خواتین ناول نگار اور تانیثی ڈسکورس




ڈاکٹر محبوب حسن
24 Aug, 2017 | Total Views: 933

   

تانیثیت(Feminism)ایک ایسی تحریک ہے،جس کے زیر اثر خواتین کی زندگی کے گونا گوں مسائل کو منظر عام پر لانے کی سعی کی جاتی ہے۔ اس کا اصل مقصد عورتوں کے حقوق کی بازیافت ہے۔تانیثیت مغربی ممالک میں ایک تحریک کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ یہ تحر یک یوروپ سے ہندوستان پہنچی۔آج ہمارے ملک کے مختلف زبان و ادب پر اس تحریک یا نظریے کے گہرے اثرات محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ویسے تواردو ادب میں تانیثیت تحریک کی شکل اختیار نہ کر سکی۔اس کے بعض اہم وجوہات ہیں۔لیکن اتنا ضرور ہے کہ اردو کے ادیبوں اور شاعروں نے اس نظریے کو یکسر نظر انداز نہیں کیا۔یہی وجہ ہے کہ انیسویں صدی کے نصف آخر سے ہی طبقہ نسواں کے مسائل شعوری یا غیر شعوری طور پراردو زبان و ادب میں اپنی جگہ بنانے لگے تھے۔
اردو ادب بالخصوص اردو فکشن پر تانیثیت کا گہرا عکس ملتا ہے۔ داستانوں کے برعکس ناول میں عورت کو ایک نئی زندگی ملی۔اسے سماج کے ایک جیتے جاگتے کردار کے بطور پیش کیا گیا۔قلم کاروں نے طبقہ نسواں کی پسماندگی اور زبوں حالی کوموضوع بحث بنایا۔اردو ناول میں اس کی ایک مستحکم روایت ملتی ہے۔مرد ناول نگاروں کے شانہ بہ شانہ خواتین ناول نگاروں نے بھی صنف نازک کے داخلی ا ور باطنی حالات و کوائف کو اپنے ناولوں میں اجاگر کرنے کی کامیاب کوشش کی۔ 
تاریخ شاہد ہے کہ مردناول نگاروں کے یہاں پہلے پہل تانیثیت کے خدو خال ملنے شروع ہوتے ہیں لیکن اردو ناول نگاری کو صحیح معنوں میں تانیثی فکروشعور سے ہم آہنگ کرنے میں خواتین فکشن نگاروں نے ایک منفرد رول ادا کیا ۔’’انگارے‘‘(۱۹۳۲)کے ذریعہ اردو فکشن میں جو چنگاری پیدا ہوئی تھی،اسے شعلہ صفت بنانے میں خواتین کی حصہ داری زیادہ رہی ہے۔ہر چند کہ ترقی پسند تحریک کے ذریعہ اردو ادب کو ایک نئی روشنی ملی۔فکرو شعور کی انقلابی جہت سامنے آئی۔تاہم اس اہم موڑ کے قبل سے ہی اردو ناول میں سماجی حقیقت نگاری کے نقوش نمایاں ہونے لگے تھے۔اس عہد میں بھی چندایسی خواتین ناول نگار نظر آتی ہیں جنھوں نے طبقہ نسواں کی زندگی کے نازک اور سنجیدہ مسائل کو گویائی عطا کی۔اکبری بیگم،محمدی بیگم،عباسی بیگم،نذر سجاد حیدر،صالحہ عابد حسین اور صغرا ہمایوں بیگم اس سلسلے کی اہم کڑیاں ہیں۔
مذکورہ بالا خواتین قلم کاروں نے اپنی تخلیقات کے ذریعہ عورتوں کی زندگی کے کئی تاریک گوشوں کو روشن کیے۔اس عہد کے ناولوں میں مذہب کے پس پردہ طبقہ نسواں پرڈھائے جا رہے ظلم و زیادتی اور جبروتشدد کوحقیقت پسندانہ انداز میں بے نقاب کیا گیا۔’’گڈر ی کا لال‘‘(اکبری بیگم)،’’سرگزشت ہاجرہ‘‘(صغری ہمایوں مرزا)، ’’شریف بیٹی‘‘(محمدی بیگم)اور’’آہ مظلومان‘‘(نذرسجاد)جیسے ناولوں میں عورت کے دردو الم کی کہانی بیان کی گئی ہے۔ان ناولوں میں عورت ہر جگہ دردو غم سے نڈھال نظر آتی ہے۔مذکوربالا ناولوں میں بے جا وبے بنیاد مذہبی پابندی،شادی بیاہ،طلاق، جہیز اور پردہ جیسے سنجیدہ مسائل زیر بحث ہیں۔ان ناولوں کے بعض نسوانی کردارجدوجہد،خود اعتمادی اور خود کفالتی کی علامت بن گئے ہیں۔’’گڈری کا لال‘‘ کی ہیروئن ثریاکی روشن خیالی پراظہار خیال کرتے ہوئے صغرا مہدی نے کہا ہے:
’’
ثریا جبیں جو تعلیم یافتہ لڑکی ہے،وہ شادی کے موضوع پر کھل کر بات چیت کرتی ہے اور یہ بتاتی ہے کہ وہ کس قسم کے شوہر کو پسند کرتی ہے۔‘ ‘ ۱؂
ترقی پسند تحریک اردو کی ایک بااثرادبی تحریک رہی ہے۔اس تحریک کے زیر اثر حقیقت پسندی اور روشن خیالی کا ایک نیا تصورسامنے آیا۔ تانیثیت کے چند اہم مسائل بھی اس تحریک کے فکری دھارے میں شامل ہوئے۔اردو ناول میں طبقہ نسواں کی زندگی کے داخلی اورظاہری حالات و مسائل کا بے باکانہ تخلیقی اظہار ہوا۔عورتوں کے سماجی ،سیاسی،اقتصادی،تعلیمی،جنسی اور نفسیاتی صورت حال کی نئی نئی تعبیریں شروں ہوئیں۔مرد اساس سماج کے جبر و تشدد،سماجی ناہمواریوں،قدامت پرستی، طبقاتی کشمکش،توہم پرستی اور فرسودہ روایا ت پر کھل کر چوٹ کی جانے لگی۔ ترقی پسند تحریک کے زمانے میں ادبی منظرنامے پر اپنی شناخت قائم کرنے والوں میں عصمت چغتائی،قرۃالعین حیدر۔خدیجہ مستور،جمیلہ ہاشمی،بانو قدسیہ،صغری مہدی اور رضیہ فصیح وغیرہ کے نام اہم ہیں۔ان ناول نگارو ں کے یہاں تانیثی شعور زیادہ پختہ نظر آتا ہے۔یہ شعورکہیں کہیں للکار اور چیخ و پکار کا روپ دھارن کر لیا ہے۔
اردو فکشن کی دنیا میں عصمت چغتائی کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔وہ اپنے تانیثی فکرو نظر اور شدت پسندی کے باعث مشہور ہیں۔یہ شدت پسندی ان کے ناول اور افسانے دونوں میں نظر آتی ہے۔انہوں نے خواتین کے سماجی،سیاسی،تعلیمی،بالخصوص جنسی اور نفسیاتی مسائل شد ت پسندی اور گہرائی کے ساتھ پیش کیے۔ان کی تخلیقی کائنات تانیثی فکر سے آباد ہے۔افسانہ لحاف(۱۹۴۶)میں یہ شدت صاف جھلکتی ہے۔اس کے نتیجے میں ان پر مقدمے بھی چلے۔انہوں نے اپنے نا ولوں کے ذریعہ مرد ذات کی بالادستی اور اس کی چیرہ دستیوں کا پردہ چاک کیا ہے۔ان کی تخلیقات میں ہم جنسیت (Lesbianism) بھیانک روپ اختیار کر گئی ہے۔ناول ’’ٹیڑھی لکیر‘‘اور افسانہ ’’لحاف‘‘ اس کے بیّن ثبوت ہیں۔ان کے یہاں یہ نازک اور سنجیدہ مسئلہ سماجی ردعمل کے طور پر ابھرتا ہے۔ان کے ناولوں کے بعض نسوانی کردار ایک احتجاج کا درجہ رکھتے ہیں۔’’ٹیڑھی لکیر‘‘ کی شمن اور ’’ضدّی‘‘کی آشا اس کی عمدہ مثالیں ہیں۔شمن قدم قد م پر سماجی ناہمواریوں سے ٹکراتی ہے توآشا طبقاتی کشمکش کے خلاف اپنی جان دے دیتی ہے۔شمن اپنے حقوق کی پامالی اور مرد کی ناانصافیوں کے خلاف لڑنا اپنی زندگی کا نصب العین سمجھتی ہے۔در اصل ان نسوانی کرداروں کے عمل پیہم کے پس پردہ مصنفہ کے تانیثی فکرو احساس کا پہلو زیادہ نمایاں ہے۔ان کے دوسرے اہم ناول ’’معصومہ‘‘ میں بھی یہی فضا ملتی ہے۔’’ٹیڑھی لکیر‘‘کی شمن مرد ذات کی زیادتیوں سے تنگ آکرنہایت غصے میں کہتی ہے:
’’
ہنہ بدتمیز!چور کو چوراور حیوان کو حیوان کہنا بدتمیزی نہیں راست گوئی ہے۔تم سمجھتے ہو کہ تمہارے بھوکنے سے میں ڈر جاؤں گی۔چاہے جو کچھ ہو تمہارے فریب کا حال ضرور لکھوں گی۔اس طرح دھوکہ دے کرتم بھاگ نہیں سکتے۔اس کا انجام سوچ لینا۔‘‘ ۲؂
ناول’’ معصومہ‘‘کی ہیروئن معصومہ اپنے باپ کی بے توجہی اور بے اعتنائی کی وجہ سے طوائف کا پیشہ اختیار کرنے پر مجبور ہوتی ہے۔اس کا یہ قدم مرد اساس معاشرے کے لیے عبرت ناک ہے۔عصمت نے اس کردار کے ذریعہ سماج کے کھوکھلے پن کوبے نقاب کیا ہے۔معصومہ کا سودا کرتے وقت اس کی ماں کہتی ہے:
’’
فلیٹ بچّی کے نام ہوگا۔ایک ہزار کا بندھا خرچ ہے۔لڑکی بغیر ان کی مرضی سے رات کو باہر نہیں رہے گی‘‘۳؂
مزکورہ بالا اقتباسات سماج اور معاشرے کی تلخ اورکڑوی سچاّئیوں کو اجاگر کرتے ہیں۔عصمت چغتا ئی کا یہی تانیثی رویہ انھیں دوسرے ناول نگاروں سے الگ کرتا ہے۔
قرۃالعین حیدر اردو ناول کا ایک اہم اور معتبر نام ہے۔ان کے بیشتر ناولوں میں عورت کی بے بسی اور لاچاری جھلکتی ہے۔ان کے تانیثی فکرو نظر کے زاویے دوسرے قلم کاروں سے ذرا مختلف ہیں۔انہوں نے طبقہ نسواں کی زبوں حالی کو زماں و مکاں کے تناظر میں دیکھنے کی کوشش کی ہے۔ان کے ناولوں میں عورت کے استحصال،جلا وطنی،تنہائی،اور ہجرت جیسے مسائل کی ترجمانی ملتی ہے۔انہوں نے خواتین کی مجروح روح اور ان کی نفسیاتی و جنسی پیچیدگی کو تنہائی و جلاوطنی کے آئینے میں دیکھنے کی کوشش کی ہے۔موضوعاتی سطح پر ان مسائل کے ڈانڈے تانیثی نظریے سے جا ملتے ہیں۔بقول ابوالکلام قاسمی:
’’
قرۃالعین حیدر نے عورت کے مقدر،اس کی مجبوری اوراس کے استحصال کو ترجیحی طور پر اپنا موضوع بنایا۔اس رویّے کو اگر ہم کسی شعوری کوشش کا نام نہ بھی دیں تب بھی اس رویّے کے نتیجے میں سامنے آنے والے اس خام مواد کی قدر و قیمتFeminist Trend کے نقطہ نظر سے متعین کرنے کی کوشش ضرور کرتے ہیں‘‘۴؂
یہ اقتباس مصنفہ کے ناولوں کے تانیثی مزاج کی نشاندہی کرتا ہے۔ان کے ناولوں کی اکثرو بیشتر خواتین زمانے کی ستم ظریفیوں اور چیرہ دستیوں کا شکار ہوتی ہیں۔’’میرے بھی صنم خانے‘‘ کی رخشندہ،’’سیتا ہرن کی‘‘ کی سیتا میر چندانی،’’آگ کا دریا‘‘کی چمپا،’’ہاوسنگ سوسائٹی‘‘کی ثریا حسین،’’آخری شب کے ہم سفر‘‘کی دیپالی سرکار وغیرہ اس بات کی شہادت فراہم کرتی ہیں۔یہ تمام کردار کسی نہ کسی صورت میں بے بسی،لاچاری،تنہائی اور احساس محرومی سے دو چار ہیں۔ان میں سے بعض اولاد کی خاطر دکھ سہتی ہیں تو بعض محبوب کی بے وفائی کی بھینٹ چڑھتی ہیں۔ دکھ ،درد،افسوس،زبوں حالی،بے بسی اورخود بیگانگی گویا ان کا مقدر ہے۔اس نکتے پر روشنی ڈالتے ہوے شمیم حنفی لکھتے ہیں:
’’
ان میں عورت کے مقدر،مرد کے ہاتھوں اس کے استحصال،اس کی خود سپردگی،قربا نی اورذ ہنی جلا وطنی کے تجربے بہت موثر اور حقیقت پسندانہ طور پر سامنے آئے ہیں‘‘۵؂
’’آگ کا دریا‘‘قرۃالعین حیدر کا شہرہ آفاق ناول ہے۔ اس ناول کی ہیروئن چمپا خواتین کے دکھ درد، غم ومایوسی اوربے بسی کی علامت بن گئی ہے۔وہ ہر دور میں ایک نئی شناخت اور ایک نئے وجود کے ساتھ نظرآتی ہے۔لیکن اس کے تئیں زمانے کا رویہ نہیں بدلتا۔اس کی قسمت میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ گویا دردو غم اس کے وجود کاناگزیر حصہّ بن گئے ہیں۔’’میرے بھی صنم خانے‘‘کی رخشندہ ایک تعلیم یافتہ اور روشن خیال لڑکی ہے۔وہ مذہب اور سماج کی فرسودہ روایات، ذہنی غلامی اور معاشرتی ناہمواریوں کے خلاف لڑتی ہے۔بعض اوقات اس کی حرکت وعمل سے شدت پسندی بھی جھلکتی ہے۔رخشندہ کی روشن خیالی سے مرد اساس سماج کس قدر حیرت زدہ ہے؟اقتباس ملاحظہ ہو:
’’
ارے ہم دوسرو ں کو کیا کہیں۔۔۔۔۔۔اب تو یہ غضب دیکھو کہ خود ہماری مسلمان عورتیں میدان سیاست میںآ رہی ہیں۔پنجاب اورسرحد میں ان لوگوں نے پچھلے دنوں کیا کیا قیامت نہ اٹھائی۔اللہ اکبر۔کیوں قبلہ آپ کی ر ائے گرامی اس مسئلے میں کیا ہے؟مستورات کامیدان سیاست میں اچھل کود مچانا نہایت درجہ معیوب حرکت ہے نا؟مولانا،مستورات کی گدی میں عقل تو ہوتی نہیں اور ہر چیز میںآج کل اپنی ٹانگ اڑا رہی ہیں۔پھر بعد میں چلائیں گی کہ ہمارے حقوق دو‘‘ ۶؂
اس اقتباس سے عورت کے تئیں مردذات کی متعصبانہ ذہنیت کا صحیح اندازہ ہوتا ہے۔قرۃالعین حیدر کی تخلیقی کائنات Radicalکے بجائےLiberal Feminismکی پاسداری کرتی ہے۔لیکن بعض اوقات ان نسوانی کرداروں کی پیش کش کا اندازمغرب کےRadical Feminism Movementکے رجحان سے میل کھاتا ہے۔
اہم ناول نگار خدیجہ مستور کے ناول’’آنگن‘‘اور’’زمین‘‘میں بھی صنف نازک کے ذہنی کرب،داخلی گھٹن،بے بسی اور احساس محرومی کی جیتی جاگتی تصویریں ملتی ہیں۔’’آنگن‘‘تقسیم ہند کے تناظر میں سماج کے اس ظالمانہ چہرے کو بے نقاب کرتا ہے۔’’آنگن‘‘کی عالیہ اور چھمی اس نامساعد فضا میں سانس لیتی ہیں۔عالیہ بھی ’’ٹیڑھی لکیر‘‘ کی شمن کی طرح ظلم اور استحصال کی آگ میں جھلستی ہے۔دونوں مرد کی بالادستی کو چیلنج کرتی ہیں۔یہی ان کی زندگی کا المیہ ہے۔’’زمین‘‘میں خدیجہ مستور نے بیوہ کی کرب ناک زندگی اور جہیز جیسی سماجی لعنت کو نشانہ بنایا ہے۔اس ناول میں ایک مظلوم داشتہ تاجی اپنے مالک کی ہوس کا شکار ہوتی ہے۔آخر کار کسی مہلک مرض میں مبتلا ہوکرموت سے ہمکنار ہوتی ہے۔
جیلانی بانو کے یہاں بھی مرداساس سماج اور جاگیردارانہ نظام کے خلاف بے باکانہ تخلیقی اظہار ملتا ہے۔’’ایوان غزل‘‘میں جاگیردارانہ طرز معاشرت میں خواتین کی سماجی،سیاسی اور اقتصادی پسماندگی کی خوبصورت ترجمانی ملتی ہے۔چاند اور غزل اس ناول کے دو خواتین کردار ہیں۔ناول میں دونوں کی زندگی کی غم انگیز اور دردناک کہانی بیان کی گئی ہے۔چا ند مردوں کی ہوس کا شکار ہوکر موت کو گلے لگاتی ہے توغزل بھی جنسی استحصال کی بھینٹ چڑھتی ہے۔دونوں دردو غم اور محرومی و مایوسی کی تصویر بن جاتی ہیں۔ان کے ایک دوسرے ناول’’بارش سنگ‘‘ میں بھی طبقہ نسواں کی عصمت اور عفت کی پامالی کی الم ناک کہانی ملتی ہے۔
تانیثی مسائل کے پیش کش کے تعلق سے جمیلہ ہاشمی،بانو قدسیہ اور صغری مہدی کے نا م بھی اہم ہیں۔جمیلہ ہاشمی کے ناول’’تلاش بہاراں‘‘میں مذکورہ مسائل کی صدائے بازگشت صاف سنائی پڑتی ہے۔ناول کی ہیروئن کنول کماری ٹھاکر ایک تغیر پذیر نسوانی کردار ہے۔اس کی بغاوت اور جدوجہد سماج و معاشرے کے مکروہ چہرے پر ایک زور دار طمانچہ ہے۔’’راجہ گدھ‘‘(بانوقدسیہ)،’’راگ بھوپالی‘‘(صغری مہدی)،’’انتظار کا موسم‘‘(رضیہ فصیح احمد)وغیرہ میں بھی خواتین کی شکستہ حال اور افسوس ناک زندگی کی رنگارنگی ملتی ہے۔ان ناولوں میں اس معاشرے کی عیاشی،فریب کاری،دغابازی،مکاری اورزیادتی کی حقیقت پسندانہ آئینہ داری کی گئی ہے۔ان ناولوں کے نسوانی کردار معاشرے کو ایک نئی روشنی اور ایک نیا رخ دیتے ہیں۔
آج کی عصری زندگی میں بھی طبقہ نسواں مصائب اوردکھ درد سے یکسر آزاد نہیں۔خواتین، آج کے اس تغیر پذیر سماج میں پیدہ شدہ نئے نئے مسائل سے گھری ہوئی ہیں۔ہم عصر خواتین قلم کار عصری زندگی کے پہاڑ کو اپنے قلم کے تیشے سے کاٹنے میں مصروف ہیں۔ترنم ریاض اپنے ناول’’مورتی‘‘ اور ثروت خان’’اندھیرا پگ‘‘میں اپنے تانیثی نظریات و تصورات کی روشنی میں عصری حالات و کوائف سے سروکار رکھتی ہیں۔’’اندھیرا پگ‘‘ کی ہیروئن روپی، عصمت چغتائی کی شمن اور پیغام آفاقی کی نیرا کی روایت کو جلا بخشتی ہے۔مختصر یہ کہ ان ناولوں کے نسوانی کردار اپنی تمام تر کوششوں اور جدو جہد سے طبقہ نسواں کی زندگی کے کئی تاریک گوشوں کو منور کرتے ہیں۔آج کی عصری زندگی نت نئے حالات و مسائل سے دو چار ہے۔ایسے میں خواتین فکشن نگاروں کو اور زیادہ فعال اور متحرک رہنے کی ضرورت ہے تاکہ ظلم و استحصال کی آندھی رکے اورایک صحت مندو خوبصورت معاشر ہ وجود میں آ سکے۔ 
***
حواشی و حوالے:
۱۔ صغری مہدی،اردو ناولوں میں عورت کی سماجی حسیّت(۲۰۰۲)،سجاد پبلیشنگ ہاؤس ،نئی دہلی۔ص:۹۵
۲۔عصمت چغتائی،ٹیڑھی لکیر(۲۰۰۶)،کتابی دنیا،دہلی،ص:۲۹۱
۳۔عصمت چغتائی،معصومہ(۱۹۴۶)،ایجوکیشنل بک ہاؤس،علی گرھ،ص:۲۲
۴۔ابوالکلام قاسمی،تانیثی ادب کی شناخت اورتعین قدر،شعرو حکمت(سہ ماہی)،حیدرآباد،ص:۶۷
۵۔شمیم حنفی،قرۃالعین حیدر،آواز(پندرہ روزہ)،ص:۶
۶۔قرۃالعین حیدر،میرے بھی صنم خانے(۱۹۶۰)،مکتبہ لاہور،ص:۴۰۲

 مضامین دیگر 


Comment Form



اردو فکشن

© 2017 Urdu Fiction. All right reserved.

Developed By: Aytis Cloud Solutions Pvt. Ltd.