طارق چھتاری کا افسانہ متن: تعبیری جہات




ڈاکٹر مشتاق صدف
19 Nov, 2017 | Total Views: 211

   

طارق چھتاری ایک کم گو، کم آمیز اور کمیاب افسانہ نگار ہیں۔وہ اپنے قاری کو جُل دےنے میں کمال رکھتے ہیں۔ بات تو وہ شہزادہ، شہزادی، دیو، بھوت پریت، سایہ اور چھلاوا کی کرتے ہیں لیکن ان کا نشانہ کہیں اور ہوتا ہے۔ وہ’ باغ کا دروازہ‘، میں باغ پر کسی دیو کے سائے کی بات ضرور کرتے ہیں لیکن سخت نگرانی کے باوجود صبح ہوتے ہوتے سارے چمن کے اجڑنے کی بات کرکے ہمیں چونکا بھی دےتے ہیں۔ لحیم شحیم دیو کی کہانی وہ ضرور دادی جان کی زبانی ہم تک پہنچاتے ہیں لیکن آخر میں بوڑھے شخص نے نوروز کو جوشیشی دی اس میں کون سی ایسی شے تھی جس کے ڈھکن کو کھولتے ہی ”اس کے چہرے پر دانش وری کی شعائیں پھوٹنے لگیں اور باغ کی فصیل پر ایک تحریر ابھر آئی۔“ پھر ایک پریوں کی شہزادی جس کے ماتھے پر نقرئی تاج، ہاتھ میں قدیم ساز، ہنس پر سوار باغ کے دروازے کے قریب سے گزر رہی تھی، وہ کون تھی؟ یہ ماجرا نوروز اور بوڑھے شخص کے علاوہ آج تک سب سے پوشیدہ ہے۔
 اسی طرح طارق چھتاری نے اپنی کہانی ’چھلاوا اور وہ‘ میں وہ کالا آدمی کون ہے جو برگد کے پیڑ سے اتر کر انسان کے اندر سما جانا چاہتا ہے۔ چھلاوا کا قد کبھی کئی گز لمبا ہوجاتا ہے اور کبھی چھوٹا ۔ وہ غائب ہوجاتا ہے مگرسیڑھیوں پر اس کا سایہ نظر آتا ہے۔یہ بتا کر افسانہ نگار ہمیں فریب میں ڈال دیتا ہے اور ہم یہ سوچنے پر مجبورہو جاتے ہیں کہ وہ سایہ کوئی بھوت پریت تو نہیں۔ گاو

¿ں والے بے نام کردار ’وہ‘ کو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ مرنے سے پہلے ہی بھوت بن گیا ہے۔ پاگل فتےّ کی طرح ہمیں طارق چھتاری کا کردار ’وہ‘ بھی لوگوں کی نظر میں سایہ بن جاتا ہے۔ بظاہر تو یہی لگتا ہے لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ افسانہ نگار یہاں بھی ہمیں جُل دیتا ہے۔ در اصل افسانہ نگار کچھ اور ہی کہنا چاہتا ہے اور ہم ہیں کہ اس کے فریب میں آجاتے ہیں۔ کالا آدمی سایہ نہیں بلکہ روشنی کی علامت ہے۔ سچائی کا نشان ہے۔ خیر کی پہچان ہے لیکن انسان کی یہ فطرت ہے کہ اسے سچ نظر نہیں آتا ۔جو سچ ہے اسے وہ غلط اور جو غلط ہے اسے وہ سچ سمجھ بیٹھتا ہے۔ یہ کہانی روشنی اور تاریکی کی کشمکش کی کہانی ہے۔ انسان روشنی کو تاریکی اور تاریکی کو روشنی سمجھ کر جی رہا ہے۔ اسے پتہ ہی نہیں کہ جب اس کے اندر نور آئے گا تو دنیا اس کے لےے بے معنی ہو جائے گی۔کیا کہانی کا یہ حصہ ہمیں اس سایہ سے قریب نہیں کرتا جسے انسان دیکھ کر ڈرتا ہے۔ آج کا المیہ بھی یہی ہے کہ جس شئے سے ہمیں ڈرنا چاہےے، اس سے نہیں ڈرتے اور جس سے نہیں ڈرنا چاہےے اس سے ہم ڈرجاتے ہیں اور وہ ڈر ہمیشہ ہمارے اندر بسا رہتا ہے۔ لیکن انسان جب اصل کی پہچان کرنا سیکھ جاتا ہے تو وہ خود کو طاقتور محسوس کرتا ہے:
یہ سنتے ہی کالا آدمی غائب ہو گیا مگر ابھی سیڑھیوں پر اس کا سایہ نظر آرہا تھا۔ اس نے محسوس کیاکہ وہ شخص جو اسے اب تک سیاہ دکھائی دے رہا تھا، روشنی بن کر اس کے جسم میں سما چکا ہے۔ اسے اپنے اندر غیر معمولی طاقت کا احساس ہونے لگا۔
رات کا بدن پگھل کر قطرہ قطرہ گر رہا تھا اور پورب کی جانب سفید سائے ابھر آئے تھے، سفیدی چھانے لگی تھی اور سیڑھیوں پر نظر آنے والا سایہ مٹنے لگا تھا۔سایہ جوں جوں مٹتا گیا، اس کے بدن پر چیونٹیاں رینگنے لگیں اور خون رگوں میں کلانچیں مارنے لگا۔ اب وہ خود کو چھلاوا اور ساری دنیا کو کلو چاچا سمجھ کر پٹخنیاں دینا چاہتا تھا۔
)چھلاوا اور وہ ، باغ کا دروازہ، طارق چھتاری 2001،ص 192(
کہیں چھلاوا ہی اصل طاقت تو نہیں۔ دنیا جسے چھلاوا سمجھتی ہے وہی اصل صداقت تو نہیں ہے۔ یہاں چھلاوا اور بھوت پریت کی بات چلی ہے تو جوگندر پال کا ایک افسانچہ جس کا نام ’بھوت پریت‘ ہے ۔اس کا ذکر بھی ضروری ہو جاتا ہے۔ اس افسانچہ سے قاری کو اندازہ ہوگا کہ طارق چھتاری کے افسانہ ’چھلاوہ اور وہ‘ اور جوگندر پال کے افسانچہ ’بھوت پریت‘ میں یکسانیت کیا ہے نیز امتیاز کیا ہے اور طارق چھتاری کی طرح ’بھوت پریت‘ کے پردے میں جوگندر پال کیا کہنا چاہتے ہیں:
چند بھوت حسبِ معمول اپنی اپنی قبر سے نکل کر چاندنی رات میں گپیں ہانکنے کے لےے کھلے میدان میں اکٹھے ہو کر بیٹھ گئے اور بحث کرنے لگے کہ کیا واقعی بھوت ہوتے ہیں۔
نہیں____ایک نے ہنس کر کہا____ سب من گھڑت باتیں ہیں۔
ایک اور بولا____ میں نے سن رکھا ہے، کسی بھی بھوت کو علم نہیں ہوتا کہ وہی بھوت ہے۔
اس اثنا میں ایک اور نے کسی جھاڑی کی طرف اشارہ کرکے خوفزدہ آواز میں کہا ____ ”وہ دیکھو“۔
جھاڑی کے پیچھے ایک غریب آدمی بڑے انہماک سے لکڑیاں کاٹ رہا ہے۔ ”وہ“____”وہ
سارے بھوت بے اختیار چیخیں مارتے ہوئے اپنی اپنی قبر کی طرف دوڑے“۔
)بحوالہ ’جدید اردو افسانہ، خورشید احمد، 1997ص 27(
طارق چھتاری اور جوگندر پال کی کہانی میں یکسانیت یہ ہے کہ دونوں میں ذات کو پہچاننے کی کوشش کی گئی ہے۔ طارق چھتاری کی کہانی’چھلاوا او روہ‘ میں بھی قبرستان اور نٹنی کی قبر کا ذکر ہے اور جوگندر پال کی کہانی ’بھوت پریت‘ میں بھی قبر کا ذکر آیا ہے۔ بھوت پریت میں بھوت خود کو بھوت نہیں سمجھتے اور ’چھلاوا اور وہ ‘ میں بے نام کردار’ وہ‘ خود کو نہیں پہچان پاتا۔ اسے یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ جسے وہ کالا آدمی سمجھ رہا ہے وہ کالا نہیں بلکہ سفید ہے اور وہ اس سے دوستی بھی کر سکتا ہے۔ کیونکہ چھلاوا سے دوستی فائدہ مند ہو سکتی ہے۔ اصل میں چھلاوا انسان کا ہی دوسرا روپ ہے جسے وہ فریب اور بھوت پریت سمجھتا ہے۔ وہی اس کی اصل شناخت ہے اور وہ چھلاوا نہیں بلکہ سچ ہے۔ دوسری یکسانیت ان دونوں کہانیوں میں یہ ہے کہ چھلاوا اور وہ میں جب بے نام کردار’ وہ‘ اپنے اصل وجود کو پہچانتا ہے تو وہ بھاگتا ہوا گاوں کی طرف آتا ہے لیکن گاوں والے اسے دیکھ کر اپنے دروازے بند کرلےتے ہیں اور اسے وہ زندہ بھوت سمجھنے لگتے ہیں۔ اسی طرح جب بھوت پریت میں اصل بھوت ایک غریب آدمی کو انہماک سے لکڑیاں کاٹتے ہوئے دیکھتے ہیں تو وہ خود کو نہیں بلکہ اس غریب کو ہی بھوت سمجھ بیٹھتے ہیں اور اس سے ڈرکر وہ اپنی اپنی قبروں میں لوٹ جاتے ہیں۔ جوگندر پال کی کہانی میں بھوت ہی انسان کو بھوت سمجھتے ہیں اور طارق چھتاری کی کہانی میں انسان جو خود ایک چھلاوا ہے وہ خودکو نہیں پہچانتا اور جو نیک ہے اسے پاگل چھلاوا قرار دے دیتا ہے۔جوگندر پال کی کہانی ’بھوت پریت‘ میں بھوت اپنی قبر میں چلے جاتے ہیں جبکہ بے نام کردار ’وہ‘ نٹنی کی قبر کے پاس قبرستان کی بیریوں کے کنارے برگد کے پیڑ کے نےچے ایک جھونپڑی ڈال کر رہنے لگتا ہے۔ گویا مرے ہوئے بھوت جوگندر پال کی کہانی میں قبر سے باہر نکلتے ہیں جبکہ ایک زندہ بھوت طارق چھتاری کی کہانی سے باہر نکلتا ہے۔ دراصل بھوت بھوت میں فرق ہے لیکن دونوں کا مشترک پہلو یہ ہے کہ انسان خود کو پہچان سکے کہ آخر وہ کون ہے؟
طارق چھتاری اپنی کہانی ’چابیاں‘ میں بھی قاری کوجُل دےتے نظر آتے ہیں۔ افسانہ نگار دو ہزار چابیوں والے محل کی تلاش کی بات کرتا ہے اور وہ منزل کو پانے کی ہر ممکن کوشش بھی کرتا ہے۔ آخر میں وہ محل تک پہنچ تو جاتا ہے لیکن اس منزل تک نہیں پہنچ پاتا جہاں اصل خزانہ ہے۔ قاری سمجھتا ہے کہ صندوقچی سے جو دو ہزار چابیاں ملی ہیں وہ اس محل کی ہیں جو ہزاروں میل دور مشرق میں واقع ہے۔ اورجس میں داخل ہونے کے لےے سو دروازوں سے گزرنے ہوں گے اور جس میں ہر دروازے میں دس تالے لگے ہیں اور ہر تالا دو چابیوں سے کھلتا ہے۔ بے نام کردار’ وہ‘ کئی شہروں سے گزرتا ہے لیکن اسے وہ منزل نہیں ملتی جس کی اسے تلاش ہے۔ آخر کار وہ واپس بستی کی جانب لوٹ جاتا ہے۔ کہانی کار نے اپنی کہانی میں ہمیں جس طرح فریب میں رکھا ہے در اصل وہی اصل کہانی ہے۔ چابیوں کا ملنا، محل کا ملنا اور اصل منزل کا نہ ملنا یہ بتاتا ہے کہ وقت کی گہری دھند میں کسی بھی شئے کی تلاش عبث ہے۔ چابیوں سے خزانے تلاش کرانے کی داستان بہت پرانی ہے لیکن طارق چھتاری کی چابیاں جن کی تعداد دو ہزار ہے ایسی چابیاں ہیں جو وقت کی دھند چھٹتے ہی کام آئیں گی کیونکہ اصل منزل کی تلاش مکمل ہو چکی ہوگی اور محل جو کھنڈر کی شکل اختیار کر گیا ہے نظروں سے اوجھل ضرور ہے مگر اس کا وجود باقی ہے۔ اس کی اصل حقیقت سامنے آئے گی۔ اس کہانی کو کچھ اس طرح بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ کبھی سمجھا ہی نہیں جا سکتا۔ اور یہ سمجھنا ہی کہانی کی اصل طاقت ہے ۔اس کا کینوس بہت وسیع ہے۔ اس کی سمندر جیسی گہرائی سے کچھ پانی ضرور نکالا جا سکتا ہے لیکن اس میں پانی کتنا ہے اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔
طارق چھتاری در اصل ایک پرفسوں تخلیق کار ہیں۔ وہ اپنے افسانے کو پرفسوں تو بناتے ہی ہیں صنف افسانہ کو نت نئے تجربات سے ہمکنار بھی کرتے ہیں ،گو کہ انہوں نے افسانے کم لکھے ہیں۔ ان کے افسانوں میں وسعت اور تنوع کا ایک لامتناہی سلسلہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ نیز ان کے یہاں وقت کی جو قاش ہے وہ قاری کو بوجھل نہیں ہونے دیتی اور نہ ہی افہام و تفہیم کی راہ میں الجھنیں پیدا کرتی ہے۔ ان کے افسانوں میں وقت کا اتنا ہی رول ہوتا ہے جتنا ایک مکمل افسانہ اس کی اجازت دیتا ہے۔ وہ افسانے اس لےے نہیں لکھتے کہ انہیں وقت کا حساب دینا ہے بلکہ اس لےے لکھتے ہیں کہ وہ خود وقت کا حساب اپنے طور پر لے سکیں اور افسانہ کے بطن میں پوشیدہ زندگی کے بھید بھرے سنگیت کی مختلف جہتوں کو آشکار کر سکیں۔ زندگی کے حقائق اور مانوس تجربات کے اساسی نکات کا گہرائی سے مطالعہ کیا جا سکے اور اس فن میں انہیں مہارت حاصل ہے۔
طارق چھتاری اپنے تجربات کو سادہ اور شفاف (Transparent) انداز میں پیش نہیں کرتے اور ایک افسانہ نگار کو ایسا کرنا بھی نہیں چاہےے بلکہ وہ اپنی تہذیبی و ثقافتی اقدار کی معنویت کو مخصوص وسیلہ

¿ اظہار کے ذریعے بیان کرتے ہیں۔ نیز زندگی اور موت کے درمیان موجودفاصلے کو خوب سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے اس اختصاص سے ایک نئے افسانوی مکالمہ کا آغاز ہوتا ہے۔ ’باغ کا دروازہ‘، ’نیم پلیٹ‘، ’لکیر‘، چھلاوا اور وہ‘ چابیاں وغیرہ ان کی ایسی ہی کہانیاں ہیں۔
ہمارے اکثر نقادوں نے افسانہ کو دوسری بیانیہ صنفوں میں مختصر ہونا قرار دیا ہے اور ناول کو طویل ہونا بتایا ہے۔ دیکھا جائے تو طارق چھتاری کے بیشتر افسانے اس کسوٹی پر بھی کھرے اترتے ہیں۔ ان کے افسانوں کی بافت ڈھیلی ڈھالی نہیں ہوتی بلکہ افسانہ کی ہئیت اور ساخت میں ایک کساو ہوتا ہے۔ خاص بات یہ بھی ہے کہ طارق چھتاری کے افسانوی کردار بدلتے نہیں۔ ان کا ہر کردار آغاز سے انجام تک ایک ہی جیسا رہتا ہے۔ کرداروں کی اپنی عادت، اپنی سوچ، اپنی فکر کا جو پیٹرن ابتدا میں ہوتا ہے وہی سلسلہ آخر تک دکھائی دیتا ہے۔ چاہے وہ کردار ’لکیر‘ کا حمید ہو یا پنڈت برج کشور۔ چاہے ژمبان کا ژمبان ہو چاہے ’دھوئیں کے تار‘ کا رعنا، سمیر، شیراز ہوں۔ ’آن بان‘ کا ہری سنگھ ہو یا ٹھاکر نیک سنگھ یا ٹھاکر تیج بہادر ۔ ’باغ کا دروازہ‘ کا نوروز ہو یا’ کوئی اور‘ کا سدھا یا سنجے ہو، ان میں کوئی ایسا کردار نہیں جو ابتدا میں کچھ اور ہواور انتہا میں کچھ اور ہو گیاہو۔ ایک مخصوص سانچے میں کم وبیش تمام کردار اپنا رول نبھاتے نظر آتے ہیں۔ طارق چھتاری کی یہ خصوصیت افسانہ کو استحکام بخشتی ہے۔ ان کے افسانے کی ہئیت ایک مخصوص تجربہ سے ہم آہنگ ہوتی ہے۔ یہ بھی ان کا ایک اختصاص ہے جو ہر افسانہ نگار کے بس کی بات نہیں ۔ وہ کسی تجربہ کو repeat نہیں کرتے جیسا کہ معاصر افسانوی منظر نامے میں کئی اےسے نام ہیں جن کے یہاںتکرار) (Repetationدیکھنے کو ملتی ہے چاہے یہ تکرار موضوع کی سطح پر ہو یا پیش کش کی سطح پر یا پھر اسلوب کی سطح پر۔ طارق چھتاری شایدتکرار کے خوف سے ہی افسانے کم لکھتے ہیں۔طارق چھتاری پلاٹ کو طول نہیں دےتے۔ اور ضمنی پلاٹ تو ان کے یہاں برائے نام بھی نہیں ہوتا۔ وہ ہر افسانہ کاپہلے ایک کینوس طے کرتے ہیں پھر اسے لکھتے ہیں۔ان کے مکالمے بھی گتھے ہوئے ہوتے ہیں۔ افسانہ میں خواہ مخواہ کی تفصیل دےنے سے وہ گریز کرتے ہیں۔ وہ چاہتے تو ’باغ کا دروازہ‘ میں دیواور چھوٹے شہزادے کے درمیان داوپیچ کو تفصیل سے بھی بیان کر سکتے تھے جس سے کہ کہانی اور لمبی ہو جاتی لیکن انہوں نے ایسا نہیںکیا کیونکہ انہوں نے داو پیچ کا یہ حصہ غیر ضروری سمجھا ہے۔ انہوں نے داو پیچ بتائے بغیر دیو کی ہار کو بیان کر دیا ہے۔ یہاں ہمہ جہت موجود راوی نے ایک ہی جملے میں کہانی کی ایک اچھی خاصی طوالت کو کم کر دیا ہے۔ کہانی میں دادی جان یہ کہتی ہے ” اچھا تو سن“ بجائے اس کے کہ کہانی کار دیو اور شہزادے کے درمیان داو پیچ کو دادی جان کی زبانی بیان کرتا فقط یہ کہہ کر کہانی کو مختصر کر دیتا ہے :
اور پھر وہ بہت دیر تک دیواور شہزادے کے داو پیچ بیان کرتی رہیں۔
اختصار کے باوجوداس کہانی میں تجسس قائم رہتا ہے۔ طارق چھتاری چاہتے تو ’نیم پلیٹ ‘میں کیدار ناتھ کے مکالموں کو اور بھی طول دے سکتے تھے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ ان کا ہر مکالمہ مختصر اور بوجھل نہ کرنے والا ہوتا ہے۔ بیوی کا نام یاد نہ آنے والے ہر حصے کو بڑی خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔ جہاں وہ بیوی کے نام شانتی، سروجنی ، سرشٹھا بتا رہے ہےں وہا ںوہ کچھ اور تصویر کشی کر سکتے تھے۔ اسی طرح جہاں وہ دن بتا رہے ہےں وہاں وہ کچھ اور باتوں کا اضافہ بھی کر سکتے تھے لیکن انہیں تو افسانے کی بنت پر قابو رکھنا ہے، اس لےے تاثر کو بنائے رکھنے کے لےے اختصار سے کام لےتے ہیں۔ افسانہ نگار چاہتا تو کیدار ناتھ کو اس کی بیوی کا نام یاد دلانے کے لےے اس کی بیٹی سرلا اور داماد جوگیندر کے ساتھ کئی اور ضمنی کرداروں کا اضافہ کرکے ان کے حوالے سے کہانی کو پھیلا سکتا تھا لیکن طارق چھتاری یعنی افسانہ نگار نے ایسا بھی نہیں کیا ہے۔ وجہ صرف یہ ہے کہ طارق چھتاری یہ چاہتے ہیں کہ کہانی کا دائرہ اصل کہانی تک ہی محدود رہے۔ وقت کو صدیوں پر پھیلا کر بھی افسانہ نگار نے ’نیم پلیٹ‘ کو یادداشت کے کینوس تک ہی رہنے دیا ہے اور جس نکتہ کو اٹھانا چاہا ہے وہی نکتہ روشنی میں آیا ہے۔ کیدار ناتھ کا افسانوی کردار اپنی اصل ہئیت سے پہچانا جاتا ہے۔اس کی ہیئت بدلتی نہیں۔ اپنی تھمتی یادداشت کی لہر کو دیکھ کروہ لرزتا ہے لیکن جب اسے اپنا نام یاد آجاتا ہے تو لگتا ہے کہ اسے ساری دنیا کے نام یاد آ گئے۔ اسی اطمینان کے سبب کیدار ناتھ کو گہری نیند آ جاتی ہے۔ نیم پلیٹ سے انسان کے اپنے تشخص، اپنی شناخت کے بحران اور اپنے وجود کی کشمکش کو اجاگر کرکے طارق چھتاری نے خود اپنی شناخت کو افسانوی دنیا میں مستحکم کیا ہے۔ ’چھلاوا اور وہ‘ کہانی میں بھی افسانہ نگار اگر چاہتا تو کالا آدمی کے حوالے سے بہت سی اور تفصیل بیان کر سکتا تھا لیکن اسے پتہ ہے کہ کہانی کا حسن کےسے برقرار رکھا جا سکتا ہے۔
طارق چھتاری کا ہر افسانہ ایک مخصوص اور منفرد تاثر لےے ہوئے ہوتا ہے۔ ان کا ایک اختصاص یہ بھی ہے کہ وہ اپنے مخصوص تاثر اور تصور کو واقعہ سے جوڑ کر اسے دلچسپ کہانی بنا دےتے ہیں۔ وہ کسی بھی حال میں اپنے نتائج سے سمجھوتہ نہیں کرتے۔ ان کاایک مطلوبہ تاثر ہوتا ہے جسے وہ آخر آخر تک اہمیت دےتے ہیں۔ وہ اپنے مطلوبہ تاثر کے اظہار کے لےے ہر طرح کا جتن کرتے ہیں اور اسے تخلیقی منہاج عطا کرنے کے لےے اےسے واقعات کو چنتے ہیں جو ان کے تاثر و تصور کو نمایاں کر سکیں۔ طارق چھتاری کی پوری توجہ اپنے تاثر کو واضح کرنے پر ہوتی ہے ۔اس لےے وہ کرداروں کی شخصیت کے ان ہی پہلووں کو تشکیل دیتے ہیں جن سے ان کا بنیادی تصور اور تاثر پایہ تکمیل کو پہنچتا ہے۔ کردار کے تکراری فکروعمل سے وہ گریز کرتے ہیں تاکہ افسانہ افسانہ ہی رہے کچھ اور نہ ہو جائے۔ طارق چھتاری اپنے افسانوں کے ایک اےسے راوی بھی ہیں جو کرداروں کی فکر و نظر کے تکراری عمل کے بجائے ان کی انہی صفات کو روشن کرتے ہیں جن سے کہانی کی مطلوبہ تاثیر برقرار رہ سکے۔ مثلاً ان کے افسانہ ’کوئی اور‘ کا تاثر یہ ہے کہ مرکزی کردار سنجے شادی کے بعد بھی یہ سمجھتا ہے کہ اس کی بیوی ’سدھا‘ اب تک راکیش کو بھول نہیں سکی ہے جو اس کا پہلا شوہر تھا اور جو اس دنیا میں اب نہیں ہے۔ اس تاثر کو برقرار رکھنے کے لےے کہانی کار نے ابتدا سے انتہا تک مختلف جتن کےے ہیں۔ سدھا کے حوالے سے سنجے کی سوچ یہ ہے کہ اس کا پہلا شوہر اب تک اس کے دل سے نہیں نکل پایا ہے۔یہ ایک ایسی نفسیاتی فضا ہے جس کو شروع سے آخر تک قائم رکھنے کے لےے افسانہ نگار کبھی ہری ساڑی کا ذکر کرتا ہے، کبھی راکیش کو آمادہ کرتا ہے کہ وہ سدھا سے یہ سوال پوچھے کہ تم راکیش کو بھول پائی ہو یا نہیں۔ سدھا اور سنجے کے درمیان کے مختصر مکالمے سے اندازہ ہوتا ہے کہ افسانہ نگار کہیں بھی اپنے بنیادی تاثر اور تصور کے اظہار کے لےے موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا ہے۔ اس کا ہر جتن ایسا نفسیاتی تاثر قائم کرنے کے لےے ہوتا ہے جو سنجے کے دل سے جدا ہی نہیں ہوتا۔ مثلا ’کوئی اور‘ کا یہ مختصر حصہ ملاحظہ کےجئے:
اچھا یہ بتاو سدھا ، راکیش کو تمہاری کون سی چیز پسند تھی؟“ سدھا اس سوال سے پریشان ہو گئی تھی۔
آپ راکیش کے بارے میں آخر کیوں پوچھتے رہتے ہیں۔ وہ اب اس دنیا میں نہیں ہے۔ میں اسے بھولنا چاہتی ہوں۔
اچھا‘ ابھی اسے بھولی نہیں ہیں دیوی جی۔ آخر پہلا شوہر جو تھا،
کندھے اُچکائے اور ہنستے ہوئے بولا۔
میں نے تو یوں ہی پوچھ لیا۔ اگر تم سمجھتی ہو کہ میرا اتنا بھی حق نہیں تو مت بتاو

¿۔
نہیں سنجے ایسی بات نہیں ہے۔
پھر تم اس کے بارے میں کچھ بتانے سے کیوں کتراتی ہو؟
 سدھا نے مسکرانے کی کوشش کی۔
میں کہاں کتراتی ہوں۔ جب بھی کچھ بتاتی ہوں تم ہی عجیب سے ہو جاتے ہو۔ اس دن اس کے قدکے بارے میں پوچھا، میں نے بتایا تو تمہیں نہ جانے کیا ہو گیا۔ ڈریسنگ ٹیبل کا شیشہ توڑ ڈالا اور اپنا سارا ہاتھ زخمی کر لیا۔ مجھ سے بہانہ کر دیاکہ پیر سلپ ہو گیا تھا۔ ڈریسنگ ٹیبل کے اوپر آن گرا۔
)کوئی اور ،باغ کا دروازہ 2001ءص 148-49
افسانہ نگار افسانے کے آغاز سے لے کر انجام تک اس امر کی نفسیاتی گرہ کشائی کی کوشش کی ہے کہ کوئی بھی مرد اپنی بیوی کی زندگی میں دوسرے مرد کو قبول نہیں کرتا خواہ وہ اس کا پہلا شوہر ہی کیوں نہ ہو۔ زندہ ہو یا مر گیا ہو۔مرد اپنے دل کے چور کا ذکر کرے یا نہ کرے کسی نہ کسی صورت میں اس کا اظہار وہ کر ہی دیتا ہے۔ اس کہانی میں وہ کہیں بھی اپنی بیوی کو یہ تاثر نہیں دیتا کہ اسے اس کے پہلے شوہر سے کوئی پریشانی ہے لیکن ہر بار اسے یہ شک ہوتا ہے کہ اس کی بیوی اپنے پہلے شوہر کوبھول نہیں سکی ہے،جبکہ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ سدھا اپنے دوسرے شوہر پر سب کچھ نچھاور کرتی ہے اوراس کی خواہش یہ ہے کہ سنجے اسے ٹوٹ کر چاہے۔ لیکن آخر کار سدھا ہمیشہ ہمیشہ کے لےے سنجے کو چھوڑ کر چلی جاتی ہے کیونکہ اسے یہ احساس ہوتا ہے کہ سنجے اس کے ساتھ کبھی سکھی نہیں رہ پائے گا۔ سنجے کو اسٹیشن پر بھی یہ لگتا ہے کہ ٹرین میں جہاں وہ بیٹھی ہے اس کے ساتھ کوئی اور بھی ہے اور وہ ہے راکیش۔ کہانی کا یہ نفسیاتی الجھاو والا اختتام دل کو رنجیدہ اور آبدیدہ کر دیتا ہے۔
مذکورہ کہانی کی طرح اور بھی کئی کہانیاں ایسی ہیں جن میں طارق چھتاری کا بس ایک ہی تاثر ہوتا ہے کہ ہر صورت میں کہانی کے رمز کو برقرار رکھا جائے۔ ’لکیر‘، ’باغ کا دروازہ‘، ’کھوکھلا پہیا‘، ’آن بان‘، ’پورٹریٹ‘، ’چابیاں‘ وغیرہ کہانیوں کی بنت ایک مخصوص تاثر سے مضبوط دکھائی دیتی ہے۔ طارق چھتاری کی کئی کہانیاں ایسی بھی ہیں جن کا پس منظر دیہی اور قصباتی فضا ہے۔ بظاہر یہ کہانیاں بہت دلچسپ معلوم ہوتی ہیں لیکن اس وقت ان کی معنویت او ربھی تہہ دار ہو جاتی ہے جب ہم ان کا تجزیہ کرتے ہیں۔ ایسی ہی ان کی ایک کہانی ’چھلاوا اور وہ‘ ہے۔ اس کہانی سے ایک دیہی ڈسکورس قائم ہوتا ہے۔ کہانی کا رنے اس کی پیش کش کے لےے ایک منفرد تخلیقی پیرایہ اظہار کا استعمال کیا ہے۔ اس کہانی میں ثقافتی عرصہ (Cultural Space)کا تناظرخالص دیہی اور ہندستانی ہے۔اس تعلق سے شافع قدوائی نے طارق چھتاری پر ایک طویل مضمون لکھا ہے جس میں ان کے افسانوں میں ثقافتی عرصہ کی تشکیل کو موضوع بنایا گیا ہے۔ شافع قدوائی کے مطابق طارق چھتاری اپنے افسانوں میں ثقافتی سروکاروں کی بوقلمونی پر خوب اصرار کرتے ہیں اور وہ یہ چاہتے ہیں کہ ان کا ہر افسانہ وسیع تر معاشرتی ڈسکورس کا جزو بنے اور راوی ایسا ہو جس کا کوئی چہرا بھی ہو اور جس کا ردّ عمل زندگی کے کسی بھی موڑ پر یکطرفہ نہ ہو ۔نیز ثقافتی سروکاروں کی مختلف جہتوں کو آشکار کرتا ہو۔وہ لکھتے ہیں :
طارق کا بنیادی مسئلہ ثقافتی سروکاروں کو جن کی نوعیت نو آبادیاتی تسلط کی وجہ سے یکسر بدل گئی ہے ، افسانوی ڈسکورس کے قلب میں قائم کرنا ہے اور اس کے حصول کے لےے بیانیہ کی دونوں جہتوں یعنی Mimeticاور Dialogicسے بیک وقت استنباط کرنا ہے۔ طارق نے ثقافتی عرصہ (Cultural Space)کی تشکیل دیسی واد ڈسکورس (Nativist Discourse) کے بنیادی مباحث کو افسانے کی یافت کا ناگزیر جز بنا کر اسے ایک بہتر تخلیقی پیرایہ

¿ اظہار عطا کیا ہے۔
  )فکشن مطالعات : پس ساختیاتی تناظر ، شافع قدوائی، 2010ءص131(
طارق چھتاری کی دوسری کہانیوں کی طرح ’چھلاوا اور وہ‘کہانی میں بھی تہذیبی و ثقافتی فشار ہے اور کچھ ان کہی گفتگو بھی ہے۔یہ کہانی کسی بھی نظریاتی حصار کے تحت نہیں لکھی گئی ہے۔ اس کا فنی اظہار ایسا ہے جس سے کہانی کا وجود خود بہ خود قائم ہوتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ اس کا بیانیہ زندگی کے مخفی کئی اہم جہتوں کو آشکار کرتا ہے۔ یہ کہانی افسانوں کی مروجہ ڈسکورس کو تہس نہس کردیتی ہے۔ اس کا اپنا ایک ڈسکورس ہے۔ آج کی صورت حال سے اسے جوڑ کر دیکھاجائے تو اس کے لےے ایک نئی نظر کی ضرورت ہے ۔یہ مختلف کرداروں کو جوڑ کر صورتحال کو پر اسرار بنا دیتی ہے۔ کہانی کا راوی مختلف ہوتے ہوئے بھی آس پاس کا معلوم ہوتا ہے۔دراصل راوی ایک دیہی مخبر نظر آتا ہے۔ طارق چھتاری نے ’چھلاوا اور وہ‘ میں دونوں کے کردار کو بحسن خوبی نبھاتے ہوئے دیہی زندگی کے کئی پہلووں کو بڑی سادگی سے نمایاں کیا ہے۔ کہانی کی فضا پراسرار ہوتے ہی ہمیں ایک مختلف کیفیت سے دوچار کر دیتی ہے اور یہ مختلف کیفیت کہی سے زیادہ ان کہی معلوم ہوتی ہے۔شور وغل سے زیادہ خاموشی کی علامت معلوم ہوتی ہے۔ اور یہ حسن فنکاری کسی افسانہ نگار کو برسوں تپسیا کے بعد حاصل ہوتا ہے۔
طارق چھتاری کی زبان کا اختصاص ان کا اختصار ہے۔ طول کلامی سے احتراز، اشاریت اور تمثیلی وعلامتی طریقہ اظہار ان کی زبان کا امتیازی وصف رہا ہے۔ ان کے یہاں وسیلہ اظہار کے طور پر جو اسلوب ملتا ہے وہ نہ توپیچیدہ اور گنجلک ہے اور نہ انہوںنے کسی ایک کہانی میں کثیر الجہت اسلوب کو ہی برتا ہے۔ افسانہ نگار اس بات پر یقین نہیں رکھتا کہ ایک ہی کہانی میں ایک سے زیادہ اسلوب ہوں جیسا کہ کئی افسانہ نگار یہ کام کرتے ہیں۔ ایک تو افسانہ نگار کو اتنی آزادی بھی نہیں ہوتی کہ وہ ایک سے زیادہ اسلوب کو ایک کہانی میں برتے ۔ دوسرے یہ کہ طارق چھتاری کا یہ مزاج بھی نہیں کہ وہ اپنے وسیع تر تجربات کو مختلف النوع اسلوب کے سہارے پیش کریں۔ ان کی زبان میں جامعیت ہوتی ہے۔ وہ انہیں لفظیات اور اسلوب کو ترجیح دےتے ہیں جن سے ان کا مطلوبہ تاثر قائم رہ سکے اور اس کی پابندی سے قاری کا تاثر بھی برقرار رہے۔ ایک افسانہ کی جو موضوعی ضرورت ہوتی ہے اس کے اعتبار سے وہ اپنا اسلوب وضع کرتے ہیں۔ در اصل طارق چھتاری نے صنف افسانہ کی ساخت کو ایک معیار عطا کیا ہے اور اس کے وجود کو صحیح معنوں میں برتا بھی ہے۔
طارق چھتاری کے یہاں مکالموں میں ادھوراپن بھی ہے لیکن یہ مکالمے نامکمل ہوتے ہوئے بھی مکمل مکالموں سے بہت آگے کے معلوم ہوتے ہیں۔ مثلاً
پتھر بہت موٹا ہے۔ وہ پسےنے میں شرابور ہو چکا ہے۔ قبر کی ساری مٹی کھود کر پتھر ہٹا دینا زیادہ آسان ہے۔
مگر پھاوڑا؟
  )کھوکھلا پہیا، ص38(
سمیر نے کوئی جواب نہیں دیا۔ خاموش رہ کرناراضگی اور غصے کے حربے کو استعمال کرنا چاہا مگر رعنا؟
وہ کہاں دیکھنے والی تھی اس کی طرف۔
چلی گئی____
جب چل گئی تب معلوم ہوا کہ وہ اس سے کتنا!
 )دھوئیں کے تار، ص13-14(
دوسرا شخص جو دیر سے خاموش تھا بول پڑا” ارے بھئی وہ پاگل تھوڑی تھا وہ تو جادو گر تھا۔ مرنے کے بعد بھی اس کا جادو چل رہا تھا۔
ٹھاکرتیج بہادر نے اس کے چہرے پر نظریں گڑا دیں۔
پتا ہے کیا ہوا؟
کیا؟“ ٹھاکر تیج بہادر کے منھ سے نہیں پورے وجود سے آواز نکلی ۔
ٹھاکر جی کا ناتی اس کی جلتی چتا
  )آن بان، ص 31(
شاید یہ چاقو ہے، لیکن مرچوں کی شیشی؟ “نوروز سوچ ہی رہا تھا کہ بوڑھے نے پھر جھولی میں ہاتھ ڈال دیا اور ایک شیشی نکال کر نوروز کو دی اور کہا۔ ”اگر تو اس کا صحیح استعمال کرے گا تو یہ باغ قیامت تک شاداب و سرسبز رہے گا۔ لیکن
 )باغ کا دروازہ، ص 51(
          مذکورہ تمام اقتباسات کے آخری جملوں اور لفظوں میں اختصار کے باوجود جو گہرائی و گیرائی اور وسعت ہے وہ مکمل جملوں سے بھی زیادہ ہے۔ اس طرح کی مثالیں طارق چھتاری کے یہاں بھری پڑی ہیں۔
افسانہ نگار نے ناول اور افسانے کے درمیان بنیادی امتیازات کو خاص طور سے ملحوظ خاطر رکھا ہے ،چاہے وہ زبان کی سطح پر ہو یا پلاٹ یا پھر کردار کی سطح پر۔ اس نے صنف افسانہ کے پیچیدہ مباحث کو برتنے سے گریز کیا ہے اور اس کا یہ گریز لاشعوری ہے جو ایک جینوئن تخلیق کار کی پہچان ہوتی ہے۔
طارق چھتاری کا بنیادی تصور یہ ہے کہ انسان کا قد دیوار کے سایہ کی طرح ہے جو وقت کے حساب سے بڑھتا اور گھٹتا رہتا ہے۔ یعنی انسان کا قد جتنادکھائی دیتا ہے اس سے زیادہ مخفی ہوتا ہے۔ ان کے یہاں خارج سے زیادہ باطن کی آواز سنائی دیتی ہے جس طرح انتظار حسین کے یہاں ماضی کی یادوں کی گونج زیادہ ہے وہی معاملہ طارق چھتاری کی کہانیوں میں بھی ہے۔ ماضی کی زخمی روح موجودہ معاشرے میں وکھائی دیتی ہے، نیز ماضی کی بازیافت کا پہلو بھی بہت نمایاں ہے۔ طارق چھتاری کے افسانوں میں جڑوں کی جستجو ایک لازمی عنصر ہے۔ ان کا حافظہ بہت توانا ہے۔ اپنے حافظہ کی وجہ سے ہی وہ خود کو ماضی سے جوڑتے ہیں اور جب ماضی سے جڑ جاتے ہیں تو ان کے لےے اپنی بنیاد اور جڑ کی تلاش آسان ہو جاتی ہے۔ انتظار حسین اپنی قوت یادداشت سے ہی تہذیبی روایات کے سرچشموں تک پہنچتے ہیں اور اپنی کہانیوں میں ایک نئی دنیا آباد کر دےتے ہیں۔ طارق چھتاری کا حافظہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ بہترین حافظہ ان کی شخصیت کو انفرادی بنا دیتاہے۔ پروفیسر گوپی چند نارنگ نے اپنے ایک مضمون ’انتظارحسین کا فن:متحرک ذہن کا سیال سفر‘ میں انتظار حسین کے ان افسانوں کے حوالے سے جن میں صدیوں پر مشتمل لمحات کو یاد کیا گیا ہے، سیر حاصل گفتگو کی ہے اور حافظہ سے متعلق انتظار حسین کی فکر کو روشن کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
انتظار حسین کی دانست میں حافظہ انفرادی اور اجتماعی تشخص کی بنیاد ہے۔ حافظہ نہ ہو تو ماضی بھی نہیں رہتا، اور ماضی نہ ہوتو بنیاد اور جڑیں کچھ نہیں رہتا۔ گویا خود حال کی حیثیت ایک غیر موہوم غبار سے زیادہ نہیں۔ یادوں کے معنی ہیں اپنی ذات کے اجزائے ترکیبی کی شیرازہ بندی کرنا، اسے تہذیبی انفرادیت کا وقار بخشنا۔ انتظار حسین کے افسانے اس یقین کو پیش کرتے ہیں کہ اجتماعی حافظہ انفرادی شخصیت کی بنیادہے۔ حافظہ ہی کے ذریعے ہماری تہذیبی زندگی اپنے ماضی کو امید میں بدلتی ہے اور زندہ رہنے کا عمل جاری رہتا ہے۔
   )فکشن شعریات: تشکیل وتنقید، گوپی چند نارنگ 2009ص 190-91(
جب ہم طارق چھتاری کے افسانے ’نیم پلیٹ‘ ،’باغ کا دروازہ‘ ، ’چابیاں‘ وغیرہ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں انتظار حسین بے ساختہ یاد آجاتے ہیں۔ حافظہ کی وہی قوت اور وہی کیفیت جو انتظار حسین کے افسانو ںمیں موجود ہے طارق چھتاری کے یہاں بھی کچھ انفرادی طور پر ملتی ہے۔ ”حال کا غیر موہوم غبار“ طارق چھتاری کے افسانوں میں بھی ملتا ہے نیز اجتماعی حافظ ان کی انفرادی شخصیت کی بنیاد معلوم ہوتی ہے۔’باغ کا دروازہ‘،’ نیم پلیٹ‘، ’چابیاں‘ وغیرہ کے مطالعے سے ایک گم شدہ دنیا کا از سر نو وجود ہمارے سامنے آتا ہے اور یاد داشت کی ایک کہکشاں روشن ہو جاتی ہے۔ایسا لگتا ہے کہ طارق چھتاری اپنے شعور و لاشعور، حافظہ وعقیدے اور تجربے و مشاہدے کو پہلے استنباط کرتے ہیں پھر اسے تخلیقی کینوس پر اتارتے ہیں جو کبھی تمثیلی کبھی علامتی اور کبھی نفسیاتی روپ اختیار کر لےتے ہیں۔
انتظار حسین کی کہانی ’کایا کلپ‘ اور طارق چھتاری کی کہانی ’نیم پلیٹ‘ کا موضوع یوں تو الگ الگ ہے لیکن ان میں یکسانیت یہ ہے کہ ’کایا کلپ ‘کا شہزادہ آزاد بخت بھی اپنا نام بھول جاتا ہے اور ’نیم پلیٹ‘ کے کیدار ناتھ کو بھی اپنا نام یاد نہیں رہتا۔’کایا کلپ‘ میںشہزادے کا خوف اتنا بڑھتا ہے کہ اسے اپنا ہی نام یاد نہیں آتا۔ شہزادی عمل سے اسے کبھی مکھی بناتی ہے تو کبھی آدمی۔ لیکن بعد میں منتر پڑھنے سے بھی شہزادہ آدمی کی شکل اختیار نہیں کرتا۔ عدم تحفظ کا یہ نتیجہ ہے کہ انسان سکڑ کر مکھی بننا توپسند کرتا ہے لیکن آدمی نہیں۔ انتظار حسین اپنی اس کہانی میں انسان کو اس بات پر مجبور کرتے ہیںکہ وہ اپنا محاسبہ کرے۔ اپنی پہچان بنائے۔ اپنی شناخت کے مرحلے طے کرے۔ اپنے تشخص کو برقرار رکھنے کی کوشش کرے اور اپنی ذات سے کبھی غافل نہ رہے۔ انتظار حسین کے ذیل کے بیان کو’ نیم پلیٹ‘ سے جوڑ کر دیکھا جائے تو ’نیم پلیٹ‘ کی انفرادیت کا بھی اندازہ ہوتا ہے اور تشخص کی تشویش کے ساتھ شناخت قائم کرنے کی قدر وقیمت کا بھی پتہ چلتا ہے۔ ’کایا کلپ ‘خوف و دہشت کی نفسیات پر مبنی کہانی ہے اور ’نیم پلیٹ‘ تہذیبی زوال کی داستان معلوم ہوتی ہے۔ انتظار حسین اپنے افسانوی کرداروں کے حوالے سے ایک جگہ لکھتے ہیں :
اپنی ایک کہانی میں میں نے اس مکھی کی کہانی لکھی تھی جو اپنا گھر لیپتے لیپتے اپنا نام بھول گئی تھی۔ اس نے بھینس سے جا کر پوچھا کہ بھینس بھینس میرا نام کیا ہے ؟ بھینس نے جواب دےے بغیر دم ہلا کر اسے اڑا دیا۔ پھر اس نے گھوڑے سے جا کر یہ سوال کیا۔ گھوڑے نے بھی اپنی کنوتیاں ہلا کر اسے اڑا دیا۔ وہ بہت سی مخلوقات کے پاس یہ سوال لے کر گئی ،اور کسی نے اس کا جواب نہ دیا۔ آخر وہ ایک بڑھیا کے پیر پر جا بیٹھی۔ بڑھیا نے ہشت مکھی کہہ کر اسے اڑا دیا اور مکھی کو اس ذلت کے طفیل اپنا نام معلوم ہوا۔ کیا عجب ہے کہ میں نے جو بعض نحوست مارے کردار سوچے ہیں، وہ اسی چکر میں ہوں۔ وہ شخص جو اپنی پرچھائیں سے ڈرا ڈرا پھرتا تھا ،وہ شخص جس کا سارا بدن سوئیوں میں بیندھا ہوا تھا، وہ شخص جسے اپنی ٹانگیں بکرے کی نظر آئیں ، وہ شخص جو ہزار ریاضت کے باوجود زرد کتے کی زد سے نہ بچ سکا، وہ شخص جو شہزادے سے مکھی بن گیا، وہ شخص جو آخر کار بندر بن کر رہا، میں نے ان سب کے پاس جا جا کر اپنا نام پوچھا اور باری باری ہر ایک پر شک ہوا کہ یہ میں ہوں۔ لیکن شاید میں ذلت کے اس آخری مقام تک نہیں پہنچا ہوں ، جہاں پہنچ کر میں اپنے آپ کو پا سکوں۔ ذلت کی اس انتہا تک پہنچنا میری افسانہ نگاری کامنتہا ہے۔
 )بحوالہ فکشن شعریات: تشکیل و تنقید۔گوپی چند نارنگ ص 207-8(
کایا کلپ ‘میں انتظار حسین نے خوف سے انسان کی جو پہچان سکڑ رہی ہے یا ختم ہو رہی ہے اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔ اس میں شہزادے کے باطنی کرب ،اس کی ذہنی کشمکش اور دہشت کی نفسیات کو اجاگر کیا ہے۔ انسانی وجود کی ماہیت پر استفہام کے دبیز پر دے ڈالے ہیں جن سے نفسیاتی نظام تہہ در تہہ کھلتا رہتا ہے۔ لیکن ’نیم پلیٹ‘ میں طارق چھتاری حافظے کو تخلیقی کینوس پر مرکزیت عطا کرتے ہیں اور تہذیب کی بجھتی شمع کو روشن کرنے کی تگ و دو میں رہتے ہیں۔ طارق چھتاری کیدار ناتھ کو اپنا نام یاد دلانے کے لےے انسانوں کے زیادہ پھیرے نہیں لگواتے بلکہ و ہ فقط اس کی بیٹی اور داماد کو ہی ذریعہ بناتے ہیں۔ انتظار حسین ’کایا کلپ‘ میں دیو، شہزادہ اور شہزادی کی تمثیلوں کا استعمال کرکے انسان کے خوف و دہشت کو پیش کیا ہے جبکہ طارق چھتاری کی کہانی میں کوئی تمثیلی کردار نہیںہے اور نہ ہی کوئی کیفیت ہی تمثیلی انداز کی ہے۔ ’نیم پلیٹ‘ میں کیدار ناتھ کو جب اپنا نام یاد آتا ہے تو اسے لگتا ہے کہ ساری دنیا کا نام ہی کیدار ناتھ ہے۔ جبکہ انتظار حسین کے یہاں مکھی کو جب ذلت ملتی ہے تو اسے اپنا نام ’ہشت‘ یاد آتا ہے۔ دونوں میں کافی فرق ہے۔ موضوع کے ساتھ ٹرٹمنٹ اور اسلوب کا فرق۔ ایک میں ایک مکمل انسان کیدار ناتھ اپنا نام بھول جاتا ہے اور دوسری کہانی میں ایک حیوان مکھی اپنا نام بھول جاتی ہے۔ بھولنے کا عمل دونوں میں ہے لیکن دونوں کا تاثر مختلف ہے۔ ہاں یکسانیت یہ بھی ہے کہ دونوں میںحافظہ کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ طارق چھتاری اپنے سینئر معاصرین کا اثر قبول تو کرتے ہیں لیکن ان کا اپنا ایک الگ تاثر ہوتا ہے۔ کہانی میں ان کی اپنی الگ بنت ہوتی ہے۔ انسانی جبلت کو آشکار کرنے کا اپنا الگ ڈھنگ ہوتا ہے۔ وہ اپنے انداز سے انسانی وجود اور ثقافتی زوال کے خطرات کو خاطر نشان کرتے ہیں۔
          مختصر یہ کہ طارق چھتاری ایک پُرفسوں افسانہ نگار ہیں۔ ان کی تمثیلی اور علامتی کہانیاں مختلف نوعیت کی ہیں اور جو بہت پرکشش ہیں۔ وہ جس موضوع کو بھی تخلیقی کینوس پر اتارتے ہیں اس کی اپنی ایک الگ کیفیت ہوتی ہے۔ وہ اپنے سینئر معاصرین سے متاثر ضرور دکھائی دےتے ہیں لیکن ان کا انداز پیش کش مختلف اور موضوعات میں تنوع کا الگ رنگ ہوتا ہے۔ وہ اپنے تاثر اور تصور سے کبھی سمجھوتہ نہیں کرتے۔ ان کی زبان تہہ دار ہے۔ موضوعات کی تکرار ان کے یہاں نہیں ملتی۔ وہ پلاٹ کو طول نہیں دےتے۔ وہ کہانی کی بنت کو اپنے قابو میں رکھتے ہیں۔ ثقافتی بیانیہ پر انہیں دسترس حاصل ہے۔ ان کی کہانیوں میں ثقافتی عرصہ کی تشکیل کا تناظر خالص دیہی اور ہندوستانی ہے۔ وہ کسی نظر یاتی حصار کے تحت کہانیاں نہیں لکھتے۔ ان کے یہاں ایک کہانی میں کثیر الجہت اسلوب بھی نہیں ملتا ہے۔ پیچیدہ اور گنجلک اسلوب سے بھی وہ احتراز کرتے ہیں۔ ان کے افسانے صنف افسانہ کی کسوٹی پر کھرے اترتے ہیں ۔ ان کا بیانیہ بہت طاقتور ہے۔ ان کا نفسیاتی مطالعہ بھی بہت گہرا ہے۔ وہ جوگندر پال اور انتظار حسین کی طرح ایک کہنہ مشق اور جینوئن تخلیق کار ہےں۔ انسانی فطرت، انسانی جبلت اور انسان ان کے اصل موضوعات ہیں ۔ وہ انتظار حسین کی طرح ایک جُل دےنے والے(Deceptive) افسانہ نگارہیں ۔ وہ کم سخن ضرور ہیںمگر ان کی ہر تحریر ہمیں چونکاتی ہے۔ در اصل وہ ہمارے عہد کے ایک ٹریجڈی فن کار ہیں۔
 
 

 مضامین دیگر 


Comment Form



اردو فکشن

© 2017 Urdu Fiction. All right reserved.

Developed By: Aytis Cloud Solutions Pvt. Ltd.