زندگی کی سچائیوں کو افسا نہ کرنے وا لا فن کار




اسلم جمشیدپوری
12 Sep, 2017 | Total Views: 235

   

جمشید پورمیں ادب کی روا یت تقریباً صد سالہ سفر طے کر چکی ہے۔ شاعری اور افسانہ نگاری، دو نوں کے بڑے بڑے فن کار جمشید پور نے دیے ہیں۔ بات جب شہر آہن میں افسا نے کی ہو تو زکی انور، ہر بنس سنگھ دوست، منظر کاظمی، گربچن سنگھ، عبدالرزاق کھڑگ پوری،شمیم چوار وی ،حسن نظا می کیرا پی کی نسل کے بعد انور امام، رضا احمد ادیب،حیدر راحت،جی ڈی، احمر، اسلم ملک، تنویر اختر رو مانی کی نسل سا منے آتی ہے۔ تنویر اختر رو مانی اس نسل کی اپنی مثال خود کہے جا سکتے ہیں۔ ۱۹۷۵ء سے اپنا افسا نوی سفر شروع کرنے وا لے تنویر اختر رو مانی کا، چا لیس سال کے طویل عرصے میں، پہلا مجموعہ’’ ببول‘‘ منظر عام پر آرہا ہے۔ مجمو عے کی اشا عت میں غیر معمولی تا خیر کے متعدد اسباب ہیں۔ سب سے بڑا سبب تو افسا نہ نگاری میں تسلسل کا فقدان ہی ہے۔ کبھی خوب افسا نے لکھے اور کبھی طویل مدت تک حقیقت سے صرف آ نکھیں چار کرتے رہے۔
تنویر اختر رو مانی کا شمار مشترکہ بہار کے زود گو قلم کا روں کی صف اول میں ہو نا چاہئے۔جی ہاں، اس قلم کار نے درجنوں طبع زاد افسا نے تحریر کیے، درجنوں کہانیوں کا اردو سے ہندی میں ترجمہ اور ہندی سے اردو میں ترجمہ کیا،شاعری کی، مضا مین لکھے، تنقید،تحقیق، تدوین، تا لیف کی،بچوں کے لیے اردو کے ساتھ ساتھ ہندی میں بھی لکھا،صحافت میں بھی قلم کے جو ہر دکھائے۔ ان میں سے زیادہ تر کام یافت کے لیے کیا۔ ایسے رسا ئل و جرا ئد میں شائع ہونے کا نشا نہ مقرر کیا جو معا وضہ دیا کرتے تھے۔جب تخلیق کار کا مقصد ایک سے زائد ہو تو بہت کچھ ادبی نہیں ہو تا۔ تنویر اختر رومانی کے ساتھ بھی یہی ہوا۔بقول کرشن بہاری نور لکھنوی ؂
اتنے حصے میں بٹ گیا ہوں
اپنے حصے میں کچھ بچا ہی نہیں
تنویر اختر ایک زمانے میں اردو اور ہندی کے پہلے درجے کے کم ،دوسرے درجے کے زیا دہ تر رسائل میں تواتر کے ساتھ نظر آتے تھے۔ کہیں نظم،کسی میں ترجمہ شدہ افسا نہ، کسی میں مضمون، کسی میں بچوں کی کہانی تو کہیں طبع زاد افسا نہ اور کہیں افسانچے ۔الغرض ہر طرف تنویر اختر رو مانی کا نام چھایا ہوا تھا۔ ایسے میں افسا نہ نگار تنویر اختر رو مانی کو تلاش کر نا ذرا مشکل کام تھا۔ افسا نوں کی تعداد بتدریج کم ہو تے ہوتے تقریباً صفر ہو گئی اور ایک طویل عرصہ ایسا گزرا کہ کوئی افسا نہ منصّہِ شہور پر نہیں آیا۔
تنویر اختر رو مانی کی ذاتی زندگی بھی اندھیرے اور روشنی کے درمیان آ نکھ مچو لی کے مصداق رہی ہے۔ فن کار کی زندگی دو سطحوں پر گزرتی ہے ۔ایک اس کی ادبی دنیا اور دوسری اس کی روز مرہ کی زندگی۔ میں نے بڑے بڑے فن کاروں کی روز مرہ اور ذاتی زندگی کو قریب سے دیکھا ہے۔ ان کے قول(تحریر) اور فعل(اعمال و افعال) میں زمین آسمان کا فرق ہو تا ہے۔ اپنی تحریروں میں اخلا قیات کا استعمال کر نے والے بعض فن کا ر ذا تی زندگی میں بڑے بد اخلاق ہوتے ہیں۔ تنویر اختر رو مانی کے یہاں تضاد نہیں ملتا۔ ان کا صاف و شفاف کردار ان کی کہانیوں میں بھی ویسا ہی نظر آتا ہے۔ مجھے تسلیم کہ تنویر اختر رو مانی نے بہت زمانے تک افسا نے نہیں لکھے۔ کوئی معرکۃ الآرا افسا نہ تخلیق نہیں کیا۔ افسانے کی دنیا میں اپنی مستحکم شناخت قا ئم نہیں کی۔لیکن انہوں نے زندگی میں اپنی ذمہ داریوں سے منہ نہیں مو ڑا۔ تیرگی میں بھی امید کی کرن کو زندہ رکھا۔ بینائی سے محروم کئی اولادوں کی پرورش و پرداخت میں کمی نہیں آ نے دی۔ بے شمار راتیں ان کی بے خوا بی کی شاہد ہیں۔ زندگی سے مرد آہن کی طرح آ نکھیں ملانا سب سے بڑا فن ہے اور تنویر اختر رو مانی نے ایسے فن کو برتا ہے۔ برسوں وہ حقیقت کو افسا نہ اور افسا نے کو حقیقت سے رو شناس کراتے رہے۔ کبھی اپنے کردار پر حرف نہیں آنے دیا۔ نئی نسل کی تعلیم و تربیت، ادب کی خدمت اور آپسی میل جول اور بھائی چارے کے فروغ میں اپنا صد فی صد وقت دینے وا لے ایک عظیم انسان، ایک فن کار کا نام تنویر اختر رو مانی ہے۔
تنویر اختر رومانی ادبی خدمات کے لیے بھی ہمیشہ یاد کیے جائیں گے۔ رسا لوں کی گھر گھر تقسیم ہو، ادبی انجمنوں کا قیام ہو یا جلسوں کا انتظام و انصرام۔ محفلوں کی نظامت ہو یا حساب کتاب کرنا،تنویر اختر رومانی ان سب میں باقی ہیں۔ جمشید پور سے میرے تعلق سے تو سبھی لوگ واقف ہیں۔ لیکن یہ کم لوگ جانتے ہیں کہ میری ادبی اساس کے استحکام میں تنویر اختر رومانی کی رہنمائی بھی شا مل رہی ہے۔میں نے جب سے ادبی زندگی میں قدم رکھا(۱۹۸۱ء) تب سے تنویر اختر رومانی کو جمشید پور کی ادبی فضا کی تعمیر و تشکیل میں آگے آگے دیکھا۔ادارہ بزم، ادبی چو پال، عبارت(سہ ماہی رسالہ) وغیرہ کے ذریعے نہ صرف جمشید پور میں ادب کی رفتار کو قوت عطا کرتے رہے بلکہ ایک نسل کی تربیت میں بھی مصروف رہے۔ انور امام، رضا احمد ادیب،حیدر راحت،مستفیض انمول(ایم رحمٰن)، سلطان احمد ساحل جیسے ہم عصروں سے نا چیز، اختر آزاد، مہتاب عالم پرویز، اصغر امام اشک جیسے کم عمروں تک کے ساتھ دوستا نہ مراسم سے ہر حلقے میں مقبو لیت رکھتے ہیں۔
جہاں تک تنویر اختر رومانی کی افسا نہ نگاری کا معاملہ ہے تو میں اس سے قبل بھی کہہ چکا ہوں کہ وہ نہ تو پریم چند،نہ منٹو، نہ بیدی ، نہ کرشن چندر اورنہ انتظار حسین جیسے افسانہ نگاروں کے نقش قدم پر ہیں اور نہ ہی ان میں سے کسی کی جھلک ان کے یہاں ہے۔ وہ صرف اور صرف تنویر اختر رو مانی ہیں۔ ان کا لفظ لفظ ان کا اپنا ہے۔ اپنے رنگ کا اپنا انداز لئے وہ زندگی کی حقیقتوں کو لفظوں کے جامے پہناتے ہیں۔ آج کے زمانے میں ناقدین میں ایک عام سی بیماری لگ گئی ہے کہ وہ کسی بھی افسا نہ نگار پر لکھتے وقت اس کی اتنی تعریف کرتے ہیں کہ اس کے افسانوں کو کسی بڑے افسا نہ نگار کے ہم پلہ قرار دیتے ہوئے اسے بڑے افسا نہ نگاروں کی صف میں لا کھڑا کرتے ہیں۔ یہ اندازِ نقد بہتر نہیں۔ ہر فن کار کو اس کی تحریر کی روشنی میں ہی پرکھنا چاہئے۔ بڑے افسا نہ نگاروں سے تقابل درست نہیں۔ اس لحاظ سے میں ایماندا رانہ طور پر کہہ سکتا ہوں کہ تنویر اختر رو مانی بہت بڑے افسا نہ نگار قطعی نہیں ہیں۔ نہ ہی ان کے افسا نوں میں پریم چند، منٹو، بیدی وغیرہ کی جھلک نظر آ تی ہے۔ ہاں وہ ایک افسا نہ نگار ہیں۔ ان کے افسا نے حقیقت کی سنگلاخ زمینوں پر محنت کے مختلف رنگ کے ثمر ہیں۔ ان کی ذاتی زندگی، ذا تی غم اور اندوہ لفظوں میں ڈھل کر ایک دوسرے کے بن جاتے ہیں۔ ہر قاری کو وہ اپنا محسوس ہوتے ہیں۔ ان کے کردار، ان کی زندگی، ہماری زندگی، ہمارے رشتہ دار اور احباب کی زندگی کے کردار ہیں۔ یہ فلمی کردار نہیں ہیں، جو طاقت میں دس دس کے برا بر ہوں، نیکی کے مجسمے ہوں۔ یہ گوشت پوست کے انسان ہیں جو شریف ہیں تو ان کے اندر شیطان بھی چھپا ہے جو اعلی کردار کے مالک ہیں تو بد کردار بھی ہیں۔ شر کے نمائندے ہیں تو خیر کے پیامبر بھی ہیں۔ جو محبت کرتے ہیں، وفا میں جان تک نثار کر سکتے ہیں تو دغا بھی دے سکتے ہیں۔ نفرت کا سبب بھی بنتے ہیں۔ یہ سب مل کر تنویر اختر رو مانی کے قصوں کو انفرا دیت بخشتے ہیں اور کسی بھی افسا نہ نگار کے بڑے ہونے کی دلیل اس کی انفرادیت ہے۔
فکشن کے نئے مطا لعے سے بعض اہم نتا ئج سامنے آ رہے ہیں یعنی بڑا اور اچھا فکشن اپنے گردو پیش کو ضرور پیش کرتا ہے۔ آج کل کے متعدد افسا نہ نگاروں کے یہاں سات سمندر پار کے حالات ملیں گے، ایران توران کی باتیں ملیں گی، تصور کی نئی نئی خوبصورت دنیا ئیں ملیں گی ۔لیکن ان کا اپنا شہر، گاؤں، علاقہ تلاشنے کے بعد بھی نظر نہیں آ تا۔ تنویر اختر رومانی کے کئی افسا نوں میں جمشید پور سانسیں لیتا ہوا نظر آ تا ہے۔ علا قے کا جغرا فیہ اور حالاتِ زندگی،جہاں کسی کہانی کو علا قائیت عطا کرتے ہیں تو مصنف کے گہرے مشاہدے کا پتہ بھی دیتے ہیں۔ تنویر اختر رو مانی کے بعض افسا نے اس اصول پر کھرے اترتے ہیں:

’’ وہ جب بس سے اترا تو بھوک کی شدت سے اس کے پیٹ میں مروڑ ہو رہی تھی۔ اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ چکرا کر گر جائے گا۔ بھوک کی شدت کو کم کر نے کے لیے اس نے آ ئی ہاسپٹل کے سامنے ٹاٹا کمپنی کے بنائے ہوئے چھوٹے سے پارک میں لگے نل کے پاس پہنچ کر پانی پیا۔‘‘ 
(بند مٹھی کا کرب(

’’ صبح جب وہ انٹر ویو دینے کے لیے جانے کی تیاری کررہا تھا تو اس کی ماں نے گڑ کی کالی چائے کے ساتھ دو پتلی پتلی روٹیاں دی تھیں اور کسی پڑوسن سے قرض لے کر دس رو پے۔ یہ دس رو پے آزاد نگر سے بسٹوپور تک جانے اور وہاں سے آنے کے، بس کرائے کے لیے تھے۔‘‘ 
(بند مٹھی کا کرب(

’’ جوبلی پا رک بڑی حسین جگہ ہے ۔ اتوار کے دن تو پارک کی رونقیں شباب پر ہوتی ہیں۔ شام ہوتے ہی عورتوں ،مردوں، بوڑھوں ،بچوں کی آ مد کا تانتا بندھ جاتا ہے ۔ چند ہی گھنٹوں کے لیے ہی سہی لوگ سب کچھ بھول بھال کریہاں کی رنگینیوں میں کھوجاتے ہیں۔ دلفریب مناظر، ان میں زندگی کا نیا عزم، نیا حوصلہ پیدا کرتے ہیں۔چھوٹی چھوٹی زینہ دار نہریں اور ان میں بہتے ہوئے پانے کی نیچے رنگ برنگے برقی قمقمے رو شن ہوجاتے ہیں۔ نہروں کے بیچوں بیچ چھوٹے چھوٹے چکر دار فوارے جن کی بوچھار میں نو جوان جوڑے اپنے چہروں کوبھگو کر خوب ہنسی ٹھٹھول کرتے ہیں۔ دور دور تک سبزے کی مخمل بچھی ہوئی، انواع و اقسام کے پھولوں سے معطر فضا، مختلف درختوں کی ٹھنڈی ٹھنڈی فرحت بخش ہوائیں اور پارک کی شمالی جانب پرسکون چاندی جیسی جھیل جس میں کنول کے بے شمار پھول اور مرغابیوں کے تیرتے جھنڈ۔ اس جھیل کے ٹھیک وسط میں آسمان سے باتیں کرتا ہوا فوارہ۔ غرض جدھر نظر ڈالئے، آنکھوں کو ٹھنڈک، دل کو فرحت، ذہن کو راحت اور آ سودگی کے ہزاروں سامان ہیں جو جوبلی پارک نے اپنے جلو میں جمع کر رکھے ہیں‘‘ (تیسرا طوفان(

’’میں نے را نچی سے جمشید پور تک کے سفر کا پو را ماجرا بیان کر دیا۔ سن کر کہنے لگے۔’’ کیا بتاؤں مدنی صاحب...ان حرام خوروں کی وجہ سے اسٹیٹ ٹرا نسپورٹ بہت گھاٹے میں چل رہا ہے۔‘‘ (دیش بھگت(

’’ میں داورری رولنگ مل میں انجینئر ہوں۔ یتیم و یسیر، نہ کوئی بھائی تھا نہ بہن۔ اس لیے گھریلو قسم کی فکرو پریشانی سے آزاد تھا۔ شیام سندر مینسن کی تیسری منزل کے فلیٹ میں نمبر گیارہ میں رہائش تھی۔ ابھی کچھ دنوں قبل ہی وہ اسی منزل کے فلیٹ نمبر پندرہ میں کرایہ دار بن کر آ ئی تھی۔ جمشید پور ایسا شہر ہے جہاں پچہتر فیصد لوگ کرائے کے مکانوں میں ہی رہتے ہیں۔‘‘
(حسین سراب(
ان اقتباسات میں جمشید پور سانسیں لے رہا ہے۔ آئی ہاسپٹل، آزاد نگر، بسٹو پور، جوبلی پارک وغیرہ شہر آ ہن کے نشانات ہیں۔ رانچی جمشید پور سے ملحق شہر ہے جو آ جکل جھار کھنڈریاست کی راجدھانی بھی ہے۔
بے روز گاری ہر شہر، ریاست اور پورے ہندو ستان کا مسئلہ ہے۔ اس مسئلے پر ہمارے اکثر افسا نہ نگاروں نے طبع آ زمائی کی ہے۔ تنویر اختر رو مانی کے افسا نوں میں یہ مسئلہ ایک مستقل موضوع کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایک دو نہیں کئی افسانے اس مسئلے کو مختلف انداز میں پیش کرتے ہیں۔ بعض افسا نوں میں بے رو زگار زندگی کا درد و کرب کچھ اس قدر شدید ہے کہ قاری لرز کر رہ جاتا ہے۔ زندگی کر نے کے لیے انسان کو نجانے کیا کیا کرنا ہو تا ہے۔انسان کا پیٹ ایک ایسی بھٹّی جسے ہر وقت گرم رکھنے کے لیے ایندھن کی ضرورت پڑتی ہے اور اگر ایندھن کا بہتر اور مسلسل انتظام نہ ہو تو پھر کیا کیا ہوتا ہے۔’’روٹی مانگتی زندگی‘‘ میں میاں ایک تیز رفتار کار کی ٹکر سے بچتے بچاتے بھی زخمی ہو جاتا ہے۔ بھیڑ لگ جاتی ہے۔ کار وا لے کو گھیر لیا جاتا ہے۔ بہت کہا سنی کے بعد کار والا ایک ہزار رو پے دیتا ہے جسے لے کر بیوی اپنے شو ہر کو رکشہ میں لے کر اسپتال چلی جاتی ہے۔ اسپتال سے لوٹنے کا منظر جو کہانی کا اختتام بھی ہے، ملا حظہ ہو:

’’ دن ڈھلتا جا رہا تھا اور رکشہ منزل مقصود کی جانب رواں تھا۔ وہ دو نوں ایک دوسرے کو بڑی دیر تک خامو شی سے دیکھتے رہے۔ پھر عورت ہی گویا ہوئی۔’’اب کیسی طبیعت ہے؟‘‘
’’خراب کب تھی؟‘‘مرد نے دھیمے سے مسکرا کر الٹا سوال کیا۔
’’ تم بے ہوش ہوگئے تھے۔‘‘بیوی نے محبت بھرے لہجے میں کہا۔
’’ اچھا؟‘‘ مرد نے کہا اور ہلکے سے ہنس پڑا۔
’’ آخر ایسا کب تک چلتا رہے گا؟‘‘ بیوی نے اداس ہو کر پو چھا
’’ جب تک قسمت میں ایسا لکھا ہو گا۔‘‘ مرد کا جواب تھا۔
’’لیکن سنو....یہ سلسلہ بند ہو نا چا ہئے۔ عورت نے رقت آ میز لہجے میں کہا۔ اس میں محبت اور اپنا ئیت بھی شامل تھی۔
’’ کیوں؟‘‘ مرد کے لہجے میں تعجب تھا۔
’’ اس لیے کہ اب تک پانچویں بار ایسا ہو چکا ہے۔ اگر کسی دن کار کی زد میں آکر تم سچ مچ......‘‘ (روٹی مانگتی زندگی(

بے روز گاری کا مارا شخص، زندگی پر کھیل کر بھی زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ بے روزگاری کا دوسرا چہرہ’’ بند مٹھی کا کرب‘‘ میں ملتا ہے۔ اس کہانی میں ایک بے روز گار نوجوان انٹر ویو کے لیے جاتا ہے۔ ماں پڑوسن سے مانگ کر دس روپے دیتی ہے۔ چھ رو پے کرا ئے میں خرچ ہو چکے ہیں،دوروپئے کی مونگ پھلی کھالی ہے ۔کچھ پیدل چل کر وہ دو رو پے بچا لیتا ہے۔ مٹھی میں وہی بچے ہوئے دو روپے کا سکہ ہے۔بھوک اپنا زور دکھا رہی ہے۔ سامنے ایک اندھا فقیر بھیک مانگ رہا ہے۔بھوک،فقیر اورسکّے کے درمیان ایک کشا کش ہے۔ بالآخر وہ ایک فیصلہ کرکے فقیر کے پاس پہنچتا ہے اور اس کے سامنے پڑے ڈھیر سارے سکوں میں اپنا سکہ ڈال کر ایک سکہ اٹھا لیتا ہے۔قاری کو محسوس ہوتا ہے کہ گویا اس نے فقیر پر رحم کھایا اور اپنی بھوک کی قربانی دی ہے۔لیکن کہانی اس وقت نیا موڑ لے لیتی ہے جب وہ ہوٹل میں سموسے کھا نے اور چائے پینے کے بعد مٹھی میں بند سکہ ہوٹل کے کاؤنٹر پر دیتا ہے ۔ وہ سکہ ایک روپے کا نہیں، دس رو پے کا ہے۔ یہ بے روز گاری کا المیہ ہے جو انسان کو اپنا ضمیر، اپنا ایمان بھی فرو خت کر نے پر آ مادہ کردیتی ہے۔ ویسے اس افسا نے کا عنوان خیرات یا قربا نی ہو تا تو زیادہ مؤ ثر ہو تا۔
جمشید پور نہ صرف مشترکہ بہار بلکہ ہندوستان کے ایسے شہروں میں شمار ہو تا ہیجنہیں فسادات کے نقطۂ نظر سے بہت زیا دہ حساس مانا جاتا ہے۔ اس کا سبب یہاں ہونے والے متعدد فسادات ہیں۔ 1964ء اور1979ء کے فسادات جمشید پور جیسے خو بصورت شہر کے چہرے پر بد نما داغ کی مانند ہیں۔ ان دو فسادات کے علاوہ چھوٹے موٹے فسادات کی ایک طویل فہرست ہے۔1979ء کا فساد رام نومی تہوار کے وقت وقوع پذیر ہوا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آ ج بھی ہر سال رام نوی کے موقع پرپورے شہر پر خوف و ہراس کے بادل چھائے رہتے ہیں۔1992ء میں بھی یہاں فضا خراب ہوئی تھی۔ جب جب ملک کے دیگر شہروں میں فساد ہوئے ہیں یہاں کی فضا خراب ہوتی رہی ہے۔ ایسے میں ایک حساس فن کار کے یہاں ان حالات کی عکاسی ناگزیر ہو جاتی ہے۔ تنویر اختر رو مانی کے بہت سے افسا نوں میں فساد کے بھیانک منا ظر، فساد کے بعد کے حالات اور اس کے مضر اثرات کی غمازی ملتی ہے۔’بدو لت‘ ایسی ہی ایک عمدہ کہانی ہے۔ اس کہانی میں فساد میں مارے گئے افراد کو ملنے وا لے معاوضے سے مصنف نے انسانی ذہن کی خباثت کو سا منے لانے کا کام کیا ہے۔ شہر میں فساد کے نتائج دیکھیں:

’’تین برس قبل جب شہر میں فرقہ وارا نہ فساد ہوا تھا تو اس کے نتا ئج نے اس کے خیالات کو ایک نیا موڑ دیا تھا۔ جو لوگ اس فساد میں ہلاک ہو ئے تھے ان کے پسماندگان یا اہل خاندان کو ریا ستی سر کار کی جانب سے ایک ایک لاکھ رو پے کی امداد دی گئی تھی۔ مہلو کین میں سے جو لوگ بڑی کمپنیوں میں ملازم تھے ان کی اولا د یا لواحقین میں سے کسی ایک کو ان کی جگہ پر ملا زمت دی گئی تھی۔
یہ سہولتیں دیکھ کر اس نے مجھ سے ایک دن کہا تھا’’ کاش! میں بھی اس فساد میں مارا گیا ہوتا تو کم سے کم میری موت کی بدولت ہی کچھ رقم میرے باپ کو مل گئی ہوتی۔‘‘ (بدو لت(

اور کہانی کے اختتام پر قا ری کو ایک زبردست دھچکا لگتا ہے جب اسے علم ہو تا ہے کہ کہانی کے مرکزی کردار نے ادھار کے مانگے دیسی پستول سے فساد میں اپنے دشمن کا کام تمام کردیا تھا اور اس کا سب سے بڑا دشمن کو ن تھا؟ وہ اس کے باپ کے سوا کوئی نہیں تھا؟ اور اس کی بدو لت اسے اپنے باپ کی جگہ ملا زمت مل گئی تھی۔ ملا حظہ کریں:

’’آخر میں اس سے اتنی نفرت کیوں کر نے لگا تھا۔ کیا اس لیے کہ اس نے باپ کی موت کو بھلا دیا تھا؟ کیا اس لیے کہ میرے سمجھانے کے با وجود وہ فساد میں شیطان کا ہم رقص بنا تھا؟ کیا میں اس کی نئی نئی خوشیوں، آسود گیوں سے حسد کرنے لگا تھا؟ نہیں نہیں ایسی کوئی بات نہیں تھی۔ نفرت تو اس لیے تھی کہ اس نے ایسی انسانیت سوز حر کت ہی کی تھی۔ دنیا جانتی ہے کہ اسے یہ ملاز مت فساد میں مارے گئے اس کے باپ کی بدو لت ملی ہے۔ لیکن اس نے صرف مجھے بتایا تھا کہ یہ ملا زمت فساد کے دن مورچہ پر لے گئے اس بھدے سے دیسی پستول سے نکلی گولی کی بدولت ملی ہے۔‘‘ (بدو لت(

فساد کی بہترین عکاسی’’ جس پہ تکیہ تھا‘‘ میں بھی موجود ہے۔ اس کہانی میں فساد میں پو لس کے رویے اور کردار پر کاری ضرب ہے۔ کہانی کے مرکزی کردار مہندر سنگھ کے گھر پر شر پسند افراد(جو اس کے شناسا ہی ہیں)سامان باندھ رہے ہیں۔ وہ جب اعتراض کرتا ہے تو لوگ ہنستے ہیں اور جب وہ پولس میں خبر کر نے کی دھمکی دیتا ہے تو وہ مزید ہنستے ہیں۔ کہانی کا اختتام بہت پر اثر اور چونکانے والا ہے:

’’کچھ بھی ہو، میں تمہارے خلاف ایف آئی آر ضرور کروں گا۔ ‘‘ مہندر سنگھ نے اٹل انداز میں کہا۔ سنتوش چڑا نے والے انداز میں بولا’’ ہاں ہاں، ضرور جاؤ تھانے.......لیکن ایک بات کی جانکاری لے لو ۔شا ید تمہارے کام آئے...وہ یہ کہ تمہارا ٹی وی اور فرج ہم لوگوں نے تھا نہ کے بڑا با بو کے یہاں ہی پہنچا یا ہے...ہاہاہاہاہاہا..‘‘ (جس پہ تکیہ تھا(

فسادات نے جہاں ہمیں بے شمار نقصانات پہنچا ئے ہیں وہیں ہماری ذہنیت کو بھی متاثر کیا ہے۔ بعض فتنہ پرور، خود غرض اور حریص قسم کے لوگ ایسے مو اقع کی تلاش میں رہتے ہیں اور جب کبھی انہیں فساد کی شکل میں ایسے مواقع ہاتھ لگتے ہیں، وہ بھی گنگا میں ہاتھ دھو لیتے ہیں اور دُ ہرے فا ئدے اٹھاتے ہیں۔ایک تو اپنا مطلب نکال لیتے ہیں، دوسرے معاوضہ بھی حاصل کرتے ہیں۔ ایسے لوگ ہر مذہب، فرقے اور برادری میں ہوتے ہیں۔ ان کا کوئی مذہب ہو تا ہے نہ رشتہ۔ یہ ایسے مواقع پر سگے رشتوں کا خون تک کر گزرتے ہیں۔
تنویر اختر رو مانی کے کئی کردار ایسے ہیں جو بعد میں بھی زندہ رہنے کی قو ت رکھتے ہیں۔ یہ ایسے کردار ہیں جو قاری کے ذہن سے کبھی سوال بن کر اور کبھی زندگی کے فلسفے کی شکل میں چپک جاتے ہیں۔ یہ دور اور دیر تک قاری کو خود میں الجھائے رکھتے ہیں۔ قاری افسا نے کی فضا میں گم ہو جاتا۔ تنویر اختر رو مانی کے یہاں ایسے کئی افسا نے ہیں جن کی اساس کرداروں پر ہے، جو کرداروں کے ارد گرد گھو متے ہیں۔ ببول، دنگل، بھروسہ، پردھان جی ایسے افسا نوں میں خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ یہ وہ افسا نے ہیں جن میں تنویر اختر رو مانی کی کردار نگاری کے جو ہر بدرجہ اتم موجود ہیں۔ببول کے چاچا رمضانی، دنگل کے ظہور پہلوان، بھرو سہ کی ایفا، پردھان جی کے پردھان تنویر اختر رومانی کے ایسے کردار ہیں جو نہ صرف خود زندہ رہیں گے بلکہ اپنے خالق کو بھی زندہ رکھیں گے۔ ان کرداروں میں منفی (چاچا رمضانی، پردھان جی) کردار بھی ہیں۔ چاچا رمضانی، جنہیں ان کے بیٹے نے ما ر کر گھر سے نکال دیا ہے پہلے توگاؤں کے بزرگو ں اور نو جوانوں کی ہمدردی کا مرکز بن جاتے ہیں لیکن جب یہ حقیقت سامنے آ تی ہے کہ چالیس برس قبل رمضانی نے بھی اپنے والد کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا تھا تو ہمدردی جتانے والے سبھی پڑوسی ایک ایک کر کے اپنے گھروں کو لوٹ جاتے ہیں تو چاچا رمضانی بوڑھے برگد،کنواں اوراپنی تنہائی کے ساتھ اکیلے رہ جاتے ہیں۔ گاؤں کے بزرگ شکور چاچا جب بھیڑ کو حقیقت سے آگاہ کرتے ہیں تو منظر ہی بدل جاتا ہے:

’’رمضانی بھائی.....تم کو یاد ہے نہ وہ چا لیس سال پہلے کاواقعہ.... مجھے تو اچھی طرح یاد ہے....ایسا ہی یاد ہے جیسے کل کی بات ہو اور یہاں موجود بہت سے بو ڑھوں کو بھی ہو گا.....ایسی ہی ایک جاڑے کی رات تھی.....اور تقریباً یہی وقت تھا...کنویں کے اسی چبوترے پر جہاں تم بیٹھے ہو.....بالکل اسی جگہ تمہارا باپ بیٹھا بلک بلک کر رو رہا تھا اور کہہ رہا تھا، آج رمضانی نے بہت مارا ہے.....‘‘ (ببول(

تنویر اختر رو مانی نے رمضانی چاچا کی شکل میں ایک زندہ جاوید کردار تخلیق کیا ہے جو اپنے اعمال کے نتیجے میں برے انجام تک پہنچتا ہے۔ یہ ایک ایسا کردار ہے جو بظا ہر منفی لگتا ہے لیکن اپنے عمل کے ذریعے لوگوں کے لیے عبرت کا سبق ثا بت ہو تا ہے۔ ایسا ہی کردار پردھان جی کا ہے جو ایک خلیفہ کے غریب پروری کے واقعے سے متا ثر ہو کر ہر روز رات کو گاؤں میں اپنے مصاحب کے ساتھ گشت کرتا ہے۔ ایک رات ،ایک گھر میں موجود ماں، بیٹی کی آواز اسے روک لیتی ہے۔ وہ دو نوں اپنی پریشا نی بیان کر رہی تھیں۔ پردھان جی نے ماں کی فوری امداد کے لیے اپنے مصاحب کے ساتھ اپنے اآفس بھیج کر، در وازے کی کنڈی اندر سے بند کر لی ہے۔ یہ ایک دو رخی کردار ہے۔ بظاہر مثبت نظر آ نے والا کردار کہانی کے اختتام پر نئے رنگ کے ساتھ سامنے آ تا ہے۔ یہ ہمارے معاشرے کا کریہہ چہرہ ہے۔ پردھان جی کا یہ کردار قاری کے اندر اتر جاتا ہے اور اس کے ذہن سے چپک جاتا ہے۔
’’دنگل‘‘ کا ظہور پہلوان، علاقے کا مشہور پہلوان ہے۔ کبھی کسی مقا بلے میں ہارا نہیں ہے۔گاؤں کے ٹھا کر بھانو پرتاپ اسے بہت مانتے ہیں۔ اس کی سر پرستی کرتے ہیں۔ ایک بڑے مقابلے میں ظہور اپنے سے کمتر پہلوان ہیرا لال اہیر سے ہار جاتا ہے۔ نہ صرف گاؤں کے لوگوں کے جوش و خروش پر پانی پڑجاتا ہے بلکہ بھا نو پرتاپ ظہور کی اس ہار کو ہضم نہیں کر پاتا ہے۔ ایک لاکھ رو پے کا مقا بلہ ہار جانے سے سبھی ظہور سے مایوس اور ناراض ہیں۔ ٹھا کر بھا نو پرتاپ سنگھ ظہور سے ہار کا سبب پو چھتے ہیں تو پتہ لگتا ہے کہ ہیرا لال کو پیسوں کی زیادہ ضرورت تھی۔ یعنی ظہور جان بوجھ کر ہار جاتا ہے۔ ہار، ہار نہ رہ کر فتح کی شکل میں پھولوں کا ہار بن جاتی ہے۔ انسان دوستی کی ایسی مثال کم کم ملتی ہے۔
بھرو سہ‘ کی ایفا بھی ایسی ہی بے مثل کردار ہے جو آ ہستہ آہستہ قاری کے ذہن میں سماجاتی ہے۔ ایفا ایک ذہین بچی ہے۔ اس کی ماں ایک ورکنگ وو مین ہے۔ باپ بھی جاب میں ہے۔ ایفا اسکول کے علاوہ گھر پر بوا(کام والی) کے ساتھ رہتی ہے۔ ایفا کے ذہن میں طرح طرح کے سوا لات آ تے ہیں۔ وہ کچھ کچھ پریشان رہتی ہے۔ ماں بھی پریشان ہو جاتی ہے۔ بیٹی کی طرف سے اسے بہت فکر لاحق ہو تی ہے۔ شو ہر سے مشورہ کر کے ڈا کٹر کو دکھانے کی بات طے ہوتی ہے۔ لیکن ایفا کے ایک سوال نے رضیہ کو متزلزل کردیا۔ وہ اس سے سوال کرتی ہے کہ کیا آ پ اپنے زیورات کے لا کر کی چابی بوا( ملا زمہ) کو دے کر آ فس جا سکتی ہیں؟ ایفا کے اس سوال پر رضیہ بیٹی کا دماغی خلل سمجھنے لگتی ہے۔ لیکن جب رضیہ اس کو کہتی ہے کہ اپنا قیمتی خزانہ بھی بھلا نو کروں کے حوا لے کیا جا سکتا ہے۔ تو ایفا پھر ایک سوال کرتی ہے، تو مما آپ اپنی بیٹی کو کس دل سے بوا کے حوا لے کر کے جاتی ہیں؟ یہ ایسا سوال تھا جس نے رضیہ کے ساتھ ساتھ قاری کو بھی متزلزل کردیا۔ ایفا اپنے سوالوں کی معصو میت اور سنجیدگی کے ساتھ ایک پختہ کردار کے طور پر ہمارے ذہن و دل پر سوار ہو جاتی ہے:

’’ سوال تھا کہ ایسا لگا جیسے بجلی کا ننگا تار جسم کے کسی حصے سے مس ہو گیا ہو۔ اس سوال پر رضیہ کا پو را وجود لرز کر رہ گیا۔ چائے کی پیالی ہاتھ سے چھوٹ کر فرش پر گری اور کئی ٹکڑوں میں تقسیم ہو گئی۔اس نے فرطِ جذبات سے بیٹی کو کھینچ کر سینے سے لگا لیا اور لرزیدہ آ واز میں کہا’’ تم نے تو میری آ نکھیں کھول دیں...تمہارا مرض پو ری طرح میری سمجھ میں آ گیا۔‘‘ 
دوسرے دن رضیہ نے مضبوط ارادوں کے ساتھ اپنی ملازمت کا استعفیٰ نامہ بھیج دیا۔‘‘ (بھرو سہ(

آج نئی نسل کے افسا نہ نگار گاؤں کی طرف کم ہی رخ کرتے ہیں جب کہ آ ج بھی ہندوستان کے تقریباًستّرفیصد لوگ گاؤں دیہات میں رہتے ہیں۔ پریم چند، سہیل عظیم آ بادی ، احمد ندیم قاسمی، راجند سنگھ بیدی، بلونت سنگھ وغیرہ نے جس طرح اپنے اپنے علاقے کے دیہات کو اپنی کہا نیوں کا موضوع بنایا وہ بعد میں کم ہو تا گیا۔ نئی نسل میں اکا دکا افسانہ نگار ہی دیہات کی بہترین عکاسی کررہے ہیں۔ تنویر اختر رو مانی کے یہاں بھی کم ہی سہی، لیکن دیہات نظر آ تا ہے۔ تنویر اختر رو مانی آبائی طور پر بنا رس کے دیہات سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ ان کی بعض کہانیوں میں نہ صرف بنا رس کے دیہات کی عکاسی ملتی ہے بلکہ پوربی زبان کا استعمال بھی ملتا ہے۔’ببول‘ اور’دنگل‘ اس زمرے کی نہ صرف نما ئندہ کہا نیاں ہیں بلکہ یہ تنویر اختر رو مانی کے افسانوی سفر کے سنگِ میل ہیں۔ یہ دو نوں کہا نیاں تنویر اختر رو مانی کی خو بصورت اور معیاری کہانیوں میں شمار ہو تی ہیں۔ دو نوں کہانیوں میں دیہات کے سیدھے سادھے لوگوں کی زندگی کی عکاسی ہے۔ ببول بو نے وا لے کو پھل کی شکل میں آم نہیں ملا کرتا۔ چاچا رمضانی کو بیٹے کی شکل میں جو ببول ملے ہیں، وہ در اصل ان کی ہی تخم ریزی ہے۔ کہانی میں دیہات کا عمدہ بیان ہے۔’ دنگل‘ میں بھی بنارس کے دیہات کی سچی تصویر ہمارے سامنے آ تی ہے۔ گاؤں میں جب دنگل ہوتے ہیں تو کیا سماں ہو تا ہے؟ کس طرح فتح کے جشن منائے جاتے ہیں اور کس طرح لوگ اپنے مفاد کو پس پشت ڈا ل کر دوسروں کے کام آ تے ہیں ۔ دیہات کی سب سے بڑی خو بی لوگوں کا اتحاد ہے جسے فرقہ پرستی کا کوئی بھی زہر اب تک زہریلا نہیں کر پایا ہے۔ ظہور پہلوان مسلمان ہو کر ایک ضرورت مند ہیرا لال اہیر کے لیے دنگل میں ہار جاتا ہے۔ تنویر اختر رو مانی نے دیہات کو خوبصورت اور حقیقی شکل میں پیش کیا ہے:

’’ یہ کنواں پر کھوں کے زمانے کا ہے۔ یہ گاؤں کے کئی واقعات اور حادثات کا گواہ بنا ہے۔ اس کے چا روں اطراف میں بنا لمبا چو ڑا چبوترہ گاؤں والوں کے بڑا کام آ تا ہے۔ گاؤں میں ہو نے وا لے کسی تنازع پر یہ پنچوں کا منچ بن جاتا ہے۔ الیکشن کے زمانے میں سیاسی جلسوں کے لیے یہ اسٹیج کا بھی کام کرتا ہے۔ اکثر یہ چو پال کے طور پر بھی استعمال ہو تا ہے۔ موسم گرما میں، رات کو جب گھروں میں امس زیادہ ہو تی ہے تو بڑے بو ڑھے اسی چبوترے پر شب باشی بھی کر لیتے ہیں۔ اس گاؤں سے گزر کر آ گے کسی گاؤں کو جانے وا لے را ہی اسی چبوترے پر بیٹھ کر پاس کھڑے پرانے نیم کی گھنی چھاؤں میں کچھ دیر سستا لیتے ہیں۔‘‘ (ببول(

’’ اکھا ڑے کے مشرقی سرے پر پر گاس پور کے تین چار نو جوان پہلوان ہیرا لال اہیر کے ساتھ کرسیوں پر بیٹھے تھے اور اس گاؤں کے کافی لوگ ان کے پیچھے کھڑے تھے۔ مغربی جانب ظہور پہلوان اپنے شاگردوں کے ساتھ تشریف فر ما تھے اور ان کی پشت پر تقریباً پورا نیا بازار کھڑا تھا۔ شمال کی جانب ایک بڑا اسٹیج سجایا گیا تھا جس پر ٹھا کر جی صدر نشیں تھے۔ ساتھ میں گاؤں کے سر پنچ، مکھیا اور ضلع کے ایس ڈی ایم صاحب ٹھا کر جی کی دعوت پر مہمان خصوصی کی حیثیت سے براجمان تھے۔‘‘ (دنگل(

ہر افسا نہ نگار اپنا اسلوب لے کر آتا ہے۔ لیکن دیکھنا یہ ہو تا ہے کہ وہ اسلوب دوسروں سے کس طرح اور کس قدر مختلف ہے۔ اسلوب کی یہی انفرادیت نکھرنے اور سنورنے کے بعد کسی ادیب، شاعر یا افسا نہ نگار کی شناخت بن جا تی ہے اور وہ صا حب اسلوب کہلا تا ہے۔ یہ مقام بھی بعد میں آ تا ہے اور اکثر ادباء و شعراء کی زندگی میں کبھی نہیں آ تا۔ میرا ایسا کوئی دعویٰ نہیں ہے کہ تنویر اختر رو مانی صا حبِ اسلوب افسا نہ نگار ہیں۔ یوں بھی یہ ان کے افسا نوی سفر کا پہلا پڑاؤ ہے۔ لیکن تنویر اختر رو مانی کی زبان، ان کی اپنی زبان ہے۔ ان کی اپنی لفظیات ہیں جو انہیں دوسروں سے الگ کرتی ہیں۔ وہ کردار کے مکالمے، اس کی نفسیات، ماحول اور علمی لیاقت کے عین مطابق تحریر کرتے ہیں۔ تنویر اختر رو مانی کے اسلوب کے چند نمونے پیش ہیں:

’’ چا ند ابھی مشرقی افق پر اپنے نمو دار ہو نے کا عندیہ دے رہا تھا۔ اس لیے سارے گا ؤں میں اندھیرے کی حکمرا نی تھی۔ صرف تاروں کی چھاؤں تھی جس میں لوگوں کے بس ہیولے نظرآ رہے تھے۔‘‘ (ببول(
’’الفاظ تھے کہ درد و یاس میں ڈو بی ہوئی آواز کا ایک طوفان۔ وہاں موجود سارے لوگوں کے کلیجے دہل گئے۔‘‘ (ببول(

’’نہیں استاد، او سسرا کا ہمت کیسے ہوا.....ارے کوئی بڑا پہلوان ہو تا تو کونو بات تھا....تین چار برس سے کستی لڑ رہاہے...دو تین دنگل کا مار لیا کہ‘‘
(دنگل(

’’ ایک مرد کے زمانہ شباب میں کئی خوا ہشات، کئی آرزو ئیں اس کے دل میں کروٹیں لیتی ہیں۔ وہ کتنا ہی بے بس، کتنا ناکارہ اور ناآسودہ حال ہو مگر وہ اپنا وقار قائم رکھنا چا ہتا ہے۔ وہ معاشرت میں عزت چا ہتا ہے۔‘‘ 
(حق(

تنویر اختر رو مانی کے اس پہلے مجمو عے’’ ببول‘‘ کو ان کے اب تک کے افسا نوی سفر کا انتخاب بھی سمجھا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ مجمو عے میں متعدد خوبصورت، عمدہ اور معیاری کہانیاں ہیں۔ ببول، دنگل، بھرو سہ، روٹی مانگتی زندگی، بند مٹھی کا کرب، جس پہ تکیہ تھا، بدو لت، چالیسواں سنگِ میل ،پردھان جی، بڑے لان والا آدمی، تیسرا طوفان وغیرہ اچھی کہا نیوں کے زمرے میں آتی ہیں لیکن جہاں تک نمائندہ اور زندہ رہنے وا لی کہانیوں کی بات ہے تو دنگل، ببول، بھرو سہ،چالیسواں سنگِ میل، پردھان جی، روٹی مانگتی زندگی تنویر اختر رو مانی کو استحکام بخشیں گی۔ مجمو عے کی کئی کہانیاں اوسط درجے میں رکھے جانے لائق ہیں اور کئی کہانیاں مجھے پسند نہیں آئیں۔ ہوسکتا ہے آپ میری بات سے اتفاق نہ کریں۔
تنویر اختر رو مانی کئی دہائیوں تک اپنی تخلیقا ت سے ادبی دنیا میں جمشید پور کی نمائندگی کرتے رہے ہیں۔ ببول کے ساتھ ایک بار پھر منظر عام پر آ رہے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کے دامن میں کانٹے ہی کانٹے ہیں لیکن یہ دیکھنے میں بھی کانٹے ہی ہیں۔ یہ ان پھولوں سے بہتر ہیں جو قریب آ نے پر کانٹے کی طرح چبھنے کا کام کرتے ہیں، بلکہ یہ خار ایسے ہیں کہ ان میں انسانوں کا درد ہے، غریبوں کی بے بسی ہے تو نو جوانوں کے حسین خواب بھی ہیں۔ یہ زندگی کے ترجمان ہیں۔ ہوسکتا ہے ان میں سے کوئی خار آپ کی زندگی کا غماز ہو اور پھر خاردار راستے ہی آپ کو گلستاں تک لے جاتے ہیں۔ خدا کرے’ببول‘ افسا نوی دنیا میں قاری کی حفاظت میں مستعد محا فظ ثابت ہو اور پھول کا سا احساس کرا ئے۔
*****

Zindagi ki Sachchaiyon ko Afsana karne wala Fankar: Tanweer Akhtar Roomani
by :
Dr. Aslam Jamshedpuri,
HOD, Urdu,CCS University,
aslamjamshedpuri@gmail.com

 مضامین دیگر 


Comment Form



اردو فکشن

© 2017 Urdu Fiction. All right reserved.

Developed By: Aytis Cloud Solutions Pvt. Ltd.