فکشن کا ساختیاتی مطالعہ




مجاہد حسین پنجاب یونیورسٹی لاہور
19 Sep, 2017 | Total Views: 995

   

Abstract
Structuralim is relatively a modern style of criticism in Urdu. The structural study of fiction is even more new and hard task for Urdu critics because they are not so much well-versed with the terms and practice of structuralism. Mr. Mujahid Hussain presents an introductory account of structural criticism of western literature for Urdu critics to follow the style and standards of this sort of criticism to be implemented on Urdu Fiction.

کلیدی الفاظ:
فکشن، ساختی، تنقید، لسانیات، مکتفی بالذات، متن ، افسانوی ادب، اساطیر، لوک ورثہ، ماورائی، اسلوبی ، مرکباتی کلیے، منطقی، استحسان، ڈکنز، فیلڈنگ، ساختیت، جین، پیاچے، نورتھوپ فرائی، بیکٹ، ناصر عباس نیر، ٹوڈوروف، بارتھ، قرات، متھ۔
ساخیات فلسفہ لسان کی ایک ادبی اصطلاح ہے‘ ایک نئی ادبی تھیوری ہے۔ لیکن ساختیات اصل میں ایک مکمل ضابطہ اور ایک ایسا اصول ہے کہ جس کے ذریعے حقیقتوں کا ادراک کیا جا سکتاہے۔ یعنی اس کے ذریعے ہم حقیقت یا کائنات یا اس کی اشیا ء کے بارے میں یہ آگہی حاصل کر سکتے ہیں کہ یہ سب چیزیں ہمارے شعور یا ادراک میں کس طرح آتی ہیں اور ہم ان کی ماہیت تک کس طرح پہنچ پاتے ہیں۔ ادب میں احساس ساخت کے بارے میں ڈاکٹر ناصرعباس نیرّبیان کرتے ہیں :
’’
ساختیاتی تنقید، تنقید کی عمومی روش سے یکسر الگ راہ بناتی ہے۔ تنقید کے عمومی تصور کی رو سے فن پارے کے معانی دریافت یا متعین کیے جاتے ہیں، ان معانی کی توضیح اور تعبیر کی جاتی ہے، مگر ساختیاتی تنقید معانی کی بجائے ساخت تک پہنچتی ہے۔ واضح رہے کہ ساختیاتی تنقید یہ دعویٰ نہیں کرتی کہ فن پارے میں معانی ہوتے ہی نہیں ہیں، یا معانی بالکل عیاں ہوتے ہیں اور توضیح و تعبیر سے بے نیاز ہوتے ہیں۔‘‘۱؂
ساختیت ایک نظام فکر ہے ہم الفاظ اور جملوں کو اس سے مر بوط کر کے دیکھ سکتے ہیں۔اسی طرح ہم انفرادی ادب پاروں کو ادبی اصناف اور تمام عالمی ادب کو بھی مختلف نظام فکر کی روشنی میں ہم آہنگ کرتے ہیں اور خود ادب کو انسانی ثقافت کے وسیع النظر نظام کا حصہ سمجھتے ہیں۔ ان تمام رشتوں کی تفہیم اس مطالعے کو گمبیھرتا اور گہرائی بخشی ہے۔ یہ ساختیت کا بنیادی نکتہ ہے جو اس کی خصوصیات کو بروئے کار لاتا ہے۔ البتہ بعض ادب پاروں کو قائم بالذات قرار دے کر سسٹم میں مربوط کرنے کی کوشش غلط راہ پر بھی ڈال سکتی ہے اور ایک ادب پارے کے معانی کو پیش کرنے میں نا کافی ثابت ہو سکتی ہے چونکہ ساختیت اسلوبی اور لسانیاتی تکنیک کو زیادہ اہم سمجھتی ہے۔ مگر وہ سسٹم سے بے تعلق نہیں ہو سکتی۔
ساختی تنقید ایک ادب پارے کو ایک مرکباتی نظام کے طور پر جانچتی ہے اور اس کے مختلف پہلوؤں کو ایک مرکزی نقطے سے منسلک کرتی ہے۔ یہ ایک ادب پارے کو مکتفی بالذات بھی قرار دیتی ہے اور اس کو ایک خصوصی پیکر بھی شمار کرتی ہے۔ اس طرح ایک مخفی معنی کو اجاگر کرتی ہے۔ چونکہ متن مختلف سطحوں پر پڑھا جا سکتا ہے جو ایک نقاد الفا ظ میں پیش کرتا ہے۔ یہ اسلوبی تنقید کی صورت میں سامنے آتی ہے۔ یعنی ساختی لسانیات کے اصولوں کا انطباق ہے جو لسانیاتی اور موضوعاتی اہمیت کی مرکباتی شکل ہے۔ ہر متن کے سلسلے میں سیاق و سباق کے سانچے مختلف ہو جاتے ہیں۔شارب ردولوی اس حوالے سے یوں اظہار خیال کرتے ہیں:
’’
ادبی تنقید کی عمومی صورت حال یہ رہی ہے کہ نظریاتی مباحث کے لیے زیادہ تر شاعری ہی کو بنیاد بنایا جاتا ہے فکشن پر اتنی توجہ نہیں کی جاتی۔ ساختیاتی تنقید میں بالکل دوسری صورت حال ہے یعنی زیادہ مفکرین نے فکشن کو بنیاد بنایا ہے اور یون فکشن پر زیادہ لکھا گیا ہے اور شاعری پر کم۔‘‘ ۲؂
اب ہم ساختی مرکباتی کلیے کے عملی اطلاق کی طرف توجہ کرتے ہیں کہ ہم ایک ادب پارہ کو اس نظریے اور اس کے مختلف پہلوؤں کی روشنی میں کیسے پرکھ سکتے ہیں۔ یہ مسئلہ بنیادی طور پر ایک ادب پارہ کو پڑھنے اور سمجھنے کا ہے جو مختلف طریقوں سے کرتے چلے آئے ہیں۔ساختی تنقید ناول کی افہام و تفہیم اور استحسان کے لیے زیادہ موزوں ثابت ہوتی ہے۔صدیق کلیم اس حوالے سے یوں اظہار خیال کرتے ہیں:
’’
ساختیاتی تنقید نے اصناف سخن پر سیر حاصل بحث کی ہے۔ شاعری کی مختلف اقسام اور ڈراما کے توضیحی تجزیہ کے بعد ان نقادوں کا راسخ خیال ہے کہ ساختیت طریق تنقید افسانوی ادب کی افہام و تفہیم اور استحسان میں حد درجہ معاون ثابت ہوتی ہے اس انداز میں انھوں نے داستان، بھی ساختی اطلاق کیا ہے ۔ ایک ڈرامائی صورت حال کوئی کردار پیش کرتی ہے جو ایکشن اور تضاد سے وجود میں آتی ہے مگر تھیٹر پلاٹ اور کرداروں کے ذریعے گمبھیر حقیقت پیش کرتا ہے۔ ڈراما کے بارے میں ان کی بحث منطقی صورت اختیار کر گئی ہے۔‘‘۳؂
ہمارے ہاں نثری ادب سے صرف نظر کیا گیا ہے۔ اس کے اسلوب اور ساخت کو درخوراعتنا نہیں سمجھا گیا۔ اس سلسلے میں خالد محمود خاں کہتے ہیں:
’’
تنقیدی لحاظ سے اُردو نثری ادب کے مغائرت کا شکار ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ عالمی سطح پر معیاری ادبی تقابل کے تناظر میں اُردو نثری ادب کو درجہ بندی کی رُو سے کسی خاص مقام کے قابل خیال نہیں کیا گیا۔ نتیجتاً اُردو نثری ادب تنقیدی طور پر جدید تخصیصی مظاہر سے تہی داماں دکھائی دیتا ہے۔‘‘۴؂
افسانوی ادب خواہ وہ کسی صنف سخن کی تخلیق ہو اپنی واقعہ نگاری کے باوصف ساختی تنقید کے لیے بہتر موضوع مہیا کرتا ہے۔ یہ افسانوی ادب اساطیر، لوک ورثہ اور ماورائی کہانیوں پر مشتمل ہے۔ شاعری کا ترجمہ ازحد مشکل ہے مگر اساطیری کہانیاں ترجمے میں بھی اپنی اصل شکل قائم رکھتی ہیں۔ چونکہ یہاں کرداری پیکر کی archetypalلسانی اور نفسیاتی خصوصیات زندہ رہتی ہیں۔ ان اساطیر ی کہانیوں میں چند ایک تصورات (خواہ غیر واضح طور پر) موجود رہتے ہیں۔
ڈاکٹر ناصر عباس نیرّاس حوالے سے رقمطراز ہیں:
’’
تنقید کے عمومی تصور کی رو سے فن پارے کے معانی دریافت یا متعین کیے جاتے ہیں، ان معا نی کی توضیح اور تعبیر کی جاتی ہے۔ مگر ساختیاتی معنی کی بجائے ساخت تک پہنچتی ہے واضح رہے کہ ساختیاتی تنقید یہ دعویٰ نہیں کرتی کہ فن پارے میں معانی ہوتے ہی نہیں ہیں، یا معانی بالکل عیاں ہوتے ہیں اور توضیح و تعبیر سے بے نیاز ہوتے ہیں۔ اصل یہ ہے کہ ساختیاتی تنقید کی مطالعاتی روش ہی ہے جو ساختیاتی لسانیات کی ہے۔ لسانی ماہر جملے کے معانی بتانے کے بجائے ان عموموی، اصولوں کو بیان کرتا ہے۔ ،جملے میں جن کی وجہ سے معانی جنم لے رہے ہوتے ہیں۔ ساختیاتی تنقید کی رو سے ادبی متن میں معانی ہوتے ہیں، مگر معلق (Suspended)اور گریزپا(elusive)ہوتے ہیں۔ ‘‘۵؂
یہ تنقیدی رائے بھی قابل قدر ہے کہ افسانوی ادب میں موضوعات دو طرح کے تجربات سے مستفیض ہیں۔ اول افسانہ نویس یا ناول نگار کا ہم عصری ماحول، دوئم ادبی روایت جس سے وہ مستفیض ہو رہا ہے۔ موضوعات بھی ایک ادب پارے کی زندگی تخلیق کرتے ہیں۔ ان موضوعات کو ثانوی موضوعات میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ مثلاً کہانی جو تمام انداز ہائے نظر کو اپنا کر پلاٹ کہلاتی ہے۔ یوں وہ ایک جمالیاتی پیکر تیار کرنے کی طرف قدم اٹھاتی ہے۔ اس طرح اسلوبی تنقید نے جمالیاتی تنقید کو متاثر کیا ہے ۔ یوں اسلوبی لسانیات اور ساختی لسانیات ہم آہنگ ہو جاتے ہیں۔
ڈاکٹر فرمان فتح پوری اُردو فکشن کی تاریخ میں لکھتے ہیں :
’’
فکشن کے ترکیبی عناصر میں مافوق الفطرت عَنصر کی شمولیت اور اس کے اثرات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔داستانوں میں اس عنصر کا دخل ضروری نہ سہی پھر بھی دنیا کے مختلف ادبوں میں بہت کم ایسی کہانیاں یا داستانیں ملیں گی جو مافوق الفطرت سے خالی ہوں۔‘‘۶؂
فکشن کی زبان کے لیے منتخب لغت کہانی میں اپنے مقصد کی وضاحت کرتی ہے۔ ہر متن میں کہانی کا کوئی نہ کوئی نقطہ نظر ضرور ہوتا ہے۔ جسے کہانی کار اپنے انداز میں ،یا کسی کردار کے توسط سے بیان کرتا ہے۔ اس بیان یا نقطۂ نظر کی ترسیل کے لیے بہت سے اظہارات استعمال کیے جاتے ہیں۔ جیسے تشبیہ، استعارہ اور اسلوب کا لسانیاتی پہلو اس کے علاوہ سمعی، بصری، حرکی اور امتزاجی اظہارات کو بھی وسیلہ بنایا جاتا ہے۔ 
بقول صدیق کلیم:
’’
ساختی نقاد ناول (افسانوی ادب) کو منطق اور گرائمر کے بنیادی پیکروں سے منطبق کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ اس سعی کا مظہر ہے کہ ایسے انسانی ذہنیت کا گہرا مطالعہ ہو سکتا ہے۔ تکنیک اور موضوع میں جو فرق ہے وہی فرق فلسفیانہ تحریر اور افسانوی تحریر میں موجود ہے یہی فرق علمی اور فنی تحریر میں بھی کارفرما ہے۔‘‘ ۷؂
اسی طرح تنقیدی ہمہ گیریت اور تنقیدی منطقی درشتی بھی جمالیاتی استحسان میں حائل ہے اس لیے ساختیت کی یہ کوشش کہ اسلوبی پہلوؤں کو اجاگر کیا جائے اور موضوعاتی کو کم تر اہمیت دی جائے فنی تنقید کے لحاظ سے نامکمل کوشش ہے۔ لہٰذا انھوں نے اس کمی کو دور کرنے کے لیے موضوعاتی پہلوؤں کو اپنی تنقید میں مناسب مقام دینا ضروری سمجھا ہے۔ یہ ہمیں فلسفہ غائیت کی طرف بھی لے جاتی ہے ۔ کہ ہماری زندگی جبری تسلسل واقعات کا ماحصل ہے اور ہم کسی ماورائی متعین قسمت یا تقدیر کے مطابق زندگی بسر کر رہے ہیں۔ لیکن یہ صرف فلسفیانہ نظریات کی باہمی آویزش کی طرف اشارہ ہے اور قاری اس سے مختلف رائے بھی رکھ سکتا ہے۔ 
صدیق کلیم کہتے ہیں:
’’
جبری تسلسل واقعات کا اطلاق فقط ٹامس ہارڈی (Thornas Hardy)کے ناولوں پر ہوتا ہے اس کے برعکس ڈکنز (Dickens) کے یا فیلڈنگ (Fielding)کے ناولوں پر قطعاً منطبق نہیں ہوتا ہے۔ اس طرح ساختی تحقیق ہمیں غیر نصابی پہلوؤں کی طرف راغب کرتی ہے تاہم کسی ناول میں جنسی تعلقات ہمیں ثقافتی ماحول کا پتہ دیتے ہیں جسے کہ ڈی کیمے رون (Decameron) میں یہ سب واقعات بیان کیے گئے ہیں۔‘‘۸؂
اُردو ادب کا نصف سے زیادہ حصہ فکشن پر مبنی ہے۔ ساختیاتی تنقید کا اصل میدان داستان، ناول اور افسانہ ہی ہے۔ لہٰذا ساطیر، دیومالائی کہانیاں وغیرہ کی تفہیم اس طریقہ تنقید کے تحت زیادہ بہتر طریقے سے ہو سکتی ہے۔ گوپی چند نارنگ اس سلسلے میں رقم طراز ہیں:
’’
ساختیاتی طریقہ بیانیہ (Narrative)کے مطالعے کے لیے خاص طور پر موزو ں ہے۔ اس کی اطلاقی سر گرمی سب سے زیادہ اسی میدان میں ملتی ہے ۔بیانیہ کا ایک سرا مِتھ ، اساطیر ، دیو مالا ، کتھا کہانی وغیرہ لوک روایتوں (Folk Lore) سے جڑا ہو ا ہے ۔ تو دوسرا ایپک ، ڈرامے ، ناول اور افسانے سے جڑا ہوا ہے ۔ مو خر الذکر اصناف طوالت، پیچید گی اور فنی تراش خراش میں بیانیہ کے اولین قبل تاریخی لوک نمونوں سے خاصی مختلف ہیں۔ تاہم بیانیہ کی طویل تاریخ میں بعض ساختیاتی عناصر مشتر ک بھی ہیں ۔ مثلا پلاٹ ، منظر نگاری ، کردار ، مکالمہ اور انجام وغیرہ ساختیاتی فکر چونکہ نظروں سے اوجھل داخلی ساخت اور کلی تجریدی نظام پر زور دیتی ہے ۔ بیانیہ کی مختلف اقسام کا مطالعہ ساختیا ت کے لیے خاص کشش رکھتا ہے۔ اور ساختیاتی مفکرین نے اس چیلنچ کو بخوبی قبول کیا ہے۔‘‘ ۹؂
جین پیاجے (Jean Piaget) کے مطابق ساختیت تین عناصر پر مشتمل ہے۔ تکمیل کا تصور، متبادل اور خود کار متبادل عمل کا تصور اور خود کفالت کا تصور۔ جدید تنقید میں ادبیات کے خود کار متبادل عمل کا نظریہ خاصا اہم ہے۔ یہ روسی اسلوبی نقادوں نے اجاگر کیا ہے اور برطانوی اساطیری نقادوں نے بھی نور تھوپ فرائی (Northop Frye) کی کتاب امریکی ساختیت کی بہترین مثال ہے۔ اس نے ادبیاتی تعلیمات کو ایک ترقی پذیر، سائنٹیفک نظام کے طور پر پیش کیا۔ اور اپنے نظریے کے ثبوت میں ادب پاروں کو ایک نظام میں منسلک کرنے کا طریقہ رائج کیا۔ اس نے افسانوی ادب کے سلسلے میں دو طرح کے نظام تجویز کیے۔ ایک نظام برائے اظہار اور دوسرے نظام اصناف وہ اعلیٰ کردار کے ہیرو کے مقابلے پر ادنیٰ کردار ہیرو کو کم درجہ سمجھتا ہے جسے بیکیٹ (Becket) کے کردار، مزید برآں وہ سوانح اور تاریخ کو ادبیات میں شمار نہیں کرتا البتہ خود نوشتِ سوانح نگاری کو اس استرداد سے مستثنیٰ سمجھتا ہے۔
گوپی چند نارنگ، ادبی تنقید اور اسلوبیات میں لکھتے ہیں:
’’
ساختیاتی تخیل کے صحیح افہام کے لیے ضروری ہے کہ ہم رومانوی ادب میں اس کی جڑیں تلاش کرنے کی کوشش کریں۔ وہ بھی لسانیات کے حوالے سے شیلے (Shellay) نے اپنی تنقیدی کتاب (A defence of poetry) میں تخلیقی عمل کو بربط سے تشبیہ دی ہے جو نغمہ پیدا کرتا ہے مگر ان نغماتی لہروں میں ہم آہنگی خود موسیقار ہی پیدا کرتا ہے۔‘‘۱۰؂
ساختیا تی تنقید میں زبان کے مطالعہ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے ۔بلاشبہ ساخیات فلسفہ لسان کی ایک ادبی اصطلاح کا نام ہے اور یہ ایک نئی ادبی تھیوری ہے ڈاکٹر سلیم اختر اس حوالے سے رقمطراز ہیں:
’’
ساختیاتی تنقید میں زبان کے مطالعہ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے اس لئے ز بان کے مباحث کے حوالے سے ادب پاروں کو سمجھنے کی ہر کوشش میں ساختیت سے امداد لی جا سکتی ہے لیکن یہ کوشش محض تشبہیات اور استعارات یا صنائع بدائع کی تفہیم کے لیے نہ ہو گی بلکہ ان کے ظاہری مفہوم کی سطح سے نیچے اتر کر جہت درجہت معانی کی جستجو میں اس سے کام لیا جا سکتا ہے۔ ۱۱؂
ساختیاتی تنقید کا اصل منبع و ماخذ تو مغرب ہی ہے تاہم اُردو ادب کے نقادوں نے اسے مشرقی ادب کے لیے کارآمد بنانے میں خاص طور پر محنت کی اور اصول و ضوابط و ضع کیے اس سلسلے میں گوپی چند نارنگ کے علاوہ ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ مغربی نقادوں کا نقطہ نظر جاننے کے لیے ہمیں ٹوڈوروف(Todorov)کے خیالات کا مطالعہ کرنا ضروری ہو گا۔شارب ردولوی ٹوڈوروف(Todorov)کے خیالات پرتنقید کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’
ہر ادب پارہ دوسرے ادب پاروں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ہر نیا ادب پارہ ادبیات کا کردار تبدیل کر دیتا ہے۔ مختلف اصناف ادب، ادب پاروں اور دنیائے ادب میں ایک بنیادی رشتہ استوار کرتی ہے۔ یہ دنیائے ادب کا اپنا خود مکتفی مرکباتی نظام ہے ہمیں افسانوی ادب کا تنقیدی نظام درکار ہے تاکہ ہم اپنی درس و تدریس کو بامعنی اور دلچسپ بنا سکیں۔ ہم ادب پارے کی تعلیم کے سلسلے میں اصناف ادب کی تجریدی گرائمر بھی سیکھ سکیں جس کے لیے تاریخی شواہد ہمارے پاس موجود ہوں۔‘‘ ۱۲؂
یہ ہمہ گیر ساختی تنقید کو مرتب کرتا ہے چونکہ ہمیں یہ احساس ہے کہ افسانوی ادب ایک اہم صنف ادب ہے۔ وہ اس لیے بھی کہ بطور معلم ہمیں دو پہلوؤں سے رابطہ رہتاہے۔ ادب پاروں کا مطالعہ، بلند آواز سے پڑھنا اور ان کے بارے میں لکھنا۔ یہ دونوں عمل اپنے کردار میں کلیاتی ہیں ایسے ہم دوسرے ادب پاروں کی تدریس میں کلیاتی طریقے سے دنیائے ادب کا اپنا مکتفی نظام تعمیر کرتے ہیں جو ہمہ گیر ثقافت کا اہم جزو ہے۔
مندرجہ بالا بحث سے واضح ہو گیا ہوگا کہ بارتھ (Barthes) اور جنتے (Genelte) کے طریق کار اور نظریے کم و بیش متضاد ہیں اور یہ اختلاف ہمیں ساختیت کے ہمہ گیر امکانات کا شعور بخشتا ہے جس کے سبب ہم ایک افسانوی ادب پارے کو مختلف پہلوؤں سے پرکھ سکتے ہیں۔ یوں ہمارے تنقیدی نظریوں اور عملی طریقوں میں وسعت کے امکانات بھی روشن ہوجاتے ہیں۔شارب ردولوی اس حوالے سے لکھتے ہیں:
’’
ساختیاتی تنقید (Structural Criticism) سے وہ تنقید مراد ہے جس میں ادب کا مطالعہ باضابطہ طور پر لسانیات کے نظریاتی ماڈل کی بنا پر کیا جاتا ہے۔۔۔۔ ساختیات نے ادبی تنقید میں اپنے جس فوری پیش رو کو بے دخل کیا وہ نئی تنقید (New Criticism) ہے۔ اس لیے ساختیاتی تنقید کو نئی نئی تنقید (New New Criticism) بھی کہا جاتا ہے۔۔۔۔ ساختیاتی نقاد رولاں بارتھ (Roland Barthes) کا اصرارہے کہ صفحے پر چھپے ہوئے لفظ سے معنی اخذ کرنے کا عمل خلا میں نہیں ہوتا۔ قرأت(Reading) کا عمل ایک پیچیدہ اور تہ دار عمل ہے۔ اس کے دوران معاشی، سماجی، جمالیاتی اور سیاسی تصورات اور اثرات کے پورے پورے سلسلوں کا عمل در عمل جاری رہتا ہے جس سے متن کے تیءں ہمارا رد عمل مرتب ہوتا ہے۔ معروضی متن یا متن کے پہلے سے طے شدہ معنی ہر گز کوئی وجود نہیں رکھتے۔‘‘۱۳؂
اس فکری رویے کا اہم پہلو یہ ہے کہ ساختیات نقاد کو ایک نئی اہمیت اور نیا کردار عطا کرتی ہے۔ نقاد فن پارے کا محض تماشائی نہیں ہے۔ نہ تو فن پارہ کوئی تیار شدہ مال ہے نہ نقاد محض اس کا صارف (Consumer) ہے۔ ساختیات کے نزدیک نقاد، فن پارے کو اپنی قرأت (Reading)سے معنی دیتا ہے۔ چنانچہ نقاد کے لیے ضروری نہیں کہ وہ نیاز مندانہ طور پر فن پارے کے احکامات کے آگے سرجھکا دے۔ ا س کے برعکس نقاد عملی طور پر معنی کی تعمیر کرتا ہے۔ وہ فن پارے کو ’موجود‘ بناتا ہے۔۔۔ بارتھ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ادب وہ ہے جو وہ واقعی ہے یعنی معنی پیدا کرنے کا وہ نظام جو تحریر اور قرأت کے عمل درعمل سے وجود میں آتا ہے جو خود کار ہے اور جس کا منصب ہر گز ہرگز پہلے سے طے شدہ معنی (Pre-Ordained Content) کو قاری تک پہنچانا نہیں ہے۔
شاعری لسانی ثقافت کے اس عنصر سے فروغ پاتی جو بے مثل یا یکتا ہے۔ اس کے برعکس مِتھ زبان کے اس اساسی پہلو یعنی (Universal)سے عبارت ہے جو تمام زبانوں میں قدر مشترک کا درجہ رکھتا ہے ۔ زبان کی بعض ساختوں کی طرح کی جو آفاقی نوعیت کی ہیں مِتھ کی ساخت بھی آفاقی ہے۔ بمقابلہ لفظیاتی نظام کے جو ہر زبان میں اپنی الگ خود مختارانہ حیثیت رکھتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ مِتھ لوک کہانیوں کا سرمایہ ساختیاتی مطالعے میں ترجیحی حیثیت رکھتا ہے۔ اوراولین ساختیاتی مفکروں نے مِتھ کے مطالعے میں ایک خاص کشش محسوس کی 
زبان اوراس کا مطالعہ ساختیاتی تنقید کی ضرورت واہمیت کو اجاگر کرتا نظرآتا ہے اور اس کا سب سے مناسب اطلاق فکشن کی تنقید پر ہوتا ہے۔ یہی عدم ابلاغ جدید دور کے ادبی بحران میں ایک رشتہ تعمیر کرتا ہے۔ تحریروں کی غیرروایتی تشریح ہمیں بے معنویت کی طرف بھی لے جا سکتی ہے اور فلسفیوں کی منسلک تعبیر زندگی عدم زندگی میں منتج ہو سکتی ہے۔بہر حال عدم ابلاغ اس مفروضے پر قائم ہے کہ لسانیات کے تسلیم شدہ قواعد، ہمارے تجربات کا اظہار اور انسانی ابلاغ کی کاوش کوئی طے شدہ، مقدس تصورات نہیں ہیں۔ عدم ابلاغ ہر اس تنقید کا تضاد ہے جس کے سبب ہم روایتی اقدار کی روشنی میں اس کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ علاوہ ازیں تنقیدات میں خود مختلف اختلافی نظریے رائج ہیں۔ عدم ابلاغ کے لسانی ماہرین ان کو تشکیک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ یہ رائے بھی بہرحال درست ہے کہ نظریہ عدم ابلاغ کو نئی سوچ یا احساس پیش نہیں کرتا۔ چونکہ تنقیدات فلسفوں کی طرح لسانیات ہی کے نظام میں پیش کی جاتی ہیں جو مصنف کے اد بی تجربے یا فلسفیانہ نظریے کے بعد کو دور کرنے میں کامیاب نہیں ہوتی ہیں۔ یہ اسی طرح کی کوشش ہے جو ایک مصنف اپنے دیباچے میں اپنے متن کا خلاصہ پیش کرتا ہے جو متن اور قاری کے درمیان حد فاصل کا کام دیتا ہے۔ اسی فلسفیانہ متشکک نظریے سے ساختیت کی تخلیق عمل میں آئی ہے۔
اس تمام بحث کی روشنی میں یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ نظریہء عدم ابلاغ نے تمام تنقیدی اور اسلوبی نظریوں کو رد کرنے کی کوشش میں ساختیت کو جنم دیا ہے اس طرح تاریخی طور پرروایتی نظریوں اور ساختیت کے مرکباتی نظام میں نیا رشتہ تخلیق ہوتا ہے جسے مندرجہ بالا سطور میں کہا گیا ہے۔ ساختیت لسانیاتی طریقوں کی مدد سے گرائمر، صنائع وبدائع(استعارہ، مجاز مرسل وغیرہ) اور الفاظ کے پس پردہ حقائق کی روشنی میں جمالیاتی حس تک رسائی حاصل کرتی ہے۔ اس سلسلے میں وہ مختلف تجزیاتی پیمانوں کے ذریعے زندگی اور اس کے مسائل کا شعور پیش کرتی ہے جو ایک جمالیاتی پیکر میں مجتمع ہوتے ہیں۔ژرف بینی، موضوعاتی عمق اور گمبیھرتا کی قدر اجاگر کرتی ہے اس طرح یہ تمام تاریخ پر پھیلے ہوئے تنقیدی اور اسلوبی نظریوں پر یوں سبقت حاصل کرتی ہے کہ تکنیک قاری اور متن کے درمیان معنوی رشتہ پیدا کرتی ہے جو بہرحال متن اور ساختیاتی مرکباتی نظام کے عطا کردہ طریقوں کے باوجود قاری اور نقاد کے مذاق سخن اور ذوق نغمگی پر منحصر ہے جو قدرت کی ودیعت ہیں۔
حوالہ جات 
۱۔ ناصر عباس نیرّ ڈاکٹر، ساختیات۔۔۔۔۔ایک تعارف، پورب اکادمی ، اسلام آباد،۲۰۱۱، ص۱۳۰
۲۔ شارب ردولوی ،آزادی کے بعد دہلی میں اُردو تنقید ، (مرتبہ)، اردو اکادمی ، دہلی ۱۹۹۱ صفحہ ۶۵
۳۔ صدیق کلیم ،فکرِ سُخن مجلس ترقی ادب لاہو ر،۲۰۰۸، صفحہ ۲۶۹
۴۔ خالد محمود خان ، فکشن کا اسلوب، بیکن ہاؤس ، لاہور۲۰۱۴، ص۱۰۹
۵۔ نا صر عباس نیرّ ڈاکٹر ، جدید اور مابعد جدید تنقید،انجمن ترقی اردو، کراچی،۲۰۱۳،ص۹۵-۹۴
۶۔ فرمان فتح پوری، ڈاکٹر، اُردو فکشن کی مختصر تاریخ،بیکن بکس، لاہور،۲۰۰۶، ص ۲۰
۷۔ صدیق کلیم صفحہ ۲۷۰
۸۔ ایضاً صفحہ ۲۷۲
۹۔ گوپی چند نارنگ ، ڈاکٹر،ساختیات پس ساختیات اور مشرقی شعریات۔ سنگ میل پبلیکشز ،لاہور۱۹۹۴ ،ص 
۱۰۷
۱۰۔ گوپی چند نارنگ، ادبی تنقید اور اسلوبیات، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس دہلی ۱۹۸۹ء،ص ۲۶
۱۱۔ سلیم اختر ،ڈاکٹر، تنقیدی دبستان سنگ میل پبلیکشز،لاہور ،۲۰۱۴، ص۲۳۲؂
۱۲۔ شارب ردولوی ،آزادی کے بعد دہلی میں اُردو تنقید ، (مرتبہ) ، اردو اکادمی ، دہلی ۱۹۹۱ صفحہ ۷۲
۱۳۔ شارب ردولوی ،آزادی کے بعد دہلی میں اُردو تنقید ، (مرتبہ) ، اردو اکادمی ، دہلی ۱۹۹۱ صفحہ۱۷۵

 مضامین دیگر 


Comment Form



اردو فکشن

© 2017 Urdu Fiction. All right reserved.

Developed By: Aytis Cloud Solutions Pvt. Ltd.