ایک دن کا لمبا سفر: ایک تجزیہ




امتیاز احمد علیمی
24 Nov, 2017 | Total Views: 394

   

ہر نئی تخلیق خواہ شعری ہو یا نثری اپنے قاری کی تلاش میں ہوتی ہے جب تک اسے اس کا باشعور،با صلاحیت،سنجیدہ اور غیر جانبدار تنقیدی بصیرت کا حامل قاری نہیں مل جاتا اس تخلیق کی اہمیت اور افادیت کھل کر سامنے نہیں آسکتی ۔ تخلیق کار جو داخلی اور خارجی کرب و اذیت ،سماجی جبر و تشدد،معاشرتی مفروضات اور توہمات،فرسودہ رسم و رواج اور دیگر فضولیات کو جو انجانے طور پر ہماری زندگی کا اٹوٹ حصہ بن چکی ہیں سب کو اپنے اوپر جھیلتا اور برداشت کرتا ہے اور پھر اپنے ذاتی مشاہدے اور داخلی کرب کو اپنے تخیل کی مدد سے صفحہ قرطاس پر اس قالب میں ڈھالتا ہے کہ وہ اس کا ذاتی اور داخلی کرب نہ رہ کر قاری کا ذاتی اور داخلی کرب بن جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ جو تخلیق کاراپنے ذاتی اور داخلی کرب کو عمومی کرب میں ڈھال کر پیش کرتا ہے وہ تخلیق کار کبھی اپنے قاری کا محتاج نہیں ہوتا،وہ ہر حلقہ میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔مگر جہاں تک ادبی تخلیق کا مسئلہ ہے تو یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ جیسا سماج اور معاشرہ ہوگا ہمارا ادب بھی اسی طرح کا ہوگاکیونکہ جہاں ادب کو تنقید حیات کہا جاتا ہے وہیں ادیب کو سماج کا عکاس ،نباض اور نقاد بھی کہا جاتا ہے۔یہی سچ بھی ہے کہ ادب میں ہماری زندگی کے شب و روز اور طرز بود و باش کے علاوہ طرز فکر کو پیش کیا جاتا ہے ،مثلاًکلاسیکی عہد میں کلاسکی ادب،رومانوی عہد میں رومانوی ادب،ترقی پسند عہد میں ترقی پسند ادب،جدید عہد میں جدید ادب اور مابعد جدید عہد میں مابعد جدید ادب۔چونکہ ہر عہد کے سیاسی ،سماجی،معاشرتی،اصول و ضوابط اور زندگی کی قدریں جدا گانہ تھیں اسلئے ہر عہد کاادب بھی جدا گانہ ہوگیا۔ لیکن ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک ادیب ،تخلیق کار یا فنکار کو صرف اس کے عہد میں رکھ کر دیکھنا اور اس کی تخلیقات کو اسی کی روشنی میں پرکھنا کس حد تک درست ہے؟ اس سلسلے میں جہاں تک میں سمجھتا ہوں کہ تخلیق کار کی تخلیقات کو صرف اس کے اپنے عہد میں رکھ کر پرکھنا اس کے ساتھ بھونڈا مذاق کے سوا کچھ نہیں۔کیونکہ بہت سارے ادیب ایسے بھی ہیں جن کے فن پارے ان کے عہد میں قابل گردن زدنی قرار دیئے گئے مگر ان کی اہمیت ومعنویت ان کے عہد کے بجائے ان کے مرنے کے تقریباًسو سال بعدبڑھتی گئی، اس ضمن میں غالب، منٹو ، اور اکبر وغیرہ کا نام لیا جا سکتا ہے اور جن کی ان کے عہد میں بے جا تعریف کے پل باندھے گئے وہ آج محدود نصابوں میں قید ہوکر رہ گئے ہیں۔ اس لئے تخلیقی سطح پر ایسے فن پارے خلق کئے جائیں جس میں ترسیلی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔جو بات قاری تک پہنچانا چاہتے ہیں وہ بہت ہی واضح ہونے چاہئے خاص طور سے نثری اظہار میں،کیونکہ اس میں بے جا استعارات و علامات ،رمز وکنایات اور مبہم اشارات کو خامی تصور کیا جاتا ہے اس لئے بات ایسی ہو کہ دل سے نکلے اور دل پر اثر کرجائے نہ کہ مذکورہ علائم قاری کی ترسیل اور تفہیم میں راہ کا روڑا ثابت ہوں۔
اگر تخلیق کار زیادہ سے زیادہ علامتوں کا استعمال کرتا ہے یا مبہم اور بے جوڑ خیالات پیش کرتا ہے تو ایسی تخلیق کا حشر وہی ہوگا جو جدیدیوں کی تخلیق کے ساتھ ہوا کہ آج تک انھیں ان کا صحیح قاری نہیں مل سکا اور اس لایعنیت کے زیر اثر جو بھی تخلیق وجود میں آئی وہ آج کوڑے کا ڈھیر ثابت ہو رہی ہے کیونکہ انھوں نے قاری سے اپنا رشتہ استوار کرنے کے بجائے اس سے منقطع کر لیا نتیجتاً قاری نے بھی اس سے علاحدگی اختیار کر لی اور اسے در خور اعتنا تصور کرتے ہوئے اپنی ذہنی ہم آہنگی کا سامان دوسری تخلیقات میں تلاش کرنا شروع کردیا اس لئے جدید ادب ایک طرح سے کوڑے کا ڈھیر ثابت ہوکے رہ گیا۔چونکہ شاکر کریمی کا تعلق تخلیق کاروں کی اس نسل سے ہے جو جدیدیت سے مابعد جدید یت کی طرف مراجعت کرتے ہیں اور وہ سارے فنی و فکری لوازمات جو جدیدیت میں گم ہو کر رہ گئے تھے ان میں سے بہت کچھ شاکر کریمی کے حالیہ افسانوی مجموعہ ’’ایک دن کا لمبا سفر ‘‘ میں عود کر آئے ہیں۔اس سے قبل ان کے دو افسانوی مجموعے ’’پردے جب اٹھ گئے‘‘(1963)اور ’’اپنی آگ‘‘(1979)میں منظر عام پر آچکے ہیں۔ان دونوں مجموعوں کے بارے میں کچھ بھی کہنا محض قیاسی ہوگا کیونکہ یہ دونوں میری نظر سے ابھی نہیں گزرا۔اس کے علاوہ شعری اصناف میں ان کا ایک مجموعہ’’ریزۂ مینا‘‘کے نام سے 1985میں شائع ہو کر منظر عام پر آچکا ہے۔اس مضمون میں ان کے صرف ایک افسانوی مجموعے ’’ایک دن کا لمبا سفر‘‘ کے کچھ افسانوں کے تجزیے کی کوشش کی گئی ہے۔
شاکر کریمی کے افسانوی مجموعے ’’ایک دن کا لمبا سفر‘‘ کی قرأت کے بعد جو بات سب سے پہلی کہی جا سکتی ہے وہ یہ کہ یہ ایک Readableافسانوی مجموعہ ہے جس میں جدیدیت کی بُو باس نظر نہیں آتی۔دوسرے یہ کہ اس کی زبان صاف اور واضح ہے۔ ثقالت اورپیچیدگی بالکل نہیں ہے۔تیسری یہ کہ قاری کو ایک ہی نشست میں پورا افسانہ پڑھنے پر مجبور کردیتا ہے۔چوتھے یہ کہ مصنف کا پیغام بالکل صاف اور واضح ہے۔پانچویں یہ کہ اس میں بے جا تشبیہات و استعارات ،رمز و کنایات اور علامات وغیرہ کو بالکل جگہ نہیں دی گئی ہے۔چھٹے یہ کہ افسانہ قاری کو از ابتدا تا انتہا اپنی گرفت میں رکھتا ہے۔ساتویں یہ کہ اس میں مختلف النوع موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے مثلاً سماجی ،معاشی،معاشرتی،اقتصادی،سیاسی اور مذہبی پہلؤوں کی نشاندہی کرتے ہوئے اس میں موجود بدعات و خرافات،بے جا جبر و تشدد،استحصال،عدم مساوات اور قدیم روایتی خرافات کی نشاندہی کی گئی ہے۔آٹھویں یہ کہ اس میں غیر مانوس الفاظ ،پیچیدہ اور الجھے ہوئے طرز نگارش سے حتی الامکان گریز کیا گیا ہے۔نویں یہ کہ اس میں ہماری روزمرہ کی زندگی میں رونما ہونے والے حادثات و واقعات اور سانحات کو ہی جگہ دی گئی ہے، اس میں ما فوق الفطری عناصر کی کار فرمائی دوردور تک نظر نہیں آتی۔مذکورہ بالانکات کے پیش نظر یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ یہ افسانوی مجموعہ اہل علم و دانش کے حلقے میں قبول کیا جانا چاہئے۔
ایک دن کا لمبا سفر ‘میں بیس افسانے شامل ہیں جو مختلف موضوعات و مسائل کا احاطہ کرتے ہیں۔اس مجموعے کا پہلا افسانہ’’انہونی بات‘‘ ہے جس کا موضوع سماج اور معاشرے میں پھیلی جہیز کی وبا ہے۔اس وبا نے انسانی زندگی میں کتنی تلخیاں بھر دی ہیں اس کا تصور بھی اب نا قابل برداشت ہوتا جا رہا ہے۔شادی جیسے مقدس رشتے کی بنیاد آج کل دولت وثروت پر کس طرح منحصر ہوگئی ہے ۔جہیز کی لمبی لمبی فہرستیں کس طرح بے جھجک پیش کی جاتی ہیں ۔انسانی اور اخلاقی قدروں کا زوال کس طرح ہو رہا ہے، ان سب کو مصنف نے مذکورہ افسانے میں دو کردار فیاض احمد اور ماسٹر ریاض الدین کے ذریعہ پیش کیا ہے۔جس میں فیاض صاحب اسم با مسمٰی تھے ان کی تین اولادیں تھیں جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ نیک خو اور با اخلاق تھیں۔فیاض صاحب کے گھر کا ماحول بھی فیاضانہ تھا۔وہ اپنے دونوں بیٹوں کی شادی کی ذمہ داریاں پوری کر چکے تھے اور بیٹی حنا کے رشتے کی تلاش جاری تھی۔فیاض صاحب کو بیٹوں کی شادی میں کسی طرح کی کوئی پریشانی نہیں ہوئی جس طرح چاہا شادی کی ،لیکن بیٹی حنا کی شادی ان کے لئے ایک بڑا مسئلہ بن گئی اور یہ مسئلہ تھا جہیز کا۔ہر آنے والا جہیز کی ایک لمبی فہرستیں لاتا یا ایسی باتیں کہتا جس سے فیاض صاحب تلملا اٹھتے۔ اس سلسلے میں ایک انجینئر بیٹے کے وکیل باپ کا یہ جملہ ملاحظہ کیجیے:
’’حضرت میں اپنی بیٹی کی شادی میں دو لاکھ روپئے خرچ کر چکا ہوں،آپ کتنا خرچ کریں گے؟‘‘ص 12
یا پھر سماج اور معاشرے میں ایک پڑھے لکھے ڈاکٹر کی کتنی قیمت ہو سکتی ہے یہ بھی ملاحظہ کیجئے:
’’لڑکا ڈاکٹر ہے۔پرائیویٹ پریکٹس کرتا ہے۔لیکن جب تک ٹیپ ٹاپ نہ ہو پریکٹس اچھی نہیں چلتی۔ضروری ہے کہ مع ایکسرے مشین اچھا کلینک ہو،کار ہو ،اگر فیاض صاحب یہ دینے اور کرنے کو تیار ہوں تو رشتے طے۔بصورت دیگر ہم مجبور ہیں۔‘‘ص ایضاً
اس سلسلے میں ایک زمیندا کی گفتگو بھی سن لیں:
’’جناب میں خود بھی لینے دینے کے خلاف ہوں۔آپ صرف اتنا کریں،آپ کی جائدادوں میں لڑکی کا جو حصہ ہے وہ شادی سے قبل میرے بیٹے یا اپنی بیٹی کے نام لکھ دیں۔کون جانے آپ کے بعد بٹوارے کا جھگڑا کھڑا ہو جائے اور میرا بیٹا کورٹ کچہری کے دروازے کھٹکھٹاتا پھرے۔‘‘ص ایضاً
اس طرح فیاض صاحب کے مسلسل پیغامات آتے رہے اور مطالبات کی فہرستیں بدستور جاری رہیں اور کوئی ہونی بات نظر نہیں آئی۔جو بھی آیا اس نے اپنے بیٹے کی پیدائش سے شادی تک کے سارے اخراجات گنا کر لڑکی والوں سے وصول کرنا چاہا۔یہی بات فیا ض صاحب کو ہمیشہ کچوکے لگاتی رہتی۔یہی تلخ تجربات ان کو یہ کہنے پر مجبور کرتے تھے کہ’’میں بے وقوف تھاجو میرے بیٹے بے دام بک گئے‘‘انہوں نے اپنے بیٹوں کی شادی میں وہی کیا جو انھیں کرنا چاہئے تھا اور لڑکی کی شادی بھی اسی طرح کرنا چاہتے تھے جیسا کہ بیٹوں کی ہوئی تھی۔اب فیاض صاحب کی مجبوری کہئے یا نئی فکر اور نئی ترکیب کہئے جو انہوں نے نکالی، وہ یہ کہ کیوں نہ ایسے خاندان میں شادی کردی جائے جو مالی اعتبار سے پریشان حال ہو ۔
’’کیونکہ ایسے لڑکوں کی کمی نہیں جو نیک ہیں،ہونہار ہیں،کچھ کرنا چاہتے ہیں،کچھ بننا چاہتے ہیں۔لیکن مالی پریشانیاں ان کی راہ میں حائل ہیں۔اگر میں ایسے ہی لڑکوں میں سے کسی ایک کو منتخب کرلوں اور وہ سب کچھ جو لوگ مجھ سے چاہتے ہیں اسے دے دوں تو ایک گھر بن جائے گا ،چند زندگیاں سنور جائیں گی۔‘‘ص 17 ؂ 
اسی فکراور سوچ کے ساتھ فیاض صاحب نے اپنی بیٹی کی شادی کے لئے اپنے ہی پڑوسی اور بچپن کے دوست ماسٹر ریاض الدین جو معمولی زندگی گزار رہے تھے اور بوسیدہ مکان جو دن بدن بوسیدہ ہوتا جارہا تھا اس میں انتہائی غربت کے باوجود تمام مصائب و آلام کو برداشت کرکے اپنے بیٹے انوار احمد کو پڑھا رہے تھے ،ان کے بیٹے کا انتخاب کیا اور اسی کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک کر کے مذکورہ فکر کو عام کرنے کی کوشش کی ۔اس افسانے کا لب لباب یہی فکر ہے جو ماسٹر ریاض الدین کے لئے ’انہونی بات‘ ثابت ہوئی ۔کیونکہ وہ کبھی اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے کہ فیاض صاحب جیسے رئیس اپنی دوستی کو اس طرح غریب ماسٹر کے ساتھ رشتے داری میں بدل دیں گے۔لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ بات فیاض صاحب کو پہلے کیوں نہیں سوجھی؟اور اگر سوجھی تھی تو انہوں نے پہلے کیوں نہیں کیا؟یا وہ لڑکوں کا مارکیٹ ریٹ بتانا چاہتے تھے کہ ڈاکٹر ،وکیل،انجینئر،آج کل کتنے مین بک رہے ہیں؟یا پھر وہ اپنے لڑکوں کی طرح لڑکی کے معاملے میں بھی مطمئن تھے؟یا انہوں نے لاچار اور مجبور ہوکر ماسٹر کے بیٹے کا انتخاب کیا تھا؟یا اپنی کمزوری کو چھپانے کے لئے اس طرح کی فکر کو پیش کیا کہ لاٹھی بھی نہ ٹوٹے اورسانپ بھی مرجائے؟یا اس کے ذریعہ معاشرے میں پھیلی جہیز کی لعنت کو دکھاکر سماج کوآئینہ دکھانا چاہتے تھے؟اس طرح کے بہت سارے سوالات جنم لیتے ہیں جب کہانی ختم ہوتی ہے۔بہر حال اسے ایک نو فکر انگیز افسانہ کہہ سکتے ہیں۔ 
اس مجموعے میں شامل دوسرا افسانہ ’’ایک دن کا لمبا سفر ‘‘ ہے جو کتاب کا عنوان بھی ہے۔اس افسانے میں ہندوستان کے دیہی معاشرتی اور سماجی زندگی کے علاوہ معاشی مسائل کا نقشہ کنھیا،مالا،اور کِنتی جیسے کرداروں کے ذریعہ کھینچا ہے جس میں کِنتی کی زندگی موجودہ دیہی منظر نامے میں سب کے لئے درس عبرت ہے۔یہ افسانہ بہت زیادہ متاثر کن اس معنی میں ہے کہ اس میں ان ستّر فیصد غریب دیہی ہندوستانیوں کی غربت کی جو اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کی امید میں شریک حیات سے دور رہ کر روزی روٹی کا سامان مہیا کرتے ہیں تاکہ مفلوک الحالی اور بد حالی والی زندگی خوشحالی میں بدل جائے اور آنے والا کل ہمارے لئے خوش آئند ہوگا کی جہاں بہتر تصویر کشی کی گئی ہے وہیں شوہر کے تئیں خالص مشرقی عورت (بیوی)کے جذبات کی عمدہ عکاسی بھی کی گئی ہے۔مذکورہ بالا کردار ہمارے ملک کے بدحال اور خستہ حال خاندانوں کی روز مرہ کی زندگی کا نقشہ پیش کرتے ہیں جو دو وقت کی روٹی کے لئے اپنی جان جوکھم میں ڈال کر کمرتوڑ محنت کرتے ہیں ،ایسے میں کِنتی کی صورتحال کا نقشہ مصنف کے لفظوں میں ملاحظہ کیجئے:
’’کِنتی آئی،اکیلی نہیں،تین بچوں کے ساتھ،ایک گود میں،دو دائیں بائیں۔اس کی ٹانگوں سے لپٹے ہوئے ،بلکتے ہوئے،ننگ دھڑنگ ،دبلے پتلے،مریل سے،کمزور کمزور بچے،بدن پر میل کی پرت جمی ہوئی،گود کا بچہ بھی بے دم کا تھا۔کِنتی بھی اپنے بچوں جیسی تھی۔‘‘ ص 25
کِنتی کی مذکورہ زندگی سے کنھیا کی بیوی عبرت حاصل کرتی ہے اور شوہر سے دور اپنے مچلتے اور سلگتے ہوئے جذبات پر قابو پاکر ہم دو ہمارے دو کے نظریے پر عمل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔جب کہ موجودہ معاشرے میں کِنتی جیسے کتنے خاندان ایسے ہیں جو درجنوں بچے پیدا تو کر لیتے ہیں لیکن ان کی صحیح پر ورش و پرداخت نہیں کر پاتے۔انھیں صحیح تعلیم و تربیت کے بجائے بھیک مانگنے،چوری کرنے کی تربیت دی جاتی ہے۔صاف ستھرے لباس زیب تن کرنے کے بجائے پھٹے پرانے،میلے کچیلے،بدبودار،اور جسم جھانکتے کپڑے زیب تن کرائے جاتے ہیں اور کتابوں کی جگہ ان کے ہاتھوں میں بانسری،چھلاّ،ڈمرو یا ڈھولک وغیرہ تھما دیے جاتے ہیں جن سے وہ اپنے لئے اور اپنے خاندان کے لئے دو وقت کی روٹی کا سامان مہیا کرتے ہیں۔لیکن اسی معاشرے میں کنھیا کی بیوی جیسی سوجھ بوجھ والی خواتین بھی ہیں جو اپنے بچوں کو صاف ستھرا ، تندرست، اور کتابوں پر جھکا ہوا دیکھ کر خوش ہوتی ہیں اور کہتی ہیں کہ بس یہی دو ٹھیک ہیں۔
مذکورہ بالا افسانوں کے علاوہ ان کا ایک اور افسانہ ہے ’’وہ کون ہے‘‘ جس کا بنیادی اور مرکزی خیال امانت میں خیانت اور یقین،اعتماد،دوستی اور بھروسہ جیسے الفاظ کی ختم ہوتی ہوئی معنویت ہے۔انسان امانت میں خیانت کرکے اپنی زندگی کو کہاں سے کہاں پہنچا دیتا ہے،اپنی مصنوعی زندگی اور مصنوعی عمل کے ذریعہ دوسروں پر اپنی دولت وثروت،عمارت اور شان و شوکت کی دھونس جمانے کے لئے ہر چیز کو سلیقے سے لگا کر ہر ملاقاتی کو ایک ایک چیز کا تعارف اس اندازمیں پیش کرتا ہے تاکہ لوگ اس کی تزئین کاری اور ذوق جمال کی داد دے سکیں۔لیکن جب اس کے پس منظر پر غور و فکر کرتے ہیں تو اس کے اس صناعانہ عمل کی اصل گرہ کھل جاتی ہے اور وہ پہچان میں آجاتا ہے کہ وہ کون ہے ۔ مگر ایسے فراڈ ،عیار اور مکار لوگوں کی شناخت بمشکل ہو پاتی ہے،ایسا کوئی بھی ہو سکتا ہے۔وہ ہم اور آپ بھی ہو سکتے ہیں۔وہ رام ، رحیم، کرتاراور پیڑپودے کچھ بھی ہو سکتے ہیں،نام سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ایسے لوگ اپنے ضمیر کا سودا کرکے اپنا ایمان ،دھرم سب بیچ دیتے ہیں۔اس افسانے میں ایسے ہی خیانت پسند افراد کی نشادہی کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اس میں موجودہ عہد کی وہ نیو کلیر فیملی جس نے مشترکہ خاندان کا تصور مسخ کردیا ہے اور آزادی و خودمختاری اور خود ستائی و خود شناسی کے نام پروہ لوگ جس بے راہ روی کا شکار ہو رہے ہیں وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے ۔ان کے جذبات و احساسات کوان کی مادیت پرستی نے بے معنی کردیا ہے ،ان کے یہاں ایسے الفاظ کی معنویت ختم ہوگئی ہے ،ایسے لوگ مٹی کے مادھو کی طرح جذبات و احساسات سے عاری ہوچکے ہیں جن کے یہاں جذبات،احساسات اوراقدار و روایات کی کوئی قدر وقیمت نہیں ہے وہ سب قصہ پارینہ ہوچکے ہیں۔اسی لئے ایسے لوگ ’جسے بھی دیکھئے اپنے آپ میں گم ہے‘ کا مصداق نظر آرہے ہیں۔ساتھ ہی اس افسانے میں ایلٹ کلاس کے لوگوں کے طرز بود و باش ،ان کی خوش خیالی اور توہم پرستی سے پردہ اٹھاتے ہوئے دوستی،اعتماد،یقین،اور انسانیت جیسے الفاظ اپنی حقیقت کس طرح کھوتے جارہے ہیں وہ بابو کے کردار سے اندازہ کر سکتے ہیں جس نے پرنس کی دوستی ،اعتماد،اور یقین پر چھرا چلا کر اس کا گلا گھونٹ دیا اور امانت میں خیانت کرکے اس کی جگہ لے لی۔ اس کے علاوہ افسانہ’’اگر تم نہ آئے‘‘ عام عشق و محبت کے جذبات سے پُرافسانہ ہے جس میں سنیل کے واپس نہ آنے کی کسک برقرار رہتی ہے۔یہی معاملہ افسانہ’’خوشبو تیرے بدن کی ‘‘ کا بھی ہے۔ اس میں کامنی کے بدن کی خوشبوانجینئر کو اپنے حصار میں قید کر لیتی ہے جس سے وہ باہر نکل نہیں پاتا اور اس کے زلف گرہ گیر کا اسیر ہوکر اپنی محبت اور چاہت کا اظہار کرتا ہے جس پر کامنی کہتی ہے کہ’جو محبت اظہار کی محتاج ہو وہ محبت پاکیزہ دلوں کا مقدس جذبہ نہیں ہوس ہے۔ایک بازاری شئے ہے اور کچھ نہیں۔‘اس طرح عشق اورمحبت جیسے الفاظ کی اہمیت اور معنویت بھی ختم ہوتی جارہی ہے اور معشوق کی نظروں میں اس کی حقیقت ایک بازاری شئے بن کر رہ گئی ہے۔
مذکورہ بالا افسانوں کے علاوہ ان کے بیشتر افسانوں میں عشق و محبت کے لطیف جذبات و احساسات کی فراوانی ہے جس میں یہ اظہار کبھی مرد کی طرف سے ہے تو کبھی عورت کی طرف سے۔اور دونوں طرف کی کامیابی اور ناکامی کے نقوش ابھرے ہیں ۔کہیں بزدلانہ جذبات کی عکاسی کی گئی ہے تو کہیں دلیرانہ صفت کا اظہار کیا گیا ہے۔بیشتر افسانوں کا انجام طربیاتی کے بجائے المیاتی ہے جس میں ایک طرح کی ناکامی ،ہزیمت،رسوائی،درد،کسک اور نا امیدی کا احساس ہوتا ہے ۔وہ افسانہ چاہے زخموں کی مہک ہو یا ریزہ ریزہ دل۔ایک اور گوتم ہو یا خوشبو تیرے بدن کی ،یا بند دروازے پر پہلی دستک ہو، ان سب میں عشق ومحبت کے لطیف اور نازک جذبات و احساسات کو آسان سے آسان تر لفظوں میں پیش کر دیا گیا ہے۔اس مجموعے میں شامل دیگر افسانے بھی تقریباً اسی قبیل کے ہیں جس میں سماجی جبر و قہر کے ساتھ سماجی اور خاندانی بندشوں نے جس طرح فرد کی آزادی کو سلب کردیا ہے اور فرد اپنی خود مختاری اور آزادی کے لئے قدیم روایتی رسم و رواج سے جس طرح بغاوت کر رہا ہے اور جدیدیت پسندی کی طرف مائل نظر آرہا ہے یہ اس مجموعے کے افسانوں سے بخوبی واضح ہوتا ہے۔مجموعی طور پر یہ مجموعہ ایسا ہے جس سے عام قاری جسے فکر و فلسفہ کی تلاش مقصود نہیں ہوتی بلکہ اس کا سروکار کہانی کے کہانی پن سے ہوتا ہے، اسے حزن ویا س اور فرحت و انبساط دونوں چیزیں ملیں گی نیز عشق و محبت میں کامیابی اور ناکامی دونوں جذبوں کے عوامل و عناصر نظر آئیں گے۔ 

امتیاز احمد علیمی

ریسرچ اسکالر ،شعبہ اردو ،جامعہ ملیہ اسلامیہ،نئی دہلی


 مضامین دیگر 


Comment Form



اردو فکشن

© 2017 Urdu Fiction. All right reserved.

Developed By: Aytis Cloud Solutions Pvt. Ltd.