06 Nov, 2017 | Total Views: 261

حامدی کاشمیری کے افسانوں میں نفسیاتی عمل

سخی شاہ عرفان

حامدی کاشمیری ۲۹ جنوری۱۹۳۲ء کو سرینگر کے بہوری کدل علاقے میں پیدا ہوئے۔ اُن کا اصل نام حبیب اللہ بٹ ہے لیکن ادبی دنیا میں وہ حامدی کاشمیری کے نام سے مشہور ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم ایم پی ہائی اسکول سرینگر میں حاصل کی اور سال ۱۹۴۸ء کو میٹرک کا امتحان امتیازی نمبروں کے ساتھ پاس کیا۔حامدی کاشمیری ۱۹۵۴ء کو ایس پی کالج سرینگر میں بحیثیت انگریزی لیکچرر منتخب ہوئے۔ سال ۱۹۵۹ء کو انہوں نے جموں و کشمیر کلچرل اکادمی میں اسسٹنٹ سیکرٹری کا عہدہ سنبھالا۔ بعد میں حامدی صاحب کشمیر یونیورسٹی کے شعبہ اُردو کے لیے لیکچرر مقرر ہوئے۔ شعبۂ ھٰذا میں عرصہ دراز تک کام کرنے کے بعد وہ صدرِ شعبہ کے عہدے پر فائز رہے۔ انہیں ۱۹۸۰ء کو Dean Faculty of Arts کی ذمہ داری سونپ دی گئی۔ انہوں نے ۱۹۹۰ء سے لے کر ۱۹۹۳ء تک کشمیر یونیورسٹی میں وائس چانسلر کے فرائض بھی انجام دیئے۔حامدی کاشمیری ریاست جموں و کشمیر کا ایک اہم فکشن نگار ہیں۔ ان کے افسانوں میں کشمیر کا رنگ جھلکتا ہے۔ ان کے زیادہ تر افسانے کشمیر کے سیاسی، سماجی اور اقتصادی حالات پر مبنی ہیں۔ انہوں نے جہاں اپنے افسانوں میں یہاں کے ندی نالوں، جنگلوں، کوہساروں، پرندوں، حُسن وجمال، صنعت و حرفت اور دوسرے چیزوں کی تصویر کشی کی ہے وہیں ان میں انہوں نے نفسیات کی عمدہ عکاسی بھی کی ہے۔ اس ضمن میں ’آخری سہارا‘، ’شہناز‘، ’بے شرم‘ اور ’عورت‘ خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔
آکری سبق
’’آخری سہارا‘‘ موضوع کے اعتبار سے ایک نفسیاتی افسانہ ہے۔ مذکورہ افسانہ میں خود کو محاسبہ کرنے کا درس ملتا ہے۔ درحقیقت انسان بشر ہے جس کی وجہ سے اس کو اپنی کمزوریوں، خامیوں، کوتاہیوں کی اور دھیان نہیں رہتا ہے۔ یہی حال افسانے کے مسٹر سنہا کا ہے۔ وہ انجان عورتوں کے ساتھ عیش و عشرت، عیش و نشاط اور رنگ رلیاں مناتا رہتا ہے اور اس طرح کے بُرے افعال سرزد ہونے سے وہ بچوں کی جمع شدہ رقم بھی خرچ کردیتا ہے۔ مسٹر سنہا بیوی کی معمولی غلطی کو پکڑ کر طوفان بپا کردیتا ہے۔ پھر بیوی اور شوہر کے درمیان ہنگامہ آرائی ہوتی ہے۔ اس کا تجربہ کتاب حامدی کاشمیری کی افسانہ نگاری میں یوں کیا گیا ہے:
’’مجھے پہلے ہی دن سے سنہا سے شکایت رہی اور میں صاف اُن کے منہ پر انہیں ٹوکتی رہی۔ ٹھیک ہے انسان آزاد ہے اور یہ ایک ترقی پسند خیال ہے۔ شادی سے پہلے تو اسے آزادی رہتی ہی ہے۔ سنہا شادی سے پہلے مجھ سے بھی ملتے رہے اور دوسری لڑکیوں سے بھی محبت کی پینگیں بڑھاتے رہے۔ یہ ٹھیک ہے لیکن شادی کے بعد انہیں احساس ہونا چاہیے تھا کہ ان کے ساتھ ایک اور انسان وابستہ ہوچکا ہے‘‘۔۱؂
شہناز
’’آخری سہارا‘‘ کی طرح ’’شہناز‘‘ بھی ایک نفسیاتی افسانہ ہے۔ مذکورہ افسانہ میں حامدی کاشمیری نے فرائیڈ کے نظریہ کے تحت ایک نوجوان لڑکی کے اندر جنم لینے والے خیالات، جذبات اور احساسات کو اُبھارا ہے۔ اس افسانے کا مرکزی کردار شہناز ہے اور پوری کہانی اس کے گرد گھومتی ہے۔ اس افسانے میں حامدی کاشمیری نے رنگ و نسل اور تہذیب و تمدن کی تفاوت کے نتیجے میں پنپنے والے مختلف مسائل کو اُجاگر کیا ہے۔ دراصل اس افسانے میں شہناز کے والد کی پرانی ذہنیت کو اُجاگر کیا گیا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنی بیٹی (شہناز) کے جذبات و خیالات کو سمجھنے میں ناکام رہتا ہے۔ رشتہ جوڑنے میں والد کی حد درجہ مداخلت سے شہناز اپنا دماغی توازن کھو بیٹھتی ہے اور نتیجے کے طور پر وہ نفسیاتی شکار ہوجاتی ہے۔
’’اس شام کو جب میں فرائیڈ کے نظریہ جنس اور جنسی جبلت کے اسرار و رموز پر اپنا آخری لیکچر دے رہا تھا۔ شہناز کی آنکھوں میں سرخ ڈورے ابھرنے لگے اور اس کی دراز پلکیں جھکنے لگیں۔ اس کی سانسوں میں اشتہار پیدا ہونے لگا اور سبز ریشمی قمیض میں اس کے سینے کے ارتعاش سے قوس قزحی رنگ پھوٹنے لگے‘‘۔۲؂
بے شرم
افسانہ ’’بے شرم‘‘ کا موضوع جنس ہے۔ اس میں دراصل حامدی کاشمیری نے جنس زدہ عورت کے سامنے ایک شریف النفس مرد کی بے بسی پر روشنی ڈالی ہے۔ ماہرین نفسیات اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ جب جنسی جذبات میں بدحواسی اپنی انتہا کو پہنچی ہے تو عورت ایک بے لگام گھوڑی کی صورت اختیار کرلیتی ہے۔ پھر اس کے سامنے کوئی قدر اعتبار نہیں رکھتی ہے۔ مذکورہ افسانے میں جس جنس زدہ عورت کی کہانی کو پیش کیا گیا ہے، وہ نکہت سلطانہ ہے جو پیشے کے اعتبار سے فلاسفی کی پروفیسر ہے۔ اور اس کا شوہر ایک بڑا ملٹری آفیسر ہے۔ نکہت سلطانہ اپنے شوہر سے کافی دیر تک دور رہنے سے ایک انجان شخص کو جنسی عمل کے لیے مجبور کرتی ہے کیونکہ وہ اس کے آرٹ پر عاشق ہوجاتی ہے۔
’’آپ کتنے اچھے آرٹسٹ ہیں۔ کل ہی رسالے میں آپ کی بنائی ہوئی ایک خوبصورت تصویر دیکھی، کتنی خوش ہوئی اُسے دیکھ کر۔۔۔۔۔۔ جتنی آپ تصویریں خوبصورت بناتے ہیں، اتنے ہی خود بھی خوبصورت ہیں‘‘۔۳؂
عورت
’’عورت‘‘ افسانوی مجموعہ شہر افسوس کا ایک طویل افسانہ ہے۔ مذکورہ افسانہ اُس ایک عورت کی نفسیاتی تغیر و تبدل اور پیچ و خم کو اُجاگر کرتا ہے جو اس ترقی یافتہ دور میں معمولی شئے بن کر نسوانیت کی پاکیزگی، پاکی اور احترام سے بے خبر ہے۔ اس افسانے میں مرکزی کردار کلیش کی زندگی کا بیشتر حصہ دنیا کے امیر ترین شہر کویت میں گذارے کا تذکرہ بھی ہوا ہے۔ جہاں کی مصروف زندگی، عیش و عشرت اور تجارتی ماحول نے اُس کے سوچ و فکر میں ازحد تبدیلی لائی ہے۔ کمال کی وجہ سے مرکزی کردار کملیش میں تجارت کی عادات پیدا ہوتی ہیں۔ اُس کا بولنا، سوچنا، کھانا، پینا، پہننا اور اُٹھنا بیٹھنا وغیرہ مردوں کا جیسا ہے۔ اقتباس ملاحظہ ہو:
’’ان دنوں وہ بہت مصروف رہتی تھیں، صرف ہم کو ناشتے کی میز پر اُن سے چند لمحوں کے لیے بات کرنے کا موقعہ ملتا۔ وہ آئیں تو سارے ڈائننگ روم میں تازہ خوشبو پھیل جاتی۔ عموماً وہ صبح کو جلدی اٹھتیں، اور نہا دھوکر بالکل تیار، ناشتے کی میز پر آبیٹھتیں۔ میں تیار ہوکر ناشتہ کرکے سیدھے کورٹ چلا جاتا‘‘۔۴؂
نفسیاتی تصور ان کہانیوں میں جھلکتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ ان کہانیوں کا تعلق براہِ راست کشمیری عوام کے ساتھ ہے۔ حامدی کاشمیری کے یہ افسانے اُن اَن گنت عورتوں کی ترجمانی کرتے ہیں جن کی ازدواجی زندگی موجودہ رسم و رواج، مغربی کلچر، تہذیب و ثقافت، مغربی سوچ و فکر اور والدین کی ازحد مداخلت سے ویران و تباہ ہوچکی ہے۔ ان میں حامدی کاشمیری نے عورت کے تعلق سے مختلف مسائل کو زیر بحث لایا ہے یا موضوع بحث بنایا ہے۔ وہ عورت سے پورے معاشرے کو سوال کراتا ہے کہ اگر قانون اسلام کے مطابق عورت کا غیر مرد سے بات کرنا جائز نہیں ہے تو مرد کس قانون کے تحت اس سے گفت شنید ہوسکتا ہے۔
دراصل ان افسانوں میں فرائیڈ کے تحلیل نفسی پر زور دیا گیا ہے جس کے مطابق انسان جنسی تشنگی پوری نہ ہونے پر سماج کے مختلف جرائم، ڈاکہ زنی، عصمت فروشی، لوٹ مار اور قتل و غار میں مبتلا ہوتا ہے۔ حامدی کاشمیری نے اس تصور کو اپنے افسانوں میں برت کر ایک بڑی حقیقت کو واضح کیا ہے جس کو آج کل کے دوسرے افسانہ نگار برتنے سے کتراتے ہیں۔ ادیب ہجوم کا ایک حصہ ہوتا ہے لہٰذا اس کو ہر مسئلے کا مشاہدہ و ایمانداری سے کرنا چاہیے اور اس کو اپنی تخلیقات میں سمونے کا حق بنتا ہے۔ بالخصوص روٹی، کپڑا اور مکان ایسے مسائل ہیں جن کی وجہ سے بے شمار عورتیں عمر رسیدہ مردوں کے بستروں کی زینت بنی ہیں۔ متذکرہ افسانوں میں دراصل حامدی نے عورت کے ذہنی محرکات کو اُجاگر کیا ہے۔ یہ کہانیاں جابجا عورت کی مجبوری، بے کسی اور تنگ دستی کو عیاں کرتی ہیں۔ اُردو کے مشہور افسانہ نگار سعادت حسن منٹو نے نفسیاتی پہلو کو خاص طور پر اپنے افسانوں میں پیش کیا ہے۔ حامدی کاشمیریؔ نے اگرچہ چند افسانوں میں ہی اس پہلو کو موضوع بحث بنایا ہے پھر بھی اس کو کم بھی نہیں کیا جاسکتا ہے۔ چنانچہ حامدی کاشمیری ایک حساس ادیب ہیں لہٰذا وہ کیسے اپنے قلم کو ان مسائل اُبھارنے سے روک سکتا ہے۔
حوالہ جات :
۱؂: ڈاکٹر عبدالرشید خان، حامدی کاشمیری کی افسانہ نگار، ص ۶۸، اشاعت ۲۰۱۲ء، عفیف پرنٹرس۔
۲؂: ایضاً
۳؂: پروفیسر حامدی کاشمیری، سراب، ص۲۰،۲۱، اشاعت ۱۹۵۹ء
۴؂: ایضاً، ص ۹۰

Sakhi Shah Irfan
Guest Lecturer
Northern Regional Language Centre
Punjabi University Patiala, Punjab 147002.
email.id: irfankmr4585@gmail.com
Mobile no: 7006966578.

 مضامین دیگر 

Perwaiz Shaharyar
حامدی کاشمیری کے افسانوں میں موجود نفسیاتی پہلوؤں کو سخی شاہ نے بڑی محنت شاقہ کےساتھ اپے تجزیاتی مطالعہ میں اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔ سخی اپنے رویے میں مخلص اور دیانتدار معلوم ہوتے ہیں۔ان کے مطالعے سے حامدی کاشمیری کے افسانوی کینواس کی جھلکیاں نظر آنے لگتی ہیں۔ حامدی نے کشمیری عورتوں کی گھٹن بھری زندگی کا بڑی گہرائی سے جائزہ لیا ہے۔ان کے افسانوں کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ بظاہر سرسبز شاداب نظر آنے والی عورتیں کس طرح اندر سے جنسیاتی طور سے کرم خورہ اشجار کی مانند بے جان اور فطری توانائیوں محروم ہو چکی ہیں۔ بہرکیف! سخی شاہ کو اس کامیاب کوشش کے لیے مبارک باد پیش کرتا ہوں۔
2017-11-08 08:37:19

Comment Form