20 Nov, 2017 | Total Views: 93

شفقؔ کی افسانوی شناخت

امتیاز احمد علیمی

صوبہ بہار زمانہ قدیم سے ہی تہذیب وتمدن کا مرکز اور علم وفن کا گہوارہ رہا ہے ۔ہر میدان میں چاہے وہ سیاست ہو یا اہل علم ودانش کا حلقہ ،علوم شرعیہ ہو یا شاہی افسران یا ادب کی دنیا میں فکشن ہویا فکشن کی تنقید یا تحقیق بہار کا اہم کارنامہ رہاہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کے بیشتر فکشن نگار ،ناقدین ومحققین کا تعلق اسی سر زمین سے ہے جہاں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے ۔ شفیق احمد خاں شفقؔ کا تعلق بھی اسی سرزمین سے ہے ۔شفق اپنا افسانوی سفر ۱۹۶۲ء سے قبل ہی شروع کرچکے تھے۔ پہلا افسانہ’میں قاتل ہوں‘جون ۱۹۶۲ء ،سوز،کلکتہ میں شائع ہونے کے بعد وہ مسلسل کہانیاں لکھتے رہے اور چارسو سے زائد کہانیاں ہندوپاک کے ادبی، نیم ادبی رسائل میں چھپتی رہیں۔مگر ساری کہانیاں دستیاب نہیں ہیں صرف چار افسانوی مجموعے ’سمٹی ہوئی زمین ‘(۱۹۷۹ء) ’سگ گزیدہ ‘ (۱۹۸۴ء) ’شناخت ‘(۱۹۸۹ء) اور ’وراثت‘(۲۰۰۳ء)وغیرہ ہی منظر عام پر آئے ہیں جن میں کل ملاکر ۵۵؍افسانے ہی شامل ہیں ۔اس مضمون میں ان کے صرف دستیاب شدہ افسانوں کی روشنی میں جائزہ لینے کی کوشش کی گئی ہے ۔
۱۹۸۰ء کے بعد بہار کے افق ادب سے ابھرنے والے افسانہ نگار وں کی طویل فہرست میں ایک اہم نام شفق کا بھی ہے عموما شفق کے ساتھ علامت نگاری،تجریداور نئی نسل کی گمشدگی کی باتیں ایک ساتھ کی گئیں مگر شفق نے عام روش سے الگ ہٹ کر زندگی کی ہمہ جہتی کو صحیح تناظر میں سمجھ کر اپنی تخلیقات کے ذریعہ حقائق کو بے نقاب کرنے کا فریضہ انجام دیااورمنفی لہروں کے مابین صالح قدروں کی اہمیت کوسمجھا ۔ان کی کہانی تنہا ذات کی کہانی نہیں اور نہ ہی ان کا غم اکیلے پن کا غم ہے بلکہ ان کے افسانوں کی زیریں لہریں ان مسائل کی طرف اشارہ کرتی ہیں جہاں افراد کے رشتے ٹوٹتے نہیں ہیں بلکہ آپس میں ایک دوسرے سے منسلک ہوکر اجتماعی منزلوں کی نشان دہی کرتے ہیں ۔شفق کی شخصیت بے حد متین اور سنجیدہ تھی مگر حساس ہونے کی وجہ سے ہمیشہ متفکر رہا کر تے تھے اور سہسرام کی خونریز فضا جس نے ان پر بہت گہرا اثرڈالا تھا، اس کے بارے میں ہمیشہ سوچتے رہتے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے افسانوں میں اذیت،کربناکی،وحشت ،عدم محفوظیت ، قتل وخون اور لاش وغیرہ کی باتیں براہ راست درآئی ہیں مگر اس میں کوئی شک نہیں کہ انہوں نے اس کو بہت خوبصورت اندازمیں پیش کیا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے یہاں کہانی کا آرٹ پورے طور پر جلوہ گر ہے اس بات کا اندازہ ان کے چوتھے مجموعے ’وراثت ‘کے افسانوں سے ہوتا ہے ۔مگر مشکل یہ ہے کہ مذکورہ ساری باتیں شفق کے اعصاب پر اس قدر حاوی ہوگئی تھیں کہ وہ اس سے نکل نہیں پائے اور ہر افسانے میں شدت کے ساتھ وہ منڈلاتی ہوئی نظر آتی ہیں جس کی وجہ سے ان کے ابتدائی تمام افسانے تقریباً ایک سی فضا کے حامل ہوگئے ہیں ،ہر چند کہ بعض کہانیاں منفرد ہیں مثلا ’اکھڑاہوا درخت ‘مہاجر ،چٹکی بھر زندگی ،نچا ہوا گلاب،واردات اور شناخت وغیرہ یا اس قبیل کی دوسری کہانیاں ۔ پھر بھی اس عہد کی بیشتر کہانیوں میں کہانی کاروں نے تشبیہی اور استعاراتی نظام کو اپنی کہانیوں میں اس طرح برتا کہ نثر پر شاعری کا گمان ہونے لگا اس طرح کے فنی اظہار اور زبان کے استعمال نے خوب افراط و تفریط پھیلائی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس عہد کا افسانہ تجریدیت اور لغویت کا شکار ہوگیا اور 1970سے تقریباً1990تک جدید کہانیوں میں یہی رنگ چھایا رہا،لیکن وقت بدلا ،زمانے بدلے ،تہذیبیں بدلیں ،افکار و نظریات بدلے،ترجیحات بد لیں، لسانی اور فنی اظہار کے طور طریقوں میں تبدیلی آئی۔جدیدیت میں جو زبان ابہام کا شکار ہو گئی تھی اور جس پر دھند کا بادل چھا گیا تھاما بعد جدیدیت میں وہ دھند کا بادل چھٹ گیااور ہر چیز صاف صاف نظر آنے لگی۔زبان ،واقعہ،کردار،معاشرہ ،ماحول،نقطہ آغاز و انجام وغیرہ دوسرے لوازمات جو کہانی سے غائب ہو گئے تھے یا جنھیں کہانی سے خارج کر دیا گیا تھاوہ دوبارہ کہانیوں میں وارد ہوئے اور کہانی پھر تجریدیت سے تجسیمیت میں داخل ہو گئی جس کا اندازہ شفق کے آخری افسانوی مجموعہ’وراثت ‘سے لگایا جا سکتا ہے۔بہر حال زندہ اور اچھی کہانی کے لئے سنجیدہ موضوع کے علاوہ شگفتہ آرٹ کی بھی ضرورت ہوتی ہے ۔شفق کی کہانیوں میں زندگی تو ہے مگر شگفتگی کی بے حد کمی ہے ۔شاید یہی وجہ ہے کہ شفق اپنے لئے صاحب ذوق قارئین کا حلقہ نہیں بنا سکے۔ان کی کہانیاں اور ان کا نام جرائدورسائل میں تو نظر آتا رہا جس کی وجہ سے ان کو کچھ شہرت بھی ملی لیکن وہ مقبولیت نصیب نہیں ہوسکی جس کے وہ مستحق تھے۔ شاید ا س کی بڑی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ ابتدائی کہانیوں میں یک رنگی اور یک آہنگی بہت زیادہ ہے، مزید یہ کہ اسلوب اور لب ولہجہ میں جو اتار چڑھاؤ ہونا چاہئے تھا وہ بالکل مفقود نظر آتا ہے۔واقعات وکرداراور مقام وفضا سب کے سب ایک ہی رنگ میں ڈوبے ہو ئے نظر آتے ہیں ۔بقول وارث علوی:
’’شفق کے ابتدئی افسانوں کا یعنی’’ وراثت‘‘سے قبل کے تین مجموعوں کا سب سے بڑا عیب یک رنگی اور یک آہنگی ہے جو لگ بھگ تمام جدید افسانوں میں یکساں طور پر پایا جاتا ہے تمام افسانے پڑھ کر یہی لگتا ہے کہ ایک ہی افسانہ پڑھا ہے اور وہ بھی افسانہ کہاں تھا۔ کسی افسانے پر بطورافسانے کے گفتگو کرنا محال ہے شاید اسی لئے جدید افسانے کے حامیوں اور شفق کے نام کی مالا پھیرنے والوں نے بھی ان پر خامہ فرمائی نہیں کی کہ ’’خامہ انگشت بدنداں ہے کہ اسے کیا کہئیے۔‘‘نام کی مالا پھیرنے میں ہی عافیت نظر آئی۔‘‘ ص:۹۶(گنجفہ باز خیال ،از وارث علوی)
وارث علوی کی یہ بات صد فی صد تو نہیں مگر بہت حد تک درست معلوم ہوتی ہے کیونکہ ان کے ابتدائی افسانوں میں کہانی پن کا فقدان ،کردار وواقعات سبھی کا فقدان نظر آتا ہے اور اس میں بکھرے ہوئے بے جوڑ خیالات ہیں جن کے مابین ربط وتسلسل دوردور تک نظرنہیں آتا اور کہانی ٹکڑوں میں تھوڑی بہت سمجھی جاسکتی ہے مگر اس پر بھی خوف ودہشت اور آسیب کا غلبہ نظر آتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ان کی ابتدائی کہانیاں قاری کے ہاضمہ کو بگا ڑتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ ان میں وحشت ،ظلم وبربریت،خون ،آگ ،دہشت ،اذیت ،کربناکی ،وغیرہ الفاظ خوفناک اور بھیانک مناظر پیش کرتے ہیں جس سے قاری خوفزدہ ہوجاتا ہے اور کہانی کو مزید پڑھنے کے بجائے اسے بند کرکے رکھ دیتا ہے ۔لیکن مذکورہ باتیں ان کی ساری کہانیوں میں نہیں ہیں کچھ کہانیاں ایسی بھی ہیں جن پر آسیب کا غلبہ توہے مگر کم ہے، جیسے مہاجر ،شناخت ،نچا ہوا کارڈ،نچا ہوا گلاب،نچے ہوئے ہونٹ،واردات، مہم، چٹکی بھر زندگی وغیرہ ۔شاید یہی وجہ تھی کہ ’’وراثت ‘‘سے قبل کے افسانوں پر ان کے نام کی مالا جپنے والوں نے مالا جپنے میں ہی اپنی بھلائی سمجھی اور کچھ نہیں لکھا۔ بہر کیف ان کے ابتدائی افسانوں میں خوف ودہشت کو کلیدی حیثیت حاصل ہے اور ہر افسانہ کی ابتدا خوف ودہشت پھیلانے والے جملے سے ہی ہوتی ہے اس کا اندازہ مندرجہ ذیل افسانوں کے ابتدائی اقتباس سے کیا جاسکتا ہے :
’’جھنجھلائے ہوئے ذہن کا دباؤ ہاتھ پر پڑا تو نائف دور دور تک گوشت میں اترتا چلا گیا ۔ابلتے ہوئے گندے خوف کو راستہ ملا اور وہ دھارے کے ساتھ بہہ نکلا اس نے چیخوں اور کراہوں کی پرواہ نہ کی ۔۔۔الخ (افسانوی مجموعہ،شناخت،ص:۱۷)’رات کا پرندہ کریہہ آوازمیں چیخا تھا ‘(ایضاً،ص:۷۶) ’آج بھی میرے ساتھ وہی ہوا ۔۔۔۔ایک گھر گھراتا ہوا ہوائی جہاز آیا اور میرے سر کے اوپر چکرانے لگا ۔۔۔الخ ‘(ایضاً،ص:۸۹)’شادی کے صرف تین ماہ بعد میرے دونوں شانوں میں آگ لگ گئی ‘(ایضاً،ص:۹۴)’بین دیوی اپنے دروازے پر کھڑی ہوئی بھیڑ کو دیکھ رہی تھی ۔لوگوں کے چہروں پر فکر کی پرچھائیاں ،موت کا خوف ،عدم تحفظ کا احساس اور سارے جہاں کی بے چینیاں سمٹ آئی تھیں ۔۔۔الخ (ایضاً،ص:۱۱۵)
اس طرح سے مذکورہ اقتباس کے چند ابتدائی جملوں سے مذکورہ بالا اوصاف کی وضاحت ہوتی ہے نیز یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے بیشتر افسانے آسیب زدہ ہیں اور وہ اپنے آسیبی خلل کو اپنے افسانوں میں ظاہر کرکے اپنے قاری کو بھی آسیب زدہ کردیتے ہیں۔ شاید ایسے ہی آسیب زدہ افسانوں کو پڑھ کر پروفیسر محمد حسن مرحوم کو یہ کہنا پڑا تھا کہ :
’’خدارا کوئی تو بتادے کہ دیوانہ بنادینے والی ان کتابوں اور مجموعوں کی اشاعت کے بغیر کون سی قیامت ٹوٹ جاتی ۔ایک قاری کی حیثیت سے میری اپیل ہے کہ مجھے ان ہیبت ناک (Mythical)خونریز اور کھوپڑی چٹخانے والی کہانیوں سے بچاؤ ۔۔۔۔اردو افسانے سے وہ نشاط اور کیف کہاں چلاگیا ،وہ قصہ گوئی کا ہنر کہا ں چلا گیا ،وہ لطف بیان کہاں چلاگیا ۔‘‘ (اندازے،بحوالہ عصری آگہی،۱۹۹۱ء،ص:۴۱)
اس طرح سے ۶۰ سے ۸۰ کے درمیان اردو افسانہ آسیبی خلل کا شکار نظر آتا ہے جس کی وجہ سے اردو افسانوں میں نشاط وکیف ،قصہ گوئی ،اور لطف بیان کا دور دور تک اتہ پتہ نہیں چلتا ہے اور شفق نے تو ایک افسانہ ’آسیب ‘لکھ کر اپنی آسیب زدگی کا ثبوت بھی فراہم کردیا ۔اس افسانہ میں ایک ایسے نوجوان کے آسیبی خلل یا اعصابی ہیجان کی تصویر کشی کی گئی ہے جو موجودہ معاشرے اور سماج کا حساس فرد ہے۔ اس کے اپنے کچھ ناقابل بیان مسائل ہیں جن میں جنسی مسائل بھی شامل ہیں۔اس افسانہ کا بھیا نک آسیب جو اپنے افسانے کے راوی کو کسی ایک جگہ چین کی سانس نہیں لینے دیتا۔ شادی کے بعد بچوں کے ساتھ چند یوم آسودگی کے بسر کر نے کے بعد وہ اپنے آسیب سے اس درجہ سے سر اسیمہ ہواٹھتا ہے کہ بیوی کو جنسی آسودگی بھی نہیں دے پاتا ۔وہ دفتر کا بھی کوئی کام ڈھنگ سے نہیں کرپاتا۔دفتر کے لئے گھر سے روانہ ہوتا ہے تو بھٹک کر قبرستان پہنچ جاتا ہے ۔رکشا والے کو دفتر کا پتہ بتاتا ہے تو منھ سے قبرستان کا ہی پتہ نکل جاتا ہے غرض یہ کہ اسے ہر وقت اپنے پیروں تلے زمین کھسکتی معلوم ہوتی ہے کافور میں بسے جنازے ،خون بہتے ہوئے لب،اور سیاہ فام مخلوق اس کے اعصاب پر ہرگھڑی چھائے رہتے ہیں۔ اس افسانے میں براہ راست طرز اظہار سے گریز کرتے ہوئے اسے اشارے کنائے کے پیرائے میں بیان کیا ہے ۔ اس کے علاوہ ’دلدل ‘شفق کا وہ افسانہ ہے جسکا اشاراتی نظام بہتر ہے ۔قید وبند اور زیست کی مجبوریاں اور حکمراں طبقے کے خلاف عوام کی کوششوں کو موثر ڈھنگ سے پیش کیا ہے۔ ’اکھڑا ہوا درخت ‘میں سیاسی ،معاشرتی اور اخلاقی بحران کا ماتم ہے تو ’نچا ہوا کارڈ ‘ کے بین السطور میں عالمی صورت کی منظر کشی ہوئی ہے ’مہم ‘میں داخل وخارج اور اس کے مابین پستے ہوئے انسان کی تصویر کشی دوعلامتوں کے ذریعہ کی گئی ہے، ایک علامت منحوس پرندے کی ہے اور دوسری علامت سایے کی ۔ اس کے ذریعہ عصر حاضر کے تناؤ ،آشوب عصر اور ظاہر و باطن کی نظر نہ آنے والی جنگ کا نقشہ پیش کیا گیا ہے ۔اس کے علاوہ ’کمین گاہ‘آسیب ‘’سیاہ کتا ‘اور’بادل‘وغیرہ افسانوں کے ابتدائی ااقتبا سات پڑھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان سب میں مستقبل کے صیغے کا استعمال ہوا ہے اور ایک نادیدہ زمان�ۂ مسقبل میں کسی انجانے اور ایک حدتک پر اسرار عذاب کے نزول کا ذکر کیا گیا ہے اور ذاکر کا لب ولہجہ اور طرز بیان اتنا پر اعتماد اور باوثوق ہے جیسے اسے انجانی مصیبت کے وارد ہونے کا محض گمان یا اندیشہ نہیں بلکہ یقین ہو ۔اس کی ہمہ گیر تباہی اور تاراجی سے محفوظ رہنے کے لئے وہ لوگوں کو مناسب قدم اٹھانے کی تلقین بھی کرتا ہے ۔مستقبل کا خوف اس کے سارے وجود پر حاوی نظر آتا ہے ۔لیکن ’بادل ‘فنکار کے گردونواح ملکی اور عالمی صورت حال کی ایک مخصوص اور تازہ ترین حسیت کا نمائندہ ہے اور یہ افسانہ ماحول کی نباضی کرتا ہوا ایک اجتماعی میڈیم سے گزرتا ہے ۔اس میں قیامت سے قبل رونما ہونے والی نشانیاں اور صورتحال کی عکاسی کی گئی ہے۔’شناخت ‘شفق کی سترہ کہانیوں کا افسانوی مجموعہ ہے جس میں ’شناخت‘اور ’مہاجر ‘جیسی چونکادینے والی کہانیا ں بھی شامل ہیں۔انسان کے اندر بڑھتی ہوئی حیوانیت اور اس جان لیوا خود شناسی کی کوشش اور اپنے آپ کو منوانے اور سب سے الگ اپنی شناخت قائم کرنے کی شدید خواہش ان کہانیوں میں نمایاں ہے ۔شفق کی کہانیوں پر محمد حسن مرحوم کی یہ رائے بھی ملا حظہ کرتے چلیں :
’’شفق کی کہانیوں میں لفاظی نہیں ۔۔۔کرب کا احساس ہے اور اسی کرب نے انہیں فارمولہ قسم کی کہانی کے دائرے سے آگے بڑھنے پر مجبور کیاہے احساس کا یہ کرب وہ ذاتی زندگی کے حادثوں ،مرداور عورت کے تعلقات ،خاندان کے مسئلوں سے آگے بڑھتے ہوئے فرقہ وارانہ فسادات ،تقسیم وطن کی نفسیات اور فلسطین پر گرتے ہوئے بموں تک پہونچتے ہیں اور افسانوں میں دیے ہوئے درد کی تہوں میں پیوست ہوجاتے ہیں ۔شفق نے انہیں میں اپنی شناخت پائی ہے ‘‘ (ص:۸۰۔۷۹،عصری ادب،محمد حسن،جنوری تا اپریل،۱۹۹۰ء)
شناخت ‘سے قبل کا افسانوی مجموعہ ’سگ گزیدہ ‘ہے اس میں کل نو افسانے شامل ہیں ۔اس مجموعہ میں بھی قریب قریب وہی طرز اظہار اوراسلوب بیان اختیار کیا گیا ہے جو ماقبل افسانوں میں کرچکے تھے ۔شفق کے افسانوں میں کچھ ایسے قرائن ملتے ہیں جن سے ان کے افسانوں کو سمجھا جاسکتا ہے کیونکہ انہوں نے اپنے افسانوں میں موجودہ سماج کی تہہ درتہہ پرتیں علامتوں کے پردے میں اس طرح کھولی ہیں کہ عا م انسانوں کے سامنے پورا سماج برہنہ ہوکر سامنے آجاتا ہے، بشر طیکہ ان علامتوں تک قاری کی رسائی ممکن ہو، ورنہ اس کے احساس وشعور کو جھنجھوڑنے کے بجائے اس پر پژمردگی چھا جائے گی ۔شفق کے افسانوں میں مستقبل سے خوفزدگی بہت زیادہ نمایا ں ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ خود اپنے مستقبل سے بہت زیادہ خوفزدہ تھے اور یہ کہتے تھے کہ’نہ جانے کب کس کی بھٹکی ہوئی گولی میرا مقدر بن جائے ،کوئی چنگھاڑتا ہوا ٹرک مجھے پیس دے ،یا الٹی ہوئی بس میں جل کر مرجاؤں اور میری بیوی اور بچے میری راہ دیکھتے رہ جائیں ،ابھی تو میں نے ان کے مستقبل کے لئے کچھ بھی نہیں کیا ہے ۔ (ص:۱۳،ماہنامہ سہیل ،گیا،جون ،جولائی ،۱۹۸۳ء )مگر شفق کہ کہانیوں میں مستقبل ایک موضوع یا مسئلہ بن کر بار بار نمودار ہوتا ہے، کھبی ایک بھیانک خواب بن کر ،کبھی چھٹی حس کی ہیبت ناک پیش گوئی کی صورت میں ،کبھی اعصابی دباؤ ،اور تشنج کی دلدوز چیخوں میں اور کبھی سلگتی حقیقتوں کے دم گھٹا دینے والے دھوئیں میں مجسم ہوکر ۔لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ اس زمین پر بسنے والے انسانوں کا مستقبل ہے ۔اس طرح سے ۸۰سے قبل وہ افسانے جو قاری سے اپنا رشتہ کسی طرح استوار نہ کرپائی تھیں اسے جوڑنے کے لئے کچھ حد تک بیانیہ کا سہارا لیا گیا لیکن یہ تغیر پوری طرح ۸۰ کے بعد نمایاں ہوتا ہے۔ ۹۰ کے آتے آتے جدید افسانہ کا پورا منظرنامہ ہی بدل گیا ۔چنانچہ بیسویں صدی کے آخر ی دہے میں جو افسانے تخلیق کئے گئے ان میں افسانوں کے فنی لوازم کو ملحوظ رکھا گیا اور تجریدی وعلامتی اور مبہم وپیچیدہ ہونے کے بجائے صاف وشفاف اور وحدت تاثر کی حامل کہانیاں وجود میں آنے لگیں اور پھر سے قاری اور افسانہ کے مابین جو بُعد المشرقین تھا ،وہ ختم ہو گیا ۔ اس بات کا بینّ ثبوت شفق کا چوتھا افسانوی مجموعہ ’وراثت ‘ہے جس میں ۱۶ ؍افسانے شامل ہیں ۔اس مجموعے میں شامل کم از کم ایک درجن کہانیاں ایسی ہیں جو افسانہ کے جملہ فنی لوازم پر کھری اترتی ہیں۔آغاز،وسط اور انجام کے علاوہ واقعہ نگاری ،کردارنگاری منظر نگاری ،جزئیات نگاری ،اور فضا بندی وغیرہ تمام خوبیاں جو اُن کے ابتدائی افسانوں سے غائب تھیں وہ اس مجموعہ میں اپنی تمام تر خوبیوں کے ساتھ واپس آگئی ہیں۔بقول وارث علوی:
’’حیرت اور دلچسپی کی بات یہ ہے کہ ابتدائی افسانوں کی یک رنگی سے تھکا ہوا ذہن ،جو سوچتا تھا کہ شفق میں کوئی قوت ایجاد نہیں ہے ،اسے کہانیاں سوجھتی نہیں ہیں ،وہ کہانیاں گڑھ نہیں سکتا ۔’’وراثت‘‘ کی کم از کم ایک درجن کہانیوں میں تنوع ،قوت ایجاد ،اور فنکار انہ تعمیر،اور نہایت ہی زندہ بولتی ،دھڑکٹی تصویر یں تراشتی ،حساس حاضر اتی زبان کے تجربے سے دوچار ہوتا ہے ۔۔پیروڈی ،آئرنی ،طنز ،مزاح، اسطور،تمثیل ،گویا افسانوی اظہار بیان کے جتنے بھی ہتھکنڈے فکشن یعنی دنیائے افسانہ ایجاد کئے ہیں ،شفق کو ان افسانوں میں ان کا استعمال کرنے کے مواقع میسر آئے ہیں اور انہوں نے ان کا خوب استعمال بھی کیا ہے ‘‘ (ص:۹۷،گنجفہ باز خیال ،از وارث علوی)
اس مجموعے میں شامل پہلا افسانہ ’وراثت ‘ہے جو کتاب کا نام بھی ہے۔ اس میں افسانہ نگار نے اپنی زمین، اپنے ملک، اپنے بھائیوں اور ان سے عقیدت رکھنے والوں کی جذباتی کیفیت کو بڑے موثر ڈھنگ سے بیا ن کیا ہے جو اپنی وراثتی زمین چھوڑکر مملکت خداداد کا حصہ بن گئے ہیں انہیں اپنی زمین سے، اپنی مٹی سے کتنا لگاؤ تھا چچا نعیم اور بھتیجے شارق کے سوال وجواب سے اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ایک طرف بھتیجا اپنی مٹی سے پریشان ہوکر یہ کہتا ہے کہ ہم نے آنگن اس لئے پختہ کروادیا کہ ہم مٹی سے بہت زیادہ پریشان تھے اور وراثت میں تو صرف ہمیں مٹی ہی ملی ہے ۔اس لئے اس مٹی کی اس کی نظروں میں کوئی اہمیت اور وقعت نہیں تھی کیونکہ وہ اسی میں روزمرتا اورکھپتارہا ہے مگر وہی مٹی چچا نعیم کے لئے کتنی خوش گوار تھی جس میں وہ اپنا بچپن ڈھونڈھ رہے تھے۔ اپنی مٹی سے کٹ کر رہ جانے کا غم انہیں کتنا تھا انہیں کی زبانی ملاحظہ کیجئے :
’’میرے بیٹے تم مٹی سے پریشان تھے اور میں مٹی کے لئے پریشان تھا اسی مٹی کو دیکھنے اور چھونے کے لئے اتنی دور سے چلاآیا ۔اب تم اس کی پکار کیسے سنو گے ؟ یہ میرے دل سے پوچھو کہ اس مٹی سے بچھڑکر میرے دل پر کیا بیتی ۔یہاں سے اجڑ ا تو کہیں بس ہی نہ سکا ۔مشرق کی زمین نے قبول نہ کیا تو مغرب چلاگیا مگر وہاں بھی پینتالیس برس گزر جانے پر بھی مجھے مہاجر کہا جاتا ہے اس مٹی کی یاد مجھے رلاتی اور تڑپاتی رہی میں اس مٹی کے لئے روتا رہا ہوں ۔۔۔،، (افسانوی مجموعہ ،وراثت،از شفق،ص:۱۴)
اس طرح سے آنے والا ماضی میں اپنے خوابوں کی تعبیر ڈھونڈ رہا تھا جس میں امرود کے درخت ،بڑاسا آنگن ،مٹی کے کمرے ،چھپر والا دالان تھا وہ اصل دیکھنا چاہتا تھا جواب صرف خوابوں میں ہی ممکن تھا کیونکہ وقت،حالات اور ضر ورتوں کے مطابق سب کچھ تبدیل ہوچکا تھا ۔ اس کے بھائی بھابھی اور بچے سب جینے کے لئے جدوجہد میں مصروف تھے ۔اس افسانے کے دونوں زاویہ نظر پر افسانہ نگار کی گرفت مضبوط ہے اور دونوں کا مکمل حق اداکردیا ہے ۔ وراثت کے تحفظ کا تصور جوان کے وارثین نبھا نہیں سکے اور وقت اور حالات کے تھپیڑے میں بہہ گئے، اس افسانے میں بڑی مستحکم انداز میں ابھرا ہے ۔ یہ افسانہ ایک طرح سے ان کے تہذیبی ،تمدنی اور ثقافتی زوال کی نشانیاں بھی ہیں جو آج ہمارے درمیان راہ پاگئی ہیں ۔یہ وراثت ایک طرح سے شخصی بھی ہے اور ماحولیاتی بھی ۔ماحولیاتی اس اعتبار سے ہے کہ وہ جگہ جہاں پر مسجد تعمیر کی گئی تھی اس کے آس پاس جھاڑ جھنکھار کو صاف کرکے پیڑپودے لگا دیئے گئے تھے، جس کی وجہ سے وہ جگہ جنت نشان بن گئی تھی۔ وراث علوی کے لفظوں میں افسانہ یادوں کا خوشگوار افسانہ بننے کے بجائے یادوں اور حقیقت کے ٹکراؤ کا کثیر المعانی اور کثیر الجہات افسانہ بن گیا ہے۔اسی طرح افسانہ ’خدا حافظ ‘تحفظ اور عدم تحفظ کے مابین پیروڈی ،طنز اور ڈرامائی آئرنی کی بہترین مثال ہے۔ شفق کا ایک مختصر مگر اہم افسانہ ’دوسراکفن ‘ہے جو پریم چند کے افسانے ’کفن‘کاVaritionہے ۔آج ہندوستانیوں کو آزادی ملے تقریباً ۷۰سال گزر گئے مگر دلت اور پسماندہ طبقوں کی حالت آج بھی مادھو ،گھیسو اور بدھیا سے کسی طرح کم نہیں ۔اس افسانے کا آخری اقتباس جو ڈرامائی آئرنی کی عمدہ مثال ہے ملاحظہ ہو :
’’ہاں مکھیا جی ،صرف قانون بنانے سے نہ سماجک نیائے ملے گا نہ سماجک پری ورتن ہوگا ۔ایک بھاری بھر کم آواز سنائی دی آزادی ملے پچاس برس گزر گئے مگر بچھڑے لوگوں کی حالت میں کوئی سدھار نہیں ہوا۔آج کی گھٹنا نے مجھے لر زا دیا ہے ۔آج ہماری ایک بہن اس لئے مرگئی کہ اسے دوا نہ مل سکی ،اس کے گھروالوں کے پیٹ میں نہ دانہ ہے نہ تن پر وستر۔میں پرتگیاکرتا ہوں کہ اگر آپ لوگوں نے ہمیں جن آدیش دیا تو ہم سماجک پری ورتن کو کتابوں سے نکال کر سب کے درمیان لائیں گے ۔میں اپنی پارٹی کی طرف سے ان بدنصیب لوگوں کو دس ہزار روپے دینے کا اعلان کرتا ہوں ۔زور کی تالیاں بجیں فوٹو گرافران کی اور ان کی جھوپڑی کی تصویر یں لے رہے تھے ‘‘ (افسانوی مجموعہ ،وراثت،از شفق،ص:۳۲)
اسی طرح افسانہ ’رقص شرر‘ میں ارشد اور نعیم کے ذریعہ اقلیتی فرقہ کی معاشی واقتصادی بد حالی کے علاوہ سیاسی قائدین او رپولیس کے جانبدار ا نہ رویے کی قلعی کھولی گئی ہے اور بھوک کی شدت کو ابھار کر موجودہ پسماندہ طبقے کی معاشی واقتصادی بدحالی کی جیتی جاگتی تصویر پیش کی گئی ہے ۔اس افسانے کی خوبی یہ ہے کہ واقعات وہی ہیں جو آج آئے دن رونما ہوتے رہتے ہیں ۔اور ویسے ہی بیان بھی کئے گئے ہیں ۔وارث علوی کے لفظوں میں کہانی معمولی ہے ۔واقعات روزمرہ کے ہیں اور غم کا سامان بہت ہے ۔لیکن جذبات سے گریز ،ضبط غم اور کٹھور تو نہیں لیکن محتاط معروضیت نے احساس کو اثر انگیز بنادیا ہے ۔اس کے علاوہ ایک اور افسانہ ’شہر ستم ‘ہے جس میں اپنی زمین چھوڑ کر بہا ر آکر بسنے والے بنگالی بابوگھوش کے لڑکے سنیل کے اغوا کے واقعہ کا بیان ہوا ۔اس کے درپردہ پولیس کی زیادتی ،علاقائی عصبیت اور شہر کے مافیا ڈان کمل دیو سنگھ کی حکمرانی کا ذکر ملتا ہے۔ اس افسانے کا معنی خیز انجام ہی یہ بتاتا ہے کہ اس ’شہر ستم‘کی آخر ی طاقت مافیا گروہ ہی ہے نہ کہ پولیس ،حکمراں اور عوام ۔مذکورہ بالا افسانوں کے علاوہ ایک اچھوتے تھیم کا افسانہ ’خدانخواستہ ‘عیسائیت کے پس منظر میں فرقہ وارانہ تشدد کے تھیم پر بالکل انوکھا اور منفرد افسانہ ’مہاجر پرندے ‘’پیپل وار گروپ ‘’نکسلائٹ ‘ہے جبکہ نچلے اور اوپری طبقے اور ہندو مسلم تشدد کے پس منظر میں ایک بہترین افسانہ ’کالی زمین ‘ ہے۔ وقت،حالات،سماج اور مقدروں کی تبدیلی پر ایک اچھوتا افسانہ’دیوار گریہ‘ہے اور فسادات کے پس منظر میں ایک بصیرت افروز افسانہ ’قطرۂ دریا ‘ کے علاوہ بہت سارے دیگر افسانے ہیں جن میں فکر انگیزی اور تہہ داری پائی جاتی ہے ۔زبان واسلوب میں پیچیدگی وابہام پہلے کے مقابلے بہت کم ہے مفرّس ومعرّب ہونے کے بجائے صاف وشفاف ،آسان اور غیر علامتی ہیں ۔مذکورہ بالا خصوصیات ان کی افسانوی انفرادیت کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں اور ایک نئی شناخت قائم کرتی ہیں۔
حواشی:
۱: گنجفہ باز خیال،وارث علوی،موڈرن پبلشنگ ہاؤس ،نئی دہلی،۲۰۰۷ء
۲:شناخت،شفق،سمن پبلیکیشنز،کبیر گنج ،سہسرام،بہار،۱۹۸۹ء
۳:اندازے،بحوالہ عصری آگہی،۱۹۹۱ء 
۴:عصری ادب،محمد حسن،جنوری تا اپریل،۱۹۹۰ء
۵:ماہنامہ سہیل ،گیا،جون ،جولائی،۱۹۸۳ء
۶::وراثت،شفق،ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی،۲۰۰۳ء

 مضامین دیگر 

Comment Form