’’چارنک کی کشتی‘‘ ناول نگاری کی راہ کا سنگ میل




ڈاکٹر امام اعظم
13 Aug, 2017 | Total Views: 293

   

فطری طور پر صدیق عالم ایک تنہائی پسند انسان ہیں، شاید اسی لئے ان کے لئے یہ ممکن ہو پایا کہ حکومت مغربی بنگال میں ایڈمنسٹریٹو پوسٹ کے فرائض انجام دیتے ہوئے بھی وہ شاعری کے نت نئے تجربے کرتے ہوئے خاص طور پر نثری نظم نگاری میں کمال حاصل کرتے ہوئے ایک ناول کو نثری نظم کی ہیئت دینے کے قابل ہوئے۔ اس ناول کی ہیئت کو ذہن میں رکھتے ہوئے اگر ان کی نظموں کا مطالعہ کیا جائے تو صاف دکھائی دے گا کہ انہوں نے اپنی نظموں میں ایک ایسے ڈکشن کی ایجاد کی ہے جو ناقابل تقلید ہے اور جہاں الفاظ اپنے تناظر خود بناتے ہیں ۔ عجب نہیں کہ اس بے مثال ڈکشن کے زیر اثر وہ ناول ’’چارنک کی کشتی‘‘ کی طرف مائل ہوئے ہوں ورنہ وہ ایک ایسی ہیئت کی طرف کیوں مائل ہوتے جو اس لافانی ناول کی مقبولیت کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ بن کر سامنے آنے والی تھی۔ دراصل وہ شروع سے ہی ’’شب خون‘‘ کی تحریک کے مقبول شاعر رہے جس کا نمونہ ان کا تازہ شعری مجموعہ ’’پتھر میں کھدی ہوئی کشتی‘‘ ہے۔ بقول خورشید اکرم :
’’
صدیق عالم کی نظمیں نئی حسیت لئے ہوئی ہیں۔ خیال اور اظہار دونوں سطحوں پر ان کی نظمیں اپنے ہم عصروں کی بہترین نظموں کے مقابل رکھے جانے کے قابل ہیں۔ ‘‘
)
نئی نسل اور نظم ، سہ ماہی’’ تفہیم‘‘ جولائی ۲۰۱۵(
آگے ان کے افسانوں کے حوالے سے شاعری کا ذکر کرتے ہوئے خورشید اکرم اس مضمون میں کچھ یوں رقم طراز ہیں:
’’
وہ لوگ جن کی بنیادی پہچان افسانہ نگاری ہے ان میں صدیق عالم کا نام سب سے اہم ہے۔ ‘‘ 
وہ یہیں رک نہیں جاتے بلکہ یہ بھی پیشن گوئی کرنے سے نہیں چوکتے کہ صدیق عالم کے بارے میں وثوق سے یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ وہ نئی نظم کے قافلے کے اہم رکن ہیں۔ دوسری طرف ڈراما نگاری میں انہوں نے اردو کو ’’کبڑا بچہ‘‘، ’’آخری مہرا‘‘ ، ’’کائنات ایک خود کار مشین‘‘ ، ’’ایک اندھے کا مکالمہ ‘‘سے لے کر ’’میری گلی میں بھی کتے ہیں‘‘ اور ’’پائپ ڈریم ‘‘تک پائے کے لاجواب ڈرامے دیئے۔ آخری ڈراما ’’پائپ ڈریم‘‘ میں پائپ سے ٹپکتے ہوئے پانی کے قطروں کو آنسو کی علامت بناکر درد انگیزی کی جس طرح منظر کشی کی گئی ہے وہ اردو ڈرامے میں کمیاب ہے۔ اب تک ان کے افسانوں کے تین مجموعے ’’آخری چھاؤں‘‘، ’’لیمپ جلانے والے‘‘ اور ’’بین‘‘ شائع ہوچکے ہیں مگر اب بھی ان کے اتنے افسانے مختلف رسالوں میں بکھرے پڑے ہیں کہ ان سے کئی مجموعے بن سکتے ہیں ۔ اسی دوران انہوں نے ناول ’’چارنک کی کشتی‘‘ تخلیق کر ڈالی جو اردو ناول نگاری میں ایک منفرد نوعیت کی چیز ہے۔ صرف اس لئے نہیں کہ فن ناول کی جملہ عناصر ترکیبی کی رعایت کرتے ہوئے اسے نثری نظموں کے سانچے میں ڈھالا گیا ہے۔ منظوم تاریخ نگاری، داستان نگاری ، واقعہ نگاری اور ڈراما نگاری کی روایت اردو میں پرانی ہے لیکن ناول کی تکنیک کو نثری نظم کی ہیئت میں ڈھالا ہوا اس کم سواد نے پہلی بار دیکھا اور فکر و فن دونوں سے خاصا متاثر ہوا۔ مگر ناول پڑھتے ہوئے دھیرے دھیرے مجھے اس بات کا احساس ہوا کہ اس کی زیریں لہروں میں ایک ایسی دنیا آباد ہے جس سے گذرتے ہوئے انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ 
صدیق عالم چونکہ بنیادی طور پر ایک فکشن نگار ہیں اس لئے’’ چارنک کی کشتی‘‘ پر کچھ لکھنے سے پہلے لازمی ہے کہ ان کی فکشن نگاری کی ایک چھوٹی سی تصویر پیش کر دی جائے۔ 
بر صغیر میں صدیق عالم فکشن کا ایک بہت ہی نمایاں نام بن کر ابھرے ہیں (بلکہ انہیں اکیسویں صدی میں ایک بڑے فکشن نگار کے طور پر دیکھا جانے لگا ہے۔) انہوں نے افسانہ لکھنے کی شروعات ترقی پسند تحریک کے زیر اثر سماجی حقیقت نگاری سے کی مگر وہ زیادہ دنوں تک اس کے اسیر نہ رہے جب کہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ان دنوں بھی ان کے ’مردے شہر میں‘ جیسے افسانے روایتی حقیقت نگاری کے فریم کوتوڑتے نظر آتے ہیں جب مردہ خانے میں مردے ایک ایک کرکے جاگ اٹھتے ہیں اور اس زندگی کو دیکھنے کی چاہ میں جو ان کے بعد شہر میں گزاری جا رہی ہو ایک ایک کرکے شہر کے اندر داخل ہونے لگتے ہیں۔ یہاں افسانہ اچانک سماجی حقیقت نگاری سے نکل کر میجک ریلزم کے زمرے میں داخل ہوجاتا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ چالیس سال قبل جب یہ افسانہ لکھا گیا اس وقت جدیدیت کا دو ر دورہ تھا اور مابعد جدیدیت اور میجک ریلزم جیسی اصطلاحات سے لوگ واقف بھی نہ تھے اور میرا خیال ہے کہ خود صدیق عالم کو ان باتوں کا پتہ نہ ہو۔ بعد میں ان کی افسانہ نویسی میں یہ عناصر زیادہ نمایاں ہوتے چلے گئے۔ (’’بنجامن کافلیٹ‘‘، ’’ڈھاک بن‘‘ ، ’’فورسیپس‘‘ ،’’ ٹرمینس لین‘‘، سے لے کر ’’بین‘‘ اور ’’پیراسائٹ‘‘ وغیرہ وغیرہ) ساتھ ہی انہوں نے fragmentation کی ٹیکنک کا بھی تجربہ افسانوں میں کیا جسے ہم ایک کالی کہانی اور کلائڈسکوپ میں دیکھ سکتے ہیں۔ دوسری طرف انہوں نے alternative realityکی تشکیل بھی کی جس کی نظیر کم از کم مجھے اردو کے کسی فکشن نگار کے اندر دکھائی نہیں دیتی (’’گھاس ، مسکراہٹ اور پھولدان‘‘ ، ’’اکٹوپس‘‘، ’’لیمپ جلانے والے‘‘، ’’نادر سکوں کا بکس‘‘، ’’کھوکھلے پیڑوں کی چپ ‘‘ ،’’ خدا کا بھیجا ہوا پرندہ ‘‘، ’’مرے ہوئے آدمی کی لالٹین‘‘ اور’’ دروازہ‘‘ ) جب ایک مصنف کا کینوس اتنا وسیع ہو تو ان پر قلم اٹھانا ایک طرح سے ناممکن ہوجاتا ہے ۔ اسی لئے میں نے ناول’’ چارنک کی کشتی‘‘ تک خود کو محدود رکھا ہے اور اپنے ناقص ذہن سے اسے سمجھنے کی جو ایک ناکام سی کوشش کی ہے اس مضمون کو اسی کا حاصل سمجھنا چاہئے۔ 
کہا جاتا ہے کہ جاب چارنک پہلا فرنگی ہے جس کی کشتی کا کلکتہ کے ساحل سے آ لگنا تاریخ کا ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔ شاید اسی لئے ناول اس کردار کی ایک چھوٹی سی تصویر کشی کے ساتھ شروع ہوتا ہے جب چارنک نے ’پیتل کی عفریت نما گھنٹی ‘اپنے وطن سے منگائی تھی اور تاڑی کے نشے میں چور برگد کے پیڑ کے نیچے ایک چارپائی پر بیٹھا تھا ۔ یہاں پر چارنک کا کردار تاریخی حقائق پر مبنی ہوتے ہوئے بھی ایک فکشن کے کردار کے طور پر ہی سامنے آتا ہے اور یہی اس ناول کا منشا بھی ہے جب چارنک اپنے دیسی نوکر سے حقہ کی نے قبول کرتے ہوئے یوں اپنی زوجہ ماریا سے جسے اس نے ستی ہونے سے بچایا تھا، مخاطب ہوتا ہے:
’’
ماریا ، ہمارا مٹی اور لکڑی کے چرچ کا ٹاور/کب اتنا مضبوط ہوگا/کہ ولکنسن کا تیار کردہ یہ بوجھ سنبھال سکے/ پھر بھی یرمیّا سے کہہ دو / اسے سختی سے باندھ کر لٹکا دے/ زور زور سے بجائے ، کردے اعلان/جسے سنے ساری دنیا، نہ کہ صرف ہندوستان/ آئے تمام قوموں، تمام سرزمینوں کے لوگ/زیر افلاک/ہوں وہ ہندوستانی، کشمیری ، مدراسی یا پارسی/یہودی، فرانسیسی ، ولندیزی کہ پرتگالی /حبشی، عرب، ترک یا مور/ حبشی ، عرب، ترک یا مور/چینی، ارمنی، جارجی، مغل/پٹھان ، شیخ، سنیاسی ، پوگئے /ہوں وہ غریب ، امیر، راجہ یا فقیر/چور، اچکے، راہزن ، ٹھگ یا اٹھائی گیر/سفید بادلوں سے ڈھکے اس آسمان کے نیچے/ جہاں تک، اس گھنٹی کی آواز گونجے/ سب آئیں/اپنی اپنی جنس کے مطابق پھلیں پھولیں/اپنے خواب کا شہر بسائیں .....‘‘
)
ناول کی تمہیدی نظم ’’افتتاحیہ‘‘ کا ایک بند ص:۱۵۔۱۷(
ا س طرح جب اصل ناول شروع ہوتا ہے تو ان تمام لوگوں کی تصویریں ابھر کر سامنے آجاتی ہیں جو اس شہر کی تقدیر بننے والے ہیں۔ ایک شہر بستے بستے بستا ہے مگر کلکتہ کی قسمت یہ تھی کہ وہ شروع ہی سے گلوبل طاقتوں کے زیر اثر اپنے خط و خال طے کرے۔ ظاہر ہے ، فرنگیوں کی استعماری طرز فکر نے بنگال کی اس ساحلی بستی کو ایسی مدنیت بخشی کہ اسے غیر منقسم ہندوستان کی راجدھانی بننے کا شرف حاصل ہوگیا اور حالات کے جبر نے مغربی و مشرقی ثقافتوں کے بے میل اتصال سے پروان چڑھے اس جدید و متمدن شہر کلکتہ کو پورے برصغیر کی تشنہ کام زندگیوں کی توجہ کا مرکز بنادیا۔ پھر تو ارتقا کے دھارے میں جیسا کہ ہوا کرتا ہے وہ سب کچھ بھی شامل ہوتے گئے جو عموماً ناموزوں ہوا کرتے ہیں مگر وہ معاشرہ اور تمدن کے جزو لاینفک ہوتے ہیں۔ انسانی جبلت کے ایسے پہلو ہمیشہ صالح فکر کو کچوکے لگاتے رہتے ہیں۔ کلکتہ کو معرض وجود میں آئے تقریباً تین صدیاں بیت گئیں۔ تاریخ بدلی، حالات بدلے، شہر تالاب سے جھیل اور جھیل سے سمندر بنا ، نام بدلے مگر کئی کئی اعتبار سے ماضی نہیں بدلا بلکہ کلکتہ کولکاتا میں جیتا ہے۔ دنیا سمجھ رہی تھی کلکتہ مر رہا ہے مگر ناول نگار کے نزدیک یہ شہر زندہ تابندہ ہے۔ اسی خیال کو منفرد فکر کے ساتھ صدیق عالم نے ’’چارنک کی کشتی‘‘ میں پیش کیا ہے۔ ناول میں شہر کلکتہ کے حوالے سے نوجوان ادیب شاہد اقبال اپنے مضمون ’’اکیسویں صدی میں مغربی بنگال میں اردو ناول ‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’
۔۔۔ایک ادیب اور شاعر کی آنکھ اس وقت بھی دیکھ رہی تھی کہ کلکتہ جاں بلب نہیں ہے، ابھی اس میں زندگی کی بہت رمق باقی ہے۔ اسی لیے قاری کو ’’چارنک کی کشتی‘‘ میں وہ مرتا ہوا کلکتہ نظر نہیں آتا بلکہ ناول کے کرداروں میں زندگی سے بھرپور کلکتہ کی موجودگی کا احساس ہوتا ہے۔ ایک ایسے کلکتہ کی موجودگی کا احساس جواز خود درد والم میں مبتلا ہے مگر مادر مہربان ٹریسا کی مانند سسکتی بلکتی انسانیت کے رستے ناسوروں پر مرہم لگانے سے باز نہیں آتا ہے۔ ‘‘
)’’
تمثیل نو‘‘ دربھنگہ ، جولائی ۲۰۱۴ تا جون ۲۰۱۵ء ، ص:۲۰۱(
صدیق عالم نے ایک وسیع پلاٹ میں جو بہت سارے پلاٹ میں منقسم ہے اور ایک دوسرے سے الگ ہوتے ہوئے بھی حیرت انگیز طور پر ایک دوسرے سے مربوط ہیں ایک شہر کو ایک بے کنار سمندر کی علامت بنادیا ہے جس میں کرۂ ارض کے مختلف خطوں سے لوگ ندیوں کی طرح آتے اور ضم ہوتے رہے۔ کرداروں اور واقعات کا ایک بوکھلا دینے والا ہجوم ہے جو اس سمندر میں تیر رہا ہے اور غوطے کھار ہا ہے۔ اس کے واقعات کرداروں کی زبان سے بیان ہوتے ہیں۔ پلاٹ، سماج میں ناموزوں سمجھے جانے والے لوگ جیسے بھٹا چارج ، فادر ہرے رام، سماج کے ردکردہ یعنی social discardsمثلاً چورنگی ، بابا پیڑ، soically corradedمثلاً ایلین، مقیم اور سماج کی نادیدہ قوتوں کے استحصال کے شکار جیسے کلیسا ، علی بابا اور گھڑی پال وغیرہ پر مرکوز متعدد واقعات کے ذیلی کرداروں سے بُنے گئے ہیں۔ ناول کے اختتام پر تمام ذیلی پلاٹ اور تمام متذکرہ مرکزی کردار مل کر ایک انتہائی حیرت انگیز کلائمکس کی تشکیل کرتے ہیں جو قاری کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر تا ہے۔ اس تناظر میں ناول کے ناشر کا کہنا برمحل لگتا ہے کہ:
’’
۔۔۔ایک طرح سے دیکھا جائے تو ان تمام کرداروں میں کلکتہ کے بانی جاب چارنک کے کردار کی تمام خصوصیات موجود ہیں جو خود بھی ایک سیمابی اور سیلابی طبیعت کا آدمی تھا۔ شاید چارنک ان ناواجب اور نادرست کرداروں کے اندر آج بھی زندہ ہے اور کلکتہ چارنک کی کشتی ہے جو اپنے جاوداں سفر پر رواں دواں ہے۔ ناول کے کردار سماج کے حاشئے پر زندہ ضرور ہیں مگر سماج پر جن افراد کا قبضہ ہے کیا وہ صحیح معنوں میں ان عناصر پر فیصلہ دینے کی سند رکھتے ہیں؟‘‘
میرے خیال میں یہی وہ اہم سوال ہے جو ناول نگار کے ذہن پر نقش کرنا چاہتا ہے۔ اس لئے انہوں نے ناول کے آغاز میں ہی جاب چارنک کی جبلت کو ناول کا پس منظر بنایا ہے اور اختتامیہ تک لاکر پھر سے شہر اور اس کے کرداروں کو اس طرح چھوڑ دیا ہے جیسے وہ شہر نہ ہو ایک سمندر جسے رہتی دنیا تک قائم رہنا ہے۔ 
ناول کے کردار تخئیلی ہوتے ہوئے بھی یہ شہر کے تمدنی ارتقا کی بوالعجبیوں کی زندہ مثال ہیں اور ان کے مکالمے کرداروں کے حسب حال اس قدر فطری ہیں کہ وہ خود کرداروں کی تصویر بن کر ابھرتے ہیں۔ جہاں تک ان کی مکالمہ نگاری کا تعلق ہے صدیق عالم کی فکشن نگاری کا ایک خاص عنصر ہے اور یہ ان کے افسانوں کی ایک خاص پہچان ہے جو ہمیں چارلس ڈکنس کی یاد دلاتا ہے جن کے مکالمے اسی طرح اپنی ایک خاص پہچان رکھتے ہیں، شاید اسی مکالمہ نگاری نے انہیں ڈرامے کی طرف مائل کیا ہو ۔ دوسری طرف ان کی کردار نگاری اس قدر فطری ہے کہ کسی بھی کردار میں کوئی جھول نہیں ملتا کہ ان کے قول و عمل کی کشمکش ہی ناول کو دلچسپ انداز میں ارتقا کی طرف گامزن رکھتی ہے۔ اس طرح یہ ناول موضوع اور تجربہ دونوں لحاظ سے ایک اہم ناول بن گیا ہے۔ معروف محقق و ناقد پروفیسر یوسف تقی ’’چارنک کی کشتی‘‘ میں سماج کے پسماندہ طبقوں کے متعلق رقم طراز ہیں:
’’
اس ناول میں ان پست طبقوں کی زندگی کا بڑا بے باکانہ اظہار ہے، جس طبقے کو اشرافیہ تو درکنار، متوسط طبقہ بھی منہ لگانا کسر شان سمجھتا ہے۔ ناول میں جہاں اس طبقے کی گری ہوئی حرکتوں کو دکھایا گیا ہے ، وہیں اس کے اندر پوشیدہ ایثار اور قربانی کے جذبے کو بھی پیش کیا گیا ہے۔ میرے خیال میں اس ناول میں ناول نگار کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ اس دنیا میں کوئی بھی قابل نفریں نہیں ہے۔ ‘‘
)
بنگال میں اردو ناول، ص:۱۳۵(
مگر اس کا اسلوب بیان، سلیس نثری پیرایہ میں نہیں بلکہ خلاف معمول غیر مانوس شعری تلازمات اور جدید شعری ہیئت پر مبنی ہے۔ اس لئے شاید عام قاری کو متاثر نہ کر پائے۔ چونکہ اردو کا عام قاری ویسے بھی شعر فہمی سے عاری ہوتا جارہا ہے او ر جو کچھ ذوق رکھتا بھی ہے وہ بالعموم پابند شاعری کی سمجھ کا عادی ہے۔ اسی لئے اردو میں نثری نظموں یا آزاد شاعری کو قبولیت عام نصیب نہ ہوسکی کہ عام قاری کا mental block اس کے معروضی مطالعے کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنتا ہے۔ ناول نگار خود بھی اس صور ت حال سے بخوبی واقف ہے ۔ اپنے شعری مجموعہ ’’پتھر میں کھدی ہوئی کشتی‘‘ کے پیش لفظ میں یوں اعتراف کیا ہے:
’’
دراصل جسے کنفیوز ڈ قاری نثری نظم سمجھتے ہیں اس کا سارا کھیل ہی لفظوں کے اندرونی نظام میں پوشیدہ ہے۔ شاعری کا داخلی آہنگ اور اس کے musical dynamicsکو سمجھنا ایک ایسے قاری کے بس کی بات نہیں جس کا ذہن پہلے سے conditionedہو۔ ‘‘
ظاہر ہے، ایسے لوگ ایسے ناول میں مغزماری کیوں کریں؟ کہ آزاد شعری تلازمات کے داخلی آہنگ اور معنوی زیریں لہروں کو پکڑ کر نثری اسلوب کا سا تسلسل قائم کرکے اور کڑی سے کڑی ملاکر نتیجہ اخذ کرنے کی ذہنی تگ و دو آسان کام نہیں ہے۔ 
لیکن اس حقیر نے جہاں تک سمجھا ہے، اس کا موضوع اور مواد ہمیں یہ جاننے کے لئے اکساتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں تبدیلیوں کا سفر کن مرحلوں اور منزلوں سے گزرا ہے اور اب ہم کہاں کھڑے ہیں۔ آج معاشرے پر منفی قدروں کا گھیرا تنگ ہوتا جارہا ہے ایسے میں منفی اقدار کی توبیخ کنی کرنے کا احساس و شعور بیدار کرنے کی صدیق عالم نے کامیاب سعی کی ہے۔ جہاں تک ہیئتی اور فنی تجربہ کی بات ہے تو یہ روش عام بنتی جارہی ہے۔ بقول شمس الرحمن فاروقی:
’’
جدید تہذیب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ متروکیت (Obsolescence) کی تہذیب ہے۔ یہاں اشیاء جلد جلد پرانی ہوتی ہیں۔ علم و دانش کی دنیا عام طور پر متروکیت سے معنوی مربوط رہتی آئی ہے لیکن آج علم و دانش کی فیشن ایبل دنیا میں متروکیت کا دور دورہ ہم اس قدر دیکھتے ہیں کہ کیا عالم اور کیا طالب علم ، سب اس پھیر میں ہیں کہ کوئی ’’نئی بات‘‘ پیدا کی جائے اور اگر کوئی نیا نظریہ پیش کیا جاسکے تو پھر کیا کہنا۔ اس بات سے ہمیں غرض نہ ہونا چاہئے کہ اس ’’نئے نظریے‘‘ کو ثبات کتنا ہوگا؟‘‘ (شرح کی تعبیر ، ص:۱۸۷(
یہی صورت حال تخلیقی اور ہیئتی تجربوں کی بھی ہے۔ ایسے ادب کی تخلیق کا کیا حاصل جو ہماری سوچ کے دھارے کو نہ بدل سکے اور نئے شعور کو عام نہ کر سکے۔ ایسا تبھی ممکن ہوگا جب کوئی نظریہ، کوئی تخلیق ، ہیئت و مواد ہر دو لحاظ سے قاری کو متاثر کرے۔ عموماً صورت و ہیئت کا جمال پرکشش ہوا کرتا ہے اور مواد بمثل سیرت اثر ڈالتا ہے۔ تاہم ہر تجربے کو نامطبوع ٹھہرایا نہیں جاسکتا۔ لہٰذا صدیق عالم کا یہ ہیئتی تجربہ قابل اعتنا لگتا ہے۔ جس طرح دوسری زبانوں میں نثری نظموں اور آزاد شاعری کا چلن عام ہوتا جارہا ہے اسی طرح کبھی اردو میں بھی اسے پذیرائی نصیب ہوئی تو صدیق عالم کی یہ کاوش یقیناًبہ نظر استحسان دیکھی جائے گی۔ لہٰذا اس تخلیقی تجربہ کو معقولیت کی کسوٹی پر پرکھا جائے تو اردو ناول نگار ی کے ارتقائی سفر کا یہ سنگ میل ثابت ہو گا۔ 
***
*
ریجنل ڈائریکٹر (مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی ) ، کولکاتا ریجنل سینٹر
۷۱؍جی، تلجلا روڈ ، کولکاتا۔۷۰۰۰۴۶ ؛ موبائل : 08902496545 / 9431085816
ای میل : imamazam96@gmail.com

 مضامین دیگر 


Comment Form



اردو فکشن

© 2017 Urdu Fiction. All right reserved.

Developed By: Aytis Cloud Solutions Pvt. Ltd.