پاکستانی اردو افسانہ:تشدد و دہشت کے درمیاں




محمد غالب نشتر
23 Oct, 2017 | Total Views: 218

   

دنیا کے نقشے میں پاکستان کا نئے ملک کی صورت میں ظاہر ہونا محض اتفاقیہ نہیں تھا بل کہ اس کے پس پشت کئی عرصے کی محنت کار فرما تھی۔ایسے ملک کا خواب بہت سے لوگوں نے دیکھا تھا جہاں مکمل اسلامی نظام قائم ہو،ایک مذہب کے ماننے والے یک جا ہوں اور فسق و فجور کا دور دور تک واسطہ نہ ہو۔۱۹۴۰ء کے قرارداد لاہور میں مسلم لیگ کے حمایتی ایسے ہی ملک کے نفاذ کے لیے کوشاں تھے اور انہی کی کوششوں کا نتیجہ تھا کہ ۱۹۴۷ء میں انہیں کام یابی مل گئی۔مطلب یہ کہ پاکستان کا قیام اُن ساری جدّو جہد کا ما حصل تھا جس کا آغاز ۱۹۴۰ء اور اس سے بہت پہلے سے ہوا اور سخت مشقت کے بعد ۱۹۴۷ء میں یہ خواب پورا ہوا۔مجموعی ہندوستانیوں کو فرنگیوں سے آزادی اور پاکستان کا نئے ملک میں وجود میں آنے کے اعلان نامے کے ساتھ ہی مذہب و ملت کے نام پر ایسی خوں ریزی کی مثال بر صغیر کی پوری تاریخ میں نہیں ملتی ہے۔اس سانحے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ انسان کو بنی نوع انسان سے ہی اعتبار اٹھ گیا اور ساری انسانیت گھناؤنی،ریاکار اور کھوکھلی نظر آنے لگی۔پچاس اور ساٹھ کے عشرے کی کہانیاں اس کی غماز ہیں۔اس سانحے کے حوالے سے اردو ادب میں سو سے زائد کہانیاں لکھی گئیں۔۱۹۴۰ء سے ۱۹۴۷ء تک کی مستقل محنت سے پاکستان کا قیام تو عمل میں آگیا مگر اس کے بعد آنے والے دس سال مسلسل کرب ناک ثابت ہوئے۔پورا معاشی نظام درہم برہم ہوگیا۔ اس کے بعد جب حالات سدھرے تو ۱۹۵۸ء میں مارشل لا نافذ ہوگیا۔ادب اِن تمام حالات سے مبرّا نہیں رہ سکتا تھا لہٰذا اردو ادب اور خاص طور پر اردو افسانے پر اس کے اثرات سب سے زیادہ مرتّب ہوئے۔ایسے حالات میں جن لوگوں نے پاکستان کاخواب دیکھا تھا اُن کے خواب چکنا چور ہوگئے۔اگر افسانے میں ان سانحات کے اثرات کو دیکھا جائے تو ظاہر ہے کہ اس کا اثر لازمی طور پر ہوا۔بہ قولِ فردوس انور قاضی
’’
۱۹۴۷ء سے قبل ہمارے تمام ممتاز اور بڑے افسانہ نگار اپنے معیّنہ خطوط اور رجحانات کے ساتھ لکھ رہے تھے۔اُن کے افسانوں میں محبت،رومان،جنسی تحریکات،سیاست،معیشت،معاشرت اور بین الاقوامی تغیرات کی ساری کروٹیں تھیں مگر ان کے دیکھتے ہی دیکھتے فسادات کچھ اس شدت اور اتنے وسیع پیمانے پر بھڑک اٹھے کہ اُن کے خواب جھلس کر رہ گئے ‘‘۔(1)
یہ سارا وہ ورثہ تھا جو پاکستان کونئے ملک کی صوت میں ملا۔چناں چہ قیامِ پاکستان اور مارشل لا کے نفاذ کے درمیان کا وقفہ محض ایک سانس لینے کا وقفہ ثا بت ہوا ۔سوچنے سمجھنے والا ذہن ماؤف ہو گیااور سارا منظر نامہ نظروں سے اوجھل ہوگیا ۔جذبات،احساسات اور زندگی کے تجربے نئے حالات میں سانس لینے لگے اور افسانے میں فکری اور اسلوبیاتی سطح پر نئی تبدیلی رونما ہوئی۔کہانی کہنے کے تمام پرانے سانچے ٹوٹ گئے اور نئے رویّوں میں نیا انداز غالب آگیا۔
ہندوستان کی طرح پاکستان میں بھی نیا افسانہ ۱۹۶۰ء اور اس کے آس پاس کے عرصے میں جنم لیتا ہے۔جدید افسانے کو عموماً علامتی اور تجریدی افسانہ کہا جاتا ہے اور جدیدیت کے آغاز کا تعیّن ۶۰۔۱۹۵۵ء کے درمیانی عرصے سے کیا جاتا ہے۔ اس حوالے سے۱۹۵۸ء کا سال پاکستان کی تاریخ میں بڑی اہمیت رکھتا ہے ۔اس سیاسی جبریّت کا نتیجہ یہ نکلا کہ ادیب نے خارج کے بہ جائے داخل کی طرف توجہ دینا شروع کردیا اور ادیبوں نے علامتی پیرایہ اختیار کرنے کو اپنے اوپر لازمی قرار کرلیا۔یہی وجہ ہے کہ اس عہد کے افسانوں میں سب سے بڑی تبدیلی افسانے کے اسلوب میں آئی اور نیا افسانہ اپنے نئے علامتی و تجریدی اسلوب کے ساتھ جلوہ گر ہوا۔افسانے کی تخلیق میں جو تیزی تقسیم سے قبل اور اس کے بعد چند سالوں میں تھی وہ مارشل لا اور علامت وتجرید کے دور میں نہیں دکھائی دیتی بل کہ افسانے میں ایک طرح کے جمود کا احساس ملتا ہے۔
اس ضمن میں گرچہ بہت سی وجوہات بیان کی جاسکتی ہیں لیکن افسانے میں جمود کا ایک اہم سبب ترقی پسند تحریک کا زوال بھی ہے۔گو کہ ترقی پسندوں کے موضوعات محدود تھے اور ان موضوعات کی جگہ فسادات کے ادب نے لے لی تھی اور اس طرح ۱۹۵۵ء تک آتے آتے ترقی پسندوں کے موضوعات سمٹتے گئے۔کئی فن کاروں نے اس تحریک سے کنارہ کشی اختیار کرلی اور جدیدیت کے رو میں بہہ نکلے۔جب جدیدیت کا رجحان اردو افسانہ نگاروں کے ہاتھ لگا تبھی ترقی پسندی کی روشنی دھیرے دھیرے مدھم پڑنے لگی۔یہ الگ بات ہے کہ ترقی پسند تحریک نے افسانے کی ترقی میں اہم رول ادا کیا اور بے پناہ موضوعات عطا کیے۔ترقی پسند تحریک جس سیاسی و سماجی پس منظر میں کام کر رہی تھی وہ پس منظر تقسیمِ ہند کے بعد موجود نہیں رہا تھا۔نئے سماجی و سیاسی حقائق،نئے نظریاتی پس منظر کے متقاضی تھے۔پھر ترقی پسند تحریک کی بے رحم حقیقت نگاری،ترقی پسند افسانے میں کشش کے خاتمے کا سبب بنی۔پاکستان میں ترقی پسند افسانے کے ردِّ عمل کے طور پر رومانیت کی ایک لہر آئی۔اشفاق احمد،اے حمید اورشفیق الرحمن وغیرہ اِس ضمن میں قابلِ ذکر افسانہ نگار ہیں۔مذکورہ بالا افسانہ نگار رومانوی اسلوب کے ساتھ افسانے کے میدان میں داخل ہوئے۔بہ قولِ شہزاد منظر :
’’
ارد و میں علامتی افسانے کے رجحان کے جنم لینے کے مختلف اسباب میں سے ایک بڑا سبب ترقی پسند افسانے کا ردِّ عمل بھی ہے جو علامتی افسانے کی شکل میں ظاہر ہوا۔ترقی پسند افسانے میں جس قسم کی بے رحم حقیقت نگاری کی جا رہی تھی ،اس نے واضح ردِّ عمل ظاہر کیا اور افسانہ نگار وضاحتی طرزِ بیان سے اکتا کر علامتی طرزِ اظہار کی طرف مائل ہوئے‘‘۔(2)
اُس دور میں اردو کے با شعور ادیبوں کو احساس ہوچلا تھا کہ اردو ادب ،کم از کم اردو افسانہ جمود کا شکار ہو رہا ہے اور پاکستان میں جب ترقی پسند مصنفین کی انجمن پر پابندی عائد ہو گئی تو ترقی پسند افسانے کا سفرتقریباً رُک سا گیا۔اب ادب کو نئے سمت کی تلاش تھی لہٰذا ساٹھ کی دہائی میں افسانے نے اپنا ٹرینڈ بدلا اورفن کاروں نے علامات کا استعمال کرنا شروع کردیا۔علامات کے استعمال کی ایک وجہ یہ تھی کہ مارشل لا کے عہد میں آزادئ اظہار پر پابندی عائد تھی اور علامات ہی کو واحد ذریعہ تصور کیا جاتا تھا کہ کسی بات کو ڈھکے چھپے انداز میں پیش کرکے اپنی بات کو کہا جاسکتا ہے۔اس کے علاوہ پاکستان کے نئی نسل کے افسانہ نگاروں کے لیے ایک اہم مسئلہ اُس دور کے بڑے بڑے افسانہ نگاروں کی موجودگی میں اپنی انفرادیت کو منوانابھی تھا۔یہ وہ دور تھا جب اشفاق احمد،ممتاز مفتی،احمد ندیم قاسمی،غلام عباس،انتظار حسین وغیرہ نہایت پابندی سے افسانے لکھ رہے تھے۔ان افسانہ نگاروں کی موجودگی میں نئے افسانہ نگاروں کے لیے اپنی انفرادیت کوئی آسان بات نہ تھی۔
مندرجہ بالا اقتباسات سے اس بات کی وضاحت ہو تی ہے کہ ساٹھ کی دہائی میں بیانیہ افسانے کے بہ جائے علامتی طرز اختیار کرنے کی ایک نہیں کئی وجوہات تھیں۔پہلی وجہ اس دور کے بلند پایہ افسانہ نگاروں کے مقابلے میں نئی نسل کے افسانہ نگاروں کا اپنی شناخت کا مسئلہ،دوسری وجہ ترقی پسند افسانے کی حقیقت نگاری یا وضاحتی طرزِ بیان سے اکتاہٹ اور پھر تیسری اہم وجہ آزادئ اظہار پر پابندی سے نجات حاصل کرنا ہے۔لہٰذا اُن افسانہ نگاروں نے علامات کا استعمال اپنے افسانوں میں کیا تاکہ ان کی انفرادیت قائم ہو سکے۔اردو افسانے میں ساٹھ کی دہائی میں علامت کا چلن عام ہوا تو افسانے کو معنوی اور موضوعی دونوں اعتبار سے پھلنے پھولنے کا موقع مل گیا۔نئے اردو افسانے نے زندگی کو وسیع تنا ظر میں دیکھنے کی روایت قائم کی اور نیا اسلوب وضع کیا۔بہ قولِ اعجاز راہی
’’
نئے افسانے کی علامتیت،رمزیت،پیکریت اور دروں بینی کا وظیفہ جو موجود انسان کی نفسی محرکات میں بڑا ممد و معاون ثابت ہوتا ہے۔بنیادی طور پر پورے عصری افسانے کے لیے عصری اسلوب کے نام سے پکارا جا سکتا ہے۔علامتیت، قاری کے اندر اپنی تحریر کی غنائیت اور کثیر المعانی زاویوں کے سبب ایک ایسی کیفیت پیدا کرتی ہے جو عصر کا مفہوم سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔یوں کہا جا سکتا ہے کہ علامتیت میں افسانے نے پہلی بار اصل ہےئت پائی اور اس کی روح اور نفسی اتھاہ تک اترنے میں رسائی حاصل کی۔یہ علامتیت کی عطا ہی ہے کہ اس نے روحانی مناظر کے مابین رشتوں کی تجدید سے اردو افسانے کو جدید فلسفیانہ آہنگ دینے اور ’’تصوریت مادی نقطۂ نظر رکھنے والوں کے لیے‘‘کو منطقی معنویت میں ڈھال کر موجود اور غیر موجود،فانی اور غیر فانی،تصور اور حقیقت کے مختلف کناروں کو علامتیت کی روایت میں ایک غیر تحلیل شدہ وحدت میں پرودیا‘‘۔(3)
مندرجہ بالا صورتِ حال نے کہانی کی بُنت اور پلاٹ کے پرانے تصور کو ایک نئے اسلوبیاتی صورت حال میں بدل دیا۔علامت ،بنیادی طور پر شاعری کی تحریک تھی لیکن افسانے نے اس کا سب سے زیادہ اثر قبول کیا۔ساٹھ کی دہائی میں پاکستان میں جن افسانہ نگاروں نے علامتی افسانے لکھے اور اس صنف میں خاطر خواہ اضافہ کیا،اُن میں انتظار حسین،انور سجاد،خالدہ حسین،رشید امجد اور منشا یاد وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔
قیامِ پاکستان کے بعد ترقی پسند تحریک کے ردِّ عمل کے طور پر تحریکِ ادبِ اسلامی بھی سامنے آئی۔اسلامی تعلیمات اور اسلامی نظرےۂ حیات کی اردو ادب میں ترویج و ترقی اور غیر اسلامی نظریات و افکار سے انحراف،تحریک کے بنیادی مقاصد تھے۔پاکستانی عوام کی ذہنیت اور اخلاقی و مذہبی قدروں کی پاس داری کے اس منصوبے کا آغاز باقاعدہ،منظم اور شعوری کوششوں کے ساتھ ہوا۔تحریک کا باقاعدہ منشور تیار ہوا جس پر رفقا نے قبولیت کے ساتھ دست خط کیے۔تحریک کی شاخیں قائم ہوئیں اور ہفتہ وار مجالس کا اہتمام بھی ہوا۔تحریک ادب اسلامی کے رفقا میں جذبۂ ایمانی،ایثار اور قربانی کی کمی نہیں تھی۔یہ تحریک چوں کہ ردّعمل کے طور پر وجود میں آئی تھی اور اس کے پیش نظر ایک خاص نصب العین تھا ،اس لیے اس تحریک کے ابتدائی دور میں جوش اور ولولے کی فراوانی نظر آتی ہے۔
اردو ادب میں اسلام اور اسلامی نظریات و افکار کا حوالہ دورِ قدیم سے ہی موجود رہا ہے۔خواجہ بندہ نواز گیسو دراز سے علامہ اقبال تک،تخلیقِ ادب میں اس کے آثار واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں ۔ شعوری طور پر اسلامی ادب کا مطالبہ کسی بھی عہد میں نہیں ملتا لیکن پہلی ناکام جنگِ آزادی ۱۸۵۷ء کے بعد کا زمانہ مسلمانانِ ہندکے لیے اذیت ناک ثابت ہواتھا۔ہندؤں کے معاندانہ رویّے کی بہ دولت اُس عہد میں وقتاً فوقتاً احیائے مذ ہب کی تحریکیں تو ابھری تھیں لیکن ادب میں اسلام لانے کا مطالبہ کسی تحریک نے نہیں کیاتھا۔اس کی وجہ غالباً یہ تھی کہ (۱۸۵۷ء۔۱۹۴۷ء) کے عہد میں اسلام ،مسلمان اور اردو زبان کو ایک نظر سے نہیں دیکھا جاتا تھا۔۱۹۳۱ء تک ایسی کوئی صورت پیش نہ آئی جو اسلامی حوالوں سے ٹکراؤ کا باعث بنے۔۱۹۳۲ء میں ’’انگارے‘‘ کی اشاعت سے اس ٹکراؤ کا آغاز ہوا۔ادب میں یہ پہلی کاوش تھی جو اسلام پسندوں کے لیے غم و غصے کا باعث بنی اور شدید ردِّ عمل ہوا۔اس کے بعد ترقی پسند تحریک اور حلقۂ اربابِ ذوق کے زیرِ اثر ادب میں نئے تجربات ہوئے اور مغربی رجحانات اور تحریکوں کے زیرِ اثر حیات و کائنات کی تعبیر و تشریح اردو ادب میں نمایاں ہوئی۔مسلم ثقافتی محور سے ہٹ کر تخلیقِ ادب کا یہ سفر رفتہ رفتہ اُن باغیانہ رویّوں کے فروغ کا باعث بنا جو بعد میں اسلامی ادب کی تحریک کی صورت میں سامنے آئی۔
تحریکِ ادبِ اسلامی اور پاکستانی ادب کی تحریک اگر چہ دو مختلف تحریکیں تھیں لیکن نظریات و افکار کی ہم آہنگی اور مقاصد کی یک رنگی کی بہ دولت ایک ہی متصّور ہوتی تھیں۔چہ جائے کہ دونوں تحریکیں ترقی پسند کے ردِّ عمل کے طور پر سرگرم تھیں۔مندرجہ بالا دونوں تحریکوں کی بنیادی شناخت نظریاتی حوالوں ہی سے ہے۔تخلیقی سطح پر نہ تو تحریکِ ادبِ اسلامی کوئی اثرات مرتّب کر سکی اور نہ ہی پاکستانی ادب کی تحریک نے کوئی کارنامہ انجام دیا۔رشید امجد کے بہ قول
’’
پاکستانی ادب کی تعمیر کرنے والے تخلیقی سطح پر کوئی قابلِ ذکر کام نہ کر سکے اور یہ موضوع صرف تنقیدی بحثوں تک ہی محدود رہا۔اسی طرح اسلامی ادب کی بات کرنے والے بھی ادبی معیار اور جمالیاتی اقدار کی اعلا سطح کو نہ چھو سکے اور اسلامی ادب لکھنے والے کبھی بھی ادبا کی فہرست میں شامل نہ ہوسکے۔ان کی حیثیت دوسرے درجے کے لکھنے والوں ہی کی رہی جن کا ذکر قابلِ ذکر تنقید میں کبھی نہ آسکا۔‘‘(4)
تخلیقی حوالے سے اس فقدان کی ایک بڑی وجہ تخلیق کاروں کی عدم دست یابی ہو سکتی ہے۔اکثر لکھنے والوں کا تعلق ترقی پسند تحریک سے تھا۔نئے لکھنے والے موجود تھے لیکن اس تحریک کے گھنے سائے تلے کچھ نیا کر دکھاناشاید آسان نہ تھا۔تحریکِ ادبِ اسلامی والوں کی ادبی بنیاد تو تھی نہیں۔نعیم صدیقی،ابنِ فرید،نجم الاسلام وغیرہ کی صورت میں جو چند رفقا میسر آئے،اُن کا زیادہ زور تنقیدی پہلوؤں پر صَرف ہوا۔پاکستانی ادب کی تحریک میں اگر چہ محمد حسن عسکری،ممتاز شیریں،سعادت حسن منٹو،انتظار حسین وغیرہ چند بڑے نام موجود تھے لیکن فوری طور پر یہ کوئی ایسا فن پارہ تخلیق کرنے میں کام یاب نہ ہوسکے جو تحریک کی نظریاتی بنیادوں سے ہم آہنگ ہو۔محمد حسن عسکری اور ممتاز شیریں نے تو تقسیم کے بعد افسانہ نگاری ترک کر دی تھی۔منٹو کثرت سے لکھتے رہے لیکن اپنی ضروریات و مصروفیات کے باعث طے شدہ راستوں سے ہٹنا اُن کے لیے محال تھا۔انتظار حسین چوں کہ ہجرت کرکے پاکستان آئے تھے اسی لیے ان کا فکری میلان اور مزاج بالکل مختلف نوعیت کا تھا لہٰذا وہ بھی پاکستانی ادب کی تحریک سے متأثر ہونے کے باوجود تخلیقی سطح پر پاکستانیت کے عناصر نمایاں نہ کر سکے۔
۱۹۴۷ء سے قبل عصمت چغتائی،غلام عبّاس،احمد ندیم قاسمی اور خواجہ احمد عباس وغیرہ جس نوع کے افسانے لکھ رہے تھے،معمولی ردّو بدل کے ساتھ وہی روِش بعد میں بھی جاری رہی۔ممتاز مفتی بھی طرزِ کہن سے وابستہ رہے البتّہ میرزا ادیب،اشفاق احمد،قدرت اللہ شہاب،اے حمید،شفیق الرحمن اور غلام الثقلین نقوی نے فسادات کے زیرِ اثر رومانی اورجذباتی انداز کواختیار کیا۔ان میں سے غلام الثقلین نقوی کو پاکستانیت کے زیادہ قریب قرار دیا جا سکتا ہے۔ان کے ہاں اپنی مٹی کے رنگوں کو کشید کرنے ، اپنے مخصوص مزاج اور طرزِ احساس کو نمایاں کرنے کا رجحان غالب ہے۔
اردو افسانے پر تحریکِ ادبِ اسلامی اور پاکستانی ادب کی تحریک کا براہِ راست تو کوئی اثر نہیں پڑا بل کہ یہ آثار افسانے میں پاکستانی ماحول، پاکستانی معاشرے کے جذبات و احساسات اور فکری و ذہنی رویّوں کی صورت میں ہیں۔اس تحریک کے برعکس (پاکستان میں جو چھوٹے بڑے سانحات و حادثات رونما ہوئے) نے کئی لازوال افسانے صنفِ افسانہ کو دیے ہیں ۔مثال کے طور پر ۱۹۶۵ء میں پاک و ہند کے حوالے سے جو افسانے لکھے گئے اُن میں خدیجہ مستور کا ’’ٹھنڈا میٹھا پانی‘‘،فرخندہ لودھی کا ’’پاربتی‘‘،صادق حسین کا’’ایک رات‘‘ اور غلام الثقلین نقوی کے’’نغمہ اور آگ‘‘ اور ’’جلتی مٹی‘‘ وغیرہ خاص طور سے اہم ہیں۔
پاک و ہند سانحے کے بعد ایک اور سانحہ پاکستانی اردو افسانے پر اثر انداز ہوا اور وہ سانحہ تھا ۱۹۷۱ء میں بنگلہ دیش کے قیام کا۔چہ جائے کہ یہ المیہ زبان کی شکست و ریخت کا تھا لیکن اس سانحے نے بھی تخلیقی ذہن کو ایک نئے المیے سے دوچار کیا۔بنگلہ دیش کا قیام، نظرےۂ پاکستان پر ایک ضرب تھی۔وہ تصورات جن کے ذکر کے ساتھ قیامِ پاکستان کا تذکرہ ہوتا تھا،انہیں بنگلہ دیش نے نئی صورتِ حال سے دوچار کردیا۔اس طرح پاکستان میں قومی سطح پر تشخص کا سوال اٹھ کھڑا ہوا۔یعنی یہ کہ پاک کا قومی نظریہ کیا ہے؟اس کی بنیاد کیا ہے؟اس کی شناخت کیا ہے؟وغیرہ۔یہی وہ سنجیدہ سوالات تھے جنہیں افسانے نے قبول کیا اور اس طرح ستّر کی دہائی کے آغاز میں ان موضوعات کا اضافہ ہوگیا۔بہ قولِ فرمان فتح پوری
’’
پاکستان کو دو نہایت اہم اور نازک موڑوں سے بھی گزرنا پڑا۔ایک کا تعلق ۱۹۶۵ء میں ہندوستانی حملے کے خلاف جنگ سے تھا اور دوسرے کا ۱۹۷۱ء میں سقوطِ ڈھاکا کے المیے سے۔دونوں کے عمل اور ردِّ عمل سے پیدا شدہ حالات و مسائل کا ذکر اس دور کی فسانہ نگاری میں ملتا ہے.....دوسرا موڑ ہماری قومی غفلت،نا عاقبت اندیشی،سیاسی بے بصری،خاں نما بربادی،تباہی اور کرب و ندامت کے احساس کا پیکر بن کر ہمارے افسانوں میں رونما ہوا ہے‘‘۔(5)
مشرقی پاکستان کے المیے نے روایتی کہانی اور نئے افسانے کو اپنے اپنے طریقے سے متأثر کیا۔اس سانحہ کے حوالے سے اِنتظار حسین کا ’’نیند‘‘،’’شہرِ افسوس‘‘ اور ’’ہندوستان سے ایک خط‘‘،رشیدہ رضویہ کا ’’شہر سلگتا ہے‘‘،غلام الثقلین نقوی کا ’’کالی ماتا کی پجارن‘‘،منیر احمد شیخ کا ’’زرد ماضی کی خوشبو‘‘،انور عنایت اللہ کا ’’صلہ شہید‘‘،علی حیدر ملک کا’’بے زمین بے آسمان‘‘اور ’’پسپائی کا آخری موڑ‘‘،شبنم یزدانی کا ’’پنڈولم‘‘،انیس صدیقی کے’’بزدل سقراط‘‘،’ ’ڈرائنگ‘‘،’’چونی‘‘ اور ’’وقت‘‘،شہناز پروین کا ’’مکتی ‘‘ اور ’’مالک‘‘،نواب محی الدین کا ’’حیا آتی ہے‘‘،رحمن شریف کا ’’کہانی ایک طوطے کی‘‘ اور شہزاد منظر کا ’’دشمن‘‘ اور ’’تیسرا وطن‘‘ قابلِ ذکر افسانے ہیں۔
پاکستان کی تاریخ کا ایک اور اہم واقعہ ستّر کی دہائی میں فوجی آمریت (۱۹۷۷ء )کے نفاذ کا بھی ہے۔فوجی آمریت کا یہ زمانہ چوں کہ سقوطِ ڈھاکا اور جمہوری تحریکوں کے بعد آیااس لیے بھی اس نے ذہنوں پر گہرا اثر ڈالا۔اس مارشل لا کے خلاف احتجاج کی شدید لہر اُٹھی۔احتجاج کی یہ لَے جس قدر مسلسل اور شدید تھی،شاید پہلے نہ تھی۔اس عہد کے دوران سب سے زیادہ ضرورت آزادئ اظہار کی تھی۔اس لیے اس دور میں گھٹی گھٹی آوازوں اور حبس کے موسموں کا بہت ذکر ہے۔نئی نئی علامتوں اور استعاروں کے تجربے سامنے آئے ۔مزاحمتی اور علامتی ادب کی کئی نئی مثالیں قائم ہوئیں۔اس واقعے نے ملک کے ادیبوں اور دانش وروں کو ذہنی طور پر جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور انہوں نے بڑی تعداد میں آمریت کے خلاف مزاحمتی افسانے لکھے ۔
۱۹۷۷ء کے مارشل لانے ہرسطح پرپاکستان کے نظام کومتأثرکیا۔وہاں کے ادیبوں نے تاریخی ذمے داری کومحسوس کرتے ہوئے نہ صرف اس دورِ سیاہ کوریکارڈ کیابل کہ اس کے خلاف ردّعمل کااظہارکرتے ہوئے پاکستانی ادب کونئے شعورسے متعارف کرایا۔دوسری اصناف کی بہ نسبت افسانہ کثیر تعداد میں لکھاگیا۔ان افسانوں کواعجازراہی نے ’’گواہی‘‘کے نام سے ایک مجموعہ مرتب کیا جس میں چودہ کہانیاں شامل ہیں۔جن کی تفصیل یہ ہے :
’’
سن تو سہی‘‘(احمدجاوید)،’’وسکی اورپرندے کاگوشت ‘‘(احمدداؤد)،’’ناسفر‘‘(اسلم یوسف)،’’سہیم ظلمات‘‘ (اعجازراہی) ،’’سیارہ رات‘‘ (انورسجاد)،’’گناہ سے ضمیرتک‘‘(جوہرمیر)،’’ایک آنکھ کاچاند‘‘(رحمن شاہ عزیز)،’’پت جھڑ میں مارے گئے لوگوں کے نام ‘‘ (رشیدامجد)،’’رب نہ کرے ‘‘(فریدہ حفیظ )،’’رکی ہوئی آوازیں‘‘(منشایاد)،’’تربیت کاپہلادن (مرزا حامدبیگ)، ’’کندھے پرکبوتر‘‘ (مظہرالاسلام)،’’ایک بانسری ہزار نیرو‘‘(منصورقیصر)اور’’گودھراکیمپ‘‘(نعیم آروی)۔دیباچہ میں مرتب نے لکھاہے:
’’
قدروں کے زوال کی صورت حال سے جس طرح آج کالکھنے والادوچارہواہے ،شعورکی آنکھ نے یہ منظردیکھے نہ تھے۔ بنجر شباہتوں کی دہلیزپرہرشے پہچان کے لبادے اتارچکی ہے کہ آمریت پسندی نے خوف ودہشت کے جن صحراؤں کوذہن کی وادیوں میں دھکیل دیاہے یہی پرانے رویّوں سے بغاوت کے ایک نئے رجحان کی علامت بھی بنا‘‘۔(6)
قدروں کے زوال کی روایت توپاکستان یاپاکستانی عوام کے لیے نئی نہیں تھی اورمارشل لاکاتجربہ بھی کوئی نیانہیں تھاالبتہ اس مارشل لانے اپنے لیے کوئی مناسب جوازپیش نہ کیا۔علاوہ ازیں نئی بین الاقوامی صورت حال میں جب کہ دنیاچاروں طرف سے دو بڑی قوت کے استبدادکاشکارہورہی تھی ،پاکستان میں بنیادی حقوق کایوں سلب ہوجانا،نئے المیے کولے کرآیا۔نتیجتاًافسانے میں علامت اور تجریدکی مختلف النوع صورتیں پیداہوئیں۔تلخی ،غصہ،دہشت ،خوف اورایسے ہی تمام نفسیاتی واعصابی دباؤکے مظاہراب اردو افسانے میں ظاہرہونے لگے ۔ یہی وہ زمانہ تھاجب راول پنڈی اوراسلام آبادمیں افسانہ نگاروں کی بڑی تعدادموجودتھی اورتمام فن کارمدافعتی افسانہ لکھ رہے تھے ۔
اس دورمیں لکھے گئے تمام افسانے علامتی اندازمیں تحریرکیے گئے تھے ۔اس ضمن میں قابلِ ذکرامریہ ہے کہ یہ وہ زمانہ تھاجب کئی نئی علامات سامنے آئیں۔ان ایام میں’’بستی ‘‘کی علامت خاص طورپرافسانے کی شناخت بنی ۔تشبیہ واستعارے سے بھی کام لیا گیا اورشعری زبان بھی اکثرافسانہ نگا روں کے اسلوب کاحصہ دکھائی دیتی ہے مثلاًمحمدمنشایادنے مارشل لاکے زمانے میں اپناافسانہ ’’رکی ہوئی آوازیں‘‘آزادنظم کی تکنیک میں تحر یر کیا ۔ منصورقیصرکے افسانے’’ایک بانسری ہزارنیرو‘‘میں معاشرے کے مختلف طبقوں کے نمائندوں کی بے حسی کوموضوع بنایاگیا۔احمدداؤدنے مارشل لاکے حوالے سے بہت تیزی سے افسانے لکھے۔اس ضمن میں اس کاافسانہ ’’وسکی اورپرندے کا گوشت‘‘قابل ذکرہے۔اس افسانے میں مصنف کااندازکہیں کہیں انتہائی تیکھااورطنزیہ ہے ۔
احمدجاویداس دورکے اہم افسانہ نگارہیں۔۱۹۸۰ء میں’’غیرعلامتی کہانی‘‘کے نام سے ان کاایک مجموعہ شائع ہواجس میں بیش تر افسانے ما ر شل لاکے ردعمل میں تحریرہوئے ۔اس ضمن میں ان کے افسانے ’’پیادے‘‘،’’گشت پرنکلاہواسپاہی‘‘اور’’باہروالی آنکھ‘‘ خاص طورپرقابل ذ کر ہیں ۔ ا حمد جاویدکی کہانیاں دراصل ان زندہ افرادکے مرثیے ہیں جواندرسے ٹوٹ چکے ہیں اورایک ایسی فضامیں سانس لے رہے ہیں جہاں قدم قدم پرتبدیلی کی خواہش سراٹھاتی ہے ۔مظہرالاسلام کاافسانہ ’’کندھے پرکبوتر‘‘بھی اس ضمن بہت اہمیت کاحامل ہے ۔ 
یہاںیہ امردل چسپی سے خالی نہ ہوگاکہ مارشل لاکے حوالے سے علامت نگاروں نے ہی افسانے نہیں لکھے بل کہ حقیقت نگاروں نے بھی اس موضوع پرافسانے لکھے ۔فرق صرف یہ ہے کہ مارشل لاکے دورکابراہ راست ذکرنہیں کیابل کہ رمزیہ اندازاختیار کیا۔اس ضمن میں زاہدہ حناکے چارافسانے قابلِ ذکرہیں۔’’آخری بوندکی خوشبو‘‘،’’بودونابودکاآشوب‘‘،’’تتلیاں ڈھونڈنے والی‘‘ اور’’رنگ تمام خون شدہ‘‘ ۔خواتین افسانہ نگاروں میں زاہدہ حناکے علاوہ اخترجمال ،فہمیدہ ریاض وغیرہ نے بھی اس موضوع پرقلم اٹھایا۔
پاکستان میں افسانوں کاذکرکریں توسترکی دہائی کاحوالہ کئی اعتبارسے اہم ہے ۔یہی وہ زمانہ ہے جب دیگراصناف کے مقابلے میں افسانے نے بے پناہ مقبولیت حاصل کی اورافسانہ نگاروں کی لمبی فہرست منظرعام پرآئی ۔چند نئے ناموں کابھی اضافہ ہوا جن میں احمدجاوید، مرزاحامدبیگ ،احمدداؤد ،منصورقیصر،علی حیدرملک ،زاہدہ حنا،مظہرالاسلام وغیرہ کوخاص اہمیت حاصل ہے ۔ اسی عشرے میں راولپنڈی گروپ اوراسلام آباداسکول آف تھاٹ جیسے الفاظ بھی سنائی پڑتے ہیں۔ان دونوں شہروں میں اتنے سارے افسانہ نگاروں کاایک شہرمیں جمع ہوجاناکسی پلان کے تحت نہیں ہواتھابل کہ یہ محض اتفاق تھا۔بہ قول سلیم اختر:
’’
یہ ایک ادبی اتفاق ہے کہ اس وقت راول پنڈی میں رشیدامجد،منشایاد،مرزاحامدبیگ، مظہرالاسلام، ا حمد د ا ؤ د ا و ر احمدجاوید کی صورت میں نئے افسانے کے داعی موجودہیں۔تنقیدی مقالات میں بالعموم ان سب کوپنڈی گروپ کہہ کراکٹھے بھگتادیاجاتاہے ۔ حالاں کہ ان کازاویۂ نظر،طرزاحساس ،ہیئت ،اسلوب اورافسانوی تدبیرکاری حتی کہ مزاج کے لحاظ سے بھی یہ سب ایک دوسرے سے اتنے مختلف ہیں کہ بعض توایک میزپراکٹھے ہوکرچائے بھی نہیں پی سکتے ۔پھریہ گروپ کیسے ہوگئے ۔ان میں سے ہرایک کاانفرادی مطالعہ ہوناچاہیے ۔ایک شہرمیں رہائش اضافی ہے‘‘۔(7)
سلیم اخترکی اس رائے سے اختلاف کی بہت کم گنجائش ہے ۔یہاںیہ بات وضاحت طلب ہے کہ ساٹھ کی دہائی میں افسانے نے علامتی ،داستانی اورتجریدی لب ولہجے کواپنایاتوسترکی دہائی میں استعاراتی ،نیم علامتی ،تمثیلی الغرض ہرطرح کااسلوب وضع ہوا۔افسانے پرنظم کے اثرات بھی آئے ،انشائیے کااسلوب بھی اثراندازہوا۔پاکستان میں ستراوراسی کی دہائی میں راولپنڈی اوراسلام آبادگروپ کے علاوہ بھی کئی ایسے افسانہ نگارتھے جنہوں نے افسانوی ادب کے حوالے سے کئی موضوعات میں اضافے کیے جن میں اسد محمدخاں،زاہدہ حنا،اے خیّام ، مستنصرحسین تارڑ اورعلی حیدرملک کے نام مثال کے طورپرپیش کیے جاسکتے ہیں۔
پاکستان میں اسّی اور نوے کی دہائی میں بھی کوئی ایسی صورت حال پیدا نہ ہو سکی جس سے عوام میں فرحت و انسباط کا ماحول اور سیاسی طور پر امن کا ماحول ہو بل کہ قیام پاکستا ن کے بعد تو سکون افزا صورت حال پیدا ہی نہ ہو سکی ۔ اس ملک کو ایسے حکم راں بھی نصیب نہ ہو سکے جو اپنے بہ جائے ملک کے فلاح و بہبود کے لیے کام کر سکیں اور ملک کی ترویج و ترقی کے لیے کوشاں ہوں ۔ یہی وہ رسہ کشی تھی جس نے عوام کو حکومت کے خلاف لا کھڑا کر دیا اور نتیجے کے طور پر پاکستانی معاشرہ کئی حصوں میں منقسم ہو گیا۔ وہاں کے لوگ نسل ، زبان ، علاقائیت ، مذہبی فرقہ واریت میں اس قدر محو ہوئے کہ کوئی بھی ایک دوسرے کو دیکھنے کو تیار نہیں ۔ شیعہ سنّی فسادات تو کھلے عام ہوتے رہتے ہیں ، مہاجرین کو تا ہنوز گری نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔ سندھی، سرائیکی ، پشتو، کشمیری ، پنجابی بولنے والے بھی ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے در پے ہیں ۔ ایسی صورت میں معاشرے میں کس نوعیت کی ترقی ہوگی ، اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
نئی صدی کا استقبال پوری دنیا نے کیا ۔ پاکستان نے اِس صدی کو خوش آمدید اس لیے بھی کہا کہ سابقہ تریپن سالوں میں انہوں نے امن و سکون کا فقط خواب ہی دیکھا تھا۔ ضرورت اس بات کی تھی کہ اِس نئی صدی میں ان کے خواب پورے ہوں لیکن صد افسوس ! کہ یہ خواب بھی شرمندۂ تعبیر نہ ہو سکا ۔ یہاں اشارہ امریکا کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر 9/11کو ہونے والے حادثے سے ہے ۔ گیارہ ستمبر کا دن عہد جدید کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے جب پرانی تہذیبی اقدار کا خاتمہ ہوا اور مشرق و مغرب کے ما بین ایک نیا رشتہ استوار ہوا۔ اس رشتے کو غیر اسلامی ممالک خصوصاً امریکا نے مسلم ممالک سے منافقانہ اور باغیانہ رویہ اختیار کیا۔ یہ سانحہ یوں تو امریکا میں رونما ہوا لیکن اس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوئے ۔ خاص طور سے مسلم مما لک پر اس کا اثر شدید طور پر پڑا۔ بہ قول خالد جاوید:
’’
امریکا اپنے آپ میں صرف ایک ملک ہی نہیں رہا ہے۔ وہ خود بھی ایک سسٹم بن چکا ہے ۔ حفاظتی اعلا ترین ٹیکنا لوجی ، صارفیت اورسرمایہ کاری بہ جائے خود ’’امریکا‘‘ہیں۔ امریکا کو ابتدا ہی سے سرمایہ کاری میں ایک بے رحمانہ دل چسپی رہی ہے، جنون کی حد تک۔‘‘(8)
امریکا کے نظام کی حمایت کرنے والوں کے مطابق امریکا ایک ملک ہی نہیں ، ایک دستور حیات اور طرز زیست کا بھی نام ہے۔اس ملک کی ایک تو جغرافیائی حدود ہیں اور دوسری ثقافتی ، معاشرتی اور اقداری حدود ہیں ۔ ان ثقافتی حدود سے باہر زندگی بسر کرنے والے لوگ امریکیوں کے لیے غیر ہیں ۔ ان کی اپنی سر زمین پر’’ غیروں‘‘کی اس کارروائی نے انہیں دم بخود کر دیا ہے اور انہیں اپنے خول کی ناتوانی کا احساس مسلسل کچو کے لگا رہا ہے۔ 9/11کے سانحے کا اثر سب سے زیادہ اُن ممالک پر پڑا جو ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے کوسوں دور واقع تھے ۔ عراق ، افغانستان اور پاکستان ان میں سر فہرست ہیں ۔ پاکستانی حکومت اور عوام نے اس درد کو برداشت کیا ہے۔خاص طور سے وہ پاکستانی عوام جنہوں نے مستقل طور پر امریکا میں بود وباش اختیار کر لی تھی اور جنہوں نے بہ غرض تجارت وہاں سے اپنے تعلقات استوار کیے ہوئے تھے، تمام لوگوں نے اس اذیت ناک کرب کو جھیلا۔ادب کے حوالے سے سر دست یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستانی ادیبوں کے علاوہ امریکی ادیبوں نے اس سانحہ کو کس زاویے سے پیش کیا ہے۔
امریکا میں لکھے جانے والے ناولوں میں عام طور پر انفرادی صدمات وحادثات کوموضوع بنایا گیا ہے۔گیارہ ستمبر2001کے آس پاس نیو یارک میں رہنے والے افراد کس طور پر اس حادثے سے متأثر ہوئے ، ان کی نجی زندگیوں میں کیا انقلاب آئے ، ان کے ذاتی خواب اور منصوبے کس طرح متأثر ہوئے اور انہیں کس طور پر اس حادثے کے ما بعد اثرات سے نپٹنا پڑا ۔ عام طور پر انگریزی فکشن نے گیارہ ستمبر کے اثرات کو اسی سطح پر دیکھا اور محسوس کیا ہے۔ایسا ہی ایک فن پارہ Don Delillo کا ایوارڈ یافتہ ناول The Falling Man میں نمایاں ہوتا ہے۔گرتا ہوا آدمی رچرڈ ڈریو کی کھنچی ہوئی انتہائی معروف ہونے والی ایک تصویر کا عنوان ہے جو گیارہ ستمبر کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی بلند و بالا عمارت سے گرتے ہوئے آدمی کی ہے۔ناول کا مرکزی کردار انتالیس سالہ قانون داں کیتھ ہے جو اس حادثے میں بال بال بچتا ہے اور زخمی و ہراساں ، ہاتھ میں کسی اجنبی خاتون کا بریف کیس تھامے علاحدہ ہوجانے والی بیوی کے فلیٹ میں داخل ہوتا ہے۔یہیں سے نہ صرف اس کی بل کہ اس کے گرد وپیش موجود تمام لوگوں کی زندگی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوتاہے ۔
گیارہ ستمبر کا واقعہ امریکی ادب ہی نہیں بل کہ پاکستانی ادب پر بھی خاصی شدت سے اثرا انداز ہو ا۔ گیارہ ستمبر کا واقعہ اگرچہ پاکستان سے کوسوں دور کسی اجنبی سرزمین پر رونما ہواتھا مگر اپنے عالمی ہمہ گیر اثرات اور پاکستان کی سیاست ، معیشت اور شہری زندگی کے امن و سکون پر شدت سے اور منفی طور پر اثر انداز ہوا ۔ اردو فکشن اور شاعری دونوں میں بھر پور طریقے سے اس واقعے کا اظہارہوا۔ ورلڈ ٹریڈ سینٹر پاکستان میں واقع نہیں تھا اور ان پر حملہ کرنے والے ملزموں میں سے کوئی بھی پاکستانی ثابت نہیں ہوا لیکن اس کے باوجود پاکستان کوخمیازہ بھگتنا پڑا اور اس حملے کے نتائج سے براہ راست متأ ثر ہونا پڑا۔ اس کے نتیجے میں پاکستان کے پڑوسی ملک افغانستان پر وحشیانہ بم باری ہوئی جس کا شدید رد عمل پاکستان کے مذہبی حلقوں میں ہوا۔طالبان کے مسئلے پر قوم دو طبقوں میں تقسیم ہوئی ۔ ایک طبقہ اسلام کے روشن خیال پہلو کی حمایت اور طالبان کی انتہا پسندی کی مخالفت پر آمادہ اور دوسرا طبقہ، منطق و دلیل سے کام لینے کے بہ جائے اسے کفر و اسلام کی جنگ قرار دے کر عین جہاد قرار دے دیا۔ جیسے جیسے امریکا کے رویے میں تشدد اور سختی بڑھتی گئی ، اسی طرح سے اُس کے رد عمل میں شدت اور امریکا سے نفرت کے جذبات میں تندی پیدا ہوتی گئی ۔ عراق پر حملہ اگرچہ پاکستان سے براہ راست تعلق نہیں رکھتا تھا مگر اسلامی جذبۂ اخوت اور اس کے ساتھ عام انسانی ہم دردی کے تحت ، اس کا رد عمل کئی نظموں اور نثری تحریروں میں نظر آتا ہے۔ اگر صرف افسانوں کی بات کریں تو اس ضمن میں ایک لمبی فہرست نظر آتی ہے۔پاکستانی افسانہ نگاروں نے اس سانحے سے متأثر ہو کر کئی لازوال کہانیاں تخلیق کیں ۔ چند کے نام درج ذیل ہیں :
’’
شناخت‘‘(مسعود مفتی)،’’دیدا و دئد‘‘(الطاف فاطمہ )،’’ایک سائکلوسٹائل وصیت نامہ‘‘(محمد منشایاد )،’’ابن آدم‘‘(خالدہ حسین)،’’مجال خواب‘‘(رشید امجد)،’’عجائب گھر‘‘(مصطفی کریم)،’’اوپریشن مائس‘‘اور ’’سرخ دھبے‘‘(نیلوفر اقبال)،’’دام وحشت ‘‘(مبین مرزا)،’’کارگر‘‘(فاروق خالد)،’’ریئلٹی شو‘‘(عرفان احمد عرفی)،’’نیند کا زرد لباس ‘‘(زاہدہ حنا)،’’اینڈ آف ٹائم‘‘(پروین عاطف )، ’’پردیسی‘‘(افتخار نسیم) ’’سورگ میں سوؤر‘‘(محمد حمید شاہد)،’’یہ جنگل کٹنے والا ہے‘‘( انوری زاہدی) ،’’ بلقان کا بت‘‘( عطیہ سید) ،’’ چودہویں رات کی سرچ لائٹ ‘‘(فرخ ندیم )، ’’مہاجر پرندے ‘‘( پرویز انجم )’’سرخ‘‘ (مسعود صابر) ،’’ لاوقت میں ایک منجمد ساعت‘‘( عاطف سلیم) ،’’ دہشت گرد چھٹی پر ہیں ‘‘(علی حیدر ملک )اور’’بن کے رہے گا‘‘(آصف فرخی) وغیرہ کے نام خصوصیت کے ساتھ لیے جا سکتے ہیں ۔ اس حوالے سے جتنے بھی افسانے تخلیق کیے گئے تمام افسانوں کا موضوع کم و بیش ایک ہی تھا البتہ کچھ افسانوں میں علامتی اسلوب کواختیار کیا گیا۔ ڈاکٹرنجیبہ عارف اس تاریخی سانحے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے رقم طراز ہیں :
’’
ما بعد کی اس دنیا میں دو بلند و بالا عمارتوں کا گرنا در اصل دو خلاؤں کی تشکیل ہے ۔ایسی تخریب جس کی بنیاد پر نئی تعمیر ہو سکتی ہے۔ یہ واقعہ ایک عہد کی فصیل اور دوسرے عہد کا دروازہ ہے۔ یہ بات بش اور اوباماکی تقا ریر سے لے کر، اسکول کے مباحثے تک کئی بار کہی اور سنی گئی ہے کہ گیارہ ستمبر کا دن عہد جدید کی تاریخ کا ایک اہم ترین دن ہے جب پرانی جمی جمائی زندگی کی بساط الٹ گئی اور مشرق و مغرب کے درمیان ایک نیا رشتہ استوار ہوا۔‘‘(9)
یہی وہ نیا رشتہ تھا جسے پاکستان نے قبول کیا اور امریکا و پاکستان کے تعلقات نا گفتہ بہ ہو گئے۔پاکستانی ادبا نے اس صورت حال کو محسوس کیا اور ذہنی دباؤ کی جو صورت ہو سکتی تھی ، تخلیقات کی شکل میں سامنے آئیں ۔ طالبانیوں کے ہونے کا جواز پیش کرکے امریکی حکومت نے عراق ، افغانستان پر بم باری تو کر دی لیکن پوری دنیا میں امریکا سے نفرت کرنے والے شدید طور پر سامنے آئے۔
اس حوالے سے اولین نمایاں کوشش مسعود مفتی کا افسانہ ’’شناخت‘‘ہے جو ۲۰۰۲ء میں شائع ہوا ۔ اس کا موضوع امریکی پاکستانیوں پر گیارہ ستمبر کے واقعے کے غیر متوقع نتائج ہیں جو ان کی کایا کلپ کا سبب بن جاتے ہیں ۔اس حوالے سے لکھے گئے افسانوں میں دہشت کا عنصر پوری طرح جلوہ گر نظر آتا ہے۔نئی صدی میں دہشت گردی کی اصطلاح نے پوری انسانیت کو خوف وہراس میں لے رکھا ہے۔یوں تویہ اصطلاح اپنا معاشرتی و سیاسی پس منظر رکھتا ہے لیکن نئی صدی میں اس کی معنویت نے اپنے رخ کو کسی خاص گروپ کے لیے مختص کرلیا ہے لیکن اتنا یاد رہے کہ دہشت گردوں کا کوئی خاص مذہب نہیں ہوتا اور ہر باریش شخص مسلم نہیں ہوتا۔اس حوالے سے محمد منشا یادکا افسانہ ’’ایک سائکلو سٹائل وصیت نامہ‘‘ قابل ذکر ہے جہاں افسانہ نگار نے کہانی کے آخری جملے سے پورے دہشت گردی کے منظر نامے کو نہایت خوب صورتی سے بیان کیا ہے،جس میں ایک کردار نہایت شریفانہ انداز میں یہ جملہ ادا کرتا ہے ’’آپ میں ہمت ہے تو نافرمانی کر کے دیکھ لیجیے۔السلام علیکم۔خدا حافظ۔‘‘اس افسانے میں منشا یاد نے شہر کے بدلتے حالات کا نقشا کھینچا ہے وہیں ایک شریف الطبع شخص کو مذہبی لبادہ پہنا کر متشدد دکھایا ہے۔ایک سائنس کے ذہین طالب علم کی ملاقات پنجاب یونی ورسٹی میں ایک ایسے عالم دین سے ہوتی ہے جن کا سلسلہ کسی کالعدم جہادی تنظیم سے ہوتا ہے اور انہی کی بارعب شخصیت سے متأثر ہوکر وہ تعلیم یافتہ شخص دنیا و ما فیہا سے متنفر ہو تا چلا جاتا ہے اور کالج کی تعلیم کو فضول گردانتا ہے۔وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر مسجد میں سے ملحق حجرے میں ہمیشہ کے لیے منتقل ہو جاتا ہے۔اس کے حرکات وسکنات افسانہ نگار نے کچھ یوں بیان کیے ہیں:
’’
انہوں نے ماڈرن دور کی ساری چیزوں اور خرافات کا استعمال ترک کردیا جن کی سنت اور حدیث میں گنجائش نہیں تھی۔حجرے سے بجلی کا کنکشن کٹوا کر وہاں سرسوں کے تیل کا دیا رکھ دیا۔فرج اور کولر کے پانی کے بہ جائے وہ گھڑے کا پانی استعمال کرنے لگے بہ شرطے کہ وہ پانی نلکے یا بجلی کے موٹر پمپ کے بہ جائے بوکے یا ڈول کے ذریعے سے کنوئیں سے نکالا گیا ہو۔ٹیلی فون یا موبائل کا استعمال تو دور کی بات ،انہوں نے مشینی اور ریشمی لباس ترک کرکے کھڈی پر بنا ہوا کھدر پہننا شروع کردیا۔پلنگ کے بہ جائے بان کی چاپائی ،کرسی کی بہ جائے سرکنڈوں سے بنا ہوا مونڈھا ،لکھائی کے لیے پین اور بال پوائنٹ کی جگہ روشنائی کی دوات اور سرکنڈوں کا قلم،بجلی یا گیس کے چولہے کے بہ جائے ان کا کھانا مٹی کی ہانڈی میں لکڑیوں کے چولہے پر پکتا۔مشین کے بہ جائے ہاتھ چکی کا پسا ہوا آٹا استعمال ہوتا۔گاؤں کی کوئی عورت یا بہنیں،بھاوجیں،چاچیاں،خالائیں اور والدہ بھی پردے کے بغیر سامنے آتین تو برا مانتے اور ملاقات سے انکار کردیتے‘‘۔(10 )
دین میں حد درجہ تشدد برتنے والے اور دوسرے لفظوں میں بیان کیا جائے تو جہاد کو فی زمانہ فرض سمجھنے والوں کا حال تقریباً یوں ہی ہوتا ہے اور اگر اُن کو جہادی شخص کی سرپرستی حاصل ہوجائے تو ایسے نوجوانوں کا متشدد ہونا لازم ہو جاتا ہے۔دنیا والے ایسے ہی اشخاص پر دہشت گردی کا لیبل چسپاں کرتے ہیں جب کہ ایسا نہیں ہے۔دہشت کے لغوی اور اصطلاحی معنوں پر غور کیا جائے تو کلی طور پر یہ بات اُن پر صادق نہیں آتی چہ جائے کہ مولانا سراج الدین کے قاصد قاری عبد الغفار چشتی سراجوی نے خط تھماتے ہوئے یہ جملہ ادا کیا۔’’میرا کام تو مولانا صاحب کے ارشاد کی تعمیل تھی،وہ میں نے کردی۔آپ میں ہمت ہے تو نافرمانی کرکے دیکھ لیجیے۔السلام علیکم۔خدا حافظ‘‘۔
خوف و دہشت کے ماحول میں جب انسان اپنے ارد گرد کی صورت حال سے بیزار ہو جاتا ہے تو وہ جائے امان ڈھوندتا ہے تاکہ وہ کچھ دیر کے لیے سکون محسوس کر سکے۔اگر پاکستان کے تناظر میں اس صورت حال کا جائزہ لیا جائے تو وہاں کی مساجد سے بہتر کوئی ایسی جگہ نہیں نظر آتی جہاں سکونِ قلب اور سکونِ جان میسر آئے لیکن وہاں کے اخبارات و رسائل سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ جگہین بھی اب دہشت سے محفوظ نہیں ہیں بل کہ ایسے اصحاب کو انہی مقامات پر اس کام کو انجام دینے مین زیادہ سکون اور مزا آتا ہے۔ہمارے عہد کے معتبر ناقد،مدیر اور کہانی کار مبین مرزا نے اپنے افسانے ’’دامِ دہشت ‘‘مین کچھ اسی طرح کی عکاسی کی ہے۔افسانے کا ہیرو شیخ سخاوت علی ،کراچی کے کسی مسجد میں جمعہ کی نماز ادا کرنے کے لیے جاتا ہے۔اس کی کم زوری یہ ہے کہ اُسے نظروں کے سامنے جوان،خوب صورت اور دل کش عورتوں کی تصویریں گھومنے لگتی ہیں جب کہ امام صاحب منبر پر کھڑے ہو کر خطبہ دے رہے ہیں۔یہ ذہنی انتشار اُس کی نفسیاتی ہے جو اس کی بیوی کے امریکا چلے جانے کے بعد پیدا ہوتی ہے۔وہ کچھ دن تو بغیر بیوی کے زندگی گزار لیتا ہے لیکن چند مہینوں کے بعد جنسی جرثومے اُسے کچوکے لگانے لگتے ہیں اور وہ دوسری عورتوں کے حصول میں اپنی نئی زندگی کا آغاز کرتا ہے۔اس عمل سے اس کے اندر جنسی لذت تو کم ہو جاتی ہے لیکن خواہشیں سر اٹھانے لگتی ہیں.....وہ مسجد میں بیٹھا یہی تمام باتیں سوچ رہا ہوتا ہے کہ اس کی نظر ایک مشکوک شخص پر پڑتی ہے ۔وہ یہ بھی سوچتا ہے کہ اگر واقعی اس کے پاس ایسی کوئی چیز ہے تو وہ مسجد میں داخل ہی نہیں ہو سکتا تھا۔مسجد کے دونوں دروازوں پر کئی کئی گارڈ اور بم ڈسپوزل اسکواڈ کے لوگ تعینات تھے جو جمعے کی نماز کے لیے آنے والے ہر شخص کی اچھی طرح تلاشی لینے کے بعد اسے مسجد مین داخل ہونے کی اجازت دیتے تھے۔اس کے باوجود اس کا دھیان اُسی شخص پر ٹکا ہو اہے ۔وہ ذہنی طور پر دہشت کے جال میں جکڑا ہوا ہے۔وہ نماز میں بھی نیت باندھتا ہے تو کانوں میں قرأت کی آواز نہیں ،زخمیوں کی چیخ و پکار سنتا ہے اور تصور کرتا ہے کہ کسی بھی لمحے دھماکا ہو سکتا ہے گویا پورے معاشرے کی صورت حال کو اس نے اپنے آپ میں محسوس کیا ہے اور افسانہ نگار نے فنی گرفت کے ساتھ اس افسانے کو پاےۂ تکمیل تک پہنچایا ہے۔
اس ضمن میں محمد حمید شاہد کا نام اس لیے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ انہوں نے خوف،تشدد اور دہشت کے حوالے سے کئی بہترین کہانیاں لکھی ہیں۔اس حوالے سے ان کے افسانوں میں آدمی کا بکھراؤ،کتاب الاموات سے میزانِ عدل کا باب،موت منڈی میں اکیلی موت کا قصہ،کوئٹہ میں کچلاک،سورک میں سوؤر اور خونی لام ہوا قتلام بچوں کاوغیرہ کو کافی اہمیت حاصل ہے ۔سر دست ان کا تازہ افسانہ ’’خونی لام ہوا قتلام بچوں کا‘‘اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ پشاور کے سانحے اور اس کے پس منظر میں لکھا گیا ہے۔پشاور کے ایک مقامی اسکول میں دہشت گردوں کے ذریعہ کیے گئے مطالم کے ٹھیک ایک ہفتے بعد ایک خود کش حملے میں ماسٹر سلیم الرحمن کا پوتا توقیر مارا گیا۔اس کے پش پشت وہ عوامل کار فرما تھے جنہیں اس نے سابقہ پندرہ سولہ سالوں میں جھیلا تھا۔سید پور کی اُچی ڈھکی میں وہ اپنے دادا اور دادی کے ساتھ رہتا تھا اور اُس کا باپ ،اپنی بیوی کے ناگہانی وفات کے بعد امریکا جا بسا تھا۔گوکہ توقیر کی زندگی تنہائیوں کی نذر ہو گئی تھی اور وہ ابنارمل زندگی جی رہا تھا۔اس کے دادا ماسٹر سلیم الرحمن عمر بھر محکمۂ تعلیم سے وابستہ رہے اور وہ گاؤں والوں کی نظر میں ہمیشہ مشکوک رہے۔ان کا خیال تھا کہ اسلام سلامتی والامذہب ہے اور اس میں ایسے ہتھیار استعمال کرنا حرام ہے جو جنگ کرنے والے شخص اور عام شہریوں میں تمیز نہ کر سکے،جو اپنے ہدف میں پڑتے ہوئے بچوں،عورتوں ،بوڑھوں ،فصلوں اور جانوروں کو بھی نشانہ بنا لے۔انہوں نے ایک بار حاجراں کے بیٹے کے حوالے سے بھی ایک فتویٰ صادر فرما دیا تھا کہ’’اسلام میں سرمایہ کاری حرام نہیں ہے۔ہاں اسلام میں سود حرام ہے ،ایسا قرض جس کے ذریعہ ضرورت پوری کر لی جائے اور سرمایہ ختم ہو جائے ۔اس پر اضافی رقم کا مطالبہ سود ہے اور وہ حرام ہے۔تاہم ایسی سرمایہ کاری جس میں اصل زر محفوظ رہے اور سرمائے میں بڑھوتری ہوتی ہے،حلال عمل ہے‘‘۔ماسٹر سلیم الرحمن ایسے اساتذہ پر بھی لعن طعن کرتے جو بچوں کو طالبان بنا دیتے تھے،جو مذہب کے نام پر ہر قسم کا بد ترین تشدد کر گزرنے والے ہوں،گردنوں پر چھری رکھ کر شہہِ رگ کو کاٹ ڈالنے والے ہوں،کمر میں بارود باندھ کر اپنے ساتھ دوسرے بے گناہوں کو اڑا دینے والے ہوں۔ایسے دہشت گردوں سے مسجدیں محفوظ ہو ں نہ مدرسے،بازار نہ دفاتر۔سب سے بڑھ کر یہ کہ ایسا کرتے وقت نعرۂ تکبیر بلند کرنے والے ہوں چہ جائے کہ خدا کا خوف اُن کے دلوں میں چھو کر نہ گزرتا ہو۔یہی وجہ ہے کہ وہ گاؤ ں والوں کی نظر میں ہمیشہ مشکوک رہے۔توقیر نے اندر بھی یہ باغیانہ صفات سر اٹھا تی ہیں اور پشاور کے سانحے کے ٹھیک ایک ہفتے بعد وہ بھی اپنے دادا کی جیکٹ پہن کر اس لیے گھر سے باہر نکلتا ہے کہ لوگ اُس سے ڈر کر بھاگیں گے جب کہ پورے ملک کی عوام اور پولیس محتاط ہیں لیکن توقیر اِن تمام حالات سے بے نیاز گھر سے باہر نکلتے ہی اِدھر اُدھر بھاگ کر شور بلند کرنے لگتا ہے۔’’میں پھٹ جااااؤں دا.....میں پھٹ جاؤں داااا‘‘۔پولیس اس کی حرکت کو دیکھ کر حرکت میں آجاتی ہے اور ٹریگر دبا کر اُسے بھون ڈالتی ہے۔
یہ افسانہ پاکستان کی سیاسی و سماجی اور آئے دن ہونے والے سانحات کی صورت حال کی اشارہ کرتا ہے۔ظلم و تشدد کے حوالے سے ان تخلیقات میں واضح طور پر اس طرح کے اشارے ملتے ہیں ۔ پاکستانی ادب میں تشدد کے علاوہ دوسرے سانحات کو بھی بنیادی حوالہ بنا یا گیا ہے۔اس ضمن میں اسلام آباد کے سانحے کو بھی تخلیقی حوالے سے دیکھا جا سکتا ہے۔ پاکستان کو ۸؍اکتوبر۲۰۰۵ء کے دن اپنی تاریخ کے ہول ناک ترین زلزے کا سامنا کرنا پڑا۔آزاد کشمیر ، شمالی علاقہ جات اور دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے خاص طور پر اس ناگہانی آفت سے بری طرح متأثر ہوئے ۔ کئی بستیاں صفحہ ہستی سے مکمل طور پر مٹ گئیں اور صورت حال قیامت صغریٰ کا منظر پیش کر رہی تھی ۔ جہاں زلزلے سے چند لمحے پہلے زندگی مسکراتی پھر رہی تھی، وہاں اب سوائے ملبے کے کچھ نہ تھا۔پاکستانی عوام نے یہ دکھ بھی جھیلا اور آپسی اخوت و محبت کا ثبوت بھی پیش کیا ۔ پاکستان کے ادیبوں اور شاعروں نے بھی اس سانحے کے بعد نہ صرف مت�أثر ین زلزلہ کی حتیّٰ الامکان مالی معاونت کی بل کہ اپنے دلی جذبات کا اظہار تحریروں کی صورت میں بھی کیا۔ اس حوالے سے شاعری اور نثر کے کئی ڈرامے بھی نشر ہوئے تاکہ عوام براہ راست ان ایام کا مشاہدہ کرکے عبرت لے سکیں۔اردو کے علاوہ پاکستان کے ادیبوں نے پنجابی ، سندھی، پشتو، ہندکو، بلوچی، براہوی ، کشمیری ، گوجری ،پہاڑی ، بروشسکی اورانگریزی زبانوں میں بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔شاعری کے حوالے سے بھی اس نوعیت کا کام کافی ہوا ہے۔فقط اردو شاعری میں دو سو سے زائد نظمیں کہی گئیں ۔ دوسری زبانوں کی شاعری کا ذکر اس کے علاوہ ہیں ۔ اردو افسانے کی بات کی جائے تو تین درجن سے زائد افسانے تحریر کیے گئے اور یہ سلسلہ تا ہنوز جاری ہے۔ چند افسانوں کے نام درج ذیل ہیں :
’’
آگے خاموشی ہے‘‘( محمد منشایاد)،’’ ملبا سانس لیتا ہے ‘‘(محمد حمید شاہد)، ’’فالٹ لائن‘‘( انور زاہدی)،’’ قیامت کے بعد‘‘ (خالد قیوم تنولی)،’’ بے تابی سے کیا حاصل ‘‘(آصف فرخی)،’’ تراشہ‘‘( احمد ندیم قاسمی)،’’بچے خوف زدہ ہیں ‘‘(زاہد حسن )،’’مدینہ مارکیٹ‘‘( سلمیٰ اعوان)،’’ زندہ درگور ‘‘(عارف شمسہ) ،’’جذبۂ پاکستان-زندہ باد‘‘( محمود شام) اور’’ میرے بھائی کو سردی لگتی ہے ‘‘(حامد میر) وغیرہ خاص طور پر اہمیت کے حامل ہیں ۔
پاکستان کی تاریخ میں آفاقی آفات اور سیاسی پریشانیوں کے گہرے اثرات صاف طور پر دیکھے جا سکتے ہیں ۔ ۲۰۰۵ء کے بعد ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کی سیاسی پالیسی بھی کچھ اچھی نہیں رہی۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں ملک بدر ہونے پر مجبور کیا گیا اور بہت سے ادبا نے ان کے ہاتھوں اعزاز لینے سے بھی انکار کر دیا ۔ خیر! یہ ایسی ڈور ہے جس کا کوئی سرا نہیں۔ سر دست یہاں ان افسانہ نگار وں کا تذکرہ موزوں معلوم ہوتا ہے جنہوں نے اسّی کی دہائی سے تا ہنوز ملک کی صورت حال کو اپنے فن میں قید کیا اور آج بھی ان کا قلم رواں ہے ۔زاہدہ حنا ، احمد جاوید ، مظہر الاسلام ، مرزا حامد بیگ ، محمد حمید شاہد ، محمد حامد سراج ، آصف فرّخی،محمد عاصم بٹ، طاہرہ اقبال،عرفان جاوید،نیلوفر اقبال،نیلم احمد بشیر،علی اکبر ناطق اور کئی دوسرے فن کار اس فہرست میں شامل ہیں ۔
***
حوالہ جات
1۔فردوس انور قاضی۔اردو افسانہ نگاری کے رجحانات۔مکتبہ عالیہ،لاہور۔1990۔صفحہ نمبر315
2۔شہزاد منظر۔جدید اردو افسانہ۔عاکف بُک ڈپو،نئی دہلی۔1988۔صفحہ نمبر 45
3۔اعجاز راہی۔اردو افسانے میں اسلوب کا آہنگ۔ریز پبلی کیشنز،راولپنڈی۔2003۔صفحہ نمبر54
4۔رشید امجد۔پاکستانی ادب کے نمایاں رجحانات،مشمولہ عبارت(۱) گندھارا پبلشرز،راولپنڈی ۔2002۔صفحہ نمبر 19
5۔فرمان فتح پوری۔اردو افسانہ اور افسانہ نگار۔اردو اکیڈمی،سندھ،کراچی۔1982۔صفحہ نمبر102
6۔اعجاز راہی(مرتب)۔گواہی۔عوامی دار الاشاعت نرسری،کراچی۔1978۔صفحہ نمبر 5
7۔سلیم اختر۔نظر اور نظریہ(منتخب مقالات) ۔سنگ میل پبلی کیشنز،لاہور۔2010۔صفحہ نمبر 212
8۔خالد جاوید۔کہانی ،موت اور آخری بدیسی زبان۔ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی۔2008۔صفحہ نمبر 33
9۔نجیبہ عارف۔9/11 اور پاکستانی اردو افسانہ۔پورب اکادمی،اسلام آباد۔2011۔صفحہ نمبر 12
10 ۔محمد منشا یاد۔میں اپنے افسانوں میں تمہیں پھر ملوں گا(کلیات)۔نیشنل بک فاؤنڈیشن،اسلام آباد۔2011۔صفحہ نمبر 777
***

 مضامین دیگر 


Comment Form



اردو فکشن

© 2017 Urdu Fiction. All right reserved.

Developed By: Aytis Cloud Solutions Pvt. Ltd.