’تین لڑکیاں ایک کہانی‘ کا تنقیدی مطالعہ




سلمان عبدالصمد
29 Apr, 2018 | Total Views: 248

   

ناقدینِ ادب سے کہیں زیادہ وہ قارئین منصف نظر آتے ہیں، جن کے خانۂ دل میں ش.مظفر پوری کے سرمایہ فکرو فن کے نقش ونگار موجود ہیں۔ان کے فن سے ناقدین کی بے اعتنائی جہاں فنِ تنقید کو شبہات کی سرحدوں میں مقید کردیتی ہے ، وہیں دامنِ اردو ایک فنی دلکش گلاب سے خالی خالی نظر آتا ہے۔یا پھر یہ کہہ سکتے ہیں کہ’ دم چھلوں ‘کی روایت سے منحرف ادیبوں کو ادبی خلعت بڑی مشکل سے ہی مل پاتی ہے۔ ورنہ تو حقیقت پسند نگاہوں کو ش مظفر پوری کے نصف صدی پرمحیط افسانوی سفر میں دلکش سنگ میل نظرآتے ہیں اور ان تمام میلوں پر واضح لفظوں میں ان کی انفرادیت بھی کندہ ہے۔رہی بات ش، مظفرپوری کے طریقہ کار میں جنسیت یا پھر پاپولر ادب کی جھلکیوں کی تو ترقی پسند ی سے ماقبل اور مابعد ، قابل ذکر سرمایہ رکھنے والے کس ادیب کے یہاں ایسی جھلکیاں نہیں ملتیں ۔ ترقی پسند ی ، جسے ادب کو زندگی کا علمبردار بنانے کا نہ صرف زعم بلکہ ناز ہے ، میں بھی جنسیت کی فضا ہے اور اسے جنسیت سے پاکی حاصل کرنے کے لیے ناقدین ادب سے لوہا لینا پڑتا ہے۔ 
ش ۔مظفر پوری نے اسی عہد میں لکھنے پر توجہ کی،جب عصمت اور منٹو اپنے بیباکانہ لہجے میں قارئین سے قریب ہورہے تھے اور خود انھوں نے اعتراف بھی کیا ہے کہ ابتدائی ایام میں مجھے منٹواور عصمت نے خاصا متاثر کیا۔ پھر یہ پہلو بھی قابل توجہ ہے کہ ادبی منظر نامہ پر چھایے رہنے والے وہ کون سے موضوعات ہیں، جن پر ش مظفرپوری نے توجہ نہیں دی۔ اس کے باوجود بھی ان کے قابل ذکر سرمایہ پر فقط جنسیت کی نگاہ ڈالناکہاں کا انصاف ہے۔یہ وہ موقع نہیں ہے کہ ان کے موضوعاتی سروکار اور فنی انسلاکات پر کمال وتمام کے ساتھ بات کی جائے ۔ اس لیے ہم اپنی گفتگو کو ان کے ناولٹ ’’تین لڑکیاں -ایک کہانی ‘‘ پر ہی مرتکز رکھیں گے۔ ش، مظفرپوری کی افسانوی تحریروں میں جہاں دس افسانوی مجموعے شامل ہیں،وہیں پانچ ناول اور دو ناولٹ بھی قابل توجہ ہیں۔ دیگر تصانیف سے قطع نظر یہ کہ ’’تین لڑکیاں -ایک کہانی‘‘ 1959میں منظر عام پر آئی۔ جس میں وہ سماجی سروکار اور عام یا پھرپامال موضوعات سے جوجھتے نظر آتے ہیں۔ ’تین لڑکیاں -ایک کہانی ‘میں قصہ کی سطح پر تخیل کی پلندپروازی نہیں، بلکہ سماج کے متوسط طبقہ کا رزمیہ بن کریہ ناولٹ سامنے آتا ہے۔ ش، صاحب نے اس ناولٹ میں یہ دکھانے کی کوشش کی کہ اساسی طور پر لڑکیوں کے بے شمار مسائل مشترک ہیں، جنہیں سماجی اسٹیٹس یا والدین کے معاشرتی مراتب کم زیادہ نہیں کرپاتے ہیں۔ حمیدہ ، شکیلہ اور جمیلہ کے والدین ظاہرداری کے تناظر میں مختلف حیثیت رکھتے ہیں، تاہم برآمد ہونے والے بھیانک نتائج میں ان لڑکیوں کا مرتبہ یکساں ہی ہے۔ ش صاحب نے آسان لفظوں میں ان تینوں کو ایک ہی پس منظر میں پیش کرکے جہاں سماج پر گہر اطنز کیا، وہیں یہ بھی صاف کردیا ہے کہ سماجی کرتوت خود سماج کے لیے ہی دردِسر ہے۔
سادہ بیانیہ میں سامنے آنے والی اس کہانی کاموضوع بہت آسانی سے متعین نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ البتہ انتساب کے نام پر درج چندلفظوں سے اس کے موضوع کی جھلکیاں سامنے تو آتی ہیں ، تاہم اس کے پیش نظر موضوع متعین کردینا جلد بازی ہوگی۔ انتساب ہے :
’’تلک کی ننگ انسانیت اور رسوائے زمانہ لعنت کے نام‘‘
اس انتساب اورناولٹ میں پیش کی گئی کہانی کی اوپری سطح سے تلک وجہیز ہی اس کا موضوع متعین ہوتا ہے ، حالانکہ تینوں لڑکیوں کے حالات زندگی اور مسائل ومباحث مختلف نظر آتے ہیں۔ اس لیے یہ کہنا چاہئے کہ انھوں نے جن لڑکیوں کو سامنے رکھتے ہوئے کہانی کو آگے بڑھایا ہے ، فقط وہی سب کردار نہیں ، بلکہ سماجی نظریات بھی مکمل طور پر ایک کردار کی حیثیت اختیار کرلیتے ہیں۔ چنانچہ اس کا موضوع متعین کرنے میں ذرا دشواری ہوتی ہے۔ حمیدہ کی کہانی میں تلک وجہیز البتہ موضوع کا روپ دھار لیتا ہے ، تاہم شکیلہ کے پس میں تلک وجہیز کے ساتھ ساتھ بڑھتی عمر میں شادی کے معاملہ کی بھی شمولیت ہوجاتی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ معاشرتی برائیوں کے فروغ میں اس مسئلہ کا بھی کردار نظر آتا ہے ۔ رہا جمیلہ کا قضیہ تو اس میں سماجی ذہنیت اور منفی رویہ مکمل طور پر ایک کردا ر بن جاتاہے۔ جس طرح شعور کی رو اوررفتارِ وقت کو سامنے رکھ کرناول لکھے گئے، اسی طرح سماجی ذہنیت بھی ایک موضوع بن سکتا ہے۔ جیساکہ ش ،صاحب نے جمیلہ کے کردار میں یہ پیش کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے ۔] سماج کا ایک معتوب کردار’ سوتن‘ ہے، جس میں استواری کی صورت اس وجہ سے پیدا نہیں ہوپاتی کہ نسائی نفسیات اور اس کے پیچ وخم میں رشتے الجھتے رہتے ہیں ، جو رفتہ رفتہ لاشعور ی طورپر جبلت کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ تاہم شکیلہ اور جمیلہ کے معاملہ میں نسائی نفسیات کے برعکس سماج کا مجرمانہ کردار اور اس کے والد کی انانیت سامنے آتی ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ ش صاحب نے جمیلہ اور شکیلہ کے والد کے کردار کو آخری سطور میں جس حیثیت سے پیش کیا ، اس سے وہ قابل رحم کردار بن کر ابھرتا ہے۔ چونکہ والد ، شکیلہ کے بھاگ جانے سے حواس باختہ ہوجاتے ہیں، حتی کہ ان کا اکسیڈینٹ بھی ہوتا ہے ، اس لیے چند لمحات کے لیے وہ ہماری ہمدری کا مستحق تو ہوجاتے ہیں، لیکن یہ کہنے کی پوری گنجائش رہتی ہے کہ شکیلہ کے بھاگ جانے یا پھر غلط قدم اٹھانے میں والد ہی مجرم نظرآتے ہیں۔ کیوں کہ ایک طرف جہاں تلک وجہیز کا معاملہ تھا ، وہیں خود والد کی ظاہر داری اور انانیت کا مسئلہ بھی درپیش تھا کہ بیوی کی ضد کے باوجود بھی وہ اپنی بیٹی کی شادی نہیں کررہے تھے۔ کیوں کہ ناک اونچی کرنا انھیں مقصود تھا ، اس لیے اچھے گھرانے کی تلاش تھی، تاکہ ظاہر داری کا مظاہرہ ہوسکے۔ اسی ظاہر داری اور خودساختہ سماجی حیثیت برقرار رکھنے کی وجہ سے ان کی مجرمانہ شبیہ سامنے آتی۔یہی وہ مجرمانہ شبیہ ہے ، جس کی بنیادپر تلک وجہیزکا بھی فروغ ہوتا ہے اور غلط روایت کریہہ صورت اختیار کرتی چلی جاتی ہے۔ اسی طرح ’’گولٹ‘‘شادی کا مسئلہ بھی ہے ، جس میں سوتن کی طرح نفسیاتی کھنچاؤ کا معاملہ تو نہیں ، تاہم اس میں سماجی ذہنیت کی مکمل کارفرمائی نظر آتی ہے ۔ جیساکہ اس ناولٹ میں شکیلہ کے کرتوت کا نتیجہ جمیلہ کی بگڑی ہوئی حالت میں ظاہر ہوتا ہے ۔گولٹ شادی میں ایک لڑکی یا لڑکے کی کرتوت کا خمیازہ ناگردہ گناہ کی صورت میں دوسری لڑکی کو بھگتنا پڑتا ہے۔ شکیلہ اور جمیلہ کا معاملہ یا پھر گولٹ شادی کا مسئلہ ہو ، ان میں نفسیاتی تناؤ کے عمل دخل سے کہیں زیادہ سماجی ذہنیت اور بے جاہ خاندانی دباؤ کی ہی کارفرمائی ہوتی ہے۔ اس لیے سماج کے چہرہ پر سے شرافت کا مکھوٹا مکمل طور پر اترجاتا ہے ۔ ش مظفر پوری نے شکیلہ کے کردار میں دراصل اسی شرافت کا مکھوٹا اتارکر سماج کا مکروہ چہرہ بے نقاب کیا کہ ناگردہ گناہ کی سزا کے طور پر جمیلہ کو شکیلہ کے کرتوت کا نتیجہ بھگتنا پڑا اور سماج ہے کہ اسے اپنے سماجی انصاف وروایت پر اتراہٹ ۔ ایسی سماجی ذہنیت تو عموماً عورتوں اور لڑکیوں کے معاملہ میں بھدا مذاق کرتی ہے ، تاہم کبھی کبھی مردوں کو بھی ایسے ہی مسائل سے دوچار ہونا پڑتا ہے ۔ معروف ناول نگار غضنفر نے اپنے ناول ’’کینچلی‘‘ میں مرکزی کردار کو جس طرح پہلے انتہائی حسین پھر اپاہج بناکر پیش کیا ، اس میں مکروہ سماجی حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے ۔دانش جب اچھا تھاتو سب کی آنکھوں کا تارہ تھا، تاہم بیوی کو ہی کشمیر کی سیر کرانے کے دوران حادثاتی طور پر اپاہج ہوگیا تو نہ صر ف دیبا کی سہیلیاں بلکہ خود اس کے والد بھی دانش سے قطع تعلقی کا مشورہ دیتے ہیں ۔ اس صورتحال میں عورت اور مرد یکساں طور پر مجرمانہ شبیہ کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔ ’تین لڑکیاں - ایک کہانی‘ میں بھی شکیلہ کی کرتوت کی وجہ سے جمیلہ کے تئیں سماج مجرمانہ شبیہ کے ساتھ سامنے آتا ہے۔ 
اس ناولٹ میں سماجی سرور کار کو جس عمدگی سے پیش کیا گیا، اس سے محسوس ہوتا ہے کہ پامال موضوع میں بھی قارئین کے لیے دلکشی کے سامان موجود ہیں۔ ورنہ تو تلک وجہیز کے نام پر روزانہ سیکڑوں کی تعداد میں خبریں شائع ہوتی ہیں۔ اس پس منظر میں لکھے گیے ناول کا جواز اسی وقت پیدا ہوسکتا ہے ، جب اس میں فنی کشش اور اس کے انداز بیان میں دلکشی ہو۔ سچی بات یہ ہے کہ پامال موضوع میں بھی تخلیقی روح پھونکنے میں ش صاحب کو مکمل کامیابی ملی۔ یہی وجہ ہے کہ کثیر الوقوع موضوع سے بھی قارئین کے ذہن ودماغ میں گدگداہٹ پیدا ہوتی ہے۔ہوسکتا ہے کہ اس ناولٹ میں کہانی اکہری ہوتی تو شاید شگفتگی کا احساس نہیں ہوتا۔ تین لڑکیوں کی کہانی یک رنگ ہونے کے باوجود بھی ناول نگار نے بنت میں ایسی فنکاری دکھائی کہ تینوں میں کسی نہ کسی سطح پر انفردایت پیدا ہوگئی اور ہر ایک اپنی الگ حیثیت سے ناول کے صفحات پرمتعارف ہوتی ہیں۔ناول ہو کہ افسانہ ، بسااوقات دہری کہانی کے وجہ سے خلط مبحث کا گمان ہونے لگتا ہے یا پھر تکرار کی کیفیت پیداہوجاتی ہے۔ ش مظفر پوری کے فکشن میں قصہ کی سطح، دہری(بلکہ تہری) ہونے کے باوجود بھی نہ خلط مبحث کا احسا س ہوتا ہے اور نہ ہی تکرار کی سی صورتحال سامنے آتی ہے۔ اس ناولٹ میں اگر فنی بردباری نہیں ہوتی تو تکرار کی کیفیت لازماً درآتی ، لیکن انھوں نے نہ لفظی سطح پر ایسا محسوس ہونے دیا اور نہ ہی ناول کی عمومی فضا میں ۔ 
مرکزی کردار کی حیثیت سے اس ناولٹ میں کوئی ایک چہرہ ابھر کر سامنے نہیں آتا۔ البتہ کھنچا تانی کے بعد سماجی ذہنیت ہی مسلّم اور منفرد کردار بن کرواضح ہوتی ہے ۔ کیوں کہ حمیدہ ،شکیلہ اور جمیلہ تو باہم اس طرح مربوط ہیں کہ کردار کے لحاظ سے کسی ایک کو الگ نہیں کیا جاسکتا۔ کہانی کی فضا پر نہ چھانے کے باوجود بھی جمیلہ قابل رحم کردار بن جاتی ہے ، وجہ یہ ہے کہ سماجی ذہنیت کے پس منظر میں وہی ناکردہ گناہ کی سزا بھگتتی ہے ۔ رہی بات سکینہ کی ( جس کے کردار کو ش، صاحب نے سرنامہ کے طورپر استعمال کیا ہے اور ابتدائی سطریں اسی کے لیے وقف ہیں ) تو اس کی حیثیت ثانوی ہے ۔ تاہم قارئین کو ناولٹ سے جوڑنے کے لیے اسی کا کردار انتہائی دلچسپ ہے ۔کیوں کہ اس کی ڈرامائیت قارئین کے لیے دلکشی رکھتی ہے اور اس کردار میں سماج کا چہرہ ایک بار خوشنما معلوم ہوتا ہے کہ قوتِ گویائی سے محروم لڑکی کو بآسانی قبول کرلیا۔ یہ کردار جہاں بہت سے پہلوؤں کو اپنے اندر محفوظ رکھتی ہے ، وہیں لڑکیوں کے پیغام کے تناظر میں خاصا اہم ہے کہ لڑکیاں نہ صرف جنس مخالف کے لیے ہی کشش پیدا کریں ، بلکہ اخلاقی اورسماجی اطوار کے پس منظر میں بھی قابل توجہ بنیں ۔ 
کم عمری کی شادی فکشن کے لیے اہم موضوع رہا ہے ۔فکشن میں کسی نہ کسی پہلو سے اس کی شمولیت ہوتی تھی ۔تاہم آج بڑھتی عمرمیں شادی ہونے یا نہ ہونے کا مسئلہ انتہائی نازک ہوگیا ہے ، جیسا کہ اس ناولٹ میں حمیدہ اور شکیلہ کی شادی کا معاملہ درپیش ہے ۔ گونگی سکینہ کی شادی کے بعد اس کی سہیلیاں خواب دیکھتی ہیں یعنی ہمیشہ سوچتی رہتی ہیں :
’’یہ لڑکیاں اپنی اپنی شادی کے سنہرے خواب دیکھنے لگی ۔ یہ خواب طول پکڑتا جارہا تھا۔ یہ لڑکیاں خواب سے جتنی قریب آتی جارہی تھی ، تعبیر اتنی ہی دور ہوتی جاتی تھی۔ شکیلہ بے چاری تو خواب دیکھتے دیکھتے تھک چکی تھی ۔
اورایک دن اچانک اس تینوں لڑکیوں کو ایک زبردست جذباتی جھٹکا لگا ، جب انھوں نے سنا کہ سکینہ کی منگنی طے ہوگئی اور شادی کی تاریخ بھی مقرر ہوگئی۔
منشی جی ان بے زبان لڑکیوں کے لیے سوچا کیا ہے ، کیایہ عمر بھر ایسی ہی بیٹھی رہیں گی ‘‘۔
(تین لڑکیاں ، ایک کہانی صفحہ57)
ان اقتباسات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ نہ صرف صغرِ سنی کی شادی کے بطن سے مسائل پید اہوتے ہیں، بلکہ دیر تک شادی نہ ہونے کی وجہ سے بھی بے شمار برائیاں جنم لیتی ہیں۔ ش مظفر پوری نے بڑی شد ومد کے ساتھ ساٹھ کی دہانی میں ہی اس مسئلہ کو اٹھا دیا تھا۔ گویا یہ مسئلہ تقریباً پچاس -ساٹھ برس قبل بھی پرپیچ تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ پہلے دیر سے شادی کی وجہ کچھ اور تھی اور آج کچھ اور ہے ۔ تاہم اس کی خطرناکیوں کا سماج کوزبردست قیمت چکانا پڑتی ہے۔ غضنفر کا ناول ’’شوراب‘‘بھی لڑکیوں کے متعلق ایسے بے شمار مسائل پیش کرتا ہے ، جسے اگر پچاس ساٹھ برس قبل لکھے گئے اس ناولٹ کے پس منظر میں دیکھیں تو لڑکیوں کا معاملہ مزید پرپیچ نظر آتاہے۔ ’’شوراب‘‘ جہاں اس جانب مشیر ہے کہ والدین لڑکیوں کو بوجھ سمجھ کر شادی میں اس قدر عجلت کرتے ہیں کہ شادی کے بعد کامعاملہ خراب ہوجاتا ہے ، وہیں پیش نظر ناولٹ ’’تین لڑکیاں -ایک ناول‘‘میں والد، لڑکوں کی تلاش میں چکاچوند اورصاحب ثروت گھرانوں کا اس قدر خیال رکھتے ہیں کہ انھیں لڑکیوں کی عمر کا ذرا بھی خیال نہیں ۔لب لبا ب ہے کہ ش صاحب نے شادی نہ ہونے سے پریشان پریشان چند لڑکیوں کی کہانی سنائی ہے اور غضنفر نے شادی شدہ’ خوشحال‘ لڑکی کا المیہ پیش کیا ہے ۔ 
خلاصہ کے طور پر کہاجاسکتا ہے کہ تخیل کی بلند پروازی کے بغیر اور پامال موضوع کے باجود بھی، یہ ناولٹ قارئین کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ابتدائی صفحات میں پائی جانے والی ڈرامائیت، قصہ کی سطح پر متوازی کہانیوں کی شمولیت، اور کرداروں کا نفسیاتی رویہ، اس ناولٹ کی اہم خصوصیات ہیں۔ نفسیاتی سطح پر حامد کا شکیلہ سے قربت کے بعد یکسر بدل جانا ،بھی انتہائی توجہ طلب ہے ۔ کیوں کہ حامد کا معاملہ بدکرداری سے عبارت تھا ۔تا ہم شکیلہ کے لمس سے ہی اس کی زندگی کا دھارا بدل گیا ۔ مشرف عالم ذوقی نے بھی اپنی کہانی ٹشو پیپر میں نفسیات کی ایسی جھلک دکھائی ہے ۔ رہی بات موضوعاتی سطح کی تو گزرتے دنوں کے ساتھ اس میں اور بھی دلچسپی وکشش پیدا ہوتی چلی جائے گی۔ کیوں کہ دیر سے شادی والی ذہنیت کی قباحتیں دن بدن واضح ہوتی جارہی ہیں اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سماجی برائیوں کی جڑ یہی معاملہ بن جائے گا۔ فنی لحاظ سے یہ کہنا پڑے گا کہ بید ی کو تھیم کی جو بادشاہت ملی ہے ، اس میں ش مظفر پوری کا بھی حصہ ہے۔ قصہ کی ابتدا واختتام یا عرو ج کے پس منظر میں جو خصوصیت منٹو کی ہے ، وہی ش مظفرپوری کو بھی حاصل ہونی چاہئے۔ اس ناولٹ کے ابتدائی صفحات ،اس ضمن میں توجہ طلب ہیں ۔ جنسیت زدگی کے حوالے سے ش صاحب کی پگڑی اچھالنے کی جو کوشش کی گئی، اس پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ آخر ان کے سرمایہ میں جنسیت کا تناسب کتنا ہے۔ اگر ان کی ذہنیت جنسی آلودگی کو فروغ دینے والی ہوتی تو پیش نظر ناولٹ میں شکیلہ اور حامد کے پس منظر میں جنس کی زبردست تخم ریزی ہوسکتی تھی۔ لذت وہوسناکی کی فضا قائم کرنا بہت آسان تھا۔ جنسیت کے پردے پر شکیلہ کی پارسائی کا تمسخر اڑانا معیوب نہیں ہوتا۔ حامد تو تھا ہی ایساکہ اس سے محلے کی بے شمار لڑکیوں کی رسم وراہ تھی۔ ان دلکش قربتوں اور رسم وراہ کو جنسیت کی لَے میں ابھارا جاسکتا تھا لیکن انھوں نے جنسیت کے ایسے سازگارموقع پر بھی واہی تباہی نہیں مچائی۔ اس لیے کہہ سکتے ہیں کہ جنسی دھماچوکڑی پر منٹو کی طرح ش صاحب نہ تالیاں پیٹتے ہیں کہ ہا ں میں نے بھی دیکھ لیا دیکھ لیا اور نہ ہی عصمت کی طرح جنسیت کی مجالس سے ایک مسکراہٹ کے ساتھ گزر جاتے ہیں، بلکہ وہ ایسی نظروں سے دیکھتے ہیں کہ جنسیت خود شرماتی ہے۔ اس شرمندگی سے جنسیت کی جگ ہنسائی ہوتی ہے اور نہ ہی دیکھنے والے پر کوئی حرف آتا ہے۔ الغرض یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ فنی انفرادیت اور موضوعاتی محتویات کے پس منظر میں ش صاحب کا یہ ناولٹ بھی قابل توجہ ہے ۔ 

 مضامین دیگر 


Comment Form



اردو فکشن

© 2017 Urdu Fiction. All right reserved.

Developed By: Aytis Cloud Solutions Pvt. Ltd.