یٰسین احمد کے افسانوں میں کرب آمیز زندگی کی جھلک




ڈاکٹر امام اعظم
29 Apr, 2018 | Total Views: 143

   

یٰسین احمد ہمارے عہد کے مشہور افسانہ نگار ہیں۔ ان کے اب تک پانچ افسانوی مجموعے ’’گمشدہ آدمی ، سلاٹر ہاؤس، یہ کیا جگہ ہے ، دھار ، سایوں بڑا دالان ‘‘ شائع ہو کر ادبی حلقوں میں پذیرائی حاصل کرچکے ہیں نیز انھوں نے آندھرا پردیش کے منتخب افسانہ نگاروں کی تخلیقات کو بھی ترتیب دے کر ’’ہر ذرہ ستارہ ہے ‘‘ کے نام سے شائع کیا ہے۔ ہندو پاک کے موقر رسائل و جرائد میں ان کے افسانے شائع ہوتے رہتے ہیں۔ گاہے گاہے وہ ادبی مضامین بھی لکھتے رہے ہیں۔ بحیثیت افسانہ نگار ان کی حیثیت مسلّم ہے۔
یٰسین احمد اپنے افسانوں میں زندگی کے مختلف پہلوؤں نیز اس سے وابستہ پیچیدہ حقائق کو آشکار کرتے ہیں۔ عموماً پیچیدہ حقائق کو آشکار کرنے میں ترشی اور کڑواہٹ در آتی ہے لیکن یٰسین احمد کے مزاج کی سبک روی، نرمی اور سنجیدگی ان کے اسلوب و بیان پر حاوی رہتی ہے اور کردار کی فطری زبان میں کڑوی باتوں کو بھی وہ دل نشیں انداز میں ادا کردیتے ہیں۔افسانہ ’’تیس پہ چھ ‘‘ کا یہ اقتباس دیکھیں
جمیلہ کڑوے لہجے میں بولی ’’بی بی جی ! دراصل یہ مرد کی ذات ہے ہی ایکدم میلی اور گندی ، بالکل چکٹ کپڑے کی طرح ‘ چاہے کتنی دفعہ دھوئیں پھر بھی کہیں نہ کہیں داغ دھبہ رہ ہی جاتا ہے ۔ گھاٹ پر ہم لوگ گندگی دھو کر آتے ہیں اور وہ اپنا منھ کالا کر کے آتا تھا۔ ‘‘ (ص۔۱۲ (
جمیلہ دھوبن شکل کی کالی مگر ایک دم اُجلی اور خود دار عورت ہے جبکہ اس کا شوہر خوبرو۔ دونوں کے نفسیاتی کرب کو افسانہ نگار نے اس کہانی میں بڑے فطری انداز میں پیش کیا ہے۔ پیسہ اور گلیمر کی خاطر کیا کچھ کرنا پڑتا ہے اور کرب کی کن منزلوں سے گزرنا پڑتا ہے اور کتنے لبھاؤنے لباس پہن کر آتا ہے اس کی جھلک دیکھیں
’’
سدھیر کمار چاہتا تو اس سین کو کچھ اور طریقہ سے فلما سکتا تھا لیکن سدھیر کمار نے اسے بتایا کہ کیمرہ کے سامنے اپنے بلوز کے بٹن کھولے اور بچہ کے منھ میں اپنی چھاتی دے ۔ اس نے اس قسم کا شارٹ دینے سے انکار کر دیا لیکن سدھیر کمار نہیں مانا ، اپنی ضد پر اڑا رہا اور کہا ’’تم کو کسی بیڈ روم سین کے لیے بے لباس نہیں ہونا ہے بلکہ اپنے بچہ کو دودھ پلانے کے لیے اپنی چھاتی دکھانا ہے ۔ تمہارے چہرے پر ممتا کی عظمت اور جلال کو دکھانا ہے ‘‘۔ )افسانہ : ونکم ص۔۱۶(
وہ اپنے افسانوں میں اس طرح کا رویہ نہیں اپناتے ہیں بلکہ انھیں وسیع اور آزادانہ فضا میں کھلا چھوڑ دیتے ہیں، جہاں وہ فطری انداز میں آگے بڑھتے ہیں۔ذیل کے اقتباس اس بات کے غماز ہیں :
’’
آپ کے ہاتھ کی ریکھائیں دیکھنے کے بعد یہ بات کہہ رہا ہوں ۔ ‘‘ وجئے شنکر سنجیدگی سے بولا۔’’شادی کرنے پر آپ کی موت واقع ہوسکتی ہے ‘‘۔
انھوں نے اپنے عہد کے نفسیاتی، سماجی، معاشی ، اقتصادی، جنسی غرض ہر قسم کے مسائل پر قلم اٹھایا ہے۔ 
میں نے رکتے رکتے پوچھا ’’شادی کب کی ۔ ‘‘
وہ رجنا کی طرف دیکھ کر مسکرایا ’’ میں رجنا کو بیوہ کیوں بناتا ‘ کیا ہم شادی کیے بغیر ایک ساتھ نہیں رہ سکتے ‘‘ ۔
)افسانہ : درماں ص۔۲۴ (
’’
اب کی بار مسز آفاق بولیں اور جلدی جلدی بولیں۔ ’’ آپ تین مہینے کے لیے ہمارے پاس آجائیں ۔ مسز مقصود آپ کو جو بھی معاوضہ دیتی تھیں‘ اتنا معاوضہ ہم بھی ادا کردیں گے۔ مسز مقصود کہہ رہی تھیں کہ آپ گھر گرہستی اچھا سنبھالتے ہیں۔ آج کل ایسے لوگ کہاں ۔۔۔ ! ‘‘
)
افسانہ : کسے اپنا سمجھیں ص۔۲۹(
’’
یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں؟ ادتیہ نے تعجب سے دریافت کیا ۔ ’’اس کی وجہ آپ بتائیں گی۔ میں نے آپ کو بتادیا ہے کہ میں مسلمان ہوجاؤں گا اور پھر آپ کے والدین نے بھی انٹرکاسٹ میریج کی ہے۔ ‘‘
’’
میں اپنے بزرگوں کی غلطی کی سزا بھگت رہی ہوں۔ ‘‘ شبانہ پرسکون لہجے میں بولی ۔ ’’میں نہیں چاہتی کہ میرے بطن سے پھر ایک اور شبانہ جنم لے۔ دنیا کے ہر مذہب نے محبت کی تعلیم دی ہے لیکن اسی محبت نے اپنی بارگاہ میں مذہب کی بلی چڑھائی ہے۔ ایسا سودا مجھے منظور نہیں۔‘‘ 
)
افسانہ : سمتوں کا تعین، ص ۳۷
مذکورہ اقتباسات میں ملک کے مایوس کن سیاسی حالات کا بر سر اقتدار رہنماؤں کی کجروی، جبریت، علاقائیت، دہشت گردی، مفلسی، طبقاتی کشمکش، جنسی بے راہ روی، اخلاقی اقدار کا زوال، ریاکاری، مفاد پرستی سبھی کچھ شامل ہیں۔ انھوں نے فسادات کو الگ تناظر سے دیکھنے کی کوشش کی ہے۔ افراد کی تنہائی اور اجنبی پن کے احساسات اور کیفیات، انسانی روح کی پنہائیوں، دل کے تاریک نہاں خانوں اور ذہن کی تہوں میں پہنچ کر محسوس کیا ہے اور ان سب کے داخلی کرب کو اپنے افسانوں کے پیکر میں ڈھالا ہے۔ حقیقت نگاری، زندگی کی جامعیت اور اس کے حسن کے نشیب و فراز کو پیش کرنے کا فن یٰسین احمد کو آتا ہے۔ ان کے یہاں علامتیں مربوط ہوتی ہیں جن سے خود بخود معنویت ابھر کر سامنے آجاتی ہے اور یہ ایک بڑی انفرادیت ہے جو یٰسین احمد کو شناخت دیتی ہے۔ اسلوب اور لب و لہجہ کے اعتبار سے بھی ان میں انفرادیت پائی جاتی ہے ۔ سیاسی ، سماجی اور ثقافتی و تمدنی افسانے لکھنے میں یٰسین احمد جگر پانی کرتے ہیں۔ احساسات و جذبات کی کیفیت کو نزاکت بخشتے ہیں اور نفسیاتی کشمکش کی خبریات و تفصیلات کو جامعیت عطا کرتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ہم عصر افسانہ نگاروں میں وہ ممتاز ہیں۔ 

Dr. Imam Azam
Regional Director,
Maulana Azad National Urdu University
Kolkata Regional Center
71G, Tiljala Road, Kolkata - 700 046
e-mail: imamazam96@gmail.com

 مضامین دیگر 


Comment Form



اردو فکشن

© 2017 Urdu Fiction. All right reserved.

Developed By: Aytis Cloud Solutions Pvt. Ltd.