خْورشید حیات :: تخلیقی بیانیہ کی ایک منفرد آواز




ڈاکٹر عشرت ناہید
22 Aug, 2017 | Total Views: 248

   

خْورشید حیات ایک ایسے افسانہ نگار کا نام ہے جو اپنے تخلیقی لمحات میں , لاشعْوری طور پر ایک دریا کی خصْوصیات کو سمیٹے ہوئے ، کْچھ اس طرح بہتا نظر آتا ہے کہ اس کا تخلیقی عمل کسی منصْوبہ اور منشْْور کا شکار نہیں ہوتا ۔ شاید یہی وجہ رہی ہوگی کہ خْورشید حیات کی ہر کہانی کی بنت میں کئی نہریں بہتی نظر آتی ہیں جو خْشک زمین کی مٹّی کو کاٹ کر پوکھر بنا دیتی ہے ۔ ان کی کہانی " پہاڑ ندی عورت " ، " آدم خور " ہو یا پھر " پانچ اْنگلیاں " ، اس کا خْود رو بہاؤ بے حد اثر انگیز ہے ۔ ان کی کہانیوں میں تھکی تھکی سی سہمی ہوئی ہوائیں صنوبر سے لپٹ کر آج کی زندگی کا قصّہ بیان کرتی ہیں ۔ قبل اس کے کہ میں خْورشید حیات کی ان تین کہانیوں پر اپنے مختصر تاثرات پیش کروں ۔ میں بہت پیچھے کی طرف لوٹتی ہوں کہ ہر فنکار پر کچھ لکھنے سے پہلے ماضی کے دریچوں کو کھولنا ضروی ہوتا ہے ۔ یہ تو اچھا ہوا کہ لکھنؤ شہر کی مختلف لائبریریوں میں مجھے " معلم اردو " ،" آہنگ " ، " شاعر " ، " نیا دور " آج کل ، ضمیمہ وغیرہ کے علاوہ بچوں کے کئی رسائل کی مکمّل فائل مل گئی ۔ اگر شہر میں لائبریری نہ ہوتی تو میری تحریر صحیفہ چراغ نہ بنتی ۔ افسانہ نگار کوئی بھی ہو صرف اپنے ظاہری خد سے نہیں پہچانا جاتا بلکہ اس کے جسم کے اندر رقص کرتی ہوئی رْوح سے مْکالمہ قائم کرنا بھی ضروری ہوتا ہے ۔ 
ہر حسّاس آدمی کے اندر تھرکنے والی رْوح ایک نئی تخلیق کا مطالبہ کرتی ہے ، ایک ایسی تخلیق جو ہر عہد میں اپنی تازگی برقرار رکھ سکے ۔ ہر دور کا ادب زندگی کے نئے موضوعات کے ساتھ اپنا اسلوب لے کر آتا ہے ۔ خْورشید حیات ایک ذہین ، حسّاس اور درویشانہ صفت افسانہ نگار کا نام ہے ۔ جس کی تخلیقی نثر ، اْسے اپنے ہم عصروں میں صنادید کی صورت عطا کرتی ہے ۔ خورشید حیات کی ادبی زندگی کا آغاز اْنیس سو چہتّر عیسوی میں ہْوا ۔ جب ان کی پہلی کہانی " عقلمند حاکم " ، بچّوں کے رسالہ " نْور " رامْپور یْو پی میں شائع ہوئی ۔ ابتدا میں اْنہوں نے بچّوں کے لئے خْوب لکھا ۔ جس میں زیادہ تر کہانیاں ، نْور ( رامپور ، یو پی ) ، پیام تعلیم ( نئی دہلی ) ، نوخیز ( کولکاتا ) ، آج کل ضمیمہ ( نئی دہلی ) ، الحسنات ( رامپور ) ، خْوشبو ( سہسرام ) اور کئی دْوسرے بچّوں کے اہم رسائل میں شائع ہوئیں ۔ میرے سامنے جن رسائل کی فائل موجود تھیں ، میں نے ان کا ذکر کر دیا ۔ اسی زمانے میں بچّوں کی عام معلومات میں اضافہ کی غرض سے انہوں نے " ریڈیو نورستان " میں معلوماتی تھرمامیٹر کا نیا سلسلہ بھی شروع کیا تھا ۔ مگر ملنگ ایسے کہ بچوں کی کہانیوں کا کوئی مجموعہ نہیں لائے ۔ جبکہ انیس سو اسّی ۔ اکیاسی عیسوی تک بچّوں کے لئے لکھی گئیں ان کی کہانیاں " انوکھی تبدیلی ( آج کل ۱۹۸۱ء ) ،" بھٹکے قدم"( نور ، خوشبو ۱۹۷۹ء ) . " شرارت کا مزا " ( خوشبو سہسرام ، جون ۱۹۷۹ء ) ، '' راشد کی الجھن" ( نور، فروری۱۹۸۱ء ) ،" ڈاکیا " ( نور ، فروری ۱۹۸۰ء) ، " رْوم ہیٹر " ( نئی نسلیں ، دسمبر۱۹۸۰ء) ، " سچّا بندہ " ( خوشبو ، سہسرام ، جولائی۱۹۸۰ء) ، " آدمی کی آنکھ " ( الحسنات ، دسمبر ۱۹۸۰ء)" ، اشتہار ( نور ، ستمبر انیس سو اسی ) ، " نیا سویرا "( پیام تعلیم ) وغیرہ بچّوں کے رسالوں میں شائع ہو کر مقبول ہو چکی تھیں ۔ 
خْورشید حیات نے ، کہانی کو کبھی بھی علم الحساب کا فارمْولا نہیں سمجھا بلکہ اپنی فکری بصیرت کے ساتھ ، احساس کی پرت کو ، لفظوں کی تخلیقی زبان عطا کرتے ہوئے ایک ندی کی طرح بہت خاموشی سے بہتے رہے ۔ شاید کہ وہ ، لہراتی ، بل کھاتی ، تھرکتی اور مچلتی ہوئی ایک ندی کی طرح ہیں یا پھر اس دریا کی طرح جو جھکولے دئے جاتا ہے ۔ اْنیس سو چہتّر سے اْنیس سو اکاسی تک ، بچّوں / نو عمروں کے لئے لکھی گئیں زیادہ تر کہانیوں میں ، ان کے آس پاس کی زندگی کے کردار کبھی ماسٹر صاحب کے بیٹے ندیم کی صْورت میں نظر آتے ہیں تو کبھی راشد اور ظفر کی صْورت میں ۔ مجھے بچّوں کے لئے لکھی گئی ان کی کہانیوں کو پڑھ کر ایسا کیوں لگا کہ واقعات اور کردار آج بھی بہتی ہوئی ہواؤں میں سانس لیتے ہیں ۔ عمر کے مْختلف مدارج کے بچّوں کے لئے کہانیاں لکھنا کوئی آسان کام نہیں ہوتا ۔ چودہ سال سے بیس سال کی عْمر تک انہوں نے آسان زبان میں ادب اطفال کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے ، معنویت اور افادیت کے اعتبار سے کئی اچھّی کہانیاں لکھی ہیں ۔ 
بچّوں کی کہانیوں کی ابتدا ماں کی گود سے شروع ہوتی ہے ۔ 
کہانی کا سفر تو " گود " سے " گور " تک ہے یا پھر کہانی ہر عہد میں سانس لیتے ہوئے اس جہاں میں بھی سفر کرتی ہے جو میری ادراک سے پرے ہے ۔ 
خورشید حیات کی تربیت میں ان کی ماں آصفہ خاتون ( مرحومہ ) اور والد سید محمّد ابوالحیات شیدا ( مرحوم ) کا دخل رہا ہے ۔ جس کا تذکرہ انہوں نے اپنے افسانوی مجموعہ " ایڈز " میں شامل اپنے " میں " میں کیا ہے ۔
" انیس سو چہتر کی ایک رات میرے اندر تخلیقی لہر کب اور کیسے داخل ہو گئی ' مجھے معلوم نہیں کہ گھر کے آنگن میں دور دور تک کوئی کہانی کار / شاعر نہیں تھا ۔ ہاں والد محترم ابوالحیات شیدا ( مرحوم ) کی ذہنی تربیت نے " سرمایہ حیات " ( ذاتی لائبریری ) میں رکھی ادبی / مذہبی کتابوں میں چھپے ہر لفظ سے مجھے روشناس کرایا اور پھر رانچی سے لکھے ان کے ایک تفصیلی خط نے مجھے کہانی کار بنا دیا کہ ہر لفظ کچھ کہہ رہے تھے اور مجھے زندگی کی حقیقت سمجھا رہے تھے ۔ دوسری طرف میری صاف ستھری / نکھری زندگی میں میری امی کا بہت بڑا ہاتھ رہا کہ انہوں نے انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا ۔ انیس سو چہتر عیسوی کی وہ رات میری زندگی کا ایک اہم واقعہ ہے کہ ابی کے قلم سے نکلے ہر لفظ میری نیند چرا کر لے گئے تھے ۔ رات بھر میں کچھ لکھتا رہا ، کاٹتا رہا ، رد و قبول کی منزلوں سے گزرتا رہا اور پھر جو کچھ میرے قلم نے مجھ سے لکھوایا اسے ایک لفافہ میں بند کر کے بچوں کے رسالہ " نور " میں بھیج دیا ۔
( " میں " افسانوی مجموعہ " ایڈز " صفحہ نمبر : دس سے اقتباس )
اْنیس سو اسّی کے زمانہ میں جب خْورشید حیات کی نگاہیں زمین پر فالج زدہ ہونٹوں کی جْنبش کو محسْوس کرتی ہیں تو وہ " بابا " بن جاتے ہیں اور پھر شروع ہوتا ہے ان کہانیوں کا سلسلہ جسے ہم نئی کہانی / آج کی کہانی کے نام سے پکارتے ہیں ۔ 
ملک اور بیرون ملک کے تمام اہم ادبی رسائل میں اپنی تخلیقی نثر کا جادو بکھیرنے والا یہ قلندر صفت افسانہ نگار ، ریلوے کی زندگی کا حصہ بننے کے باوجود ہر موسم میں اپنی موجودگی کا احساس دلاتا رہا ہے ۔ ان کی کہانیوں کو اعتبار انیس سو چھیاسی عیسوی میں کچھ اس طرح ملا تھا کہ " معلم اردو " لکھنؤ نے اکتوبر میں ان پر خصوصی گوشہ شائع کیا وہ بھی جگن ناتھ آزاد کے ساتھ ۔ یہ وہ زمانہ تھا جب کسی رسالہ کا خصوصی شمارہ لیتھو پریس میں افسانہ نگار سے رقم لئے بغیر شائع ہوا کرتا تھا ۔ اْسی سال کلام حیدری کے رسالہ " آہنگ " کے فکشن سیمینار ورکشاپ نمبر( اپریل ، انیس سو پچاسی عیسوی )، قوس " نیا افسانہ نئے نام ( مئی ، انیس سو پچاسی عیسوی ) اور حالی رسالہ کے " نئی کہانی نیا مزاج " نمبر ، ( شمارہ پانچ ۔ چھہ ، انیس سو چھیاسی عیسوی ) نے ان کی مقبولیت میں اضافہ کیا ۔
خورشید حیات کا پہلا افسانوی مجموعہ " ایڈز " بہار اردو اکادمی کے مالی تعاون سے ، دو ہزار عیسوی میں شائع ہوا تھا ۔ جس میں ان کے پندرہ افسانے شامل ہیں ۔ اردو کہانی کے عالمی منظرنامے پر خورشید حیات وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے ایڈز سے پھیلنے والے خوف و دہشت کو علمی ، اور طبی سطح سے الگ ہٹ کر فنکارانہ شدت کے ساتھ انیس سو پچاسی عیسوی میں محسوس کیا ۔ جدید عہد کے انتشار کے ساتھ ، اس انتشار سے نجات کی صورت بھی اس کہانی میں دکھائی دیتی ہے ۔
" مجھے اپنے قریب بلا لو بابا ،اور الف لیلیٰ والی داستان اپنے ببلو کو سناؤ کہ وہ سونا بھول گیا ہے "
( ایڈز : صفحہ ۔۱۶ )
آج کے سہمے ہوئے ، گھبرائے ہوئے آدمی کی سرگوشی ، اور ناسٹلجک کیفیت ان کی کہانی" بابا " میں سمندر کے تلاطم کی طرح ابھر کر سامنے آتی ہے ۔
" تم بھول گئے عبد اللہ !"
" رشتہ ختم کر دیا تم نے ۔ یہ تو سوچا ہوتا کہ مجھے تم سے علیحدہ کرنے والا کون تھا ؟ نہ تم تھے اور نہ میں تھا ۔ یہ وقت تھا میرے بیٹے ، جس نے مجھے تم سے جدا کر دیا اور میں اور تم زمین کے ایک ایک ٹکڑے کے وارث بن گئے ۔ طاقت حاصل کرنے کے لئے حکومت حاصل کی جاتی ہے اور حکومت تو ایک یا چند ہاتھوں میں مرکوز ہوتی ہے ۔ باقی لوگ تو جدا ہونے کا کرب ہی محسوس کرتے ہیں ۔ "
( بابا ۔ خورشید حیات افسانوی مجموعی ایڈز ص۔۳۴ )
خورشید حیات جب صوفیانہ واردات قلبی کو فسانہ بناتے ہیں تو اپنی کہانی " طوفان سے پہلے اور طوفان کے بعد " میں کچھ اس طرح اپنے قاری سے مخاطب ہوتے ہیں :۔
"دروازہ بند نہیں ہوتا میرے عزیز ! دروازہ کبھی بند نہیں ہوتا ۔ ایک دروازہ کو بند کرنے سے کئی دروازے کھل جائیں گے ، اور ہر دروازہ تمہیں نئی آواز دے گا ۔ ایک ہی " راستہ ہے دروازہ کھلا رہنے دو پھر دیکھو فطرت کیا چاہتی ہے ؟ ہم کیا چاہتے ہیں ؟؟"
۔۔۔خورشید حیات اپنی کہانی میں سنہری مشرقی اقدار کو از سر نو دریافت کرنا چاہتے ہیں ۔ جدید اذہان جب دنیاوی آقاؤں کے غلام بننے لگے اور ہماری تہذیب کی ہر کتاب کے پنوں پر مشینی معاشرت کی دھول جمنے لگی تو وہ "وقت کے احاطے میں " تو کبھی " چلتی رکتی گاڑی کے بیچ " جدید عہد کے آدمی سے نیا ڈائلاگ قائم کرتے ہیں ۔
خورشید حیات اسی کے دہے میں بھی اپنی کہانیوں . تنقیدی مضامین اور ادبی مکالموں کی وجہ سے قاری کے ذہن و دل کے بہت قریب تھے اور آج بھی ہیں ۔ نویں دہائی کے افسانہ نگاروں پر سب سے پہلے نئے مکالمے کا آغاز ، آہنگ اپریل انیس سو پچاسی کے خصوصی شمارہ میں کلام حیدری ، شوکت حیات ، عبد الصمد اور رضوان احمد سے انٹرویو کے دوران انہوں نے ہی کیا تھا ۔ ہاں ایک سچ یہ بھی ہے کہ جب " ایڈز " افسانوی مجموعہ ، سال دو ہزار میں منظر عام پر آیا تو اردو کے تمام اہم سینیر افسانہ نگار اور ناقدین نے ان کے افسانوں کو کافی سراہا ۔ خورشید حیات کے افسانوی مجموعہ " ایڈز " پر چند اہم ناقدین اور افسانہ نگاروں کی رائے ملاحظہ فرمائیں :
۔۔۔
:: گوپی چند نارنگ 
" آپ کا " میں " بہت خوب ہے ، لفظ کی حرمت / مٹی کی ہانڈی / لوہے کے برتن / اپنی مٹی وغیرہ استعاروں کی مدد سے آپ نے اپنی بات نہایت خوبصورتی سے کہہ دی ہے ۔" ( شاعر ۔ نومبر ۲۰۱۰ء ،ص۔۵۷ )
:: کلام حیدری 
گولڈ رش کے تحت دوڑتا بھاگتا فرد ایک بھیڑ چال کی نمائندگی کرتا ہے ۔ سادگی معصومیت اور قناعت سے قطع تعلق جس تعلق کو جنم دیتا ہے وہ فیٹل ہے ۔ فطرت سے انحراف کی سزا فطرت ہی تجویز کرتی ہے ۔ حرص بربادی کی صد صورتیں رکھتی ہیں ۔ افسانہ " ایڈز " جدید مغربی تہذیب پر بھی طنز ہے اور ایشیائی غریب ملکوں کی بیچارگی پر بھی ۔
( حالی :نئی کہانی ،نیا مزاج ، شمارہ ۵۔۶ ، مئی ۱۹۸۶ء ص: ۱۰۶)
:: جوگندر پال 
آپ کا افسانوی مجموعہ " ایڈز " ملا ۔ اس گراں قدر تحفے کے لئے شکر گزار ہوں ۔ میں نے آپ کی کہانیاں پڑھ لی ہیں ۔ آپ کے یہاں جینے جھیلنے کی معنی کی تلاش کا جو عمل کار فرما ہے ۔ اس میں برابر شریک رہا ہوں ، اور محظوظ ہوا ہوں ۔ اپنے بارے میں آپ کے نوٹ " میں " اور آپ کے تعلق سے نغمہ حیات کے نوٹ " حروف جو لفظ بن گئے " نے بھی مجھے خاص طور پر متوجہ کیا ۔ ( خط کا اقتباس ستائیس اگست ، دو ہزار عیسوی ، مطبوعہ : شاعر نومبر دو ہزار دس ،ص ۵۷)
:: احمد یوسف 
خورشید حیات افسانہ نگاروں کے اس قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں ، جو جدیدیت کا طوفان تھمنے کے بعد ہمارے سامنے آیا تھا ۔ یہ وہ لوگ تھے جو نہ تو ادب میں صرف خاک و خون میں لتھڑی ہوئی زندگی ہی کو سب کچھ سمجھ بیٹھے تھے اور نہ وہ تھے جو زندگی کی بے معنویت کے قائل تھے ۔ ان کے یہاں ایک سنبھلی ہوئی کیفیت تھی اور دو زمانے اور دو نسلوں کے ان کے پاس تجربے تھے ۔
: (شاعر نومبر دو ہزار دس ،ص ۵۷)
:: ڈاکٹر سریندر چودھری ، ہندی آلوچک 
خورشید کی کہانی" بابا " میں ناسٹلجیا ہے بلکہ میں تو کہوں گا کہ ناسٹلجیا سے ایک درجہ اوپر ہے ، اور اس بحث کو آگے بڑھایا سکتا ہے ۔ " بابا " جنریشن گیپ کی کہانی ہے ۔ دو پیڑ ھیاں آپس میں ٹکراتی ہیں اور ٹکرائیں گی بھی ، مگر کوئی ایسی زمین ہے جہاں پر صلح ہوتی ہے ، کہانی " ایڈز " میں خورشید حیات نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ ہماری ماڈرنٹی اپنی نہیں ہے بلکہ ہم گریویٹیشن کے چکر میں پھنس گئے ہیں ۔ " ایڈز " اپنے انداز بیان سے مجھے متاثر کرتی ہے " ( ماہنامہ ، ترسیل ،" نئے سال کی پہلی سہ پہر " انیس سو چھیاسی عیسوی )
:: مشرف عالم ذوقی 
خورشید کے یہاں فکر حاوی ہے اور یقیناً نئی صدی کو فن کے ساتھ فکر کی بھی ضرورت ہے ( آج کل ، جنوری ۲۰۰۱)
::پروفیسر علیم اللہ حالی 
’’نئے احساسات اور آج کے مسائل کو عصری حالات میں پیش کرنے والی کہانی " ایڈز " بہت دنوں تک یاد رہنے والی تخلیق ہے ۔‘‘(شاعر نومبر ۲۰۱۰ء ص: ۵۷)
:: افتخار امام صدیقی، مدیر ، شاعر ، ممبئی
تخلیقی بیانیہ سے جنم لینے والے ایک معیاری تخلیق کار کا نام خورشید حیات ہے ۔ جس نے " ایڈز " (دو ہزار عیسوی ) کے ذریعے اپنا تخلیقی اظہار کیا تھا ۔ اول تو یہ عنوان ہی ایک ایسا بلیغ استعارہ ہے کہ اس سے ہندوستانی سماج کی تمام تر برائیوں ، خطرناک امراض کو اپنی کہانیوں کا موضوع کرنے والے خورشید حیات نے کہانی کو کسی نیپام بم کی طرح بنا دیا ۔ خورشید حیات کی جو نمائندہ کہانیاں ہیں ان میں " لفظوں کی موت " ، "چلتی رکتی گاڑی کے بیچ "، "سوالیہ نشان کے نیچے کا نقط? " ، " نروان " ، " بابا " ، طوفان سے پہلے طوفان کے بعد ۔ خورشید حیات کے یہاں ایک طرح کی خود کلامی ہے ۔ آئندہ جب بھی خورشید حیات پر کوئی مقالہ لکھوں گا تو ان کے افسانوں سے نثری قتلے ، نظم در نظم سجا کر بتانے کی سعی کروں گا کہ خورشید اگر افسانہ نگار نہیں ہوتے تو شاعر ہوتے ( شاعر ، نومبر ۲۰۱۰ء صفحہ ۵۶ )
:: نور الحسنین 
تم نے " ایڈز " کو ایڈز نامی مہلک بیماری نہ رکھتے ہوئے اسے اپنے معنی سے بہت اوپر پہنچا دیا ہے ۔ کہانی کی خوبی یہ ہے کہ کہانی ایک جملے کے لئے بھی کہیں پر عریاں نہیں ہوئی ہے اور تم نے وہ سب کچھ کہہ دیا جو تم کہنا چاہتے تھے ۔ (شاعر نومبر ۲۰۱۰ء ،ص ۵۶
:: شہاب ظفر اعظمی 
خورشید حیات لفظوں کے جادوگر ہیں ، نہایت اختصار کے ساتھ انہوں نے بڑی کہانی تخلیق کی ہے ۔ ایڈز کے موضوع پر یہ اردو کی پہلی کہانی ہے جو شاید ۱۹۸۵ء میں شائع ہوئی تھی ۔ اس کے بعد بھی " ایڈز " کے موضوع کو اس سلیقے سے اور کسی نے نہیں برتا ۔
خورشید حیات کے افسانوں میں تخلیقی نثر کی مجموعی فضا کا تمیمی رنگ انہیں اپنے ہم عصروں میں ممتاز کرتا ہے ۔ خارجیت سے داخلیت اور داخلیت سے خارجیت تک کے تخلیقی سفر میں ،وہ تجربے کی سچائی کو نقط عروج تک کچھ اس طرح پہنچاتے ہیں کہ اس میں کئی کہانی کی نہریں پھوٹتی نظر آتی ہیں ۔ ہر لفظ میں حیات کا منفرد اکسپریشن کروٹ کروٹ انسانی زندگی کی ہتھیلی پر ایک نیا خورشید رکھ جاتا ہے تاکہ اندھیرا چھین نہ سکے کسی کے حصے کی روشنی‘‘

:: سلیم انصاری 
خورشید حیات کا افسانہ" ایڈز " نے موجودہ سفاک عہد کی مادی ترقی کے حوالے سے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیا ہے۔ آشی کی غیر ضروری مادی خواہشوں کی تسکین کے لئے ،سکون بخش مڈل کلاس کی زندگی اور اپنی مٹی سے بچھڑنے کا کرب لئے دیارِ غیر کی بھول بھلیوں میں گم ہوتے رشتوں کی سچائی کو نہایت کامیابی سے پینٹ کرتا ہے خورشید حیات کا یہ افسانہ غیر ضروری اور غیر یقینی مادی آسائشوں کے حصول کا سفر ایک بے حد دردناک انجام پر اختتام پذیر ہوتا ہے۔کیا ہماری نئی نسل جو مادی ترقی کی چکا چوند میں گم ہو رہی ہے اس افسانے سے کوئی سبق حاصل کر سکے گی۔ کہانی کی بنت اور اسکے ٹریٹمنٹ اور کرافٹ پر کوئی تبصرہ نہیں کروں گا کیونکہ خوشید حیات اس فن کا جادو گر ہے۔‘‘
اس افسانوی مجموعہ پر نظام صدیقی ، شوکت حیات ، ، اقبال مسعود ، فیاض احمد وجیہہ، محمود شیخ ، معین شاداب ، شاہد احمد شعیب ، ڈاکٹر سید معصوم رضا ، مدیر . اردو بک ریویو ، نئی دہلی کے علاوہ ڈھیر سارے معتبر فنکاروں کی رائیں مختلف ادبی رسائل کے صفحات پر بکھری ہوئی ہیں ۔ میں نے ان کے افسانہ " ایڈز " پر بعض ناقدین کی رائے " افسانہ فورم " سے بھی لی ہیں ۔ 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انیس سو چہتر سے دو ہزار عیسوی تک کے خورشید حیات کا چہرہ قریب قریب سامنے آ گیا ۔ آئیے پڑھتے ہیں سال دو ہزار سے دو ہزار سترہ تک کے خورشید حیات کو کہ 
خورشید حیات ممتا کا چھتنار درخت بھی ہے ۔
خورشید حیات ایک ایسے افسانہ نگار کا نام ہے جس کے درون میں ایک لوری سنانے والی ماں بھی ہمہ وقت تھرکتی رہتی ہے ۔ میں نے انکے تنقیدی مضامین کی تخلیقی نثر اور کہانیوں میں کردار کے ساتھ رقص کرتے الفاظ میں لطیف رومانیت کو بھی محسوس کیا ہے ۔ خورشید کے یہاں رومانیت انہیں روحانیت کے قریب لے جاتی ہے ۔
جب افسانہ نگاروں کا سارا دھیان عورتوں کے بدن پر مرکوز تھا تو خورشید حیات کی کہانیاں ندی میں بہتی زندہ لاشوں سے باتیں کر رہی تھیں ۔ ان کی کہانی " پہاڑ ندی عورت " میں ، کیدار ناتھ کے قدرتی آفات جو پہاڑ اور ندی پر نازل ہوئے تھے ، اسے انہوں نے آج کے مرد کے بدلتے ہوئے رویوں سے جوڑنے کی ایک کامیاب کوشش کی ہے ۔ 
خورشید حیات ایک صاحب اسلوب افسانہ نگار ہیں ۔ جس کی تنقید کی تخلیقی زبان نے بھی انور سدید سے لے کر صلاح الدین پرویز ، ابرار رحمانی اور حقانی القاسمی تک کو شیدائی بنا دیا ۔ یہاں پر کچھ لوگوں کی قیمتی آراء پیش کر رہی ہوں جس کی وجہ میری نظر میں صرف یہ ہے کہ : INTERACTIONAL STUDY سے ہم کوئی رائے قائم کر سکیں 
.
:: انور سدید 
’’اس پرچے کا سب سے دلچسپ مضمون " ادب کا بدلا ہوا چہرہ " ہے جس کے مصنف خورشید حیات ہیں ۔ انہوں نے نئی صدی میں داخل ہوتے ہی محسوس کیا ہے کہ گزشتہ چند برسوں سے جہاں ادب کا موسم ، اس کا مزاج اور اس کا چہرہ بدلا بدلا سا بڑا دلکش لگ رہا ہے ۔ وہیں دوسری طرف دسمبر دو ہزار میں ان چہروں کو دیکھ کر حیرت ہوئی تھی جو صفر میں زندگی جینے کے عادی تھے اور آج بھی صفر میں زندگی جی رہے ہیں ۔ اس مضمون میں وہ بلند مقام پر کھڑے ہیں ۔ ان کا رویہ شدید جذباتی ہے ۔ ‘‘
( الحمراء، پاکستان ، جولائی دو ہزار چھہ )
:: حقانی القاسمی 
خورشید حیات کا مضمون " ادب کا بدلا ہوا چہرہ " تخلیقی تف و تاب لئے ہوئے ہے اور کچھ اس قدر پرکشش اور مقناطیسی ہے کہ ان مضامین کی بھیڑ میں ان کی صدا اور ادا ہی الگ ہے ۔ جو ٹھسک اور برجستگی اور بے ساختہ پن ہے وہ مارے ڈالتا ہے اور ہر ہر سطر میں قیامت ہے ، طنز و کنایہ ہے ، رمز و اشارہ تو لطف دیتے ہی ہیں ان کا خطیبانہ آہنگ جزالت سے بھر پور رجزیہ لہجہ اور بھی آگ برساتا ہے ۔ وہ کم لکھتے ہیں مگر بہت اچھا لکھتے ہیں ۔ وہ آج کل کے زود نویسوں کی طرح ذہن اور زبان بگاڑنے کا فریضہ انجام نہیں دیتے بلکہ نہایت شائستگی شستگی کے ساتھ اپنی معروضات پیش کرتے ہیں اور زبان و جمالیات کا پاس رکھتے ہوئے ۔ جب کہ ادھر حال یہ ہے کہ عاشقوں کی آنکھوں سے اتنے شتاب شتاب آنسو بھی نہیں آتے جتنی شتاب شتاب کتاب آ جاتی ہے اور وہ بھی جوق در جوق ۔ مگر سچ کہوں کہ حیات خورشید کا ایک مضمون مجھے بہت ساری کتابوں پر بھاری نظر آتا ہے کہ اس میں خورشید بھی ہے ، حیات بھی ۔
مژگاں ، کلکتہ )
صلاح الدین پرویز 
" لفظ تم بولتے کیوں ہو ؟ " استعارہ کا سب سے خوبصورت مضمون ہے ۔ بے پناہ خوبصورت مضمون ۔ ایسے مضامین لکھتے رہئے ۔ میں آپ کا شیدا ہو گیا ہوں ( شاعر ، (ممبئی نومبر دو ہزار دس ، صفحہ چھپن )
۔۔۔۔۔
آنکھوں والے لوگ جب اندھے ہو جاتے ہیں تو وہ ادبی رسائل سے دور ہو جاتے ہیں ۔ نئی صدی میں ایسا ہی کچھ منظر ہماری نگاہوں کے سامنے ہے ۔ اب چار سْو افسانہ نگار اور ناقدین آنکھیں مل مل کر بار بار خود کو دیکھتے ہیں ، جہاں ایسی صورت حال ہو وہاں خورشید حیات کا دم غنیمت ہے ۔ ان کی تنقید ہو یا تخلیق اپنے قارئین کو ساتھ لے کر چلتی ہے ۔ خورشید حیات کی شخصیت میں جو سادگی ، معصومیت ، قلندرانہ مزاج اور قلبی کیفیت ہے وہ ان کے نام صائقہ افگنی لکھ جاتی ہے ۔ 
نئی صدی میں مختلف ادبی رسائل میں شائع ہونے والی ان کی کہانیاں " آدم خور " ، " پانچ انگلیاں "، پہاڑ ندی عورت " ، " طوفان میں دستک " ، " تتلی سہیلی حویلی " وغیرہ میں معاشرتی مشاہدات اور سماجی احتجاج کو محسوس کیا جا سکتا ہے ۔ ان کی کہانیاں عام فیشن ایبل اسلوب میں لکھی گئی کہانیوں سے بالکل الگ ہوتی ہیں ۔ ان کی ہر کہانی تہذیبی سفر کا احاطہ کچھ اس طرح کرتی ہے کہ واقعاتی ترتیب جگ بیتی کا روپ دھارن کر لیتی ہے ۔ انسانی سماج جب تہذیب کے دہانے پر ہچکیاں لینے لگتا ہے تو " آدم خور " کی رابعہ ، ننکو کو آج کا قصہ سناتی ہے کہ آدم خور گھر کے آنگن میں بھی ہیں اور آنگن کے باہر بھی ۔ فضا زہریلی ہوتی جا رہی ہے اور موت کی تجارت میں لگے ہیں تاجران وقت ۔۔
خورشید حیات کا گہرا تعلق موجودہ سماج سے ہے اور ان کی کہانیاں ، آج کے سماج میں سنہری تہذیب کی لذت سے محروم ہوتے ادھورے آدمی کے مسخ شدہ چہروں کا ایک ایسا لینڈ اسکیپ ہیں جہاں آدمی کی کھوپڑیاں آگ میں چٹختی دکھائی دیتی ہیں ۔ خوف و دہشت سے چہرے کے بدلتے ہوئے رنگ کی داستان سنانے والے خورشید حیات کی کئی کہانیاں اور ان کی تنقید میں شامل غیر معمولی تخلیقی ویژن ہر زمانے کے اذہان کو متاثر کرنے میں کامیاب رہے گا ، مجھے اس کا یقین ہے ۔ 
ڈاکٹر عشرت ناہید 
مانو لکھنؤ کیمپس 
طبع زاد 
غیر مطبوعہ 

 مضامین دیگر 


Comment Form



اردو فکشن

© 2017 Urdu Fiction. All right reserved.

Developed By: Aytis Cloud Solutions Pvt. Ltd.