’’آخری سواریاں ‘‘ :اردو ناول نگاری کا ٹرننگ پوائنٹ




ڈاکٹر امام اعظم
24 Nov, 2017 | Total Views: 344

   

’’نانی امی کے گھر اور پنڈت ماما کے مکان کی دیوار مشترک تھی۔ دیوار کے دونوں طرف دونوں گھروں کے صحن تھے اور دیوار کے نیچے و ہ ساجھے کا کنواں تھا جو آدھے چاند کی شکل میں دیوار کے ادھر اُدھر دونوں صحنوں میں استعمال ہوتا تھا۔ ‘‘ (ص:۱۶(
ایسی باہمی خلاص و وفاداری اور مذہبی رواداری کی رخصتی، بلا امتیاز فرقہ لسانی ہم آہنگی کی رخصتی، صدیوں پر مشتمل گنگا جمنی تہذیب و ثقافت کی وضعداری کی رخصتی، معصوم دوشیزاؤں کی فطری امنگوں ، آرزوؤں ، جذبوں اور دوشیزگی کو جبراً دفنانے لے جانے والی آخری سواریوں کے مناظر کو سید محمد اشرف نے ناول کے سانچہ میں اس طرح ڈھالا ہے کہ قاری خود بخود غیر ارادی طور پر ان مناظر کا حصہ بن جاتا ہے۔ 
اس ناول کا مرکزی کردار ، ایک کہانی کا ر اور اس کی بیوی ہے۔ ظاہر ہے وہ تخلیق کار و فن کار ہے اس لئے عصری حالات و واقعات کے منفی اثرات اس کی حساسیت کو اتنا بڑھا دیتے ہیں کہ وہ ڈپریشن کا شکار ہوجاتا ہے۔ اس ڈپریشن سے نکالنے کے لئے اس کی بیوی اسے کریدتی ہے۔ حالیہ تمدنی ترقی کی رو میں پنپتے معاشرتی رجحان و رویے کو آنکتا ہوا کہانی کار کا ذہن ماضی میں اتر جاتا ہے اور اپنے بچپن سے ڈھلتی عمر تک کے مختلف النوع مشاہدے و تجربے بیان کرنے لگتا ہے۔ یہ بیانیہ ، داستانوی قصہ گوئی کا سا انداز اختیار کرتا ہے۔ داستانوی عناصر کی ایک کڑی، دادا جان کا روزنامچہ اور بٹوا، اس کی بنیاد بنتی ہے۔ اس گتھی کو سلجھانے کی تانیثی کردار کی جستجو ناول کے پلاٹ کو آگے بڑھانے کی محرک بنتی ہے۔ یہی جستجو قاری کو بھی ناول کے انجام تک اکتائے اور بھٹکائے بغیر لے جاتی ہے۔ جہاں جاکر عارفانہ صناعی سے کجلاتی ہوئی تہذیب کا غم انگیز ذکر قاری کے ذہن پر اپنی تہذیبی کم مائیگی اور مفلسی کا شدید احساس پیدا کرکے چھوڑ جاتا ہے اوریہ تشویش ڈال جاتا ہے کہ سائنسی ترقی سے فروغ پارہے رویے جو اقدار وضع کر رہے ہیں ان سے نئی تہذیب کون سی شکل لے گی اور انسانیت کس مقام پر ہوگی؟ اتنے گمبھیر موضوع کو اجالنے میں متضاد و مختلف النوع واقعات کے انسلاک کے باوجود پلاٹ میں کہیں جھول یا بے ربطی پیدا نہیں ہوتی جو ناول نگاری کی ہنر مندی پر دال ہے۔ 
ان کرداروں کی کشمکش ناول کو انجام تک نہیں لے جاتی بلکہ کرداروں کے ذریعہ وقوع پذیر واقعات و حرکات کے مثبت و منفی رویے انجام کی طرف مہمیز کرتے ہیں جو دونوں میاں بیوی کے مکالمات و بیانات سے ظہور پاتے ہیں۔ یوں مرکزی کردار (بے نام ) کی آپ بیتی ، جگ بیتی بن جاتی ہے۔ واقعات کی رمز کاری اور تاریخی عناصر کی استعارہ کاری قصہ کو دلچسپ بناتی اور فکر انگیز بناتی جاتی ہے۔ میرے خیال میں یہ اردو ناول نگاری میں نئی تکنیک ہے ۔ کردار داستانوی ہے نہ افسانوی بلکہ بطور استعارہ تاریخ سے لئے گئے دوکردار امیر تیمور اور بہادر شاہ ظفر کے علاوہ نامی و بے نامی جو بھی ہیں وہ ہمارے اپنے معاشرے کے جیتے جاگتے کردار ہیں۔ خواہ سیّدہ نانی امی کی پڑوسن پنڈتائن مامی ہو یا اس کی بیٹی شاردا، خادمہ جمیلہ عرف جمّو ہو یا کلاس میٹ گیتا، سیّد صاحب کی فارمنگ کرنے والا شام لال ہو یا محافظ منشی شفیع الدین، استاد سراج خلیفہ ہوں یا راجپوتوں اور یادوؤں کے بے نام پٹھے، بستی کے سرکردہ ماسٹر پیارے لال شرما ہوں یا نہرہ گاؤں کے سرپنچ اور پوجا کرکے لوٹتی دوشیزاؤں کو جبراً کار میں ٹھونس کر لے جانے والے لوگ یا مختلف واقعات سے جڑے نامی و بے نامی کردار سب ہمارے معاشرے کے ماضی و حال کے نمائندہ ہیں جن کے درمیان ہم جیتے رہے ہیں۔ مذہبی و ثقافتی میلے ٹھیلے حسب روایت اب بھی ہوتے ہیں مگر ان کے کردار بدلے تو رنگ ڈھنگ سے انیکتا میں ایکتا کا رنگ غائب ہوگیا ہے۔ ماضی وحال کے کرداروں کی فکر و عمل کے ایسے تضاد کو ناول نگار نے دلنشیں اسلوب میں اجاگر کیا ہے ۔
مکالمے جو جہاں بھی ہیں برمحل ، بے تکلف ، شستہ ، برجستہ اور بیشتر رمز و کنایہ آمیز ہیں مثلاً دونوں میں میاں بیوی کے مکالمہ کی ایک جھلک دیکھیں:
’’
آپ کہانیاں لکھتے تھے تو گھر میں بہت عافیت رہتی تھی ۔ اب جب دیکھو آپ کہیں بیٹھے سوچ رہے ہیں۔ گھر کے گوشے میں بیٹھے ہیں تو گھنٹوں وہیں بیٹھے ہیں، گھر میں عجیب نحوست سی طاری رہتی ہے۔ آپ کچھ لکھتے کیوں نہیں ؟ ‘‘
’’
پڑھنے والے بہت کم ہوگئے ہیں ۔‘‘میں کچھ دیر بعد بولا۔ وہ یہ سن کر چپ ہوگئیں۔ پھر بولا
’’
پرسوں ہی میرے خالہ زاد کا فون آیا تھا کہ اردو ٹیچر تو نام کا ہوں۔ چھوٹے چھوٹے بچوں کو بھوگول پڑھاتے پڑھاتے میری عقل بھی گول ہوگئی ہے اور حروف تہجی کی ترتیب بھولنے لگا ہوں۔ ‘‘ (ص:۵۲۔۱۵۱(
یہ فضا بندی افسانوی ہے یا اظہار حقیقت؟ قابل غور ہے وہ پس منظر جس میں یہ حقیقت سامنے آئی۔ اسی طرح برمحل اور فطری لب و لہجہ کی ایک مثال میں نابالغ لڑکی شاردا اور نانی امی کی وہ گفتگو دیکھیں جب مرکزی کردارکے بچپن کی شرارت سے اپنے زخمی ہاتھ پر نانی امی سے وہ مرہم پٹی کرا رہی ہوتی ہے:
’’
موسی کہاں ہیں ننّا۔ ‘‘ اس نے اماں کے بارے میں پوچھا۔
’’وہ اپنی بچپن کی سہیلیوں سے ملنے گئی ہیں۔ ‘‘
’’
ان کی سہیلیوں کا بیاہ نہیں ہوا۔ اب تک؟‘‘ اس (شاردا) نے آنکھیں پھیلا کر پوچھا ۔
’’سب کے بیاہ ہوگئے، کب کے ‘‘۔ نانی امّی بولیں۔
’’تو کیا سب کے بیاہ اسی شہر میں ہوئے ہیں۔‘‘
تب نانی امی ا س کی بات کا اصل مطلب سمجھیں اورکھلکھلاکر ہنسیں اور دیر تک ہنستی رہیں۔ 
وہ (شاردا) ان کا چہرہ ، دیکھتی رہی۔ تب نانی امّی بولیں۔ 
’’
اری میری گڑیا! جیسے میری بیٹی کا بیاہ دوسرے شہر میں ہوا ہے ویسے ہی اس کی سہیلیوں کا بیاہ بھی دوسرے شہروں میں ہوا ہے لیکن وہ بھی تو اپنے اپنے راکچھس لے کر گرمیوں کی چھٹیوں میں اپنے مائیکے آتی ہیں۔ ‘‘
’’
تو کیا میں بھی گرمی کی چھٹیوں میں یہاں آیا کروں گی؟ بیاہ کے بعد؟‘‘
’’
ہاں ! اور کیا تو بھی اپنے راکچھس لے کر آیا کرے گی اور میں سب کو شکر پارے کھلایا کروں گی۔ ‘‘ (ص:۱۹)
یہاں شاردا کا بھولپن توجہ کھینچتا ہے جو اس کی عمر کا متقاضی ہے۔ اسی طرح مرکزی کردار کے بچپن اور اس سے جڑے ہم عمر کرداروں کا بیانیہ عین فطرت کے مطابق آیا ہے جس میں تصنع ، تقلید اور آورد کا دخل کہیں نہیں ملتا، یہ سید محمد اشرف کی زبان دانی کا کمال ہے جسے قاضی عبدالستار نے ان لفظوں میں سراہا ہے:
’’
آخری سواریاں‘‘ ناول میں خام اور معصوم عمر کے بھولے بھالے جذبات کی پیش کش کو علم نفسیات کی بالغ پرچھائیوں سے جس طرح منور کیا ہے وہ خاصے کی چیز ہے اور داد کی مستحق‘‘۔
ماضی کی بازیافت اور گنگا جمنی تہذیب کی شکست و ریخت کے موضوع پر اردو ادب کا ذخیرہ تخلیقات و فن پاروں سے بھرا پڑا ہے۔ اس باب میں سب سے بڑی اتھاریٹی قرۃ العین حیدر کی ہے۔ انہوں نے سید محمد اشرف کے افسانوی مجموعہ ’’ڈار سے بچھڑے‘‘ کی بابت لکھا تھا:
’’
یہ ایک بڑے ہی گہرے کرائسس کا ادب ہے اور مصنف نے دکھوں کے ڈھیر پر بیٹھ کر دکھ کی نگاہوں سے دکھ کا تماشا کیا ہے۔ اس صدی کے اختتام پر ایک سفاک، بے حس، بے علم، جرائم پیشہ دنیا ظہور میں آچکی ہے۔ انسانوں کی کایاکلپ ہورہی ہے جب بھی اس نئی دنیا کی پنچ تنتر لکھی گئی۔ سید محمد اشرف کی چند کہانیاں اس میں ضرور جگہ پائیں گی۔ ‘‘ 
)
فلیپ ناول مذکور(
میرے خیال میں ’’نئی دنیا کی پنچ تنتر‘‘ میں ناول ’’آخری سواریاں‘‘ نمایاں جگہ پائے گا کیوں کہ اس میں سیّد محمد اشرف نے ماضی و حال کو ایک کینوس پر اسکیچ کرکے افسانوں کی ہورہی کا یاکلپ کے مختلف النوع پہلوؤں کو اس طور دکھایا ہے کہ اسکیچ کی ہر آڑی ترچھی لکیروں سے رنگ برنگی فکر انگیز کرنیں پھوٹی پڑتی ہیں۔ بقول فرحت احساس:
’’
سیّد محمد اشر ف کا زیر نظر ناول ، غیاب حضور کی ایک دوسرے میں آمد و رفت کے پراسرار عمل کو ایک نئی ثقافتی جہت سے روشناس کراتا ہے جس میں ایک مابعد الطبیعاتی بُعد شامل ہوگیا ہے۔ اسے وقت کے گزران اور ایک ثقافتی وفات کا نوجہ بھی کہا جاسکتا ہے جو افسانے کی تخلیقی نثر میں شاید پہلی بار پڑھا گیا ہے۔‘‘
)
فلیپ ناول مذکور(
یوں سیّد محمد اشرف نے دُکھوں کے ڈھیر پر بیٹھ کر دکھ کی نگاہوں سے دکھ کا تماشا اس فنکارانہ ہنر مندی سے دکھایا ہے کہ یہ ناول مدتوں پڑھا جاتا رہے گا اور یہ ، وہ وصف ہے جو ادب عالیہ کے فن پاروں میں ہوتا ہے۔ اس طرح یہ ناول، اپنے اسلوب، تکنیک ، فطری قصہ گوئی کی بازآباد کاری اور فکری نتائج کے استنباط کے اعتبار سے اردوناول نگاری کی منہاج پر ایک ٹرننگ پوائنٹ ہے اور اردو ادب میں ایک گراں قدر اضافہ ہے۔ 
***

موبائل : 08902496545 / 9431085816

 مضامین دیگر 


Comment Form



اردو فکشن

© 2017 Urdu Fiction. All right reserved.

Developed By: Aytis Cloud Solutions Pvt. Ltd.