راجندر سنگھ بیدی کی تخلیقی انفرادیت




ڈاکٹرمحبوب حسن
25 Aug, 2017 | Total Views: 1029

   

بیسویں صدی کے نصف آخر کا زمانہ اردو فکشن کے لیے راہ کا پتھر ثابت ہوا۔اس عہدنے بڑے بڑے قلم کار اور فن کار پیدا کیے۔ سعادت حسن منٹو،راجند سنگھ بیدی،عصمت چغتائی اورکرشن چندر وغیرہ کاتعلق اسی عہد سے رہا ہے۔ان چاروں فکشن نگاروں نے اپنے قلم کے تیشے سے اس عہدکی زندگی کے پہاڑ کو کاٹنے کی نہایت کامیاب کوشش کی ہے۔مذکورہ بالا تخلیق کاروں نے اپنے منفرد اسلوب اور اپنی امتیازی فکری و فنی ترجیحات کی بنیاد پر ہی اپنی تخلیقی عمارت کھڑی کی ہے۔ان چاروں صاحب طرز تخلیق کاروں کی تخلیقی کائنات الگ الگ رنگوں سے سجی ہوئی ہے۔ سعادت حسن منٹو نے طوائفوں کی زندگی کی قابل رحم صورت حال اور جنسی و نفسیاتی انتشارو گھٹن جیسے مسائل کو خصوصی اہمیت دی ہے تو راجندر سنگھ بیدی نے انسانی زندگی کے نازک ترین جذبا ت و احساسات،خلوص ومحبت اور اخلاقی قدروں کو اپنے فن پاروں میں صداقت کے ساتھ پیش کیا ہے۔عصمت چغتائی کے یہاں متوسط طبقے کی گھریلوزندگی اور خواتین کے بعض پوشیدہ مسائل کو مرکزیت حاصل ہے تو کرشن چندر کے افسانوں میں حقیقت اور رومان کا خوبصورت سنگم نظر آتا ہے۔اردو فکشن کے اس عبوری دور میں اردو افسانہ بیک وقت اجتماعیت وانفرادیت اورحقیقت ورومان کی پرفریب و حقیقی دنیا کا سفر کرتا رہا۔یہ درست ہے کہ ان قلم کاروں کے یہاں موضوعات کی سطح پر بعض اوقات یکسانیت بھی جھلکتی ہے لیکن سچ تو یہ ہے کہ ان تخلیق کاروں نے اپنے جداگانہ تخلیقی گھروندے بنائے اور فکر وفن کی نئی فضاؤں میں سانس لینے کی شعوری واحتجاج آمیز کوشش کی ۔
ظاہر ہے کہ اس عہد میں اپنی تخلیقی شناخت قائم کرنا جوئے شیر لانے سے کم نہ تھا۔ایک طرف پریم چند کی قائم کردہ تخلیقی روایت تھی تو دوسری جانب منٹو،عصمت اور کرشن چندرجیسے دور اندیش فن کارکا کہکشاں۔پیش نظر قلم کاراپنے منفرد تخلیقی رنگ محل کی تعمیرمیں کوشاں اور کسی نئے فکری و فنی جزیرے کی تلاش میں سرگرداں نظر آتے ہیں۔ایسے میں بیدی کے لیے ایک الگ راہ استوار کرنا کوئی آسان کام نہ تھا۔ لیکن راجندر سنگھ بیدی نے اپنے خلاقانہ ذہن اور اپنی تخلیقی بصیرت سے اپنی جداگانہ شعریات بنائی۔ راجندر سنگھ بیدی کے افسانوں کے موضوعات اور ان کا طرز اسلوب انھیں معاصرین کے رنگ وآہنگ سے الگ کرتا ہے۔بیدی فنون لطیفہ کی مختلف اصناف کی زلفوں کے اسیر ر ہے لیکن ان کا اصل تخلیقی جوہراور فکری اساس ان کے افسانوں میںآشکارا ہے۔بیدی نے بے شمار افسانے تخلیق کیے۔ان کے کئی افسانوی مجموعے زیور طبع سے آراستہ ہو چکے ہیں۔’’دانہ و دام‘‘’’گرہن‘‘’’مکتی بودھ‘‘’’کوکھ جلی‘‘’’اپنے دکھ مجھے دے دو‘‘’’ہاتھ ہمارے قلم ہوئے‘‘ جیسے افسانوی مجموعے ان کی تخلیقی انفرادیت کا اطمینان بخش جواز فراہم کرتے ہیں۔بیدی کی تخلیقات کا سارا حسن ان کے پرخلوص جذبے اورشفقت آمیز احساس میں پنہاں ہے۔بیدی منٹو کی طرح زود نویس نہ تھے۔ ان کے یہاں ایک نوع کی سنجیدگی اور متانت ہے۔ انہوں نے غالبؔ کی مانند اردو افسانے کو غور و فکر کی عادت ڈالی۔وہ لکھنے سے قبل سوچتے تھے اور لکھنے کے بعد بھی مسلسل غورو فکر کرتے تھے۔ان کاتخلیقی عمل خلوص آمیز ریاضت سے عبارت ہے۔ان کے فن پارے قارئین سے مختلف قرأتوں کاتقاضہ کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ بعض جگہوں پر آورد کا احساس ہوتا ہے۔اور کہیں کہیں افسانوں کی زبان میں بھی کھردراپن پیدا ہو گیا ہے۔
راجندر سنگھ بیدی کے چند معروف افسانوں اور ناولٹ کے حوالے سے ان کی تخلیقی انفرادیت کو نشان زد کرنے کی کاوش کی گئی ہے۔ ان کے ادبی و تخلیقی امتیاز کو نشان زد کرنے کے لیے جگہ جگہ تقابلی مطالعے کااندازبھی بروئے کار لایا گیا ہے۔ ’’لاجونتی‘‘ ’’بھولا‘‘’’گرم کوٹ‘‘ ’’گرہن‘‘ ’’پان شاپ‘‘’’اپنے دکھ مجھے دے دو‘‘’’دس منٹ بارش میں‘‘ ’’ایک باپ بکاؤ ہے‘‘ ’’کوکھ جلی‘‘’’لمبی لڑکی‘‘’’متھن‘‘اور ’’صرف ایک سگریٹ ‘‘ وغیرہ راجندر سنگھ بیدی کے معروف افسانوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ان افسانوں میں راجندر سنگھ بیدی نے زندگی کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں، امیدوں ،آرزؤں اور لطیف و نازک جذبات و احساسات کو بڑے ہی اچھوتے اور والہانہ انداز میں پیش کیا ہے۔ راجندر سنگھ بید ی کی تخلیقات میں سعادت حسن منٹو اور عصمت چغتائی کی طرح جھنجھلاہٹ ،مزاحمت اوراحتجاج کی کیفیت خال خال نظر آتی ہے۔دوسری بات یہ کہ بیدی کے افسانوں اور ناولٹ کے موضوعات و مسائل کی سطح پر تکرار و یکسانیت کا پہلو حاوی نہیں ہے۔ بیدی کی تخلیقی شخصیت کا ایک انفراد یہ بھی ہے کہ ان پر مریضانہ جنسی اظہار کے سبب نہ توکبھی مقدمے چلے اور نہ ہی رومانی و شعری اسلوب کے الزامات عائد ہوئے۔بیدی ترقی پسندی کی سفاک حقیقت نگاری کے نشے میں سرشار ہوئے اورنہ ہی جدیدیت کی بے لگام داخلیت و آزاد روی کو کبھی منھ لگایا۔انہوں نے ہمیشہ ہی فکری وفنی امتزاج اور توازن کا پاس رکھااوریہ توازن ہی ان کی تخلیقی عظمت کا اصل راز ہے۔گوپی چند نارنگ نے منٹو،بیدی اور کرشن چندرکی ذہنی روش کا موازنہ کرتے ہوئے ہوئے لکھا ہے:
’’
بیدی نے منٹواور کرشن چندر کے تقریباً ساتھ ساتھ لکھنا شروع کیا تھا،لیکن کرشن چندر اپنی رومانیت اور منٹو اپنی جنسیت کی وجہ سے بہت جلد توجہ کا مرکز بن گئے۔بیدی کو شروع ہی سے اس بات کا احساس رہا ہوگا کہ وہ نہ تو کرشن چندر جیسی رنگین نثر لکھ سکتے ہیں اور نہ ہی ان کے ہاں منٹو جیسی بے باکی اور بے ساختگی آسکتی ہے۔ چنانچہ وہ جو کچھ بھی لکھتے ہیں،سوچ سوچ کر لکھتے ہیں۔‘‘
(
اردو افسانہ روایت ومسائل،گوپی چند نارنگ، مرتب،ایجو کیشنل پبلشنگ ہاؤس،دہلی،۲۰۰۸،ص:۴۰۶
مذکورہ بالا اقتباس سے راجندر سنگھ بیدی کے فکری رویے نیز ان کی تخلیقی اساس کو سمجھنا چنداں مشکل نہیں۔خود سعادت حسن منٹو نے بھی بیدی کی سنجیدگی اور متانت کی گرفت کرتے ہوئے ان سے کہا تھا کہ ’’تم سوچتے بہت ہو۔لکھنے سے پہلے سوچتے ہو،بیچ میں سوچتے ہواوربعد میں بھی سوچتے ہو ‘‘۔منٹو کی اس بات کاجواب دیتے ہوئے بیدی نے کہاتھا کہ ’’سکھ اور کچھ ہوں یا نہ ہوں،کاریگر اچھے ہوتے ہیں اور جو کچھ بناتے ہیں ٹھوک بجا کر اور چول سے چول بٹھا کر بناتے ہیں۔‘‘بیدی کا یہ جواب ان کے منفرد تخلیقی رویے اور ان کی جدت پسند طبیعت کا پتہ دیتا ہے۔
راجندر سنگھ بیدی نے مختلف موضوعات پر طبع آزمائی کی ہے ___کنہیا لال کپور نے انھیں بجا طور پرتھیم کا بادشاہ کہا ہے۔ تقسیم ہند کاالمیہ بھی بیدی کی آنکھوں سے اوجھل نہیں رہا۔لیکن انہوں نے تقسیم کی اشتعال انگیزی اورہنگامی و ہیجانی صورت حال پر بہت زیادہ توجہ صرف نہ کی ۔ چند ایک افسانوں میں ہی تقسیم کی آنچ محسوس ہوتی ہے۔تقسیم کے موضوع پر مبنی ’’لاجونتی‘‘ جیسا کسک آمیز اور عبرت ناک افسانہ آج بھی اس المیے کے دردوغم کو تازہ کر دیتا ہے۔ اس افسانے کے مطالعہ کے بعد قاری غمناک جذبات و احساسات کے سمندر میں غوطہ لگانے پر مجبور ہوتا ہے۔قاری کو افسانے کی ہیروئن لاجونتی کے دردو غم میں اپنا دردو غم اور اس کے دل میں اٹھنے والی تڑپ و ٹیس میں اسے اپنی بے بسی و لاچاری محسوس ہوتی ہے۔ بیدی کے یہاں تقسیم کا المیہ مقصد بن کر نہیں ابھرتا۔ انہوں نے اس حادثے کے جلو میں ہونے والی مذہبی قتل غارت گری اور تشددکی تصویرکشی راست طور پر نہیں کی ہے۔بلکہ تقسیم ہند کو پس منظر کے طور پر استعمال کر کے ایک عورت کے داخلی و نفسیاتی کرب واضطراب کوتخلیقی گویائی عطا کی ہے۔
تقسیم کے نتیجے میں اٹھنے والے ہجرت کے طوفان میں لاجونتی کہیں بھٹک جاتی ہے۔’’دل میں بساؤ ‘‘کمیٹی کے تحت مغویہ عورتوں کی بحالی کی امیدیں جاگ جاتی ہیں۔سندر لال کواس کمیٹی کا سکریٹری منتخب کیا جاتا ہے۔اس کمیٹی کے تحت جلوس وپربھات پھیریاں نکالی جاتی ہیں۔طوفان کے تھم جانے کے بعد لاجونتی دوبارہ مل جاتی ہے ۔اس کا شوہر سندرلال اسے اپنے گھر میں پناہ دیتا ہے۔لیکن وہ لاجوکو اپنی بیوی کے روپ میں قبول نہیں کرتا۔وہ اسے ایک دیوی کے روپ میں چاہتا اور مانتا ہے۔وہ ایک دیوی کی طرح اس کی عزت اور احترام بھی کرتا ہے مگربیوی کی محبت دینے سے قاصر ہے۔اس طرح وہ جیتے جی پتھر کی مورت بنا دی جاتی ہے۔بیدی نے اس افسانے میں طہارت کا مسئلہ پیش کرتے ہوئے مرد اساس معاشرے کی غیر انسانی ذہنیت کا پردہ چاک کیا ہے۔یہ افسانہ آج بھی مرد کی بالا دستی اور اس کے تعصب آمیز رویے سے جواب کا طلب گار نظر آتا ہے۔افسانہ ’’لاجونتی‘‘اپنے موضوع اور انداز پیش کش کے اعتبار سے آج بھی Relevant ہے۔لاجونتی اپنے تباہ شدہ وجوداور اپنی ہستی کو سمیٹنا چاہتی ہے۔ اپنی خوشیوں اور اپنے ارمانوں کی ان بکھری ہوئی کرچیوں کو چننا چاہتی ہے مگر سندرلال کی بے اعتنائی اسے یکسرتوڑ کر رکھ دیتی ہے۔ دونوں کی گفتگو کا ایک اقتباس ملاحظہ ہو:
’’
کون تھا وہ؟‘‘
لاجونتی نے نگاہیں نیچی کرتے ہوئے کہا__’’جماں‘‘__پھر وہ اپنی نگاہیں سندرلال کے چہرے پر جمائے کچھ کہنا چاہتی تھی۔لیکن سندر لال ایک عجیب سی نظروں سے لاجونتی کے چہرے کی طرف دیکھ رہا تھا اور اس کے بالوں کو سہلا رہا تھا۔لاجونتی نے پھر آنکھیں نیچی کر لیں۔اور سندر لالا نے پوچھا۔
’’اچھا سلوک کرتا تو وہ؟‘‘
’’
ہاں!‘‘
’’
مارتا تو نہیں تھا؟‘‘
لاجونتی نے اپنا سر سندرلال کی چھاتی پر سرکاتے ہوئے کہا__’’نہیں...‘‘اور پھر بولی’’وہ مارتا نہیں تھا،پر مجھے اس سے زیادہ ڈر آتا تھا۔تم مجھے مارتے بھی تھے پر میں تم سے ڈرتی نہیں تھی...اب تو نہ ماروگے؟‘‘
سندر لال کی آنکھوں میں آنسو امڈآئے۔اور اس نے بڑی ندامت اور بڑے تاسف سے کہا__’’نہیں دیوی! اب نہیں ...نہیں ماروں گا...‘‘
’’
دیوی!‘‘ لاجونتی نے سوچا اور وہ بھی آنسو بہانے لگی۔
اور اس کے بعد لاجونتی سب کچھ کہہ دینا چاہتی تھی لیکن سندر لال نے کہا__ ’’جانے دو بیتی باتیں! اس میں تمہارا کیا قصور ہے۔اس میں قصور ہے ہمارے سماج کا جو تجھ ایسی دیویوں کو اپنے ہاں عزت کی جگہ نہیں دیتا۔وہ تمہاری ہانی نہیں کرتا اپنی کرتا ہے۔‘‘
اور لاجونتی کی من کی بات من ہی میں رہی۔وہ کہہ نہ سکی ساری بات اور چپکی چپکی دبکی پڑی رہی اور اپنے جسم کی طرف دیکھتی رہی جو کہ بٹوارے کے بعد اب ’دیوی‘ کا بدن ہو چکا تھا۔لاجونتی کا نہ تھا۔وہ خوش تھی بہت خوش لیکن ایک ایسی خوشی میں سرشار جس میں ایک شک تھا اور وسوسے۔وہ لیٹی لیٹی اچانک بیٹھ جاتی جیسے انتہائی خوشی کے لمحوں میں کوئی آہٹ پاکر ایکا یکی اس طرف متوجہ ہو جائے...‘‘
(
راجند سنگھ بیدی اور ان کے افسانے،مرتبہ،اطہر پرویز،ایجوکیشنل بک ہاؤس علی گڑھ،۲۰۰۶،ص:۱۷۴
پیش نظر اقتباس لاجونتی کی نفسیاتی بے بسی اور اس کے سینے میں ہچکولے کھانے والے جذبات و احساسات کے اتھاہ سمندرکو آشکارا کرتا ہے۔لاجونتی در حقیقت قسمت کی ماری ہوئی ایسی عورت کا تصور ہے، جو بسنے کے بعد ایک بارپھر سے اجڑ جاتی ہے۔وہ اپنی بے گناہی کے باوجود گنہگاروں کی صف میں کھڑا کی جاتی ہے۔زیر مطالعہ افسانہ مرکزی کردار لاجونتی کے توسط سے تقسیم اور ہجرت کی آندھی میں بھٹکی ہوئی ہزاروں اور لاکھوں بدنصیب عورتوں کی مظلومیت اور ان کی قابل رحم زندگی کے گاتھا کوپیش کرتا ہے۔
راجندر سنگھ بیدی کے علاوہ منٹو،عصمت ،کرشن چندر احمد ندیم قاسمی،اپندر ناتھ اشک،قرۃ العین حیدر ،انتظار حسین اورجوگندرپال وغیرہ نے بھی اس سیاسی و غیر انسانی فیصلے کے نتیجے میں اٹھنے والی فلک شگاف انسانی چیخوں،آگ کے شعلوں میں جلنے و چٹخنے والی لاشوں ، بھوک و پیاس کی شدت سے دم توڑتے معصوم بچوں،خوف و دہشت کے سائے میں نیم جاں بزرگوں اورحیوانیت و درندگی کا شکار بے قصور عورتوں کی زندگی کی عبرت ناک تصویریں پیش کی ہیں۔سعادت حسن منٹو نے ’’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘‘’’کھول دو‘‘’’ٹھنڈا گوشت‘‘اور’’سیاہ حاشیے ‘‘ کرشن چندر نے ’’ہم وحشی ہیں‘‘ عصمت چغتائی نے ’’جڑیں‘‘ اورقرۃ العین حیدر نے ’’جلا وطن‘‘ جیسی دردو الم میں ڈوبی ہوئی تخلیقات یادگار چھوڑا ہے۔لیکن بیدی کا افسانہ ’’لاجونتی‘‘ اپنے تھیم اور ٹریٹمنٹ کے اعتبار سے اپنا جواب نہیں رکھتا۔ 
راجندر سنگھ بیدی کا عہد سیاسی نشیب وفراز،سماجی و تہذیبی انتشار،اقتصادی بدعنوانی اور طبقاتی کشمکش سے عبارت ہے۔ایک طرف ترقی پسندی اوراشتراکی فلسفے کی احتجاجی و بغاوتی چنگاریاں شعبۂ ہائے زندگی کے منفی رویے کو جھلسا دینے کے لیے بے تاب تھیں تو دوسری جانب اہل وطن کے پیروں میں پڑی ہوئی غلامی کی آہنی زنجیرکوکاٹ پھینکنے کی کاوش و جدو جہد بھی جاری تھی۔ روایتی قدریں تیزی سے تبدیل ہو رہی تھیں۔ ایسے میں ایک نیا نظام فکر اپنے بال وپر پھیلانے میں مصروف تھا۔عالمی سطح پر بھی غیر معمولی تبدیلیاں رونما ہو رہی تھیں۔زندگی کے دوسرے شعبوں کی طرز پر مختلف زبانوں کی ادبیات بھی ان تبدیلیوں سے روشناس ہوئیں۔ہندوستان میں منشی پریم چندنے بصیرت افروز تغیر کاسنگ بنیاد رکھ دیاتھا۔ترقی پسند تحریک کے پہلے کل ہند کانفرنس میں پریم چند کے ذریعہ دیا گیا تاریخی خطبۂ صدارت فکری تبدیلی اور نئے افکارو نظریات کاپیش خیمہ ثابت ہوا۔ دوسرے فن کاروں کی طرح بیدی کے ذہن پر بھی نئے انداز فکر کے دور رس اثرات مرتب ہوئے۔ اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ بیدی کے یہاں بھی بعض جگہوں پر پریم چند کی روایت کی جھلکیاں ملتی ہیں۔انہوں نے پنجاب کے دیہی علاقوں کی بودو باش،عادات و اطوار ،آداب زندگی اور وہاں کی تہذیبی و ثقافتی رنگا رنگی کو پیش کیا ہے۔رانو ،تلوکا،سندرلال،لاجو، اندو، مدن، مایا، کیرتی،ہولی،بھولااورروپ متی جیسے کردار بیدی کی تہذیبی و تخلیقی جڑوں کی وضاحت کرتے ہیں۔ 
راجندر سنگھ بیدی کو حقیقت نگار کہا جاتا ہے۔چیخوف اور موپاساں سے ان کا موازنہ بھی کیا گیا۔اردو فکشن کی معروف ناقد ممتاز شریں نے انھیں اردو کا چیخوف کہا ہے۔بیدی مارکس اورفرائڈکے فلسفۂ اشتراکیت اور تحلیل نفسی سے متاثرتھے لیکن مرعوب نہ تھے۔ مغربی فلسفوں اورتھیوری سے واقفیت وذہنی مناسبت کے باوجودانہوں نے اپنے ملک کی معاشرتی،تہذیبی و ثقافتی قدروں اور یہاں کی استعاراتی ، اساطیری اور دیومالائی نظام فکر کو مرکزیت دی۔اس لیے ان کے افسانوں میں سفاک حقیقت نگاری اوربے جا داخلیت کی تلاش فضول ہے۔ غور کا مقام ہے کہ کسی رجحان یا کسی تحریک سے متاثر ہونا کوئی غلط بات نہیں لیکن کسی مخصوص نظریے یا ازم کے تحت فن پارہ تخلیق کرنا مناسب نہیں۔راجندر سنگھ بیدی نے کسی ازم یانظریے کو ذہن میں رکھ کر افسانے تخلیق نہیں کیے اور نہ ہی کسی رجحان /تحریک کی جانب سے ذہن و فکر پربٹھائے گئے پہرے کو من و عن قبول کیا۔ بیدی کوبعض وجوہات کی بنا پر اس تحریک سے ہمدردی تھی۔اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ اس تحریک نے ان کی ذہنی آبیاری اور تخلیقی پرورش کی ۔ لیکن اس تحریک کی انتہا پسندی انھیں راس نہ آسکی۔ذہن نشیں رہے کہ اس تحریک سے بد دل ہونا بیدی کی تخلیقی انفرادیت کے لیے فال نیک ثابت ہوئی۔ وہ فکری و موضوعاتی یک رخے پن کا شکار نہ ہوئے۔ ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے نریش کمار شاد سے کہا تھا کہ:
’’
تحریک تو جاری ہے لیکن اس کو اس قید و بند سے ہم نے نکال دیا ہے کہ ہم آپ کا ڈکٹاٹ نہیں مانیں گے۔ وہ نہیں مانیں گے۔آزادی سے لکھیں گے جو کچھ لکھنا چاہتے ہیں۔ہم نے ان سے آزادی کا یہ حق چھین کر حاصل کیا ہے ۔ اوراب وہ بھی ہمارے پاس سے منھ چھپا کر نکل جاتے ہیں۔ہمیں کچھ نہیں کہہ پاتے کیوں کہ ہم ان کی حدوں سے آگے نکل چکے ہیں۔‘‘ 
(
بحوالہ،راجندر سنگھ بیدی:شخصیت اور فن،جگدیش چندرددھاون،ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،۲۰۰۰۶، ص:۱۹۸
کسی تحریک یا رجحان کی ادعائیت سے قطع نظر بیدی نے زندگی کے عام مسائل کوایک مخلص و سچے ادیب کے روپ میں دیکھا اور پیش کیا ۔ ان کی تحریروں میں عصمت چغتائی کی مزاحمتی روش اور ٹیڑھی لکیریں ملتی ہیں اور نہ ہی وہ اپنے قارئین کو منٹو کے خاص اندازمیں چونکاتے نہیں بلکہ ان کے دلوں میں رشتے کی کسک اور سوزوگداز پیدا کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔ان کے افسانے پڑھ کر قاری آنسو بہانے پر مجبور نہیں ہوتا بلکہ لطیف جذبات و احساسات کی دھیمی دھیمی آنچ پر سلگتا رہتا ہے۔ ’’بھولا‘‘ اپنی نوعیت کا منفردافسانہ ہے۔اس میں ایک بچے کی معصومیت اور نفسیات کو معنوی تہداریوں کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔بھولا اپنے بابا سے دن میں کہانی سننے کی ضد کرتا ہے۔لیکن اس کے بابااسے یہ بتاتے ہوئے سمجھاتے ہیں کہ دن میں کہانی کہنے سے مسافر راستہ بھول جاتا ہے۔لیکن بھولا کی معصومانہ ضد کے سبب بابا اسے سات شہزادوں اور شہزادیوں کا قصہ سناتے ہیں۔
اتفاق سے اسی دن بھولا کے ماما کو اپنی بہن مایا کے یہاں آنا ہے اور کسی وجہ سے انھیں گھر پہنچنے میں دیر ہو جاتی ہے۔گھر کے تمام افراد ان کا بے صبری سے انتظار کرتے ہیں۔اسی انتظار میں رات ہو جاتی ہے۔بھولا دن کی بات یاد کر کے پریشان ہوتا ہے کہ دن میں کہانی کہنے سے مسافر راستہ بھول جاتا ہے۔خودبابا بھی یہ کہتے ہوئے کہانی سنانے پر راضی ہوئے تھے کہ ’’اب کوئی مسافر راستہ کھو بیٹھے___ تواس کے تم ذمہ دار ہو‘‘۔اس ذہنی کشمکش میں بھولا اپنے ماما کو تلاش کرنے کی غرض سے بتّی لے کر چپکے سے گاؤں سے باہر نکل پڑتا ہے۔اس کی ماں مایا کی جب نیند کھلی تو اس نے دیکھا کہ بھولا بستر سے غائب ہے۔مایا کے شوہر اب دنیا میں نہیں ہیں۔ایک بیوہ ماں کی تمام خوشیاں اپنی اکلوتی اولادبھولا سے وابستہ ہوتی ہیں۔ مایا اسے کوئی حادثہ سمجھ کرپاگلوں کی طرح دہاڑیں مارمار کر رونے لگتی ہے۔ وہ بھولا کے غم میں بے ہوش ہو جاتی ہے۔بھولا کی گمشدی کی خبر سن کرپاس پڑوس کی عورتیں بھی جمع ہو جاتی ہیں۔ اسی افراتفری اورشور شرابے میں دروازہ اچانک سے کھلتا ہے اور مایا کا بھائی ایک ہاتھ میں بتّی ،سر پر مٹھائی کاٹوکرا اوربھولا کو گود میں لیے اندر داخل ہوتا ہے۔مایا تیزی سے آگے بڑھتی ہے اور اپنے بھائی کی گود سے بھولا کوچھین کر اسے بے اختیار ودیوانہ وارچومنے لگتی ہے۔بھولا کے آ جانے کے بعدغم کا ماحول یکلخت خوشی میں تبدیل ہو جاتا ہے۔مایا کے بھائی روداد سناتے ہوئے کہتے ہیں
’’
مجھے کسی کام کی وجہ سے دیر ہو گئی تھی۔دیر سے روانہ ہونے پر رات کے اندھیرے میں میں اپنا راستہ گم کر بیٹھا۔ یکایک مجھے ایک طرف سے روشنی آتی دکھائی دی۔میں اس کی جانب بڑھا۔اس خوف ناک تاریکی میں پرس پور سے آنے والی سڑک پر بھولے کو بتّی پکڑے ہوئے اور کانٹوں میں الجھے ہوئے دیکھ کر میں ششدر رہ گیا۔میں نے اس وقت اس کے وہاں ہونے کا سبب پوچھا تو اس نے جواب دیا__کہ بابا جی نے آدوپہر کے وقت مجھے کہا نی سنائی تھی اور کہا تھا کہ دن کے وقت کہا نی سنانے سے مسافر راستہ بھول جاتے ہیں۔تم دیر تک نہ آئے تو میں نے جانا کہ تم راستہ بھول گئے ہو اور بابا نے کہا تھا کہ اگر کوئی مسافر راستہ بھول گیا تو تم ذمہ دار ہوگے۔‘‘
(
راجند سنگھ بیدی اور ان کے افسانے،مرتبہ،اطہر پرویز،ایجوکیشنل بک ہاؤس علی گڑھ،۲۰۰۶ص:۲۵۹
پیش نظر اقتباس میں بیدی کا فن اپنے نقطۂ عروج پر ہے۔اس افسانے میں بیدی ایک بچے کی نفسیات ،معصومانہ فطرت اور ایک ماں کی شفقت آمیز ممتا و محبت نیزاس کی بے چین روح کو فنی تکمیل کے ساتھ پیش کیا ہے۔بظاہر یہ موضوع نہایت عام و معمولی ہے لیکن بیدی نے اسے خاص اورغیر معمولی بنا کر پیش کیا ہے۔ہندوستانی روایات کو بروئے کار لاتے ہوئے انہوں نے بھولا جیسا لازوال اور شاہکار افسانہ تخلیق کیا۔در حقیقت یہی روایات اور اساطیر ہی ان کے فن کو تابناکی اورگہری معنویت سے ہم کنار کرتے ہیں۔ 
منٹو حقیقت نگار سے کہیں زیادہ ایک سرجن کے بھیس میں نظر آتے ہیں۔ان کا فن سرجری کے فن سے قریب تر ہے۔ منٹو کی تیزتیز آنکھیں اکثر و بیشترسماج و معاشرے کی غلاظت اور گندگی پر ہی ٹھہرتی ہیں۔وہ ایک سرجن کی طرح اپنے قلم روپی نشتر کو معاشرے کے سڑے ہوئے زخموں اور ناسور پربے رحمی سے چلاتے ہیں۔عام زندگی جینے والے کرداروں کو ان کے افسانوں میں کوئی جگہ نہیں۔اپنے شوہر سے روزانہ مار کھانے والی دھوبی کی بیوی منٹوکو متاثر کرنے میں ناکام رہتی ہے،جبکہ چکلا گھروں و کوٹھوں پر بیٹھنے والی نیزاپنے جسم کا سودا کرنے والی طوائفوں سے منٹو کو زیادہ دلچسپی ہے۔گھاٹن لڑکی کی بومیں اسے زیادہ کشش محسوس ہوتی ہے۔ سوگندھی کی نفرت ومزاحمت اور اس کی گھائل روح کو منٹو عزیزتر رکھتا ہے۔ بعض اعتبار سے عصمت چغتائی بھی منٹوکی ہم خیال نظر آتی ہیں۔ منٹو کے مشہورخواتین کردارسوگندھی ، سلطانہ،موذیل،نیلم،سکینہ اور کلونت کوروغیرہ بیدی کی اندو، لاجو، رانو، مایا،کیرتی ، اورہولی سے قدرمختلف ہیں۔بیدی کے افسانوں کی ہیروئنیں مزاحمتی اور احتجاجی قوت سے عاری ہیں لیکن ان میں ایثار و قربانی ،خلوص و محبت،صداقت وسچائی اور انسانی قدروں کو زندہ رکھنے کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔ان کی ہیروئن اپنی خواہشات اور آرزوؤں کوپس پشت ڈال کر ٹوٹتے بکھرتے گھر و خاندان کی خوشیوں وامنگوں کو زندہ رکھتی ہے۔’’اپنے دکھ مجھے دے دو‘‘کی اندو سامنے کی مثال ہے۔ان کے ہاں ایسے کردار بھرے پڑے ہیں۔ منٹو کی ہیجان انگیزی اور سنسنی خیزی سے قطئ نظر بیدی کافن ملائمت اور ٹھہراؤ سے عبارت ہے۔ بیدی کی تخلیقات میں بھی حسب ضرورت جنس کا بیان ملتا ہے لیکن انہوں نے جنسی اظہار کو اپنے فن کا مقصد نہیں بنایا۔
راجندر سنگھ بیدی کے افسانے ’’اپنے دکھ مجھے دے دو‘‘ ’’گرم کوٹ‘‘ اور ’’بھولا‘‘اس کی عمدہ مثالیں ہیں۔ان افسانوں کے کردار اپنے فطری حرکت و عمل اور آداب و اطوار سے انسانی رشتوں ،اخلاقی قدروں اور بیش بہا جذبے و احساس کا نہایت متوازن تصویریں پیش کرتے ہیں۔ ’’اپنے دکھ مجھے دے دو‘‘کی اندو اور مدن جیسے کردا ر اردو افسانے کی پوری روایت میں خال خال نظر آتے ہیں۔آج کی اس مشینی زندگی میں سماجی رشتے ،ناطے اور انسانی قدریں تیزی سے روبہ زوال ہیں۔گھر اورخاندان بعض وجوہات کے سبب انتشار کا شکار ہیں۔خلوص و محبت اور ایثارو قربانی کی جگہ حسدودشمنی،نااتفاقی ومفاد پرستی اور لالچ و خود غرضی کا دور دورہ ہے۔ایسے میں بیدی کے افسانے بالخصوص ’’اپنے دکھ مجھے دے دو‘‘اور ’’گرم کوٹ‘‘ ان ٹوٹٹی بکھرتی کڑیوں کو دوبارہ جوڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ان افسانوں کے کردار نہ تو فلسفیانہ گفتگو کرتے ہوئے نظر آتے ہیں اور نہ ہی زندگی کی زمینی سچائیوں سے نظریں چراتے ہیں۔خواب و خیال اور تصوراتی دنیا میں کھوئے رہنے کی بجائے اپنی سمجھ بوجھ سے زندگی کوبارونق اور خوش حال بنانے میں کوشاں رہتے ہیں۔افسانہ ’’اپنے دکھ مجھے دے دو‘‘ میں مدن،اندو اور بابو دھنی رام جیسے کردارانسانی زندگی کی نہایت تلخ اور کڑوی حقیقت کوسامنے لاتے ہیں۔یہ کردار افسانے کے پلاٹ کی ترنگوں پر ہچکولے کھاتے ہوئے آج کے اس زوال پذیرانسانی معاشرے کے لیے طنز و تازیانے کا حکم رکھتے ہیں۔بیدی نے اس افسانے کے پلاٹ کا تانا بانا بابو رام دھنی کی فیملی کے توسط سے تیار کیا ہے۔اس طویل افسانے میں بہت سے انسانی مسائل مذکور ہیں لیکن وحدت تأ ثر اور افسانے کے گٹھاؤ میں کوئی کمی نہیں۔افسانے کے ایک ایک لفظ سے بیدی کے تجربات و مشاہدات کی آنچ محسوس کی جاسکتی ہے۔
بابو رام دھنی کی بیوی یعنی مدن کی ماں اب اس دنیا میں نہیں ہیں۔وہ کسی مہلک بیماری کے کرب و دکھ کو برداشت کرتی ہوئی اس جہان فانی سے کوچ کر جاتی ہیں۔ مدن کی ماں کے انتقال کے بعد اس گھر میں غم واداسی کی فضا چھا جاتی ہے۔لیکن مدن کی شادی کے بعد خوشی و امید کے دریچے کھل جاتے ہیں۔مدن کی بیوی یعنی اندواس گھر میں بیاہ کر لائی جاتی ہے۔بیدی نے یہاں خالص گھریلو ماحول کے سہارے افسانے میں جان پیدا کی ہے۔ایثار وقربانی اور خلوص ومحبت کا پیکر اندو ایک وفاشعار بیوی اور ایک ذمہ دار بہوکے روپ میں اپنے جائز ارمانوں اور آرزوؤں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے خوشی اور امنگوں کے ہزاروں چراغ روشن کرتی ہے۔اس کی بے لوث قربانی و محبت سے بابو رام دھنی کے گھر کی تاریکی دیکھتے ہی دیکھتے روشنی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔وہ بیک وقت کئی طرح کی ذمہ داریوں کو خوش اسلوبی سے نبھاتی ہے۔وہ کبھی وفا ومحبت کی دیوی بن کر مدن کی اجاڑ زندگی میں رنگ بھرتی ہے توکبھی نیک بہوکی شکل میں اپنے خسر بابو رام دھنی کے بڑھاپے کا سہارا بنتی ہے۔علاوہ ازیں اندو مدن کے بھائی اور بہنوں کوبھی اپنی شفقت آمیز ممتا و پیار سے نوازتی ہے۔ماں کی ممتا اور شفقت سے محروم کندن،دلاری اور پاشی کی پرورش و پرداخت اندو کے زیر سایہ ہوتی ہے۔دلاری اکثر وبیشتراوقات اپنی بھابھی جان سے چمٹی رہتی ہے۔ دلاری کی اس عادت سے مدن بعض اوقات ناراض بھی ہوتا ہے۔ اسی جھنجھلاہٹ میں مدن اسے جونک اور چوڑیل سے شبیہہ دیتا ہے لیکن اندواپنی مادرانہ شفقت اور محبت میں ذرہ برابر کمی نہیں کرتی۔ اندو اپنی زندگی کے بیش بہا موتی لٹاتے ہوئے تین بچوں کو جنم دیتی ہے۔وہ اس فیملی پر ہر وقت اپنی محبت اور مہربانی کے گوہر لٹاتی ہے۔
اس طور پر ہم دیکھتے ہیں کہ اندو ایک آڈیل عورت کی شکل میں افسانے میں نمودار ہوتی ہے۔ زیر مطالعہ افسانہ محض واقعات کی کھتونی نہیں ہے بلکہ اس کے اندر نفسیاتی ادراک اور انسانی و اخلاقی اقدارو حیات کی گہری معنویت پوشیدہ ہے۔نفسیاتی و معنوی تفہیم کے لیے افسانے کی سنجیدہ قرأت درکارہے۔ شادی کی پہلی رات میں مدن اپنی ماں کو یاد کر کے غمگین و رنجیدہ ہو جاتا ہے۔وہ چاہتے ہوئے بھی اپنی بیوی اندو سے سب کچھ نہیں کہہ پاتا۔شدید احساس کے باعث اس کا گلا روندھ جاتا ہے اوراس کی آنکھیں ڈبڈبا جاتی ہیں۔لیکن اندو اپنے شوہر مدن کے سینے میں دفن ہر دردودغم اور اداسی و مایوسی کو سمجھ جاتی ہے۔وہ اپنائیت اورفرط جذبات سے کر مدن کواپنی چھاتی سے لگا لیتی ہے۔بیدی کی فنی و نفسیاتی بصیرت کا کمال ہے کہ ایسے لمحات میں اندو کے دل میں ایک بیوی سے کہیں زیادہ ماں کی ممتا وتڑپ جاگ اٹھتی ہے۔ اندو اپنے شوہر مدن کا ہاتھ پکڑتے ہوئے بے حد خلوص و جذبات آمیزلہجے میں کہتی ہے
’’
میں تو پڑھی لکھی نہیں ہوں جی پرمیں نے ماں باپ دیکھے ہیں،بھائی اور بھابیاں دیکھی ہیں۔۔۔اس لیے میں کچھ سمجھتی بوجھتی ہوں۔۔۔میں اب تمہاری ہوں۔اپنے بدلے میں تم سے ایک ہی چیز مانگتی ہوں۔‘‘
روتے وقت اور اس کے بعد بھی ایک نشہ سا تھا۔مدن نے کچھ بے صبری اور کچھ دریا دلی کے ملے کلے شبدو میں کہا۔
’’کیا مانگتی ہو؟تم جو بھی کہوگی میں دوں گا۔‘‘
’’
پکی بات؟‘‘ اندو بولی
مدن نے کچھ اتاولے ہوکر کہا__ہاں،ہاں__ کہا جو پکی بات۔‘‘
لیکن اس بیچ میں مدن کے من میں ایک وسوسہ آیا۔میرا کاروبار پہلے ہی مندا ہے،اگر اندو کوئی ایسی چیز مانگ لے جومیری پہنچ ہی سے باہر ہو تو پھر کیا ہوگا؟ لیکن اندو نے مدن کے سخت اور پھیلے ہوئے ہاتھوں کو اپنے ملائم ہاتھوں میں سمیٹتے اور ان پر اپنے گال رکھتے ہوئے کہا
’’اپنے دکھ مجھے دے دو‘‘
(
راجند سنگھ بیدی اور ان کے افسانے،مرتبہ،اطہر پرویز،ص:۱۳۰-۱۲۹
اس اقتباس میں کوئی فلسفیانہ موشگافی نہیں بلکہ یہاں انسانی اپنائیت وانسیت ،پیارو وفا،خلوص و محبت اور جذبۂ ایثاروقربانی کی روشنی پھوٹ رہی ہے۔ کسی گھر ،خاندان،سماج،معاشرہ بلکہ پوری انسانیت کے تحفظ کی خاطر ایسے جذبات و احساسات ناگزیر ہیں۔اندو کی زبان سے ادا ہونے والا جملہ ’’اپنے دکھ مجھے دے دو‘‘بظاہر سادہ و عام فہم ہے لیکن اس کے اندر حیات وکائنات اور عرض و سماں کی وسعت و گیرائی پنہاں ہے۔یہ جملہ معاصر زندگی کی دم توڑتی قدروں پر گہرے طنز کی حیثیت رکھتا ہے۔ 
قابل غور ہے کہ تین بچوں کو جنم دینے اور گھریلوذمہ داریوں میں منہمک رہنے کے سبب اندورفتہ رفتہ اپنی کشش کھو دیتی ہے۔اس کے حسن و شباب میں اب پہلے والی بات باقی نہ رہی ۔ ایسے میں مدن ایک عجب الجھن و کشمکش کا شکار ہو جاتا ہے۔ اسی کشمکش میں اس کے قدم بہک جاتے ہیں۔وہ پرائی عورتوں میں دلچسپی لینے لگتا ہے۔اندو کو جب اس بات کی خبر لگتی ہے تو اس کے پاؤں تلے زمین کھسک جاتی ہے۔اسے اپنی کوتاہی کا شدید احساس ہوتا ہے۔اس کے اندر ’’لاجونتی ‘‘کی لاجو جیسی محرومی وبے چینی پیدا ہو جاتی ہے۔وہ ایک بار پھرسے اپنے شوہر کے لیے خود کو سنوارتی و سجاتی ہے اور مدن کے دل کی مایوسی وویرانی کو چمن زارمیں تبدیل کردیتی ہے۔اندو پہلی رات کی دلہن کا روپ دھارن کر کے مدن سے بے اختیار لپٹ جاتی ہے۔اس کی آنکھوں سے محبت اور فتح کے آنسوچھلک پڑتے ہیں۔ مدن بھی اپنی بیوی اندوکو والہانہ انداز میں اپنی باہوں بھر لیتا ہے۔مدن اندو کی ڈبڈبائی آنکھیں دیکھ کر پوچھتا ہے:
’’
یہ آنسو؟‘‘
’’
خوشی کے ہیں۔‘‘اندو نے جواب دیا۔’’آج کی رات میری ہے۔‘‘اور پھر ایک عجب سی ہنسی ہنستی ہوئی وہ مدن سے چمٹ گئی۔ایک تلذذ کے احساس سے مدن نے کہا___’’آج برسوں کے بعد میرے من کی مراد پوری ہوئی ہے۔اندو! میں نے ہمیشہ چاہا تھا___‘‘
’’
لیکن تم نے کہا نہیں۔‘‘اندو بولی___’’یاد ہے شادی کے دن میں نے تم سے کچھ مانگا تھا؟‘‘ 
’’
ہاں!‘‘مدن بولا’’اپنے دکھ مجھے دو۔‘‘
’’
تم نے تو کچھ نہیں مانگا مجھ سے۔‘‘
’’
میں نے ؟‘‘مدن نے حیران ہوتے ہوئے کہا___’’میں کیا مانگتا؟میں جو کچھ مانگ سکتا تھا وہ سب تم نے دے دیا۔میرے عزیزوں سے پیار،ان کی تعلیم،بیاہ شادی،یہ پیارے پیارے بچے،یہ سب کچھ تو تم نے دے دیا۔‘‘
(
راجند سنگھ بیدی اور ان کے افسانے،مرتبہ،اطہر پرویز،ص:۱۵۹-۱۵۸
مذکورہ بالا اقتباس ہمارے دل و دماغ میں زندگی کی روشن قدروں ،تعمیری فکر،انسانی ہمدردی اور ازلی شادمانی کا احساس پیدا کرتا ہے۔ بیدی نے افسانے کی ہیروئن اندو کے کے پس پردہ عورت کی عظمت اور تقدس کے مختلف رنگوں کو پیش کیا ہے۔انسانی نفسیات کے نباض راجندر سنگھ بیدی نے اندو کی اچھائیوں کے ساتھ ساتھ اس کی خامیوں اور کوتاہیوں کو بھی ملحوظ خاطر رکھا ہے۔یہ افسانہ صرف مدن اور اندو کے رشتے اور ان کے گھریلو مسائل تک محدود نہیں رہتا بلکہ کائنات کی وسعتوں کوبھی اپنے اندر سمیٹ لینے کی قوت رکھتا ہے۔
راجندر سنگھ کالازوال افسانہ’’گرم کوٹ‘‘ ان کے اولین افسانوی مجموعہ ’’دانہ و دام‘‘ میں شامل ہے۔یہ افسانہ بظاہر ایک کلرک کی خستہ حال زندگی کی محرومی و مایوسی کا قصہ بیان کرتا ہے ۔لیکن بغور دیکھا جائے تو افسانہ ’’گرم گوٹ‘‘میں انسان کی ازلی محرومی و ناکامی کا المیہ نظر آتا ہے۔ ’’اپنے دکھ مجھے دے دو‘‘ کی مانند اس افسانے کی بنیاد بھی ایک چھوٹے سے کنبے کی گھریلو زندگی کے سردو گرم پر رکھی گئی ہے۔شمی اپنے شوہر اور اپنے دو چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ زندگی کے شب وروز گزار تی ہے۔یہ کنبہ اپنی ہزار کوششوں اور محنتوں کے باوجوداپنی معمولی سی معمولی خواہشات کو بھی پورا کرنے میں ناکام نظر آتا ہے۔افسانے میں ایک ایسے کوٹ کا ذکر ہے ،جسے ایک کردار کی حیثیت حاصل ہو گیا ہے۔افسانے کا پلاٹ اس کوٹ کے گرد گردش کرتا ہوا نظر آتاہے۔در حقیقت یہ محض ایک کوٹ نہیں بلکہ اس فیملی کے ناآسودہ ارمانوں اور آرزوؤں کا ایک ایساخواب ہے، جس کی تعبیر میں بھی ادھورے پن کا احساس ہوتا ہے۔ اس گرم کوٹ کے پس پردہ انسان کے جھلستے ہوئے ارمانوں اور دم توڑتی خواہشات کی ترجمانی کی گئی ہے۔
افسانہ ’’گرم گوٹ‘‘ میں راجندر سنگھ بیدی نے اقتصادی پستی، طبقاتی کشمکش اور غربت و مفلسی کو بنیادی موضوع کے طور پر نہیں برتا ہے بلکہ اسے پس منظر کے روپ میں استعمال کرتے ہوئے متوسط طبقے کی گھریلو زندگی میں انسانی و آفاقی قدروں کی معنویت کواجاگر کیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ پیش نظر افسانہ پریم چندر کے ’’کفن‘‘ اور کرشن چندر کے ’’کالو بھنگی‘‘ سے موضوعاتی و فکری مناسبت کے باوجود اپنی منفرد شناخت رکھتا ہے۔اس افسانے میں راجندر سنگھ بیدی کی تخلیقی ہنرمندی اور فنی عظمت اپنے عروج پر ہے۔انہوں نے اس افسانے میں بھی ’’اپنے دکھ مجھے دے دو‘‘ کی ہیروئن اندوکی طرح شمی کا کردار پیش کیا ہے۔شمی ایک وفا شعاراور شوہر پرست بیوی کی شکل میں نمودار ہوتی ہے۔اس کی شخصیت جھنجھلاہٹ اور مزاحمت سے پاک ہے۔ وہ کفایت شعاری،متانت اور احساس ذمہ داری کا پیکر ہے۔اپنے جائز و مناسب ارمانوں کو پس پشت ڈال کرکنبے کے دوسرے افراد کے چہروں پر خوشی وہنسی سجانے کی والہانہ کوشش کرتی ہے۔وہ بھی اندو کے انداز میں اس گھر کی خوشحالی اور کامیابی کے لیے کوشاں رہتی ہے۔اپنے شوہر کے ہزار سمجھانے پر بھی اپنے لیے مینار کانٹے نہیں لیتی۔
اس کا شوہرڈاک خانے میں ایک کلرک ہے۔ اس کی ماہانہ تخواہ گھر کے خرچ کے لیے ناکافی ہے۔کباڑئیے کی دکان سے خریدا ہوااس کے شوہر کابوسیدہ کوٹ، اس کی تنگ دستی وخستہ حالی کا اعلامیہ بن گیا ہے۔ اس کوٹ میں جگہ جگہ کئی سوراخ ہیں۔گھریلو ذمہ داریوں اور دوسری ناگزیر ضروریات کے پیش نظر وہ اپنے لیے نیاکوٹ سلوانے کا ارادہ ترک کرنا چاہتا ہے۔لیکن جب وہ معرا ج الدین ٹیلر ماسٹر کی دکان سے گزرتا ہے تواس کے دل میں نئے کوٹ کی دیرینہ تمنا جاگ اٹھتی ہے۔ خانگی و گھریلوذمہ داریوں کو نبھاتے ہوئے اپنی محرومی و نامرادی میں بھی اسے یک گونہ سکون ملتا ہے۔کیوں کہ شمی کی طرح وہ بھی ایک ذمہ دارو مشفق باپ اور اپنی بیوی سے بے پناہ محبت کرنے والا نیک دل شوہر ہے۔وہ اپنی بیوی بچوں کی خواہشات کی تکمیل کو ہی مقدم تصور کرتا ہے۔در اصل اس کے نقشے کے مطابق زمین کچھ کم پڑ جاتی ہے لہذا وہ تصور ہی میں اپنے ارمانوں کی عمارت کھڑی کرلیا کرتا ہے۔اس کی بیوی شمی اکثرو بیشتر اسے نیا کوٹ سلوانے کی ضد کرتی ہے مگر اس کا شوہربارصفائی سے ٹال جاتا ہے۔ایک بار شمی اس کے بوسیدہ کوٹ میں اپنی پتلی پتلی انگلیاں ڈالتے ہوئے نہایت خلوص اور محبت آمیز لہجے میں کہتی ہے:
’’
اب تو یہ بلکل کام کا نہیں رہا‘‘
میں نے دھیمی سی آواز سے کہا ’’ہاں!‘‘
’’
سی دوں؟۔۔۔یہاں سے‘‘
’’
سی دو،اگرکوئی ایک آدھ تار نکال کر رفو کر دو تو کہا کہنے ہیں۔‘‘
کوٹ کو الٹتے ہوئے شمی بولی ’’استر کو تو موئی ٹڈیاں چاٹ رہی ہیں۔۔۔ نقلی ریشم کا ہے نا۔۔۔یہ دیکھیے ۔۔۔ آخر آپ اپنے کوٹ کے لیے کپڑا کیوں نہیں خریدتے؟‘‘
(
راجند سنگھ بیدی اور ان کے افسانے،مرتبہ،اطہر پرویز،ص:۱۵۹-۱۵۸)
یہ اقتباس اس کنبے کی خستہ حالی اوربے بسی سے پردہ اٹھاتا ہے۔شمی کے ننھے منے بچوں کی معمولی سی معمولی خواہشات بھی نامکمل رہ جاتی ہیں۔گوٹے کی مغزی،دوسوتی، گلاب جامن اورامرتی جیسی چیزوں کے لیے بچوں کا ترسنا قدرت کی بے بسی کی جانب اشارہ ہے۔ جب پشپا منی گلاب جامن کھانے کی معصومانہ فرمائش کرتی ہے تو اس کی ماں شمی اسے چپت لگا کر خاموش کر دیتی ہے۔ افسانے میں دس روپئے کے نوٹ کے گر جانے کا ذکر قاری کے دل کومغموم و رنجیدہ کر دیتا ہے۔در اصل اس بوسیدہ کوٹ کے سوراخ سے نوٹ کا گر جانا کوئی معمولی بات نہیں بلکہ ایک حادثہ ہے۔کیوں کہ اس دس روپئے کے نوٹ سے نہ جانے کتنی امیدیں و آرزوئیں وابستہ تھیں۔
بازارسے واپسی کے دوران وہ پشپا منی کے لیے گلاب جامن اورامرتیاں خریدنے کی غرض سے مٹھائی کی دکان پر جاتا ہے۔دکان پر کھولتے تیل میں کچوریاں پھولتے ہوئے دیکھ کراس کے دل میں عجب سی سرخوشی پیدا ہو جاتی ہے۔کچوریوں کے تخیل محض سے اس کے منھ میں پانی بھر آتا ہے۔وہ پتھر کی میز پر کہنیاں ٹکا کرجی بھر کے کچوریاں کھاتا ہے۔پریم چند کے افسانہ ’’کفن‘‘ میں بھی کچوریوں کا ذکر موجود ہے۔’’گرم کوٹ ‘‘کے بر عکس ’’کفن‘‘کے مادھو اور گیسو توبدھیا کے کفن کو بیچ کر کچوریاں اور پوریاں کھاتے ہیں۔اپنی اس غیر انسانی حرکت کا جواز پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آخر کفن لاش کے ساتھ جل ہی تو جاتا ہے۔دونوں کی صورت حال قدرمختلف ہوتے ہوئے بھی ان میں ایک معنوی ربط اور منطقی جواز ہے۔دونوں جگہوں پر کچوریاں اور پوریاں دیرینہ آرزوؤں کی تکمیل کی علامت بن گئی ہیں۔مٹھائی کی دکان پر کچوریاں کھانے کے بعد پیش آنے والی تعجب خیزصورت حال اس کے دل کو احساس ندامت سے بھر دیتی ہے۔اقتباس پیش خدمت ہے:
’’
ہاتھ دھونے کے بعد جب پیسوں کے لیے جیب ٹٹولی تو اس میں کچھ بھی نہ تھا۔دس کا نوٹ کہیں گر گیا تھا۔
کوٹ کی اندرونی جیب میں ایک بڑا سوراخ ہو رہا تھا۔نقلی ریشم کو ٹڈیاں چاٹ گئی تھیں۔جیب میں ہاتھ ڈالنے پر اس جگہ مرانجا،مرانجا اینڈ کمپنی کا لیبل لگا تھا۔میرا ہاٹھ باہر نکل آیا ۔نوٹ وہیں سے باہر گر گیا ہوگا۔
ایک لمحے میں یوں دکھائی دینے لگا جیسے کوئی بھولی سی بھیڑ اپنی خوبصورت ،ملائم سی اون اتر جانے پر دکھائی دینے لگتی ہے۔
حلوائی بھانپ گیا۔خود ہی بولا۔
’’کوئی بات نہیں بابو جی___پیسے کل آجا ئیں گے۔‘‘
میں کچھ نہ بولا ۔کچھ بول ہی نہ سکا۔
صرف اظہار تشکر کے لیے میں نے حلوائی کی طرف دیکھا۔حلوائی کے پاس ہی گلاب جامن چاشنی میں ڈوبے پڑے تھے۔روغن میں پھولتی ہوئی کچوریاں کے دھوئیں میں سے آتشیں سرخ امرتیاں جگر پر داغ لگا رہی تھیں___اور ذہن میں پشپا منی کی دھندلی سی تصویر پھر گئی۔‘‘
(
راجند سنگھ بیدی اور ان کے افسانے،مرتبہ،اطہر پرویز،ص:۱۲۱)
در حقیقت دس کانوٹ اس کی خوداعتمادی، خودداری اور اس کے عزم و حوصلے کا اشاریہ ہے۔اس واقعے کے بعد شمی کے شوہر کے ارمانوں کی دنیا اجڑ جاتی ہے۔کیوں کہ اس دس کے نوٹ پر افراد کنبہ کی آرزومندنظریں جمی ہوئی تھیں۔ یہ نوٹ اس کے ضمیرکی علامت بھی ہے۔نوٹ کا کھو جانا در اصل معنوی تہہ داری کابلیغ اشارہ ہے۔اتفاق سے دس روپئے کانوٹ مل جاتا ہے۔گویا ضمیر کے دوبارہ زندہ ہو جانے کی راہیں نکل آتی ہیں۔یہ بات اس کے اہل خانہ کے لیے کسی کرشمہ سے کم نہ تھی۔اسے کوٹ کے پشت میں کسی چیز کے سرکنے کا احساس ہوتا ہے۔وہ اسے سرکاتے ہوئے دائیں جیب کے سوراخ سے باہر نکالتا ہے،جو اندر ہی اندر کہیں گم ہو گیا تھا۔یہ وہی دس روپئے کا نوٹ ہے جس کے گم ہو جانے سے اس کے دل پراحساس کمتری اور غم و اداسی کا سایہ لہرانے لگتا ہے۔ اس کے دوبارہ مل جانے پر اس کی آنکھوں میں حسین خواب تیرنے لگتے ہیں۔راجندر سنگھ بیدی کی تخلیقی انفرادیت اور جدت پسندی کی ایک خاص وجہ یہ ہے کہ وہ گھریلو مسائل کے جزئیات اور زندگی کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں وآرزوؤں کونظر انداز نہیں کرتے۔ان کے افسانوں میں ایسی بے شمارمثالیں موجود ہیں۔ قابل توجہ ہے کہ نوٹ کے مل جانے پر وہ دوبارہ خیالی دنیا میں گم ہوجاتا ہے۔تصوراتی جہاں میں پرواز کرتے ہوئے وہ بہت سی چیزوں کی فہرست بنانے مصروف ہوجاتا ہے۔اس کی بیوی شمی اپنے شوہر کے ہاتھ سے کاغذ چھین لیتی ہے اور اسے پھاڑ تے ہوئے کہتی ہے
’’
اتنے قلعے مت بنائیے___پھر نوٹ کو نظر لگ جائے گی‘‘
’’
شمی ٹھیک کہتی ہے۔‘‘ میں نے سوچتے ہوئے کہا۔’’نہ تخیل اتنا رنگین ہو اور نہ محرومی سے اتنا دکھ پہنچے۔‘‘
پھر میں نے کہا ’’ایک بات ہے شمی !مجھے ڈر ہے کہ نوٹ پھر کہیں مجھ سے گم نہ ہو جائے___تمہاری کھیمو پڑوسن باہر جا رہی ہے،اس کے ساتھ جاکر تم یہ سب چیزیں خود ہی خرید لاؤ___کافوری میناکار کانٹے ___ڈی۔ ایم سی کے گولے،مغزی اور دیکھو پوپی منا کے لیے گلاب جامن ضرور لانا___ضرور___‘‘
(
راجند سنگھ بیدی اور ان کے افسانے،مرتبہ،اطہر پرویز،ص:۱۲۱)
شمی کے شوہر کی زبان سے ادا ہونے والا یہ بلیغ و فکر انگیز جملہ ’’نہ تخیل اتنا رنگین ہو اور نہ محرومی سے اتنا دکھ پہنچے‘‘کو افسانے کا کلیہ قرار دیا جا سکتا ہے۔یہ ایک فطری بات ہے کہ حد سے بڑھی ہوئی امیدیں و حسرتیں ایسے طلسمی سانپ کی مانندہوتی ہیں،جو انسان کی رگوں میں غم و محرومی کا زہر اتارتے ہیں۔بیدی نے انسانی زندگی کی اس حقیقت کوتخلیقی توانائی کے ساتھ نمایاں کیا ہے۔ انھوں نے’’گرم کوٹ ‘‘کے عنوان سے اردو فکشن کوایک ایسا لافانی افسانہ دیاہے،جو ہمارے خوابیدہ جذبات و احساسات کوبیدار کرتا ہے۔اگر سعادت حسن منٹو گرم کوٹ پر کوئی افسانہ تخلیق کرتے توان کے یہاں کوٹ کی کوئی دوسری تعبیر سامنے آتی۔ظاہر ہے کہ ’’ٹھنڈا گوشت‘‘اور’’گرم کوٹ ‘‘جیسے عنوانات بھی ان فنکاروں کی فکری و معنوی ترجیحات اور تخلیقی انفرادیت پر دال ہیں۔
حیات و کائنات کا کوئی بھی مسئلہ جب فن کے سانچے میں بحسن و خوبی ڈھل جاتا ہے تو اسے فن پارے کا درجہ حاصل ہوتاہے۔ ادب کی مختلف اصناف کے اپنے مخصوص فنی و ادبی تقاضے ہوتے ہیں۔اظہار کی انھیں تکنیکی بنیادوں پر مختلف اصناف کی عمارتیں کھڑی ہوتی ہیں۔ افسانہ ہو کہ غزل ،ناول ہو کہ نظم،ہر اصناف اپنی جداگانہ فنی شناخت رکھتی ہیں۔ سعادت حسن منٹو ہنگامی اور قابل اعتراض موضوعات و مسائل کے باوجود ایک عظیم فن کار کے روپ میں ہمارے سامنے ہیں۔اس کی خاص وجہ یہی ہے کہ ان کے یہاں اظہار کے فنی وسائل نہایت کامیابی کے ساتھ برتے گئے ہیں۔یہ بات بہت حد تک حق بجانب بھی ہے کہ ایک ادیب و تخلیق کار اپنی فنی و تکنیکی خصوصیات اور اپنے منفرد اسلوب کے باعث ہی کامیابی وبلندی سے ہم کنار ہوتا ہے۔میرؔ ،غالبؔ ،اقبال،فیضؔ ،ؔ پریم چند،منٹو،بیدی،کرشن چندر اورعصمت چغتائی وغیرہ کی فن کارانہ عظمت اورتخلیقی بصیرت اس بات کا جواز فراہم کرتی ہے۔بیدی کی قوت اظہار اور تخلیقی آب و تاب انھیں سعادت حسن منٹو،کرشن چندراورعصمت چغتائی سے منفرد بناتی ہے۔ بیدی کی تخلیقات میں موضوعات و مسائل کے ساتھ ساتھ فنی و تکنیکی ہنر مندی میں بھی انفرادیت و جدت کا رنگ جھلکتا ہے۔ تجربا ت ومشاہدات اوراپنی ژرف نگاہی کی مدد سے انہوں نے فکرو فن میں گہرا ربط پیدا کیا ہے۔انہوں نے کردار نگاری،پلاٹ سازی اور زبان وبیان کے ہر ممکنہ فنی ذرائع و وسائل سے کام لیا ہے۔بیدی نے اپنے افسانوں کے موضوعات وماحول کے اعتبار سے ہی زبان کا استعمال کیا ہے۔ان کے افسانوں میں پنجابی اصطلاحیں،اساطیری بنیادیں اورنادر تشبیہات و استعارات کے خلاقانہ استعمال سے ایک نئے ڈکشن، فطری پن اور تخلیقی تازگی کا احساس ہوتا ہے۔
اردو فکش کے بیشتر ناقدین اس بات سے اتفاق رائے رکھتے ہیں کہ ان کی افسانوی کائنات ہندوستانی تہذیب و ثقافت اور یہاں کی مذہبی،دیومالائی اور اساطیری اساس سے معطر ہے۔ افسانوی مجموعہ ’’دانہ و دام‘‘ سے لے کر ’’ہاتھ ہمارے قلم ہوئے ‘‘میں شامل اکثرو بیشتر افسانوں میں اساطیری ودیومالائی شعور کی کارفرمائی ملتی ہے۔بیدی کا اصل تخلیقی جوہران کے افسانوں میں مستعمل دیومالائی و اساطیری طرز بیان میں کھلتا ہے۔ استعاراتی وعلامتی زبان و بیان سے ان کے افسانوں میں غضب کی تہہ داری وگہرائی پیدا ہو گئی ہے۔بیدی کے یہاں پائی جانے والی اساطیری بنیادیں ان کے ہم عصروں کے یہاں مفقود ہے۔ان کی دیومالائی علامتیں و استعارے اس قدرپیچیدہ نہیں کہ تفہیم سے بالا تر ہو جائیں۔ بیدی کا فن رمز و ابہام اور وکنایہ و اشاریت سے مزین ہے۔ان کے ہر افسانے کی بنیاد تخیل کی گہرائی و تہداری پرپڑتی ہے۔منٹو و کرشن چندر نے بھی تخیل و رمزیت کے حسن کو برتا ہے ۔لیکن ان کے یہاں اساطیری طرزفکر مفقود ہے۔ راجندر سنگھ بیدی کے افسانوں کی یہی فکری و فنی خوبیاں انھیں دوسرے تخلیق کاروں سے ممتازو منفرد بناتی ہیں۔بیدی کے افسانوں میں سعادت حسن منٹو کی مانندبرجستگی نہیں ملتی۔ انھوں نے ہر فن پارے میں جدت و ندرت پیدا کرنے کی شعوری کوشش کی ہے۔ بیدی نے ’’گرہن ‘‘کے پیش لفظ میں اپنے اس مخصوص تخلیقی مزاج کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے:
’’
جب کوئی واقعہ مشاہدے میں آتا ہے تو میں اسے من و عن بیان کر دینے کی کوشش نہیں کرتا بلکہ حقیقت اور تخیل کے امتزاج سے جو چیز پیدا ہوتی ہے، اس کو احاطۂ تحریر میں لانے کی سعی کرتا ہوں۔‘‘
(
بحوالہ راجند سنگھ بیدی اور ان کے افسانے،مرتبہ،اطہر پرویز،ص:۸۸
’’
اپنے دکھ مجھے دے دو‘‘’’لاجونتی‘‘’’گرہن‘‘’’بھولا‘‘’’اغوا‘‘’’رحمان کے جوتے‘‘’’ایک چادر میلی سی‘‘ اور متھن جیسے افسانے بیدی کے اساطیری/ استعاراتی اسلوب کی تہہ داری وپنہائی کے خوبصورت ترجمان ہیں۔ان افسانوں کی معنوی وفکری فضا میں گہرائی وگیرائی پیدا کرنے کے لیے کسی نہ کسی اساطیری /استعاراتی حوالے کی شمولیت نظر آتی ہے۔ان افسانوں میں مستعمل دیومالائی واساطیری جڑوں کی تفہیم کے بغیر بیدی کی تخلیقی ہنرمندی و انفرادیت سمجھ سے بالا تر ہے۔وہ اپنی اس منفرد طرز نگارش کے موجد بھی ہیں اور خاتم بھی۔ بلکہ انتظارحسین کے یہاں ایسی معنوی و پراسرار فضا کی جھلک ضرورملتی ہے۔ لیکن ان کی تخلیقات اساطیری اسلوب سے قطؤ نظر داستانوی، حکایتی اور تمثیلی انداز بیان کی پاسداری کرتی ہیں۔ راجندر سنگھ بیدی کے فن پاروں میں مستعمل اساطیری حوالے ان کی شعوری کوشش، نیز ان کے لاشعوری ادراک وفہم کی جانب بھی بلیغ اشارہ کرتے ہیں۔کبھی وہ ارادتاً اساطیری فضا خلق کرتے ہیں تو کبھی ان کے افسانے فطری طور پر اپنے لیے اساطیری سانچے تیار کر لیتے ہیں۔ساوتری، پاروتی،سیتا،بھوانی،دروپدی، درگا، کورو، یدھشٹر، پانڈو، راکھشش،جاترن، دوشاسن،مدن،منتر اوم نمو بھگوتے واسودیوایا جیسے اساطیری کردار اورمذہبی اصطلاحات مفاہیم کی نئی جہتوں اور انسانی زندگی کے گہرے رموز و نکات کی تلاش و جستجو میں سرگرداں نظر آتے ہیں۔ بیدی کی تخلیقات اپنی فکری وفنی ترجیحات اورمعنوی انفرادیت کی بنیاد پر اردو فکشن اور انسانی سماج و معاشرے کوزندگی کی نئی سمتوں،مثبت قدروں او روشن جہتوں سے ہم کنار کرتی ہیں۔ مختصر یہ کہ ان کا افسانوی سرمایہ فکری توانائی،معنوی تہہ داری اور قوت اظہار کے نئے امکانات کا در وا کرتا ہے۔ 
*** 
فکرونظر،علی گڑھ،

 مضامین دیگر 


Comment Form



اردو فکشن

© 2017 Urdu Fiction. All right reserved.