کرشن چندر کی افسانہ نگاری




ارشاد آفاقی
20 Nov, 2017 | Total Views: 1787

   

کرشن چندر کا شمار اردو ادب کی اُن عبقری، ہمہ گیر اور ہمہ جہت شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی تخلیقی بصیرت اور تخیل سے فکروفن کے جہانِ دیگر روشن کرکے اردو فکشن کو نہ صرف نئے افق سے ہمکنار کرنے میں اہم اور قابلِ تعریف کردار ادا کیا ہے بلکہ انہوں نے ڈرامے، تراجم، تنقید، انشائیے، فلم سازی اور رپورتاژ سے ہمارے ادبی ذخیرے کو متمول بنانے کی خوشگوار اور مستند روایت قائم کی ہے۔ 
کرشن چندر ترقی پسند افسانہ کے ایک اہم معمار اور ستون رہے ہیں۔ وزیر آغا نے کرشن چندر کو ’’اردو افسانے کا پیش رو‘‘ کہا ۱؂ احمد ندیم قاسمی نے ’’اردو افسانے کا شہنشاہ‘‘ ۲؂ ڈاکٹر برج پریمی نے ’’اردو افسانے کی آبرو‘‘۳؂ ، جبکہ محمد علی صدیقی نے انہیں ’’عظیم افسانہ نگار‘‘ کہا ہے ۴؂۔ پریم چند کے فوراً بعد ترقی پسند تحریک کے زیر سایہ جو نسل پروان چڑھی اس میں منٹو، کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی اور عصمت چغتائی چار ایسے بڑے اور غیر معمولی نام ہیں، جنہوں نے اپنے غیر معمولی کارناموں اور تخلیقی صلاحیتوں سے نہ صرف اردو افسانہ نگاری کے ذخیرے میں اضافہ کیا بلکہ اردو ادب میں وہ کارنامے انجام دئیے جن کو کبھی فراموش نہین کیاجاسکتا۔
انہوں نے اپنا پہلا مختصر افسانہ ’’یرقان‘‘ لکھا۔ ان کایہ افسانہ 1935ء میں ’’ادبی دُنیا‘‘ میں شائع ہوا۔ اس طرح کرشن چندر نے باضابطہ طور ادبی دُنیا میں قدم رکھا اور مرتے دم تک (1977ء) لکھتے رہے۔ گویاانہوں نے مسلسل چالیس برس اپنے قلم سے موتی بکھیرے اور ایک سو سے زائد کتابوں کے مصنف ہیں۔ جن میں 35افسانوی مجموعے، 47ناول، ڈراموں کے سات مجموعے، بچوں کی گیارہ کتابیں، تین مرتب شدہ کتابیں اور دو رپورتاژ شامل ہیں۔ وہ اردو کی ادبی تاریخ میں عموماً اور افسانہ نگاری کی تاریخ میں خصوصاً مختلف مگر مستقل باب کی حیثیت رکھتے ہیں۔ بقول پروفیسر گوپی چند نارنگ:
’’ان کا نام پریم چند کے بعد پہلے تین بڑے افسانہ نگاروں میں آئے گا۔ کرشن چندر کی اہمیت اور دین سے اردو کاسنجیدہ قاری انکار نہیں کر سکتا ہے۔ اردو تنقید کے لئے کرشن چندر آج بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ اردو کی افسانوی روایت کا یہ وہ روشن نقطہ ہے جس کی تعینِ قدر کے بارے میں ابھی برسوں چھان پھٹک ہوتی رہے گی۔‘‘ ۵؂
کرشن چندر کے افسانوی مجموعے ’’طلسم خیال‘‘ 1939ء، نظارے، گھونگھٹ میں گوری جلے 1940ء، زندگی کے موڑ پر، نئے افسانے 1943ء، پرانے خدا، ان داتا 1944ء، نغمے کی موت 1945ء، ہم وحشی ہیں، ٹوٹے ہوئے تارے 1947ء، تین غنڈے، اجنتا سے آگے، ایک گرجا ایک خندق، سمندر دور ہے1948ء، کشمیر کی کہانیاں 1949ء، شکست کے بعد 1951ء، نئے غلام، میں انتظار کروں گا 1953ء، مزاحیہ افسانے 1954ء، ایک روپیہ ایک پھول، یوکلپٹس کی ڈالی، ہائیڈروجن بم کے بعد 1955ء، کتاب کا کفن 1956ء، دل کسی کا دوت نہیں 1959ء، کرشن چندر کے افسانے، مسکرانے والیاں 1960ء، سپنوں کا قیدی، مس نینی تال1964ء، دسواں پل، گلشن گلشن ڈھونڈا تجھ کو 1967ء، آدھے گھنٹے کا خدا 1969ء، اور الجھی لڑکی کالے بال 1970ء، میں منظرِ عام پرآئے۔ ان کے بعد کانچ کے ٹکڑے، کبوتر کا خط اور محبت کی رات کے نام سے یکے بعد دیگرے افسانوی مجموعے شائع ہوئے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کرشن چندر نے بہت لکھا اور خوب لکھا۔ اس کے باوجود وہ نہ اپنے آپ کو دہراتے ہیں اور نہ ہی ان کے یہاں موضوعات اور مواد کی کمی محسوس ہوتی ہے بلکہ ان کے یہاں موضوع و کردار کا تنوع اور فن و تکنیک کے نت نئے تجربے ملتے ہیں۔ اس حوالے سے وزیر آغا لکھتے ہیں:
’’کرشن چندر نے افسانے کو ایک نیا لہجہ اور نیا مزاج عطا کیا۔۔۔۔ اس نے افسانے کو ایک نئی ہیئت دی اور اپنے ماحول کی عکاسی ایک ایسے نئے زاوئیے سے کی کہ بعد ازاں متعدد افسانہ نگاروں نے کرشن چندر کے چراغ ہی سے اپنے چراغ جلائے اور اسی کی دکھائی ہوئی راہوں پر تادیر مصروفِ سفر رہے‘‘۔ ۶؂
کرشن چندر کوافسانہ نگاری کے فن میں زبردست مہارت حاصل ہے۔ان کے ابتدائی افسانوی مجموعہ ’’طلسم خیال‘‘ کامطالعہ کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے پریم چند کی حقیقت نگاری کے بجائے سجاد حیدر یلدرم کے رومانوی مزاج سے اپنا رشتہ جوڑا ہے۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ کرشن چندر طبعاً رومانی فنکار تھے۔ اس دور کے افسانے پر رومانوی اسکول کے اثرات باقی تھے۔ انہوں نے کشمیر کی حسین وادی میں آنکھ کھولی تھی یا افسانوی فضا اور ماحول کے لئے انہیں کشمیر کی سرزمین مل گئی۔ ان تمام چیزوں کا اثر اُن کے دل و دماغ پر ایسا چھایا تاکہ وہ پہلو بدل بدل کے افسانوں میں جلوہ گر ہوتا ہے۔ خود کرشن چندر کا دعویٰ ہے کہ ’’میں حقیقت پسندی کو اختیار کرتے ہوئے ہمیشہ تھوڑا سا رومان پسند بھی رہا۔ خوبصورتی اور شاعری کا دامن مکمل طور پر کبھی نہ چھوڑ سکا۔‘‘ ۲؂ لیکن اس رومانیت کو پیش کرتے ہوئے وہ رومانی افسانہ نگاروں کی طرح زندگی اور اس کے تلخ حقائق سے راہِ فرار اختیار نہیں کرتے اور نہ ہی سستی جذباتیت کا شکار ہوئے بلکہ زندگی کی تلخ حقیقتوں کا سامنا کرتے ہیں اور انہیں بدلنے کا خواب بھی دیکھتے ہیں۔ ان کے ابتدائی افسانوی مجموعہ ’’طلسمِ خیال‘‘ کاجائزہ لیتے ہوئے خلیل الرحمان اعظمی اپنی تصنیف ’’اردو میں ترقی پسند ادبی تحریک‘‘ میں رقمطراز ہیں:
’’ان کا پہلا مجموعہ ’’طلسمِ خیال‘‘ ان کے رومانوی مزاج کا نقشِ اولین ہے۔ لیکن کرشن چندر کی رومانیت زندگی سے فرار، موت کی آرزو، خیالی دنیا میں پناہ گزینی کی تلقین نہیں کرتی بلکہ زندگی کو بدل دینے کی ایک بیتابی کانام ہے۔ سماج کی تلخ حقیقتوں کو کرشن چندر نے خوبصورت مناظر، لہلہاتے ہوئے مرغزار اور گیت گاتے ہوئے آبشاروں کے گرد بھی محسوس کیا ہے۔‘‘ ۸؂ 
کرشن چندر کے ابتدائی افسانے ’’آنگی‘‘، ’’تالاب کی حسینہ‘‘، ’’مصور کی محبت‘‘ اور ’’اندھا چھترپتی‘‘ وغیرہ خصوصاً رومان کی خوشبو سے مہکے ہوئے ہیں۔ ان میں خاص طور پر ’’آنگی‘‘ قابلِ ذکر ہے۔ اس افسانے میں ایک نوجوان شہری بابو آنگی کی معصومیت، سادگی اور حسن کا ناجائز فائدہ اٹھا کر ایک دن خاموشی سے آنگی اور اس کے پیار کو ٹھکرا کر شہر واپس ہوکر وہاں کے ہنگاموں میں کھوجاتا ہے اور آنگی بیچاری کے مقدر میں آہوں کے سوا اور کچھ نہیں رہتا۔ اس افسانے میں افسانہ نگار نے آنگی کی مجبوری اور بے بسی کی تصویر بڑے فنکارانہ انداز سے کی ہے اور مقامی رنگ اور ماحول کو نہایت خوبصورت انداز سے ابھارا ہے۔ کرشن چندر کے اس دور کے دوسرے افسانوں ’’صرف ایک آنہ‘‘، ’’مجھے کتے نے کاٹا‘‘ اور ’’قبر‘‘ میں رومانی فضا برقرار ہے لیکن سماجی سائل اور زندگی کی حقیقت نگاری کے ہلکے ہلکے نقوش بھی جابجا ملتے ہیں جو بعد میں گہرے اور پختہ ہوجاتے ہیں۔ گویا رومانیت کے راستے سے گزر کر ہی کرشن چندر حقیقت نگاری کی منزل تک پہنچے۔ آخر کار حقیقت نگاری رومانیت پر غالب آگئی۔ اس طرح رومان پرست کرشن چندر حقیقت پسند بن گیا۔ اس سلسلے میں وقار عظیم لکھتے ہیں:
’’کرشن چندر نے اپنے فنی سفر کا آغاز طلسمِ خیال میں ایک شدید قسم کے جذباتی رومان پرست کی طرح کیا ہے۔۔۔۔ سفر کے اس آغاز میں دل کی دنیا اس کی منزل ہے۔ لیکن جوں جوں ماحول بدلتا ہے، زندگی کی تلخیاں اُسے اپنا ہم نوا بناتی رہتی ہیں اور وہ آہستہ آہستہ رومان کی منزلوں سے گزر کر زندگی کی پیکار سے دوچار ہوتا ہے۔ سفر کی دوسری منزل میں (نظارے کے افسانوں میں) رومان کی جنت اور حقیقت کی جہنم ایک دوسرے سے متصادم اور برسرِپیکار نظر آتے ہیں اور پھر ’ٹوٹے ہوئے تارے‘ میں یہ دونوں تصور ایک دوسرے سے ہم آہنگ نظر آنے لگے ہیں۔ یہاں تک کہ ’ان داتا‘ میں حقائق کا سوز رومانیت کے گل و نسترن کو خاک سیاہ کرتا دکھائی دیتا ہے۔ جہنم نے جنت کو اپنے اندر جذب کرلیا ہے رومان پرست کرشن چندر حقیقت پسندانہ اور تلخ نگار انقلابی بن گیا ہے۔‘‘ ۹؂
کرشن چندر کے رومانی افسانے دوسرے رومانی افسانہ نگاروں سے اس لئے مختلف ہیں کیونکہ وہ ان افسانوں میں بھی زندگی کے روزمرہ کے عمل، حقائق اور سماجی عنصر کی تلاش کر لیتے ہیں۔ اس کی مثال ’’زندگی کے موڑ پر‘‘ اور ’’بالکونی‘‘ میں عیاں ہے۔ گویا کرشن چندر کے رومانی افسانوں کی دنیا وہ دنیا نہیں۔ محمد حسن عسکری نے تحریر کیا ہے کہ :۔
’’اب رہی وہ رومانیت جسے عام طور پر کرشن چندر سے منسوب کیا جاتا ہے اور اس کے وہ افسانے جنہیں رومانی کہا جاتا ہے، تھوڑی دیر کے لئے اگر یہ فرض بھی کر لیا جائے کہ یہ افسانے رومانی ہیں، تب بھی کرشن چندر کی رومانیت اوروں سے مختلف ہے۔ وہ رومان کی تلاش میں بھاگ کر مال دیپ نہیں جاتا بلکہ یہ تلاش کرتا ہے کہ روزمرہ کی زندگی میں رومان کے امکانات ہیں یا نہیں۔ درحقیقت یہ افسانے رومانی نہیں ہیں بلکہ رومان کے چہرے پر سے نقاب اٹھاتے ہیں جو ہمارے افسانہ نگاروں نے ڈال رکھے ہیں۔‘‘ ۱۰؂
کرشن چندر روشِ عام پر چلے نہ اپنے پیش روؤں کی تقلید کی بلکہ اپنی ایک علاحدہ راہ اختیار کی۔ انہوں نے موضوع، ہیئت اور اسلوب کی سطح پر اردو افسانے میں بیش بہا اضافے کئے ہیں۔ سید احتشام حسین لکھتے ہیں
’’تکنیک اُن کے ہاتھوں میں گیلی مٹی کی طرح ہے جسے وہ اپنے غیر معمولی فن اور ادراک کی مدد سے حسین سانچوں میں ڈھال سکتے ہیں‘‘۔ ۱۱؂
پلاٹ کی سطح پر ان کے تجربات خاص اہمیت رکھتے ہیں بعض افسانے پلاٹ کی باقاعدگی سے آزاد ہیں۔ ان میں ’’غالیچہ‘‘، ’’دوفرلانگ لمبی سڑک‘‘، ’’ایک گرجا ایک خندق‘‘ خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔ یہ افسانے موضوع، مواد، ساخت اور تکنیک کی جدت کے لحاظ سے منفرد اور تاثر سے بھرپور ہیں۔ ’’غالیچہ‘‘ اور ’’دوفرلانگ لمبی سڑک‘‘ ایسے افسانے ہیں جو نہ صرف پلاٹ کی قید سے آزاد ہیں بلکہ ان میں داخلی، تخلیقی اور غیر وضاحتی طرزِ اظہار کی مثالیں ملتی ہیں اور دونوں افسانوں میں علامتی اور تمثیلی انداز اختیار کیا ہے۔ خاص کر ’’دوفرلانگ لمبی سڑک‘‘ میں اشاروں، کنایوں اور تمثیلات کے ذریعے زندگی کی بڑی بڑی اور تلخ حقیقتوں کو بے نقاب کیا ہے۔ اس افسانے میں کچیریوں سے لاکالج تک دوفرلانگ لمبی سڑک پر ہونے والے مختلف واقعات کی ترتیب اس طور پر دی گئی ہے کہ افسانے کا مجموعی تاثر تحیّرخیز معلوم ہوتا ہے۔ اسی دور میں کرشن چندر نے ’’زندگی کے موڑ پر‘‘ کے عنوان سے اردو ادب کو ایک ایسا بہترین افسانہ بھی دیا جو فکشن کی تاریخ میں کبھی بھلایا نہ جاسکے گا اور مکرر پڑھے جانے کے باوجود قارئین کو دوبارہ پڑھنے کے لئے مجبور کرتا ہے۔ اس افسانے کے خاتمہ کے بارے میں تمام ناقدین رطب اللسان ہیں کہ ایسا عظیم الشان انجام اردو کے کسی افسانے کو نصیب نہیں ہوا۔ محمد حسن عسکری جیسے سخت گیر نقاد تسلیم کرتے ہوئے لکھتے ہیں ’’زندگی کے موڑ پر‘‘ کا سا عظیم الشان خاتمہ تو آج تک کسی اردو افسانے کو نصیب نہیں ہوا:۔ 
’’پرکاش چند صبح کے وقت نہانے جاتا ہے اور رہٹ کی روں روں سنتا ہے۔ ’’اس بے مطلب اور بے معنی صدا میں اسے ایک نامعلوم سی سُرعت محسوس ہونے لگی۔ اور وہ آنکھیں بند کرکے نہاتا گیا اور اسے سنتا گیا۔۔۔۔ روں۔۔۔ روں۔۔۔ روں۔۔۔ بے مطلب، بے معنی۔۔۔۔ منبع نامعلوم۔۔۔۔ منزل ناپید۔۔۔۔ اب وہ آنکھیں بند کئے ہوئے بھی بیلوں کے پیچھے بیٹھے ہوئے اس کسان کو دیکھ رہا تھا جو کھلونے کی طرح معلوم ہورہا تھا۔اور جو بیل جو رہٹ کے محور کے گرد گھومتے جاتے تھے۔۔۔۔ روں۔۔۔۔ روں۔۔۔۔ روں۔۔۔‘‘ ۱۲؂
کرشن چندر نے اسی زمانے میں ’’اَن داتا‘‘ کے نام سے ایک اہم افسانہ لکھا ہے۔ اس افسانے کا موضوع قحطِ بنگال ہے۔ قحط اور اس سے پیدا شدہ ہولناک صورتِ حال کو افسانے میں بڑی کامیابی سے پیش کرنے کے لئے کرشن چندر نے سہ العبادی تکنیک کا استعمال کیا ہے۔ اس طرح افسانہ تین حصوں میں منقسم ہے۔ پہلا حصہ خطوط پر، دوسرا مکالمہ پر اور آخر خود کلامی پر مشتمل ہے۔ اس موضوع پر لکھے جانے والے تمام افسانوں میں یہ افسانہ ہیئت اور تکنیک کے لحاظ سے منفرد بھی ہے اور ممتاز بھی۔ اس میں انہوں نے حکام، امیروں اور تاجروں پر طنز کے تیر برسائے۔ کیونکہ حکام کی نظر میں قحط بنگال غیر اہم واقعہ ہے، امیروں کے دسترخواں اسی طرح سجے ہوئے ہیں اور تاجر قحط سے خوب فائدہ اٹھا کر دولت جمع کر رہے ہیں۔ صرف عام لوگ اس بھوک یا قحط میں تڑپ تڑپ کر دم توڑ رہے ہیں۔ اس المناک واقعہ میں حالات کی چکی میں یہی نچلا طبقہ پس کر ختم ہوجاتا ہے۔ اس افسانے پر ’’دھرتی کے لال‘‘ کے نام سے ایک معروف فلم بھی بنائی تھی۔
کرشن چندر کے افسانوں میں ’’کالو بھنگی‘‘ موضوع اور تکنیک کے اعتبار سے بالکل مختلف ہے۔ اس افسانے کا مرکزی کردار ایک معمولی شخص بھنگی ہے۔ اس افسانے کے ذریعے افسانہ نگار نے سماجی نابرابری، اونچ نیچ اور ذات پات پر شدید طنز کیا ہے۔ جبکہ ’’تائی ایسری‘‘ محبت کا سمبل (Symbol)ہے کیونکہ اسے انسانوں سے اتنی ہی محبت ہے جتنی بھگوان سے عقیدت ہوتی ہے۔ جس کا عملی ثبوت وہ اپنی وفا شعاری اور ایثار سے دیتی ہے۔ کالو بھنگی اور تائی ایسری کے کردار تاریکی میں روشنی کی علامت بن کرابھرتے ہیں اور ناموافق حالات کی آندھی بھی اس روشنی کی حفاظت کرتے ہیں۔ یہ اور اس قبیل کے دیگرے افسانوں (موبی، بھگت رام،کچرا بابا) میں کردار نگاری کے اعلیٰ اور کامیاب نمونے ملتے ہیں جنہیں آسانی سے بھلایا نہیں جاسکتا۔
کرشن چندر ترقی پسند تحریک سے وابستہ ہوکر عام انسان کے حقوق کی بات کرتے رہے اور اس تحریک کے زیر اثر ہندوستان کی جہالت، توہم پرستی، فرقہ واریت، انسانی رشتوں کی نوعیت، معاشی مسائل، عدم مساوات اور دوسری تمام سماجی مسائل پر اور بُرائیوں کے خلاف مختلف نوعیت کے افسانے لکھتے رہے۔ انہوں نے اپنے افسانے میں سماج کے مختلف طبقات کی زندگی کو موضوع بنایا اور سماج کے ہر طبقے، ہر مذہب اور ہر خطے کے دبے کچلے اشخاص کو اپنی مخصوص و منفرد خوبیوں کے ساتھ اپنے افسانے کا ہیرو بنایا۔ اس سلسلے میں جن افسانوں کو بنیادی حوالے کے طور پر پڑھا جاسکتا ہے، ان میں ’’اجتنا سے آگے‘‘، ’’پہلی اڑان‘‘، ’’شیطان کا استعفیٰ‘‘ اور ’’ٹیڑھی میڑھی بیل‘‘ شامل ہیں۔ ان افسانوں میں غریب عوام، ان کی غربت، جاگیردارانہ نظام، اس نظام میں رائج مظالم اور استحصال کو موضوع بنایا ہے۔ دراصل کرشن چندر نے ساری زندگی انسانی سماج اور تہذیب و ثقافت سے اپنا رشتہ قائم رکھا اور اپنے ادب کو سارے جہاں کے درد و غم کے اظہار کا وسیلہ بنانے کی کوشش کی۔ بقول محمد حسن عسکری:
’’کرشن چندر کا افسانہ ایک ذاتی اور بلا واسطہ تاثر ہوتا ہے۔۔۔۔ اسے زندگی سے محبت ہے۔ لامحدود اور بے اندازہ محبت۔۔۔۔ اس کے دل میں درد ہے اور آنکھوں میں بصیرت اور زندگی کی وسعتیں اس کے سامنے پھیلی ہوئی ہیں۔ اس کے دل میں سارے جہاں کا درد ہے، جو نغمے کی شکل میں پھوٹ پڑنے کے لئے بے قرار ہے۔ اس کا راگ ایک محدود طبقے یا گروہ کا رونا گانا نہیں بلکہ اس کی آواز ایک پوری دنیا کی، انسانیت کی ترجمان ہے۔‘‘ ۱۳؂
کرشن چندر نے ہندوستان کی تقسیم کے موقعہ پر ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کو بنیاد بناکر بھی کئی افسانے لکھے ہیں جن میں ’’ہم وحشی ہیں‘‘، ’’پیشاور ایکسپریس‘‘، ’’اندھے‘‘، ’’امرتسر‘‘، ’’جیکسن‘‘ اور ’’لال باغ‘‘ وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔ ان افسانوں میں کرشن چندر نے سیاسی بُرائیوں سے پیدا شدہ صورتِ حال پر ضرب کرتے ہوئے انسانی رشتوں اور جذبات کو اہمیت دی ہے۔ ’’ہم وحشی ہیں‘‘ میں ایک بلند انسانی مقصد پایا جاتا ہے جبکہ ’’پشاور ایکسپریس‘‘ میں ایک بے جان چیز (ریل گاڑی افسانے کی مرکزی کردار) کے ذریعے پوری کہانی بیان کی گئی ہے۔ افسانہ نگار نے بڑے جذباتی انداز میں ریل گاڑی کے ذریعے اس وقت کے حالات و واقعات کی بھرپور عکاسی کی ہے۔ اس افسانے میں ہر اسٹیشن پر جو شرمناک اور انسانیت سوز واقعے مخصوص فرقوں اور مظلوموں کے ساتھ پیش آتے ہیں ان کو دیکھ کر ریل گاڑی بھی شرماتی ہے۔ دراصل یہ افسانے انسانیت کی حق میں آواز اٹھانے کا کام انجام دیتے ہیں۔ یوں تو کرشن چندر انسانوں کی تفریق کے سخت مخالف تھے اور ان کی تخلیقات میں انسانیت سوز واقعات کا ردِ عمل جابجا موجود ہے۔ ان کے بارے میں شاید یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ فنکار کی کوئی سرحدیں نہیں ہوتی۔
کرشن چندر کے مذکورہ افسانوں کے علاوہ ’’برہم پترا‘‘، ’’مہالکشمی کا پل‘‘، ’’پھول سرخ ہیں‘‘، ’’مرنے والے ساتھی کی مسکراہٹ‘‘ اور ’’بت جاگتے ہیں‘‘ وغیرہ مختلف حالات و واقعات اور صورتِ حال کو مدنظر رکھ کر لکھے تھے۔ دراصل کرشن چندر کے پاس موضوعات کا تنوع ہے۔ انہوں نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر واقع ہوئے بیشتر مظالم کے خلاف جہاد کیا ہے۔ ان کے یہاں رومانیت ہو یا اشتراکیت، امن ہو یا جنگ، سماجی مسائل ہو یا کلچر کی بقا، بہتر زندگی کے لئے جدوجہد ہویا زندگی کے تلخ حقائق، تقسیم ملک ہویا فسادات، کوریا کی جنگ ہو یا چین کی جارحیت، کالوبھنگی کی لاش ہویا بنگال کا قحط، کشمیر کے حسین نظارے ہوں یا خوبصورت لڑکیوں کی اُداس آنکھیں، لہلہاتے ہوئے مرغزار ہو یا گیت گاتے ہوئے آبشار، دیہات کی معصوم فضا ہو یا شہر کے ہنگامے، حسن و عشق کی باریکیاں ہوں ہو یا نفسیات، بھوک کی شدت ہو یا افلاس، سیاسی بحران ہو یا اقتصادی پسماندگی اور طبقاتی جنگ ہو یا فرقہ واریت، شاید یہی کوئی ایسا اہم پہلو رہا ہو جو ان کے تجربہ کی زد میں نہ آیا ہو اور جس پر ان کا قلم نہ چلاہو۔ اس لئے ہم آسانی سے یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ کرشن چندر کے یہاں کردار اور موضوعات کا تنوع، ہیئت اور تکنیک کے نئے تجربے، اسلوب کی دلکشہ و دلنشینی بدرجہ اُتم ملتی ہے جو کسی دوسرے افسانہ نگار کا مقدر نہ بنا۔ بقول ڈاکٹر برج پریمی:
’’کرشن چندر نے اردو افسانوی ادب کو موضوعات کا تنوع، تکنیک کی رنگارنگی، اسلوب کا حسن، طنز کے کٹیلے تیر، مزاج کی چاشنی، طبقہ داری کش مکش کا صحیح شعور، حقیقت نگاری کا احساس، زبان کی تازہ کاری، بیان کی شگفتگی اور ندرت، انسانی سماج کی کج روی، علامت نگاری کی خوب صورتی عطا کی۔ کرشن چندر اردو افسانے کی آبرو ہیں اور ان کے قدوقامت کے فن کار عالمی ادب کے ذخیرے میں بہت کم نظر آتے ہیں۔‘‘ ۱۴؂
کرشن چندر کا مشاہدہ اور مطالعہ گہرا تھا، فن کے لوازمات پر ان کی پکڑ مضبوط تھی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ان کے پاس ایسا شگفتہ، جان دار اور دلربا اسلوب تھا جو قاری کو آغاز میں ہی اپنے قبضے میں لے لیتا ہے اور افسانہ کے آخر تک اس سے باہر نکلنے کا موقع نہیں دیتا۔ انہیں زبان و بیان پر مکمل عبور تھا اور وہ لفظوں کے جادوگر تھے اور اس جادو سے انہوں نے افسانوں میں وہ تاثیر اور مٹھاس پیدا کی جو ہر فنکار کے حصے میں نہیں آیا۔ یہی دلربا انداز بیان ان کے اکثر افسانوں کی دیگر خامیوں پر پردہ ڈال دیتا ہے۔ ’’ان کے اسلوب میں لچک اور توانائی، دل کشی اور گہرائی کے ایسے پہلو ہیں جنہیں انفرادیت سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔‘‘ ۱۵؂ ۔ ’’کرشن چندر میں اظہار کی بے پناہ صلاحیت تھی۔ لہٰذا انہوں نے اپنی تمام تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر اپنے اسلوب میں شگفتگی، تازگی اور انفرادیت پیدا کر دی، بے شمار تجربات کی روشنی میں فن کی صحیح راہوں کا تعین کرنے میں انہیں دقت نہیں ہوئی۔ یہ اسلوبِ بیان اُن کے افسانوں کی اکثر خامیوں پر پردہ ڈال دیتا ہے اور یہی فنکار کا کمال ہے۔‘‘ ۱۶؂ جبکہ وقار عظیم اس حوالے سے لکھتے ہیں:
’’کرشن چندر کی تحریروں کی سب سے زیادہ خصوصیت اُن کا کبھی نہ تھکنے اور تھکانے والا انداز ہے۔ ان کے پاس ہر بات کے کہنے کا ایک ایسا طریقہ ہے جو سیدھا دل میں اترا کرتا ہے۔‘‘ ۱۷؂
کرشن چندر کے طرزِ تحریر کا نمایاں وصف طنزیہ و مزاحیہ اندازِ بیان بھی ہے۔ وہ اپنے زمانہ کے نباض تھے اس لئے انہوں نے سماج کے تقریباً تمام پہلوؤں اور گوشوں میں پائی جانے والی کجرویوں اور بے اعتدالیوں کی تصویریں پیش کرنے میں واعظ یا مبلغ کا انداز اختیار کرنے کے بجائے طنز و مزاح سے کام لیا ہے۔ لیکن ان کے طنز کے پیچھے گہری ہمدردی اور اصلاح کا جذبہ چھپاہوا ہے۔
کرشن چندر کے بعض افسانوں میں منظر نگاری کے بیش قیمت نمونے ملتے ہیں۔ لیکن جب مناظر کی تصویر کشی اور فطرت کی مرقع نگاری میں حد سے زیادہ تفصیلات بیان کی جاتی ہیں، تب فنِ افسانہ نگاری پران کا یہ اندازِ بیان یا اسلوب کبھی کبھی بوجھ بن جاتا ہے اور افسانے کی روح مجروح ہوتی ہے۔ کرشن چندر نے زبان کے دوسرے وسائل یعنی تشبیہات و استعارات اور اشاریت کو بڑے فنکارانہ انداز میں استعمال کرکے اپنے افسانوں کے حسن کو دوبالا کیا۔ لیکن حد سے تجاوز کرتی ہوئی جزئیات نگاری ان کے اسلوب کا عیب بن جاتی ہے۔ ان کے اسلوبِ نگارش کا جائزہ پیش کرتے ہوئے خلیل الرحمان اعظمی لکھتے ہیں:
’’کرشن چندر کے اسلوبِ نگارش میں غیر معمولی دلکشی ہے۔ وہ افسانہ نگار ہی نہیں، انشا پرداز بھی ہیں۔ ان کی اس خصوصیت نے انہیں مقبول بنایا اور ان کے افسانوں کو بڑی منزلت نصیب ہوئی۔ لیکن اندازِ زبیان کی یہی قدرت غالباً ان کے لئے آگے چل کر عیب بھی بن گئی۔ کچھ تو اپنے رومانی اور شاعرانہ مزاج اور ضبط کی کمی کی وجہ سے اور کچھ اس وجہ سے کہ وہ ہر موضوع پر کم سے کم وقت میں بڑے خوبصورت افسانے تیار کر سکتے ہیں۔‘‘ ۱۸؂
یہ بالکل درست ہے کہ کرشن چندر کو عجلت پسندی اور زود نویسی سے نقصان پہنچا، کیونکہ وہ صرف ایک ہی نشست میں کہانی لکھتے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ کہانی لکھنا میرے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ اس سے بڑھ کر انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ ’’میرا ذہن کہانیوں کی فیکٹری ہے اور میں کہانی کا مزدور ہوں۔‘‘ ۱۹؂ یہی وجہ ہے کہ ان کے فن میں وہ خامیاں در آئیں جن کا اوپر ذکر ہوا ہے۔
جیسا کہ ابتداء میں ذکر کیا گیا ہے کہ کرشن چندر نے زمانہ طالب علمی سے ہی لکھنا شروع کیا اور باقاعدہ طور پر 1935ء سے افسانے لکھے، 1937ء میں ڈراما اور انشائیے، 1938ء میں ترجمہ اور 1943ء میں ناول، تنقید، فلم سازی اور رپورتاژ بھی لکھے۔ گویا انہیں ادب کے ساتھ سچا کمیٹ مینٹ(Commitment)تھا۔ انہوں نے لکھنا شروع کیا تو متواتر و مسلسل لکھتے رہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ وہ مسلسل لکھتے رہے اور جب ان کا انتقال ہوا تب بھی وہ بیٹھ کر ایک مضمون لکھ رہے تھے۔ جس کا عنوان تھا ’’ادب برائے بطخ‘‘۔ لیکن ابھی اس مضمون کا ابتدائی جملہ بھی مکمل نہ ہوا، کہ ان پر دل کا زبردست دورہ پڑا اور وہ اس دارِ فانی سے ہمیشہ کے لئے رخصت ہوئے۔ کرشن چندر نے چالیس برس سے زائد بِلاتکان لکھا لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ناقدین نے جتنا زورِ قلم اُس دور کے دیگر افسانہ نگاروں پر لگایا ہے کرشن چندر کے حصے میں اس کا عشرِ عَشیر بھی نہیں آیا۔ ظ۔انصاری لکھتے ہیں
’’کرشن چندر کے فن اور ان کے افسانوی ادب پر بہت کم لکھا گیا ہے، نہ لکھے جانے کے برابر۔‘‘ ۲۰؂ 
اس کی شاید یہ وجہ ہے کہ انہیں پرولتاری نقادوں نے کبھی اپنی صف میں شامل نہیں کیا بلکہ اُن پر رومان پسند ہونے کا ٹھپا لگاتے رہے جبکہ رومانوی نقاد انہیں بائیں بازو کا پروپگینڈا فنکار کہتے تھے۔ نتیجہ یہی نکلا کہ ان کے فن اور شخصیت کے بیشتر گوشے اور پہلو ہنوز تحقیق طلب ہے۔
اردو کے ترقی پسند افسانہ نگاروں میں کرشن چندر جیسا زود نویس اور مجتہدد افسانہ نگار کوئی دوسرا نہیں۔ انہوں نے اپنی ادبی زندگی کے ابتدائی آٹھ سال میں تقریباً آٹھ اصناف پر طبع آزمائی کی اور اکثر حالات (1955ء کے بعد) سے مجبور ہوکر کمرشل(Commercial)ادب بھی پیش کیا ہے۔ جس سے انہیں معاشی اور اقتصادی تنگی دور ہوئی، لیکن ان کی بنیاد اور شہرت متاثر ہونے لگی۔ دوسرا سبب اُن کی فلموں سے وابستگی تھا۔ حالانکہ وہ فلموں میں کوئی خاص کارنامہ نہ دکھاسکے۔ ان چیزوں نے اُن کی توجہ عموماً ادب سے اور خصوصاً افسانے کے فن کی طرف سے ہٹا دی۔ اس کا اثر اُن کے فنی معیار پر پڑا بقول خلیل الرحمٰن اعظمی:
’’کرشن چندر نے بے شمار افسانے لکھے ہیں۔۔۔ لیکن ۴۷ء کے بعد ان کی افسانہ نگاری آہستہ آہستہ زوال کی طرف بڑھتی گئی اور اس دور میں ان کے قلم سے ’’زندگی کے موڑ پر‘‘ یا ’’اَن داتا‘‘ کے معیار کی کوئی کہانی نہ آسکی۔ پھر بھی کرشن چندر نے مجموعی طور پر اردو افسانہ نگاری میں جو تنوع پیدا کیا ہے اور ہمارے ادبی ذخیرے میں جن بلند پایہ اور معیاری افسانوں کا اضافہ کیا ہے ان کی اہمیت کا اعتراف ہر زمانے میں کیا جائے گا۔‘‘ ۲۱؂
بحیثیت مجموعی کرشن چندر نے فکشن کی دُنیا کو ایسے آباد کیا کہ رہتی دُنیا تک ان کا نام ادبی دُنیا میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ شاید یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ کرشن چندر کا ذکر کئے بغیر اردو افسانہ پر کوئی تقریر، کوئی لکچر، کوئی سمینار، کوئی کتاب اور کوئی انتخاب نامکمل ہے۔ 
۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔

حواشی حوالات:
ا؂ وزیر آغا، کرشن چندر کے افسانے، مشمولہ کرشن چندر اور اُن کے افسانے مرتبہ ڈاکٹر اطہر پرویز، مطبوعہ 1996ء، ص: ۱۰۸۔
۲؂ بحوالہ ڈاکٹر برج پریمی: حرفِ جستجو، مطبوعہ 1982ء، ص: ۱۴۳
۳؂ بحوالہ ڈاکٹر برج پریمی: حرفِ جستجو، مطبوعہ 1982ء، ص: ۱۵۶
۴؂ محمد علی صدیقی: کرشن چندر اردو افسانہ کا ایک اہم باب، مشمولہ کرشن چندر اردو اُن کے افسانے مرتبہ ڈاکٹر اطہر پرویز، مطبوعہ 1996ء، ص: ۹۵۔
۵؂ گوپی چند نارنگ: پیش لفظ، مشمولہ کرشن چندر اور اُن کے افسانے مرتبہ ڈاکٹر اطہر پرویز مطبوعہ 1996ء، ص: ۵۔
۶؂ وزیر آغا: کرشن چندر کے افسانے مشمولہ کرشن چندر اور اُن کے افسانے مرتبہ ڈاکٹر اطہر پرویز، مطبوعہ 1996ء، ص: ۱۰۸۔
۷؂ بحوالہ ڈاکٹر نگہت ریحان خان: اردو مختصر افسانہ: فنی و تکنیکی مطالعہ مطبوعہ 1986، ص: ۸۹۔
۸؂ خلیل الرحمٰن اعظمی، اردو میں ترقی پسند ادبی تحریک، مطبوعہ 2002، ص: ۱۸۴۔
۹؂ وقار عظیم: داستان سے افسانے تک مطبوعہ 2003، ص: ۲۳۲۔
۱۰؂ محمد حسن عسکری: ’’اردو ادب میں ایک نئی آواز‘‘ مشمولہ کرشن چندر اور ان کے افسانے مرتبہ ڈاکٹر اطہرپرویز، مطبوعہ 1996ء، ص: ۴۱۔
۱۱؂ بحوالہ ڈاکٹر نگہت ریحان خان: اردو مختصر افسانہ: فنی و تکنیکی مطالعہ، مطبوعہ 1986، ص: ۹۵۔
۱۲؂ محمد حسن عسکری: ’’اردو ادب میں ایک نئی آواز‘‘ مشمولہ کرشن چندر اور ان کے افسانے مرتبہ ڈاکٹر اطہر پرویز مطبوعہ 1996، ص: ۵۸۔۵۹۔
۱۳؂ محمد حسن عسکری: ’’اردو ادب میں ایک نئی آواز‘‘ مشمولہ کرشن چندر اور ان کے افسانے مرتبہ ڈاکٹر اطہر پرویز مطبوعہ 1996، ص: ۳۸۔۳۹۔
۱۴؂ ڈاکٹر برج پریمی: حرفِ جستجو، مطبوعہ 1982، ص: ۱۵۶۔
۱۵؂ سید احتشام حسین: کرشن چندر۔ کچھ تاثرات مشمولہ کرشن چندر اور ان کے افسانے مرتبہ ڈاکٹر اطہر پرویز مطبوعہ 1996ء، ص: ۳۴۔
۱۶؂ ڈاکٹر نگہت ریحان خان: اردو مختصر افسانہ: فنی و تکنیکی مطالعہ، مطبوعہ 1986ء، ص: ۹۱۔
۱۷؂ وقار عظیم: نیا افسانہ، مطبوعہ 1996ء، ص: ۹۰۔
۱۸؂ خلیل الرحمٰن اعظمی، اردو میں ترقی پسند ادبی تحریک، مطبوعہ 2002ء، ص: ۱۸۶۔
۱۹؂ بحوالہ سہ ماہی رسالہ اردو ادب ،ص: ۲۱۱۔
۲۰؂ ظ۔ انصاری: کرشن چندر کا مطالعہ، ذرا قریب سے، مشمولہ کرشن چندر اور ان کے افسانے مرتبہ ڈاکٹر اطہر پرویز مطبوعہ 1996ء، ص: ۶۳۔
۲۱؂ خلیل الرحمٰن اعظمی: اردو میں ترقی پسند ادبی تحریک مطبوعہ 2002ء، ص: ۱۸۷۔

 مضامین دیگر 


Comment Form



اردو فکشن

© 2017 Urdu Fiction. All right reserved.

Developed By: Aytis Cloud Solutions Pvt. Ltd.