31 Oct, 2017 | Total Views: 285

ایک چادر میلی سی۔۔تجزیاتی مطالعہ

نورالحسنین

راجندر سنگھ بیدی اُردو افسانہ کا ایک ایسا نام ہے جس پر اردو افسانہ ہی نہیں اردو ادب بھی ناز کرتا ہے ۔ بیدی نے اپنے قارئین کو چھ افسانوں کے مجموعے دئیے ہیں ۔اُنھوں نے ہمیشہ یہی کوشش کی ہے کہ وہ اپنے افسانوں کے لیے ایسے موضوعات کا انتخاب کریں جو وقتی نہ ہوں، بلکہ وہ موضوعات ہوں جن پر کبھی زوال نہ آئے ۔ 
اسی طرح اُنھوں نے اپنے ناول کے لیے بھی ایسے موضوع کا انتخاب کیا کہ جو اُس وقت تک ادب میں زندہ رہے گا جب تک دنیا کے نقشے پر پنجاب باقی رہے گا ۔ یہ ناول کوئی بہت ضخیم نہیں ہے ۔ ڈیمائی سائز میں یہ 116 اور کٹ سائز میں 136 صفحات میں مکمل ہو جاتا ہے ۔ لیکن اس چھوٹے سے ناول میں اُنھوں نے پنجاب کو آباد کر دیا ہے ۔ گاؤں کی بستی، بولی ٹھولی ، گا لی گلوج، رہن سہن ، رشتے ناطے، دوستی دشمنی، کلچر، رسم و رواج ، گلیاں اور چوبارے ، زندہ کردار جو بظاہر فولاد نظر آتے ہیں لیکن اندر اندر ریشم کی طرح ملائم ، اور ستلج کے پانی کی طرح شفاف دکھائی دیتے ہیں ۔ اس ناول میں وہ عورتیں بھی ہیں جو اپنے مرد کا ہر ظلم خندہ پیشانی سے برداشت کرتی ہیں اور ساس کے طنزیہ نشتر کو بھی اپنا مقدر سمجھتی ہیں ۔وہ بھوک پیاس برداشت کر سکتی ہیں، مار بھی کھا سکتی ہیں لیکن اپنے شوہر کو اپنے قابو میں کرنا بھی جانتی ہیں ۔ مرد اور عورتیں اپنی گفتگو میں نہایت بے تکلفی سے گالیاں بھی استعمال کرتے ہیں ۔ بلھے شاہ کے دوہے بھی اُن کی زبان پر ہیں ۔ آپس میں لڑتے جھگڑتے بھی ہیں ، اور شادی بیاہ کے موقعوں پر ایسے ایک ہوجاتے ہیں گویا ایک خاندان ہی ہوں، وہ گاتے بجاتے ہیں ، اُن کے پیر بھی تھرکتے ہیں ، اُن کی آنکھوں میں مستی کی شوخیاں بھی ہیں اور گفتگو میں شرارت بھی ہے۔ وہ ڈٹ کر شراب پیتے ہیں ، تمام اچھائیوں اور برائیوں کے باوجود وہ چلتے پھرتے انسان محسوس ہوتے ہیں ۔ 
اس ناول کے لیے بیدی نے پنجاب کی ایک رسم کو موضوع بنایا ہے کہ اگر بڑے بھائی کی موت ہو جائے اور بھاوج جوان ہو تو چھوٹا بھائی اُسے چادر اُڑھاکر اپنی بیوی بنا سکتا ہے ، لیکن اگر چھوٹا بھائی مرجائے تو بڑے بھائی کو یہ حق حاصل نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ اُس کی بہوکی مانند ہے۔ کیونکہ بہو اور بیٹی میں کوئی فرق نہیں ہوتا ۔ اس سے پہلے کہ ہم ناول کی کہانی کی گرہیں کھولیں، اس ناول کے پیش لفظ کا ایک اقتباس دیکھتے ہیں جسے راجندر سنگھ بیدی نے خود ہی تحریر کیا تھا
’’
امر کتھا سنتی ہوئی پاربتی اونگھ گئی ، شیو نے دیکھا بھی مگر بھانگ اور دھتورے کی مستی میں وہ اپنی بات کہتے گئے ۔ جو گپھائیں اوپر کہیں بیٹھے ہوئے کبوتر اور کبوتری کے جوڑے ’ پربودھ ‘ اور ’ میتری ‘ نے سن لی اور امر ہو گئے ۔ 
یگ بیت گئے، کال کاٹنے پربودھ اور میتری کے لیے کند ہو چکے تھے ۔ پربودھ نے کہا ، ’’ اب تو وقت ہی اورآگیا ہے رانی ! مگر تمھیں وہ دن یاد ہے جب آدم کے بیٹے قابیل نے اپنے سگے بھائی ہابیل کو ایک پتھر سے مار ڈالا تھا ۔‘‘ 
’’
ہاں ۔۔۔‘‘ میتری بولی ، ’’ ایک بے شکل سی لڑکی کے پیچھے جو اُن کی اپنی بہن تھی ۔‘‘ 
پربودھ جھِلّا اُٹھا ، ’’ تمھیں ابھی تک نہیں معلوم ؟ مرد اور عورت قدرت کے دو اُصول ہیں ۔۔۔ ان میں ذات اور رشتے کی بات ہی کیا ہے ؟ ‘‘
’’
ہاں مگر ۔۔۔ ‘‘ 
’’
مگر کیا ۔۔۔؟ ‘‘ پربودھ نے میتری سے کچھ پرے ہٹتے ہوئے کہا ، ’’ قدرت کیا اس بات کا حساب رکھتی ہے کہ کس پیڑ کا جوہر ،کن ہواؤں سے ، کسی دوسرے پیڑ پر جا گرتا ہے ؟ قدرت کا قانون افزائشِ نسل ہے چاہے وہ کیسے ہی ہو، کسی سے بھی ہو ۔ ‘‘ (۱
یہ ہے ناول کا مرکزی نکتہ۔ اور انسانی نسل کی افزائش کے لیے عورت اور مرد کا ایک چھت کے نیچے ہونا نہایت ضروری ہے ۔ 
ناول ایک بھرے پورے گھر کا احوال پیش کرتا ہے ، جو پنجاب کے کوٹلہ گاؤں میں آباد ہے ۔ حضور سنگھ جو بوڑھا ہوچکا ہے ۔ اُس کے دو بیٹے ہیں تلوکہ سنگھ اور منگل سنگھ ، تلوکہ کی بیو ی رانی یا رانو ہے ، منگل نوجوانی میں قدم رکھ رہا ہے ۔ رانو کو ایک بڑی لڑکی ہے جس کی عمر دس برس ہو رہی ہے اور دو جڑواں لڑکے ہیں ۔ گھر میں حضور سنگھ کی بیوی جنداں بھی ہے ۔ جو اپنی بہو پر طنز کے نشتر چلاتی رہتی ہے ۔ تلوکہ تانگہ چلاتا ہے اور پورے گھر کی زمہ داری اُسی پر ہے ۔ رانو اپنے شوہر سے ٹوٹ کر پیار کرتی ہے لیکن اُسے اُس کا شراب پینا بالکل پسند نہیں ہے ۔ وہ یہ بھی جانتی ہے کہ یہ عادت اُس کے شوہر کو چودھری مہربان داس اور اُسکے بھائی دھرم داس داس کی وجہ سے لگی ہے ۔ جن کی ایک دھرم شالہ بھی ہے اور تلوکہ رات کی بھو لی بھٹکی مسافر کو وہیں پہنچاتا ہے جو عیاشی کا اڈا ہے ۔ جس کے بدلے میں دھرم داس تلوکہ کو میٹھے مالٹے کی شراب کی ایک بوتل دیتا ہے ۔ جب جب بھی تلوکہ شراب پی کر گھر میںآتا ہے بیوی سے جھگڑتا ہے اور اُس کی پٹائی بھی کرتا ہے ۔ 
یہ بستی مختصر گھروں پر مشتمل ہے ۔ زیادہ تر غریب لوگ ہیں البتہ کچھ پیسے والے بھی ہیں اور اُن کے بڑے بڑے مکان بھی ہیں ۔ گاؤں سے کچھ دوری پر ایک مندر ہے جس کی جاترا بھی ہو تی ہے اور عام دنوں میں بھی عقیدت مند آتے رہے ہیں ۔ تانگے والوں کی آمدنی کا وہی ایک ذریعہ ہے ۔ 
ایک روز تلوکہ نے ر انو کو ایک ٹماٹر دیتے ہوئے کیا
’’
لے۔۔۔ ایک پیاز کی ڈلی کے ساتھ کاٹ دے اسے بھی ۔ ‘‘ رانی جو ترکاری پکا رہی تھی ۔ تھم گئی ، ہاتھ کی کڑچھی دیگچی میں ڈالتے ہوئے وہ اُٹھ کر کھڑی ہو گئی ، بولی ، ’’ پھر لے آئے میری سوت کو ؟ ‘‘ 
تلوکہ نے جھینپتے ہوئے کہا ، ’’ روز تھوڑے ہوتا رانو ؟ ‘‘ 
’’
روز ہو یانہ ہو ۔۔۔ ‘‘ رانی کڑک کر بولی ، ’’ میں نہ پینے دوں گی ۔ کہاں ہے تمہاری بوتل ؟ آج میں دیکھ تو لوں ، اس میں کیا ہے جو مجھ میں نہیں ۔ ‘‘ تلوکہ اس بات سے ڈر رہا تھا کہ شور نہ مچے لیکن رانو نے وہی بات کی ، دانت پیستے اور جِھلّاتے ہوئے تلوکہ نے ایک نامردانہ سی کوشش کی ، ’’ کُتئیے۔۔۔ کنجرئیے ۔۔۔میں تجھ سے باگ کھینچ کر بات کر رہا ہوں اور تو ہے کہ چھوٹتے ہی گھوڑے پر سوار ہو گئی ؟ ‘’ 
’’
ہا ں ۔۔۔ ! ‘‘ رانی بولی ، ’’ بے شک گھوڑے پر توہی سوار ہو سکتا ہے ؟ دوسرے نہیں ۔۔۔؟ آج اس بات کا فیصلہ کرکے رہوں گی ۔ آج اس گھر میں یہ رہے گی یا میں رہوں گی ۔ ‘‘ )۲ (
بات زبانی تو تکار سے مار پیٹ تک پہنچ جاتی ہے ۔ تلوکہ رانو کے کپڑے پھاڑ دیتا ہے ۔مکان کے منڈیروں سے جھانکتے لوگ تماشہ دیکھتے ہیں اور رانو کی سہیلی چنوں چلاتی ہے کہ کوئی تو اس تماشے کو روکے ،تلوکہ پھر ایک بار پوری طاقت سے مارنے کے لیے ہاتھ اُٹھاتا ہے لیکن اُس کا ہاتھ منگل تھام لیتا ہے اور منگل کے ڈیل ڈول کو دیکھ کر تلوکہ رُک جاتا ہے ۔ رانو روتی بھی جا رہی تھی اور اپنے کپڑوں کو سمیٹے ہوئے بڑبڑا رہی تھی کہ وہ اب اس گھر میں نہیں رہے گی ۔ کہیں بھی کام کاج کرے گی اور اگر کام نہیں ملا تو دھرم شالا میں بیٹھ جائے گی ۔ تلوکہ جانتا تھا کہ رانو کا اب اس دنیا میں کوئی نہیں ہے لیکن دھرم شالہ میں کیا ہوتا ہے وہ یہ بات خوب جانتا تھا ۔ اُس کا غصہ اُتر جاتا ہے اور وہ اُسے سمجھانے کی کو شش کرتا ہے ۔ 
رات میں تلوکہ کی جنسی خواہش زور مارتی ہے لیکن رانو اُسے جھٹک دیتی ہے ۔ صبح حسب دستور کام کاج شروع ہوجاتے ہیں تلوکہ تانگہ میں گھوڑا لگاتا ہے اور رانو اُسے چار روٹیاں اور ساگ کپڑے میں با ندھ کر دیتی ہے اور تلوکہ اپنے تانگہ کے ساتھ چلا جاتا ہے ۔ 
دوپہر میں رانو کو ایک شورسنائی دیتا ہے وہ گھر سے باہر نکل کر دیکھتی ہے کہ لوگ اُس کی طرف چلے آرہے ہیں اور اُسے حسرت بھری نظروں سے دیکھتے ہیں ۔ اُسے پتہ چلتا ہے کہ کسی جوان جاترن کی چودھری اور اُس کے بھائی نے آبرو ریزی کی تھی ۔ اُس کے بڑے بھائی سے جھگڑا ہوا اور اُس میں تلوکہ کا خون ہوگیا ۔ رانو کی زندگی مصیبتوں سے بھرجاتی ہے ۔ ساس تو پہلے ہی سے اُسے پسند نہیں کرتی تھی اُسے گالیاں بکتی ہے:
’’
رمڈئیے۔۔ چُڑیلیے ۔۔میرے بیٹے کو کھا گئی ۔ اب ہم سب کو کھانے کے لیے منہ پھاڑے ہے ۔ چلی جا ۔۔ جدھر منہ کرنا ہے کرلے‘‘ ۔ (۳ )
اب وہ اُسے گھر سے نکالنے کی باتیں کرتی ہے ۔ وہ اُس سے کوئی رشتہ رکھنے کے لیے تیار نہیں ۔ یہاں تک کہ وہ اُس کی دس برس کی خوب صورت سی بچی کو بھی پانچ سو میں بیچنے پر تیار ہو جاتی ہے ۔ رانو کو یہ بات معلوم ہوتی ہے تو وہ ہنگامہ کرتی ہے اور جب جنداں اُسے اپنے دادی ہونے کا رعب بتاتی ہے تو راو جواب دیتی ہے کہ جب بہو ہی منظور نہیں تو پوتی پر کیسا حق ۔ 
ایک کم سن لڑکی کی آبرو ریزی کے جرم میں چودھری اور اُس کے بھائی، گھنشیام اور جاترن کے بھائی اور اُس کے لڑکے کو سات سات برس کی سزا ہوجاتی ہے ۔گھر کے حالات کو دیکھتے ہوئے منگل تلوکہ کی جگہ سنبھال لیتا ہے ۔ لیکن رانو کی ساس اُس کا جینا دو بھر کر دیتی ہے ، اور راجندر سنگھ بیدی اپنے ناول کے اصل موضوع کی طرف پیش قدمی کرتے ہیں ۔ یہ کام وہ اپنے ناول کے ایک کردار چنوں سے لیتے ہیں ۔ اور چنوں رانو کو سمجھاتی ہے کہ وہ اپنے پر منگل سے چادر ڈلوالے ۔ رانو اس کے لیے تیار نہیں ہوتی کہ اُس نے اُسے ہمیشہ اپنا بیٹا ہی سمجھا ہے ۔ یہی بات جب منگل تک جاتی ہے تو وہ کہتا ہے کہ میں بھابھی کے چرنوں میں اپنا سر رکھ سکتا ہوں لیکن اُن کے سر پر اپنے پیر نہیں رکھ سکتا ۔ اس کے باوجود اس سلسلے میں چنداں کوشاں رہتی ہے اور یہ بات وہ پنچایت تک بھی پہنچاتی ہے ۔ حضور سنگھ کو بھی سمجھایا جاتا ہے ۔ لیکن رانو کا یہی سوال رہتا ہے کہ اُس نے منگل کو کبھی ایسی نظروں سے دیکھا ہی نہیں ۔ تب چڑھ کر چنداں رانو کو ایک تھپڑ لگاتی ہے اور رانو کوڑے کے ڈھیر پر گرتی ہے :
’’
رنڈئیے ۔۔۔ کھسم کھائیے ۔۔۔ ایدھر مر ۔۔۔ ‘‘ اور پھر اُسے مکان کے پیچھے کونے میں جہاں گاؤں کے لڑکے اور لڑکیاں رات کے اندھیرے میں ملا کرتے تھے یا چور سیند لگاتے تھے ۔ لے جاتے ہوئے بولی، ’’ ۔۔۔ ہم تیرے بھلے کی کریں کُتیے۔۔۔ اور تو پھیلتی جائے ‘‘
’’
نہیں چنوں ۔۔۔ نہیں ۔ ‘‘ رانو نے اُس کے سامنے دکھڑا روتے پاؤں پکڑ تے ہوئے کہا ، ’’ وہ بچہ ہے ۔۔۔ میں نے کبھی اُسے ان نجروں سے نہیں دیکھا ۔ ‘‘
’’
چنوں بولی ، ’’ دیکھ ۔۔۔ تجھے اس دنیا میں رہنا ہے کہ نہیں رہنا ۔ اس پیٹ کے نرک کو بھرنا ہے کہ نہیں بھرنا ۔ ۔ ۔ اس اپنے شرم کو ڈھانپنا ہے کہ نہیں ڈھانپنا ؟ بڑی آئی نجروں والی ۔۔۔ کہا نہیں بلھے شاہ نے ، بلّھیا ، سب واکییہ، پانا ۔۔ ایدھروں پُٹنا۔اُدھر لانا ۔
بس اِدھر سے نکال کر اُدھر ڈال دینے کی بات ہے ۔ پہلے اسے ان نجروں سے نہیں دیکھا تو اب دیکھ مُردئیے ۔۔۔‘‘ )۴ (
دونوں کے نا چاہنے کے باوجود گاؤں کے لوگ اور پنچایت رانو اور منگل کو ایک کر دیتے ہیں ،لیکن اُن میں جنسی تعلقات قاہم نہیں ہوتے اور دونوں کے درمیان ایک تکلف باقی رہتا ہے ۔ گاؤں کے لوگ منگل سے اور چنداں رانو سے ہمیشہ دریافت کرتی رہتی ہے کہ اُن دونوں میں تعلق قائم ہوا یا نہیں ۔ منگل نہ صرف کبھی کبھارشراب پینے لگا تھابلکہ ایک مسلم لڑکی سلامتے مسلسل اُسے اپنے طرف راغب کرنے میں لگی تھی ، منگل بھی اُس میں دلچسپی لینے لگا تھا ۔ ایک شام دونوں رات میں ملنے کا وعدہ کرتے ہیں ۔ منگل گھر آتا ہے اور کھانا کھانے کے بعد باہر جانا چاہتا ہے تو رانو اُسے روک لیتی ہے کہ آسمان بادلوں سے گھرا ہوا ہے ۔کپڑوں کی تلاش میں منگل ٹرنک کھولتا ہے تو اُس میں مٹھے مالٹے کی شراب کی بوتل نظر آتی ہے ۔ اُس کے استفسار پر رانو بتاتی ہے کہ شاید کبھی تلوکہ نے لائی ہوگی ، اُس کے مرنے کے بعد تو میں نے ٹرنک کبھی کھولا ہی نہیں ۔ شراب کو دیکھ کر منگل پینا چاہتا ہے لیکن رانو بضد ہو جاتی ہے کہ وہ شراب پینے نہیں دے گی ۔ 
ناول کے اس حصے میں بیدی کا ہنر اپنی انتہا پر نظر آتا ہے ۔ جس شراب کی کی وجہ سے وہ تلوکہ سے دور ہونا چاہتی تھی ، اُسی شراب کی مدد سے وہ منگل کو اپنے طرف راغب کرنے میں کامیاب ہوتی ہے ۔ عورت کی محبوبیت مرد کی نفسیات کو کس طرح فتح کرتی ہے ، وہ اس راز پر سے پردہ اُٹھاتے ہیں ، رانو پہلے اُسے شراب پینے سے روکتی ہے اور کسی طرح منگل کو طیش میں لاتی ہے ۔ دونوں میں چھینا جھپٹی کا کھیل شروع ہوتا ہے ۔ جس کی وجہ سے منگل کے ہاتھ رانو کے بدن کے مختلف حصوں کو چھوتے ہیں ۔ اس دھینگا مشتی میں وہ گرجاتی ہے ، لیکن پھر ایک بار بوتل پر جھپٹتی ہے ۔ منگل کے ہاتھوں اُس کا سر دیوار سے ٹکرا جاتا ہے اور اُس کے سر سے خون ٹپکنے لگتا ہے ۔ ٹکرانے کی آواز جنداں کے کانوں تک پہنچتی ہے اور وہ وہیں سے سوال کرتی ہے کہ ،کیا ہوا ، رانو جھوٹ بولتی ہے کہ بلی آگئی تھی ۔ خون کو دیکھ کر اور جھوٹ کو سن کر منگل کو اُس پر پیار آنے لگتا ہے ۔ رانو اسی بات کی منتظر تھی ، وہ کہتی ہے آج وہ خود شراب پلائے گی مگر یہ وعدہ کرنا ہوگا کہ اس کے بعد وہ شراب نہیں پیے گا۔ منگل مان جاتا ہے ۔ تب رانو اُسے نہ صرف شراب پلاتی ہے بلکہ اُس کے ساتھ پیاز، ٹماٹراور چاپنے بھی کھلاتی ہے ۔ اب دونوں پر نشہ چرھنے لگتا ہے ۔ منگل پر شراب کا اور رانو پر منگل کا :
’’
منگل کے چہرے پر سرخیاں اور سیاہیاں دوڑ گئیں ۔ آنکھیں بند ہونے لگیں ، اور جسم کے مشام اپنی اپنی جگہ چھوڑکر کہیں چل دئیے ۔۔۔ کبھی بارش کے ڈر سے چھپتے، کبھی اُس کے لیے باہر آتے ، ساون اور بھادوں میں تو بارش ہمیشہ ہوتی ہے ۔ جہاں تہاں بھی ہوتی ہے ۔ لیکن بڑوں کا کہنا ہے ، جب بھادوں اور سورج کے بیچ دن اور رات ملتے ہیں ۔ برابر ہوتے ہیں تو دیوی کے کوئیلے پر ضرور چھینٹے پڑتے ہیں ۔۔۔ منگل نے ایک اندھے کی طرح لپک کر ، اندازے ہی سے رانو کو کلاوے میں لے لیا ۔ پھر ایک ہی لمحے میں دو جسم کے تپتے ہوئے زعفران زاروں پر تھے ۔۔۔ اس سے پہلے کہ اُن کی سانسیں تیز ہوتے ہوئے وہاں پہنچ جاتیں جہاں سے پھر وہ لوٹ کر نہیں آتے ، منگل رانو سے کہہ رہا تھا ، ’’ آج تم ۔۔۔کتنی کھوب شورت لگ رہی ہو۔۔۔ بھا بھی ۔ ‘‘ )۵ (
شراب دونوں کو ہمیشہ کے لیے ایک کر دیتی اور قاری کو یہ بات سمجھ میں ؤجاتی کہ مٹھے مالٹے کی یہ بوتل تلوکہ کی لائی ہوئی تھی یا رانو نے اس کا انتظام کیا تھا ۔ اب منگل گھر کا ایک زمہ دار باپ بن جاتا ہے ۔ وہ اب رانو کا اور اُس کے بچوں کا ہر طرح سے خیال رکھتا ہے ۔ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ رانو بیٹی کی شادی کے لیے فکر مند ہے تو وہ بھی اس کوشش میں لگ جاتا ہے اور آخر ایک دن وہ بتاتا ہے کہ دیوی کے مندر کو لے جانے والی سواریوں میں اُسے ایک نوجوان ملا ہے جو کہتا ہے کہ وہ شادی بڑی ( رانو کی بیٹی ) سے ہی کرنا چاہتا ہے ۔ شادی طئے ہوجاتی ہے لیکن جب لڑکا سامنے آتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ وہ تلوکہ کے قاتل کا بیٹا ہے ۔رانو اس شادی سے انکار کرنا چاہتی ہے لیکن حضوری سنگھ اُسے سمجھاتا ہے کہ ایک بیٹے کی قربانی دینے ہی سے دس بیٹے ملتے ہیں ۔ اُس نے بھی کبھی اپنے بیٹے کی قربانی دی تھی تو تم آئی تھی اور تم نے مجھے بیٹے دئیے ۔ بڑی کی شادی ہوگی تو وہ اور بھی ہمارے خاندان کو بیٹے دے گی ۔ 
رانو تیار ہوجاتی ہے ۔ یہ ناول جس میں قتل بھی ہے اچھے برے لوگ بھی ہیں، شراب بھی ہے ، عورتوں پر ظلم بھی ہے ، سکھ اور مسلمانوں کی باتیں بھی ہیں، محبت کے ڈورے بھی ہیں ، سب کچھ ہوتے ہوئے بھی راجندر سنگھ بیدی نے اسے ایک خوصورت موڑ پر حتم کیا ہے ۔ جس نے ناول کو اور بھی گہرائی عطا کر دی ہے ، اور دشمنی کے خاتمے کے لیے رشتہ داری کیا انجام لاتی ہے وہ بھی درس دیا ہے ۔ 
اس ناول کو سب سے پہلے احمد ندیم قاسمی نے 1960 ؁ء میں اپنے رسالہ ’’ نقوش ‘‘ نے شائع کیا تھا ، اور اس کی شہرت ہر طرف ہو گئی ۔ اسے کئی زبانوں میں ترجمہ کیا گیا۔ اس پر کئی بار فلمیں بنی ۔ اسے ساہتیہ اکادمی نے انعام سے بھی نوازا ۔ اس ناول پر بہت کچھ لکھا جاچکا ہے اور اب بھی بہت کچھ لکھا جا رہا ہے ۔ کچھ اقتباسات ملاحظہ فرمائیں، وارث علوی لکھتے ہیں :
’’
یہ ایک عام دیہات کی کہانی ہے ۔ اس کی فضاء میں لہسن ، رائی ، جنس، خون پینا اور گوبر کا تعفن پھیلا ہوا ہے اس کے لوگ وحشت بدوش ہیں ۔ وہ گنّے کے کھیتوں کی رکھوالی کرتے ہیں ۔ اپنے چھوٹے چھوٹے کاروبار میں مصروف رہتے ہیں ۔ گالیاں بکتے ہیں ۔ شراب پیتے ہیں ۔ نوجوان لڑکیوں کو پھانستے ہیں ۔ اور اپنے چند پیسوں کو بہت سنبھال کر رکھتے ہیں ۔ اس ناول کی عورتیں کینہ و حسد سے بھری ہوئی ہیں ۔ اور ایک دوسرے پر طعنہ زنی کرتی رہتی ہیں ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے ان لوگوں کے مکانات کے گرد دیواریں نہیں ہیں ۔ ہر ایک جانتا ہے کہ دوسرا کیا کر رہا ہے ۔ ‘‘ )۶(
یہی وارث علوی راجندر سنگھ کے مونولاگ میں لکھتے ہیں
’’
ایک چادر میلی سی ‘‘ اختصار اور ایجاز کا بے مثال نمونہ ہے ۔ بیدی نے صحیح معنیٰ میں سمندر کو کوزے میں بند کیا ہے ۔ پورے ناول میں استعاروں ، علامتوں اور اساطیر کا ایسا جال پھیلا ہوا ہے کہ وضاحتی اسلوب کو کام میں لایا جاتا تو ہر ذرہ پھیل کر صحرا بن جاتا ، کمال کی بات تو یہ ہے کہ علامتیں اور استعارے جو شاعرانہ حُسن آفرینی کا سر چشمہ ہیں ۔ اس حقیقت پسندانہ اسلوب کی سنگلاخ اور کھردری زمین سے پھوٹے ہیں ، جو ایک مفلوک الحال اور پس ماندہ دیہاتی زندگی کی تصویر کشی کا فریضہ نہایت خوش اسلوبی سے سر انجام دیتا ہے ۔ اس ناول کی خوبی یہ ہے کہ زندگی یہاں خانوں میں بٹی ہوئی نہیں ہے ۔ ایسا نہیں ہے کہ اخلاقیات ، نفسیات سے چشم پوشی کرتی ہو اور نفسیات، سماجیات سے پہلو بچاتی ہو ۔ ناول میں زندگی ، سماجی، فطری ، اور ماروائی سطح پر ایک وحدت میں منعکس ہوتی ہے ۔ ‘‘ )۷(
حقیقت یہ ہے کہ اس ناول میں عقیدت بھی ہے، جرم کی سزا بھی ہے ۔ اچھے برے کردار بھی ہیں جو ناول میں اپنے وجود کا احساس بھی دلاتے ہیں ۔ کرداروں کی اگر بات کریں تو رانو میں وہ سب کچھ نظر آ تا ہے جو ایک گرہستن میں ہونا چاہیے ، وہ شوہر پرست ہے ۔ ساس سسر کی خدمت بھی کرتی ہے اپنے بچوں اور دیور منگل کا ہر طرح خیال رکھتی ہے ۔ وہ تلوکہ کی شراب کی عادت کو چھرانا چاہتی ہے اس کے لیے تلوکہ کا ہر ظلم برداشت کرتی ہے ۔ تلوکہ جب قتل ہو جاتا ہے اور اُس کی سہیلی منگل سے چادر ڈالنے کی بات کرتی ہے تو وہ انکار کر دیتی ہے ۔ لیکن جب منگل کی بیوی بن جاتی ہے تو بیوی کا سکھ دینے کی خاطر اُسے شراب بھی پلاتی ہے اور بعد میں نہ پینے کا وعدہ بھی لیتی ہے ۔ جب وہ دیکھتی ہے کہ ’ بڑی ‘ بلوغت کو پہنچ رہی ہے تو اُس پر کڑی نگرانی رکھتی ہے
’’
کچھ غریبی کی وجہ سے اور کچھ جان بوجھ کر رانو اُسے ( بڑی ) پھٹے پرانے ، تیل اور بساند میں رسے بسے ہوئے کپڑوں میں رکھتی ہے ۔ بال بنانے کے بجائے بکھیر دیتی ہے تاکہ اُس پر کسی کی نظر نہ پڑے ۔ بڑی گوری چٹی تھی اور پورو کے الفاظ میں اس پر کسی انگیج ( انگریز ) کی اولاد ہونے کا شبہ پڑتا تھا ۔ جب کوئی میلی نظر سے بڑی کی طرف دیکھتا تو رانو مانے مرنے پر تیار ہوجاتی تھی اور پھر سب باتوں سے نپٹ کر پکار اُٹھتی ، ’’ گورا رنگ نہ دئیں ربّا ۔۔۔ سارا پند دیر پے گیا ۔ ‘‘ ( گورا رنگ نہ دے پرماتما سارا گاؤں بیری ہو گیا ) )۸ (
رانو کے بعد اس ناول میں منگل کا کردار بہت اہم ہے ۔ بھائی کے قتل کے بعد جب اُس سے رانو پر چادر ڈالنے کی بات کی جاتی ہے تو انکار کر دیتا ہے لیکن جب سب مل کر اُسے انو کو بیوی بنانے پر مجبور کرتے ہیں تو وہ ایک زمہ دار شوہر اور باپ بن جاتا ہے ۔ حالانکہ وہ سلامتی کی طرف جھکنے لگا تھا ۔ سلامتی اُ س پر جس انداز سے ڈورے ڈالتی ہے منگل جیسے صحت مند نوجوان کا اُس کی طرف راغب ہونا فطری ہے ۔راجندر سنگھ بیدی جہاں ناول کا چست منظرنامہ تیار کرتے ہیں وہیں قاری کو اپنے شاندار مکالموں سے بھی باندھ رکھتے ہیں ۔ذیل میں سلامتی اور منگل کے مکالمے ملاحظہ فرمائیں :
’’
اڑیا منگل ۔۔۔ ‘‘ 
منگل جو ایکہ لے کر نکل رہا تھا ، گھوڑی کی باگ کھینچ کر رک گیا اور سلامتے کی طرف منہ اُٹھا کر دیکھنے لگا ۔ سلامتے نے پاس آکر آنکھیں مٹکائیں اور بولی ، ’’ ہائے ہائے دے انیا ۔۔۔ ایک بار ہمیں بھی سیر کروادے ۔ ‘‘ 
’’
کیوں نہیں سلامتے ۔۔۔ ‘‘ منگل نے حامی بھری ، ’’ گوئی ( باندی ) کس کی اور گہنے کس کے ۔ ‘‘ 
’’
کب کرائے گا ؟‘‘ 
’’
جب تو کہے۔ ‘‘ 
سلامتے آگے پیچھے دیکھ کر بولی ، ’’ آج ہی رات ‘‘ 
’’
ہی ۔۔۔ ‘‘ منگل نے کہا ، ’’ میرا ایکہ رات کو نہیں چلتا ۔ ‘‘ اور وہ بکی ۔۔۔ اپنی گھوڑی کو چابک لگا کر چل دیا ۔ جب وہ ستراہ کے راستے پر دو تین کوس نکل گیا ، تب سلامتے کی بات کے معنی اُس کی سمجھ میں آئے ۔ وہ گاؤں کی طرف مڑنے ہی والا تھا کہ سواریاں الف ہو گئیں ۔ پھر سوچ کر کہ ابھی تو رات ہونے میں آٹھ دس گھنٹے باقی ہیں ۔ وہ ستراہ کے راستے پر چل دیا ۔ ‘‘ )۹ (
ناول کے دیگر کرداروں میں چنداں، جنداں، حضور سنگھ،تلوکہ، ، بڑی، وغیرہ ہیں جو ناول کوآگے بڑھانے میں معاون ثابت ہو تے ہیں ۔ ناول کا ماحول اور مقام پنجابی ہے اس لیے اس میں بار بار پنجابی الفاظ، محاورے، دوہے اور کہاوتیں استعمال ہوئی ہیں ۔ جن کے باعث پڑھتے ہوئے قاری کو اُلجھن ضرور ہو سکتی تھی لیکن اکثر مقامات پر ان کے ترجمے بھی لکھ دئیے گئے ہیں ۔ بیدی نے اپنی ساری زندگی میں یہی ایک ناول لکھا ہے ، جس کا شمار بلا شبہ اردوکے شاہ کارناولوں میں ہوتا ہے ۔ 
***
حوالے 
۱ ۔ قصہ کبوتر ، کبوتری کا ۔ پیش لفظ۔ راجندر سنگھ بیدی ۔ ناول ۔ ایک چادر میلی سی ۔ ص۔ ۳ ۔ سیو نتھ سکائی پبلی کیشنز ۔ لاہور ۔۲۰۱۴ ؁ ء 
۲ ۔ ناول ۔ ایک چادر میلی سی ۔ راجندر سنگھ بیدی ۔ ص ۔ ۱۰ ۔ سیو نتھ سکائی پبلی کیشنز۔ لاہور ۔ ۲۰۱۴ ؁ ء 
۳ ۔ ناول ۔ ایک چادر میلی سی ۔ راجندر سنگھ بیدی ۔ ص ۔ ۱۳ ۔ سیو نتھ سکائی پبلی کیشنز ۔ لاہور۔ ۲۰۱۴ ؁ ء 
۴۔ ناول ۔ ایک چادر میلی سی ۔ راجندر سنگھ بیدی ۔ ص ۔ ۴۵۔ ۴۴۔ سیو نتھ سکائی پبلی کیشنز۔ لاہور ۔ ۲۰۱۴ ؁ ء 
۵ ۔ ناول ۔ ایک چادر میلی سی ۔ راجندر سنگھ بیدی ۔ ص۔ ۹۵۔۹۴ ۔ سو نتھی سکائی پبلی کیشنز ۔ لاہور ۔ ۲۰۱۴ ؁ ء 
۶ ۔ کتاب ۔ راجندر سنگھ بیدی ۔ وارث علوی ۔ ص۔ ۶۱۔۶۰ ۔ ساہتیہ اکادمی۔ دہلی ۔ ۱۹۸۹ ؁ ء 
۷ ۔ ناول ۔ ایک چادر میلی سی ۔ راجندر سنگھ بیدی ۔ ص۔ ۳۰ ۔ سیو نتھی سکائی پبلی کیشنز ۔ لاہور ۔ ۲۰۱۴ ؁ ء 
۸ ۔ ناول ۔ ایک چادر میلی سی ۔ راجندر سنگھ بیدی ۔ ص۔ ۳۳ ۔ سیو نتھی سکائی پبلی کیشنز ۔ لاہور ۔ ۱۰۱۴ ؁ ء 
Noorul Hysnain 
1- 12 -31. pragati colony/
Ghati. Aurangabad
431001 (M.S )

 مضامین دیگر 

انجم قدوائ
راجندر سنگھ بیدی کی یہ ناول کئ بار پڑھی ہے ۔آج اسکا تجزیہ اس خوبصورت انداز میں پڑھ کر ایک بار ناول ہاتھ میں اٹھا لیا ہے ۔زبان اور بیان کی روانی ۔۔ایک خاص کیفیت پیدا کرتی ہے ۔
2017-11-01 17:36:47

Comment Form