ٹرین ٹو پاکستان : مذہبی رواداری کا اعلامیہ




ڈاکٹر محبوب حسن
12 Oct, 2017 | Total Views: 218

   

ٹرین ٹو پاکستان : سماجی اور سیاسی سروکار
خشونت سنگھ معروف مورخ،صحافی اورانگریزی کے ممتاز فکشن نگار ہیں۔اپنے بے باک طرز فکر اور بے لاگ اسلوب کے سبب انھیں ملک بھر میں بے پناہ مقبولیت اور یکساں شہرت حاصل رہی ہے۔علامہ اقبال کی شہرۂ آفاق نظم ’’شکوہ اورجواب شکوہ ‘‘کا انگریزی ترجمہ بھی ان کی ادبی بصیرت اور ان کے تخلیقی سروکارکی شہادت فراہم کرتا ہے۔خشونت سنگھ کی پیدائش متحدہ ہندوستان کے صوبہ پنجاب میں 2فروری 1915کو ہوئی تھی۔وہ /20مارچ 2014کو اس جہاں فانی سے رخصت ہو گئے۔ مشہور زمانہ ناول(1956 ("Train To Pakistan"ان کا اہم ترین کارنامہ ہے۔یہ ناول پہلی بار"Mano Majra"کے نام سے شائع ہوا۔وہ اپنے اس ناول کے ذریعہ "Grove Press Indian Prize"جیسے اہم انعام و اعزاز سے سرفراز ہوئے۔اس ناول کا ترجمہ تیرہ مغربی زبانوں میں ہوا۔ ’’ٹرین ٹو پاکستان‘‘ تقسیم ہند کے موضوع پر لکھا گیا انگریزی کا کامیاب وعمدہ ناول ہے۔اس ناول میں پہلی بار تقسیم کے نتیجے میں رونما ہونے والے مسائل کو تخلیقی قوت کے ساتھ پیش کیا گیا۔پیش نظر ناول اپنے عہد کے سماجی اور سیاسی نشیب وفراز سے گہرا سروکار کھتا ہے۔
درحقیقت زیر مطالہ ناول اپنے موضوع اور انداز پیش کش کے اعتبار سے تقسیم پر لکھے گئے دوسرے انگریزی ناولوں سے منفرد ہے۔ اس ناول میں راست طور پر تقسیم کے نتائج کی عکاسی نہیں ملتی بلکہ مسائل کو تاریخی حقائق کی روشنی میں پیش کیا گیا ہے۔تقسیم پر مبنی اکثروبیشتر انگریزی ناولوں میں ہجرت اور فسادات کی ترجمانی میں جذباتیت در آئی ہے لیکن ’’ٹرین ٹو پاکستان‘‘تاریخی حقائق سے چشم پوشی نہیں کرتا۔اس ناول میں بھی تخیل کی آمیزش ہے لیکن توازن کا حد درجہ پاس ملتا ہے۔خشونت سنگھ نے اپنے اس ناول کی بنیاد انسانی رشتوں کی کسک،فرقہ وارانہ رواداری،بھائی چارگی،خلوص ومحبت اور جذبۂ قربانی جیسی انسانی قدروں پر رکھی ہے۔’’ٹرین ٹو پاکستان‘‘ کی کامیابی کی اصل وجہ ناول نگار کے تجربات ومشاہدات کی گہرائی ہے۔خشونت سنگھ تقسیم کے دردوغم اور تلخ حقائق کے چشم دید گواہ ہیں۔ خشونت سنگھ کو بجا طور پر"The Witness-Turned-Writer" کہا جا سکتا ہے۔ 
"Train To Pakistan" میں اگست 1947ء سے لے کر اکتوبر1947ء کے اوآخر تک کے واقعا ت مذکور ہیں۔اس ناول میں شمالی پنجاب کے ایک گاؤں منو ماجرا کا ذکر ملتا ہے۔اس گاؤں کو تقسیم ملک کے بعد نئی سرحد سے متصل ایک ہندوستانی گاؤں دکھایا گیا ہے۔اس گاؤں میں مختلف مذہب و ملت کے لوگ مذہبی رواداری اور آپسی خلوص و محبت کے ساتھ رہتے ہیں۔تاریخ کی ورق گردانی ہمیں بتاتی ہے کہ تقسیم وطن کے بعد ملک کے طول وعرض میں ہجرت اور فرقہ وارانہ فسادات کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔خاص طور پر شمالی ہندوستان مثلاًبنگال،بہار،دہلی اور پنجاب جیسے صوبے فرقہ واریت سے غیر معمولی طور پر متاثر ہوئے۔لیکن ناول نگار نے اس ناول میں یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ منو ماجرا ایسے زہرناک ماحول میں بھی محفوظ تھا۔منو ماجرا کے ہندو ،مسلم اور سکھ اپنے اپنے مذہبی رسم ورواج کے ساتھ زندگی بسر کرتے ہیں۔یہاں مندر کے پجاری،مسجد کے امام اور گرودوارے کے گورو کو عزت واحترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔خشونت سنگھ نے اس گاؤں کو امن وآشتی،خلوص ومحبت اور مذہبی رواداری کی بہترین مثال کی شکل میں پیش کیا ہے۔اہل منو ماجرا کی سادہ لوحی کا یہ عالم ہے کہ ملک کی تقسیم کے بعد بھی انھیں صورت حال کا اندازہ نہ تھا۔ناول نگار نے یہ باور کرایا ہے کہ گا ؤں کے باشندے ہندوستان کے سیاسی منظر نامے پر ہونے والے اتھل پتھل سے بالکل بے خبر تھے۔ناول کا ایک کردار کہتا ہے:
"I am sure no one in Mano Majra even knows that the British have left and the country is divided into Pakistan and Hindustan. Some of them know about Gandhi but I doubt if any one has ever heard of Jinnah."(Train To Pakistan, p:24)

یہ اقتباس اردو کے معروف افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کے شاہکار افسانہ ’’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘‘کی یاد دلاتا ہے۔یہ افسانہ تقسیم کے زیراثر رونما ہونے والے ہجرت کے واقعات کو ایک نئے تیور کے ساتھ سامنے لاتا ہے۔اس افسانے میں پاگل خانے کا منظر پیش کیا گیا ہے۔اس میں منٹو نے اہل سیاست سے یہ سوال قائم کیا ہے کہ تقسیم جب پاگل تک کے لیے قیامت تھی تو عام انسان کی کیا حالت رہی ہوگی؟ان کا یہ افسانہ آج بھی جواب کا طلب گار ہے۔اس افسانے کے بعض کردار بھی اہل منوماجرا کی مانند صورت حال سے ناواقف تھے۔انھیں تقسیم ہند اور قیام پاکستان کا صحیح اندازہ نہ تھا۔
اس ناول کا پلاٹ کئی ابواب میں منقسم ہے۔پہلا باب "Dacoity"دوسرا "Kalyug" تیسرا "Mano Majara"اور چوتھا "Karma"ہے۔یعنی منو ماجرا کو ایک مستقل پلاٹ کی حیثیت حاصل ہے۔ناول کی پوری کہانی منوماجرا کے گرد گردش کرتی ہے۔ستلج ندی کے کنارے بسے اس گاؤں میں پنجابی تہذیب کا بول بالا ہے۔یہاں سکھ زمین دار اور مسلم مزارعین کی حیثیت سے زندگی گزارتے ہیں۔خشونت سنگھ نے اپنے اس ناول میں سکھ قوم کی تہذیب وثقافت اور طرز زندگی کو نمایاں طور پر پیش کیا ہے۔سکھوں کے افکارو نظریات کی عکاسی میں نیکی و اچھائی کا پہلو زیادہ حاوی ہے۔ انھوں نے مرکزی کردار جگت سنگھ عرف جگا کے توسط سے اپنے طرز فکر کی ترجمانی کی ہے
خشونت سنگھ کے اس ناول میں کرداروں کی پیش کش میں ڈرامائی اور تشریحی دونوں طریقۂ کار مستعمل ہیں۔ناول ’’ٹرین ٹو پاکستان‘‘ کے اہم کرداروں میں جگت سنگھ عرف جگا،نوراں،اقبال،امام بخش،ڈپٹی حکم چند،ملہی،ست سنگھ،لالہ رام لعل، نمبردار وغیرہ خصوصیت سے قابل ذکر ہیں۔جگت سنگھ منو ماجرا کا ایک نامور ڈکیت ہے۔وہ امام بخش کی بیٹی نوراں سے محبت کرتا ہے۔گاؤں کے ایک ہندو لالہ رام لعل کے قتل کے غلط الزام میں گرفتار ہو جاتا ہے۔خشونت سنگھ نے اس کردار کو خاص مقصد کے تحت پیش کیا ہے۔اس کی شخصیت میں قارئین کو متاثر کرنے والی کوئی خاص بات نہیں لیکن ناول کے اختتام میں اس کی قربانی ہمیں متاثر کرنے میں کامیاب ہو تی ہے۔وہ اپنی جان دے کر دہلی سے لاہور جا نے والی مسلم مہاجرین سے بھری ہوئی ٹرین کو بچا لیتا ہے۔ ناول نگارنے اس کردار کی ایثاروقربانی کے ذریعہ امن وآشتی، خلوص و محبت ،انسانیت اور مذہبی ہم آہنگی کا درس دیا ہے۔ناول کا اختتام ملاحظہ ہو:
"The rope had been cut in shreds. Only a thin tough strand remained. He went at it with the knife, and then with his teeth. The engine was almost on him. There was a volley of shots. The main shivered and collapsed. The rope snapped in the centre as he fell. The train went over him, and went on to Pakistan."(Ibid, p:190)

ناول کا یہ اختتام ہمیں چونکاتا ہے۔در اصل ماحول خراب ہونے پر منوماجرا کے مسلمانوں کو پاس کے گاؤں چندن نگر بھیجا جاتا ہے۔وہاں سے ان مسلم مہاجرین کوبذریعہ ٹرین پاکستان جانا ہے۔یہ خبر سنتے ہی منوماجرا کے چند فرقہ پرست سکھ نوجوان انتقام کے جذبے سے مسلمانوں کو قتل کرنے کا منصوبہ بناتے ہیں۔منصوبے کے تحت ریلوے پل کے پاس ایک مضبوط رسّے کو کھمبوں کے ذریعہ باندھ دیا جاتا ہے۔تاکہ ٹرین کی چھت پر بیٹھے مسلم مسافر رسّے سے ٹکرا کر ہلاک ہوں جائیں۔اور ٹرین کی رفتار دھیما ہونے پر باقی مسلمانوں کو بھی قتل کر دیا جائے۔اتفاق سے جگا اسی دن جیل سے رہا کر دیا جاتا ہے۔اس منصوبے کی خبر لگتے ہی وہ چپکے سے پل کے پاس پہنچتا ہے اوررسّی کو کاٹنے کی غرض سے کھمبے پر چڑھ جاتا ہے۔وہاں چھپے سکھ بلوائی اسے روکنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔لیکن جگا ان بلوائیوں کی گولیاں کھاتے ہوئے اپنے کرپان سے اس آہنی رسّی کو کاٹنے میں کامیاب ہوتا ہے۔اس طرح مسلم مہاجرین سے بھری ہوئی ٹرین جگے کے اوپر سے گزرتی ہوئی پاکستان چلی جاتی ہے۔جگے کا یہ قدم فرقہ واریت کی آندھی میں کبھی نہ بجھنے والا چراغ ثابت ہوتا ہے۔ ناول نگار نے اس کردار کے توسط سے انسانیت کی آفاقی قدروں کی پاسداری کی ہے۔ایثاروقربانی کی ایسی مثال کہیں مشکل سے ملے گی۔
نوراں امام بخش کی بیٹی ہے۔وہ جگے سے محبت کرتی ہے اور اس سے شادی کرنا چاہتی ہے۔نوراں اور جگے کی ملاقات صرف ناول کے ابتدائی حصے میں ہوتی ہے۔تقسیم ہند کے بعد وہ قافلے واپنے والد امام بخش کے ہمراہ پاکستان چلی جاتی ہے۔ ہجرت کے وقت اس بات کا انکشاف ہوتا ہے کہ وہ جگے کے بچے کی ماں بننے والی ہے۔ اس موضوع سے وابستہ بیشتر ناولوں میں محبت کی کوئی نہ کوئی کہانی ضرور ملتی ہے۔در حقیقت قلم کار محبت کو مذہبی تشدد اور فرقہ وارانہ تعصب و نفرت کے خلاف باہمی اتفاق و محبت اور مذہبی رواداری کا پیغام دینا چاہتا ہے۔خشونت سنگھ کے اس ناول میں بھی حقیقت اور رومان کی آمیزش ملتی ہے۔وہ یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ محبت کرنے والوں کومذہب و ملت کی کوئی دیوار نہیں روک سکتی۔انھوں نے جگے اور نوراں کے رشتے کو Emotional Bondکے بطور پیش کیا ہے جومختلف قوم وملت کو آپس میں جوڑتا ہے۔اس جذ باتی وابستگی کے پیش نظر یہ کہا جا سکتا ہے کہ تقسیم کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ جبر تھی۔ اس نے نہ صرف سرحد کی دیواریں کھڑی کیں بلکہ انسانی دلوں کو کئی ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا۔
سچ ہے کہ زمین اور جائداد کو تقسیم کیا جا سکتا ہے،سرحد پر دیواریں کھڑی کی جا سکتی ہیں لیکن انسانی دلوں اور رشتوں کو تقسیم کرنا ممکن نہیں۔ظاہر ہے کہ ہجرت کاعذاب جھیلنے والوں کے لیے تقسیم "Division of Hearts"ہی کہلائے گی۔"Train To Pakistan"میں جگے کی معشوقہ نوراں اس کی جیتی جاگتی مثال ہے۔اپنے والد امام بخش کے کہنے پر بھی وہ پاکستان جانے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔وہ اس صورت حال سے عجب کشمکش میں پڑ جاتی ہے۔ خشونت سنگھ نے نوراں کے داخلی جذبات واحساسات اور اس کے دردوغم کی نہایت حقیقی تصویر کشی کی ہے۔منوماجرا کو الوداع کہنے سے پہلے وہ جگت سنگھ سے ملنے آتی ہے۔لیکن جگت سنگھ کے جیل میں ہونے کے سبب ملاقات نہیں ہو پاتی ہے۔نوراں جگے کی ماں سے نہایت جذبات بھرے لہجے میں کہتی ہے:
"All right, Beybey, I will go. Don't be angry with me. When Jugga comes back just tell him. I came to say Sat Sri Akal.' The girl went down on her knees, clasped the old woman's legs and began to sob. 'Beybey, I am going away and will never come back again. Don't be harsh to me just when I am leaving.'(...)
'Beybey, I have Jugga's child inside me. If I go to Pakistan they will kill it when they know it has a Sikh father."(Ibid, p:138-139)

نوراں کی زبان سے ادا ہونے والے ایک ایک لفظ سے تقسیم و ہجرت کے ظلم و استحصال اور دردوغم آشکارا ہے۔نوراں کا درد دوغم ددراصل پورے انسانی معاشرے کا دردوغم ہے۔اس کے خلوص ومحبت ا ور جذبات واحساسات کی شکست در حقیقت انسانیت کی شکست ہے۔نوراں جیسی نہ جانے کتنی خواتین کی محبت تقسیم اور ہجرت کی بھینٹ چڑھ گئی۔یہاں محبت کو کسی محدودمعنی سے قطع نظر وسیع تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ نوراں صرف ایک عاشق سے نہیں بلکہ صدیوں پرانی تہذیب سے الگ ہونے پر مجبور ہوئی۔ 
امام بخش گاؤں کی مسجد کے امام ہیں۔گاؤں کے لوگ انھیں عزت و احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ تقسیم ملک کے بعد انھیں بھی گاؤں سے ہجرت کرنا پڑتی ہے۔ڈپٹی حکم چند علاقے کے ڈپٹی مجسٹریٹ ہیں۔اس کردار کے ذریعہ خشونت سنگھ نے انتظامیہ اور نوکر شاہی نظام کے غیر ذمہ دارانہ رویے اور کم ظرفی کو بے نقاب کیا ہے۔اقبال ناول کا ایک دلچسپ کردار ہے۔ناول نگار نے اس کردار کے پس پردہ فرقہ وارانہ اشتعال انگیزی کے خلاف اپنے غم و غصہ کا اظہار کیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ناول کے اختتام تک اس کردار کا مذہب دریافت نہیں ہو پاتا کہ ایا وہ اقبال سنگھ ہے یا اقبال محمد۔منوماجرا میں اس کی آمد ایک سماجی کارکن کے بطور ہوتی ہے۔سیاسی مصلحت کے تحت اسے مسلم لیگی قرار دے کر جیل بھیج دیا جاتا ہے۔جیل سے رہا ہونے کے بعد وہ منوماجرا میں امن وامان قائم رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ملہی گاؤں کا ایک ڈکیت ہے۔جگے سے اس کی پرانی دشمنی ہے۔ملہی کا گروہ ہندو زمین دار لالہ رام لعل کا قتل کر دیتا ہے ۔ اور اس قتل کے الزام میں جگے کو گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ست سنگھ گاؤں کے سکھوں کے گورو ہیں۔وہ ایک نیک انسان اور اخلاق پسند کردار کے روپ میں سامنے آتے ہیں۔وہ مذہبی اور باہمی خلوص و محبت کے زبردست حامی ہیں۔وہ گاؤں کے مسلمانوں پر ہونے والے ظلم تشدد کے خلاف اپنی آواز بلند کرتے ہیں۔نمبر دار نہایت فرقہ پرست قسم کا انسان ہے۔وہ مسلمانوں کے خلاف سکھوں کو بھڑکاتا ہے۔
ناول "Train To Pakistan"تقسیم ہند کے جلو میں پیدا شدہ حالات و مسائل کو براہ راست پیش نہیں کرتا۔بلکہ تقسیم کے جاں سوز ماحول کی ترجمانی کرتا ہے۔تقسیم کے موضوع پر تخلیق شدہ اکثروبیشتر ناولوں میں کسی نہ کسی سرحدی گاؤں کا ذکر ملتا ہے۔یہاں بھی منوماجرا نامی ایک پنجابی گاؤں کو بنیاد بنایا گیا ہے۔خشونت سنگھ نے اس گاؤں کی جیتی جاگتی تصویر پیش کی ہے۔گاؤں سے کچھ دوری پر ایک ریلوے اسٹیشن ہے ۔یہاں سے دہلی اور لاہور کی ٹرینیں گزرتی ہیں۔ ’’ٹرین ٹو پاکستان‘‘ میں خشونت سنگھ نے اسے ایک کردار کی حیثیت سے پیش کیا ہے۔اس تناظر میں ناول کا عنوان بھی ہمیں دعوت فکر دیتا ہے۔ منو ماجرا کے روزمرہ کی زندگی سے ریل گاڑیوں کو الگ کرنا ناممکن ہے۔وہاں سے ہوکر گزرنے والی ٹرینوں کی سیٹی سن کر اس گاؤں کے باشندے اپنے روزمرہ کے اوقات کی تنظیم کرتے ہیں۔لیکن تقسیم ملک کے حادثے کے ساتھ ہی یہ پر امن گاؤں اچانک سے قیامت خیز انتشار کا شکار ہو جاتا ہے۔آس پاس کے شہروں میں فرقہ وارانہ فسادات ہونے سے ٹرینوں کی آمدورفت بھی متاثر ہو جاتی ہے۔ریل گاڑیوں کا صحیح وقت پر نہ چلنا تقسیم کے دردو غم کو پیش کرتا ہے۔ اس صورت حال سے گاؤں کے لوگ بے حد پریشان ہوتے ہیں۔ در اصل اس ناول میں ٹرین زندگی کی علامت بن گئی ہے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ تقسیم کے بعد ٹرینوں کی آمدورفت بھی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔نازک حالات ومسائل کے زیر اثر ان ٹرینوں کے اوقات میں غیر معمولی تبدیلی آتی ہے۔اس صورت حال سے منوماجرا کی سماجی وتہذیبی زندگی پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ایسے میں اہل منوماجرا کا پریشان وبے چین ہونا عین فطری ہے۔اس کا سب سے زیادہ اثر مسلمانوں پر ہوتا ہے۔تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ تقسیم وطن کے بعد لاہور،دہلی،کلکتہ،نوکھالی جیسے شہر مذہبی فسادات کا شکار ہوئے۔لیکن خشونت سنگھ کا یہ ناول ہمیں باور کراتا ہے کہ فرقہ واریت کی اس طوفان میں بھی بعض علاقے محفوظ تھے۔ ایسے پر امن حالات کی اصل وجہ آپسی بھائی چارگی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی ہے۔ تقسیم کے بعد لاہور میں بڑے پیمانے پر فسادات رونما ہوئے۔ہندو ؤں اور سکھوں کی ایک بڑی تعداد ہلاک کر دی گئی۔ہندوؤں اور سکھوں کی لاشوں کوٹرین کے ذریعہ ہندوستان بھیجا جاتا ہے۔
’’ٹرین ٹو پاکستان‘‘میں بھی یہ خوف ناک منظر نظر آتا ہے۔اس ناول میں قتل وخون کا منظر پیش کرنے کے بجائے حالات کی ستم ظریفی کو پیش کیا گیا ہے۔مثلاً انسانی لاشوں سے بھری ہوئی ٹرین جب منو ماجرا پہنچتی ہے تو گاؤں کے لوگوں میں عجب بے چینی پیدا ہو جاتی ہے۔اس حادثے کے بعد یہاں بھی بد امنی پھیل جاتی ہے۔فرقہ واریت اس آندھی میں منوماجرا کی مذہبی رواداری اور بھائی چارگی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔اس گاؤں کے مسلمانوں کے دل میں خوف و دہشت پیدا ہو جاتا ہے۔اسی دہشت اور افراتفری کے ماحول میں ہندوؤں اور سکھوں کی ایک بڑی تعدادپاکستان سے ہجرت کر کے منوماجرا پہنچتی ہے۔پاکستان سے آنے والے مہاجرین کو گاؤں کے گوردوارے میں پناہ دی جاتی ہے۔پاکستان سے آئے ہوئے مہاجرین کے حالات سن کر منوماجرا کے ہندو و سکھ فرقے میں انتقام کا جذبہ پیدا ہو جاتا ہے۔خود مہاجرین منوماجرا کے سکھوں اور ہندوؤں کو مسلمانوں کے خلاف اکساتے ہیں۔ایک نوجوان گاؤں کے ہندوؤں اور سکھوں کو للکارتے ہوئے انتہائی نفرت اور غصے میں کہتا ہے:
"For each Hindu or Sikh they kill, kill two Musalamans. For each woman they abduct or rape, abduct two. For each home they loot, loot two. For each train they send load of dead over, send two across. For each road convoy that is attacked, attack two. That will stop the killing on the other side. It will teach them that we can also play this game of killing and looting."(Ibid, p:157)

اس اقتباس کے ایک ایک لفظ سے فرقہ وارانہ دشمنی اوراشتعال انگیزی مترشح ہے۔ منوماجرا کے باشندوں پر اس نوجوان کی فرقہ وارانہ باتوں کا کوئی خاص اثر نہیں پڑتا ۔ لیکن آخرکار وہ گاؤں کے چند نوجوانوں کو مسلمانوں سے بھری ہوئی ٹرین پر حملے کے تیار کر لیتا ہے۔جگے کا دشمن ملہی بھی اپنے گروہ کے ساتھ ان حملہ وروں میں شامل ہوتا ہے۔جگت سنگھ کی قربانی سے ان حملہ وروں کی کوشش ناکام ہوتی ہے۔"Train To Pakistan"میں بعض ایسے کردار بھی ہیں جو اپنی حرکت وعمل سے بہترین اخلاقی اقدار کا درس دیتے ہیں۔اس سلسلے میں میت سنگھ کا کردار قابل ذکر ہے۔وہ گاؤں کے سکھوں کے گورو ہیں۔فرقہ وارانہ دشمنی سے انھیں سخت نفرت ہے۔وہ باہمی خلوص محبت اور مذہبی رواداری میں ایمان رکھتے ہیں۔میت سنگھ گاؤں کے مسلمانوں پر کسی بھی طرح کی زیادتی کے خلاف ہیں۔وہ فرقہ پرست عناصر کو حملے سے روکتے ہیں۔وہ منوماجرا کے سکھوں اور ہندوؤں کو سمجھاتے ہوئے کہتے ہیں:
"I am an old bhai; I could not lift my hands against anyone,fight in battle or kill the killer. What bravery is there in killing unarmed innocent people? As for women, you know that the last Guru, Govind Singh, made it a part of a baptismal oath that no Sikh was to touch the person of a Muslim woman."(Ibid, p:172)

اس اقتباس کے پس پردہ ناول نگار نے یہ احساس دلایا ہے کہ اس بھیانک اور زہرآلود حالات میں بھی ایسے لوگ موجود تھے جنھیں انسانی قدریں عزیز تھیں،اپنے ہم سایوں سے محبت تھی۔ظاہر ہے کہ قتل وخون کا سارا کھیل مذہب کے نام پر ہی کھیلا گیا۔مذہب کی قسم دلا کر ہی لوگوں کو حیوانیت اور درندگی کے لیے تیار کیا گیا۔خشونت سنگھ نے ناول کے روپ میں ایک ایسا تخلیقی آئینہ خلق کیا ہے جس میں انسانی برادری کا بدشکل چہرا صاف دیکھا جا سکتا ہے۔انھوں کسی تعصب اور جانبداری سے قطع نظر سرحد کی دونوں جانب رونما ہوئی درندگی و شیطنت کو بے نقاب کیا ہے۔ہاں اتنا ضرور ہے کہ انھوں نے سکھ فرقے کوبنیادی اساس بنایا ہے۔اس ناول کا ہیرو جگا سکھ قوم سے تعلق رکھتا ہے۔وہ اپنی تمام ترعیوب کے باوجود ہماری توجہ کا مرکزبننے میں کامیاب ہوتاہے۔ در حقیقت جگے کا کردارخشونت سنگھ کے تخیل کی پیداوار ہے۔انھوں نے اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے اسے "Entirely Fiction"کہا ہے۔ 
تقسیم پر مشتمل اکثروبیشتر ناولوں میں فرقہ وارانہ فسادات اور قتل وغارت کی ترجمانی جذباتیت کا شکار ہو گئی ہے۔لیکن "Train To Pakistan" میں توازن اور سنجیدگی کی کیفیت ملتی ہے۔ خشونت سنگھ نے شعوری طور پر ان تلخ حقائق کی راست بیانی سے احتراز کیا ہے۔تقسیم کے جلو میں ملک گیر پیمانے پر اغوا،دنگے اورفسادات کے واقعات رونما ہوئے۔لیکن ناول منو ماجرا میں اغوا،ریپ اور قتل کی ایک واقعہ بھی پیش نہیں آتا۔ہاں لاشوں سے بھری ہوئی ٹرین کی آمدکا ذکر ضرور ملتا ہے۔خشونت سنگھ نے ستلج ندی میں تیرتے ہوئے انسانی لاشوں کی ہلکی سی تصویر بھی پیش کی ہے۔یہی وہ واقعات ہیں جن سے منوماجرا کی مذہبی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی متاثر ہوتی ہے۔ناول نگار نے پاکستان سے انسانی لاشوں کو لے کرآنے والی ٹرین کو "Ghost Train"سے تعبیر کیا ہے۔اقتباس ملاحظ ہو:
"The arrival of the ghost train in broad daylight created a commotion in Mano Majra. People stood on their roofs to see what was happening at the station.(Ibid, p:82)

مندرجہ بالا اقتباس کی روشنی میں منوماجرا کے اضطرابی حالات اور وہاں کے باشندوں کی نفسیاتی کشمکش کو سمجھنا چنداں مشکل نہیں۔ انسانی لاشوں سے بھری ہوئی ٹرین کے آنے بعد فوجی دستے پورے اسٹیشن کو اپنے تحویل میں لے لیتے ہیں۔گاؤں کے باشندوں کو وہاں آنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔فوج منوماجرا سے مٹی کا تیل اور لکڑیاں حاصل کر کے لاشوں کو اسٹیشن کے پاس ایک میدان میں جلاتی ہے۔اس جاں سوزحالات سے واقفیت کے بعدمنوماجرا کے ہندواور سکھ فرقے میں عجب سی بے چینی اور اشتعال انگیزی پیدا ہو جاتی ہے۔ان کے دلوں میں بھی مسلمانوں کے خلاف انتقام کا جذبہ پیدا ہو جاتا ہے۔ خشونت سنگھ نے بڑی خوبصورتی سے حالات کی تلخی اور المناکی کو پیش کیا ہے۔ناول کا آخری حصہ یعنی "Karma"فرقہ واریت اور اشتعال انگیزی کی شدت کو پیش کرتا ہے۔لمبردارایک فرقہ پرست کردار ہے۔وہ گاؤں کے ہندو ؤں اور سکھوں کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکاتا ہے۔وہ اہل منوماجرا سے مخاطب ہوکر نہایت غصے اور جذبات بھرے انداز میں کہتا ہے:
"Do you know how many trainloads of dead Sikhs and Hindus have come over? Do you know of the massacres in Rawalpindi and Multan, Gujranwala and Sheikhupura? What are you doing about it? You just eat and sleep and you call yourselves Sikhs, the brave Sikhs! The martial class!"(Ibid, p:156)

واضح رہے کہ خشونت سنگھ نے فرقہ واریت اور ظلم و بربریت کے دونوں رخوں کو پیش کیا ہے۔انھوں نے ہندوؤں اور سکھوں کے علاوہ مسلمانوں پر ڈھائے گئے جبروتشدد کو بھی موضوع بحث بنایا ہے۔تاریخ شاہد ہے کہ ہندو اور سکھ اکثریتی علاقے میں مسلمانوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیے گئے۔ "Train To Pakistan"میں اس جانب واضح اشارہ ملتا ہے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ خشونت سنگھ نے سکھوں کے مسائل کوشعوری طور نمایاں کیا ہے۔ مسلم فرقے پر کی جانے والی بربریت کی چند جھلکیاں پیش کی جاتی ہیں۔اقتباس پیش خدمت ہے:
"Muslims sat and moped in their houses. Rumours of atrocities committed by Sikhs on Muslims in Patiala, Ambala and Kapurthala, which they had heard and dismissed, came back to their minds. They had heard of gentlewomen having their veils taken off, being stripped and marched down crowded streets to be raped in the marketplace."(Ibid, p:127-128)

ان مباحث کی بنیاد پر یہ بات بخوبی سمجھ میں آتی ہے کہ خشونت سنگھ نے شعوری طور پرتقسیم کے زیر اثر وقوع پذیر ہونے والے بھیانک فسادات اور ظلم وبربریت کو نظر انداز کیا ہے۔ان کا یہی انداز فکر اور اسلوب اسے ایک سنجیدہ اور کامیاب ناول بناتا ہے۔یہ سچ ہے کہ تقسیم کے بیشتر اردواور انگریزی ناولوں میں بربریت کی دلدوز تصویریں ملتی ہیں۔ایسے ناولوں انسانی چیخ وپکار اور آہ وبکا کی فلک شگاف آوازیں سنائی پڑتی ہیں۔ لیکن خشونت سنگھ نے ان جاں سوزحقائق کی تلخی اور کڑواہٹ کو ایک مثبت رخ عطا کیا ہے۔
خشونت سنگھ فن وتخلیق کو ایک بہتر اور مثالی معاشرے کی تشکیل کا کارگر وسیلہ خیال کرتے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ ادب صرف تفریح طبع کا وسیلہ نہیں بلکہ انسانی اور آفاقی قدروں کا ترجمان بھی ہے۔انھوں نے جگت سنگھ اور نوراں کی محبت سے فرقہ وارانہ تصادم اور نااتفاقی کی بیج کنی کی ہے۔امام بخش اور میت سنگھ کے کردار سے مذہبی رواداری اور امن وآشتی کا پیغام ملتا ہے۔تقسیم کے دردو غم کے پس منظر میں انسانی زندگی کے تابناک گوشوں کی عکاسی ہی اس ناول کا اہم مقصد قرار پاتا ہے۔ناول"Train To Pakistan" تقسیم ہند کے نتیجے میں رونما ہونے والی سماجی،سیاسی،تہذیبی اورمذہبی سروکار سے گہراربط رکھتا ہے.ان مباحث کی روشنی میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ یہ ناول تقسیم ہند کے المیے پر دستاویزی حیثیت رکھتا ہے۔
کتاب نما،، ستمبر،اکتوبر ۲۰۱۶

 مضامین دیگر 


Comment Form



اردو فکشن

© 2017 Urdu Fiction. All right reserved.

Developed By: Aytis Cloud Solutions Pvt. Ltd.