مکان : ٹوٹنے کے بعد کی کہانی




غضنفر
29 Apr, 2018 | Total Views: 174

   

تہہ دار تخلیق کی ایک پہچان یہ ہوتی ہے کہ وہ آسانی سے تفہیم کی گرفت میں نہیں آتی، اس کے باوجود اپنے حسن اور معونیت کا احساس دلادیتی ہے۔اس کے اندر کا تجر بہ اپنے رگ و ریشے میں معنی کی اتنی جہتیں سموئے ہوئے ہوتا ہے کہ دیکھنے والوں کو وہ مختلف روپ اور الگ الگ رنگ میں دِکھائی دیتا ہے۔کبھی کبھی تو ایک ہی نگاہ جب اس طرف دوبارہ دیکھتی ہے تو اس کی شکل بدل جاتی ہے۔
ایسا ہی کچھ پیغام آفاقی کے ناول ’’مکان ‘‘کے مطالعے کے وقت ہوتاہے ۔آفاقی کا مکان ایک ہوتے ہوئے بھی ایک نظر نہیں آتا ۔یہ الگ الگ نگاہوں کو الگ الگ شکلوں میں دکھائی دیتا ہے۔کسی کو یہ ایک بیوہ عورت اور ایک یتیم بے سہارابچّی کا مکان دکھائی دیتا ہے جسے ایک کرایے دار اپنے حربوں اور ہتھکنڈوں سے ہڑپ لینا چاہتا ہے اور وہ بے سہارا لڑ کی اتنے بڑے‘بھرے پُرے اور مضبوط سماج کی موجودگی میں‘ جس میں عدالت بھی ہے اور پولس بھی‘جس کے پاس قانون بھی ہے اور انصاف بھی‘کچھ نہیں کرپاتی۔
کسی کو یہ مکان انسانی پنا ہ گاہ اور تحفّظ کی علامت نظر آتا ہے تو کوئی اسے غیر محفوظیت کے نشان کا نام دیتا ہے ۔کسی کو اس میں انسانوں کے استحصال کا عکس دِکھائی دیتا ہے اور کسی کو سماج کے جبر کا گھناؤ نا منظر نظر آتا ہے ۔کوئی اس ناول کو عرفانِ ذات کی کہانی کہتا ہے تو کوئی اسے ذات کے عرفان کا عرفان سمجھتاہے۔
مجھے بھی یہ مکان مختلف اوقات میں مختلف نظر آیا ۔پہلی بار جب میں نے اسے دیکھا تو یہ دنیا کی علامت نظر آیا تھا۔دُنیا جہاں انسان نہ صرف یہ کہ پناہ لیتا ہے اور اپنے کو محفوظ رکھتا ہے بلکہ اپنینشوو نما بھی کرتا ہے اور اپنی شخصیت کا ارتقا بھی۔ یہ مکان جس دنیا کی علامت ہے اس میں کچھ ایسی طاقتیں بھی ہوتی ہیں جو مکان سے لوگوں کو بے دخل کر کے اسے اپنے لیے محفوظ کرلینا چاہتی ہیں تاکہ وہ اسے اپنے لیے عیّاشی کا اڈّہ بناسکیں اور جو بھی ان طاقتوں کے راستے میں آتا ہے اسے وہ یا تو کچل ڈالتی ہیں یا اگر اسے مضبوط پاتی ہیں تو کیبر ے کی میگنیٹ میں جکڑ کر رکھ لیتی ہیں۔
دنیا میں کچھ ایسی قوتیں بھی ہوتی ہیں جو اس دنیا کے تحفّظ اور انسانی بقا کے لیے وجود میں آتی ہیں جنھیں ہم نظامِ حیات کا نام دیتے ہیں لیکن وہ بھی بشری طاقتوں کے دباؤ یا ان کے دِکھائے گئے منظروں اور تماشوں کے لالچ میں آکر اپنے فرض کو بھول جاتی ہیں اور انھیں اپنے وجود تک کا احساس نہیں رہتا۔پولس اور عدالت ان کی واضح مثالیں ہیں اور اس طرح یہ مکان دنیا کا آئینہ بن جاتا ہے ۔ دوسری بار مکان مجھے انسانی تخلیقیت یا انسان کی تخلیقی قوت کی کہانی محسوس ہوا۔مکان کا خالق انسان کے اندر پوشیدہ اس تخلیقی قوّت کو متشکل کرنا چاہتا ہے جس کا ادراک ہوتے ہی جسم بے معنی ہوجاتا ہے اور جسمانی طور پر کمزور سے کمزور انسان بھی قوت کے زور پر اپنے ارد گِرد کے گھیروں کو توڑتا اور رکاوٹوں کو روندتا چلاجاتا ہے ،اونچے اونچے پہاڑ گِرنے اور بکھرنے لگتے ہیں ۔ خلیجیں پٹنے لگتی ہیں۔نشیب و فراز ہموار ہونے لگتے ہیں اور جو انسان اپنی تخلیقیت کو پالیتا ہے وہ اس ناول کی ہیروئن نیرا کی طرح پر پیچ راستوں‘ اُونچے اُونچے پہاڑوں ‘گہری گہری گھاٹیوں ‘ خوفناک موڑوں اور ٹیڑھی میڑھی اور تنگ سڑکوں سے ڈرنے کے بجائے ان سے کھیلنے لگتا ہے۔ان میں اسے مزا آنے لگتا ہے اور اسے بھی ویسا ہی محسوس ہونے لگتا ہے جیسا کہ شملہ کی پہاڑیوں پر چڑھتے ہوئے نیر ا کو محسوس ہوا:
’’وہ اس ترنگ کی تھرتھری کو اپنے اندر محسوس کرنے لگی ۔یہ پہاڑپر پوری قوّت سے چڑھنے کا تھرل تھا۔ اسے لگا جیسے وہ گاڑی کی اس قوّت سے پہاڑ کی اُونچائی پر رفتار کے ساتھ چڑھ رہی ہو.....اس کا جی چا ہا اُونچا ئیاں اور زیادہ ہوں تاکہ گاڑی کے استعمال کی وہ مشینی آواز محسوس کرے جو اس کے جسم میں نشے کی کیفیت گھولتی جارہی تھی۔اس کا جی چاہا کہ اگر وہ خود گاڑی ہو تو زیادہ سے زیادہ سیدھی اُوپر چڑھتی پہاڑی کا انتخاب کرے تاکہ زیادہ سے زیادہ مزاہ آئے۔‘‘
اور یہ احساس اس انسان کے اندر یہ شعور پیداکردیتا ہے کہ:
’’جن چیزوں سے ڈرلگتا ہے‘ان کی وہی کیفیت سب سے زیادہ خوبصورت ہوتی ہے۔
جب لوگ ان خوفناک سڑکوں سے مسلسل گزرتے ہیں تو یہ ٹیڑھاپن کسی سطح پرانسانی شعور میں خوف پیداکرتا ہے۔
وہی ٹیڑھا پن اچھّا لگتا ہے اور وہ حسن درا صل برتر ہو جانے کا احساس ہوتاہے کہ یہ احساس انسانی روح کو چمکاتاہے۔‘‘ 
اور انسان جب اپنی تخلیقیت کو پاجاتا ہے یا اسے اپنی تخلیقی قوّت کا عرفان ہوجاتا ہے تو وہ اپنی اس تخلیقیت سے دوسروں کے اندر کی تخلیقیت کو بھی بیدار کرنے لگتا ہے جیسا کہ نیر اکی تخلیقیت سے ڈی سی پی مسز بترا جاگی ہے یا اے ۔سی۔پی الوک بدلا ہے۔یہی نہیں بلکہ اس تخلیقی قوّت سے راستے میں کھڑی مزاحم قوّتیں بھی ہلنے اور ٹوٹنے لگتی ہیں جیسا کہ اس ناول میں اشوک ہلا ہے اور کُمار ٹوٹا ہے۔
یہ تخلیقی قوّت جسے ناول نِگار اپنے مکان میں دکھانا چاہتا ہے یہ وہی تخلیقیت ہے جو گوتم بدھ کو گیا میں پیپل کے پیڑ کے نیچے دھیان کے ذریعے ملی تھی، جسے خواجہ معین الدین چشتی نے کشف سے پایا تھااور مکان کی نیرانے جسے تصادم اور مسلسل جدّو جہد سے حاصل کیا ہے ۔
مکان کوغصب کرنے والی قوّتوں سے ٹکرانے اور لوگوں پر بھروسہ کر کے امداد کے لیے مختلف دروازوں پر جانے اور گرم پر خار راستوں پر مُسلسل بھاگتے رہنے کے دوران نیراپر انکشاف ہو ا کہ :
’’یہ سارے بھروسے صرف اذیت پہنچاتے ہیں‘‘
اور اس انکشاف پر جب اس نے سوچنا شروع کیا تو:
’’سوچنے کے دوران اس نے محسوس کیا کہ اس کے دماغ کے ریشے ازسر نو مرتّب ہورہے ہیں‘ جیسے اس سے کوئی ہولے ہولے کہہ رہا تھا ۔یہاں قدم قدم پر رہزن گھات میں بیٹھے ہیں‘یہ بیسویں صدی کی نویں دہائی کی دلی ہے،یہ وہ شہر ہے جہاں کب رات ہوتی ہے اور کب دن نکلتا ہے‘پتا نہیں چلتا ۔یہ وہ شہر ہے جہاں ہر انسان اپنی حفاظت کا آپ ہی ذمّے دار ہے۔یہاں بھروسوں کی تجارت ہوتی ہے‘یہاں معاہدہ بنانے والے ایک ایک لفظ کے ہزاروں ہزاروں روپے لیتے ہیں اور اس شہر میں تم بھروسوں پر چل رہی ہو۔‘‘
اور اسی سوچ کے بیچ اسے یہ بھی محسوس ہوا کہ :
’’بچپن سے لے کر چندروز پہلے تک وہ زندگی کو جس روپ میں دیکھ رہی تھی وہ زندگی کا اصل روپ نہیں تھا‘زندگی اس روپ میں تو بھیس بدل کر کھڑی تھی__وہ زندگی کا جو روپ اب دیکھ رہی ہے‘یہ حقیقت ہے__زندگی کے اس روپ کے ایک ایک خدو خال کو غور سے دیکھنے کے لیے وہ بے چین ہوگئی ۔‘‘
اور جب وہ اصل زندگی کے خدوخال کی تلاش میں نکلی تو اس پر کائنات کے اسرار کھلنے لگے اسے صاف دِکھائی دینے لگا کہ:
’’یہ سب کچھ جو وہ دیکھ رہی ہے‘ محض تماشا ہے اور زندگی ایک کھیل ہے اور اس کھیل میں جیتنے یا ہارنے کا احساس ہی اس کی روح ہے اور اسی روح کی گہرائی میں اس کی بقا مضمر ہے کہ لہروں کی طرح ڈوبتے اور اتراتے رہنے کا احساس ہی دائمی ہے اور اس احساس کی لہریں ہی ہر چیز کی اصل ہیں۔‘‘
زندگی کی مزید باریکیوں کی تلاش کرتے ہوئے ایک دن اسے نیند آگئی اور اس نے:
’’نیند میں اپنے اندر ایسی کیفیت محسوس کی کہ اسے لگا کہ آج اس کی نیند حسبِ معمول نہیں تھی۔ صبح جب اس کی آنکھ کھلی تو اس کے اندر بدلتے موسموں والی بے چینی تھی۔تم سب مجھے کیا سمجھتے ہو ؟ اس نے ایک ایک کو کھاجانے والی نگاہ سے اپنے چاروں طرف کے ماحول کو دیکھا ۔تم سمجھتے ہو کہ میں ایک کمزور لڑکی ہوں ‘میں عورت ہوں ‘میں ایک سمندر ہوں کہ جس میں پورا کا پورا پہاڑ غرقاب ہوسکتا ہے لیکن میں جو کچھ اپنے اندر سہتی ہوں اس سے نئی چیزیں جنم لیتی ہیں۔میں کوکھ ہوں۔میرے اندر جو عکس پیداہوتا ہے وہ محض خیال نہیں ہوتا ۔‘‘
اس دن کے بعد نیرا کو یہ محسوس ہونے لگا:
’’اس کی زندگی کے نقوش اب اور تیزی سے یکے بعد دیگر بدلنے لگے چند ماہ پہلے اس کے ذہن میں جو آتش فشاں پھوٹا تھا اورجس نے سب کچھ جلاکر راکھ کردیاتھا‘اس کی ایک ایک چنگاری سے سورج پیدا ہورہا تھا۔‘‘
اور اس سورج کے پیدا ہوتے ہی اس پر یہ راز روشن ہوگیاکہ:
’’اپنی زندگی کے اُس دور میں جب وہ اندھوں کی طرح چل رہی تھی ‘لوگ اسے اپنے اشاروں پر دوڑاتے تھے اور وہ چوٹ کھاتی تھی تو ٹوٹ ٹوٹ جاتی تھی۔‘ لیکن اب یہ چوٹیں اور یہ دوسروں پر بھروسہ کرنا‘ ایک کھیل‘ ایک لذّت آمیز عمل بن گیا تھا۔ اور جیسے جیسے وہ اس آندھی کے ساتھ تیز حرکت میں آرہی تھی‘ویسے ویسے اس کو لگ رہا تھا کہ وہ ایک رقّا صہ کی طرح دوسروں کے لیے سب کچھ کررہی ہے‘وہ اپنے آپ سے باہر نکل آئی تھی۔اسے ناچنے ‘دوڑنے ‘بھاگنے اور تھکنے میں لذّت مِل رہی تھی۔‘‘
گویا اس طرح نیرا کی تخلیقیت اس پر آشکار ہوتی ہے اور وہ دُبلی پتلی کمزور سی لڑکی مضبوط اور طاقتور ہوتی چلی جاتی ہے۔
تخلیقیت کی اس کہانی کے سلسلے میں خود ناول نِگار کا یہ اقتباس ملا خطہ کیا جاسکتا ہے:
’’انسان کے اندر جو تخلیقی اور اخلاقی صلاحیتیں ہیں ان کا استعمال کرنا ان سے رجوع نہ کرنا،
اور اس گدھے کی طرح جو ایک جانور ہے‘ذلّت کا بوجھ اُٹھائے جانا،
یا کتّے کی طرح وفا داری کی دُم ہلائے جانا،
انسان کی مٹّی کا مذاق ہے،
اپنی تلوار اپنے نگار خانۂ دل کی دیوار پر لٹکتی ہوئی چھوڑ کر غیر متناسب طاقتوں سے خالی ہاتھ لڑنااور شکست کھاکر دوسروں کی بھی ہمّت پست کرنا بے معنی ہے نیر ا اپنی اندرونی طاقت سے کہو کہ ان مسائل کا حل تلاش کرے اس قوّت سے جو تعمیر اور آزادی کا چشمہ ہے جہاں پر تہذیبی مسئلوں کا حل ملتا ہے، جہاں سے سپہ سالار اور بادشاہ اپنا اعتماد حاصل کرتے ‘جہاں سے سائنسداں اپنی ایجادوں کا انجام لے کر آتے ہیں۔جہاں سے فقیر بے نیازی کی دولت سے مالا مال ہوتے ہیں ،جہاں سے مجاہد زندگی کے معنی حاصل کرتے ہیں۔نیرا وہ طاقت ہر انسان کے اندر ہے۔یہ جڑ ہے جس سے انسان اپنی زندگی کی اصل خوراک حاصل کرتاہے۔‘‘
نیرا کی تخلیقیت کی اس کہانی کو پڑھتے وقت قاری اپنے اندرون میں ایک اُبھرتی ہوئی قوّت کی گونج سنتا ہے اور بعض بعض موڑ پر خود کو بدلتا ہوا محسوس کرتا ہے اور جب نیراکے ساتھ شملیکی پہاڑیوں پر چڑھتا ہے تو نیراکی طرح وہ بھی پہاڑ ی راستوں ، اندھے موڑوں‘خوفناک گھاٹیوں اور خطرناک اونچائیوں کو بے پروائی سے روندتا ہوا گزرتا چلاجاتا ہے اور ایک سرور کی سی کیفیت بھی محسوس کرتا ہے۔ اس طرح پیغام آفاقی کا یہ مکان اپنے قاری کو بھی ایک ایسی بلندی پر پہنچا دیتا ہے جہاں زندگی نغمہ بن جاتی ہے اور روح لذّتوں سے بھر جاتی ہے۔
ممکن ہے اگلی بار پڑھنے پر مکان کسی اور ہی صورت میں نظر آئے اور اس کے درودیوار سے معنی کا کوئی اور ہی چہرہ نکل آئے ۔
قاری کی نگاہ میں مکان کی بار بار بدلتی ہوئی شکل اسے ایک ایسی بلندی عطاکرتی ہے جو اسے فن کی عظمتوں کی طرف لے جاتی ہے۔

 مضامین دیگر 


Comment Form



اردو فکشن

© 2017 Urdu Fiction. All right reserved.

Developed By: Aytis Cloud Solutions Pvt. Ltd.