انتظا ر حسین ۔۔۔پر یو ں کے د یس سے




رابعہ الرَبّا ء
26 Oct, 2017 | Total Views: 433

   

آ گے سمند ر ہے۔
یہی پچھلے سا ل کاوا قعہ ہے شا ید آج ہی کا دن تھا ۔یعنی کر اچی لٹر یچر فیسٹیول کے پہلے دن کی صبح تھی ۔مجھے چھ بجے صبح کے بعد نیند نہیں آتی
اْٹھ کر با ہر نکل گیا ۔ہو ٹل سمند ر کے کنا ر ے وا قع تھا ۔اور کنا رابھی ا یسا سر سبز اور درختو ں سے گھر ا ہو ا جس میں بے شما ر پر ند ے صد یوں پر انی بو لیاں بو ل ر ہے تھے۔کیا د یکھتا ہو ں انتظا ر حسین ایک جگہ لا ٹھی ٹیکے سمند ر کی طر ف منہ کر ے کھڑے ہیں اور درختو ں پہ سا یہ کیے پر ند و ں کو غور سے د یکھ ر ہے ہیں ۔میں بھی آ رام سے پیچھے جا کھڑا ہو ا ۔آہٹ پا کر مڑے اور بو لے،نا طق میا ں سو یر ے جا گ لیے۔د یکھو 
سمند ر کے پر ند ے کیا بھلے لگ ر ہے ہیں ۔میں نے کہا انتظا ر صا حب آ گے چلتے ہیں۔ذرا سمند ر کے بیچ اس کشتی پر ، و ہا ں اس سے بھی بھلا منظر ہے۔اور د یکھیے ہو ا بھی کیا جا نفز ا ہے۔اس کے بعد ہم لکڑی کے بنے ہو ئے تختو ں پر سے گز ر کر جو پا نی کے او پر ذرا آگے تک جا نے کے لیے ر کھے تھے۔سمند ر کی اور بڑ ھنے لگے۔وہ آگے لا ٹھی ٹیکے جا ر ہے تھے اور میں پیچھے پیچھے تھا۔آخر تک پہنچ کر ہم ر ک گئے۔بہت با تیں کیں ، یہا ں ہو ا مست کر د ینے والی تھی۔سب لو گ سو ئے ہو ئے تھے۔ہم دونوں اور سمند ر اور پر ندے اور ہوا اور درخت جا گ رہے تھے۔نظا را خو ب پا کر میں نے کہا انتظا ر صاحب ذرا اس کشتی پر چلیں جورسوں کے ساتھ بند ھی جھو ل ر ہی ہے۔کہنے لگے ، نا بھا ئی ، یہ لکڑی کی پگڈنڈی تو بہت تنگ اور کمزور لگتی ہے۔کہیں پا ؤ ں پھسل گیا تو یہا ں کو ن سنبھالے گا ۔میں نے کہا ’انتظا ر صا حب میں ہو ں نا آپ کو ڈوبنے نہیں دوں گا،کہنے لگے بھا ئی’ ہم آگے نہیں جا ئیں گے بھلے آ پ بچا لو مگر اتنے میں دل ڈو ب جا ئے گا، ۔ان کی با ت سن کر مجھے ہنسی آگئی۔۔۔قر یب ایک گھنٹہ وہا ں ٹہلتے رہے۔
آج یہی سمند ر کا کنا را ہے۔کر ا چی لٹر یچر فسٹیول کا پہلا دن ہے ،صبح کے چھ بجے ہیں۔سب لو گ سو ئے ہو ئے ہیں ۔در خت لہلہا ر ہے ہیں ۔پر ند ے چہک ر ہے ہیں۔ہو ا ئیں مست ہیں اور انتظا ر حسین سمند ر سے پا ر کہیں نکل گئے ہیں ۔میں اکیلا یہا ں پھر ر ہا ہو ں کیو نکہ صبح چھ بجے کے بعد مجھے نیند نہیں آتی۔۔
علی اکبر نا طق کی یہ تحر یر جب میں نے پڑھی تو چہر ے پہ مو جو د دوچشمے چھلک پڑے ۔میں نے سو چاتھا کہ میں اب کو ئی لفظ اس ازلی حقیقت کے حوا لے سے نہیں لکھو ں گی مگر مجھ سے نہیں ر ہا گیا کیو نکہ انتظار حسین سے وابستہ ہر ہر فرد اسی کیفیت سے گزرا تھا ۔
’’میں اکیلا یہا ں پھر ر ہا ہو ں،،
مجھے ان سے وہ آخر ی ملا قا ت یا د آ گئی جب میں ان کی آواز سننے کے لیے ان کے پیچھے جا کھڑی ہو ئی تھی۔یہ روشن مسکر ا تی پر سکون سپہر تھی۔آواری ہو ٹل لاہو ر میں پاک چائنا کانفرنس جا ری تھی۔انتظا ر حسین جو ادیبو ں دوستوں کے جھڑ مٹ میں کھڑے تھے اور ایک د ھیمی سی مسکرا ہٹ ان کے لبو ں پہ سجی ہو ئی تھی۔میری نظر ان پہ پڑ ی تو مجھے لگا جیسے ہر گز ر تا لمحہ ان کے چہر ے پہ ا یک نئی معصومیت لا ر ہا ہے۔میر ا د ل چاہا،صرف ان کو دوسر وں سے با تیں کر تا سنوں ۔ان کے لہجے کی معصومیت اور ٹھہر اؤ مجھے یو نہی ا چھا لگتا تھا۔میں ان کے پیچھے جا کے کھڑی ہو گئی۔
انسان پر عمر کا اثر ضرور ہو تا ہے مگر ایک اند ر کی عمرہو تی ہے، انسان پر دنیا کا اثر بھی ہو تا ہے مگر ا یک اند ر کی بھی د نیا ہو تی ہے۔جو آنکھو ں میں 
کشتیو ں کی صو رت نظر آ جا تی ہے۔ میں ا کثر لو گو ں سے ملتے ہو ئے ان کی آ نکھو ں میں انہی کشتیو ں کے سفر کو د یکھا کر تی ہو ں ۔اس روز یہی کشتیا ں میں نے ان کی آ نکھو ں میں بھی د یکھیں ۔وہ مسکر ا ر ہی تھیں ،جیسے منز ل پہ با وقا ر پہنچ گئی ہو ں۔(میر ے خیا ل میں یہ آنکھیں ،اندر کے حسین سفر کر نیوالو ں کی ہو تی ہیں۔اگر چہ انتظا ر صا حب کے ہا ں آنکھو ں کا یہ سفر ہمیشہ با وقار و پر سکون ہی نظر آیا )
اک ملا ل ہے، ان کی ا یک اما نت میر ے پا س رہ گئی، میر ے پا س ان کے ا یک دوست لے سا تھ لی گئی ان کی چند تصا و یر تھیں ،میں نے ان سے و عد ہ کیا تھا کہ جلد پہنچا دونگی ،مگر وقت کا سفر ،وہ ان چند ما ہ بہت مصر و ف ر ہے تو کبھی کو ئی مصروفیت میر ی د ہلیز پہ د ستک دے دیتی۔
چو نکہ و عد ہ تھا کہ میں خو د آ و نگی اور ہم ’’ ادب اور انٹر نیٹ اور ادبی فیسبک ،، کے مو ضو ع پہ جوگفتگو کر رہے تھے جا ر ی ر کھیں گے۔
لیکن بس سفر اتنا ہی تھا۔وہ پر یو ں کے د یس کی با تیں کر نے والی ہستی ،خود پر یو ں کے د یس چلی گئی اور اب وقتی طو ر پر جیسے ز مین کی کہا نی کے لیے ہما رے لفظ ساتھ نہیں دے ر ہے۔ہم سب کے ساتھ اس لمحے یہی ہو ا کہ ہما رے لفظ ہما رے جذبا ت کا ساتھ نہیں دے ر ہے تھے۔جیسے جا تے جا تے محبت کے سا رے لفظ وہ اپنے ساتھ پر ستان ہی لے گئے ہو ں۔
ان کی وفات کے وقت شاہد حمید سے صاحب سے با ت ہو ئی تو لگا ان کی آنکھیں بھی ابھی تک اند ر کہیں چشمہ بنا ئے ہو ئے ہیں ۔میں نے انہیں ہمیشہ ہنستے مسکر اتے ،کھلکھلاتے ہی د یکھا ہے مگر اس روز وہ بہت اداس تھے۔کہنے لگے’’لاہو ر گیا تھا، انہیں ر خصت کر کے آگیا ہو ں ۔۔۔بہت د کھی ہو ں ، انتظا ر حسین کے چلے جا نے کے بعد ۔۔۔۔کچھ محبت سی ہو گئی تھی ان سے۔۔۔۔،،
میں نے کبھی شاہد حمید کو لفظو ں اور جذبو ں کے سمند ر میں متلا طم نہیں د یکھا۔مگر یہ بے بسی مجھے ان کے ہا ں اس روز پہلی د فعہ محسو س ہو ئی۔
انتظا ر صا حب chrimatic personality تھے۔ایسے لو گوں سے سب کو پیا ر ہو جا تا ہے ۔کسی حد تک یہ روحا نی وصف ہے ۔جو خداداد ہے اس میں انسا ن کی کا و شیں ،اچھائیوں وبر ا ئیو ں کا عمل د خل نہیں ہو تا۔محبت کے یہ گلستان ان کی زند گی میں بھی ہمیں د کھا ئی د یتے ر ہے اور وفات کے بعد محبتوں کے شہر میں کو ئی گلد ستہ نہیں بچا جو ان کے قد مو ں میں نچھاوڑ نا کر دیا گیا ہو۔
امجد طفیل کبھی نہیں بھلا پا ئیں گے کہ اس صدی کا قصہ جب تما م ہوا تو آخر ی کا نفر نس ’’حلقہ اربا ب ذوق ،،کی پہلی ’’ایک روزہ کانفر نس،، تھی۔جس کی صدارت انتظا ر صاحب نے کی۔اور صدارتی خطبہ د یا ۔اس وقت نہیں معلو م تھا کہ چند دن بعد ۔۔۔یو ں یہ ان کی زند گی کی آخر ی کانفرنس تھی۔
وہ سب جو ان کو ہسپتا ل د یکھنے جا ر ہے تھے اور سو چ ر ہے تھے کی ز ند گی کی ا صل داستا ن تو سب کی سا نجھی ہے ۔سب ا یک دو سر ے کو تسلی دے ر ہے تھے ا یک دوسر ے کو وقتی صور ت حا ل سے آگا ہ کر ر ہے تھے مگر اندازہ سب کو تھا کہ کیا خبر گو ش گز ا ر ہو نے والی ہے ۔
بحر حا ل ا یک صد ی کا سفر وادیِ پر ستا ن میں اپنی کہا نیو ں داستا نو ں سے ملتے ہو ئے کسی نر م ہو ا کے جھو نکے پر چو نک کر د یکھتا ہو گا تو محبت بھر ے کئی چہر ے اسے کسی اور کا ئنا ت سے مسکر اتے د کھا ئی د یتے ہو نگے۔
مجھے یاد آتا ہے کہ وہ پرستان کی باتیں کرنے والے مجھے میرے نا م سے نہیں بلایا کر تے تھے ۔ اک کا خیال تھا میرا نام ذرا مشکل ہے ۔ وہ مجھے ’’ پری وش ،، کہا کرتے تھے۔ اس سے مجھے اندازہ ہو تا کہ شاید وہ اس دنیا میں بظاہر سفر تو کر تے نظر آتے ہیں مگر ر ہتے کسی اور دنیا میں ہیں ۔ جس دنیا کو وہ اپنے افسانو ں اور ناول میں پینٹ کر گئے ۔ 
انتظا ز حسین کے با رے میں کہا جا تا ہے کہ وہ ماضی پرست تھے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ حال ما ضی ہی کا شا خ سانہ ہے۔ صرف شکل بد ل لیتا ہے اور ساتھ سفر کرنے لگتا ہے ۔ وہ جس ما حول میں پرورش پا رہے تھے اس کی اپنی روایات تھیں، یہ راویات ان کے ساتھ جڑی رہیں ۔ کیو نکہ بچپن کا نقش بہت گہرا ہو اکرتا ہے ۔ یو ں بھی اگر کسی تخلیق کا ر کی اپنی کو ئی انفرادیت نا ہو تو ، نا تو اس کا ادب زندہ رہتا ہے ، نا اس کے لکھے کی کو ئی الگ شنا خت ہو تی ہے۔
انتظار حسین کے فن کو چار ادوارمیں تقسیم کیا جا تا ہے ، اگرچہ ان کی تحریروں کے اعتبا ر سے اسے پانچ ادوار میں تقسیم کیا جائے تو بھی بے جا نا ہو گا۔ 
ان کے فن کی اہم ترین خو بی علا مت نگاری ہے ۔ یو ں محسوس ہو تا ہے کہ یہ فن انتظار حسین نے قرآن و اساطیر سے سیکھا ۔ علا مت ایک فن ہے اور یہ فن ہے کیا ۔ پہلے یہ سمجھنا ہو گا ۔ اس حوالے سے ڈاکٹر سہیل احمد خا ن لکھتے ہیں 
’’ یہ لفظsymbol اصل میں نکلا کہا ں سے ہے؟ یہ لفظ ایک یو نا نی لفظ سے مستعار لے گیا ہے۔ اس کا بنیا دی 
مفہو م ، ایک ساتھ رکھی گئی یا ایک ساتھ پھینکی گئی چیزوں کا ہے کیو نکہ علا مت میں ہمیشہ دو چیزوں کا بیان ہو تا ہے
ایک طرف اگر گلا ب ہے تو دوسری طرف محبت ہو نی چاہئے۔جس کو گلا ب سے تشبیہہ دی جائے یا جس کی علامت 
کے طو ر پر اس کو استعما ل کیا جائے یا جس کے نعم البدل کے طو ر پر اس کو لکھا جائے تو ہر علا مت ایک سطح پر لغوی اور 
دوسری سطح پر اپنی اس سطح سے آ گے ہو تی ہے،،
)راوی۲۰۰۶، جی سی یو نیورسٹی لا ہو ر ۔۔۔۔ ص ، ۴(
اس تعریف کے حوالے سے دیکھا جائے تو انتظار حسین کے ہا ں علامت کی یہ خوبی اپنے عروج پہ نظر آتی ہے ، یہ اپنی سطح سے بہت آگے نظر آتی ہے۔ ان کی علامت میں رنگ تب مزید ابھر آتے ہیں ، جب مذہب و اساطیر سے ان کا سنگم ہو تا ہے۔اور یہ اتنا پْر پیچ راستہ ہو جاتا ہے کہ عام قاری کو اس کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑتے ہیں ۔ ڈاکٹر سہیل احمد انتظار حسین کی علا مت نگاری کو کچھ یو ں دیکھتے ہیں ۔
’’ انتظار حسین بندروں پر نہیں لکھ رہا ، وہ تو ان انسانو ں کی کہانیاں سنا ر ہا ہے جو بندر بن کئے ہیں ۔ اس وقت کرپشن 
و غیرہ ہما رے معاشرے میں نئی نئی وبا کے طو ر شروع ہو رہی تھی۔تو وہ یہ بتا رہا تھا کہ ہم اشرف المخلو قات کے درجے 
سے آہستہ آہستہ گرتے چلے جا رہے ہیں اور جا نوروں میں تبدیل ہو رہے ہیں تو اس وقت یہ ما حول تھا اور اب یہ 
عالم ہے کہ ہندوستان ، پا کستان میں سب سے زیادہ چرچا ہمارے ادیبو ں میں قراۃالعین حیدر ، انتظار حسین اور
اس قسم کے افسانہ نگاروں کا ہے جو علامتی رنگ میں لکھتے ہیں ،، 
) ’’ راوی،، جی سی یونیورسٹی لاہور ۲۰۰۶، ص ۴(
ان کے ہا ں علا مت نگاری میں وقت کے ساتھ ساتھ مو ضوعات و حالات کے تغیر کے باوجود ارتقا ء نظر آتا ہے ۔ یہ ارتقاء ان کے فن کے حسن کو بڑ ھاتا ہے اور معنویت میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ 
ان کے ادب کی ایک منفرد خصوصیت ان کا اساطیری رنگ ہے ۔ یہ رنگ شا ید ان کی زندگی کا بھی رنگ رہا ۔ ان کی ما ضی پر ستی لا مکا ں کی حد تک وسیع تھی، یہی سے اس میں اساطیر سما جا تی ہیں ۔ لا محدود ما ضی کے واقعات و حالات اور اس سے پیدا ہو نے والے اسبا ب و کر دار ان کے ساتھ ساتھ ، ان کہا نیو ں میں بھی جلوہ گر ہو تے رہے۔ وہ اپنے ایک مضمو ن میں لکھتے ہیں ۔ 
’’ ابتدا میں کلا م تھا ۔ سننا سنانا تھا ۔ شاعری اور کہا نی دونو ں کا معاملہ یہی تھا ۔ سنائی جا تی تھی اور سنی جا تی تھی ۔ جب 
میں کہا نی کی ابتدا کے بارے میں سوچتا ہو ں تو تصور میں لمبی کا لی رات منڈلا نے لگتی ہے۔ اور ایک دہکتا ہو ا الاؤ ۔ 
الاؤ کے گرد بیٹھے ہو ئے لو گ ، کو ئی کہتا ہے کہ کہا نی سنا ؤ کہ بات چلے رات کٹے۔ کہا نی کا ر کہا نی شروع کر دیتا ہے 
رات بھیگتی جا تی ہے اور کہا نی جاری رہتی ہے۔ اس میں صبح ہو جاتی ہے۔ کہا نی ختم۔ کہنے والے کا بھلا سننے والے کا 
بھلا ۔ یہ اختتامی فقرہ میری نا نی اماں کا ہے جو انگیٹھی کے سامنے بیٹھ کر کہا نی سنا تی تھیں۔ اور ہمیشہ رات میں ، دن 
میں کہا نی کا تقا ضہ کیا جا تا تو کہیتیں دن میں کہا نی نہیں سنا یا کر تے مسافر رستہ بھو ل جا تا ہے ۔ قدیم ز مانے کے
الا ؤ سے لے کر میری نا نی کی انگیٹھی تک کہا نی کی تاریخ اسی طرح ہے۔،، 
)دنیا زاد ، کراچی۔۔۔ ص، ۲۲(
لہذا یہ اساطیر ان کی پرورش کا حصہ ہے۔ اور تخلیق کا ر اپنے یہی حصے اپنے لفظو ں میں پرو کر آ پ کے حوالے کر دیتا ہے ۔ یہی انتظار حسین نے کیا۔ یہ اسا طیر ان کے افسا نے کو زیبا ئش بخشتی ہے ، تو قاری کوایک نئی دنیا کی سیر پہ لے جا تی ہے ۔ مگر اس ساری تکنیک سے ان کا فن متاثر نہیں ہو ا۔ ڈاکٹر ملک حسن اختر لکھتے ہیں ۔
’’ ان کے افسا نو ں میں داستا نی رنگ اور طلسمی فضا پا ئی جاتی ہے ۔ وہ شہزادوں اور شہزادیو ں کی کہا نیاں سناتے ہیں ۔جن
میں شہزادہ مکھی بن جا تا ہے ، کبھی کو ئی انسا ن بندر کی صورت اختیا ر کر لیتا ہے ۔ مگر داستا نی رنگ اختیا ر کر نے کے با و جو د 
اس دور کی زند گی کا مر قع کھینچتے ہیں اور ہما رے آج کے مسا ئل سامنے لا تے ہیں ۔ ان کے افسا نو ں میں ہما ری گزشتہ 
صدیو ں کی تہذیب ملتی ہے۔ انہو ں نے اپنے استعارے اور تلمیحات،انجیل ، قرآن ، احادیث اور ملفوظا ت سے حاصل 
کئے ہیں ۔ ان کے انداز بیان پر بھی ان کا گہرا اثر ہے ۔ وہ کھو ئے ہوؤں کی جستجو کرتے ہیں اور آتش رفتہ کا سراغ لگا تے 
ہیں ،، 
)تاریخ ادب اردو ۔۔۔۔ ص، ۷۴۷(
اساطیر ی طر ز تحریر کے با وجو د ان کا افسانو ی فن متا ثر نہیں ہو ا۔ افسانہ، افسانہ ہی رہاانہو ں نے اس رنگ کو استعما ل کیا تو اپنے فن کو بڑ ھانے کے لئے کیا ، اور فنکاری سے کیا ۔ جو الگ تھلگ نہیں لگتا ۔ بلکہ افسانے میں تحلیل ہو جاتا اور اسی کا حصہ معلو م ہو تا ہے۔ ڈاکٹر شمیم حنفی 
اس حوالے سے رقم طراز ہیں ۔ 
’’ اس قبیل کی کہا نیاں داستان اور حکا یات و قصص کے اسی فرق اور روپوشی کے اسی رویے کا اثبات کرتی ہیں ۔ ان میں 
نہ تو وہ طول کلامی ہے جس کے سہارے داستان گو لمبی اندھیری راتوں کو زیر کر تا ہے ، نہ وہ اختصار جو کہا نی کے 
دائرے سے نکا ل کر اظہار کی کسی تجر باتی رو کا آئینہ بناتا ہے،، 
) کہا نی کے پانچ رنگ۔۔۔۔ص، ۱۳۴(
تمثیلی رنگ ، اساطیری آمیزش کی وجہ سے ان کے اسلوب نے ایک خاص رنگ اختیار کیا جو دوسروں سے بلا شبہ بہت مختلف ، بہت نرالا ہے ۔ جس طرح انہو ں نے مو ضوعات او ر افسانوی فن میں ارتقاء کی منزلیں طے کیں یو نہی ان کے اسلو ب میں بھی یہ ارتقاء نظر آتا ہے۔انتظا ر حسین کی یہ خوبی ہے کہ اس سب انفرادیت کے با وجو د ان کی زبا ن و بیان نہ تو متا ثر ہو ئی ہے اور نہ ہی اس میں ان کی ایک خاص ذاتی شناخت کھو ئی ہے۔ 
ہجرت کی یادیں اور اس سے قبل کا پر امن ما حول ان کے ذہن میں نقش رہا ۔ یہی نقش ان کے ادب پہ چھا یا رہا ۔ جس کے با عث اکثر نقادوں کی رائے ہے کہ وہ ما ضی پرست تھے، ہجر کے غم سے مخمو ر رہے، ہجر ت کے نقش ان کی ذات و تحریر سے نا مٹ سکے ۔ وہ علا متی و اساطیری و تمثیلی طو ر پہ ہجرت کو کئی زایو ں سے اپنے تما م ادوار میں پیش کر تے رہے۔ 
ڈاکٹر انیس نا گی لکھتے ہیں کہ 
’’ دراصل انتظا ر حسین تقسیم کے بعد مہا جرو ں کی اس نسل سے تعلق رکھتے ہیں جو بعمل مجبو ری پا کستان چلے
آئے تھے۔ لیکن جن کے رو حا نی مر کز وہ چھو ٹے چھوٹے گاؤ ں تھے جہا ں ان کے مشترکہ خا ندان آباد تھے۔ 
پا کستا ن بننے کے بعد یہ دنیا اجڑ گئی اور انتظار حسین اپنے قافلے کے ساتھ چلے آئے۔ انتظا رحسین کے تمام 
افسانے ، ناول اور مضامین اسی گم گشتہ دنیا کے بارے میں ہیں ۔ انتظا ر حسین پرانی قدروں کے علمبر دار ہیں اور
ہر نئی حقیقت سے گریزاں ہیں۔،،
)پاکستا نی اردو ادب کی تاریخ ۔۔۔۔۔ص۲۰۳(
یہ حقیقت اپنی جگہ درست ہے۔کیو نکہ جس دور میں انتظار حسین نے آنکھ کھو لی ، جو کچھ دیکھا ، وہ ان کے بچپن کا دور تھا ۔ جو ہمیشہ انسانی ذہین پہ نقش رہتاہے ۔ اور اگر نسان حساس ہو تو یہ سب نقش کرب میں بد ل جاتے ہیں ۔ انتظار حسین کے ساتھ بھی یہی ہو ا، انہو ں نے چھو ٹی 
سی عمر میں ہجرت دیکھی ، ہجرت کے تلخ تجربات و مشاہدات دیکھے، ہجرت زدہ تلخ انسانی صورتیں و روئیے دیکھے، اور اس کو لکھا ۔ کہ شاید کیتھارسس ہو جائے ۔ مگر ساری عمر شایدکیتھارسس مکمل نا ہو سکا ۔ اور یہ ہجرت ایک ایسا مو ضوع ہے ، آج تک پا کستانی ادب میں شاید اتنے بڑے افسانے کسی اور مو ضوع پہ نہیں لکھے گئے ، جتنے بڑے افسانے ہجرت کے مو ضوع پہ لکھے گئے ہیں۔ 
انسا ن ہمیشہ جب اس قسم کے حالا ت سے دوچار ہو تا ہے تو اس کے اندر کا انسان کھلتا ہے ، انسا ن کی حقیقت کیا ہے یہ مشکلات میں ہی کھلتی ہے۔ اس کے اندر کی کتنی حیوانیت جا گتی ہے، یہ وقت ہی بتا تا ہے۔ جب ہر طر ف آگ کا کھیل ہو ، انسا ن نے آنکھو ں سے خون کا کھیل دیکھا ہو، آبرو ریزی اور انسا نیت کی تذلیل دیکھی ہو تو وہ یقیناََ جو لکھے گا
اس میں خود بخود الم و کرب و آشوب آہی جائے گا۔ 
ڈاکٹر شمیم حنفی لکھتے ہیں ۔
’’ مجمو عی طو ر پر انتظار حسین کے افسانو ں کی فضا الم آگیں ہیں۔ اس فضا کے اضطراب میں تموج نہیں تجسس
نہیں ۔ خود رحما نہ تظاہر نہیں ، حیرانی کا احساس بھی دبا دبا سا ہے ۔ گو یا کہ جو کچھ ہور ہا ہے ، وہ ہو نا ہی تھا ۔ اداسی کی
ایک غمناک دھند ہے۔ ،، 
) کہا نی کے پانچ رنگ ۔۔۔۔۔ص، ۱۲۷(
یہ اداسی کی دھند ان کی شخصیت پہ ایسی چھا ئی کہ پھر ان کاقلب و ذہین و قلم کسی دور میں بھی اس سے نہ نکل سکا ۔ کیونکہ گہری چوٹو ں کے نشان ہمیشہ با قی رہ جاتے ہیں۔ 
دکھ کے بھی اپنے رنگ ہو تے ہیں ۔ ہر انسان اس کو محسوس تو کر تاہے لیکن دکھ پہ ہر انسان کا رد عمل مختلف ہو تا جو اس کے ظرف کا غماز ہو تا ہے۔ اور لکھاری کے ہا ں اکثر یہ لکھاری کے ظرف کے ساتھ تحریر ہو تا ہے ۔ انتظار صاحب کے کردار بھی انہی کے ظرف سے مطابقت رکھتے 
ہیں۔ اس حوالے سے ڈاکٹر ملک حسن اختر لکھتے ہیں۔ 
’’ ان کے افسانو ں کا خاتمہ عموماََ المیاتی ہوتا ہے ۔اور ان کے کر دار اپنی منزل کھو بیٹھے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان 
کے خیال میں اس زما نے میں لو گو ں کا راستی پر قائم رہنا بے حد مشکل تھا۔ چنا نچہ ان کے کردار کبھی خوش و خرم نہیں 
ہو تے۔ وہ روتے رہتے ہیں مگر بلبلاتے نہیں کیو نکہ وہ اونچی آواز سے رونا پسند نہیں کر تے۔ ان کے ہا ں ہلکے پھلکے 
درد کی فضا قائم رہتی ہے۔ کیو نکہ ان کے نزدیک ’’ انسانی رشتے ہر آن بدلتے اور بکھرتے رہتے ہیں۔ لو گ مر 
جاتے ہیں۔ یا روٹھ جا تے ہیں ۔ پھر بھی انہیں یاد کر تا ہو ں اور انہیں خوابو ں میں دیکھتا ہو ں اور افسانے لکھتا ہو ں،، 
ان کے ہا ں معاشرتی المیہ مو ضوع ہے اور داخلی کیفیت کو بیان کرتے ہیں ۔ ان کے کردار سوچتے بہت ہیں ،
جس کی وجہ سے غمگین ہو جاتے ہیں،، 
)تاریخ ادب اردو۔۔۔۔ص۷۴۷، ۷۴۸(
انتظا ر حسین اپنے افسانو ں میں اشعار کا استعمال کرتے ہیں ۔ مصرعوں کا استعما ل کرتے ہیں ۔ اور زیادہ تر اساتذہ کے مصروں کا استعما ل کرتے ہیں ۔ شاید اس لئے بھی کہ اساتذہ شعراء کا دور بھی پر آشوب تھا ، اور انتظار صاحب کے من کا دور بھی پر آشوب ہی رہا ۔ ایک جگہ ہجرت کے حوالے سے انتظار حسین لکھتے ہیں ’’ اسلامی تاریخ میں یہ تجربہ با ر بار خود کو دہراتا ہے اور خارجی اور با طنی دکھ درد کے طویل عمل کے ساتھ ایک تخلیقی تجربہ بن جاتا ہے،،
مختصر یہ کہ ہجرت ان کا عنصر لازم و جزو لازم ہے۔ خواہ جسمانی ہو یا ذہنی اور ان دونوں ہجرتو ں سے پیدا ہو نے والے مسائل و مصائب و حالات و واقعات کو انہو ں نے اپنے منفرد انداز میں تحریر کیا ہے۔ ڈاکٹر انور سدید رقم طراز ہیں ۔
’’انتظار حسین حلقہ ارباب ذوق کا سب سے ذہین اور ماہر افسانہ نگار ہے۔ گزشتہ ربع صدی میں اس نے اردو افسانے
میں تجسم ، تجرید اور علامت نگاری کے متعدد تجربے کئے اور یوں وہ اردو افسانے کی نئی جہت کا پیش ر و شمار کیا گیا۔ 
کنکری سے شہر افسوس تک انتظار حسین کے فن نے متعددمراحل طے کئے ہیں ۔اور وہ ہر مرحلے پر اپنے فن کا واحد 
نمائیدہ ثابت ہوا ہے ۔انتظار حسین کا افسانہ متجسس فرد کے باطن کا آئینہ ہے۔،،
)اردو ادب کی تحریکیں۔۔۔۔۔ص۵۸۶(
واقعہ نگاری، جزیات نگاری، منظر نگاری مکالمہ نگاری کے عمدہ فن نے ان کے افسانے کو روح بخش دی۔ ایک منظر دیکھئے ۔ اور اس واقعہ میں 
موجو د جہتو ں کو سمجھئیے داد و تحسین کے الفاظ نہیں ملتے۔
’’ پہلے آدمی نے اپنے باپ کاذکر کیا تو دوسرے کو بھی اپنا باپ یاد آگیا ۔ میر ا باپ بھی اسی سادگی سے مرا تھا۔
میں نے اس کے پا س جا کر اس کی شفقت پدری کو اکسانے کی کو شش کی اور رقت کے ساتھ کہا اے میرے 
باپ تیرا بیٹا آج مر گیا ۔ با پ میری مسخ صورت کوتکنے لگا اور پھر بو لا کہ اچھا ہو اکہ تو میرے پا س آنے سے 
پہلے مر گیا ۔ یہ سب کچھ کر نے اور دیکھنے کے بعد بھی تو زندہ آتا تو میں تجھے قیامت تک کا بو جھ اٹھانے کی 
بس دعا دیتا،، 
)شہر افسوس۔۔۔۔ ص۲۱۱(
انتظا ر حسین اور شہر زاد
’’ شہر زا د،، انتظار حسین کا یہ افسانو ی مجمو عہ ۲۰۰۲ میں سنگ میل سے شائع ہو ا۔ یہ ان کے تخلیقی ادبی ارتقاء کا ایک اور منظر نا مہ ہے۔ جس میں بدلتے ملکی حالات کا منظر نا مہ اور انسان کی داخلی صورتحال بھی نظر آجا تی ہے۔ اس افسانوی مجمو عے میں سترہ افسانے شامل ہیں ۔ جن میں تاریخ ، بد لتے حالات ، انسانی کیفیات و نفسیات، اساطیر گو یا ان کے فن کی تما م تر خصوصیات مو جو د ہیں ۔ جو ان کو باقی افسانو ی منظر نا مے میں سب سے منفرد کر تیں ہیں۔ 
’’دائرہ،، 
دائرہ ، اس مجمو عے کا پہلا افسانہ ہے ۔ جو اپنی تکنیک کے اعتبا ر سے یادداشتیں ہیں۔ جہا ں انتظار صاحب دائرے کی صورت ما ضی کے کھنڈرات میں سفر کرتے نظر آتے ہیں۔ کہا نی میں سراپا نگاری اور مافوق الفطرت یا ماورائے حقیقت واقعات نے داستانوی خوبی پیدا کر دی ہے۔ جو ان کا خاص رنگ ہے ۔مگر اس میں بھی تاریخ کے ہلکے پھلکے رنگ دکھائی دیتے ہیں۔ جو اس کی اہمیت کو بڑھاتے ہیں۔ شاعرانہ نثر سے خوب کا م لیا گیا ہے۔ اگرچہ یہ وصف ان کے ہا ں کثرت سے دکھائی دیتا ہے۔ جس کے ساتھ ساتھ وہ محاوروں کا بھی بھر پو ر استعما ل کر تے ہیں۔ اگر ایک جملے میں ان کے اس افسانے کو سمیٹوں تو وہ یہ ہو گا’’ یہ کہا نی انتظار حسین کی یاداشتو ں کا ایسا مجمو عہ ہے ، جس میں ان کا ما ضی سانس لیتا محسو س ہو تا ہے اور تاریخ ایسی کہ جس کو دیمک نے نہ چاٹا ہو ۔ بلکہ محفوظ آثار قدیمہ میں بد ل گئی ہو۔ ،،
’’ مورنامہ،، 
یہا ں بھارتی راجھستا نی مو رو ں کا تذ کر ہ ملتا ہے۔ ایک مختصر سے راجھستانی سفر نا مے کا گمان ہو تاہے۔ جے پو ر ’ پنک سٹی، وہا ں کا حسن ، وہا ں کے مو ر ، وہا ں کے راج ہنس ، اور مو جو دہ ایٹمی دور کے اثرات کو بہت درد مندی سے پیش کیا گیا ہے۔ 
یہ بہت بڑی علا متی و المیا ئی کہا نی ہے کہ فکر رسا رکھنے والے اور حساس قاری اس کو پڑھ کر مسوس ہو ئے بنا نہیں رہ سکتے۔ ایٹمی دھما کے کا پس منظر، مو روں کو علا مت بناتے ہو ئے یہ بتا نا کہ وہ دھما کے سے قبل کی چہکا ر کو بھو ل کر اب گو نگے ہو گئے ہیں ۔اس میں کس قدر گہرائی و گیرائی و معنو یت ہے ۔ کہا نی میں سیاسی رنگ بھی در آتا ہے ، اور مستقبل کے اندیشے بھی نظر آتے ہیں ۔ 
عراق و امریکہ کی جنگ کی ہو لنا کی کو بھی بیا ن کیا گیا ہے کہ احساس بیدار کیا جائے کہ جنگ سلامتی نہیں ، تبا ہی ہے۔ اس سے کبھی انسانیت کو فلا ح نہیں ملی، نسلیں شانت نہیں ہو ئیں ۔ اس کے وضاحت کے لئے’ مہا بھارت ،سے واقعات اور ’ہیرو شیما ، کی تبا ہی کا منظر پیش کر نے کا مقصد فقط جنگ کی ہو لنا کیو ں کے بارے میں آگا ہ کر نا ہے۔ ایٹمی تجربات کے باعث پیدا ہو نے والے ایک بہت بڑے اندیشے کا انہو ں نے کما ل خو بی سے بیان کر دیا ہے۔ 
’’ شہر زار کی مو ت،، 
یہ ایک خوبصورت کثیر جہتی افسا نہ کا ہے ۔ داستانو ی رنگ اس کو بو جھل نہیں کر تا ، اس میں روح پھو نکنے کا کا م کر تا ہے۔ بعض اوقات نا مساعدحالات ہی انسا ن کے لئے سود مند ہو تے ہیں ۔ وہ اس کو بہا در اور با عمل بنا دیتے ہیں ۔ یہ فا نی زندگی 
بہت ظالم شے ہے ، جینے کے لئے انسا ن سولی چڑھ کے بھی جی لیتا ہے۔ شہراذاد بھی یو نہی جیتی ہے۔ اس کی مو ت اس کی زندگی بنی رہی۔ 
دوسرے معنی میں تخلیق بعض اوقات فقط وقت و حالات کی وقتی پیدا وار ہو تی ہے۔ اگر حالات ساز گار ہو جائے تو یہ الٹے پیر پلٹ جا تی ہے۔ یہا ں کہانی میں مو جو دہ انسا ن کا عکس دیکھا جا سکتا ہے۔ کہا نی میں دلچسپی بھی باکل ویسے ہی ہے جیسے الف لیلی کا لطف آتا ہے۔ اس کہا نی کا بہترین حصہ اس کا اختتا م ہے ۔ جس میں کئی کہا نیاں سانس لیتی نظر آتی ہیں ۔ زندگی اور مو ت کی ایک اور ہی تصویر دکھا ئی دیتی ہے 
’’ اے با د شاہ ، اے میرے سرتاج ، شہر زاد غم زدہ آواز میں بو لی ۔ تو نے میری جا ن تو بخش دی مگر مجھ سے 
میری کہا نیاں چھین لیں مگر میں تو ان کہا نیو ں میں زند ہ تھی ۔ وہ کہا نیاں ختم ہو ئیں تو سمجھو میری زندگی ختم ہو گئی،، 
شہر زاد کی مو ت اصل میں یہ ہے ، وہ نہیں تھی کہ اس کو قتل کر دیا جا تا ۔ اس افسا نے میں اساطیر کے اندر ایک تخلیق کا ر کی زندگی کی حقیقت ہے ۔ 
’’ ریز رو سیٹ،
اس کہا نی میں ایک طر ف تو مو جو دہ حالات کی گھمبھیرتا ہے تو دوسری طر ف یہ افسانہ روحانی و نفسیاتی بھی ہے۔ اس افسانے میں انہو ں نے ثابت کیا ہے کہ خواب ایک علم ہے ۔ اس کو ہم محض ’’ نفسیاتی،، عارضہ سمجھ لیتے ہیں۔تو ایک طرف بظاہر ملک کے مو جو دہ حالات پہ تبصرہ ہے کہ نو جو ان دہشت گردی کا نشانہ بن رہے ہیں، زندگی میں داخل ہو نے سے قبل موت کے سفر ہی چلے جا تے ہیں۔ جس کے با عث عمر رسیدہ افراد معاشرہ کی تعداد میں اضافہ بھی ہو رہا ہے۔ یہ ایک لمحہ فکریہ ہے ، کہ نو جوان جن کے کا ندھو ں پہ قومو ں کا مستقبل ہو تا ہے ، وہ نا کا فی ہو ئے تو قوم آگے کیسے بڑھے گی؟ترقی کیسے ہو گی؟ خوف کی فضا میں زندگی سانس کیسے لے گی؟ 
’’ وارد ہو نا شہزادہ تورج کا شہر کا غذ میں اورعاشق ہو نا ملکہ قرطاس جادو پر،، 
داستا نو ی رنگ میں لکھی گئی کہا نی سفر سے شروع ہو کر سفر پہ ہی ختم ہو جاتی ہے۔ بظاہر یہ عام سی کہا نی لگتی ہے مگر اس میں پرت در پرت گہرائی ہے، پرت در پرت رازِ زیست ہیں ۔ انسانی نفسیات کا عمیق مشاہدہ ہے ، عمل و ردعمل کا دائرہ فطری ہے، انسا ن کو معلو م ہی نہیں ہو تا کہ اس کے اپنے کئے گنا ہ اور نا انصا فیا ں خوف و نا کامی بن کر اس کا پیچھا کرتے ہیں اور انسان کو مظلو م کی بد دعا اور آہ لگ جا تی ہے ۔
شہز ادے نے اسلام کی آڑمیں بہت سو پر ظلم کئے جبکہ اسلام ( یا کو ئی بھی مذہب ہو ) صرف امن ہے۔ تلو ار کی ہر جا و ہر وقت اجازت نہیں دیتا ۔ دین فطرت کسی کے ساتھ ’ زبردستی ، کو نہیں ما نتا ۔ مگر وہ ہر جا زبر دستی ، طاقت آزمائی کر تا ہے۔وہ شہزادی مہتاب کو اسلام قبول کرواتا ہے ، اس کے ساتھ وصل کے رنگین لمحے گزارتا ہے ۔ تو شہزادی کو اس سے انس ہو جا تا ہے ، پھر وہ اس کو روتا ہوا چھوڑ کر اپنے اگلے نا م نہا د جہا دی سفر پہ روانا ہو جاتا ہے۔ وہ جہا ں جا تا ہے اسلام قبول کروا کے شہزادیو ں سے وصل کر تا ہے ، مگر شہزادی مہتاب سے وصل کے بعد اس کے کے وصل ایک خواب ہی رہ جا تا ہے ۔ یہ ایک آہ تھی ، جو اس کا پیچھا کر رہی تھی ۔ کہ اسے اگلی بستی میں کا غذ کی شہزادی ملتی ہے۔ آج کی دنیا میں دیکھیں توفلرٹ کے نا م پہ کتنے دل دکھا کر ، آگے بڑھ جانے والے لو گوں کی ازدواجی زندگی کبھی خوشگوار نہیں گزرتی۔ کئی آہیں ، اور بد دعائیں ان کا پیچھا کر تی رہتی ہیں ۔مگر ہم سمجھنے کو تیا ر نہیں۔ 
مکا فات عمل اور اللہ کی خامو ش لاٹھی ، انسا ن اس کو اپنی طاقت کے غرور میں بھلا بیٹھتا ہے ۔ یہا ں انتطار حسین نے اس کو آرٹ بنا دیا ہے۔ آخر میں محسو س ہو تا ہے کہ شہزادہ اندر سے کھو کھلا و خوف زدہ ہو گیا ہے اور مزید سفر خوف اور لا حاصلی کا ہے۔ وہ کا نٹے جو اس نے دوسروں کے لئے بو ئے تھے وہی اس کے بدن پہ چبھ رہے ہیں ۔ 
’’ ہم نو الہ،، 
ایک معصوم جذبو ں سے گندھی کہا نی ہے۔ انس و محبت عشق میں کب بدل جاتے ہیں معلوم ہی نہیں ہو تا۔ اور یہ جذبہ انسان سے انسان تک بھی محدود نہیں ہے۔ 
جوبھی زندگی میں خوشی و رنگ کا با عث بنتا ہے ، زیست کو زیست کر نا آسان کر دیتا ہے ، انسان اس کے عشق میں گرفتار ہو جاتا ہے اور اس کے بچھڑنے سے کھو کھلا و ادھو را ہو جا تا ہے ۔ اس کو بھو ل جا نے کے رستے تلاشتا ہے مگر نا کا م رہتا ہے۔ ہمیں کسی کی مو جودگی کا احساس اس کے جا نے کے بعد ہو تا ہے۔ یہا ں انتظا ر صاحب نے ایک اور خوبصورت نقطہ واضح کیا ہے کہ جا نو روں کے بھی احساسات و جذبات ہو تے ہیں ، جن کا وہ اظہا ر بھی کر تے ہیں ۔ پا لتو جا نو ر اور پر ندے تو کبھی کبھا ر انسانو ں سے بھی زائد شدت سے اظہا ر کرتے ہیں ، مثلاََ طو طے کو ایک دن بے توجہی کا ایسا احساس ہو ا کہ اس نے دن بھر کچھ نہیں کھا یا ۔ انتظا ر حسین کے جا نو روں اور پر ند وں کے کردار انسانو ں سے زیادہ متحرک دکھائی دیتے ہیں ۔ جو انسا ن کے بھی تغیر کا با عث بنتے ہیں ۔ 
’’ ما نو س اجنبی،،
یہ افسانہ پچھلے افسانے کا ہی شاخسانہ معلو م ہو تا ہے۔ گرچہ اس کی نو عیت قدرے مختلف ہے ۔ انتظار حسین نے یہ با ور کروانے کی کا میاب سعی کی ہے کہ انسان کے اضطراب کی وجہ فطرت سے دوری ہے۔ پرندوں کی چہچہاہٹ جو سکو ن دیتی ہے، وہ مو سیقی میں نہیں ، انسان اپنی فطرت نہیں سمجھ پا رہا ، جس کو وہ ترقی کہہ رہا ہے ، وہ ترقی نہیں ، اضطراب ہے ، بے سکو نی ہے، مشکلات و پریشانیو ں کا سبب ہے،۔ یہ ترقی دھیرے دھیرے اللہ کی مخلو ق زمین پہ معدوم کر رہی ہے۔ گو یا انسان خود اپنی فنا کی طر ف ترقی کے نا م پہ تیزی سے سفر کر رہا ہے۔وہ خود فطرت سے ہٹتا جا رہا ہے ، خود اپنا مستقبل خراب کر رہا ہے،خود آلو دگی بڑھا رہا ہے، خوددرخت کا ٹ کر ، ما حول کو خو د اپنے ہا تھو ں سے خراب کر رہا ہے۔ آہ ۔۔یہا ں بین السطو ر فکر و غم کی اک دنیا آباد نظر آتی ہے۔ 
افسانے میں منظر نگاری بہت پْر لطف ہے۔ 
’’ اللہ میا ں کی شہزادی ،،
یہ افسانہ ماضی اور حال میں بیک وقت سفر کر تا ہے۔ پنن اس کہانی میں انتظار حسین کا اپنا ہی کردار محسوس ہو تا ہے۔ جو کم عمری کے ما ضی میں اپنا آپ تلا ش کر کے خوش ہو رہے ہیں ۔ یہ سب یا د کر کے ان کے اندر مسرت کی لہریں دوڑ جا تی ہیں کہ ماضی کتنا خوبصورت تھا ۔ جب سرحدیں نہیں تھیں، تو یہ مو جو دہ مسائل بھی نہیں تھے۔ سرحدیں کھنچ جا نے کے بعد حالات و واقعات بدلتے ہیں تو انسا نی سوچ بھی بدل جا تی ہے۔ حال کے مسائل اور مصا ئب و وحشتیں مل کر خوبصورت ما ضی کو بھی دھندلا کر دیتے ہیں کہ وہ پو ری تو جہ سے ما ضی میں یا دوں کے ذریعے بھی سفر نہیں کر پا تے۔ 
’’ جبا لا کا پو ت،، 
یہ افسانہ انسان پر طنز ہے ۔ اس کے اشرف المخلوقات ہو نے پہ طعنہ ہے کہ یہ تعلیم اس کو سدھارنے کی بجا ئے اس میں بگاڑ پیدا کر رہی ہے۔ اس تعلیم کا کیا فائد ہ؟ انسا نو ں سے اچھے تو جانو رہی ہیں ، جو کم از کم دوسروں کے لئے نقصان کا با عث تو نہیں بن رہے۔ انسا ن جس کو علم و دانش سمجھ رہا ہے ، وہ علم ہے ہی نہیں۔
’’ کلیلہ نے منہ سے کیا کہا؟،، 
اس میں انتظار حسین نے مو جو دہ سیا سی نظام اور سیا سی کردارو ں کا نقشہ بہت ہی جا نبداری اور مہا رت سے کھینچا ہے ۔ یہ با ور کر وانے میں کا میا ب نظر آتے ہیں کہ کو ئی بھی جاندار کہیں بھی پہنچ جا ئے ، کچھ بھی بن جائے ، اس کی خصلت نہیں بدلتی ۔ اگر چوہا ہے تو چو ہا ہی رہے گا ۔ گیدڑ ہے تو گیدڑ ہی رہے گا ۔ انسان بھی خمیر ہی سے جڑا رہتا ہے۔ اس کا خمیر بد لے نہیں بدلتا ، اس پر وہ ملمع کا ری تو کر لیتا ہے ، مگر وقت آنے پر اس کا رنگ اتر جا تا ہے۔لہذا انسا ن کو اپنی خصلت نہیں بدلنی چاہئے ، وہ خمیر سے بیڑ لے گا تو نقصان اس کا اپنا ہی ہو گا ۔ 
یہ کثیر جہتی افسانہ ہے جو قومی معاملات سے شروع ہو کر بین الاقوامی سطح تک دیکھا جا سکتا ہے بلکہ اس کا کا ئنا تی سطح پر بھی مطالعہ کیا جا سکتا ہے بس ذرا بصارت سے بصیرت کا سفر درکا ر ہے۔ 
’’ دمنہ کیو ں ہنسا ، کلیلہ کیو ں رویا ،، 
یہا ں با ت جا نورو ں پرندو ں کی ہے ، مگر مخا طب انسا ن ہے ۔ علا متی افسا نہ ہے۔ عصری صورتحال کے پس منظر میں ہے ۔ بد لتے ہو ئے معاشرتی و سیا سی حالا ت کی علا متی عکا سی ہے۔ ان شر پسند و ں کی نشا ہدہی ہے جو امن و سکو ن کو خراب کر تے ہیں اور پھر اس کو مسلسل خواب رکھنے میں بھر پو ر کر دار ادا کر تے ہیں ۔ ملک کی سیاسی جما عتو ں نے سیاست کو جو تما شابنا رکھا ہے اس پہ بات ہو ئی ہے اور اس تما شے کی وجہ کو ئی با ہر کا تیسرا فریق آکر اپنی جگہ بناتا ہے تو بھی ہم با ہر والو ں کو الزام دیتے ہیں اپنے گریبانو ں میں نہیں جھانکتے ۔ حالات یہ ہیں کہ دعوے وفا کے سب کر تے ہیں ، مگر مو قع ملنے پہ ، کو ئی بھی مو قع ہا تھ سے نہیں جانے دیتا ۔ اس صورتحا ل میں دوسروں کو ملک کے داخلی معا ملات میں دخل اندازی کی اجازت اور مو قع دے کر خود اپنے پیرو ں پہ کلہا ڑی مارنے کے مترادف ہے ۔ خود ملک کا امن برباد کر نے والی بات ہے ۔انتظار صاحب نے بہت سادگی و پْر اثر انداز میں اتنی بڑی با ت بیا ن کر دی ہے یہی ان کا فن ہے۔
’’ کلیلہ دمنہ ہٹ لسٹ پر،، 
یہ افسانہ پچھلے ہی افسانے کا شاخسانہ ہے ۔ جس میں انتظار حسین ملکی حالات پہ مسوس ہیں۔ افسانہ بظاہر جا نو رو ں پرندوں کے منظر میں سیا سی فرشتو ں کی طر ف اشارہ ہے۔ جہا ں منافقت عام ہے، سیاست دان کہتے کچھ ہیں اور کر تے کچھ ہیں۔ تعلیم و روشن خیا لی کے نا م پہ ڈگری تو قبو ل کی جا تی ہے۔مگر روشن خیال ذہین قبو ل نہیں کیا جا تا، کیو نکہ یہ قدامت پسندوں کی ،جا گیر وں، ان کی حکو متو ں و حکمرا نی کے لئے خطر ہ ہے۔ وہ غریب کوان پڑھ رکھ کر ہی اپنے مقا صد پو رے کر تے رہے ہیں ، ان کو ان کے قد مو ں پہ کھڑا ہی نہیں ہو نے دیتے ۔ پھر بھی اگر کو ئی روشن خیال و ذہین ، علم سے لبریز فرد آگے بڑھتا دکھا ئی دے تو اس کو کسی نا کسی چکر میں پھنسا کر ختم کروا دیتے ہیں ۔رستے سے ہی ہٹا دیتے ہیں۔ کیو نکہ یہ شعور کی پہلی سیڑھی ان کے لئے خطرہ ہے۔ اور وہ کو ئی خطر ہ مو ل لینا نہیں چاہتے ، جو ہے ، جیسے ہے کہ بنیاد پہ خا لی خْو لی نعرو ں سے اپنا کا م چلا نا چاہتے ہیں۔ 
’’ کلیہ چپ ہو گیا ،، 
یہ افسا نہ بھی پچھلے تین افسانو ں ہی کی ایک کڑی ہے ۔ مگر یہا ں ملکی حالات کے باعث ما یو سی کہ ایک لہر نظر آتی ہے۔ تبدیلی کی امید دم توڑتی دکھا ئی دیتی ہے۔ خود غرضی، بے اعتما دی ، منافقت، بد امنی ، بے حیائی، انسانی بے تو قیری ، بے قدری ، اور اس طرح کے رویو ں سے بڑھتی ہو ئی ما یو سی ، با شعور افراد کو یہ سو چنے پہ مجبو ر کر دیتی ہے کہ خامو شی بہتر ہے۔ بہتری کی بات کرنا ،بھینس کے آگے بین بجانے کے مترادف ہے۔ 
’’ چاہیا نے کیا کھا یا کیا پا یا ،، 
اس کہا نی میں علم کی اہمیت اور اس کی اصلیت کو بیا ن کیا گیا ہے ۔ علم ڈگری کا نا م نہیں یہ رویے کا نا م ہے۔ معلو مات اور علم میں بھی واضح فرق ہے ۔ اس وقت ہم جس ڈگر پہ ہیں یہ معلومات تو ہو سکتی ہیں علم نہیں ۔ انتظار حسین نے علم کو صوفیو ں۔ ولیو ں کے درجا ت کے ساتھ بیان کیا ہے ۔ ان کا خیا ل ہے کہ علم تو عاجزی پیدا کر تا ہے، انکساری سکھاتا ہے ، احترام آدمیت کے کا درس دیتا ہے۔ جو علم غرور پیدا کر دے ، وہ علم نہیں ۔ کہ پھلو ں والی ڈالی تو ہمیشہ جھکی ہو تی ہے۔ 
’’ مہا جن کے بندروں کا قصہ،، 
پو ری دنیا کے بدلتے حالات سے جو ایک گلو بل ویلج بن رہا ہے ، یہا ں انتطار صاحب اس کا ذکر کرتے ہیں ۔ ان کا خیال ہے کہ اس ترقی سے انسا ن اپنی شنا خت کھو رہا ہے۔ نئی نسل کی نئی روش سے وہ فکر مند نظر آتے ہیں۔ 
’’ میرے اور میری کہا نی کے بیچ ،،
بڑے تخلیق کا ر کی بصیرت بھی وسیع ہو تی ہے اس کا دردبھی کئی گنا ہو تا ہے ۔ یہا ں بھی ایک ایسا ہی مصنف سکتے کے عالم میں ہے۔ پاکستا ن و ہندوستا ن کے ایٹمی پاور بننے پہ تشویش کا اظہا ر، صنعتی ترقی کے نا م پہ زوال کی کہا نی ، روس کے ٹوٹنے کا تذکرہ ، جیسے قیا مت ان کی آنکھو ں کے سامنے اپنا درد بھرا رقص کر رہی ہو ۔ اور اس درد سے اس کی تخلیق ان سے دور چلی گئی ہو ۔ لکھتے ہیں 
’’ مجھے کہا نی لکھنے کے چھو ٹے سے مقصد سے آگے کو ئی مقصد ہی نظر نہیں آتا اور اب میری کہا نی بھی ایک بحران 
سے دوچار ہے۔ جب قلم اٹھاتا ہو ں تووہ چا غی کا پہا ڑ میری آنکھو ں کے سامنے آن کھڑا ہو تا ہے ۔ مگر مجھ پر تو اس کا
اثر وہی کوہ ندا کی پکا ر والا ہو تاہے تو میری صورت یہ ہے کہ ایٹم بم کے سحر میں نہیں ہو ں ۔ اس پہاڑ کی اذیت بھری ہیبت 
میں سانس لے رہا ہو ں ۔ اس اذیت سے لبریز ہیبت سے نکلو ں تو کہا نی لکھو ں ۔ میرے اور میری کہا نی کے بیچ یہ درد
رسیدہ پہا ڑ آن کھڑا ہو ا ہے،، 
’’ شہر زاد کے نام ،، 
کہا نی کی بات ہو ا ور شہر زاد کی با ت نا ہو ممکن نہیں ۔ اور انتظا ر حسین کا ذکر ہو اور شہرذار کا نا ہو یہ بھی ممکن نہیں ۔ اس مضمو ن نما کہا نی میں انتظار حسین شہر ذا د کو اپنے انداز مخصوص میں خراج تحسین پیش کر رہے ہیں ۔ کہ اس نے ایک ہزار راتیں خوف کے عالم میں کہا نی کہتے گزار دیں ۔ اس سے بڑا کہا نی کا ر کو ئی نہیں ہو سکتا ۔ مو ت کے سائے میں کہا نی کہنا کما ل فن ہے جو فقط الف لیلی کی شہرذاد کے ہا ں ہی ملتا ہے۔ 
انتظار صاحب سے ان حالت کے با عث کہا نی لکھی ہی نہیں جا رہی۔ یہ وہ حالات ہیں ، جن کا ذکر انہو ں نے اپنی اس کتا ب میں موجو د اکثر افسانو ں میں کیا ہے ۔قلم کا ر کا قلم رک جا نا ایک اذیت ہے ۔ اور اس اذیت کوقلم کا ر ہی سمجھ سکتا ہے ، یہا ں اس کرب زدہ قلم کا ر کا درد مو جو د ہے۔ جو اس درد میں شہر ذاد کو یاد کر تا ہے۔ 

یہ انتظا ر حسین کی ایک کتا ب ہی نہیں ایک دور ہے ، ایک تاریخ ہے ۔ جو تاریخ مصلیحت کے قلم سے رقم نہیں ہو ئی۔ 
مجھے پھر انتظا ر صاحب سے وہ آخری ملا قات یاد آگئی ۔ جب اس صدی کا ’’شہر ذاد ،، اپنے چاہنے والو ں کے جھر مٹ میں تھا ۔ اور چند ما ہ بعد 
کی وہ خبر کہ وہ اپنے داستاں سرائے میں لوٹ گیا
تب نم آنکھیں بس اتنا لکھ پا ئیں
تو ۔۔۔ بس ۔۔۔ یہ آخری ملا قات تھی۔۔۔
سفر میں ہیں ہم بھی ۔۔۔ آپ چلئیے۔۔۔
ہم بھی اپنا وقت پو راکر کے آ رہے ہیں 
مجھے ’شہزاد احمد، بھی یا د آگئے
کہتے تھے۔۔۔ تم نہیں آ سکو گی اور میں چلا جاؤں گا
اور 
انتظار صاحب۔۔۔
میں اب بھی نہیں آ سکی ، اور آ پ بھی چلے گئے۔

َ ََ
rabiaalraba@gmail.com

 مضامین دیگر 


Comment Form



اردو فکشن

© 2017 Urdu Fiction. All right reserved.

Developed By: Aytis Cloud Solutions Pvt. Ltd.