ٹیگور کاناول ’گورا‘: تجزیاتی مطالعہ




امتیاز احمد علیمی
24 Nov, 2017 | Total Views: 314

   

ٹیگور کی سماجی،تہذیبی ،ادبی اور تخلیقی سرگرمیاں کم عمری سے شروع ہوکر بغیر کسی وقفے کے آخری وقت تک جاری و ساری رہیں۔ان کی زبر دست قوت تخلیق اور جولانی طبع کبھی ختم نہیں ہوئی۔انھوں نے مختلف اصناف ادب پر طبع آزمائی کی۔شاعری کے علاوہ ناول افسانے ،ڈرامے،انشائیے،سماجی اور تمثیلی ناٹک ،فلسفیانہ موضوع پر مقالے،تحقیق و تنقید،مکاتیب اور سوانح وغیرہ میں اپنی غیر معمولی ذہانت و فطانت کے نقوش مرتسم کیے ۔مگر ان کی بنیادی شناخت ایک شاعر کی ہے جس میں وہ کہیں رومانی اور جمالیاتی شاعر نظر آتے ہیں تو کہیں مکمل طور پر شاعر حیات نظر آتے ہیں ۔لیکن ہمیں یہاں ان کی شعری تخلیقات سے کوئی سروکار نہیں ہے بلکہ ہمیں ان کے تیرہ ناولوں میں سے صرف ایک ناول ’’گورا‘‘سے سروکار ہے۔جس کے ذریعہ اس عہد کے مختلف سیاسی ،سماجی ،مذہبی اورتہذیبی و ثقافتی سر گرمیوں کا سرسری جائزہ لیا جائے گا ۔اس سلسلے میں اپنی کم مائگی کا اعتراف کرتا چلوں کہ مجھے بنگالی زبان بالکل نہیں آتی اس لیے میں نے بنیادی مآخذ کے بجائے ثانوی مآخذ پر اکتفا کیا ۔میرے سامنے گورا کاسجاد ظہیر کا ترجمہ کردہ اردومتن ہے ،جس کا پہلا ایڈیشن ساہتیہ اکادمی نئی دہلی سے 1962میں اور دوسرا ایڈیشن 1981میں منظر عام پر آیا ۔
گورا‘کے تجزیے سے قبل یہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس عہد کے مختلف تصورات کا اجمالی جائزہ پیش کردیا جائے تاکہ گورا کو سمجھنے میں کو ئی دشواری پیش نہ آئے۔بات دراصل یہ ہے کہ ٹیگور کا عہد ایک ایسا عہد تھا جو مختلف طرح کے سیاسی،سماجی،مذہبی،معاشرتی،اور تہذیبی و ثقافتی رسمیات سے جکڑا ہوا تھا ۔ٹیگور نے یہ ناول ایسے وقت میں تحریر کیا جب سماجی ،مذہبی اور معاشرتی صورتحال بد سے بدتر ہوکر بد امنی کا شکار ہورہی تھی۔1905میں لارڈ کرزن کے ہاتھوں بنگال تقسیم ہوچکا تھا ۔ستی پرتھا جیسی غیر مہذب رسم رائج تھی ۔بال وِواہ جیسی لعنت زوروں پر تھی ۔ذات پات ،چھوا چھوت کی بنیاد پر عدم مساوات کا رواج تھا۔راجہ رام موہن رائے اور وویکا نند کی تحریکیں اپنے قدم جمارہی تھیں۔زمینداروں اور جاگیرداروں کا قہر بے چارے غریب مزدوروں اور کسانوں پر نازل ہورہا تھا ۔عیسائی مشنریاں اپنے مذہب کی ترویج واشاعت میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہی تھیں ۔عیسائی مذہب کی ترویج و اشاعت کے نتیجے میں لوگوں کے افکار و نظریات تیزی سے تبدیل ہورہے تھے جس کے سبب مذہب بھی بدل رہا تھا۔مذہبیت نے قومیت پر اپنا شکنجہ کسنا شروع کر دیا تھا ۔ایسی صورت میں ملک کو ’دیوی‘ کا درجہ حاصل ہوگیا تھا۔جس کی وجہ سے اس کی پوجا پاٹ بھی شروع ہو چکی تھی۔دوسری طرف ’سودیشی تحریک‘کے فروغ نے عوام و خواص کو داخلی اور خارجی دونوں سطح پر ہلا کے رکھ دیا۔مذکورہ بالا تما م صورت حال کے پیش نظر ماہرین ادب اپنے داخلی اور خارجی ،ظاہری و باطنی کرب و اذیت نیز پُر آشوب دور کا نقشہ اپنی اپنی زبانوں میں پیش کر رہے تھے۔چنانچہ ٹیگور جیسے حساس ،دور اندیش اور دردمند دل رکھنے والے تخلیق کار کا مذکورہ بالا صورت حال سے نظریں چرا کر نکل جانا کسی طرح ممکن نہیں تھا۔اس لیے اس ناول کے ذریعہ ٹیگور نے ہندوستان کے سماجی و مذہبی اداروں کی جہاں اصلاح کی کوشش کی وہیں ان میں حب الوطنی کے جذبے کو بھی بیدار کیا۔وطن میں پھیلی ہوئی بد امنی ،بد حالی،عدم مساوات ،ذات پات ،چھوا چھوت،فرسودہ روایات کی خا میوں کو دور کرنے کی ذمہ داری نئی نسل کو سونپا،وہ نئی نسل جس نے روایات سے بغاوت کی وہ ناول کے کردار بنوئے،گورا،سچاریتا،لولتاوغیرہ ہیں جنھوں نے جدید قدروں کو اپنا کر پرانی اقدار و روایات کو فرسودہ قرار دیا۔
جدید قدروں کو اپنانے اور پرانی قدروں کو فرسودہ قرار دینے والے ہندو نہیں بلکہ برہمو تھے جنھوں نے ہندو مذہب کی خرابیوں کو دور کر کے اصلاح کی کوشش کی ۔انھوں نے ایک خدا کی عبادت پر زور دیا ۔ویدوں اور اپنشدوں کو بنیادی اصول بنایا جس میں جدید مغربی تصورات کو بھی شامل کیا گیا ۔سب سے بڑی بات یہ کہ برہمو سماج نے عقل انسانی کو اپنی بنیاد قرار دیا، نیز موجودہ اور سابقہ مذہبی اصول و اعمال کو قبول یا نظر انداز کرنے کی کسوٹی عقل کو قرار دیا۔( جیسا کہ ہمارے یہاں سرسید نے بھی اسی بات پر زور دیاجس کی وجہ سے وہ مطعون بھی ہوئے۔)یہی وجہ ہے کہ اس نے مذہبی کتابوں کی تشریح و تفسیر کے لیے پروہتوں کے طبقے کو نہ صرف نظر انداز کر دیا بلکہ برہمو سماج میں ہر فرد کو اس بات کا حق دلایا کہ وہ اپنے عقل سے کام لے کر خود یہ فیصلہ کرے کہ مذہبی کتابوں اورمذہبی یا سماجی و معاشر تی اصولوں میں کیا اچھا ہے اور کیا براہے۔چناچہ ناول میں ان اصولوں کی نمائندگی گورا،بنوئے،سچاریتا،لولتا،پاریش بابو،اور آنند موئی وغیرہ کرتے نظر آتے ہیں ۔اس طرح ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ برہمو سماج صرف بت پرستی اور توہم پرستانہ عقائد و اعمال کا ہی مخالف نہیں تھا بلکہ حقیقتاً ہندو نظام کا بھی مخالف تھا ۔برہمو سماج کے پیروکار بغیر پروہت کے مدد کے خدا کی پرستش کر سکتے تھے مگر ہندوؤں میں ایسا نہیں تھا۔برہمو یہ ایک ایسے سماجی مصلح تھے جو ذات پات کی تفریق کو نا پسند کرتے تھے۔بچپن میں شادی کی مخالفت کرتے تھے ۔عورتوں کے مراتب بلند کرنا چاہتے تھے۔بیواؤں کی دوسری شادی کے قائل تھے نیز مردوں اور عورتوں میں یکساں تعلیم کے قائل تھے۔یہ ناول انھیں اصولوں کی نما ئندگی کرتے ہوئے ایک ایسے نظام کی تشکیل پر زور دیتا ہے جو مذہبی منافرت ،عدم مساوات ،چھواچھوت ،ذات پات،اونچ نیچ سے پاک ہو ۔ایک ایسا نظام جو فطرت کے اصولوں کا پابند ہو ،جو مساوات اور انسانیت کا درس دیتا ہو ۔
جیسا کہ ابتدائی سطور میں اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ ٹیگور نے تقریباً تیرہ ناول لکھے لیکن ان تمام ناولوں میں جسے شہرت دوام حاصل ہوئی وہ ’گورا‘ ہے۔ٹیگور کا یہ سب سے اہم اور سب سے ضخیم ناول ہے ،جو بلا کسی مبالغے کے بنگالی ادب کا سب سے بہتر ناول قرار دیا جاسکتا ہے۔یہ ناول ایک ادبی رسالہ ماہنامہ’پرباسی‘میں اگست 1907سے قسطوار چھپنا شروع ہوا اور مارچ 1910میں یہ کتابی شکل میں منظر عام پر آیا ۔اس ناول کا مرکزی کردار گورا ہے جس کا پورا نام گور موہن ہے اسی کے نام پر ناول کا نام گورا رکھا گیاہے۔اس ناول کا پلاٹ مرکزی کردار گورا اور اس کے جگری اور لنگوٹیا دوست بنوئے بھوشن جسے ناول میں بنوئے کہا جاتا ہے دونوں کی زندگی اور ان کے طرز بود وباش نیز ان کے عقائد و اعمال اور تصورات سے تعمیر ہوا ہے۔یہ ناول اس عہد کے ہندو اور برہمن کے مابین مذہبی تضادات ،ہندوستان میں کلو نیل برٹش رول اور اس کا رد عمل ،سوسائٹی کے اثرات ،سوسائٹی میں عورتوں کی حالت کی عمدہ تصویر کشی کرتا ہے۔
واقعہ صرف یہ ہے کہ گورا کی پیدائش 1857کی جنگ آزادی کے دوران ہوئی۔ اس کے والدین Irishmanتھے اور وہ کلونیل آرمی میں ایک سپاہی کے عہدے پر فائز تھے جو غدر کے دوران شہید ہوچکے تھے مگر گورا کی ماں کرشن دیال کے گھر میں آئی جہاں اس نے گورا کو جنم دے کر اس دار فانی کو الوداع کہہ دیا ۔چونکہ کرشن دیال کی دوسری بیوی آنند موئی بانجھ تھی اس کی کوئی اولاد نہیں تھی اس لیے اس نے گورا کی پرورش و پرداخت کی ساری ذمہ داری اپنے سر لے کر اسے اپنے بیٹے کی طرح پالا پوسا ۔یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کرشن دیال کا گھرانہ ایک کٹرہندو مذہبی گھرانہ تھا اور خود کرشن دیال ایسے کٹر مذہبی تھے کہ وہ اپنے ہاتھ کے سوا کسی کے ہاتھ کا پکا ہوا کھانا تک نہیں کھاتے تھے۔ ایسے میں اس گھر میں ایک انگریز بچے کی پرورش کیوں کر ہوسکتی تھی؟مگر ہوئی۔ٹیگور نے ایسے شدت پسند ہندو گھرانے میں گورا کی پرورش کراکے چھوا چھوت،شدت پسندی،ذات پات،اور اونچ نیچ سے پرے ایک ایسا نظام پیش کیاجسے ہم نظام انسانیت کہہ سکتے ہیں۔ کرشن دیال کو دو وجوہ کی بنا پر شایدگورا کی پر ورش و پرداخت پر اعتراض نہیں ہوا۔پہلی وجہ تو یہ ہو سکتی ہے کہ اس کی دوسری بیوی آنند موئی بانجھ تھی اسے کبھی اولاد نہیں ہوسکتی تھی اس لیے اس نے اپنی اور اپنی بیوی کی خوشی کے لیے ایسا کیا ۔دوسری وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ چونکہ جس وقت گورا پیدا ہوا تھا اس وقت وہ تشدد پسند یا کٹر ہندو نہیں تھا۔اس وقت وہ شراب پیتا تھا اور اپنے برطانوی افسروں کے ساتھ Beefبھی کھایا کرتا تھا۔یہ وجہ زیادہ قابل قبول لگتی ہے کیونکہ یہی وہ طریقہ تھا جو اسے دولت بٹورنے اور جاہ و حشمت کے حصول میں معاون ثابت ہوسکتا تھا۔بہر حال گورا اس گھر میں پلا بڑھا۔جس میں اس کا ابتدائی رجحان برہمو سماج کی طرف تھالیکن بعد میں شدت پسند ہندو ہوگیا،مگر وہ بچپن سے ہی برٹش کلونیل حکمرانوں سے سخت نفرت کیا کرتا تھا اور اپنے ملک کو انگریزوں سے آزاد کرانے کا مصمم عزم کرچکا تھا ۔ ایک موقع پر اسے جیل میں ڈال دیا گیا جہا ں اسے جیل کی سلاخوں کی سختیاں برداشت کرنی پڑیں۔مگر جیل سے نکلنے کے بعد وہ اپنے آپ کو ناپاک تصور کرنے لگا چنانچہ اس نے خود کو پاک کرنے کے لیے ہندو رسم کے مطابق پرائشچت اور ہَون کی تیاری شروع کردی ،مگر اس رسم کے شروع ہونے سے عین قبل اسے اپنے باپ کے سخت بیمارہونے کی خبر ملی تو وہ وہاں سے بھاگا بھاگا آیا جہاں ا سے اس حقیقت کا انکشاف ہوا کہ وہ ہندو یا برہمو کے بجائے ایکIrishmanکا بیٹا ہے۔یہ سنتے ہی وہ خود کو تمام حد بندیوں سے آزاد متصور کر کے اپنے آپ کو قانون فطرت کے حوالے کر دیتا ہے اور ساری سماجی،مذہبی،معاشرتی اور روایتی رسمیات کو بالائے طاق رکھ کر ایک خوبصورت ذہین،سنجیدہ اور آزاد خیال برہمو لڑکی سچاریتا سے شادی کرلیتا سے اور یہیں پر ناول ختم ہو جاتا ہے۔ 
اس ناول میں گورا کے علاوہ بنوئے اور سچاریتا کو بھی مرکزی کردار کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے کیونکہ جتنا اہم کردار گورا کا ہے مجھے اس سے کہیں زیادہ اہم بنوئے اور سچاریتا کا لگتا ہے کیونکہ قاری پہلے جن کرداروں سے متعارف ہوتا ہے وہ یہی دونوں کردار ہیں۔قاری انھیں کے سہارے گورا تک پہنچتا ہے۔اگر ان دونوں کرداروں کو نکال دیا جائے تو ناول میں کچھ نہیں رہ جائے گا۔کہانی زیادہ تر انھیں تینوں کرداروں کے بحث و تکرار سے آگے بڑھتی ہے۔مگر اس کے ذیلی اور ضمنی کرداروں میں لولتا،ہرن،ستیش،موہم،ابھناش،کرشن دیال،ہری موہنی،اور کیلاش وغیرہ بھی قابل ذکر ہیں،جو اپنے طریقے سے کہانی کو آگے لے جانے میں مدد کرتے ہیں ۔جبکہ آنند موئی اور پاریش بابو کا کردار ایک ایسے برگد کی طرح نظر آتا ہے جس کی چھاؤں میں سب کو سکون ملتا ہے اور جو پوجے جانے کے بھی لائق ہیں۔اس ناول میں گورا قومیت اور حب الوطنی کو پیش کرتا ہے اور انگریزوں کے خلاف پُر زور احتجاج کرتے ہوئے کہتا ہے کہ:
’’ہمیں اس بات سے قطعی انکار کرنا چاہیے کہ ہمارا ملک کسی بیرونی عدالت کے سامنے کھڑا ہو،کوئی باہری قانون ہمیں صحیح اور غلط کا راستہ سمجھائے،کسی بدیسی معیار سے ہم اپنی عزت یا ذلت کو کیوں ناپیں،جس ملک میں ہم پیدا ہوئے اس کے متعلق ہمارے ذہن میں احساس کمتری کس لیے؟یہاں کی روایتیں ،یہاں کا مذہب،یہاں کی کتابیں،قانون۔ان سب کے متعلق سوچتے ہوئے ہم چھوٹا کیوں محسوس کریں ؟مادر وطن نے جو بوجھ ہمارے کندھوں پر رکھا ہے اسے مردانہ وار اٹھانا ہمارا فرض ہے اور اسی طرح ہم اپنے آپ کو ذلت سے بچا سکتے ہیں اور اپنے ملک کو نجات دلا سکتے ہیں ۔اپنی پوری قوت ،پورے فخر کے ساتھ اپنے فرائض کو ہمیں پورا کرنا ہی ہوگا۔۔۔۔‘‘ص38-39(گورا)
ساتھ ہی وطن کی آزادی کے متعلق گورا کا یقین کامل بھی دیکھیئے جب وہ کہتا ہے کہ:
’’بنوئے میں تم سے کہتا ہوں اور پھر کہتا ہوں ،کبھی خواب میں بھی نہ سوچنا کہ ہمارے ملک کا آزاد ہوجانا نا ممکن ہے۔ہمیں اپنے دل میں اپنی آزادی کا اٹل یقین رکھنا چاہیے‘‘ص128(گورا)
اس طرح ٹیگور نے اس ناول کے ذریعہ وطن عزیز کو انگریزوں سے آزاد کرانے پر زور بھی دیا انھیں کامل یقین بھی دلایا کہ اپنے حوصلے اور عزائم بلند رکھو یہ ملک آزاد ہو کر ہی رہے گا۔لیکن ملک کو آزادکرانے کے لئے د قیانوسی اور روایت پرستوں کے بجائے ایسے روشن خیال ،دور اندیش اور ترقی پسند افراد کی ضرورت ہے جن میں خوف اور احساس زیاں نہ ہو،جن میں ہوس پرستی نہ ہو،جو خدائے وحدہ لا شریک سے بلا واسطہ فیض حاصل کرتے ہوں ۔جن میں ذات پات اور چھوا چھوت کا بھید بھاؤ نہ ہو، یعنی ایسے افراد جو برہمو سماجی ہوں ۔ایسے افراد کی جد جہد سے ہمارا ملک آزاد ہوگا۔چنانچہ اس سلسلے میں وہ کہتے ہیں کہ:
’’ہمارے ملک کو ایک برہمن کی ضرورت ہے،ایسا برہمن جسے یہ نہ معلوم ہو کہ خوف کسے کہتے ہیں۔جو ہوس کو ختم کر سکتا ہو ۔مسرت سے بے نیاز ہو۔جسے احساس زیاں نہ ہو۔جس کی ذات ذات خدا وندی سے بلا واسطہ طور پر فیض حاصل کرتی ہو۔ہندوستان کو آج فولادی طبیعت،روشن خیال ذہنوں والے برہمنوں کی ضرورت ہے ایسے لوگ پیدا ہونگے تبھی ہمارا ملک آزاد ہوگا۔‘‘ ص141(گورا)
چونکہ ٹیگور بذات خود ایک برہمن تھے اور ان کے والد دبندر ناتھ ٹیگور کو برہمنوں میں ایک ٹاور کی حیثیت حاصل تھی۔مذکورہ اقتباس میں ٹیگور نے ایک ایسے افراد کی قیادت پر زور دیا جو ملک کی آزادی کو ہر چیز پر فوقیت دیتا ہو۔ٹیگور نے اس ناول میں ہندو مذہب میں جو شدت پسندی ،متعصب ذہنیت ،ظالمانہ تعلیمات کی نشاندہی کر کے ان کی اصلاح کی کوشش کی ۔ہندو مذہب میں عورتوں کے متعلق جس طرح کے بد ترین احکامات مثلاًعورتوں کے ساتھ محبت نہیں ہو سکتی،عورتوں کے دل در حقیقت بھیڑیوں کے بھٹ ہیں ۔عورت دوسرا نکاح نہیں کرسکتی۔عورت خلع نہیں لے سکتی یعنی مرد کتنا ہی ظالم یا دائم المریض ہی کیوں نہ ہو عورت کو اس سے علیحٰدہ ہونے کا حق نہیں ہے۔عورتوں کو جوئے میں ہارنا فروخت کرنا جائز ہے،عورت کے لیے مذہبی تعلیم ممنوع ہے ،وغیرہ پیش کیے گئے جن کے خلاف ٹیگور نے اس ناول میں جگہ جگہ مختلف کرداروں کے ذریعہ احتجاج بھی کیا ہے اور عورتوں کو مذہبی ،سماجی اور معاشرتی جکڑ بندیوں سے نجات دلاکر انھیں آزادانہ طور پر زندگی گزارنے کا حق دلانے کی بھر پور کوشش بھی کی ہے اور اس میں بہت حد تک کامیابی بھی حاصل کی ہے ،ناول میں جس کی نمائندگی سچاریتا اور لولتا جیسے نسوانی کردار کر رہے ہیں ۔
نسوانی کرداروں کے حوالے سے بنگلہ زبان میں شاید یہ پہلا ناول ہوگا جس میں بہت سارے نسوانی کردار اپنے آزادانہ خیالات اور تصورات کے ساتھ نظر آتے ہیں جو کہ اس زمانے میں بہت بڑی بات تھی،کیونکہ ٹیگور جس عہد میں یہ ناول لکھ رہے تھے اس میں کوئی بھی نسوانی کردار اپنے سماج،مذہب،معاشرے اور روایتی اقدار سے بغاوت کرنے کی ہمت نہیں کرسکتا تھا مگر اس ناول میں ان سبھی اقدار و روایات سے بغاوت ہوئی ہے جس کی نمائندگی پاریش بابو کی بیٹیاں لولتا اور سچاریتا کرتی ہیں ۔مثلاً سچاریتا جو ناول کی ہیروئین بھی ہے اس کو ہیرو سے بھی زیادہ ذہین ،با شعور،باصلاحیت،اورروشن خیال ہونے کے ساتھ وسیع النظر اور وسیع الفکر کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو کہ اس زمانے کی لڑکیوں یا عورتوں کے بارے میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ ٹیگور نے اس ناول میں دونوں کرداروں کے ذریعہ سماجی نابرابری کے خلاف علم بغاوت بلند کرانے کی کوشش کی ہے۔مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ بغاوت عورت کو اس کا جائز مقام دلانے میں کامیاب ہوئی؟جواب نفی میں ہوگا کیونکہ عورت کو اس کا جائز مقام آج بھی نہیں ملا جو کہ ملنا چاہیے تھا۔تھوڑی بہت آزادی تو ضرور میسر ہوئی مگر وہ آزادی بھی آج ان کے پاؤں کی زنجیر بنتی دکھائی دے رہی ہے۔یہ اور بات ہے کہ زمانہ بدل گیا ،سماج اور معاشرہ بد ل گیا،ان کے تحفظ کے قوانین بھی بنا دئے گئے، پھر بھی ان کو آزادی میسر نہیں ،کیونکہ وہ آج بھی سماج اور معاشرے کے رسوم میں جکڑی ہوئی ہیں جیسے کہ پہلے تھیں ،تو پھر آزادی کہاں ؟ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ عورت کو کس طرح کی آزادی ملنی چاہیے یا وہ کس طرح کی آزادی چاہتی ہے؟کیا مغربی تہذیب میں عورتوں کی آزادی کا جو تصور پیش کیا گیا ہے وہ آزادی ملنی چاہیے جس کی ہماری مشرقی تہذیب مخالفت کرتی ہے اور اپنے شاستروں کا حوالہ دے کر اس کی بقا پر زور دیتی ہے ؟یا وہ آزادی ملنی چاہیے جس میں آزادی کے نام پر عورت کا استحصال کیا جا رہا ہے؟مغربی تہذیب و ثقافت میں عورتوں کی آزادی کے نام پر کیا کچھ ہوتا ہے اور موجودہ صورت حال میں کیا کچھ ہورہا ہے وہ جگ ظاہر ہے۔عورتوں کے سلسلے میں انگریزوں کے دیئے ہوئے تصورات کس قدر کھوکھلے اور بے جان ہیں اس کا اندازہ بنوئے اور گورا کے بحث و مباحثہ کے دوران واضح ہوتا ہے کہ مشرقی روایات اور اس کی تہذیب وثقافت میں عورت کو کیا مقام حاصل ہے اور مغربی تہذیب و ثقافت میں عورت کا کیا مقام ہے۔ ناول نگار کے لفظوں میں ملاحظہ کیجیے:
’’جانتے ہو شاستر یہ کہتے ہیں کہ عورت گھر کا اجالا ہے۔پوجے جانے کے لائق ہے۔لیکن یہ انگریزوں نے جو عورتوں کا تصور دیا ہے یہ وہ عورتیں نہیں جو گھر کا اجالا ہیں ۔وہ تو مردوں کے دل میں آگ لگانے کا شعلہ ہیں ۔۔۔۔ان کے پوجنے کا کیا سوال۔۔۔
’’انگریزی کتابوں میں جو یہ عورتوں کے متعلق بڑھا چڑھا کر لکھا رہتا ہے اس کی تہہ میں ہوسناکی کے سوا کچھ نہیں۔عورت کی اصلی پوجا جہاں ہوتی ہے وہ تو اس کی مادرانہ عظمت ہے۔جو لوگ عورت کو اس جگہ سے ہٹاکر اس کی تعریفیں کرتے ہیں وہ اس کی ہتک کرتے ہیں ۔‘‘ص16(گورا)
مذکورہ اقتباس سے موجودہ صورت حال میں مشرقی عورت کے سلسلے میں دو سوال اٹھتے ہیں ۔پہلا یہ کہ کیا واقعی آج مشرقی عورت گھر کا اجالا اور پوجنے کے لائق ہے؟یا صورت حال بدل چکی ہے؟اگر جواب مثبت ہے تو آج ہم اسے پوجنے کے بجائے حاشیے پر کیوں ڈال دیتے ہیں ؟اور اگر صورت حال بدل چکی ہے تو ایسے میں اسے مشرقی اقدار و روایات کا پابند بنانا کس حد تک درست ہوگا؟اس پر غور وفکر کرنے کی ضرورت ہے۔ایک سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ کیا مشرقی تہذیب اب بھی اپنا وجود رکھتی ہے یا مغربی تہذیب نے اس کا جنازہ نکال دیا؟مجھے لگتا ہے کہ مشرقی تہذیب پر مغربی تہذیب دن بدن حاوی ہوتی جارہی ہے ،فی الحال جس کے بقا کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔اسی گم شدہ تہذیب کی بازیافت کی کوشش ٹیگور اس ناول میں کرتے نظر آتے ہیں ۔
نسوانی کرداروں میں لولتا کا کردار کافی اہم ہے کیونکہ وہ Feminismیعنی تانیثیت کو پیش کرتی ہے اور سماج اور معاشرے میں عورتوں پر ہورہے مظالم ،ان کے حقوق کی پامالی،آزادی رائے پر قد غن،عدم مساوات اور استحصال کے خلاف بغاوت کر تی نظر آتی ہے۔سوسائٹی کے جبر پر ٹیگور نے جو طنزیہ لہجہ اختیار کیا ہے وہ خوب ہے اس کی چند سطریں ملاحظہ ہوں :
’’سوسائٹی نے سوچنے اور فیصلہ کرنے کا بار اتنی مکمل طور پر اپنے ذمہ لے رکھا ہے کہ مجھے تو پتہ بھی نہیں چلتا کہ اس نے کس وقت سوچا۔میں تو اپنی امیدوں کو اس بات پر کرتا ہوں کہ سوسائٹی ہزاروں سال سے سوچتی چلی آرہی ہے اور ابھی تک اپنے وجود کو وقار کے ساتھ قائم کیے ہوئے ہے۔۔۔۔‘‘ص518(گورا)
اس طرح سے سوسائٹی نے انسان کی انفرادی آزادی ،اس کے فکر اور فیصلے پر اپنا اجارہ قائم کیے ہوئے تھی جس کو لولتا جیسے تانیثی کردار کے ذریعہ ٹیگور نے ختم کرنے کی کوشش کی۔آج عورتوں کو وہ ساری مراعات تقریباً حاصل ہو چکی ہیں ٹیگور جن کے خواہاں تھے ۔مگر ٹیگور نے لولتا کو، جو کہ برہمو سماجی تھی اور باغیانہ تیور رکھتی تھی، اس کو دوسرے برہمو سماجی کردار مثلاً بردوا دیوی یا پنوبابو جو شدت پسند برہمو تھے اس طرح نہیں پیش کیا۔لولتا برہمو سماجی ضرور تھی مگر بردوا دیوی یا پنو بابو کی طرح شدت پسند ہونے کے بجائے ایک Liberalاور آزاد خیال لڑکی تھی جس کے اپنے تصورات اور اپنے خیالات تھے ،جو سچائی اور حب الوطنی پر یقین رکھتی تھی ۔یہی سچائی اور حب الوطنی گورا کے کردار میں بھی پائی جاتی ہے اور گورا کے اسی سچے حبّ وطن کے احساس نے لولتا کے دل کو اس کی عزت کرنے مجبور کردیا۔مگر دوسری طرف سچاریتا، بنوئے،گورا اور پنو بابو کو اپنے سنجیدہ طرز تکلم ،بے باک اورآزادانہ خیالات اور شیریں بیانی کے سحر سے آزاد نہیں ہونے دیتی،اس طرح وہ تینوں اس سے اپنے اپنے طریقے سے متاثر ہوتے ہیں مگر آخر میں یہ گوراکا ،مقدربنتی ہے۔اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ گورا کی طرح سچاریتا بھی اپنے ملک سے حد درجہ محبت کرتی ہے اس وجہ سے وہ گورا کو پسند کرتی ہے،مگر ناول کے ابتدا میں وہ گورا سے حد درجہ نفرت کرتی ہے کیونکہ ابتدا میں وہ ایک متشدد ہندوہوتا ہے مگر جب اس نے دیکھا کہ گورا ایک سچا بھگت اور سچا محب وطن ہوگیا ہے تو اس نے پنو بابو جیسے متشدد برہمو سماجی سے بحث ومباحثہ کے دوران اس کا دفاع کرنا بھی شروع کردیتی ہے کیونکہ وہ خود بھی سچی بھگت ہوتی ہے حالانکہ پنو بابو اس کی اپنی سوسائٹی اور اپنے مذہب کے ہوتے ہیں۔ بہر حال جب اس نے یہ جان لیا کہ گورا ایک سچا محب وطن اور دیش بھکت ہے تو وہ اسی کی ہوکے رہ جاتی ہے۔اس طرح ناول کے آخر میں گورا کی زبانی سب کو اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جہاں ایک مذہب نہیں بلکہ بہت سارے مذاہب ہیں جن کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔کسی ایک پر اصرار نہیں کر سکتے کیونکہ ہندوستان صرف ہندؤں کا ملک نہیں ہے بلکہ یہ جین،سکھ،عیسائی،پارسی،اور مسلم سبھی کا ملک ہے جن کے اپنے الگ الگ تصورات ہیں، نیز اس بات کا بھی احساس ہوتا ہے کہ حقیقی خدا صرف ہندؤں کا خدا نہیں ہے بلکہ حقیقی خدا تو وہ ہے جس کی سب پوجا کرتے ہیں اس طرح گورا آخر میں ملک اور مذہب کی دقیانوسی تشریحات کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے اپنے آپ کو قانون فطرت کے حوالے کردیتا ہے۔ٹھیک اسی طرح آنند موئی بھی اپنے آپ کو سماج اور معاشرے کی تمام رسموں اور روایتوں سے اسی دن علیحدہ کرلیتی ہے جس دن وہ گورا کوبیٹے کے طور پر گود لیتی ہے۔ اسی دن سے وہ سماجی احکامات کو پس پشت ڈال کر صرف اور صرف اپنے دل اور عقل کی باتیں سننے اور ماننے لگتی ہے۔ ٹیگور نے سارا زوراسی بات پر دیا ہے کہ انسان کورسموں اور رواجوں کا پابند ہونے کے بجائے اسے اپنے آپ کو قانون فطرت کے حوالے کر دینا چاہیے ۔ فطرت جس راستے پر لے جائے اس پر چلتے رہنا چاہیے اور اپنے عقل اور ضمیر کی آواز پر لبیک کہنا چاہیے نہ کہ سماج اور سوسائٹی کی فرسودہ روایتوں کی پیروی کرنی چاہیے۔سماج اور سوسائٹی کے اثرات اور اس سے قطع تعلق کا اظہار آنند موئی درج ذیل الفاظ میں کر تی ہے :
’’اگر سوسائٹی کے کہنے سننے کا خیال نہ ہوتا تو وہ اپنے خاص گھر سے بنوئے کا بیاہ کرتی،مگر مجبور تھی۔‘‘ص:546(گورا)
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کیسی مجبوری تھی ،کیسا سماجی جبر تھا کہ وہ اپنے منھ بولے بیٹے کا بیاہ اپنے گھر سے نہیں کر سکتی تھی؟ہماری سوسائٹی میں جس مقصد سے یہ مذہبی تفرقے پیدا ہوئے اور ذات پات کا نظام وجود میں آیا ،کیا آپ کے خیال میں یہ کوئی کامیاب مقصد تھا؟میرے خیال میں ہندوستانیوں کے لیے کوئی کامیاب مقصد تو نہیں تھا البتہ اس سے انگریزوں کو فائدہ ضرور ہوا اور انھوں نے Divide and Ruleکی پالیسی اپناکر سماج کو کئی حصوں میں تقسیم کر کے اپنے مقاصد کی تکمیل ضرور کی جسے اس وقت کے سماج نے نہیں سمجھا،یا سمجھ کر نا سمجھ بنے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہے جس کا انھیں خمیازہ بھی بھگتنا پڑا۔اس طرح انسان جب وقت اور حالات کے سنگین نتائج سے دوچار ہونا شروع ہوا تو اس نے خود ساختہ رسموں ،رواجوں اور روایتوں کو مسمار کرنا شروع کردیا۔آنند موئی اس کی زندہ مثال ہے۔ اس نے سارے طلسم توڑڈالے جو روایتی تھے اور انسانیت کے دامن میں پناہ لے کر دوسروں کو بھی انسانیت کا درس دینے لگی اور سماجی بندشیں اس کا کچھ نہیں کر سکیں ۔چھوت چھات ،ذات پات اور اونچ نیچ کو جب آنند موئی نے تیاگ دیا اور سب کے ساتھ رواداری کا سلوک کرنے لگی تو گورا کو حیرت اس بات پر ہوئی کہ’’ماں تم اتنے بڑے پنڈت کی بیٹی ہو اور تمہیں اپنے ریت رسموں کی کچھ پرواہ ہی نہیں ۔یہ تو زیادتی کی۔‘‘لیکن آنند موئی کا جواب سنیے:
’’ایک زمانہ تھا کہ یہی تیری ماں ان سب ریتوں کی بہت پابند تھی اور بہت کچھ دکھ بھی اس کے لیے اٹھائے۔تم بھلا اس وقت کہاں تھے۔روزانہ شیو کی مورتی اپنے ہاتھ سے بناتی اور اس کو پوجتی تھی اور پھر تمہارے باپ آکر غصے سے اس کو اٹھاتے اور پھینک دیتے۔‘‘
’’اس زمانے میں تو ہر ایک برہمن کے ہاتھ کے پکائے ہوئے چاول تک نہیں کھاتی تھی۔میرے سات پشتوں کی جو روایتیں انھوں نے ایک ایک کر کے اکھیڑ ڈالیں۔تو اب تم کیا سمجھتے ہو کہ وہ ایک دن میں پھر جڑ پکڑجائیں گی۔‘‘ص:21-22(گورا)
اس طرح آنند موئی پوری تفصیل بتاتی ہے مگر گورا اس بات پر اصرار کرتا ہے کہ’’ماں آپ کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ آپ ایک سماج میں رہتی ہیں اور اس سماج کے آپ پر احسانات ہیں۔‘‘اس سلسلے میں آنند موئی کا جواب اور اس کا سوسائٹی سے نفرت کا لہجہ دیکھیے:
’’گورا ۔۔میں تم سے بار بار کہہ چکی ہوں کہ مدتیں ہوئیں میں اپنے سماج سے قطع تعلق کر چکی ہوں۔یہی وجہ ہے کہ سوسائٹی مجھ سے نفرت کرتی ہے اور میں اپنے آپ کو اس سے الگ رکھتی ہوں۔‘‘ص:548(گورا)
ہمارے سماج میں ذات پات کی تقسیم نے انسانوں کو انسانوں سے الگ کردیا تھا ۔چھوا چھوت جیسی سماجی لعنت نے انسانوں کو جانوروں سے بدتر بنا دیا تھا ،انسان جانور کے پاس بیٹھ سکتا تھا مگر اچھوتوں کا سایہ تک برداشت نہیں کیا جاتا تھا چہ جائے کہ ان کو گھر کے اندر کھانا کھلایا جائے۔اس بات کی وضاحت کے لیے یہ اقتباس ملاحظہ کیجیے:
’’اگربلی تمہارے پاس بیٹھے اور پاس بیٹھ کر کھائے پیئے تو کوئی اعتراض نہیں لیکن اگر ایک انسان اتنا بھی کرے کہ صرف کمرے کے اندر آجائے تو کھان گندہ ہوجاتا ہے اور اسے پھینک دینا چاہیے۔‘‘ص:195(گورا)
یا یہ کہ:
’’جب تک آپ اس عیسائن عورت کو نوکر رکھے رہیں گی کوئی آپ کے کمرے میں کیسے آئے گا۔‘‘ص:21(گورا)
مذکورہ دونوں اقتباس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ہمارے سماج اور سوسائٹی میں چھوا چھوت کا نظام کس حد تک سرایت کر چکا تھا ۔اب آپ ہی بتائیے کہ جس سماج اور جس معاشرے میں ایسے مذہبی اصول ہوں کہ انسان کو جانوروں سے بد تر سمجھا جائے تو ایسے سماج ،معاشرے اور مذہب کو کیا کہیں گے؟ایسی ذات پات کی تقسیم جسے انسان انسان کے ما بین حقارت و ذلت اور نفرت کے جذبات جنم لیں اپنے ہم جنسوں کو اس طرح ذلیل کریں تو کیا ایسے سماج ، معاشرے اور مذہب سے امن و آشتی ،محبت و اخوت ،رواداری اور انسانیت کی امید کی جاسکتی ہے؟مجھے لگتا ہے کہ کبھی نہیں ۔ٹیگور نے ایسے ہی خود ساختہ اصولوں کی نشاندہی کرکے اسے ختم کرنے اور ایسے اصول وضع کرنے کی طرف اشارہ کیا جو آفاقی درجہ رکھتا ہو۔ٹیگور کے نزدیک انسانیت کا اصول ہی وہ واحد اصول ہوسکتا ہے جسے آفاقی درجہ دیا جا سکتا ہے۔چنانچہ ٹیگور نے پورے ناول میں فطرت اور انسانیت کا ہی درس دیا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہمارے سماج سے چھوا چھوت کی وبا کلی طور پر تو نہیں مگر بہت حد تک ختم ہوگئی۔
ہمارے سماج اور معاشرے میں جہاں بہت ساری لعنتیں ہیں انھیں لعنتوں میں سے ایک لعنت جہیز کی بھی ہے۔جو پہلے سے کہیں زیادہ ہمارے معاشرے میں جڑ پکڑ چکی ہے۔ٹیگور نے اس کی طرف بھی ناول میں اشارہ کیا ہے۔اس سلسلے میں بدلے کی بھاؤنا جس طرح پروان چڑھتی ہے اس کی ہلکی سی جھلک ملاحظہ کیجیے:
’’شاشی کا بیاہ تقریباًطے ہوگیا ہے۔لیکن اس کے ہونے والے سسر کو تو کوئی اطمینان نہیں ہوگا جب تک اس کو صرف لڑکی ہی نہیں مل جائے گی بلکہ اس کے برابر سونا نہ تول کر دیا جائے گا‘‘
’’میری بیوی نے شروع میں جو بیٹی پیدا کرنے کی حماقت کی اس کی تلافی بہت دیر میں کی،مگر خیر گور ا تم اور تمہارے دوست مل کر اس بات کی انتہائی کوشش کرتے رہنا کہ جب تک میرا تنکوڑی شادی کے لائق ہو، تب تک یہ ہندو سماج پھلتا پھولتا رہے تاکہ میں بھی بیٹے کی شادی پر پوری وصول کرسکوں۔‘‘ص:543-44 (گورا)
یہ تو ہوئی جہیز کے سلسلے میں بدلے کی بھاؤنا کا پروان چڑھنا جو کبھی ختم نہیں ہوسکتی۔ مگر شادی کے سلسلے میں ہمارے یہاں جو رواتیں چلی آرہی ہیں ان میں سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ فلاں فلاں مہینے میں شادی نہیں ہوسکتی۔ مثلاً اگھن میں شادی نہیں ہوسکتی۔ یا تین تیسرہ تئیس یا منگل اور سنیچر یہ منحوس اور بدشگونی کی علامت ہیں۔ ان میں شادی کی تاریخ مقرر نہیں کی جاسکتی۔ ہماری سوسائٹی میں اس کا چلن آج بھی ہے۔ ٹیگور نے مذکورہ تمام توہمات کی تردید موہم اور بنو کے مکالمے کے ذریعہ درج ذیل الفاظ میں کی ہے۔
’’دیکھو بنوئے۔۔۔ یہ جو تم کہتے ہو کہ اگھن میں شادی نہیں ہوسکتی یہ سب بے کار بات ہے۔ میں تو یہی کہوں گا کہ اگر تم نے قدم قدم پر خاندانی تاریخوں اور روایتوں کا خیال کیا تو پھر تو کبھی بھی شادی نہیں ہوسکتی۔‘‘ ص284(گورا)
اس طرح ٹیگور نے سماج میں پھیلی ہوئی توہم پرستی کو بے نقاب بھی کیا اور اس کی پرزور تردید بھی کی۔ کیوں کہ جب تک ہم ان توہمات سے گھرے رہیں گے یہ ہماری ترقی کے راستے میں روڑے اٹکاتے رہیں گے اور ہم منزل مقصود پر پہنچنے کے بجائے توہمات کی بھول بھلیا ں میں گم ہو کر اپنا تشخص بھی کھو بیٹھیں گے۔ اس لئے ایسے توہمات کی تردید کرنی چاہیے۔
بہرحال ٹیگور سماج میں ایسی آزادی کے قائل تھے جس میں جینے کی آزادی ہو، زندگی کو بہتر سے بہتر ڈھنگ سے گزارنے کی آزادی ہو، اپنے خیالات، نظریات اور تصورات کو سلیقے سے رکھنے کی آزادی ہو۔ وہ بنی بنائی روایتی لیک پر چلنے کے قائل نہیں تھے۔ روایات سے چپکے رہنا ٹیگور کو کبھی گوارا نہیں ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ ٹیگور نے روایتی بتوں کا قلعہ قمع کرکے سبھی انسانوں کو ایک ذات کی پرستش کی طرف راغب کرتے ہوئے وحدانیت اور انسانیت کا درس دیا۔ وہ سماجی درجہ بندی کے قائل کبھی نہیں تھے وہ تو انسانیت کا درس دے کر سب کو ایک لڑی میں پرونا چاہتے تھے ،یہی کام اس ناول میں بھی کیا۔
خلاصہ گفتگو یہ کہ اس ناول کو پڑھتے ہوئے سب سے پہلی چیز جو قاری کے ذہن میں آتی ہے وہ ہے مذہی تضادات۔ اور یہ تضادات کثیر الجہات ہیں۔ مرکزی تضاد ہندو اور برہمن کے مابین ہے۔ اس کے علاوہ ہندو مسلم تضاد، ہندو کرسچین تضاد، مسلم کرسیچین تضاد وغیرہ۔ دوسری بات یہ کہ اس میں برٹش کلونیل رولر کے اثرات بہت زیادہ نمایاں ہیں۔ Colonialism اس ناول کا ایک اہم پہلو ہے جس پر تفصیلی گفتگو کی گنجائش ہے کیوں کہ ناول میں گورا کے علاوہ کوئی ایسا کردار نظر نہیں آتا جو برٹش حکومت کے خلاف احتجاج کر رہا ہو جبکہ ہندوستانی مسلمان استعماری حکمرانوں کے خلاف برسر پیکار نظر آتے ہیں اور وہ اس کا خمیازہ بھی بھگتتے ہیں۔ لیکن مسلمانوں کے مقابلے برہمو کمیونٹی کے افراد نے برٹش رول کو انتہائی درجہ تک قبول کرلیا تھا اور اسے نعمت خدا وندی سمجھنے لگے تھے۔ ناول میں جس کی نمائندگی پنو بابو بردوا دیوی اور موہم کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ پنو بابو اور بردوا دیوی کو ناول میں منفی کردار کے طو پر پیش کیا ہے جبکہ ویلن کا کردار پنو بابو کا ہے جو ناول کے ہیرو گورا سے حسد کرتے ہیں اور وہ بلا واسطہ طور پر گورا سے ناول کی ہیروئن سچاریتا سے محبت کے سلسلے میں مقابلہ کرتے ہیں جہاں انھیں ہزیمت اور پسپائی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ مغرب کے آزادانہ تصورات کے اثرات آنند موئی پر نمایاں طور پر نظر آتے ہیں یہی بات بنوئے اور گورا کے متعلق بھی کہی جاسکتی ہے جو اعلیٰ انگریزی ادارے کے تعلیم یافتہ ہیں، جو مغربی تعلیم اور اس کے تصورات سے فائدہ اٹھاتے ہیں، حالا نکہ اسی مغربی تعلیم نے پنو بابو جیسے دقیانوسی افراد کو بھی جنم دیا ہے۔ پورا ناول خدا، ہندو ازم، اور دیگر مسائل کے بحث و مباحثے اور دلائل سے پُر ہے۔ اس میں ہندوستان کے اصل مزاج کے بارے میں بھی بہت باتیں کی گئی ہیں۔
گورا میں زیادہ تر ہندو کردار بنگالی ہندوؤں کے ہیں۔ کرشن دیال، آنند موئی، موہم، بنوئے، ابھناش، اور ہری موہنی خالص ہندو کردار ہیں۔ اِن کرداروں میں کوئی بھی چیز مشترک دکھائی نہیں دیتی۔ 
جبکہ ان میں سے تین کردار کرشن دیال، موہم، اور ہری موہنی شدت پسند اور موقع پرست ہندو کردار ہیں جو ہندو ازم کو اپنے مفاد کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ بنوئے اور گورا پورے ناول میں اپنی Identity کی تلاش میں مسلسل سرگرداں نظر آتے ہیں۔ پاریش بابو ایک پختہ ذہن اور اعلیٰ فہم کردار ہے جن کی فیملی برہمو سماج کی نمائندگی کرتی ہے۔ آنند موئی کسی بھی مذہب سے قریب نہیں ہے بلکہ وہ ایک خدا پر یقین رکھتی ہے ۔ناول میں یہ Mother India کی علامت بن گئی ہے۔ موہم اور ابھناش یہ دونوں سماج کے ریاکار، منافق اور پُرفریب افراد ہیں۔
اس ناول کو پڑھتے ہوئے ا س بات کا احساس ہوتا ہے کہ یہ اپنے واقعات، حادثات، یا پلاٹ کو منظم اور مربوط طریقے سے پیش کرنے میں کامیاب نہیں ہوا کیوں کہ کہیں کہیں کرداروں کے تعارف میں طوالت سے کام لیا گیا ہے۔ ہری موہنی جس کی زندہ مثال ہے۔ لیکن کرداروں کی تصویر کشی بہتر طریقے سے کی گئی ہے۔ ناول کو پڑھتے ہوئے کبھی کبھی یہ کنفیوژن پیدا ہوتا ہے کہ دس گیارہ سال کی بچی اس زمانے میں جب لڑکیوں کی تعلیم کا رواج ہی نہیں تھا، ناول میں اسے بالغ ذہن کے طور پر پیش کیا گیا جو اعلیٰ واضح اور شفاف قوت فکر رکھتی ہے۔ موجودہ عہد میں تو اس کا امکان ہے، لیکن ٹیگور کے عہد میں ایسی لڑکی کا ہونا اور وہ بھی اتنی بولڈ،آسانی سے کچھ ہضم نہیں ہوتا۔ بہرحال یہ ناول واضح اصول و ضوابط کی پابندی نہیں کرتا بلکہ پورا ناول بحث و تکرار اور مکالمے سے پُر ہے۔ یہ ناول غور و فکر، گیان دھیان اور خیالات کی بھول بھلیا ں میں گم نظر آتا ہے۔ ایک بات اور، جو شدت سے محسوس کی گئی کہ اس ناول میں مظلوم مسلمانوں کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھائی گئی ہے بلکہ صرف ان کی بدحالی اور خود داری کا ذکر کیا گیا ہے۔ البتہ ایک ہندو نائی کے گھر میں ایک مسلم بچے کی پرورش کو دکھاکر انسانیت کا پرچار ضرور کیا گیا ہے۔ آخر میں اپنی بات ٹیگور کی اس نصیحت پر ختم کرتا ہوں جو پاریش بابو کی زبان سے ٹیگور ساری دنیا کو فطرت کے اصولوں پر چلنے کی تلقین کرتے ہیں اور خدا کے سامنے سپردگی کی بات کرتے ہیں:
’’پیچھے گھوم کر مت دیکھو بیٹی، او دل میں کوئی جھجھک نہ پیدا ہونے دو، قسمت جس کا بھی سامنا کرائے اس کا مقابلہ بہادری سے کرو، آگے بڑھو، راستے میں جسے بھی اچھا اور برا خدا دکھائے ان میں سے بہتر کو چننے کی قوت پیدا کرو، خود کو مکمل طور پر خدا کے بھروسے چھوڑ دو، سمجھ لو کہ وہی سب سے بڑا اور مددگار ہے۔ اس کے بعد تم اپنی غلطیوں اور نقصانات کے باوجود ٹھیک راستے پر چلنے کے قابل ہوجاؤ گی۔‘‘ ص357(گورا)

امتیاز احمد علیمی

ریسرچ اسکالر شعبہ اردو ،جامعہ ملیہ اسلامیہ،نئی دہلی


 مضامین دیگر 


Comment Form


    Kumar Shubham ( Commented on : 16-06-2018 )
  Good  
  azam ( Replyied on : 16-06-2018 )
  fyutuyi 
  c ( Replyied on : 16-06-2018 )
  Okay 
  c ( Replyied on : 16-06-2018 )
  It is true @ Azam 


    Ravi ( Commented on : 16-06-2018 )
  Good website  


    Kumar Shubham ( Commented on : 16-06-2018 )
  ہر نئی تخلیق خواہ شعری ہو یا نثری اپنے قاری کی تلاش میں ہوتی ہے جب تک اسے اس کا باشعور،با صلاحیت،سنجیدہ اور غیر جانبدار تنقیدی بصیرت کا حامل قاری نہیں مل جاتا اس تخلیق کی اہمیت اور افادیت کھل کر سامنے نہیں آسکتی ۔ تخلیق کار جو داخلی اور خارجی کرب و اذیت ،سماجی جبر و تشدد،معاشرتی مفروضات اور توہمات،فرسودہ رسم و رواج  



اردو فکشن

© 2017 Urdu Fiction. All right reserved.

Developed By: Aytis Cloud Solutions Pvt. Ltd.