ناول ’’چارنک کی کشتی ‘‘ میں عورتوں کے مسائل




ڈاکٹر امام اعظم
12 Sep, 2017 | Total Views: 278

   

صدیق عالم بر صغیر کے ان چند نمایاں ناموں میں سے ایک ہیں جنھوں نے اپنے فکشن میں عورتوں کی اس تصویر کو پیش کرنے تک خود کو محدود نہیں رکھا ہے جسے ہم اپنے معاشرے میں دیکھنے کے عادی ہوتے ہیں بلکہ وہ اس کے اندر کی عورت کو سامنے لانے پر قادر ہیں جن تک ہماری نظروں کی رسائی ممکن نہیں ہوتی۔ جہاں تک ان کے ناول ’’چارنک کی کشتی‘‘ میں نسوانی کرداروں کا تعلق ہے تو ان پر روشنی ڈالنے سے پہلے یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ تھوڑا بہت صدیق عالم کے بارے میں بتا دیا جائے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ بنیادی طور پر وہ فکشن نگار ہونے کے باوجود انھوں نے شاعری کے اتنے نئے تجربے کیے ہیں کہ وہ حیران کن ہیں بلکہ اپنے اس جنون میں انھوں نے نثری نظم نگاری میں کمال دکھاتے ہوئے اپنے ناول ’’چارنک کی کشتی‘‘ کو نثری نظم کی ہےئت میں لکھ ڈالا ہے۔ پڑھنے والے اسے ناول کی ایک کمزوری سمجھ سکتے ہیں مگر میں اس سے اتفاق نہیں رکھتا ۔ اس بحث سے قطع نظر میں صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ کسی بھی تخلیق کو کسی preconceived notionکے ساتھ پڑھنا دانشمندی نہیں ہے ۔
ناول ’’چارنک کی کشتی‘‘ میں چھوٹے بڑے بہت سارے نسوانی کردار ہیں جن میں دو اہم نسوانی کردار کو میں نے سمجھنے کی کوشش کی ہے، ایک اینگلو انڈین لڑکی ایلین اور دوسری کلیسا۔ اختصار کی خاطر میں نے صرف کلیسا کی تصویر کشی تک اپنے آپ کو محدود رکھا ہے ۔ بظاہر اس ناول میں عورتوں کے استحصال کی کہانی بیان کی گئی ہے مگر یہ قرأت اس کردار کے ساتھ انصاف کرنے کے لئے کافی نہیں ہے۔ دراصل کردار کلیسا کے ذریعے ہم اس catchmentتک پہنچ جاتے ہیں جہاں سے یہ لڑکیاں لائی جاتی ہیں۔ ہندوستان کے تقریباً ہر بڑے شہر میں عورتوں کا کاروبار ہوتا ہے، مگر یہاں ناول نگار کا مقصد محض اس کاروبار کی تصویر کشی کرنا نہیں ہے بلکہ اس سارے نظام کی طرف توجہ کرنا ہے جس سے یہ سارا کاروبار جڑا ہوا ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں اپنے معاشرے کا پوراچہرا دکھائی دینے لگتا ہے ۔اس لئے صدیق عالم نے اس ناول میں خواتین کے اس مسئلے کو منٹو کی طرح نہیں بیان کرتے ہوئے قحبہ خانوں تک خود کو محدود نہیں رکھا ہے بلکہ اس نے اس کاروبار کی جڑیں ہمارے اس مقدس معاشرے کے اندر تک کھود نکالی ہیں جہاں سے یہ استحصال اپنی نمو حاصل کرتا ہے۔میرا مطلب ہمارے شہروں کے مضافات اور بظاہر اس پاک و صاف زندگی سے ہے جسے ہم اپنے آس پاس دیکھنے کے عادی ہوتے ہیں کیوں کہ اس پر تہذیب و تمدن کے ساتھ ساتھ مذہب کی ملمع کاری ہوتی ہے۔ مشرقی پاکستان جب بنگلہ دیش بنا تو مظلوم اور ناچار پناہ گزینوں کا انخلاء شروع ہوا اور ان میں سے کچھ اس گاؤں میں آگئے جس کا نقشہ صدیق عالم نے کھینچا ہے ۔ کردار ’بجرل‘ اور ’مکھانی بیگم‘ سے کہانی آگے بڑھتی ہے ۔ دونوں کے اپنے نصب العین ہیں ۔ ان کے وضع قطع کی عمل داری الگ ہے ۔ صدیق عالم بتاتے ہیں :
’’
تھے گھنگھریالے بجرل کے سینے کے نیم سیاہ بال
ان میں تھی پیوست مکھانی بیگم کی پانچوں انگلیاں
مکھانی کہ تھی چست بدن ، فربہ اندام‘‘
مکھانی کا بوڑھا جاں بلب شوہر یہ سب دیکھتا ہے لیکن بجرل اور مکھانی ذاتی ضرورتوں کو پیش نظر رکھتے ہیں ۔ مکھانی کے بارے میں ناول نگار لکھتے ہیں :
’’
ارے مکھانی کا جسم ہے وہ استھان
کہ اس میں جنم جنمانتر کے لیے ڈوب جائے انسان 
وہ بوڑھا جانے کب دم توڑ دے ‘‘
بوڑھے شوہر سے اولاد نہ پانے کا دکھ مکھانی کو ہے۔ وہ بجرل کو بتاتی ہے :
’’
کیا کیا نہ کیا میں نے گنڈا اور تعویذ
ڈال نہ سکا میری کوکھ میں مگر وہ بیج
تم سے ڈرتی ہوں، تم ہو بلا کے زرخیز
آئندہ احتیاط ضروری ہے 
آخر میں ٹھہری ایک عورت‘‘
لیکن بجرل کی نظر اس کی جوان ہوتی ہوئی بیٹی کلیسا پر بھی ہے ۔ یہ لڑکی چرچ کے احاطے میں اسے ملی تھی ۔ تب بوڑھے شوہر کی پہلی بیوی نے اس کا نام کلیسا رکھ دیا تھا۔ صدیق عالم رقم طراز ہیں :
گاؤں کی جل پری تھی وہ ، کلیسا تھا اس کا نام 
ایک تتلی کی طرح منڈلاتی رہتی صبح تا شام
کیچڑ بھرے پانی میں ٹخنوں تک غرق
کنول کے نیلے پھولوں کو لامبے ڈنٹھلوں پر کھینچتی
سورج کی تیز کرنوں سے بچنے کے لیے 
اپنی خوب صورت آنکھیں بھینچتی‘‘
اسی سلسلے کی آگے کی باتیں اس طرح ہیں :
’’
حاجی قطب الدین کاظمی بیٹھے تھے دروازے پر
مکھانی بیگم اس کی ٹانگوں کو پلا رہی تھی تیل
ثواب بٹورنے میں مصروف تھی بجرل کی رکھیل‘‘
صدیق عالم نے جس ماحول کا ذکر کیا ہے ، یہ مسکین طبقہ ہے جہاں عورتیں اپنا وجود سمیٹتی رہتی ہیں اور مرد خاص کر بوڑھا مرد غصہ بھی اتارتا رہتا ہے لیکن اس گھر کا مسئلہ ہی کچھ اور تھا۔ سنی میاں جیسا مرد غیرت مند اور بے حیا بھی تھا۔ اس نے ایک دن انتہا ہی کردی :
’’
جس شام سنی میاں نے کیا مکھانی کا تعاقب 
اور اسے بجرل کے ساتھ داخل ہوتے دیکھا
ایک مخدوش بجرے میں 
کلیسا نے اپنے باپ کی آنکھوں میں دیکھی وہ نفرت
کہ ڈری سہمی وہ دبک گئی گھر کے اندر
جیسے ایک پرکٹا پرندہ پنجڑے کے اندر
مگر سنی میاں نے اسے جھنجھوڑ کر جگایا
اسے سینے سے لگایا
اس سے ہم بستر ہونے کی کوشش میں 
ہوگئیں اس کے دل کی دھڑکنیں تیز‘‘
یہاں صدیق عالم نے آج کی مجبور ، بے بس ، ٹھکرائی ہوئی اور فیشن ایبل عورتوں کے مسائل پر گہری نظر ڈالی ہے :
’’
ختم ہوا وہ دور جب بیوی ہوتی تھی کنیز
ایثار و محبت کا ہوتی تھی پتلا
اب تو عورتیں جسمانی پیاس مٹاتی ہیں
شوہر کہیں اور ہوتا ہے 
اپنا حسن وہ کہیں اور لٹاتی ہیں‘‘
کلیسا کی کہانی آگے بڑھتی ہے ۔ اس کے درد کو محسوس کیا جاسکتا ہے ۔ سنی میاں اپنا غصہ ، جنسی غصہ اس پراتار رہا ہے :
’’
کلیسا نے چیخ کر باپ کو پیچھے ڈھکیلا
مگر وہ کمزور نازک لڑکی
جلد ہی مفتوح ، آنکھیں اشک ریز
بن گئی تھی بوڑھے سنی میاں کی کنیز‘‘
دریں اثنا جب سنی میاں کا انتقال ہوجا تا ہے تو عدت کی مدت پوری ہوجانے کے بعد بجرل اپنی بیوی کو گنگا پار بھیج دیتا ہے اورمکھانی بیگم سے نکاح کرلیتا ہے ۔ کلیسا دریا کے کنارے گھومتی بھاگتی رہتی لیکن اکثر رات میں اسے سنی میاں کی حرکتیں یاد آتی ہیں۔ صدیق عالم لکھتے ہیں :
’’
اکثر رات رات بھر جاگتی رہتی 
جانے تھے وہ کس کے انجانے ہاتھ
جو کھیلتے رہتے اس کے جسم کے ساتھ
اس کی ٹانگوں کے بیچ آتے
اس کا سینہ سہلاتے 
اور اکثر رات کی خاموش میں 
کلیسا اپنے کانوں میں ڈالتی انگلیاں
کہ ڈوبتی ابھرتی سانسیں بتاتیں ایک ننگی داستان‘‘
بجرل سے کلیسا بہت حد تک مانوس ہوچکی تھی اور بجرل کی آنکھیں کلیسا کا سراپا ناپتی رہتیں۔ اور ایک دن کا واقعہ ہے :
’’
جس دن پہلی بار اس نے کلیسا کو سینے سے لگایا
کلیسا کی ہڈیوں میں دوڑ گئی کپکپی 
اس نے رد کرنا چاہا بجرل کا بوسہ
کہ اس کے پیٹ پر پڑا ایک زبردست گھونسہ
حرام زادی ! کسی دن دبا دوں گا تیرا ٹیٹوا
مکھانی کا بھاری بدن تو صرف ایک بہانہ تھا
مجھے تو اپنے نازک پھول تک آنا تھا
تجھے ایک دن بجرل کے ہاتھوں کھلنا ہے‘‘
اور کلیسا کی جھجھک ختم ہوجاتی ہے۔ وہ اکثر اس کی حرکتوں پر ہنسنے لگتی ہے۔ صدیق عالم نے آگے کا نقشہ کچھ اس طرح کھینچا ہے :
’’
اس کی للچاتی آنکھیں دیکھ کر وہ لوٹ پوٹ جاتی
اس سے اپنا ناڑا چھڑاتی 
اس کی لائی ہوئی مٹھائیاں کھاتی
اس کے رخسا روں پر مچلنے لگا تھا 
ایک مکاّر تبسم
بجرل ایک کتے کی طرح ہلاتا رہتا دم‘‘
دوسری طرف یہ بھی ہے کہ:
’’
حاجی کی آنکھیں اس پر چمکاتیں بجلی 
بجرل بھی وصول کرتا اپنے حصے کا مال
اس نے بھی حاجی پر تان رکھا تھا کلیسا کا جال‘‘
پھر ایسا ہوا کہ بجرل دو فربہ اندام شریف زادوں کو لے آیا۔ ایک کا نام عبدالرب لشکر تھا ۔ اس نے کلیسا کو دیکھ کر بجرل کو مشورہ دیا کہ حاجی اسے اڑا لے جائے، اس سے پہلے ہم دونوں کچھ پیسہ بنالیں ۔ کلیسا کے لیے بیس ہزار روپے مل سکتے ہیں۔ 
بجرل کے منہ میں رس گلہ آگیا۔ اس نے کلیسا کو حاجی سے دور رکھنے کی کوشش کی کہ بوڑھا اس سے مباشرت کر نہیں سکتاکہ اس کی کمر میں دم ہی نہیں ہے۔ مکھانی خواب دیکھ رہی تھی کہ حاجی سے کلیسا کی شادی ہوجانے پر ہماری قسمت سدھر جائے گی۔ وہ بڑے گھر کی ساس کہلائے گی لیکن لشکر کے ساتھ شہر میں رہ کر اچھی زندگی کی لالچ دے کر بجرل نے کلیسا کو شیشے میں اتار لیا اور آخر ایک رات چپکے سے بیٹی پرایا دھن کی طرح اس نے اسے لشکر کے حوالے کردیا۔کلیسا نے پہلی بار بڑا شہر ، کلکتہ دیکھا ۔ لشکر نے اسے شیث محمد اور شیخ طوطا کے حوالے کردیا۔ان دونوں کے بارے میں صدیق عالم گویا ہیں :
’’
چاندنی کی ایک گلی سے چلاتے تھے کاروبار
دونوں ساجھے دار 
شیث محمد اور شیخ طوطا
بلیک میں ٹکٹ بیچنے کے لیے 
عورتیں چھوڑ رکھی تھیں سینماہالوں پر
پالتے تھے جیب کترے
مسخ بھکاری پھیلارکھے تھے ہر چوک ہر ناکے پر
شیخ طوطا نے حقارت سے کلیسا پر نظر ڈالی
اتنی بڑی رقم کے بدلے کیا اٹھا لایا موالی
اس غریب کو نچوڑ کر لوگ کیا پائیں گے؟
گاہک کتے نہیں کہ سوکھی ہڈی چبائیں گے
فی الحال اسے کرزن پارک میں کام پر لگا دو
خوب کھلاؤ پلاؤ، کرو تندرست
مجھے چاہیے اس کا بدن چست
اتنا رکھنا ہے خیال 
اس کے کنوارے پن پر نہ آئے آنچ
آج کل گاہک نہیں جھجکتے کروانے سے ڈاکٹری جانچ‘‘
کلیسا کو دن بھر گھر کے کام کاج کے لیے جی توڑ محنت کرنی پڑتی اور شام کو سجا سنوار کر کرزن پارک لائی جاتی جہاں اس کے بدن کو ڈرائیور ، دوافروش ، کلرک اور عطار چھوتے جس کے لیے وہ پیسے دیتے اور جس کا آدھا حصہ پولیس لے جاتی۔ کلیسا یہ سب کرنا نہیں چاہتی تھی لیکن لاچار تھی ۔ شہر کے اس غلیظ چہرے کے بیچ اسے رہنا تھا، ننگے پیروں وہ بہت دور نکل آئی تھی۔
صدیق عالم نے بظاہر ایک سامنے کی کہانی بیان کی ہے مگر اس کا پس منظر کافی وسیع اور پیچیدہ ہے۔ ناول نگار کا مقصد صرف یہ نہیں کہ اس کی تصویر کشی کی جائے کہ گاؤں کے ماحول میں غربت کی زندگی جینے والی عورتیں کیسے کیسے مسائل سے جوجھتی ہیں اورکون سی قوتیں ہیں جو انھیں فطرت کے اس صاف ستھرے ماحول سے اٹھا کر بڑے بڑے شہروں کے قحبہ خانوں تک لے آتی ہیں یہاں تک کہ باگماری (شہر کا ایک معروف قبرستان ) جیسی جگہ میں چنوا دی جاتی ہیں بلکہ وہ یہ بھی بتانا چاہتے ہیں کہ قدرت کا یہ انتظام نہیں ہے ، یہ نظام خود انسان کا اپنا ڈھالا ہوا ہے جس نے عورت کو ایک commodityکے طور پر استعمال کرنے کے لئے تہذیب و تمدن کے تمام ہتھکنڈے استعمال کر رکھے ہیں یہاں تک کہ خدا کے نام کا سہارا لینے سے بھی نہیں جھجکتے۔ انھوں نے کہانی بیان کرتے ہوئے اس حقیقت کا خیال رکھا ہے کہ عورتوں کی جنسی خواہشیں ہوتی ہیں۔ اس سلسلے میں ان کے اپنے جذبات ہوتے ہیں ۔ بوڑھا مرد جوان جسم کو تسکین نہیں پہنچا سکتا ۔ یہیں سے جنسی بے راہ روی کی شروعات ہوتی ہے اور مذکورہ کردار و واقعات ہمارے سامنے ہوتے ہیں اور ان سب کے درمیان عورت کہیں مکھانی تو کہیں کلیسا بن کر ہمارے سماج کی سچائی بیان کرتی ہے۔یہ ایک مسئلہ ہے جس پر سوچنا ہی پڑتا ہے۔
***
*
ریجنل ڈائریکٹر (مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی ) ، کولکاتا ریجنل سینٹر
۷۱؍جی، تلجلا روڈ ، کولکاتا۔۷۰۰۰۴۶ ؛ موبائل : 08902496545 / 9431085816
ای میل : imamazam96@gmail.com

 مضامین دیگر 


Comment Form



اردو فکشن

© 2017 Urdu Fiction. All right reserved.

Developed By: Aytis Cloud Solutions Pvt. Ltd.