور ارد گرد کے حالات پوری طرح موجود ہیں۔ان کے تین افسانوی مجموعے، جن کے عنوان ہی کشمیر کے حوالے سے علامتی جہتیں واضح کرتے ہیں، منظر عام پر آئے ہیں ۔ان کا افسانوی مجموعہ’’یہ تنگ زمین ‘‘اسی وادی کا استعارہ ہے جو اپنے مکینوں کے لئے تنگ ہو چکی ہے۔’’ابابیلیں لوٹ آئیں گی‘‘ انصاف کی خواہش کا استعارہ ہے کہ آخر ایک دن ظلم کی یہ آندھی تھم جائے گی اور’’ یمبرزل‘‘ جو بہت ہی نازک پھول(نرگس) ہے اور گرمی سے برگ برگ جھڑ جاتا ہے یہ پھول گویاکشمیر کی حسین وادی کا استعارہ بنتا ہے جوریزہ ریزہ ہو چکی ہے۔ان کے افسانے’’ مجسمہ ‘‘میں کشمیر کی تہذیب اور تاریخی ورثے کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ کشمیریت کے مختلف پہلوؤں کو پیش کیا گیا ہے۔اس افسانے میں پھرن ،ٹوپی، سماوار، پیالے،اخروٹ پکنے کا موسم ،پیپر ماشی اور دستکاری وغیرہ کا ذکر ملتا ہے۔افسانہ ’’یمبرزل‘‘ کشمیریت کے حوالے سے ان کا ایک شاہکار افسانہ ہے جس میں کشمیری تہذیب و ثقافت کی شناخت نظر آتی ہے اسی طرح افسانہ’ کشتی، حور، برف گرنے والی ہے،پھول ،ماں ‘وغیرہ کشمیر کے پسِ منظر میں ہی لکھے گئے ہیں ۔ ان کے افسانوں کے بارے میں دیپک بدکی رقمطراز ہیں:
’’ترنم ریاض نے اپنے انفرادی کرب کوغمِ کائنات کا حصّہ بنا لیا ہے ۔ ایک جانب شہرِآشوب اور دوسری جانب بڑے شہر کی مصنوعی زندگی کا المیہ.......افسانہ نگار ہم عصر زندگی سے اپنے پلاٹ چنتی ہیں اور آس پاس کے ماحول سے کردار ڈھونڈ نکالتی ہیں‘‘۱۹؂
زاہد مختار جو عصرِ حاضر کے ابھرتے ہوئے قلم کا رہیں شاعری اور صحافت کے علاوہ افسانوی ادب میں بھی خاصی مہارت رکھتے ہیں ان کے دو افسانوی مجموعے ’’جہلم کا تیسرا کنارہ‘‘اور’’ تحریریں‘‘ منظر عام پر آئے ہیں۔’جہلم کا تیسرا کنارہ‘ افسانوی مجموعے کے اکثر افسانے کشمیر کے پسِ منظر میں لکھے گئے ہیں ۔ان کے کئی افسانے کشمیر کے عام انسان کا درد وکرب بیان کرتے ہیں جن میں’ سورج کا پہلا اندھیرا ،سحر ہونے تک،لمحے کا سفر ،پلِ صراط ،پہلا چہرا‘ وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔ان کا افسانہ’’ جہلم کا تیسرا کنارہ‘‘ ایک ایسے انسان کی رو داد ہے جس کا ہوس بوٹ سیلاب نگل لیتا ہے پھر زندگی کی کشمکش میں انہیں ہر وقت حالات سے دو چار ہونا پڑتا ہے۔پہلے ہوس بوٹ قہر خدا کا شکار ہوتا ہے پھر جہلم کے کنارے ان کا بنایا آشیانہ قہرِ آدم کا شکار ہوتا ہے ۔ یوں وہ بے سرو ساماں رہ جاتے ہیں ۔کہانی پڑ ھ کے پریم چند کی ناول گؤدان بھی ذہن میں ابھرآتی ہے۔ ویریندر پٹواری ان کے افسانوں کے بارے میں لکھتے ہیں :
’’کشمیر میں رہنے والے لوگوں کو آج بھی جسمانی ،ذہنی اذیتوں کا شکار ہونا پڑتا ہے۔وہ زاہد صاحب نے اپنی کہانیوں بعنوان پلِ صراط اور سورج کا پہلا اندھیرا میں بیان کیا ہے۔‘‘ ۲۰؂
مذکورہ بالا افسانہ نگاروں کے علاوہ کئی اہم اور قابلِ ذکر افسانہ نگار ہیں جن کے یہاں کئی افسانے کشمیر کے پسِ منظر میں لکھے گئے ہیں۔ کچھ کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں اور کچھ جموں اور پونچھ سے بھی ہیں جن کے نام یوں ہیں : ٹھاکر پونچھی ،موہن یاور ،تیج بہادر،علی محمد لون ،پریم ناتھ در،برج کتیال ،کلدیپ رعنا،مالک رام،غلام رسول سنتوش، بشیر شاہ ،عبدالغنی شیخ،مخمور حسین بدخشی ،شبنم قیوم ،حسن ساہو،خالد حسین ،اشوک پٹواری ،نذیر بونیاری ،مشتاق احمد وانی، مشتاق مہدی ، منظورہ اختر، غلام نبی شاہد ،منصور احمد منصور ،محمد شفیع ایاز ،مقبول ساحل ،نگہت نظر ،ریاض توحیدی وغیرہ ۔طوالت کی وجہ سے ان کی تفصیلات سے گریز کیا جاتا ہے۔ہو سکتا ہے ان ناموں کے علاوہ کچھ ایسے افسانہ نگار ہوں جن کا غیر شعوری طور پر نام رہ گیا ہو یا ان تک ابھی میری رسائی نہیں ہو پائی ہو جس کے لئے میں معذرت خواہ ہوں۔ البتہ میری ضرور یہ کوشش رہے گی کہ ان کے بارے میں بھی جانکاری حاصل کرکے مستقبل میں قارئین تک پہنچا سکوں۔ 

حوالہ جات
۱؂ کرشن چندر، دیباچہ، کشمیر کی کہانیاں
۲؂ ایضاً ، دیباچہ، الجھی لڑکی کالے بال
۳؂ ایضاً، افسانہ، بندوالی
۴؂ پریم ناتھ پردیسی، میں اور میرے افسانے
۵؂ برج پریمی، افسانہ : خوابوں کے دریچے، مشمولہ: سپنوں کی شام
۶؂ ایضاً، جموں کشمیر مین اردو ادب کی نشو نماں، ص۲۹
۷؂ حامدی کاشمیری، ریاست جموں کشمیر مین اردو ادب، ص۱۲۲
۸؂ محی الدین زورکشمیری ،برج پریمی کے افسانے اور کشمیر،مشمولہ: برج پریمی: حیات و ادبی خدمات،مرتب :پریمی رومانی، ص۱۷۳
۹؂ حقانی القاسمی، ویریندر پٹواری،مشمولہ:عصری تحریریں، مرتب:دیپک بدکی ، ص۵۶
۱۰؂ ویریندر پٹواری، قیدی افق، ص۷۹
۱۱؂ دیپک بدکی، ریزہ ریزہ حیات، ص۴۸
۱۲؂ نسرین نقاش،اسباق،جولائی ستمبر ۲۰۰۷، ص۵۴
۱۳؂ دیپک کنول، افسانہ:تفتیش، مشمولہ: برف کی آگ
۱۴؂ مظہر امام، بحوالہ :شیرازہ(جموں کشمیر میں اردو افسانہ نمبر)،کلچرل اکادمی سرینگر، ص۳۱
۱۵؂ نور شاہ، بے ثمر سچ، ص۰۷
۱۶؂ فرخ صابری،وادئ کشمیر کا افسانوی ادب، مشمولہ؛ یارہ ڈائجسٹ۲۰۰۹،ص۲۰۵
۱۷؂ عمر مجید ، شہر کا اغوا،مشمولہ:شیرازہ(اشاعت خصوصی بیادگار عمر مجید)،ص۱۱۲
۱۸؂ عمر مجید/ مرتب سلیم سالک، عمر مجید کے بہترین افسانے،ص۲۷
۱۹؂ دیپک بدکی، عصری تحریرں، ص۹۱
۲۰؂ زاہد مختار، تحریرین (ویریندر پٹواری: جہلم کا تیسرا کنارہ۔۔۔)،ص۸۲ 

 مضامین دیگر 


Comment Form



اردو فکشن

© 2017 Urdu Fiction. All right reserved.

Developed By: Aytis Cloud Solutions Pvt. Ltd.