عصمت کے فکشن میں مماثل عناصر




سلمان عبدالصمد
12 Sep, 2017 | Total Views: 250

   

اردو فکشن کو وقار واعتبار عطاکرنے والی عصمت چغتائی کے فکشن کے مطالعہ سے ایک حقیقت یہ بھی سامنے آتی ہے کہ ان کے یہاں تکرار کی کیفیت کچھ زیادہ ہے ۔نہ ان کے ناول اس سے پاک ہیں اور نہ ہی ان کی کہانیاں ۔ ان کے سرمایۂ ادب میں نفسیاتی پیچیدگیوں اور محرومیوں کا جو گہرا عکس ابھرتا ہے ،اس کی ابتدائی کڑیاں چغتائی کے پہلے افسانہ ’’گیندا‘‘]بعض لوگوں نے اس افسانہ کو اشاعت کے لحاظ سے ان کا تیسرا افسانہ قرارد یا ہے[سے مل جاتی ہیں۔ نفسیاتی رویوں اور انسانی ذات کی درون بینی سے متعلق معاملات کی تلاش کے تناظر میں یہ کہانی قابل اعتنا ہے۔ کیوں کہ اسی کا گہرا اثر ان کے فکشن کے لمبے سفر میں جگہ جگہ نظر آتا ہے ۔ یا یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ عصمت نے اس میں جو فکری جھلک دکھائی ہے ، وہی دراصل ان کے سرمایہ فکشن کا غالب حصہ ہے، تو کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہونی چاہئے۔ عصمت کا یہ حقیقی قول اپنی جگہ مسلّم کہ انھوں نے لکھنے کے لیے کتابِ زندگی کا مطالعہ کیاہے ۔ تاہم یہ کہنے کی بھی گنجائش ہے کہ کتابِ زندگی کے مختلف اسباق کا اثر اُن پر کم ، سبقِ’ مماثل نفسیاتی عناصر ‘ کا رنگ کچھ زیادہ ہی چڑھا ۔ یہ عیب ہے یا خوبی ، ارباب دانش وبینش کے پاس اس فیصلہ کا اختیار ہے ۔ 
یہ بات غالب طور پر عصمت کے سرمایہ کے متعلق کہی جاتی ہے کہ ان کا موضوع متوسط مسلم گھرانے کی لڑکیوں کے جنسی مسائل اور ان کے دیگر احوال وکوائف پر مبنی ہے۔اس تناظر میں ان کی تحلیل نفسی سے ان کے گھریلو مسائل کا اثر دِکھتا ہے اور اس زمانہ کے حالات اور منظر نامہ کی عکاسی بخوبی ہونے لگتی ہے۔ ان کی بیشتر کہانیوں اور ناولوں میں مسلم گھرانے کا عکس گہراہے اور ’گیند ا ‘ کے پس منظر کی یکساں نفسیاتی درون بینی بھی اپنی شمولیت کا احساس دلاتی ہے ۔ 
’’کون تھا ، جو مجھ سے ہمدردی کرتا ؟بھیا نے تو کبھی منہ نہ لگایا ۔اماں نے کبھی لاڈ ہی نہ کیا ۔نتیجہ یہ ہوا کہ بلا کی ضدی ہوگئی ۔ طبیعت میں جو الجھن پیدا ہوا سب سے بَیر باندھ لیا ‘‘۔(1)
گیند اکے یہ جملے عصمت کے شاہکار ناول ’’ٹیڑ ھی لکیر‘‘ کے جملوں میں اس طرح رچ بس گیے ، جنہیں الگ کرنے کی گنجائش ہی نہیں۔ ان جملوں کو ’ضدی ‘ کی چھلنی میں چھاننے سے بھی ایسی ہی کیفیت پیدا ہوتی ہے ۔ ’عجب آدمی‘ میں بھی ایسی ہی عجیب کرشمہ سازی ہے۔کرداروں کی احساس محرومی نمایاں طورپر سامنے آجا تی ہے ۔ 
محرومی(Deprition) انسانی تحت الشعور میں اس طرح پیوست ہوتی ہے کہ جہاں بھی کہیں محبت والفت کا احساس ہو ، محروم فرد اس کی طرف ازخود بڑھنے لگتا ہے ۔ ایک انوکھاانجانا کشش پیدا ہوجاتا ، جیسا کہ گیندا اور ٹیڑھی لکیر میں میں مختلف مقامات پر اس کا احساس ہوتا ہے۔ٹیڑھی لکیر کی پہلی منزل کی پہلی سطر :
’’وہ پیدا ہی بے موقع ہوئی ۔ بڑی آپا کی چہیتی سہیلی سلمہ کی شادی تھی اوروہ بیٹھی جھپاجھپ سروئی کریپ کے دوپٹہ ٹانک رہی تھی ۔ ..... نو بچوں کے بعد ایک کا اضافہ‘جیسے گھڑی کی سوئی آگے بڑھ گئی ....خدا غارت کرے اس منی سی بہن کو ۔ اماں کی کوکھ کیوں نہیں بند ہوجاتی ‘‘۔(ٹیڑھی لکیر(
ان جملوں سے مماثلت کا سبق /اثر بالکل واضح ہوجاتا ہے۔ بچے کی پیدا ئش سے اہل خانہ کی پوری کشمکش اور ناگواری کی ساری کیفیتیں عیاں ہوجاتی ہیں ۔ گیندا کی ’’میں /بہن‘‘اور ’’ٹیڑھی لکیر کی شمن‘‘ کی ساری مصیبتیں اور نارسائیاں واشگاف ہوتی ہیں ۔ظاہر ہے اس ماحول میں پیدا ہونے والی لڑکیوں کے حصہ میں فقط محرومی ہی آئے گی ۔ 
’’ماں کی شفقت سے محرومی Oral Deprivationکہلاتا ہے ۔ ایام طفولیت میں ماں کی شفقت اور نگہداشت سے محروم ہوجانے کی وجہ سے ذہنی تکلیف کا سامنا کرنا ہوتا ہے۔‘‘(2(
ساتھ ہی ساتھ گیندا اور ٹیڑھی لکیر کی یہ مماثلت بھی قابل توجہ بن جاتی کہ دونوں کردار(میں/شمن) چھوٹی عمر میں ہی بڑی عمر کی عورتوں کی جھلک دکھاتی ہیں۔ گیند امیں ’کردار مَیں‘ یعنی بہن کا یکایک بڑا ہونا اور بھائی سے لمبی زبان میں گفتگو کرنا ؛ بہن کی بیٹی کے تناظر میں( ابتدائی سطروں میں ) ٹیرھی شمن کابڑی عورتوں کی طرح سوچنا بھی پیچیدگیاں پیدا کرتا ہے اور دونوں جگہ پائی جانے والی مماثلتیں بھی کھل جاتی ہیں ۔بچی کرداروں اور ننھے دلوں میں عصمت تخیل کا اتنا گہرا رنگ بھرتی ہیں کہ’تصنع کا پوٹریٹ ‘کھڑا ہوجاتا ہے ۔
’’آن کی آن میں کھیل بگڑ گیا ۔ میں بھیا سے الجھ پڑی اورکرتی بھی کیا ۔
’’ایں... ں.....جاؤ یہاں سے‘‘ ۔(گیندا(
بالکل یہی کیفیت ٹیڑھی لکیر میں بھی پائی جاتی ہے کہ اِتّی سی شمن لمبے دماغ کا استعمال کرنے لگتی۔یایوں کہہ سکتے ہیں کہ عصمت کی بلندپرواز تخیل کی وہ تاب نہیں لا پاتی ہے۔ اس کے علاوہ دونوں (گیندا ، ٹیڑھی لکیر)میں بچوں کی رقابت کی آگ بھی اتنی شدید نظر آتی کہ حیرت کا احساس ہوتا ہے ۔ ’گؤدان‘کی مس مالتی اور گوبندی دیوی (مسز کھنا)کے درمیان رقابت جتنی شدید ہوتی ہے ، اس سے بھی کہیں زیادہ شمن اور گیند ا کے معاملے کی لو تیز نظر آتی ہے۔ مالتی اور گوبندی کی رقابت جہاں قارئین کے ذہن میں ہلچل پیداکر کے فنی گرفت مضبوط کرتی ہے ، وہیں گیندا اورشمن کے معاملہ میں ڈھلمل رویہ اور تصنع کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بڑی عمر عورتوں اور بچیوں کے نفسیاتی رویوں یاان کے احساسات وجذبات میں کوئی تفاوت ہی نہیں۔ اس طرح ان نفسیاتی کشمکش اور سبق کے مماثل اثرات سے عصمت کے سرمایوں پر’تکراری رنگ ‘ اپناقبضہ جما نے لگ جاتاہے ۔
عورتوں کے ان رویوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ عورت اپنے ہم پلہ عورت کے تذکرہ سے خوش نہیں ہوتی ، بلکہ وہ رقابت کی آگ میں جھلسنے لگتی ہے ۔ رقابت کا یہی جذبہ ’سوتن‘کے معاملے میں شدت اختیار کرجاتا ہے ۔ اگرماں کے روپ میں کسی دوسری ماں کے پاس یہ تذکرہ ہوتو شاید وہ سوچتی ہے کہ مجھ سے بہتر کوئی ماں ہوبھی کیوں ۔ اگر کسی بیوی کا ذکر ہوتو ، مخاطِب عورت کے اندر ہلچل مچ جاتی ہے کہ مجھ سے بہتر بیوی کوئی ہوگی بھی تو کیوں۔یعنی ہم پلہ عورت میں یہ رقابت کا جذبہ شدید ترہوجاتا ہے ۔ گیندا کی طرف جب بھائی کا رجحان ہوتا ہے تو خود اس کی بہن(مَیں) میں رقابت سرابھارنے لگتی ہے ۔ ٹیڑھی لکیر اور ضدی میں بھی کئی مقام پر ایسی کیفیت سامنے آتی ہے ۔ 
عصمت نے اپنی پہلی کہانی کو جس پہلوپر مرتکز رکھا ہے ، وہ اُس زمانہ کے مسلم گھرانے کی گھیر ابندی اور طبقہ اشرافیہ کا اپنے نوکروں / نو کر ا نیو ں کے تعلقا ت کوواضح کرتا ہے ۔ پھر یہ رویہ فرائڈ کے نظریوں کے فروغ پر بھی مبنی ہے ۔ گرچہ عصمت نے الگ راہ بنانے کی کو شش کرتے ہوئے نفسیاتی تناظر میں فرائیڈ کے نظریات سے برعکس دلیل پیش کی کہ انھوں نے جنسی خواہشات سے سرورکار نہیں رکھا، بلکہ فقط مسلم گھرانوں کی گھیرا بندی سے پیدا ہونے والے حالات کو ہی پیش کیا ہے ۔ یہ بھی واقعہ ہے کہ عصمت نے مغربی افسانوی ادب کا گہرا مطالعہ کیا ہے ۔ چنانچہ یہ کہاجاسکتا ہے کہ انھوں نے جہاں اپنے ماحول اور اطراف واکناف کے اثرات قبول کیے وہیں مغربی رویوں نے بھی انھیں متاثر کیا ۔ عصمت کے یہاں طریقہ کار چاہے جو بھی ہو، تاہم فرائڈ کے نظر یات سے مفر نہیں ۔ اس طرح انھوں نے مطالعات ومشاہدات کو ضم کرنیکی ایک نئی روش قائم کی ۔ 
عصمت چغتائی کے متعلق مجنوں گورکھپوری کے اقوال کو پروفیسر عبدالسلام نے کچھ یوں بیان کیا ہے :
’’نہ موضوع کے اعتبار سے وہ کسی کی خوشہ چیں کہی جاسکتی ہیں ، نہ اسلوب کے اعتبار سے ۔ دونوں ان کی اپنی ذہانت اور طباعی کی پیداوار ہیں اور باہم مل کر ایک پورا مزاج بن گیے ہیں ‘‘۔(3(
کپڑے پریس کرکے گیندا جب کہانی کی راوی ’مَیں‘ کے بھائی کے روم میں لاکر گنتی ہے تو برابر میں چھپا ہوا بھائی اسے بستر پر چاروں کھانے چت کردیتا ہے ۔ بھائی جس کا پورے گھر پر رعب ہے ، اسے گیندا تھپڑ بھی رسید کردیتی ہے ۔ لیکن بھائی اس کا برا مانے بغیر اس کے بدن سے کھیلتا ہے۔ اس واقعہ کا بہن پر گہرا اثر ہوتا ہے اور طرح طرح کے خیالات اس کے ذہن ودماغ میں اٹھنے لگتے ہیں ۔ بھائی کو دہلی بھیج دیا جاتا ہے اور گیندا کے یہاں بچے کی پیدا ئش ہوتی ہے ۔ کہانی کی پوری صورتحال معاشرتی منظر نامہ کو پیش کرتی ہے اور فرائڈ کا فلسفہ اس شدت سے سامنے آتاکہ حالات خواہ کیسے بھی ہوں جنسی بھوک کی تسکین لازمی ہے ۔ اگر ماحول حبس زدہ ہو اور پہریداری کی کیفیت مضبوط ہوتو نوکرانیو ں پر بھی ہاتھ صاف کرنے تک کی نوبت آجائے گی ۔ یہاں پرطبقہ اشرافیہ کے چہرے پر چڑھا شرافت کا مکھوٹا بھی گردش کرتا نظر آتاہے ۔ 
جیساکہ کہا گیا کہ ایسی نفسیاتی کیفیت تو عصمت چغتائی کے سرمایہ فکشن میں بہت ہی واضح طور پر ملتی ہے ۔ جس سے کہ تکرا رکابھی احساس ہو نے لگتا ہے ۔ تاہم جب دیگر ادبا کے یہاں پائے جانے والے نفسیاتی الجھنوں کا جائزہ لیتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اس طرح کانفسیاتی عنصر بہت ہی عام ہے ۔ اس کے باوجود بھی عصمت نے مختلف مقامات پراسی طریقہ کو بروئے کار لایا۔ ’انگارے ‘میں شامل سجاد ظہیر کی کہانی ’’دلاری ‘‘بھی اسی کیفیت کا احساس دلاتی ہے ۔ حبس زدہ ماحول میں پلنے والا طبقہ اشرافیہ کا فرد موقع ملتے ہی گھنونے کھیل میں مصروف ہوجاتا ہے ۔ ’دلاری‘ اور’ گیندا ‘ کا موازنہ یہ بھی ثابت کرتا ہے کہ تھیم کے لحاظ سے دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ بلکہ کہانی کے کرداروں کی نوعیت میں بھی یکسانیت ہے۔ کیوں کہ دونوں میں مرد کردار طبقہ اشرافیہ سے تعلق رکھتا ہے اور نسوانی کردار دبے کچلے طبقہ سے ۔ ضدّی کا معاملہ بھی ان دونوں سے کچھ زیادہ برعکس نہیں ہے۔ البتہ بنّت کے رویوں میں تفریق ضرور پائی جاتی ہے ۔ چند معاصر افسانوں سے گیند اکا تقابل کریں تو اندازہ ہو گا کہ آج بھی گیندا جیسی فضا میں کہانیاں سامنے آرہی ہیں ۔ تاہم کچھ نہ کچھ رنگ بدلنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ شائستہ فاخری کاافسانہ ’’اداس لمحوں کی خود کلامی‘‘میں بھی ایسے نفسیاتی الجھن پیش کیے گیے ۔ گھر میں چونکہ حبس کاماحول ہوتا ہے، اس لیے جب مرکزی کردار تعلیمی ہاسٹل کی لائف میں آتی ہے تو اس کی ذہنیت سامنے آنے لگ جاتی ہے اور اس کے حرکات وسکنات سے جنسی بھوک کے معاملات اجا گر ہو تے ہیں ۔اسی پس منظر میں یہ کہانی بھی گیندا کے قریب پہنچتی ہے ۔ تاہم اس کہانی کا تھیم ذرا مختلف ہے ۔ فاخری نے جنسی نفسیات کے تناظر میں ہم جنسی رویو ں کو بھی اٹھانے کی کوشش کی ۔ اس طرح ’اداس لمحوں کی خود کلامی‘ گینداکے قریب سے گزرتی ہوئی ’ٹیڑھی لکیر ‘ سے اپنی کڑیاں ملانے لگتی ہے۔ یہاں پر جنسی حوالوں سے اپنی شناخت رکھنے والے شموئیل احمد کی کہانی’برف میں آگ‘ کو سامنے رکھا جاسکتا ہے ۔ تاہم انھوں نے کہانی کی بنّت میں ایسی جدت طرازی کی کہ گیندا اور دلاری کے پس منظر میں ہونے کے باوجود بھی ان کی کہانی مکمل طور پر اپنا الگ وجود رکھتی ہے اور ایسا احساس ہوتا ہے کہ جنسی نفسیات کی ایسی ہی کہانی موجودہ دور سے بالکل ہم آہنگ ہوسکتی ہے ۔ جنسی آسودگی نہ ہونے کی صورت میں’ برف میں آگ‘ جیسی کہانی ہی آج موزوں ہے ۔ ’ادا س لمحوں کی خود کلامی‘ کی فضا میں گھر کی محبوس فضا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی کردار ہاسٹل آنے کے بعد اپنا کرشمہ دکھاتی ہے ۔ لیکن ’برف میں آگ‘ میں حبس اور بندش کی کوئی فضا نہیں ہے ، لیکن مرکزی کردار کی بیوی سرد ہے ۔ اس کا بدن ، عورت کا سانہیں ہے ۔ اس لیے وہ (کردار)لطف اندوز نہیں ہوپاتا ہے ۔ چونکہ جنسی بھوک مٹتی نہیں ، لہذا وہ محبوبہ پالتا ہے ۔ محبو بہ بھی ایسی کہ محبوب سے اس کی بیوی کی باتیں دل کھول کر کرتی ہے ۔ بیوی کے مسائل پر تبادلہ خیال کرتی ہے ۔ اگر شموئیل احمداپنی کہانی میں محبوبہ سے اپنی بیوی کا تذکرہ نہیں کرتے تو شاید یہ کہانی بھی روایتی ہوجاتی۔ ہوتا بھی ایسا ہی کہ ایک مرداگر بیوی سے آسودہ نہیں ہوتا یا پھر عورت شوہر سے مطمئن نہیں تو چھپاچھپی کا کھیل شروع ہوجاتا ہے ۔ عموماً نفسیاتی جنس کے پس میں ایسی کہانی ہی بیان کردی جاتی ہے ۔ لیکن شموئیل احمد نے اس کہانی میں محبوبہ کے سہارے جدت کا رنگ کچھ اس طرح بھرا کہ مماثل جنسی مسائل پر مبنی کہانیوں میں بھی یہ کہانی اپنی انفرادیت درج کرواتی ہے ۔ یاد رہے کہ محبوبہ کا معاملہ تو ضمنی حیثیت رکھتا ہے، اس کے باوجود بھی یہ پہلو کہانی میں نیے پن کا احساس دلاتا ہے ۔ کہانی کا مکمل جنسی رویہ تو بیوی کے برف آشنا اعضا وجوارح میں سلگنے والی آگ سے منسلک ہے ۔ گینداکے تجزیے سے جہاں یہ اندازہ ہوتا ہے کہ عصمت کے سرمایہ پر اس کہانی کا گہرا اثر ہے ، وہیں یہ بھی صاف ہوجاتاہے کہ مماثل نفسیاتی رنگ موجودہ عہد کے افسانہ نگاروں کے یہاں بھی پایا جاتا ہے ۔ جنسی نفسیات اور انسانی پیچ وخم کے ماہرین بھی فقط لفظی الٹ پھیر کے سہارے نئی نئی کہانیا ں بننے میں مصروف ہیں ۔ رنگوں کا عکس نچوڑنے کی روایت آگے بڑھتی چلی جارہی ہے ،جو کہ نفسیاتی کہانیوں کے نام پر دھبہ ہے ۔ نفسیات ، خصوصاً جنس کی نفسیات پر لکھنے والے ہمیشہ یہ سوچتے ہیں کہ ہم نے جنسیاتی پہلو لکھ کر کہانی کو منٹوسے آگے بڑھا دیا ہے ۔ اگر اس ضمن میں کسی خاتون افسانہ نگار کی نفسیاتی کہانی کا تجزیہ ہوتو وہ تجزیہ نگار سے امید کرتی ہیں کہ ان کی کہانی ، عصمت چغتائی سے بڑی کہانی تسلیم کی جائے ۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ جنس کی نفسیات پر لکھی گئی بیشتر کہانیوں میں مماثل عناصر پائے جاتے ہیں ۔ دوسروں کی نفسیاتی کہانی سے الگ چراغ چلانے میں عصمت بھی کسی سے کم نہیں ہے تو مماثل رنگ کے ساتھ نئی لکھنے والی خواتین کہاں ان سے آگے بڑھ سکتی ہیں۔
حواشی :
(1)عصمت چغتائی کے افسانے (جلد اول )، کتابی دنیا دہلی 2006، ص10۔
(2)الفریم روزن ،ابنارمل نفسیات ، (مترجم: ذکیہ مشہدی)قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان ، نئی دہلی ،1985، ص162 (
(3)عبدا لسلام ، عصمت چغتائی اور نفسیاتی ناول ، اعجاز پبلشنگ ہاؤس ، دریا گنج دہلی ، ص8

 مضامین دیگر 


Comment Form



اردو فکشن

© 2017 Urdu Fiction. All right reserved.

Developed By: Aytis Cloud Solutions Pvt. Ltd.