تشدد کا ادب اور رشید اَمجد کا فنی طریق کار




محمد غالب نشتر(رانچی،انڈیا(
28 Apr, 2018 | Total Views: 463

   

پاکستان کے افسانوی منظرنامے پر اسلوب،تکنیک اور موضوع کے اعتبار سے انتظار حسین کے بعد جن فن کاروں نے اپنی اوربعد کی نسلوں کو متأثر کیا اُن میں رشید امجد کا نام کئی اعتبار سے اہمیت کا حامل ہے۔اس مضمون میں انتظار حسین یا دوسرے ہم عصر افسانہ نگاروں کا موازنہ مقصود نہیں بلکہ رشید امجد کے اسلوب،تکنیک اور موضوع کی جانب اشارہ مقصود ہے۔ساتھ ہی اُن کے افسانوں میں تشدد کے رویےّ پر سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے تاکہ قومی و بین الاقوامی سطح پر ہونے والی صورت حال کا جائزہ لیا جا سکے۔اسی لیے رشید امجد کے اُن افسانوں کو بحث کو موضوع بنایا گیا ہے جن میں انھوں نے وقت اور حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہانیاں رقم کی ہیں۔اردو ادب میں ان کا نام کسی ایک حلقے تک محدود نہیں بلکہ پاک و ہند کے علاوہ اردو کی نئی بستیوں میں بھی وہ قابل احترام سمجھے جاتے ہیں ۔ رشید امجد کا شمار پاکستان میں افسانہ نگاری کی دوسری نسل میں ہوتا ہے۔چٹھے عشرے میں انہوں نے اعجاز راہی کی ایما پر افسانہ نویسی کی ابتدا کی ۔تعلق خاطر رہے کہ ساٹھ کی دہائی کے فن کاروں نے ترقی پسندانہ نظر ےۂ حیات کو مد نظر رکھتے ہوئے نئے طرز کی افسانہ نگاری کی بِنا رکھی تھی جسے جدیدیت کے نام سے بھی یادکیا جا تا ہے ۔ ہندوستان میں جدیدیت کی ماحول سازی کے لیے ایک پلاننگ کے تحت وجودی نقطۂ نظر سے استفادہ کرتے ہوئے نئے افسانہ نگاروں اور ناقدوں نے ایک فضا تیار کی لیکن پاکستان کے ادبی منظر نامے پر یہ دقت پیش نہیں آئی بلکہ وہاں سیاسی ماحول اتنے ناسازتھے کہ نئے افسانے کی ذہن سازی کے لیے کسی ادبی رجحان یا رویّے کی ضرورت نہیں پڑی۔پاکستانی افسانہ نگاروں کے لیے تقسیم کا نوحہ ،یادِ ماضی اور اپنی سرزمین سے اکھڑنے کا کر ب ہی کچھ کم نہ تھا۔نئے ملک کی تشکیل کے بعد سیاسی ماحول کا دگر گوں ہونااور ۱۹۵۸ء کا مارشل لا نافذ ہوناایسے سانحات تھے کہ جس کے لیے کسی آورد کی ضرورت نہیں تھی۔رشید امجد ساٹھ کے عشرے میں منظر عام پر آنے والے واحد ایسے فن کار ہیں جنھوں نے سیاسی مسائل کو بہ طور خاص اپنے افسانوں کا موضوع بنایا۔وہ ایک سوال ’’میں کیوں لکھتا ہوں؟‘‘کے جواب میں اپنا مدعا بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’
میں اس لیے لکھتا ہوں کہ اپنا اظہار چاہتا ہوں۔اپنے عہد اور اس کے آشوب کو لفظوں میں زندہ کرنا چاہتا ہوں۔ ایک آدرش کی تکمیل چاہتاہوں کہ کبھی تو وہ غیر طبقاتی آئیڈیل معاشرہ وجود میں آئے گاجہاں میں اور مجھ ایسے سب سر اٹھا کر چل سکیں گے،ہمیں کوئی فتح کرنے والا نہیں ہوگا،ہماری رائے کی اہمیت ہوگی۔یہ خوب سہی،میری بے بات تمنائیں سہی لیکن میری تحریروں کا اثاثہ یہی خواب اور یہی تمنائیں ہیں۔‘‘(1(
رشید امجد ایسے معاشرے کا خواب دیکھتے ہیں جہاں ہر کسی کو سکون نصیب ہو خصوصاً عام لوگوں کا خاص خیال رکھا جائے۔وہ عام لوگوں کی کہانیاں رقم کرتے ہیں۔ایسی کئی کہانیاں اُن کے مجموعوں میں بکھری پڑی ہیں جن میں عام لوگوں کا خاص خیال رکھا گیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ پورب اکادمی،اسلام آباد سے ۲۰۰۶ء میں ان کی افسانوی کلیات شائع ہوئی تو اُس کانام ’’عام آدمی کے خواب‘‘رکھا گیا۔اس کتاب میں شامل قرۃ العین طاہرہ کو دیے گئے انٹرویو میں بھی انھوں نے اسی بات کا اعتراف کیا ہے۔عام آدمی کی کہانی لکھتے ہوئے رشید امجد اِس بات کا خاص خیال ضرور رکھتے ہیں کہ وہ اپنے اسلوب میں کہانی کو بیان کریں کیوں کہ اُن کا اپنا خاص انداز ہے،اکثر مقامات پر وہ شعری وسائل کا بھی سہارا لیتے ہیں اور ہم نثر میں شاعری کا مزہ بھی لے سکتے ہیں ۔اس بات کا اعتراف ان کے ناقدین نے بھی کیا ہے۔ڈاکٹر انور سدید اپنے مضمون’’رشید امجد کا افسانہ:تجرید وعلامت کا شعری پیکر‘‘ میں ان کے شعری لب و لہجے کی جانب یوں توجہ دلاتے ہیں:
’’
رشید امجد کا شعری لہجہ علامتی اظہار اور تجریدی ڈھانچہ سب مل کر اس کے فن کی ایک نمائندہ جہت اور اس کا منفرد تشخص قائم کرتے ہیں۔دوسری بات یہ کہ رشید امجد تجربوں کے سیلابِ رواں میں بہہ کر ٹھوس کہانی کو گرفت میں نہیں لیتا بلکہ اس تاثر کو پکڑتا ہے جو سیال صورت میں تجربے کے مرکز میں موجود ہوتا ہے اور صرف تخلیقی افسانہ نگار کے ذہن کی طرف خود بہ خود لپکتا چلا آتا ہے۔‘‘(2(
موضوع کی مناسبت سے اَب رشید امجد کے اُن افسانوں کی طرف رجوع کرتے ہیں جن میں سیاسی و سماجی صورت حال کا عکس جھلکتا ہو۔اس سے پہلے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اُن افسانوں کی نشاندہی کی جائے جن میں رشید امجد کا تخلیقی جوہر کھل کر سامنے آتا ہے۔دشت امکاں،فتادگی میں ڈولتے قدم،ڈوبتی پہچان،لیمپ پوسٹ،سمندر قطرہ سمندر،یا ہو کی نئی تعبیر،گم شدہ آوازوں کی دستک،گملے میں اُگا ہوا شہر.....اور نہ جانے کئی اہم افسانے اُن کی شناخت قائم کرتے ہیں۔وہ صاحب اسلوب افسانہ نگار ہیں اور یہی ندرت اُن کی خاص پہچان ہے۔انتظار حسین کی طرح رشید امجد بھی ایسے ہی فن کار ہیں جو موضوعات کے برتاؤ کے ساتھ اسلوب کی وجہ سے بھی دور سے پہچان لیے جاتے ہیں۔رشید امجد کے اسلوب کی ایک خاص بات محسوس و غیر محسوس اشیا کی تجسیم ہے۔وہ ایسے افسانہ نگار ہیں جو اپنے ابتدائی افسانوں سے زیادہ پہچانے جاتے ہیں۔اس کی واحد وجہ فن پر گرفت اور ذہنی پختگی ہے۔مندرجہ بالا افسانوں کی بات کی جائے تو وہ معنیاتی نظام کے تحت تو سیدھے چلتے ہیں لیکن علامت نگاری کے جلوہ گری میں اپنے حقیقی مفہوم سے دور نکل کر نئے معانی وضع کرتے ہیں۔مثال کے طور پر اُن کی کہانی’’ڈوبتی پہچان‘‘کو ہی لیں جہاں کہانی کامرکزی کردار اپنی ماں کی قبر کو پختہ کرانے کا ارادہ کرتا ہے اور اُسے عملی جامہ پہناتا بھی ہے لیکن وسوسے اُس پر سائے کی طرح منڈلانے لگتے ہیں۔قبر پکی کرانے کے بعد مرکزی کردار کو تسلی نہیں ہوتی تو تمام قبروں کو پختہ کرا دیتا ہے محض اس وجہ سے کہ اُس کے ماں کی قبر چھوٹ نہ جائے،لیکن وسوسے ہیں کہ اس کا ساتھ ہی نہیں چھوڑتے۔اب مرکزی کردار کے ذہن میں نیا وسوسہ سر اٹھانے لگتا ہے کہ آیا اُس کی ماں کی قبر اِس قبرستان میں ہے بھی یا نہیں؟قبر کی علامت کو رشید امجد نے نئی معنویت عطا کی ہے۔ اس ضمن میں احمد اعجاز لکھتے ہیں کہ:
’’
معروف معنوں میں’قبر‘،خوف،دہشت اور فنا کی علامت ہے لیکن ہمارے کہانی کار نے ’بیزار آدم کے بیٹے ‘سے ’عام آدمی کے خواب‘تک قبر کو علامتی اور استعاراتی سطح پر معانی و مفاہیم کے جو نت نئے پیرہن عطا کیے ہیں اس کی معمولی نظیر بھی پوری اردو افسانوی روایت میں نہیں ملتی۔‘‘(3(
اسی طرح کہانی’لیمپ پوسٹ‘میں سایہ جسم کی،سڑک زندگی کی اور چوہدری استحصال کی علامت کے طور پر سامنے آتا ہے۔لیمپ پوسٹ اور راوی کے مابین بات چیت میں اسرار پوشیدہ ہے جو سماجی ومعاشرتی طرز زندگی کی عکاسی کر رہاہے۔’سمندر قطرہ سمندر‘میں کہانی کا کردار جب زمان ومکان سے باہر چھلانگ لگاتا ہے تو وہ ٹیکسلا جا پہنچتا ہے جو رشید امجد کے خوابوں کا مسکن ہے۔اس شہر کی خصوصیت میں یہ بات شامل ہے یہ شہر ماضی میں علم و فن کا مرکز رہا ہے ۔اس کہانی کا کردار ایک ساتھ دو زمانوں میں سانس لے رہا ہے۔’یاہو کی نئی تعبیر‘میں انسانی ترقی کا احوال ہے ،ساتھ ہی اس بات کو واضح کیا گیا ہے کہ انسان ذہنی طور پر جتنی بھی ترقی کرلے ،وہ تنزلی کی سمت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
مندرجہ بالا افسانوں کے تناظر میں اُن کے نظرےۂ فن کے ایک رخ کا اندازہ ہوتا ہے لیکن دوسرے رخ کاجائزہ لینے کے لیے رشید امجد کے اُن افسانوں کا محاسبہ ضرروری ہے جو انھوں نے حالات حاضرہ کو مد نظر رکھ کر اور سیاسی اتھل پتھل کی چیرہ دستیوں کی مزاحمت میں افسانے رقم کیے ہیں۔اس ضمن کے افسانوں کی ایک طویل فہرست ہے جن میں یہ تمام عناصر موجود ہیں۔اس قسم کے افسانوں میں سناٹا بولتا ہے،ایک کہانی اپنے لیے،بادشاہ سلامت کی سواری،پژمردہ کا تبسم،بگل والا،شہر گریہ،رات،ایک پرانی کہانی جسے دوبارا لکھا گیااورمجالِ خواب کو شامل کیا جا سکتا ہے۔’’سناٹا بولتا ہے‘‘جبریت و آمریت کے رد عمل میں رقم کیا گیا افسانہ ایسے کردار کی بے معنویت کو پیش کرتا ہے جس کا ہوتے ہوئے بھی ’’وہ‘‘جیسے عمومی نام رکھنے پر مجبور ہے۔اسے اپنی شناخت میں کوئی دل چسپی نہیں ہے بلکہ وہ تو اپنی شناخت چھپا کر دوسروں کے عمل اور رد عمل کا محاسبہ کرتا ہے۔جگہ جگہ گھوم کر لوگوں کے دلوں میں اترنے اور دل کا حال جاننے کی کوشش کرتا ہے۔بے حس معاشرہ ،خوش حال ہے اور اسی میں خوش ہے۔افسانہ نگارنے معاشرے میں بسنے والے لوگوں کی بے حسی کا نقشا کچھ اس طرح سے کشیدکیا ہے:
’’
سڑک پر ٹریفک رکی ہوئی ہے۔چوک میں دو ٹرک آمنے سامنے آگئے ہیں اور دونوں میں سے ہر ایک بضد ہے کہ پہلے دوسرا حرکت کرے۔ان کے پیچھے دونوں طرف بسوں،تانگوں اور کاروں کی لمبی قطاریں بڑے اطمینان سے کھڑی ہیں۔کچھ لوگ چوک میں جمع ہو گئے ہیں اور مزے سے دونوں ٹرک ڈرائیوروں کے مکالمے سن رہے ہیں۔وہ قریب کھڑے ایک شخص کو ہاتھ لگاتا ہے،وہ شخص پتھر کا ہے۔پھر وہ قطار میں کھڑی کار کو چھوتا ہے،وہ بھی پتھر کی ہے۔وہ ایک شخص کو چھوتا ہے،وہ بھی پتھر کا ہے۔ایک، دو، تین، چار ... . سب پتھر کے ہیں۔‘‘ (4(
اس افسانہ میں رشید امجد نے معاشرے کی مردہ دلی کا منظر نامہ بیان خوب صورت سے بیان کیا ہے۔ان کی کہانی کا کردار ’’وہ‘‘کا رویہ معاشرے میں سانس لینے والے لوگوں کے بر خلاف ہے۔وہ عام لوگوں سے مختلف اس طرح سے ہے کہ حالات سے سمجھوتہ کر لیتا ہے۔بیوی کی حرکات و سکنات کا جائزہ لینا چھوڑ دیتا ہے،افسر سے لڑنا جھگڑنا بند کردیتا ہے،کتابوں کی بے علمی کا شکوہ نہیں کرتا،اخبارات مزے لے کر پڑھتا ہے،معاشرے کی بد حالی پر کف افسوس نہیں مَلتا،اس کے بدن کی دیواروں پر ارتعاش کے پیدا ہونے کا کوئی عمل نہیں ہوتابلکہ وہ شخصیت کے دندانے دار لنگڑے دائرے کا طواف کرتا ہے،ذہنوں کی نالیوں میں رینگتا ہے اور اس کے ساتھ ہی ہندسوں کی چہار دیواری سے باہر کود جانے میں ہی اپنی عافیت سمجھتا ہے۔بعض دفعہ اس کی حسیت کام کرتی ہے اور ’’وہ‘‘اس کے مرنے کا احساس شدت سے سر اٹھانے لگتا ہے کہ وہ معاشرے میں گھرے جکڑ بندیوں سے آزاد ہوجانا چاہتا ہے۔لوگوں سے مل ملا کر ،ان سے قربت حاصل کرتے ہوئے وہ اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ پورے معاشرے میں فقط’’وہ‘‘ ہی ہے جو زندہ ہے،باقی تمام مر چکے ہیں،ان کے دل مردہ ہوچکے ہیں،ان کا جسم پتھر کا ہو چکا ہے۔یہی وجہ ہے کہ تنہائی کے لمحات میں جب وہ معاشرے کے ساتھ اپنا محاسبہ کرتا ہے تو پھوٹ پھوٹ کر رونے لگتا ہے،محض اس وجہ سے کہ جبر و تشدد کے دور میں ہر شخص کے اندر جمود طاری ہے،وہ باد مخالف کا مقابلہ کیوں نہیں کرتے،ان کے اندر مقابلے کی صلاحیت کہاں اور کیوں سلب ہو گئی ہے۔اُسے تو لوگوں کے دلوں کے مقابلے میں گھڑی کی سوئیوں میں زندہ دل کی صفت معلوم ہوتی ہے اور وہ غیر مرئی شے سے پورے معاشرے کا محاسبہ کرکے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگتا ہے۔علامتی انداز میں لکھا گیا یہ افسانہ نہایت کامیاب ہے۔اسی ضمن میں رشید امجد کے دوسرے افسانوں مثلاً’’پت جھڑ میں خود کلامی‘‘،’’بیزار آدم کے بیٹے‘‘،’’ریت بانجھ اور شام‘‘،’’کوڑا گھر میں تازہ ہوا کی خواہش‘‘ وغیرہ میں بھی یہ جبریت نمایاں ہے اور تمام افسانوں میں مستعمل علائم و استعارات خود بہ خود اپنے معانی وضع کرنے لگتے ہیں۔
رشید امجد کی کہانی ’’ایک کہانی اپنے لیے‘‘مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ہے۔اس کہانی کو کہانی کار کی نجی زندگی سے منسلک کرکے دیکھیں تو کوئی مضائقہ نہیں کیوں کہ رشید امجد کا رشتہ کشمیر سے والہانہ رہا ہے،ان کی پیدائش کشمیر میں ہوئی،وہیں پلے بڑھے اوربچپن اور لڑکپن کے دن گزارے۔مسئلہ کشمیر،ہند وپاک کے مابین ایک معما بنا ہوا ہے۔منٹو کی کہانی’آخری سلیوٹ‘بھی اسی حوالے سے لکھی گئی ہے۔رشید امجد نے کہانی میں ذائقے کا احساس دلانے کے لیے ’عورت‘کی ذات سے ابتدا کی ہے۔وہ ایک کردار،جس کے متعلق کہانی کار کو لگتا ہے کہ اس لڑکی؍ عورت سے کوئی ازلی رشتہ ہے۔اس مضطرب عورت کے کردار پر توجہ کشید کرنے کے لیے رشید امجد نے ’’میں اور میرے افسانے‘‘کا عنوان قائم کرکے معقول بات کہی ہے۔ان کا قول ہے کہ:میری کہانیوں کا ایک ایسا کردار ہے جس کا ذکر کئی کہانیوں میں ہے۔یہ کون ہے میں نہیں جانتا۔یہ ایک نسوانی کردار ہے،میں اسے اپناآئیڈیل کہتا ہوں،جسے میں تلاش کررہا ہوں اور سچی بات یہ ہے کہ آج تک اُس کی مکمل صورت نہیں دے سکا۔مجھے اس کی آنکھیں نظر آتی ہیں،کہیں ہونٹ،کہیں زلفیں اور کبھی میں اس کی آواز سنتا ہوں۔یہ کردار میری کئی کہانیوں میں ہے۔ میں اس سے بچھڑا ہوا ہوں،اسی کے فراق کے دکھ اٹھا رہاہوں۔میری کہانی’ایک کہانی اپنے لیے‘میں اس کی کئی پرتیں کھلی ہوئی ہیں۔ ‘‘کہانی میں راوی کو ایسا لگتا ہے کہ وہ ایک دوسرے کو کئی صدیوں سے جانتے بھی ہیں اور قیام پاکستان کے کئی سالوں بعد اُن کی ایک دلچسپ ملاقات بھی ہوتی ہے تو راوی پرانے دنوں کو یاد کرکے تقسیم سے ذرا پہلے کا واقعہ دہراتا ہے۔’’ہم صبح راولپنڈی جارہے تھے۔وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ ملاقات کے لیے آئی تھی۔اس کے ابو میرے والد کو اَب بھی سمجھا رہے تھے کہ سری نگر چھوڑ کر نہ جاؤں۔میرے والد بڑے یقین سے کہہ رہے تھے’بس چند دنوں کے لیے جارہا ہوں۔بڑی بہن امرتسر سے وہاں گئی ہے،ان سے ملنا ضروری ہے۔اس کے والد بولے....دیکھو حالات ٹھیک نہیں ہیں،ایسا نہ ہو کہ وہاں جاکر پھنس کر رہ جاؤ۔میرے والد نہیں مانے....۔‘‘کہانی کار نے دیکھا کہ وہ گیلری میں کھڑی ہے اور اُسے ہی حسرت بھری نگاہوں سے دیکھ رہی ہے۔ایک لفظ نہ بول سکی،اس کی آنکھیں بھگی ہوئی ہیں۔جب لوگ چلے گئے تو آہستہ سے بولی’میں تمہارا انتظار کروں گی‘اس کا انتظار طول ہوتا گیا،چہرے دھندلا گئے اور یادیں مندمل ہو گئیں۔حالات بدل گئے،دو حصوں میں بٹنے والے دونوں ممالک میں کشیدگی بڑھتی گئی اور یہ سلسلہ دراز ہوتا گیا کہ اچانک اُسی لڑکی سے ملاقات ایک زمانے کے بعدہوتی ہے جس کی بھیگی آنکھیں ہی سرمایہ ہیں اور جنہیں وہ بہت سنبھال کر رکھتی ہے۔اس کہانی میں رشید امجد نے مسئلہ کشمیر کو خوبصورت اور علامتی انداز میں بیان کیا ہے اور یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ اس تقسیم نے زمین کی تقسیم کے ساتھ دلوں کو بھی منقسم کردیا ہے جو اپنے اندر کئی کئی کہانیاں چھپائے بیٹھی ہیں۔
رشید امجد نے جس زمانے میں افسانے لکھنے کا آغاز کیا،وہ زمانہ پاکستان کی تاریخ میں معاشی و سیاسی بحران کا تھا۔تقسیم کے بعد ۱۹۵۸ء کا مارشل لا،۱۹۶۵ء میں ہند وپاک کی جنگ اور اس کے بعد سقوط ڈھاکا،یہ ایسے ناقابل فراموش سانحے ہیں جن سے ایک حساس ذہنیت رکھنے والا فن کار کسی بھی طور پر صرف نظر نہیں کرسکتا۔پاکستان کی تاریخ کا ایک اور اہم واقعہ ستّر کی دہائی میں فوجی آمریت (۱۹۷۷ء )کے نفاذ کا بھی ہے۔فوجی آمریت کا یہ زمانہ چوں کہ سقوطِ ڈھاکا اور جمہوری تحریکوں کے بعد آیااس لیے بھی اس نے ذہنوں پر گہرا اثر ڈالا۔اس مارشل لا کے خلاف احتجاج کی شدید لہر اُٹھی۔احتجاج کی یہ لَے جس قدر مسلسل اور شدید تھی،شاید پہلے نہ تھی۔اس عہد کے دوران سب سے زیادہ ضرورت آزادئ اظہار کی تھی۔اس لیے اس دور میں گھٹی گھٹی آوازوں اور حبس کے موسموں کا بہت ذکر ہے۔نئی نئی علامتوں اور استعاروں کے تجربے سامنے آئے ۔مزاحمتی اور علامتی ادب کی کئی نئی مثالیں قائم ہوئیں۔اس واقعے نے ملک کے ادیبوں اور دانش وروں کو ذہنی طور پر جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور انہوں نے بڑی تعداد میں آمریت کے خلاف مزاحمتی افسانے لکھے ۔بعد کے دور میں صورتحال میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی بلکہ حالات بد سے بد تر ہوتے چلے گئے۔رشید امجدنے ان حوالوں کو مد نظر رکھ کر کئی اہم افسانے لکھے ہیں جن میں ’پت جھڑ میں مارے گئے لوگوں کے نام‘،’بگل والا‘،’بادشاہ سلامت کی سواری‘،’پژمردہ کا تبسم‘کافی اہم ہیں۔’’بادشاہ سلامت کی سواری‘‘میں کہانی کار نے ایک عام آدمی کی سماجی زندگی کے کئی پہلوؤں کا پردہ چاک کیا ہے۔یہ ایک ایسے عام آدمی کی کہانی ہے جو واقعی عام ہے اور جسے ملک میں رہنے کے لیے تمام حقائق محفوظ ہیں پھر بھی وہ آزادی والی زندگی جینے کی جسارت نہیں رکھ سکتا۔اس افسانے کا پلاٹ ایک ایسے شخص کے ارد گرد بنا گیا ہے جو عام آدمی ہے بلکہ حالات کا ستم رسیدہ ہے،اس کے ذہن میں طبی معائنے کا کوئی واضح تصور نہیں ہے،وہ گھریلو الجھنوں کا اس طرح سے شکار ہے کہ دوسری الجھنوں کو سوچ بھی نہیں سکتا البتہ جب اُسے کوئی تکلیف لاحق ہوتی ہے تو کھانے کے بعد سونف یا اجوائن کی آدھ چمچ چبالیا کرتا ہے اور پھر بھی تکلیف برقرار رہتی ہے تو اُس بیماری کو بد ہضمی کہہ کر التوا کے کھاتے میں ڈال دیتا ہے۔لیکن اپنے عضو کو کب تلک بیوقوف بنایا جا سکتا ہے؟ کہ ایک دن اُس کی طبیعت اچانک بگڑ جاتی ہے۔ڈاکٹر کے مطب کی طرف رجوع کیاجاتا ہے تو وہ کسی بڑے ڈاکٹر کے ہاں جانے کا مشورہ دیتا ہے۔ آناً فاناً اُس کا بڑا لڑکا گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے بڑی سڑک پر آجاتا ہے۔بڑی سڑک پر آنے کے بعد اس کے دماغ میں کشمکش کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے جب اُسے معلوم پڑتا ہے سڑک بند ہے۔اب گاڑی کو نہ آگے سرکایا جا سکتا ہے اور پیچھے دھکیلا جا سکتا ہے۔وہ گھبراہٹ میں آکر ہارن بجاتا ہے تو کئی لوگ ناراضگی اور حقارت کی ملی جلی کیفیت سے اسے دیکھتے ہیں۔سارجنٹ اس نامعقول عمل پر بول پڑتا ہے کہ کیا تکلیف ہے؟پتا نہیں کہ بادشاہ سلامت کی سواری گزرنے والی ہے؟اب اگر ہارن بجایا تو سیدھے جیل جاؤگے۔افسانہ نگار کے نزدیک یہاں ہارن بجانا مزاحمت کی علامت ہے۔لوگوں کے حقوق اتنے پامال ہوچکے ہیں کہ معاشرہ یا اقتدار انھیں مزاحمت کی بھی اجازت نہیں دیتا۔ایک عام آدمی ،دل کی قلابازیوں میں ادھڑا جا رہا ہے،اس کے جذبات کو مجروح کیا جا رہا ہے۔بیٹا ،باپ کی مجبوریوں کو سمجھتے اور جانتے بوجھتے بھی کچھ بھی کرنے سے قاصر ہے۔وہ حالات کے تشدد میں پسا ہوا ہے۔پچھلی سیٹ پر بیٹھی ماں،اپنے میاں پر جلدی جلدی دعاؤں کا ورد کرکے اس کے چہرے پر پھونکیں مار رہی ہے کہ اب خدا ہی ان کا واحدسہارا ہے۔لمحے منٹوں میں اور منٹ کئی منٹوں میں بدل رہے ہیں۔بیٹا بے چینی کے عالم میں کبھی اپنے ماں باپ کو تو کبھی سڑک کے اُس پار دیکھتا ہے لیکن نتیجہ لاحاصل ہے۔رشید امجدنے اس سچویشن کو نہایت عمدگی سے بیان کیا ہے:
’’
لمحہ پر لمحہ بیت رہا تھا اور اس کے دل کی رفتار کبھی کم اور کبھی زیادہ ہوئے جارہی تھی۔پسینے سے ماتھا اور سر بھیگ گئے تھے۔دوپٹے سے انھیں پونچھتے ہوئے بیوی کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔دونوں میاں بیوی کی آنکھوں میں بے بسی تھی،وہی بے بسی جو عام آدمی کا مقدر ہے۔ بیٹا باہر بے بسی سے کبھی چند قدم آگے اور کبھی چند قدم پیچھے ہوتا۔آگے بھی گاڑیوں کی لائن تھی،پیچھے بھی۔دائیں بھی اور بائیں بھی یہی صورت تھی۔اس نے بے بسی سے بال نوچ لیے۔کبھی پچھلے دروازے کے پاس آکر باپ اور وردکرتی ماں کو دیکھتا،کبھی اونچا ہوکے آگے کی طرف۔بادشاہ سلامت کی سواری کا کوئی اتا پتا نہیں تھا اور باپ!باپ تو عام آدمی تھا،اس کا ہونا ،نہ ہونا برابر تھا۔‘‘ (5(
لوگ بادشاہ سلامت کی سواری گزرنے کا انتظار کشید کرتے ہیں،ہسپتال دور ہے،بیوی کو جتنے وظیفے یاد تھے سارے پڑھ لیے ہیں ،پھونکیں مار مار کر گلا خشک ہوگیا ہے،بیٹے کی بے چینی بڑھتی جا رہی ہے۔ماں کی دعاؤں کا اثر کہیں یا بادشاہ سلامت کی مہربانی،گاڑی ہچکولے کھاتے ہوئے آگے بڑھتی ہے اور باپ جامد و ساکت پچھلی سیٹ پر لیٹا ہوا ہے۔چوک تک پہنچتے پہنچتے،ہسپتال کے پورچ میں گاڑی رکتے، اسٹریچر آتے،ایمرجنسی روم میں پہنچتے جانے کتنی دیر ہوجاتی ہے،کچھ پتا ہی نہیں چلتاکہ ڈاکٹر مایوس نظروں سے ماں اور بیٹے کی طرف دیکھتا ہے۔
بادشاہ سلامت کی سواری بہ خیرو عافیت اپنی منزل تک پہنچ گئی ہے۔راستے کے حالات سے باخبر قسم کے رپوٹروں کو اس سانحے کی اطلاع مل گئی ہے لیکن اس کے باوجود یہ خبر کسی بھی چینل سے نشر نہیں ہوتی ہے....کیوں کہ ملک میں پھیلی بد امنی اور آمریت کا یہی اصول ہے۔ افسانے کے آخری جملے سے بات پوری وضاحت کے ساتھ سامنے آتی ہے کہ یہ افسانہ فوجی آمریت کے خلاف زبردست احتجاج ہے۔جہاں ایک شخص اپنے سکون کے لیے عام آدمی کی نیندیں حرام کیے ہوئے ہے اور انھیں سکون سے جینے نہیں دے رہا ہے۔فوجی آمریت اور سیاسی جبر کے حوالے سے کئی اور کہانیاں ہیں جن میں خصوصی طورپر ’بگل والا‘ا ور’پژمردہ کا تبسم ‘کا ذکر ضروری ہے۔
جبریت و تشدد کے واقعات جب حد سے زیادہ بڑھ جاتے ہیں تو ایک فنکار علامات و اشاروں کے ذریعے اپنی بات بیان کرنا شروع کرتا ہے تاکہ علامات کی دبیز تہہ میں اس کا مطلب بھی واضح ہوجائے اور اہل اقتدار پر کچھ عیاں بھی نہ ہو۔ایسی تخلیقات میں نہ تو ناموں کا تصور ہوتا ہے اور نہ ہی زمان ومکان کی کوئی قید ہوتی ہے۔ان اشاروں کو کہانی’’بگل والا‘‘میں صاف طور پر محسوس کرسکتے ہیں۔کہانی کے ابتدائی جملوں میں رشید امجد نے اپنا موقف بیان کردیا ہے۔وہ رقم طراز ہیں:
’’
کہانی کا زمانہ بیسویں صدی کی پہلی،دوسری،تیسری یا کوئی بھی دہائی ہو سکتی ہے۔انیسویں صدی بھی ہو سکتی ہے اور شاید اکیسویں صدی بھی۔بہر حال زمانے سے کیا فرق پڑتا ہے،جگہ بھی کوئی سی ہو سکتی ہے۔یہاں،وہاں لیکن نہیں۔یہ کہانی وہاں کی نہیں یہیں کی ہے۔ کرداروں کے نام بھی الف بے جیم کچھ بھی ہو سکتے ہیں کہ نام شاخت کی نشانی ہیں اور ہماری کوئی شناخت ہی نہیں تو پھر نام ہوئے بھی تو کیا،نہ ہوئے بھی تو کیا۔‘‘(6(
کہانی سناتے ہوئے فنکار کا اسلوب بیان پرویز مشرف کے مارشل لا پر طنز کرتے ہوئے کہتا ہے ’ایک چھوٹی سی چھاؤنی میں کہ اس وقت چھاؤنیاں چھوٹی ہی ہوتی تھیں،آج کی طرح پورے کا پورا شہر چھاؤنی نہیں ہوتا تھا‘ظاہر سی بات ہے پورے شہر کا چھاؤنی میں تبدیل ہوجانا ایک شدید طنز کی طرف ذہن کو راغب کراتا ہے۔اس کے بعد کہانی کار ایک ایسے شخص کی کہانی سناتا ہے جو ’بگل دار‘ہے اور اس بات پر اُسے فخر بھی حاصل ہے کہ اگر وہ بگل نہ بجائے تو فوجیوں کی پوری پلٹن سوتی رہ جائے۔وہ اکثر اپنی بیوی سے فخریہ انداز میں کہتا کہ’میں جھوٹ نہیں بولتا،سپاہی کی حیثیت کیا ہے،بڑا افسر تک میرے بگل کا تابع ہے....میں کوئی معمولی چیز نہیں۔ایک معمولی سپاہی کی بیوی بھی اس بات سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتی لیکن اس کی وقعت کا اندازہ بیوی کو اس وقت ہوتا ہے جب وہ کسی پارٹی میں جاتی ہے اور بڑے عہدے داران اُسے بیٹھے ہوئے سیٹ سے اٹھا کر اُس کی اوقات کی یاد دلاتے ہیں۔وہ اس ذلت کو برداشت نہیں کر پاتی اور پسینوں پسین شرم سے گردن تک ڈوب جاتی ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ساری خواتین مڑ مڑ کر اُسے ہی دیکھ رہی ہیں اور چہ می گوئیاں کر رہی ہیں۔بگل دار کی بیوی کو اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ پروگرام کب ختم ہوا اور لوگ کب اپنی نشستوں سے اٹھ کر چلے گئے۔کسی طرح گھر آکر وہ بگل دار کے بار بار اصرار پر ہچکیوں کے درمیان بس اتنا کہہ پاتی ہے کہ ’’اتنی تذلیل.....!!‘‘کچھ دیر کے بعد وقفوں وقفوں سے ساری بات کہہ سناتی ہے تو بگل دار کو غصہ آجاتا ہے اور احساس کمتری کو مٹانے کے لیے آدھی رات کو ہی بگل اٹھا کر لگاتار بجانا شروع کر دیتا ہے۔ساری چھاؤنی میں ہلچل مچ جاتی ہے،لوگ کمر کستے ہوئے پریڈ میدان کی جانب بھاگے چلے جاتے ہیں اور ساتھ ہی وجہ بھی دریافت کرتے جاتے ہیں۔حالات پرقابو پاکر جب کمانڈنٹ آگے بڑھ کر بگل بردار سے بگل چھینتا ہے تو اُس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہوتے ہیں۔یہاں بھی رشید امجد نے عام آدمی کی ہی کہانی بیان کی ہے اور مارشل لا کے سانحے کو بیان کیا ہے کیوں کہ رشید امجد کے افسانوں کا بنیادی استعارہ ’’عام آدمی‘‘ہے۔وہ عام آدمی کی اور عام آدمی کے لیے کہانیاں لکھتے ہیں جن کے خواب شرمندۂ تعبیر کبھی نہیں ہوتے۔زندگی کی المیاتی کیفیات میں الجھا عام آدمی کو رشید امجد نے نہایت خوبی سے بیان کیا ہے۔اس صورتحال کو شفیق انجم نے کچھ یوں بیان کیا ہے:
’’
رشید امجد عام آدمی کو در پیش صورتحال کی محض تصویر یں نہیں اتارتے اور نہ ہی کسی ایک واقعے یا ایک زاویے میں مقید ہوکر اُسے فوکس کرتے ہیں بلکہ مختلف سطحوں اور مختلف زمانی و مکانی منطقوں میں زاویے بدل بدل کر حقائق کو نقش کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ان کے افسانے یک رخے یا عام و عامیانہ نہیں بلکہ کثیر جہتی،متنوع اور معنویت سے مملو ہیں۔‘‘(7(
رشید امجد کی دوسری تخلیقات کی بہ نسبت ’’پژمردہ کا تبسم‘‘میں فلیش بیک کو تکنیک کا سہارا لیا ہے۔کہانی حال وماضی میں اس طرح پیوست ہے کہ کہانی کا حسن دوبالا ہوگیا ہے۔فلیش بیک کی کہانیوں میں کہانی کار سے ذرا سی چوک ہوجائے تو افسانہ،افسانہ بنتے بنتے رہ جاتا ہے لیکن رشید امجد نے اس کہانی کو شاہکار بنا دیا ہے۔یوں تو ایک سفر کی روداد لیے ہوئے یہ کہانی بیان ہوئی ہے جس میں افسانہ نگار یعنی راوی کو ہندوستان کے شہر علی گڑھ کے کسی سمینار میں آنے کا تفاق ہوتا ہے اور وہ علی گڑھ،دہلی سے گزرتے ہوئے آتا ہے۔دہلی،راوی کے لیے یادِ ماضی کو کریدنے والا شہر ہے اور اس شہر سے کئی یادیں وابستہ ہیں۔یہی وہ شہر ہے جہاں آغا قلی خان نے فیصلہ کیا تھا کہ قندھار سے دلی میں کاروبار کا سلسلہ شروع کریں گے۔آغا کی بیٹی ’فرغانہ‘سے راوی کی نسبت طے تھی لیکن اس شہر نے سب کچھ تاراج کردیا اور راوی کی یادیں فقط قصۂ پارینہ ہوکر رہ گئیں۔اس پورے افسانے میں فرغانہ کا رویہ،اس سے محبت،خلوص، قندھار ،لاہور او ردلی کا ذکر ہے لیکن افسانے کے آخری جملے میں جب سمینار میں شرکت کے بعد لاہور کے ہوائی اڈے پر اترتا ہے تو جلی حروف میں ٹی وی کے سکرین پر یہ خبر سنتا ہے:’’قندھار پر امریکی طیاروں کی شدید بمباری‘‘۔قندھار چوں کہ فرغانہ کا وطن ہے اور راوی کی کئی یادیں اس شہر سے وابستہ ہیں لہٰذا یہ خبر راوی کے لیے جان لیوا ہے۔چناں چہ وہ محسوس کرتا ہے کہ قندھار،لہور ،دلی سب ملبے کے ڈھیر بنے ہوئے ہیں اور راوی تن تنہا ملبے پر کھڑا اپنا جغرافیہ ڈھونڈ رہا ہے۔
انسانی زندگی کی معمولات میں ’’دہشت گردی‘‘کا موضوع اپنے کریہہ چہرے کے ساتھ نمودار ہوا ہے۔اس کی بد ترین شکل زمانۂ قدیم سے ہی عوام پر واضح ہوتی رہی ہے۔عجیب اتفاق ہے کہ اس کی کوئی حتمی تعریف متعین نہیں ہوسکی ہے۔اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ مقتدر ممالک نے ہمیشہ اپنے دشمنان کے لیے ’دہشت گرد‘کا خطاب استعمال کیاہے۔ایک ہی فرقہ جب کسی ملک کا ساتھ دیتا ہے تو رفیق بن جاتا ہے اور جب منہہ پھیر لیتا ہے تو اُس پر دہشت گردی جیسے القابات سے نوازا جاتا ہے۔یہ تو ایسی صورت میں ہوتا ہے جب دنیا کے مختلف ممالک کا معاملہ ہو۔ عہدجدید میں دہشت گردی کا لیبل فقط ایک خاص گروپ کے لیے مختص ہے جن کی جانب سابق امریکی صدر جارج بش نے اشارتاً کہا تھا کہ ’’تمام مسلمان دہشت گرد نہیں ہیں لیکن تمام دہشت گرد مسلمان ہیں۔‘‘یہ نئی اصطلاح خود امریکہ کی اختراع کردہ ہے جس کی حمایت وہ تمام ممالک کرتے ہیں جو دشمنانِ اسلام ہیں۔واضح ہو کہ 9/11 کے بعد امریکہ اور دوسرے حمایتی ممالک نے با ریش اصحاب پر تو کچھ زیادہ ہی سختیاں کی ہیں۔خود امریکہ میں اس کی واضح مثالیں مل جائیں گی۔عوام کے دلوں میں ایسے لوگوں کے خلاف اس طرح زہر گھول دیا گیا ہے کہ معصوم شخص بھی باوضع شخص سے باتیں کرتے گھبراتا ہے۔ بین العلومی مذاہب کے ادیبوں نے اپنے قلم کے ذریعے ایسے نامساعد حالات اور غیر مساویانہ رویے پر سخت تنقید کی ہے۔اردو ادب کے فکشن نگاروں اور شاعروں نے بھی اس حوالے سے کئی اہم کام کیے ہیں۔رشید امجد نے اس حوالے سے کئی اہم کہانیاں رقم کی ہیں جن میں ’شہر گریہ‘،’ایک پرانی کہانی جسے دوبا رہ لکھا گیا‘،’رات‘ اور’مجالِ خواب‘وغیرہ کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔
رشید امجد نے ’’شہر گریہ‘‘میں اساطیری حوالے کو بنیاد بنا کر کہانی کے سرے کو آگے بڑھایا ہے۔انھوں نے اپنے پیارے ملک کی زنوں حالی کا نوحہ کرتے ہوئے بنی اسرائیل کے رونے کی طرف اشارہ کیا ہے جب بخت نصر نے بال و نینوا میں انھیں قید کردیا تھا۔اس رونے میں یہ امر پوشیدہ ہے کہ اُن کا رونا تو سمجھ میں آتا ہے کہ دشمنوں نے بنی اسرائیل کے ساتھ نازیبا سلوک کیا تھا لیکن کہانی کار کو راوی یعنی کہانی کے ہیرو یا اُس جیسے لوگوں کا رونا سمجھ میں نہیں آتا جنھیں اپنے ہی لوگوں نے قید وبند کی تکلیفیں دی ہوئی ہیں،اپنی ہی سر زمین کو بم و بارود سے تار تار کرنے میں کوشاں ہیں،جہاں چپ کا ایک سلسلہ ہے،جہاں زندہ،مردوں کے مترادف ہیں،جہاں وقت بے وقت دھماکے ہوتے رہتے ہیں اور لوگ اس کے عادی بھی ہوچکے ہیں،جہاں باریش شخص عوام کو جنت کی بشارتیں دیے پھر رہا ہے اور جہاں عوام اپنی ہی سر زمین پر اجنبیت کی بٗو کو قریب سے محسوس کر رہے ہوں۔گویا کہانی کار بنی اسرائیل جیسی بد ترین قوم سے اپنے ملک کے لوگوں کا موازنہ کرتے ہوئے یہ کہنا چاہتا ہے کہ اپنا ملک یہودیوں سے بھی بد ترین ہو چکا ہے جہاں انسانیت کی شناخت ختم ہو چکی ہے۔’’ایک پرانی کہانی جسے دوبارا لکھا گیا‘‘میں بالکل سابقہ تکنیک ہے جہاں راوی مسلم ممالک کے واقعات کو یاد کرکے اپنے ملک کی بے حسی کا ذکر کیا ہے۔وہ قاہرہ،اندلس،روم و مصر جیسے ممالک اور اُن کے اجڑنے کے اسباب تو نہیں بیان کرتا لیکن علامتی و استعاراتی انداز میں سب کچھ کہہ جاتا ہے۔کہانی کار نے ایک سیاح کو کہانی کے مرکزی کردار کے طور پر پیش کیا ہے کہ شہر کے بیچوبیچ ایک گھوڑا داخل ہوگیا ہے جو کسی شہری کو دکھائی نہیں دے رہا ہے اور اس کے اندر چھپے سورما باہر نکلنے کے لیے بے تاب ہیں اور رات ہونے کا انتظار کر رہے ہیں،ان کی پیاسی تلواریں تازہ خون کی مہک کو ترس رہی ہیں اور شہر کا عالم کچھ یوں ہے:
’’
مدرسوں میں استاد طالب علموں کو نئے علوم سے آگاہ کررہے تھے لیکن انہیں خود معلوم نہ تھا کہ یہ علم کیا ہے اور وہ کیوں اس کی تدریس کر رہے ہیں؟مسجدوں میں شلوار باندھنے کی شرعی حیثیت پر بحث ہورہی ہے،دربار میں درباری بادشاہ سلامت کے نئے چوغے کی تعریف میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں اور بادشاہ سلامت دربار میں موجود خواتین میں سے آنے والی رات کے لیے حرم کی زینت بننے والی ،کے انتخاب میں مصروف تھے۔‘‘(8(
اس کہانی میں رشید امجد نے اپنی ہی کوتاہیوں کی جانب اشارے کیے ہیں اور یہ بتانے کی جسارت کی ہے کہ مسلم ممالک کی موجودہ صورتحال ،انہی کی کوتاہیوں کا نتیجہ ہے۔انھوں نے اپنے اقتدار کی قدر نہ کی اور اپنے دنوں کو یوں ہی ضائع جانے دیا۔کہانی’’رات‘‘میں کہانی کار نے ملک کی بد امنی کی طرف اشارہ کیا ہے جہاں حفاظتی دستے تو کام کر رہے ہیں لیکن وہ لوگوں کی نہیں،بادشاہ سلامت کی حفاظت کے لیے کوشاں ہیں۔ایک شخص شہر جانے والی شاہراہ کے بیچ و بیچ سر سے پاؤں تک خوف میں لتھڑا کھڑا ہے۔اس شہر میں مرنے اور جینے کی کوئی کیفیت نہیں ہے۔شہر میں مرنا جینا،جی جی کر مرنا او رمر مر کر جینا ایک معمول بن گیاہے۔صبح گھر سے نکلتے ہوئے کسی کو پتا نہیں ہوتا کہ وہ گھر لوٹے گا یا اُس کی اطلاع۔اس کہانی کے حوالے سے طاہرہ اقبال رقم طراز ہیں:
’’
پورے شہر میں ایک ہی منظر نامہ ہے۔گھور تاریک رات،سبھی اپنی توانائیاں غیر تعمیری سر گرمیوں میں ضائع کر رہے ہیں۔تخریب ہمارے کرداروں میں،اداروں میں،گھروں میں اور شہروں میں گھس آئی ہے۔ صبر و ضبط ،حوصلہ اور قناعت جیسے مثبت جذبوں کو چھین چکی ہے اور اثبات کی بنیادوں میں گھن لگ چکاہے۔اس قوم کی بد نصیبی یہی ہے کہ حالات کا ادراک نہیں ہے،آنے والے وقت کے لیے کوئی تیاری نہیں۔‘‘(9(
’’
مجالِ خواب‘‘جیسی کہانی نائن الیون کے پس منظر میں رقم کی گئی ہے۔یہ ایسا منظر نامہ ہے جس سے رشید امجد کا ملک سات سمندر پار تھا لیکن اس سانحے کی بازگشت صاف طور پر سنائی دی۔ہندوستان میں اس پس منظر میں اکا دکا کہانیاں لکھی گئی ہیں لیکن پاکستان میں اس حوالے سے کئی اہم افسانے منظر عام پر آئے۔ان کی تعداد اتنی بڑھی کہ نجیبہ عارف نے ’’9/11 اور پاکستانی اردو افسانہ‘‘کے عنوان سے ایک کتاب ہی ترتیب دے ڈالی اور پر مغز مقدمہ بھی تحریر کیا ۔رشید امجد کا اسلوب یوں تو علامتی و استعاراتی ہے،اس لیے مذکورہ کہانیوں کو دوسرے پس منظر میں بھی دیکھ سکتے ہیں۔معاشرتی تشدد ،ہمارے کہانی کار کا خاص موضوع ہے جسے برتنے کے لیے وہ کبھی سیدھے لفظ کا استعمال کرتے ہیں تو کبھی علامتی انداز اختیار کرلیتے ہیں۔کبھی تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ اساطیر کی دنیا کی سیر کراتے ہوئے قاری کی دلچسپیوں کا خاص خیال رکھتے ہیں اور اپنی بات کو بہ آسانی کہہ جاتے ہیں۔مندرجہ بالا افسانوں کے علاوہ اور بھی کئی افسانے ان کی کلیات’’عام آدمی کے خواب‘‘میں بکھرے پڑے ہیں جن کا مطالعہ ،معاشرتی تشدد کے باب میں کافی سود مند ثابت ہوگا۔
***
حوالہ جات:
1
۔رشید امجد۔عام آدمی کے خواب(کلیات)۔پورب اکادمی،اسلام آباد۔۲۰۰۷ء۔صفحہ نمبر ۱۷
2۔انور سدید۔اردو افسانے کی کروٹیں۔مکتبہ عالیہ،اردو بازار،لاہور۔۱۹۹۱ء۔صفحہ نمبر ۸۸
3۔احمد اعجاز۔(مرتب)رشید امجد کے منتخب افسانے۔پورب اکادمی،اسلام آباد۔۲۰۰۹ء۔صفحہ نمبر ۱۴
4۔رشید امجد۔عام آدمی کے خواب(کلیات)۔پورب اکادمی،اسلام آباد۔۲۰۰۷ء۔صفحہ نمبر ۴۰۶
5۔رشید امجد۔عام آدمی کے خواب(کلیات)۔پورب اکادمی،اسلام آباد۔۲۰۰۷ء۔صفحہ نمبر ۷۲۶
6۔رشید امجد۔عام آدمی کے خواب(کلیات)۔پورب اکادمی،اسلام آباد۔۲۰۰۷ء۔صفحہ نمبر ۶۰۸
7۔شفیق انجم۔رشید امجد:عام آدمی کا صورت گر۔مشمولہ۔’رشید امجد:ایک مطالعہ‘(مرتب)شفیق انجم۔نقش گر،راولپنڈی۔۲۰۰۹ء۔صفحہ نمبر ۱۲۰
8۔رشید امجد۔ایک پرانی کہانی جسے دوبارا لکھا گیا۔مشمولہ’صحرا کہیں جسے‘۔الفتح پبلی کیشنز،راولپنڈی۔۲۰۱۲ء۔صفحہ نمبر ۵۱
9۔طاہرہ اقبال۔پاکستانی اردو افسانہ۔فکشن ہاؤس،لاہور۔۲۰۱۵ء۔صفحہ نمبر ۶۸۰
***

 مضامین دیگر 


Comment Form



اردو فکشن

© 2017 Urdu Fiction. All right reserved.

Developed By: Aytis Cloud Solutions Pvt. Ltd.