ناول ۔ شکست ۔ناکام محبتوں کی داستان




نورالحسنین
19 Sep, 2017 | Total Views: 618

   

’’ آفتاب مغرب میں غروب ہو گیا اور حدِ نظر تک آنکھوں کے سامنے ایک خوب صورت وادی پھیلتی چلی گئی ۔ سورج کے ماہی گیر نے ان میں آخری بار اپنا سنہرا جال وادی کی گہرائیوں میں پھینکا اور نیلے جنگلوں سے ڈھکے ہوئے دور استادہ سلسلہ ہائے کوہ ، دھان کے کھیت ، ندی کا چمکیلا پانی ، لکڑی کے چھوٹے چھوٹے پل ، ناشپاتیوں کے جھنڈ، شفق کے ذریں دام میں گرفتار نظرآئے ، ہوا کے ہلکے ہلکے لطیف جھونکے رک رک کر آتے تھے ، جیسے اُس کا میٹھا ، مدھم سانس بھی اسی جال میں اُلجھ کر رہ گیا ہو ۔خود اپنے چہرے پر شیام نے اس رنگین اور لچکیلے تانے بانے کی ملائمت کو محسوس کیا ، جیسے وہ سنہرا جال اُس کے رخساروں پر سے پھسلتا ہوا مغرب کی طرف کھینچے لیے جا رہا تھا ۔ ‘‘ (۱ )
اس پیراگراف کی پہلی قرأت ہی اعلان کرتی ہے کہ منظر کشی کا یہ حسن اگر کوئی کاغذ پر اُتار سکتا ہے تو وہ بلاشبہ کرشن چندر کا قلم ہی اُتار سکتا ہے ۔ قدرت نے اُنھیں جمالیات کا وہ ادراک دیا تھا جو بعد میں اُن ہی پر ختم ہوگیا ۔ 
ناول ’’ شکست ‘‘ کا یہ اقتباس جنت نشان کشمیر سے متعلق ہے ۔ یہی وہ ناول ہے جس سے کرشن چندر نے اپنی ناول نگاری کا آغاز ۱۹۴۳ ء میں کیا تھا ۔ اس ناول میں آزادی سے پہلے کے کشمیر کی جھلک ہے ۔ کشمیر ڈوگر شاہی اور انگریزوں کے اقتدار میں تھا ۔ جب کوئی آتنک وادی نہیں تھا ۔ ہندو مسلمان شیر وشکر کی طرح رہتے تھے لیکن تب اونچ نیچ، ذات پات امیری غریبی معاشرتی برائیاں ضرور تھیں ۔ لوگوں کی چھوٹی چھوٹی ضروریات اور خواہشیں تھیں ۔ محبت کے نغمے گونجتے تھے ۔ چاہتیں بے نیاز ہو تیں،دل دھڑکتے تھے اور دھرکتے دلوں کے درمیان سماج آڑے آتا تھا ( سماج یہ کام ہر دور اور ہر عہد میں انجام دیتا آیا ہے ) 
یہ ایک رومانی المیہ ناول ہے جسے کرشن چندر نے کشمیری پس منظر میں لکھا ہے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ رومانی ناول کے لیے کشمیر ہی کیوں ؟ رومان تو صحرا میں بھی پھول کھلا سکتا ہے ۔ پھر کرشن چندر نے آخر اس وادی کا انتخاب کیوں کیا ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس ناول کے لیے وہ جس طرح کا مقام چاہتے تھے وہ اُنھیں اننت ناگ میں دکھائی دیا کیونکہ یہ مقام اُن کا دیکھا بھالا تھا ۔پہلے اس مقام کا نام اسلام آباد بھی رہ چکا تھا ،یہاں ہندووں کا مقدس تالاب اور مسلمانوں کی عبادت گاہ بھی قریب قریب واقع ہے ۔ یہاں برہمنوں اور دیگر ہندووں کی جس قدر آبادی تھی مسلمان بھی اُسی قدرآباد تھے ، لیکن یہی مقام جب مذہبی تفریق کا رنگ اختیار کرتا ہے تو پھر یہ جنت کس طرح جہنم میں تبدیل ہو سکتی ہے ، اس بات کا احساس دلانے کی خاطر اُنھوں نے اس وادی کا انتخاب کیا تھا ۔ 
اس ناول کا پلاٹ اس طرح ہے کہ اس میں دو رومانی جوڑیاں ہیں ۔ ایک چندرا اور موہن سنگھ کی ہے اور دوسری جوڑی شیام اور ونتی کی ہے ۔ ناول کا آغاز شیام کی اُن چھٹیوں سے ہوتا ہے جسے گزارنے کے لیے وہ لاہور سے ماندر کے لیے روانہ ہوتا ہے ۔ ایک خاص مقام سے ماندر تک پہنچنے کے لیے اُس کے والد غلام حسین کو بھیجتے ہیں ۔ اوردونوں گھوڑوں پر اپنا سفر شروع کرتے ہیں ۔ خوب صورت وادیوں اور اونچی نیچی پہاڑیوں سے وہ گزرتے ہوئے جب ماندر کے قریب پہنچتے ہیں تو شیام کو پیاس لگتی ہے اور اُس کی ملاقات چندرا نامی ایک لڑکی سے ہوتی ہے جو اُسے پانی پلاتی ہے۔ جب وہاں سے آگے بڑھتے ہیں غلام حسین جو اسی بستی کا رہنے والا ہے اور سب کچھ جانتا ہے ۔ وہ شیام کو چندرا کے بارے میں بتاتا ہے : 
’’ یہ لڑکی بڑی حرام زادی ہے۔ کسی سے بیاہ نہیں کرتی ۔ کسی کے قابو میں نہیںآتی ۔اس کی بیوہ ماں کو پٹواری تین ہزار روپے دیتا تھا ۔ اس قیمت پر یہ گھوڑی بری نہیں تھی ۔ پر یہ کمبخت بیوہ نہ مانی ۔ گاؤں والوں نے ان دونوں ماں بیٹیوں کو گاؤں سے باہر نکال دیا ہے ۔ اُس کی ماں نے ایک غیر ذات کے آدمی سے شادی کرلی تھی براہمن ہوکر ایک چمار سے شادی کرلی تھی ، جو جموں سے یہاں آیا تھا ۔ یہ چندرا اُس کی لڑکی ہے ۔ چمار مر گیا ہے ۔ اب یہ لڑکی ہے اور اُس کی ماں ، ایک چھوٹا ٹکڑا زمین کا ہے ۔ لوگ تو اُنھیں اپنے گھروں میں گھسنے نہیں دیتے ۔ بڑی مشکل سے گزر بسر ہوتی ہے اُن کی ۔ اگر بیوہ یہ لڑکی بیچ دے تو اُس کے دن پھر جائیں۔ ‘‘ (۲ )
شیام جب اپنے گھر پہنچتا ہے تو اپنے چھوٹے بہن بھائیوں اور ماں باپ سے ملتا ہے تو وہیں اُس کی ملاقات گاؤں کی ایک خاتون چھایا سے ہوتی ہے جسے سب موسی بلاتے ہیں ۔اُس کی بیٹی ونتی بھی ساتھ میں ہے ۔ شیام ونتی کو دیکھتا ہے جو نہایت حسین ہے لیکن بے حد شرمیلی ہے ۔شیام کو وہ بے حد پسند آتی ہے ۔ وہ اُس کے بارے میں جاننے کے لیے بے چین رہنے لگتا ہے ۔ ایک دن مالی کی بیوی سیداں چھایا موسی کے بارے میں اُسے بتاتی ہے کہ چھایا جو کہ و نتی کی ماں تھی ، امجد حسین نامی ایک شخص کے عشق میں مبتلا ہو گئی اور اُس کے ساتھ گاؤں سے بھاگ گئی تھی ۔ اُس کے شوہر نے خوب شور مچایا، برہمنوں نے بھی خوب ہنگامہ کیا ۔ تب امجد حسین نے اُسے چھوڑ دیا ۔ وہ واپس آگئی لیکن اُس کے شوہر نے اُسے قبول نہیں کیا ۔ برہمنوں نے اُسے برادری باہر کر دیا ۔ گاؤں کے لوگ چاہتے ہیں کہ وہ اپنی غلطی مان لے لیکن وہ تیار نہیں ہوتی ۔ سنا ہے کہ امجد حسین چوری چھپے اب بھی اُس سے ملنے آتا ہے ۔ 
شیام ایم۔ اے کا طالب علم ہے ۔ آزاد خیال ہے ۔ ان باتوں کا اُس پر کوئی اثر نہیں ہوتا ۔ ونتی سے اُس کی ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے ۔ دونوں ایک دوسرے کی محبت سے سرشار ہو جاتے ہیں ۔
ناول کا دوسرا ہیرو موہن سنگھ ایک بہادر راجپوت نوجوان ہے ۔ جائداد کا مالک ہے ۔ اُس کے ماں باپ زندہ نہیں ہیں ۔وہ چندرا سے محبت کرتا ہے لیکن اُس کے خاندان کے افراد کو چندرا پسند نہیں ہے ۔ کیونکہ وہ ایک چمار کی لڑکی ہے ۔ دوسری طرف شیام کے والدین کو ونتی اور اُس کے عشق کی اطلاع ہو جاتی ہے ۔ ماں باپ اُس کے خلاف ہوجاتے ہیں ۔ اُس کی ماں چاہتی ہے کہ شیام کا رشتہ کسی دولت مند گھرانے میں ہو جائے ۔ 
موہن سنگھ ایک حادثے میں زخمی ہوجاتا ہے اور دواخانے میں شریک کر دیا جاتا ہے ۔ چندرا ڈاکٹر سے اجازت لے کر موہن سنگھ کی تیمارداری میں جٹ جاتی ہے ۔ یہ بات اُس کے خاندان کے لوگوں کو پسند نپیں آتی اور وہ برہمنوں سے مل کر ہنگامہ کر واتے ہیں ۔ اسی گاؤں میں پنڈت سروپ کشن بھی رہتا ہے ، جس کا لڑکا نہایت بد صورت اور لنجا ہے ۔ کم عقل ہے ۔ وہ چاہتا ہے کہ کسی طرح ونتی سے اُن کے بیٹے کی شادی ہو جائے ۔ وہ مذہبی داؤ پیچ شروع کرتا ہے ۔ موہن سنگھ زخموں کی تاب نہیں لاتا اور مرجاتا ہے ۔ چندرا اس صدمے کو برداشت نہیں کر پاتی اور وہ بھی مرجاتی ہے ۔ 
پنڈت سروپ کشن اپنے مقصد میں کامیاب ہوجاتا ہے اور ونتی کا بیاہ اُن کے لڑکے سے ہو جاتا ہے ۔ ونتی پر سکتہ طاری ہو جاتا ہے ۔ شیام بھی اس حادثے سے ہل جاتا ہے اور خاموش رہنے لگتا ہے ۔آخر اُس کی ماں اُس کا بھی رشتہ کہیں اور طئے کروادیتی ہے ۔ اس صدمے کا اثر ونتی پر اتنا گہرا ہوتا ہے کہ وہ بھی مرجاتی ہے ۔ کرشن چندر نے اپنے اس ناول میں امیری غریبی، مذہب کی آڑ میں ہونے والے استحصال، اور برہمنوں کی کار گزاریوں کا تفصیلی جائزہ پیش کیا ہے ۔ 
اس ناول کو بے پناہ مقبولیت ملی تھی اور آج بھی اس ناول کو کرشن چندر کے تمام ناولوں پر فوقیت حاصل ہے ۔ اس ناول کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر صغیر افراہیم لکھتے ہیں : 
’’ ثقافتی اقدار کس طرح تخلیقی حسیت اور ایک بسیط جمالیاتی تجربے کا حصہ بنتے ہیں اور ارضیت کس طرح ایک لازمی جہت اختیار کرتی ہے ’ شکست ‘ اس پہلو کی نشاندہی کرتا ہے ۔ اس کا بنیادی موضوع ہے ’ جنت نشان ‘ کا ’ جہنم زار ‘ میں منقلب ہونا ۔ اس میں نو آبادیاتی نظام کے برسر اقتدار طبقے کے ظلم و ستم اور پس ماندہ طبقے کی بے بسی کی داستان رقم کی گئی ہے ۔ ’ ڈوگر شاہی ‘ سرمایہ داری اور انگریز تسلط سے مل کر اُبھرے مثلث میں غربت و افلاس سے روندی ہوئی ایک ایسی مخلوق کی تصویر پیش کی گئی ہے جو جب بھی سر اُٹھائے تباہ و برباد کر دی جاتی ہے کہ شکست اُس کا مقدر بن چکا ہے ۔ اپنے دور کے اس اہم موضوع کو محور بناتے ہوئے کرشن چندر نے یہ ناول 1943 ؁ ء میں ساقی بک ڈپو دہلی سے شائع کرایا تھا ۔ ‘‘ (۳ )
جیسا کہ ادب کا ہر طالب علم جانتا ہے کہ کرشن چندر ایک جادو بیان قلم لے کر پیدا ہوئے تھے ۔ منظر نگاری اور وہ بھی اگر کشمیر کی وادیوں کی ہو تو اُن کا قلم اور اُن کا تخئیل زمین پر جنت کا نقشہ اُتار دیتا ہے ۔ لیکن ناول میں جنت کے ساتھ ہی ساتھ دوزخ بھی دکھانا ضروری ہوتا ہے اس لیے اس ناول میں ،وہ پنڈت بھی ہیں جو مذہب کی آڑ میں عام انسانوں کا استحصال کرتے ہیں ۔ وہ سیدھے سادے افراد بھی ہیں جو غربت کے سائے میں زندگی بتاتے ہیں ۔ وہ افراد بھی ہیں جو پھولوں کی طرح معصوم ہیں ، اور وہ بھی ہیں جن کا اپنا کوئی کردار نہیں ہے لیکن وہ پھر بھی دوسروں پر کیچڑ اُچھالتے ہیں ۔اس خوب صورت وادی میں محبت بھرے دل بھی ہیں جنھیں دل کے دھڑکنے کے سوا کچھ بھی یاد نہیں رہتا ۔ تاریخی مقامات کی عظمتیں بھی ہیں اور اتحاد و اتفاق کے رنگ بھی ۔ ان ساری باتوں نے اس ناول کو صرف لائق مطالعہ نہیں بنایا بلکہ اس ناول کو ادب میں وہ مقام بھی دلا دیا جہاں بہت کم ناول پہنچ پاتے ہیں ۔
کرشن چندر اس ناول کے ذریعہ کشمیر اور کشمیریوں کی زندگی کی ایک ایک پرت تخلیقی انداز سے ہٹاتے جاتے ہیں ۔ جہاں گھنے جنگل اور پہاڑیاں ہوں تو وہاں جنگلی جانوروں کی موجودگی سے انکار نہیں کیا جاسکتا ،اور جب جنگلی جانور ہوں تو شکاری مزاج بھی ممکن ہے ۔ علی جو، جو نائب تحصیلدار ہے ۔ ایک اچھا شکاری بھی ہے ، چنانچہ وہ شیام کو اپنے ساتھ شکار پر لے کر جاتا ہے ۔ دوران شکار کرشن چندر علی جو کو اپنا ماوتھ پیس بناتے ہیں اور اُس کے ذریعے اپنے نظریات کو بھی پیش کرتے ہیں : 
’’ شیام نے کہا، ’’ اسے بھی انسانی ترقی سمجھیے۔ عوام میں سیاسی بیداری پھیل رہی ہے ۔ ‘’ 
’’ سیاسی بیداری ! اجی صاحب یہ سب نئی اصطلاحیں ہیں ۔ اور کیا، میں خوب سمجھتا ہوں یہ سیاسی بیداری ۔ جہاں پہلے جاگیردار لوٹتے ہیں ۔ عوام تو ایک غیر منظم منتشر قوت ہے ۔ اسے سنبھالنا ، اسے استعمال کرنا چند سمجھدار لوگوں کا کام رہا ہے ۔ شروع سے چند لوگ بہت سے لوگوں پر حکومت کرتے آئے ہیں ۔ ہمیشہ سے ، چاہے یہ حکومت جاگیردارانہ ہو یا جمہوریت ، یا آمریت، شیام صاحب بات دراصل یہ ہے کہ یہ سب اصطلاحیں عوام کو گمراہ کرنے کے لیے ، اُنھیں قابو میں لانے کے لیے ہی کھڑی کی گئی ہیں ۔ بات دراصل یہ ہے کہ حاکموں نے حکومت کرنا چھوڑ دیا ہے ۔ ورنہ حالات بھی ایسے نہ ہوتے ۔ آج سے کچھ عرصہ پہلے بھی یہی لوگ دم نہ مار سکتے تھے ، اور یہ شکار بھی تو ان لوگوں کو قابو میں رکھنے کا ایک حربہ ہے ۔ سینکڑوں آدمی اس پر لگائے جاتے ہیں ۔ اُنھیں بید اور ڈنڈے کی سزا دی جاتی ہے ۔ اُن کی عورتوں اور لڑکیوں کو چند راتوں کے لیے گھر سے بے گھر کیا جاتا تھا تب جا کر کہیں اُن لوگوں کے دلوں میں حکومت کا رعب بیٹھتا تھا ۔ ‘‘ (۴ )
یہ اقتباس کرشن چندر کی سیاسی بصیرت اور ہندوستانی مستقبل کی وہ تصویر ہے جسے کرشن چندر نے آزادی سے پہلے دیکھا تھا ۔ ملک کی آزادی کے بعد کیا ہوا ؟ جاگیردارانہ نظام ختم ہو گیا ، جمہوریت قائم ہو گئی لیکن ذہنیت تو وہی باقی ہے ۔ پہلے کم از کم جاگیرداروں کو یہ احساس تھا کہ یہ ہماری موروثی جاگیر ہے ، لیکن اب تو ذہن میں یہی بات رہتی ہے کہ معاملہ صرف پانچ برسوں کا ہے ، جس قدر عوام کو لوٹا جاسکتا ہے لوٹ لینا چاہیے ۔ کیا پتہ کل ہو یا نہ ہو ؟ 
کرشن چندر ایک سچے ادیب تھے۔ اُن میں تعصب نام کو نہیں تھا ۔وہ خود کشمیری تھے۔ اپنے بچپن میں اُنھوں نے ہندووں اور مسلمانوں میں اتحاد اور اتفاق دیکھا تھا ۔ وقت کے بدلتے اس اتحاد اور ذہنیت کو اُنھوں نے ٹوٹتے بکھرتے بھی دیکھا ، چنانچہ یہی سوال اُنھوں نے شیام کے ذریعے اُٹھایا اور علی جو نے اس کا جواب دیا : 
’’ شیام صاحب بات دراصل یہ ہے کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے تعلقات ان ہی پچھلے بیس سالوں میں کشیدہ ہوئے ہیں ورنہ اس سے پہلے دانت کاٹی والا معاملہ تھا ۔ ‘‘ (۵ )
شکار کے دوران شیام انجیروں کے جھنڈ کے قریب پہنچتا ہے تو اُس کے کاموں میں آوازیں آنے لگتی ہیں ۔ وہ وہیں رک جاتا ہے اور اُن آوازوں کو پہچان لیتا ہے۔ یہ آوازیں موہن سنگھ اور چندرا کی تھیں ۔ وہ سننے لگتا ہے : 
’’ مجھے اس کی پرواہ نہیں ہے کہ دنیا کیا کہتی ہے ۔ میری ماں خوش ہوتی ہے یا ناراض ہوتی ہے ۔ میرے لیے تم ہی سب کچھ ہو ، یاد رکھو اگر تم جھوٹے ثابت ہوئے تو میں تمہارا گلا اپنے ہاتھوں سے گھونٹ دوں گی ۔ مجھ میں ہمت ہے ‘‘ 
موہن سنگھ ہنس کر کہنے لگا، ’’ جان بوجھ کر انجان بنتی ہو ، سو بار آزما چکی ہو ۔ جب چاہو پھر آزماکر دیکھ لو ، موہن سنگھ راجپوت ہے ۔ اپنے قول کا سچا ہے ۔ اُس کی محبت کوئی کچا دھاگا تو نہیں ہے ؟ ‘‘ 
لڑکی بولی ، ’’ شاید تم یہ سمجھتے ہوں گے کہ میں اچھوت ہوں ، غریب ہوں ، گاؤں والوں نے ہمیں باہر نکال رکھا ہے ۔ اس لیے تم مجھ سے بے کھٹکے محبت کی میٹھی میٹھی باتیں کرکے مجھے دھوکا دے سکتے ہو، میں سچ کہتی ہوں ، مجھے دیوی کی سوگندہے اگر ایسی ویسی بات ہوگی تو میں تمھیں اور تمہارے گاؤں والوں کو کچا کھا جاؤں گی ۔ ، وقت آنے دو ، میں خود ان برہمنوں کے لیے کے لیے کالی ماتا بن جاؤں گی ۔ اُنھوں نے سمجھا کیا ہے ، ‘’ (۶ )
کرشن چندر کے یہ مکالمے بے مقصد نہیں ہیں بلکہ یہی وہ Turning point ہے جہاں سے رومانی جوڑوں میں محبت کی شدت اُبھرتی ہے ۔ یہ مکالمہ چندرا کے کردار کو واضح کرتا ہے کہ باوجود اس کے کہ وہ ایک پست قوم کی فرد ہے لیکن اُس کے عزائم اور حوصلے کشمیر کے بلند پہاڑوں سے ٹکرانے کی قوت رکھتے ہیں ۔ ساتھ موہن سنگھ اقرار بھی کبھی نہ ٹوٹنے والا عہد ہے ۔ 
شیام شکار سے جیسے ہی گھر واپس آتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ اُس کی سگائی ہو رہی ہے ۔ چھایا موسی اُسے مبارکباد دیتی ہے ۔ شیام کی اُلجھنیں بڑھ جاتی ہیں ۔ ماں اُسے بتاتی ہے کہ لڑکی بہت سندر ہے ۔ آٹھویں پاس ہے ۔ ہارمنیم بھی بجاتی ہے ۔ شیام پریشان ہوجاتا ہے ۔ 
اُسی رات لوگوں کا ایک شور سنائی دیتا ہے ۔ دریافت کرنے پت معلوم ہوتا ہے کہ جنگل میں جنگلی سور نے موہن سنگھ پر شدید حملہ کیا ہے اور وہ بے حد زخمی ہے ۔ لوگ اُسے دواخانہ لے جا رہے ہیں ۔ چندرا پریشان حال اُن کے پیچھے پیچھے جا رہی ہے ۔ 
موہن سنگھ کو دواخانے میں شریک کرلیا جاتا ہے ۔ اُس کا آپریشن ہو تا ہے ۔ اُس کے بچنے کی کوئی اُمید نظر نہیںآتی ۔ناول پھر ایک بار ایک نیا موڑ لیتا ہے اور یہاں سے شروع ہوتا ہے مفاد پرستی اور خود غرضی کا کھیل ۔ موہن سنگھ جائداد کا مالک ہے ، لیکن نہ اُس کے والدین حیات ہیں اور ناہی اُسے کوئی بہن بھائی ہے ۔ بس ایک ماموں اور خالہ ہے ۔ جو یہ سوچ رہے ہیں کہ اگر وہ مرجائے تو ساری دولت اُنھیں مل جائے گی ۔ چندرا سے اُنھیں بیر ہے ۔ چندرا اُن کے ارادوں کو بھانپ لیتی ہے ۔ وہ ڈاکٹر سے موہن سنگھ کے پاس رہنے اور اُس کی تیمار داری کی اجازت حاصل کر لیتی ہے ۔ 
شیام بے چینی کے عالم میں پہاڑیوں میں بھٹکنے لگتا ہے ۔ دور سے اُسے ونتی آتی ہوئی دکھائی دیتی ہے ۔ سب کچھ ہوجانے کے باوجود محبت پھر ایک بار جوش مارتی ہے اور کرشن چندر کا قلم ایک نہایت عمدہ رومانی منظر لکھتا ہے : 
’’ وہ ہنسی، ہاں، اُس کی ہنسی سب سے دلکش تھی ۔ اس ہنسی میں نہ صرف عورتوں کی ہنسی ، چاشنی، نزاکت اور چاندنی گھلی ہوئی تھی بلکہ اُسے احساس ہوا کہ اس ہنسی میں کسی حسین ترین نغمہ کی مکمل غنائیت موجود ہے ۔ اُس کے دل میں اس ہنسی کو بار بار سننے کی خواہش جاگ اُٹھی۔ وہ خوشی سے کہنے لگا ، ’’ اگر تمھیں یہ کمبخت فیتہ پھر تنگ کرنے لگے ۔۔۔۔ 
وہ پھر ہنسنے لگی ، سیب کھا’یے نا ۔ آپ کے باغ کے ہیں ۔ 
وہ کہنے لگا، ’’ میں اپنے باغ کے سیب کھایا نہیں کرتا ۔ ‘‘ اور پھر شیام نے ونتی کے چہرے پر گلاب کے پھول کھلتے دیکھے ۔ وہ اپنے نینوں کے شفاف پردے سے اپنی چھاتیوں کو ڈھانپنے کی کوشش کرنے لگی ۔ جہاں اُس کے سینے کے طائر مضطرب انداز سے اوپر کو اُٹھے ہوئے تھے یاشاید نیچے کی طرف جھکے ہوئے تھے ۔ پکے ہوئے پھلوں کی طرح ، اور شیام کے دل میں اُن پھلوں کو توڑ لینے کی خواہش تڑپنے لگی ایک ضدی بچے کی طرح ۔ ‘‘ (۷ )
ناول میں ایک طرف شیام اور ونتی کی محبت تیزی سے پروان چڑھتی ہے تو دوسری طرف موہن سنگھ اور چندرا کی محبت کلائمکس کی طرف بڑھتی ہے ۔ موہن سنگھ کی حالت دن بدن بگڑتی جاتی ہے ، اور جائداد کی لالچ میں سارے برہمن پنڈت سروب کشن کے گھر ایک میٹنگ کرتے ہیں جس میں چندرا کو موہن سنگھ کی تیمار داری سے الگ کرنے اور اُس مسلم ڈاکٹر کے خلاف کاروائی کرنے پر زور دیا جاتا ہے جس نے ایک پست قوم کی لڑکی کو موہن سنگھ کی تیمارداری کی اجازت دے کر برہمن مذہب کو بھرشٹ کرنے کی کوشش کی ۔ لیکن موہن سنگھ مرجاتا ہے اور اُس کے غم میں چندرا خود کشی کر لیتی ہے ۔ 
’’ شکست ‘‘ اس ناول میں کرشن چندر نے صرف یہاں کے خوب صورت مناظر کی منظر کشی ہی نہیں کی بلکہ یہاں کے رسم و رواج، تاریخی مقامات، پیر کو لگنے والا میلہ، مقدس تالاب اور یہاں گھانس کی کٹائی جسے کشمیری لوگ ’ لیتری ‘ کہتے ہیں اُسے بھی نہایت عمدگی کے ساتھ پیش کیا ہے ۔ گھانس کی کٹائی سب مل کر کرتے ہیں ۔ تحصیلدار صاحب نے اس کام کے لیے پچاس لوگوں کو بلایا تھا ۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ جیسے ہی لیتری کا کام شروع ہوتا ہے ڈھولکی پر تھاپ پڑتی ہے اور بھی لوگ اپنی اپنی درانتیوں کے ساتھ جمع ہو جاتے ہیں، اور گڑکا شربت پی کر کٹائی شروع کرتے ہیں ۔ شیام کے لیے یہ ایک بالکل نیا تجربہ تھا ۔ وہ بھی درانتی لے کر گھانس کاٹنے لگا : 
’’ شیام آہستہ آہستہ درانتی چلانے لگا اُسے ایسا معلوم ہوا ، جیسے وہ ایک نئی زبان ، ایک نئے ادب ، ایک نئی تہذیب ، ایک نئی زندگی سے آشنا ہو رہا تھا ۔ یہ ایک نئی دنیا تھی ۔ اس کے اپنے اُصول تھے ۔ آہستہ آہستہ درانتی چل رہی تھی ۔ الف۔ بے ۔ تے ۔ الف ۔ بے ۔ تے ۔ درانتی کسان کا قلم تھا ۔ اس سے وہ زمین کی تختی پر لکھتا تھا ، اور ایسے گل بوٹے بناتا تھا کہ دنیا کے سارے ادیب ، سارے مصور اور دنیا کے سارے سیاست داں اُس کے خوشہ چیں معلوم ہوتے تھے ۔ درانتی سرر سرر چل رہی تھی اور اُسے ایسا معلوم ہوا جیسے دھرتی گا رہی ہے ۔ اُس کے کندھے پر تھپکی دے کر کہہ رہی ہے، شاباش میرے بیٹے درانتی چلائے جا ۔ یہ تیری تہذیب کی بنیادہے ۔ تیرے مذہب کی خالق ہے ۔ تیرے جسم کی روح ہے ۔ اسی سے تیری مسرتوں اور شادمانیوں کی بنیادیں استوار ہوتی ہیں ۔ اسی سے تیرے ادب کی رفعت اور تیرے فلسفے کو برتری حاصل ہوتی ہے ۔ اسی سے تیری قوم کی آزادی اور تیری عورتوں کی عصمت محفوظ ہوتی ہے ۔ دنیا میں غمی اور قحط اور جنگ اسی وقت آتے ہیں جب انسان درانتی چلانا بھول جاتے ہیں ۔ ‘‘ (۸ )
کرشن چندر نے ادب اور محنت کشوں کو یہاں ایک ہی صف میں لاکر کھڑاکر دیا ہے ۔ درانتی کا چلنا یہاں محنت کی علامت بن جاتا ہے اور کاغذ پر لکھے جانے والے الف۔ بے ۔تے ۔ محنت کشوں کی جفاکشی کی زبان بن جاتے ہیں ۔ یہی تو ترقی پسند تحریک کا نعرہ تھاکہ دنیا میں موجود ہر انسان برابر ہے اور سب کو جینے کا حق ہے ۔ ہر انسان ایک فنکار ہے اور سب فنکار قابلِ تعریف ہیں ۔ 
اب ناول تیزی سے ونتی اور شیام کے عشق کی طرف رخ کرتا ہے اور ان کی ملاقاتوں کے لیے مواقع نکالتا ہے ۔ ساتھ ہی کرشن چندر قومی یکجہتی کے اُن تاریخی مقامات کا رخ کرتے ہیں جہاں مذاہب اور عقیدتیں متوازی اور ساتھ ساتھ چلتے ہیں ۔ تحصیلدار صاحب پیر کے میلے میں حاضری کا طئے کرتے ہیں ۔ اس سفر میں شیام کی والدہ، اُس کے بھائی بہن، کے ساتھ چھایا موسی، ونتی بھی شامل ہیں ۔ یہ قافلہ گھوڑوں پر نکلتا ہے ۔ شیام اور ونتی کے گھوڑے سب سے پیچھے ہیں ۔ اُن کے گھوڑوں کی رفتار سست ہے ۔ سب بہت آگے جا چکے ہیں ۔دونوں ایک دوسرے کی جانب دیکھتے ہیں اور محبت کی چنگاریاں دہکنے لگتی ہیں ۔ 
’’ گھوڑے خاموش چلتے رہے ۔ پھر شیام نے آہستہ سے اپنا ہاتھ آگے بڑھاکر ونتی کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیا ، اور سورج نکل آیا ۔ جس طرح سورج نکلتے وقت مشرقی آسمان کا سنہرا نور آہستہ آہستہ سارے آسمان پر پھیل جاتا ہے شیام نے اُسی طرح ونتی کے رخساروں کی لالی کو سارے چہرے پر پھیلتے ہوئے دیکھا ۔ اُس کے ہونٹوں کے کنارے کانپنے لگے اور شیام کو احساس ہوا جیسے کوئی طائر دیودار کی ٹہنی کے آخری کنارے پر بیٹھا ہوا ہے مائلِ پرواز ہے ۔ جس طرح اس وقت سورج نے وادی کو اپنے نور سے معمور کر دیا تھا اسی طرح خود شیام کی روح میں ونتی کے ہاتھ کا لطیف ، نرم ، نازک ، رنگ دار لمس ایک سنہری نور کی طرح پھیلتا ہوا چلا گیا ، اور شیام کچھ نہ کہہ سکا ، کچھ نہ سوچ سکا ، جیسے سارے احساسات اسی نور میں گھل مل گئے تھے ۔ اور چاروں طرف نور ہی نور تھا ۔ نور اور خاموشی ، خاموشی اور نور دونوں ایک دوسرے کی باز گشت معلوم ہو رہے تھے ۔ ‘‘ (۸ )
اسی سفر نے دونوں کو ایک دوسرے کے جسم سے واقف کروایا تھا ۔ یہی تو وہ سفر تھا جب روحیں ایک دوسرے میں گھل مل گئی تھیں ۔ لیکن اسی سفر نے دونوں کو والدین کی نظروں میں مشکوک بنا دیا تھا ، اور یہ قربت اُنھیں گوارہ نہیں ہوتی ۔ سماجی حیثیت اپنا سوال کرتی ہے اور اکثر یہ ایک ایسی خلاء بن جاتی ہے جہاں سے محبت کی ناکامی یا بغاوت کے آثار پیدا ہو جاتے ہیں ۔ لیکن شیام میں موہن سنگھ کا حوصلہ نہیں تھا اور ونتی میں چندرا جیسی جسارت نہیں تھی ۔ 
ناول میں یہاں سے تناؤ کی کیفیت پیدا ہونے لگتی ہے ۔ اب شیام کی والدہ کو چھایا موسی اور ونتی ایک نظر نہیں بھاتے اور دوسری طرف پنڈت سروپ کشن اپنے لنجے بدصورت بیٹے کا بیاہ ونتی سے کرنا چاہتا ہے ۔ اس کی خاطر وہ ونتی کے ماموں کو دوہزار روپیہ بھی دیتا ہے ۔ چھایااپنی بیٹی کی شادی ایک ایسے بدصورت انسان سے کرنا نہیں چاہتی ۔ وہ صاف طور پر انکار کر دیتی ہے ۔ لیکن پنڈت سروپ کشن کی چالبازیاں اُسے ناکام کر دیتی ہیں ، اور ونتی کا ماموں اپنی بہن کو کمرے میں بند کرکے ونتی کا بیاہ کرادیتا ہے ۔ شیام کچھ نہیں کرپاتا۔ نہ تو وہ بغاوت کر پاتا نہ ہی ونتی کو اس بیاہ سے بچا پاتا ۔ یہاں تک کہ اُس کی بھی شادی اُس کے والدین کروادیتے ہیں ۔ اس شادی میں ونتی بھی شریک ہو تی ہے ۔وہ اس صدمے کو برداشت نہیں کرپاتی اور وہ مرجاتی ہے ۔ اس طرح یہ ناول دونوں جوڑے کے المیے پر ختم ہوجاتا ہے ۔ 
اس ناول کے اختتام پر قاری یہ بات سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ آخر کرشن چندر نے اس ناول کا اختتام المیہ پر کیوں کیا ۔ شیام اور ونتی کی محبت ناکام بھی ہو جاتی تو ونتی کی موت غیر فطری ہے ۔ دوسرے اگر اُسے مارنا ہی تھا تو چندرا کی طرح اُسے بھی خود کشی کروادیتے ۔ ؟ ناول میں دوسرے کردار تو شادی شدہ ہونے کے باوجود اپنے عاشق کے ساتھ بھاگ جانے کا حوصلہ رکھتے ہیں ۔ خود ونتی کے سامنے اُس کی ماں کے فرار ہونے کا واقعہ تھا ۔ یہ جسارت شیام اور ونتی بھی کر سکتے تھے ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کرشن چندر نے پہلے ہی سے اپنے کرداروں کا مقدر طئے کر دیا تھا ۔اور اُسی کے مطابق ناول کو مکمل کر دیا تھا ۔ جس زمانے میں یہ ناول شائع ہوا تھا اس زمانے میں بھی ناول پر مثبت اور منفی تبصرے لکھے گئے تھے ۔ 
ان ساری باتوں کے باوجود اس ناول کی منظر نگاری، کردار نگاری اور مکالمہ نگاری پر کرشن چندر نے جو محنت کی اُس کے باعث اس ناول کو اُس کی مقبولیت سے کوئی روک نہیں سکا اور آج بھی یہ ناول قارئین کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے ۔ ۔ 
*** 
حوالے جات 
۱۔ ناول ۔ شکست۔ کرشن چندر ۔ص۔ ۷ ۔ ایشیا پبلیشرزدہلی۔ ۱۹۹۴ ء
۲۔ ناول۔ شکست ۔ کرشن چندر ۔ ص۔ ۱۱۔ ایشیا پبلیشرز دہلی۔ ۱۹۹۴ ء
۳ ۔ کتاب۔ اردو کا افسانوی ادب ۔ ڈاکٹر صغیر افراہیم ۔ مضمون ۔ شکست ایک لازوال المیہ ۔ص۔۹۱۔ پبلیشر۔صغیر افراہیم۔ ۲۰۱۰ ء 
۴ ۔ ناول۔ شکست ۔ کرشن چندر ۔ص ۔ ۲۹ ۔ ایشیا پبلیشرز دہلی۔ ۱۹۹۴ ء
۵ ۔ ناول۔ شکست ۔ کرشن چندر ۔ص۔۳۳ ۔ ایشیا پبلیشرز دہلی۔ ۱۹۹۴ ء
۶۔ ناول ۔ شکست ۔ کرشن چندر ۔ ص۔۳۹۔ ایشیا پبلیشرز دہلی۔ ۱۹۹۴ ء
۷ ۔ ناول ۔ شکست ۔ کرشن چندر ۔ ص۔۵۸۔ ایشیا پبلیشرز دہلی ۔ ۱۹۹۴ ء
۸ ۔ ناول ۔ شکست ۔ کرشن چندر ۔ ص ۔۱۰۰۔ ایشیا پبلیشرز دہلی ۔ ۱۹۹۴ ء
۹۔ ناول ۔ شکست۔ کرشن چندر۔ ص۔ ۱۱۳۔۱۱۴۔ ایشیا پبلیشرز دہلی۔ ۱۹۹۴ ء
***
Noorul Husnain
1- 12- 31. Pragati colony
Ghati.
Aurangabad 431001 (M.S)
 

 مضامین دیگر 


Comment Form



اردو فکشن

© 2017 Urdu Fiction. All right reserved.

Developed By: Aytis Cloud Solutions Pvt. Ltd.