11 Sep, 2017 | Total Views: 217

عطیہ سید ,اردو افسانے کی ایک توانا آواز

مجاہد حسین،پنجاب یونیورسٹی لاہور

Absract 
The narration of human woes and worries is commonly found in Attiya Syed`s fiction. She has focused the western lifestyle as the main topic. This might be why some of the characters are english or american in the nature.Her fictional work can be distinguished in many multifacted aspects.Symbolism and descriptivism are the key elements of her prose.The compilations of her stories Shehar e Hol, Hiqayat e janoo,n have been much praised by the devotees of urdu literature.Mr.Mujahid Hussain has done a critical analysis of her stories and has expectionally portrayed different ocurring topics in his article. 
ادیب ایک حساس انسان ہوتا ہے جو لو گوں کےُ دکھ درد کو سمجھتا اور محسوس کرتا ہے ۔وہ زمانے کا نبض شناس بھی ہوتا ہے ،لوگوں کا دُکھ اس کا دُکھ اور لوگوں کی پریشانیاں اس کی اپنی ہوتی ہیں۔عطیہ سید کی مثال بھی کچھ ایسی ہی ہے۔آپ بھی ایک حساس ادیبہ ہیں جو لوگوں کےُ دکھ درد اور مسائل کا نا صرف ادراک رکھتی ہیں بلکہ انھیں بیان کرنے کا سلیقہ بھی ان میں موجودہے ۔ شائید یہی وجہ ہے کہ ان کے افسانوں کا اثرگہرا اور ان میں درد زیادہ ہے۔ عطیہ سید کے افسانے مغربی زندگی کی عکاسی کرتے ہیں ۔عطیہ سید کی کہانیوں سے تنہائی کا احساس ہوتا ہے اور یہ احساس آج کی دنیاکاسامنے کا احوال ہے اور غالباً اسی سبب سے عطیہ سید کے ہاں زندگی کی بے ثباتی کا تصور بڑے تسلسل کے ساتھ افسانوں میں ابھرتا ہے۔یہی نہیں بلکےُ اداسی ،خود پسندی، المیاتی احساسات اور دکھ کی ابدیت جیسے عناصر عطیہ کے ہاں موجود ہیں ۔اُن کے اسلوب کے بارے میں خالدہ حسین لکھتی ہیں:
’’ عطیہ سید جدید اردو افسانے کی ایک توانا آواز ہے۔ایسا بہت کم ہوتا ہے لکھاری ،تحریر اور شخصیت دونوں کلام کرتی ہوں اور جب کبھی ایسا ہو گزرتا ہے تووہ معاصر ادب کے لیے نوید اور ادیبوں کے لیے خطرے کی گھنٹی ہوتی ہے۔عطیہ سید صرف لکھتی ہی نہیں ادب بسر بھی کرتی ہے۔
وہ اپنے ساتھ اردو فکشن میں ایک ایسافکری آہنگ لے کرداخل ہوئی ہے جس میں کلاسیکی جاہ و جلال اور اختراعی تازگی بیک وقت موجود ہیں۔ان کی کہانیوں کے پہلے مجموعے شہرِہول نے یقیناًایک آسیبی دروازہ کھول دیا تھااور اردو ادب کے قاری کو نام نہاد ترقی یافتہ مغربی زندگی کی وہ خوفناک اور المناک جھلک دکھائی دی تھی جو اکثریت کے لیے ایک انکشاف تھا۔‘‘۱؂
عطیہ سید افسانے کی ضرورت کے مطابق کردار لاتی ہیں۔ان کے افسانوں میں کردار کہیں کم اور کہیں زیادہ نظر آتے ہیں ۔ وہ کردار کو بہت خو بی سے نبھا تی ہیں ۔ مرکزی کرداروں کے ساتھ ساتھ وہ ضمنی کردار بھی بڑی خوبصورتی سے پیش کرتی ہیں ۔ ان کے افسانوں میں پہلے مرکزی کردار آ تے ہیں اور بعد میں ثانوی، وہ اپنے کرداروں کا تفصیلی خاکہ بیان کرتے ہوئے قاری کو کسی قسم کی مشکل کا شکار نہیں ہو نے دیتیں ۔ ان کے کرداروں کی ایک خاص ساخت ہے۔ اس کی بہترین مثال عطیہ سید کا افسانہ’’ چھ بجے کی خبر‘‘ ہے جس میں سسٹر ٹریز اجو ایک چرچ میں کام کرتی ہے سڑک پر چل رہی ہے تو تین لفنگوں کے گروہ کو دیکھتی ہے ۔ عطیہ سید ان تینوں کردار وں کا تعارف اس خو بی سے بیان کرتی ہیں کہ افسانے کا تسلسل بھی قائم رہتا ہے ۔ ان تینوں کردار وں کو عطیہ علیحدہ علیحدہ یوں بیان کرتی ہیں :
’’سسٹر ٹریزا دیکھتی ہے کہ سڑک کے کنا رے جس فٹ پاتھ پر وہ چل رہی ہے اس پر چند گز کے فاصلے پر جو اں سال لفنگوں کا ایک گروہ موجود ہے۔ جن میں سے چند فٹ پاتھ پر دھرنا مار کر بیٹھے ہیں ، اور چند ایک سپاٹ دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر ٹانگ کے سہارے کھڑے ہیں ۔۔۔۔ قریب آنے پر سسٹر ٹریز ا نے ان میں سے تینوں کو پہچان لیا ہے ایک تو ریڈ انڈین فرسٹ مون ہے ۔ دوسرا حبشی ٹا م ہسلر اور تیسرا ،اسلوڈو کا مہاجر کارلوس ۔۲؂
عطیہ سید اپنے کردار وں کو بہت خو بصورتی سےُ بنتی ہے ۔وہ کہانی کا پلاٹ بڑے بہتر انداز میں پیش کرنے کا ہنر جانتی ہیں۔ان کے ہاں کردار اور کہانی کا ربط ہمیشہ برقرار رہتا ہے۔ ان کی کردار نگاری کے متعلق کا افتخار جالب کاکہنا ہے:
’’کہانی بتانے کی تکنیک دوستوفسکی نے وسیع پیمانے پر اپنے ناولوں میں استعمال کی ہے ۔ عطیہ سید نے اپنی ہنر مندی سے اس تکنیک کا منی ایچر اپنے کئی افسانوں کے درو بست میں سمیٹا ہے‘‘ ۳؂
عطیہ سید کے بعض افسانوں میں صرف چندکردارملتے ہیں اور پوری کہانی انھیں کرداروں کے گرد گھومتی ہے۔جیسے ان کا ایک افسانہ ’ ’ چھپکلی‘‘ہے جس میں صرف دو کردار ہیں ایک لڑکی کااور دوسرا حلوائی کے بیٹے کا کردار یہی مرکزی اور یہی ذیلی کردار ہیں،درمیان میں ہلکا پھلکا کرداربھی نمودار ہوتا نظر آ تا ہے ۔ان کے اُسلوب پراگر غور کیا جائے تو یہ بات سامنے آ تی ہے کہ ان کے افسانوں میں کردار کم ہو تے ہیں نیزوہ چند کرداروں کے ذریعے اپنی پوری کہا نی بیان کرتی جاتی ہیں ۔ اس کے باوجود بھی ان کے افسا نوں میں اکتاہت محسوس نہیں ہو تی ہے اور قاری انھیں پڑھتے ہوئے کبھی دقت محسوس نہیں کرتا۔
عطیہ سیداپنے افسانوں میں کچھ کردار وں کو نام ہی نہیں دیتی بلکے انھیں جنس کے حوالے سے یا د کرتی ہیں جیسے لڑ کی ،لڑکا وغیرہ ۔ ان کے ہاں مرکزی کردار انسان نہیں بلکہ انسانی پیداوار ہے ان کا افسانہ ’’چھپکلی ‘‘اس کی بہترین مثال ہے۔ عطیہ سید کے کردار وں میں مرد عورت دونوں طرح کے کردار آتے ہیں یہ کردارعورت کے حوالے سے بھی ہیں اور مرد وں کے حوالے سے بھی ، لیکن ایک خاص بات یہ ہے کہ ان کے افسانوں میں عورت ہی کہا نی کی بنت میں اہم کردار ادا کرتی ہے ۔اسے ثنویت کا اثر بھی کہا جاتا سکتا ہے اور اُسلوب کی انفرادیت بھی۔ان کے تقریباً سب افسا نے عورت اور اس کے مسائل کے گرد گھو متے ہیں ، ان کے افسانوں میں زیا دہ تر مرکزی کردار بھی عورتوں ہی کے ہیں ۔
عطیہ کے افسانوں میں غُربت اور افلاس کا بیان عام دیکھا گیا ہے ۔ان کے کچھ کردار غربت میں دھنسے ہو ئے ہیں اور بہت سے زندگی کی دوسری مجبوریوں کے سبب معاشرے میں پھنسے ہو ئے نظر آتے ہیں۔زندگی کی محرومیاں اور مسائل عطیہ کے افسانوں کے موضوع ہیں۔ شہرِ ہول اوردشت کے افسانوں میں کوئی نہ کوئی کردار معاشرے میں پیدا ہو نے والی کشمکش میں ضرورمبتلا نظرآتاہے۔ عطیہ سید کے افسانوں میں عام انسان کی بے بسی ان کے افسانوں کا اہم مو ضوع قرار دیا جا سکتاہے۔

عطیہ کے افسانوں کی ایک خو بی جزئیات نگا ری ہے ۔انھوں نے جزئیات کو برا ہِ راست زندگی کے مشاہدے اور تجر بے سے حاصل کیا ہے اور اپنے افسانوں میں بہت خوبصورتی سے پر ویا ہے ۔ عطیہ سید کے افسا نوں کے کرداروں کی جز ئیا ت میں حقیقی انداز پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے کہانی کا ہرُ جز وزیادہ زندہ ہوتا نظر آتا ہے ۔ عطیہ سید نے اپنے کردار وں کی وضع قطع اور جز ئیات کواس انداز سے پیش کیا ہے کہ کرداروں کو زندہ کردیا ہے۔ان کے افسانے ’’رقص‘‘ میں ان کے اسلوب کا ایک نمونہ ملاحظہ ہو:
’’آ سیہ نے جھٹ سے دروازہ کھول دیا ،ایک پل کو حیرت نے اسے جکڑ لیا، اس کے قدم جہاں تھے وہیں رک گئے اور ہو نٹوں پر آ ئے ہو ئے خو ش آمدید کے کلمات تھم گئے ۔ آ سیہ کے ذہن میں الجزائر ی قو میت سے گندمی رنگ ، سیاہ بال اور آنکھیں منسوب تھیں ، مگر دروازے کے باہر کھڑی لڑکی دو دھیا رنگت ، سبز آنکھیں اور سنہری بالوں والی تھی اسے بھی آسیہ کو دیکھ کر اتنی ہی حیرت ہو ئی ۔ وہ شا ید پاکستان کو بر صغیر کاحصہ سمجھ کر کسی سانولی ، بھورے رنگ کی کالی آنکھیں اور جا دو کردینے وا لی سیاہ زلفوں کی توقع کر رہی تھی ، لیکن آسیہ کیِ جلد صاف اورسرخ وسفید، آنکھیں اور بال ہلکے بھو رے رنگ کے تھے‘‘۔۴؂
عطیہ سید جب کسی فطرتی یا قدرتی منظر کو بیان کرتی ہیں تو نہایت خوبصورتی سے وہ اس منظر کے ایک ایکُ جزو کو بیان کرتی ہیں مثلااپنے افسانے’’ جلوہ ‘‘میں وہ منظر کشی کچھ اس انداز سے کرتی ہیں:
’’چیڑ کے جنگل میں مست ہوا چل رہی تھی ۔ سارا جنگل وجد میں تھا ۔ مسلسل بارشوں سے زمیں نم ہوکر نسواری ہو چکی تھی ۔ درختوں کے تنوں کی چھال نکھری ہو ئی تھی ۔ فضا میں چیڑ کی خوشبوں اور زمیں پر اس کے پتوں کی سو ئیاں بکھری ہو ئی تھیں ‘‘۔۵؂
افسانہ نگار نے کہیں کہیں بہت زیادہ تفصیلات سے بچنے کے لیے اپنے افسانوں میں استعارے اور علامتیں استعمال کی ہیں ۔ان کے ہاں رنگ استعارے کے طور پر استعمال ہوتا نظر آتا ہے جیسے نیلا رنگ بطور استعارہ استعمال کیاگیا ہے اور یہ موت کا استعارہ ہے۔۔شہر ہول بھی ایک استعارہ ہے یہ امریکی زندگی کا استعارہ ہے اور کئی چھو ٹے چھوٹے ، آپس میں گندھے ہو ئے واقعات سے استعارے کی تہیں ابھاری گئی ہیں ۔جو ان کی تحریر میں جان پیدا کر دیتی ہیں۔ان کا یہ انداز انفرادیت کا حامل ہے۔نیلا رنگ ان کی تحریر کی پہچان بنتا نظر آتا ہے ۔اُن کی ایک کہانی’’ آنسو کا نمک‘‘ کا ابتدا ئیہ بھی نیلے رنگ کے ذکرسے شروع ہوتا ہے ۔
’’کار تار کول کی نیلی ہموار دھوپ کی تمازت سے جگمگاتی سڑک پر بھا گتی چلی جا رہی تھی ۔ 
شہر ہول میں مسز فان کریمر جوگتے کے ڈبے کے اندر بو ڑھی سکڑی ممی بنی ہو ئی تھی 
جو منوں برف کی تہ میں دب کر منجمد ہو چکی تھی اس کا رنگ زہریلا نیلا اور آنکھیں 
کھلی ہوئی تھی۔‘‘(۶)
عطیہ سید کے افسانوں کا بغور مطا لعہ کیا جائے تو ایک بات ضرور سا منے آ تی ہے کہ ان کے افسا نوں کا مرکزی نقطہ کرب ،دکھ ، اذیت ، بے حسی ، محرومی اور لا تعلقی ہے انھوں نے انسانی بے حسی ، تنہا ئی کرب کو جس انداز سے بیان کیا وہ انھی کا خا صا ہے ۔ان کے بہت سے افسا نوں میں بے حسی ، تنہا ئی کا کرب ، اذیت اور انسانی دُکھ نظر آتا ہے ۔اس کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ان کے افسانے حقیقی زندگی سے تعلق رکھتے ہیں ۔ زیادہ ترافسانوں میں نظر آنے والے واقعات حقیقی زندگی سے ہیں اور یہ محسوس ہوتا ہے کہ ان سب واقعات کا تعلق ہمارے گرد و نواح سے ہے۔ 
انھوں نے مختلف ممالک اور معاشروں کی کہانیاں لکھی ہیں ۔ ایسا تجربہ اردو میں باقاعدہ طور پر پہلی بار ہوا ہے گو اس سے قبل اردو سفرنامے کی روایت میں موجود تھی مگر مصنفہ نے اردو افسانے میں یہ پہلا تجربہ کیا ہے۔ ان کی کہا نیوں میں اپنی زندگی کے تجربات بیان ہو تے ہیں ان کے اس تجربے سے کہانیوں کے مو ضوعات میں وسعت پیدا کی ہے اور یکسانیت کا نہیں بلکہ تنوع اور سکون کا احساس ابھرتا ہے اور بلکے انھوں نے انسانی دکھ اور پریشانیوں کو بڑی مہارت اور خو بصورتی سے بیان کرنے کی روش ڈالی ہے۔
عطیہ اپنے افسانوں میں زندگی کو المیہ بنا کر بھی پیش کرتی ہیں۔ ان کے افسانوں میں زندگی ایک المیہ ہے ۔ یہ المیہ معاشی ، معاشرتی اور نفسیاتی سطح کا المیہ ہے اس میں انسانی زندگی میں ہونے والے خوفناک واقعات کاذکر ہے ۔ شہر ہول میں اس قسم کے المیہ کاذکر ملتا ہے اس میں ڈی ڈی کو لٹ جو بہت امیرترین شخص ہے۔لیکن اس کی زندگی کا المیہ یہ ہے کہ وہ پانچ شادیاں ہونے کے باوجود تنہا زندگی گزارتا ہے ۔اس کے دو بچے ہیں مگر وہ بھی اس کو اپنی آزادی میں حائل سمجھتے ہیں وہ اسی طرح اپنی زندگی کو بند کمرے میں گزار دیتا ہے اورآخر ایک روز مر جاتا ہے مرتے وقت اس پرکیا گزری یہ کوئی نہیں جانتا ،یہ اس کی زندگی کا سب سے بڑا المیہ ہے۔
اسی طرح شہر ہول کا دوسرا بڑا المیہ مسز فان کریمر کا تھا جو ایک بہت غریب عورت تھی اتنی غریب کہ اس کے پاس رہنے کے لئے گھر تک نہیں تھا ۔ وہ ایک سپر مارکیٹ کے پاس موجود خالی پلاٹ جہاں ردی پڑی ہوتی تھی ، ایک گتے کے ڈبے میں رہتی تھی جس کی دیوار یں اتنی کمزور تھیں کہ وہ موسم کے خونخوار تشدد سے نہ بچ سکی اور مر گئی ۔ عطیہ سید کے ہر افسانے میں کوئی نہ کوئی المیہ ضرور ملتا ہے جسے انہوں نے نہایت خو بصورتی سے بیان کیا ۔ 
عطیہ کے افسانوں میں ایک خاص با ت یہ ہے کہ ایک کردار ساری کہا نی کو بیان کرتانظر آتاہے جو اس کہانی کا مرکز ی کردار ہے اس کے ثانوی کردار اس خو بصورتی سے آتے ہیں کہ افسانوں کا حسن برقراررہتا ہے ۔عطیہ سید کے افسانوں کا اندازِ بیان فلسفیانہ اور شاعرانہ ہے۔وہ عقلی اندازِ فکر کی حامل ہیں اور مشاہدات کو عقلی انداز سے سوچ کر فلسفیانہ رائے قائم کرتی ہیں۔ کبھی کبھی ان کی تحریر جذبات کے قریب پہنچ جاتی ہے ایسی صورت میں وہ رومانوی انداز اختیار کر جاتی ہے۔ُ ان کے بارے میں افتخار جالب کی رائے ملاحظہ ہو:
’’عطیہ سید کا زاویہ نگاہ شاعرانہ بھی ہے اور فلسفیانہ بھی ۔ فلسفی چیزوں کو عقلی انداز میں سوچتااور منطق رائے قا ئم کرتاہے ۔ جبکہ شا عر چیزوں کو جزباتی لگا ؤ سے دیکھتا اور رومانوی انداز میں پیش کرتا ہے ۔عطیہ سید کی کہانیوں میں آ دھا فلسفی اور آدھا شاعر چھپا ہوا دکھا ئی دیتا ہے یہی وجہ ہے کہ ان کی کہا نیوں میں حقیقت اور رومان کے ساتھ ساتھ جذبہء فکر کا خوبصورت امتزاج ملتا ہے ۔‘‘ ۔۷؂ 
’’چھپکلی‘‘ ایک ایسا افسانہ ہے جس کا موضوع محبت ہے جب تک انسان کے دل میں محبت ہوتی ہے ۔وہ ہر چیز سے پیار کرتا ہے مگر جب اسے نفرت ہو تو وہ ہر چیز کو نفرت اور حقارت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ عطیہ کا اندازبہت ہی خوبصورت ہے اور وہ ان رویوں کو بہت خوبصورتی سے اورفلسفیانہ انداز میں بیان کرتی ہیں ۔وہ محبت اور نفرت دونوں قسم کے رویے اور جزبات بڑے احسن انداز میں پیش کرتی ہیں۔ اسی طرح ’’اڑتا پردہ اور سنہری مچھلی ‘‘میں انسانی جذ بات کو عطیہ سید نے بہت خو بصورتی سے نبھایاہے کہُ اڑتا ہوا پرندہ آزاد اور اپنی مرضی سے جیتا ہے مگر رشتوں کی دُوریوں میں قید ایک انسان اُس سنہری مچھلی کی مانند جو رشتوں کی زنجیر میں جکڑا ہوا ہے ۔
عطیہ سید کے بعض افسانوں کا انداز بیانیہ ہے جیسے ’’شہر ہول‘‘ اور’’ مٹھی میں بند لمحہ‘‘ غیرہ۔ وہ کرداروں کو بڑی سلاست اور روانی سے پیش کرتی ہیں۔ انھوں نے کمالِ مہارت سے انسانی رویوں کو پیش کیاہے، خصو صاً امریکی زندگی جہاں انسان بے حسی ، بے بسی ، مجبوری ، تنہائی ، اور کرب کی زندگی بسر کرتے ہیں اور کوئی ان کا پرسانِ حال نہیں یا جہاں کوئی کسی کے دُکھ میں شریک ہو نے کی کو شش نہیں کرتا ۔ انسان کے اس رویے کی بہترین مثال اُن کا افسانہ ’’کرسمس کی شب ‘‘ہے جس میں عطیہ نے کمالِ مہارت کے ساتھ انسانی بے حسی کو بیان کیا ہے ۔ اس افسانے کا ایک کردار روزانا ہے جو ایک مہاجر ہے ۔یہ لاطینی امریکہ سے غیر قانونی طور پر ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں داخل ہو ئی ہے اور اس کے مختلف شہروں میں آباد ہو تی ہے ۔ روزانا اور اس کا ساتھی ایک پر اسرار عمارت میں داخل ہوتے ہیں۔ ایک صبح اچانک ایک چیخ سنا ئی دیتی ہے جو روزانا کی ہے۔ جو مجبور اور بے کس کی ہے ۔جس کی عصمت ریزی ہو رہی ہے اور وہ ظالم گنڈوں کے ہاتھوں مجبور ہے ۔وہ مدد کو پُکارتی ہے مگر کوئی اس کی آواز سننے والا نہیں ہے ۔عطیہ اس منظر کو کچھ اس انداز میں بیان کرتی ہیں ملاحظہ ہو:
’’اچانک سناٹے کو چیر تی ہو ئی ایک چیخ سنا ئی دیتی ہے جو میرے دل کی طرح اپارٹمنٹ کے درودیوار کو ہلا کر رکھ دیتی ہے ۔ان کے حلیے عجیب و غریب ہیں آ نکھوں سے وحشت برستی ہے چہروں پر ایک مظلوم شیطنیت ہے اور ہنسی میں ایک دیوانگی ہے ان میں سے اکثر کے کپڑے بو سیدہ اور غلیظ ہیں ۔۔۔۔۔۔ وہ کسی تماشے سے ظلمانہ لطف اٹھا رہے ہیں وہ چیز جو ان کے درمیان پڑی ہے اور جس کے تماشے سے وہ گھٹیا لذ ت محسوس کر رہے ہیں ، روزانا ہے جو نیم برہنگی کی بے بسی کے ساتھ ساتھ مظلو میت کے غیظ و غضب کی تصویر نظر آ تی ہے۔۔۔۔ ۔‘‘۸؂
اس سارے منظر سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان کس قدر بے حسی کا شکار ہو چکا ہے اور اس پر کسی قسم کی فریا د ، آ ہ و بکا کا اثر نہیں ہوتا ۔ عطیہ سید نے اسی طرح کی بے حسی کا اظہار اپنے افسانے میں کیا ہے جس کی مثالیں’’ شہر ہول ‘‘اور’’ کرسمس کی شب‘‘ ہیں ۔ جس دنیا میں انسان رہتا ہے وہاں اتنی بھیڑ ہو نے کے با وجود وہ اکیلا بے بسی اور بے حسی کا شکار ہے کسی کو کسی سے کو ئی ہمدردی نہیں ہے یہ سب عطیہ سید نے کمالِ خوبی سے بیان کیا ہے۔
افسانہ’’رقص‘‘ میں انسانی رویے کوموضوع بنایا گیا ہے۔ افسانے کے مرکزی کردارآ سیہ اور مصطفانی روم میٹ ہیں ۔آسیہ مروت ، تحمل ،برداشت ،رواداری اور صبرکی تصویر ہے جبکہ مصطفانی بے مروت ،غیرشائستہ ، بد تمیز اور یور پی طرز حیات کی دلدادہ ہے ۔ دونوں طباع میں بہت مختلف ہیں ۔
عطیہ سید کے بعض افسانوں کی خو بی یہ ہے کہ وہ واحدمتکلم میں لکھے گئے ہیں جن میں’’ دُخترِ شب‘‘ اور’’ تحیرِ عشق‘‘ شامل ہیں ۔’’تحیرِ عشق‘‘ ایک ایسی لڑکی کی کہانی ہے جس میں راوی کی ایک ہم جماعت لڑ کی فربہ اندام امریکن ہے جو ایک ایسے لڑکے کو پسند کرنے لگتی ہے جس میں نسوانیت پائی جاتی ہے ۔ وہ مرد اور عورت کے درمیان کی چیز ہے ۔ راوی اپنے ایک ہم جماعت لڑکے پر فریفتہ ہو جاتی ہے مگر اچانک جب وہ اسے ایک لڑکے کے ساتھ دیکھتی ہے جو اس کے لبوں کو بوسہ دیتا ہے اور اس کی کمر پر بازوڈال کر چلتا ہے تو وہ لڑکی(کہانی کی راوی) افسردہ ہوجاتی ہے ۔ اس افسانے میں ساری کہانی واحد متکلم صیغہ میں بیان کی گئی ہے اگر غور کیا جا ئے تو معلوم ہوگا کہ یہ کہانی بہت مختصر مگر دلچسپ ہے امریکن سوسائٹی میں اس طرح کی چیزوں کو معیوب نہیں سمجھا جاتا۔یہ افسانہ بھی یورپی تہذیب کا بہترین شاہ کار ٹھہرتا ہے۔
عطیہ سید کے افسانوں کے موضوعات میں بہت تنوع نظر آتا ہے ۔ اگر دیکھا جا ئے تو شہر ہول جیسے افسانے پر ایک ناول بنا جا سکتا ہے ۔ اس افسانے کے مو ضوعات کو عطیہ سید نے حقیقی زندگی سے اخذ کیا ہے ۔ عطیہ سید نے اس افسا نے میں زندگی کے تلخ حقائق کو نہا یت خو بصورتی سے موضو ع سخن بنا یا ہے کہ اس کے کردار وں سے ایک طرح کے جذبات پیدا ہو جاتے ہیں ۔
’’حکا یتِ خونچکا ں‘‘ عطیہ سید کا ایسا افسانہ ہے جس کا موضوع انسانی المیہ ہے ۔ اس افسانے میں پاکستان کے ایک ایسے شہری کی کہا نی بیان کی ہے جو سو بچوں کا قتل کر دیتا ہے اور کسی کو اس بات کی خبر نہیں ہو تی ۔وہ خود کو جب پو لیس کے حوا لے کرتا ہے تو یہ راز عوام پر کھلتا ہے کہ اس نے کتنے معصوم بچوں کو اپنے جنوں کی بھینٹ چڑھا یا ۔ عطیہ سید نے اس حقیقت کو اپنے فلسفیانہ زاویہ نگاہ سے بہت خوبصورتی کے ساتھ بیان کیا ہے اور اس کی تلخ حقیقت کو انھوں نے اپنے افسانے کا موضوع بنایاہے اور اس کے پیچھے ہونے والے نفسیاتی محرکات کو اپنے نقطۂ نظر سے بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔

عطیہ سید کے افسانوں میں کہیں کہیں داستانوی انداز کی جھلک بھی نظر آتی ہے۔’’ جلوہ ‘‘ان کا ایک طویل افسانہ ہے مگر یہ ایک طویل داستان معلوم ہوتا ہے ۔اس کی کہانی کا پس منظر اٹلی کا ہے اور مو ضوع کیتھو لک چرچ کے پوپ کے حکم نامے کا ہے، ہمارے معاشرے سے جس کا کو ئی تعلق نہیں۔ ان کہانیوں کا پیغام امن ہے اس افسانوی مجموعے کی ساری کہانیاں داستانوی ہیں جس کا حقیقی زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔
عطیہ سید کے افسانوں میں جہاں انسانی رویوں کی اچھی خاصی جھلک نظر آ تی ہے وہاں ان کے افسانوں کی سب سے بڑ ی خو بی یہ ہے کہ ان کے افسانوں کے مقامات زیادہ تر روحانی ہیں یا رو مانوی ۔ مثلا ان کے کچھ افسانوں میں گرجا گھر وں کی پر اسراریت ، مریم کے مجسموں ، نیم تاریکیوں ، موم بتی کی مدہم روشنیوں کے انداز ملتے ہیں اور بعض میں انگریز کی زندگی کے نقوش ابھرتے ہیں مثلا کلب ، ریستوران ، جنس کا کاروبار اور اسی طرح کے بے شمار رویے عطیہ سید کے افسانوں میں نظر آ تے ہیں ۔بقول خالدہ حسین:
’’عطیہ میں بیک وقت بہت سے متضاد عناصر ایک مرکب کی صورت اختیارکر گئے ہیںیعنی یہ کہ دنیا جہاں کافکر و فلسفہ گھول کر پی چکنے پر بھی اس کے مزاج میں ایک مخصوص بشاشت اور خوش دلی ہے۔وہ مثال پسند ہونے کے باوجود انسانی کمزوریوں اور کو تاہیوں کو قبول کرنے کا ظرف رکھتی ہے۔انسانی المیہ پر استوار اس کائنات کے بارے میں اس کا نظریہ مثبت اور رجائی ہے۔‘‘۹؂
عطیہ سید نے افسانوں میں فلیش بیک تکنیک کو نہایت خوبصورتی سے برتا ہے۔جس کی بہترین مثال ان کا افسانہ’’ مٹھی میں بند لمحہ‘‘ ہے ۔ اس کہانی میں مستقبل اور ماضی کی کڑیوں کونہا یت خو بصورتی سے پرویا گیا ہے جو افسانے کی خاص بات ہے ۔ کہیں بوریت کا اظہار نہیں ہوتا کہانی مستقبل میں ایک تصویر سے شروع ہوتی ہے اور پھر ماضی کی کڑیاں چلتی چلی جاتی ہیں ۔ 
مکالمہ نگاری ایک فن ہے ۔اور مکالمے کا بنیادی عنصر کردار ہیں۔ یعنی ہر کردار اپنے معاشرے ، طبقے، اور حیثیت سے گہرا تعلق رکھتا ہے اور اپنے سماج کا نمائندہ ہے۔عطیہ سید کے افسانوں کو پڑھا جائے تو ان کے مکالمے کردار وں کے حوالے سے لکھے گئے ہیں عطیہ کے ہاں مکالمے سیدھے ، صاف اور سادہ ہیں ان کے مکالموں میں ہر کردار کی اپنی زبان ہے یا وہ جس معاشرے میں پلا اور جس طرح کے لوگوں کے ساتھ اس کا میل جول ہے یہ سب مکالمے جو وہ بولتا یا بولتی ہے ، عطیہ سید نے بہت خوبی سے بیان کیا ہے ۔ان کی عبارت کا ایک عکس ملاحظہ ہو۔
’’تمھیں معلوم ہے؟‘‘بشارت نے کہا ۔
’’کیا ؟‘‘ اُس نے کھوئے کھوئے لہجے میں پوچھا۔
’’یہی کہ یہ سارے زیور نقلی ہیں‘‘۔
’’نقلی ہیں کیا مطلب؟کیا دنیا کے امیرترین لوگ جو اس ہوٹل میں ٹھہرے ہیں نقلی زیورات پہنے ہیں؟‘‘ ۱۰ ؂
مکالمہ نگاری کا یہ جوہر حکایاتِ جنوں میں اور پختہ ہوگیا ہے،اس مجموعے کے بیشتر افسانوں میں عطیہ کے کردارمکالمہ کرتے نظر آتے ہیں۔نمونے کے طور پر مٹھی میں بند لمحہ سے ایک عبارت ملاحظہ ہو:
’’میں عنبر ہوں۔‘‘عنبرنے اس سے ہاتھ ملاتے ہوئے جواب دیا۔
’’عنبر !تم سے مل کر خوشی ہوئی۔‘‘
’’مجھے بھی۔‘‘عنبر نے رسمی طور پر جواب میں کہا۔
’’تو تم ہندوستانی ہو۔‘‘
’’نہیں۔میں تو افریقی ہوں۔‘‘ ۱۱؂
عطیہ سید نے اپنے افسانوں میں امریکی تہذیب و معاشرت کو بیان کیا اور وہاں کی طر زِ معاشرت کو موضوع بنایا ہے ۔ امریکہ کے لوگ کیسی زندگی بسر کرتے ہیں اور وہاں کے حالات اور طرزِ رہائش کیساہے ۔عطیہ سید نے امریکی تہذیب کی محرومیوں کو علامتی انداز میں بیان کیا ہے۔عطیہ سید کے افسانوں کا مو ضوع زیادہ تر امریکی زندگی سے تعلق رکھتا ہے اس لیے کہ عطیہ سید نے امریکی معاشرے کے سماجی اور معاشرتی حالات کا بڑی باریک بینی سے جائزہ لیا ہے۔ ان کے افسانوں کو پڑھتے ہو ئے مغربی زندگی سے آ گاہی پیدا ہوتی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس معاشرے کے لوگوں سے ہمدردی کا عنصر بھی پیدا ہوتا ہے۔ شاید اسی لیے ان کے مختلف افسانوں میں بیرونِ ملک زندگی کی تنہائی اور بے بسی کا ذکر ملتا ہے۔الغرض اردو افسانے میں عطیہ کی آواز اچھوتی اور نرالی ہے۔ ان کا اُسلوب اردو فکشن کےُ افق کو وسیع کرے گا ۔وہ اپنے تمام تر مغربی موضوعات کے باوجود بھی مشرقی عورت ہی رہیں گی۔ان کا یہ اُسلوب شائید گلوبلائزیشن کے زیرِاثر ہے۔ 

حواشی:
۱:خالدہ حسین ،متکلم افسانے،مشمولہ ماہ نامہ الحمرا،لاہور:اگست۲۰۱۴ء،ص۴۲
۲:عطیہ سید، شہرِ ہول ،لاہور: گورا پبلشر،۱۹۹۵ء ، ص ۱۳۵
۳:ایضاً۔۔۔۔۔۔،ص۲۲ 
۴: عطیہ سید،حکایتِ جنوں،لاہور:،سنگِ میل پبلی کیشنز،۰۰۱ ۲ ء ص ۱۰
۵:ایضاً۔۔۔۔۔۔ ،ص ۴۱ 
۶: عطیہ سید، شہرِ ہول ، ص ۱۴۰
۷:افتخار جالب ، عطیہ سید کے افسانے ما ہ نامہ سپوتنک، شمارہ نمبر۵، لاہور:۲۰۰۵ء،ص۱۴۱
۸:عطیہ سید، شہرِ ہول ،ص ۴۲
۹:خالدہ حسین،محولہ بالا۔۔۔۔۔۔،ص۴۳ 
۱۰:عطیہ سید، شہرِ ہول۔۔۔۔۔۔،ص۱۷۹
۱۱:عطیہ سید،حکایتِ جنوں۔۔۔۔،ص۱۵۲

 مضامین دیگر 

Comment Form