24 Nov, 2017 | Total Views: 104

اُوڑھنی : عورت کی عزت و عصمت کا شا میانہ

اسلم جنشید پوری

اردو میں ناولٹ نگاری کی روا یت بہت زیا دہ پرا نی نہیں۔ یہ ترقی پسند تحریک کے شا نہ بہ شانہ پروان چڑھتی ، جدیدیت اور مابعد جدیدیت سے ہوتی ہوئی اکیسویں صدی میں داخل ہوئی۔ اکیسویں صدی یوں بھی تبدیلیوں کی صدی ہے جسے کمپیوٹر کی صدی بھی کہا جاتا ہے۔ اس بدلتی ہوئی صدی میں تغیر کو دوام حاصل ہے۔ یہاں ہر آن، ہر لمحہ چیزیں بدل جاتی ہیں۔ اسی پس منظر میں سماج کا سیاسی اور معاشی نظام بھی تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ بدلتے ہوئے اس منظر نامے کا اثر ادب پر بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ اب موضوعات تبدیل ہو رہے ہیں۔ موضو عات کے ساتھ ساتھ اسلوب اور زبان و بیان میں بھی تبدیلی آ رہی ہے۔ انٹر نیٹ، فیس بک، وہاٹس اپ وغیرہ پر استعمال ہو نے والے آدھے ادھورے جملے، لفظوں کے مخفف، صرف شروع کے حروف وغیرہ کے استعمال نے ایک عجیب زبان سامنے لا دی ہے جس میں خالص کچھ نہیں بچا ہے جسے نہ اردو کہا جاسکتا ہے نہ ہندی اور انگریزی تو بالکل نہیں۔ لیکن اردو، ہندی اور انگریزی کے الفاظ کا ایسا قوام تیار ہو رہا ہے کہ جس کی تعریف ممکن ہے نہ اسے کسی خانے میں رکھنا۔
اردو زبان کی با ت کریں تو ابھی بہت اطمینان اور سکون ہے۔نئی لفظیات میں انگریزی کے الفاظ،فیشن کے جملے وغیرہ استعمال تو ہورہے ہیں لیکن مقدار میں بہت کم۔ایسے میں’اوڑھنی‘ نام کا ناولٹ ہمیں سکون بخشتا ہے۔ محترمہ نصرت شمسی کے قلم کا کمال ’’اوڑھنی‘‘ ان کے مطابق تو ناول ہے لیکن اس میں اوصاف سارے ناولٹ جیسے ہیں۔ میں اسے ناولٹ کے زمرے میں ہی شمار کرتا ہوں۔
ناولٹ’اوڑھنی‘ موضوع کے اعتبار سے خاصا اہم اور ہر زمانے کا مو ضوع ہے۔ یہ تا نیثیتFeminism کے زمرے میں شامل ایک مو ضوع ہے۔ عورت کا مقام اور تحفظ ناولٹ کا موضوع ہے۔ بدلتے ہو ئے زمانے خصوصاً اکیسویں صدی میں جس طرح سے جرائمCorruption اور فرقہ پرستی میں اضافہ ہوا ہے، ہر طرف عورت، عورت کی عزت و عصمت اور اس کے مقام و مرتبے پر حملے کیے جا رہے ہیں۔ عورت کی عزت نہ گھر میں محفوظ ہے اور نہ ہی آ فس میں۔ آفس تو پھر بھی انجانی جگہ ہو تی ہے۔ جہاں کا ہر کردار الگ مزاج کا مالک ہو تا ہے۔ وہاں کا ماحول بہت مختلف ہو تا ہےْ وہاں تو اکثرو بیشتر ایسے واقعات اور حادثات وقوع پذیر ہوتے رہتے ہیں،جن میں عورت سے ہنسی مذاق، چھیڑ چھاڑ سے ہوتی ہوئی جنسی استحصال تک پہنچ جاتی ہے۔ لیکن حد تو یہ ہو گئی ہے کہ اب خوا تین اپنے گھروں میں بھی محفوظ نہیں۔ سگے رشتہ داروں کے درمیان بھی جب عورت محفوظ نہ ہو تب کسی ایسی عورت کے تحفظ کا کیا ہو گا جس کا شو ہر انتقال کر جائے اور جو خو بصورت اور صحت مند بھی ہو۔ ایسی کسی عورت کی زندگی شو ہر کے بعد عذاب بن جاتی ہے۔ اسے سماج عجیب قسم کی نظروں سے دیکھتا ہے۔ کوئی اس سے دوستی کرنا چا ہتا ہے تو کوئی جسمانی تعلق بنانے کا خواہاں ہو تا ہے اور کوئی شادی کا جھانسہ دے کر عزت خراب کرنا چاہتا ہے۔ ایسی عورت کی بے بسی، سماج میں اس کی حا لت زار اور بے سائبان ہونے کی خو بصورت عکاسی ’ا وڑھنی‘ میں کی گئی ہے۔
نا ولٹ کا مو ضوع قطعی نیا نہیں ہے لیکن اس کا Treatment نصرت شمسی کا اپنا ہے۔ ناولٹ کی کہانی نائلہ کی شادی کی تقریب سے شروع ہوتی ہے۔ شادی کا منظر دیکھیں:
’’
بڑے تخت پر گھونگھٹ ڈالے اب وہ تنہا تھی۔ ابھی ابھی سلامی کی رسم ادا ہوئی تھی اور کافی ہنگا مہ ہو چکا تھا اور اب امی جان نے سب لڑ کیوں کو ہٹا کر اسے تنہا بٹھا دیا تھا کہ کچھ دیر بعد وہ اسے اس کے کمرے میں پہنچوادیں گی۔
نائلہ نے تنہائی دیکھ کر ذرا کمر سیدھی کرنے کا ارادہ کیا ہی تھاکہ’’ہاؤ‘‘جیسی بھیا نک آواز نے اسے پھر سر جھکانے پر مجبور کردیا۔
’’پہچانو مجھے!‘‘
شیر کا مکھوٹا لگائے کوئی جوان لڑ کا اس کے گھو نگھٹ میں جھانک رہا تھا۔ نائلہ نے مسکراتے ہوئے اس کا مکھوٹا ہٹا دیا۔
’’میں ہوں۔ آپ کا ایک عدد نالائق دیور رو شان۔‘‘ [اوڑھنی،ص33[
درج بالا اقتباس میں گھو نگھٹ،سلامی کی رسم اور دیور بھا بھی کے رشتوں کی شروعات کا بیان ہے۔ دیور کی شوخی اور شرارت ہے جو آہستہ آہستہ دیور بھا بھی کے مستحکم، محترم اور مضبوط رشتے میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ کہانی آگے بڑھتی ہے اور نائلہ یکے بعد دیگرے بیٹی اور بیٹے کی ماں بنتی ہے۔گھر میں خوشیاں ہی خوشیاں رقص کرتی ہیں۔ نائلہ کی فیملی پو ری ہو جاتی ہے۔ نائلہ بڑی خوش قسمت ہے کہ اسے بے انتہا پیار کرنے والا شو ہر ادغان، شوخی و شرارت کا مرقع دیور رو شان اور بیٹی کی طرح لاڈ، پیار اور محبت کرنے والی ماں جیسی ساس ملی تھی۔ یہی نہیں اللہ نے دو تین سال کے اندر ہی اسے ڈولی اور شاہو جیسے پیارے پیارے بچے بھی عطا کردیے۔یہ سب کسی بھی لڑ کی کے لیے خواب سے کم نہیں۔ ہر لڑ کی اور اس کے ماں باپ کی خواہش ہوتی ہے کہ سسرال اچھی ثا بت ہو۔ سسرا لی رشتہ دار پیار محبت سے پیش آئیں اور اگر ایسا میسر آجائے تو اس لڑکی سے خوش نصیب اور کون ہو گا۔ نائلہ ایسی ہی خوش قسمت لڑ کی تھی۔ رو شان اس کا دیور ہر وقت اس سے شو خیاں اور شرارت کرتا رہتا اور اس کا دل بہلاتا رہتا۔خوشی کے لمحات میں اضافہ اس وقت ہو گیا جب ارم رو شان کی دلہن بن کر گھر آگئی۔ نائلہ شادی کے ہر کام میں آگے آگے تھی۔ ارم بھی بڑی خوش گفتار، اعلی کردار اور ملنسار مزاج کی حامل تھی۔ اس نے نا ئلہ کے بچو ں کو اپنے بچوں جیسا پیار دیا۔بچے بڑے ہوتے گئے وقت پرواز کرتا رہا۔ رو شان کو اچھی جاب مل گئی لیکن ارم کے باغ زیست میں کوئی پھول نہیں کھل سکا۔ سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا تھا کہ اچا نک نا ئلہ کی خوشیوں کو کسی کی نظر لگ گئی۔ادغان کی اچا نک بہت زیا دہ طبیعت خراب ہو گئی۔ انہیں اسپتال لے جایا گیا۔ مرض ہر لمحہ بڑھتا گیا:
’’
روشان۔‘‘
ادغان نے ہاتھ اٹھا کر رو شان کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ بڑا جذباتی لمحہ تھا جو سرک گیا۔ نائلہ کی آنکھیں بھری ہوئی تھیں مگر وہ ادغان کے سامنے رو نا نہیں چاہتی تھی۔ اس لیے با ہر نکل آئی۔ ادغان نے نظر گھما کر باہر جاتی نائلہ کو دیکھا اور پھر نظریں روشان کے چہرے پر کچھ تلاش کرنے لگیں۔
’’ روشان.....اب تو تمہیں بھی پتہ چل گیا ہو گا کہ مجھے کیا بیماری ہے؟‘‘
’’
کیا......؟‘‘ رو شان کے آس پاس کی ساری چیزیں زلزلے کی زد میں آگئیں
’’ادغان تم.....؟‘‘ رو شان نے حیرانی سے ادغان کو دیکھا۔
’’ہاں روشان مجھے پچھلے مہینے ہی پتہ چلا تھا کہ مجھے کیا بیماری ہے؟ مگر میں نائلہ کو بتا نے کی ہمت نہیں کر پا یا اور مجھے یہ بھی پتہ ہو چکا ہے کہ اب میں آئندہ چند مہینوں یا چند دنوں میں.......‘‘
’’
ادغان پلیز....چپ ہو جاؤ.....کچھ مت کہو....میں نے ڈاکٹر سے بات کر لی ہے....میں تمہیں باہر لے جاؤں گا...اس مرض کا علاج ضرور ہو گا....تمہیں کچھ نہیں ہو گا۔‘‘ [اوڑھنی،ص45-46[
لیکن رو شان کے کہنے سے کیا ہو تا ہے؟ ہو تا وہی ہے جسے ہو نا ہو تا ہے یعنی جو کچھ کاتب تقدیر نے لکھا ہے وہ اپنے وقت مقررہ پر ہوکر رہتاہے۔ مرض،مریض کو اس وقت تک ہی پریشان کرتا ہے جب تک مریض میں مرض سے مقابلہ کرنے کی ہمت ہو تی ہے اور جب مریض کی ہمت،امید اور سانس اکھڑنے لگتی ہے تو پھر دنیا کا بڑے سے بڑاڈاکٹر بھی کسی آکسیجن سے سانس بحال نہیں کرسکتا۔ نائلہ کے ساتھ بھی ایسا ہی کچھ ہوا۔ اپنے ،سگے ،قرابت دار سب کے سب ادغان کے قالب کو گھیرے، تھامے کھڑے رہ گئے اور روح کا پرندہ، اونچی اڑان بھر گیا:
’’
دھک!!!!!‘‘
اچانک اندر سے ھک دھک کی آواز خاموش ہوگئی اور ادغان کی زندگی کا تار ٹوٹ گیا۔
’’ادغان!نائلہ نے پوری شدت سے چیخ کر ادغان کو ہلا یا۔’’پھر.....ر‘‘ہلا نے سے سینے میں رکی ہوئی گیس باہر آ ئی اور ادغان کا سر ایک طرف لڑھک گیا۔
’’ڈاکٹر!‘‘
نائلہ نے زور سے گھنٹی بجائی۔
’’نرس! پلیز ،کوئی آؤ میری مدد کرو.....ادغان واپس آ ؤ.....ادغان۔نرس نے دوڑ کر ادغان کا چیک اپ کیا اور دوڑ کر ڈاکٹر کو بلا لائی۔
’’ادغان......!‘‘
نائلہ نے چیخ کر ادغان کو پھر ہلایا....
’’
واپس آؤ...... واپس۔
ڈاکٹر نے آگے بڑھ کر نائلہ کو ہٹایا اور آگے اسٹیتھیو اسکوپ سے چیک اپ کر کے ادغان کے چہرے کو سفید چادر سے ڈھک دیا
’’آئی.......ایم..........سوری [ص56-57[
پرندہ،آسمان کی بے کراں وسعتوں میں ایسا گم ہوا کہ نظریں پتھرا گئیں۔ یقین اپنے معنی کھوتاگیا ۔لیکن وقت کا مرہم بے یقینی کے بادل صاف کر ہی دیتا ہے۔ ادغان کے انتقال کے بعد نائلہ کی زندگی کا اصل امتحان شروع ہوا۔ بچوں کی تعلیم اور دیگر اخرا جات کا بو جھ۔ وہ تو روشان جیسا سمجھ دار چا ہنے والا دیور اور ارم جیسی محبت کرنے والی دیورانی تھی۔ دونوں ہر چیز اور ہر بات کا خیال رکھتے۔ لیکن ایسا کب تک چلتا؟زندگی ہمیشہ ایک رفتار سے نہیں چلتی۔ اس کی چال بدلتی رہتی ہے۔ نائلہ نے بھی گھر کے لوگوں کو اپنی جاب کے سلسلے میں منا لیا اور وہ جاب کرنے جانے لگی۔ رو شان کو یہ بات پسند نہیں تھی لیکن ہر گھر میں ایک وقت ایسا آجاتا ہے جب پسند،نا پسند پس پشت چلی جا تی ہے اور حالات نئے موڑ پر آجاتے ہیں۔ نائلہ جس کا سر اور چہرہ اب تک ادغان نامی اوڑھنی سے مضبو طی سے ڈھکا اور چھپا ہوا تھا اب بغیر اوڑھنی کے سماج کی للچائی نظروں کی سخت دھوپ کے رو برو تھا، جسے جھلسنا ہی تھا۔کچھ دن تک تو مرحوم شوہر کی اوڑھنی کی شبیہ چہرے اور جسم کی حفاظت کرتی رہی لیکن محلے کے بد چلن اور آوارہ لڑکوں کی نظروں کے تیر جسم کے نشیب و فراز تک پہنچنے لگے۔ یہ بات روشان کو پتہ چلی تو اسے بہت غصہ آ یا لیکن وہ کیا کرتا؟ بالآخر جب نائلہ کی کمپنی کے مالک نے ایک دن اسے اپنی دوسری بیوی بنانے کا آفر دیا تو اس کے تب بدن میں آگ لگ گئی۔ اس نے اگلے ہی دن نو کری کو لات مار دی۔ لیکن یہ بھی زندگی کا ٹھوس حل نہیں تھا۔ ابھی زندگی کی الجھنیں کم نہیں ہوئی تھیں کہ ایک دن دو بچوں کے باپ سکندر حیات، اس کے گھر اسے تیسری بیوی بنانے کے یے آدھمکے۔نائلہ غصے کے مارے سرخ ہو گئی اور غصے کی آخری حد پر آکراپنا قابو کھو بیٹھتی ہے 
’’
بات یہ ہے کہ میری اب تک دو شادیاں ہو چکی ہیں۔پہلی بیوی مرگئی اور دوسری کو میں نے طلاق دے دی۔ اب میرے پاس دو بچے ہیں اور میں آپ کو اپنے بچوں کی....ماں....‘‘
’’
تڑاخ....‘‘
نائلہ کے زوردار تھپڑ نے ان کے الفاظ توڑ دئے۔نا ئلہ کا چہرہ بری طرح سرخ ہو رہا تھا۔لگتا تھا جسم کا ساراخون اس کے چہرے پر آ گیا ہو ۔ماتھے کی ساری رگیں پھول گئی تھیں۔
’’آپ کی ہمت کیسے ہوئی یہاں آکر یہ بات کہنے کی۔کس نے کہا....کس نے کہا آپ سے مجھے دوسری شادی کر نی ہے۔کس نے کہا آپ سے .....کہ میں آپ کی مطلقہ بیوی کے چھوڑے بچوں کی ماں بننے کو تیار ہوں۔سکندر حیات کس نے کہا؟ کس نے کہا آپ سے....؟‘‘ [ص76[
پانی سر سے اوپر ہوگیا تھا۔ ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے اور حد گذرجانے کے بعد قدرتی طور پر اس مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل سامنے آہی جاتا ہے۔ یوں بھی کار خانۂ قدرت میں ہر کام کاسبب اوروقت مقرر ہو تاہے۔یوں اللہ مسبب الاسباب ہے لیکن وہ چاہے تو بے سبب بھی،ہر کام کرسکتا ہے۔ لیکن وہ عام حالات میں سبب پیدا کر ہی دیتا ہے۔ناولٹ کی کہانی اب ایسے موڑ پرآ گئی ہے کہ قاری دم بخود رہ گیا ہے۔ معاملے کا ایسا نتیجہ نکلے گا یہ قاری نے کبھی سوچا نہیں تھا۔ ہوا یہ کہ نا ئلہ کی پیاری سی دیو رانی،ارم جواب تک کہانی کا حا شیائی کردار تھی،اچانک مرکزیت اختیار کر جاتی ہے۔ارم کو اللہ نے اب تک بغیر گل کا باغ بنا رکھا تھا۔اسے اس پر بھی اللہ سے کوئی شکوہ نہیں تھا۔وہ نائلہ کے بچوں کو ہی اپنے بچے سمجھتی،ان کی دیکھ بھال کرتی۔نیک دل ارم کے ذہن میں نا ئلہ اور اپنے شو ہر رو شان کی شادی کا خیال اٹھا۔یہ خیال اتنا خطرناک اور بھیانک تھا کہ اسکے سامنے آ تے ہی زلزلہ ہی آجاتا۔ لیکن ارم کا یہ خیال دکھا وا نہیں تھا۔ اس نے اپنے شوہر رو شان کو پہلے اس کے لیے تیار کیا:
’’
روشان!‘‘
ارم نے رو شان کے بالوں کو سہلاتے ہوئے پھر کہا......
’’
روشان آپ بھا بھی سے نکاح کر لیجئے۔‘‘
’’
ارم!!!‘‘ روشان نے ارم کو دھکا دیا اور اپنے سے دور کردیا۔
’’ یہ کیا کہہ رہی ہو تم! تمہیں ہوش نہیں ہے تم کیا کہہ رہی ہو؟‘‘
’’
روشان آپ کیا سمجھتے ہیں........؟ جو بات میں نے آپ سے کہی ہے وہ بغیر سوچے سمجھے کہہ رہی ہوں۔ روشان میرے دل و دماغ میں ایک ماہ سے یہ جنگ چل رہی ہے....روشان میرا دلکر چی کرچی ہو رہا تھا اس وقت جب یہ بات میں نے آپ سے کہی....مگر ان سارے حالات کو سمجھنے کے بعد مجھے اس کے علاوہ کوئی راستہ نظر نہیںآ یا۔بھا بھی کھلے سر ہیں اس لیے کوئی بھی انہیں بے آسرا سمجھ کر اپنے قدم بڑھا سکتا ہے۔ وہ کہاں تک لوگوں سے بچتی پھریں گی۔‘‘ [ص80[
ارم نے آگ کے دریا کو عبور کرلیا تھا، کسی طرح اس نے اپنے با وفا، نیک سیرت اور ٹوٹ کر چاہنے وا لے شو ہر کو اس بات کے لیے منا لیا تھا۔لیکن نائلہ سے گفتگو کرنے کی ہمت اس میں نہیں تھی۔ یہ مر حلہ ارم نے اپنی نیک طبیعت خوش دامن کے ذریعے حل کروا یا۔ نائلہ کی ساس نے اسے اپنے کمرے میں بلوا کر، زمانے کی اونچ،نیچ، گھر کے حالات، وقت کے تقاضے اور اسلام کا طریقہ بتاتے ہوئے رو شان سے شادی کر نے کا مشورہ دیا۔نائلہ کی روح تک تھرا گئی:
’’
امی جان!!!‘‘
دبی دبی سی چیخ نائلہ کے منہ سے نکلی
’’امی جان......یہ آپ کیا......کہہ رہی ہیں.......روشان!
’’
نہیں....نہیں بیٹی غلط مت سمجھنا ۔روشان کسی غلط نیت سے غلط ارادے سے یہ نہیں چاہتا....بلکہ ارم....ہاں اس اعلی ظرف ارم نے ہم سب کو یہ راستہ سجھایا ہے۔
’’کیا ....ارم..... نے؟‘‘
روتی ہوئی نائلہ کے ہوش اڑ گئے۔
’’ہاں.....نائلہ....ارم نے روشان کو تیار کیاہے.......اور پھر.....پھر مجھے بھی.....کون جانتا تھا کہ زندگی ہم سب کو کبھی اس موڑ پر بھی لے آئے گی....کیا میں نے تمہیں ادغان کی دلہن بناتے وقت یہ سوچا تھا کہ تم اتنی جلدی بیوہ ہوجاؤگی اور پھر میں تمہیں.....یہ سب مقدرکے فیصلے ہیں۔‘‘
’’
نہیں.....امی جان.....نہیں....میں مرجانا چاہتی ہوں مگر ڈولی اور شاہو مجھے روک لیتے ہیں۔ میں تھک گئی ہوں۔ روز روز ان مسئلوں سے الجھتے ہوئے۔مگر امی روشان.....نہیں...نہیں ایسا کبھی نہیں ہو سکتا۔‘‘ [ص83-84[
نائلہ کی کیفیت عجیب تھی۔ وہ کبھی ارم کے بارے میں، اس کے حقوق، اس کی قربانی اور جذبے کے بارے میں سوچتی تو کبھی اپنے عزیز دیور رو شان کے بارے میں اور کبھی اپنی خوش دامن کے تعلق سے سو چتی اور پھر گھوم پھر کر اپنے بچوں ڈو لی اور شاہو کے مستقبل کے بارے میں سوچتی، خود کو ایسے چو راہے پر کھڑا محسوس کررہی تھی جہاں سے نکلنے والے راستوں میں سے اسے کس راستے کا انتخاب کرنا ہے۔ اسے سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔نصرت شمسی نے بڑی فنکاری سے ایک پاک باز، دین دار، مجبور و بے کس خا تون کی عکاسی کی ہے جو کسی بھی حالت میں اتنی خود غرض نہیں ہو پاتی کہ اپنی دیورانی کا حق مارے،لیکن بچوں کی محبت اور ان کے مستقبل کے بارے میں سوچتے ہوئے وہ خود کو بے بس محسوس کرتی ہے۔ نصرت شمسی نے کردار کے اندر اٹھنے والے طوفان اور کشمکش کو عمدگی سے لفظوں کا جامہ عطا کیا ہے:
’’
ارم واقعی سچ کہہ رہی ہے۔کیا کوئی دوسرا شخص ڈو لی اور شاہو کا باپ بن سکتا ہے۔مجھے تو دوسرا شو ہر مل سکتا ہے مگر روشان جیسا باپ کہیں اور مل سکتاہے۔
’’نائلہ........‘‘ اس کے اندر سے آ واز آئی۔
’’ تو بچو ں کی خاطر ہی تو جی رہی ہے تو پھر بچوں کی خاطر اس طرح مر بھی جا ۔آخر تیری زندگی کا مقصد بھی بچوں کو زندہ رکھنا ہی تو ہے اور اس طرح تیرے مرنے سے بچوں کی زندگی مل جائے گی۔ تو پھر بچوں کو زندگی عطا کردے۔‘‘
’’
میں کیا کروں.......؟‘‘اس نے دونوں ہاتھوں سے دل پکڑ لیا...
’’
میں کیاکروں خدا یا۔‘‘ یکایک اس کے خیالات ارم کی طرف چلے گئے۔
’’ارم کیا ہے.........؟کیسی عورت ہے وہ......فولادی دل رکھنے والی وہ مجھے خود احساس دلارہی ہے کہ رو شان جیسا آج مخلص ہے وہ کل نہیں رہ سکتا۔ اس لیے اسے بچوں کے ساتھ باندھنا ہوگا کہ وہ ان رشتوں میں ہمیشہ ہمیشہ بندھا رہے۔‘‘ [ص85-86[
ناولٹ میں یہ وہ مقام ہے جب مصنفہ نے بڑی فن کاری سے کرداروں کے اندرون میں اترنے اور انکی تحلیل نفسی کر نے کی کوشش کی ہے۔اندرون میں چلنے والی تکرار کی لہریں کس طرح اندرون سے بیرون کا سفر طے کرتی ہیں۔ ایک کردار دوسرے پر کس طرح وارفتہ ہو رہا ہے۔ قربانی و ایثار کا وہ انتہائی لمحہ جو قاری کو جھنجھوڑ کر رکھ دے۔ کہانی میں تثلیث بن گئی ہے۔ ایک زاویہ ارم ہے ،دوسرا نائلہ تو تیسرا اور درمیانی زاویہ رو شان ہے۔ روشان ایسا زاویہ ہے جسے حالات کے عمود نے تنصیف کردیا ہے۔ اب وہ آدھا ارم کی طرف ہے اور آدھا نائلہ کی طرف۔ یہاں سب سے اچھی اور مثبت بات یہ ہے کہ تینوں کرداروں کے دل صا ف ہیں۔ تینوں ہی ایک دوسرے پر اپنا سب کچھ نچھاور کر نے کو تیار ہیں۔ ایک دوسرے کے دکھ،غم،تکالیف کو اپنا لینے کے لیے اپنا سکھ، آرام اور سب کچھ نثار کرنے کو تیار ہیں ۔کسی کے بھی ذہن میں دھو کہ، فریب، عیاری، مکا ری،نفرت وغیرہ نام کو نہیں ہے۔ اسی لیے قاری کو تینوں سے ہمدردی پیدا ہوگئی ہے لیکن ایک دوسرے سے بازی مار لے جانے کی دوڑمیں تینوں کسی سے کم نہیں ہیں، پھر بھی ارم کا پلہ بھاری ہے کہ اس نے اپنی سب سے محبوب چیز ،نا ئلہ کے حوالے کر دی ہے۔ ایسا کرنا اتنا آ سان نہیں،جتنا یہ سوچنااور یہ کہہ دینا،عمل کرنا بے حد مشکل کام ہے۔ خاص کر ایک چھت کے نیچے رہتے ہوئے،اپنا شوہر کسی دوسر ی عورت کے حوالے کر دینا،کتنا بڑا عمل ہے، یہ ہم آپ صرف سوچ سکتے ہیں۔ لیکن اس کا احساس،کرب اور درد، وہ عورت ہی بلکہ ہر عورت بلکہ صرف عورت ہی کرسکتی ہے۔ ارم نے یہاں سب پر بازی مار لی ہے۔ ارم حا شئے سے مر کز میں آگئی ہے۔ناولٹ کے مرکزی کردار نائلہ کو پیچھے ہٹا کر ارم نے سب کو اپنی جانب متوجہ کر لیا ہے۔ مگر نائلہ بھی کیو نکر پیچھے رہتی، جب کہ وہ ناولٹ کی ہیروئین ہے۔ اس نے بھی اپنے کردار کی وہ بلندی پیش کی کہ ارم کو بھی سوچنے پر مجبور کردیا اور قاری دو عورتوں کی جاں نثاری کے درمیان ہکا بکا سا کھڑا ہے۔ وہ یہ طے نہیں کرپارہا ہے کہ ان دونوں عورتوں میں کس کا مقام زیادہ بلند ہے:
’’
روشان!قدرت نے آج ہمیں جس مقام پر لا کھڑا کیا ہے وہ ہمارے لیے بالکل عجیب و غریب ہے۔ میں ارم کا کوئی حق چھیننا نہیں چاہتی۔ روشان! مجھے تمہا را نام ہی تحفظ دے گا۔ اس لیے باقی سارے حقوق ارم کے تم پر اور تمہارے اس پر ہیں۔ میں چاہتی ہوں تم روز کی طرح آج بھی ارم کے پاس جا کر سو جاؤ اور میں بچوں کو لے کر یہیں اس کمرے میں سویا کروں گی۔ رو شان جو کچھ ہوا وہ حالات کی مجبو ری کے سبب ہوا ہے۔ ارم نے بہت قربانی دی ہے اور میں نہیں چاہتی کہ میں اس دیوی کے حق پر ڈا کا ڈا لوں۔ اس لیے تم واپس ارم کے پاس چلے جاؤ۔‘‘ [ص89[
نائلہ نے اپنی طرف سے ہر ممکن کوشش کی کہ ارم کاکوئی حق نہ ما را جائے۔ اس نے رو شان کو اپنی مرضی کے مطابق عمل کر نے پر را ضی کرلیا۔نائلہ ایک بار پھر مرکزمیںآ گئی ہے۔روشان بھی کہانی کا مرکز ہے،مرکز نہیں وہ تو محیط ہے جو مرکز بدل جانے کے بعد بھی اپنے دائرہ نما راستے پر چلتا ہوا کبھی مرکز سے بے حد قریب اور کبھی مرکز سے دور ہوتا جاتا ہے۔اس کے جذبات کا عالم ہی الگ ہے۔وہ اپنی بیوی ارم کا وفادار شو ہر ہے تو اپنے بھا ئی کے بچوں کا سرپرست بھی،بھابھی کا سہارا بھی اور پھران سب سے زیا دہ اہم اور بڑا مرتبہ اس کا گھر کے مالک کا ہے۔وہ گھر کا ذمہ دار مرد بھی ہے۔اسے بکھرتے ہوئے گھر کو بچانا بھی ہے تو کسی مستحکم دیوار کو گر نے بھی نہیں دیناہے۔ وہ ہر طرح سے خودکو حالات کے مطابق ڈھال لیتا ہے۔ یہ اس کے کردار کی پختگی ہے،نصرت شمسی نے یہاں اخلاقی قدروں کے تحفظ کو اولیت دی ہے۔ یہی سبب ہے کہ وہ ارم،نا ئلہ اور رو شان جیسے گوشت پوست کے انسانوں کے جذبات کو مذہب کی دیوار سے نہیں ٹکراتیں۔ناولٹ یہاں آکر فارمولہ بند لگنے لگا ہے۔انسانوں کی جذبات کی فطری عکاسی کے بجائے وہ ہورہا ہے جومصنفہ نے طے کررکھا ہے۔ یہ بات جہاں مذہب کی رو سے بھی درست نہیں وہیں حقائق سے چشم پوشی بھی ہے اور یہ فنی اعتبار سے ناولٹ کا کمزور پہلو ہے۔
کہا نی یہاں ختم نہیں ہوتی بلکہ اس میں ایک اورClimax آتاہے۔ اللہ کے معا ملے بہت عجیب ہوتے ہیں جو انسانوں کی فہم سے باہر ہوتے ہیں۔ جب خوشی اور اطمینانِ قلب کا موسم آیا تو پھر ایک اور بڑی خوش خبری ملی کہ ارم کے باغ میں پھول کھلنے وا لا ہے۔ یہ ناول کا ایک اہم موڑ ہے۔ زندگی صراط مستقیم پر چلے کا نام نہیں ہے۔ اس میں نشیب و فراز آتے رہتے ہیں۔ ارم کی کھیتی ہری ہونے کی بات نے سب کو خوش کردیا ہے
’’
میری بچی!!!‘‘
انہوں نے پیار کرتے ہوئے ارم کو گلے سے لگا لیا۔
’’ خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے اس نے میری یہ دعا بھی سن لی اور تجھے یہ سعادت نصیب ہوئی۔ خدا خیر و عافیت سے تیری گود بھرے آمین۔‘‘سب کے لبوں سے ایک ساتھ’’آمین‘‘ نکلا ۔سبھی لوگ بہت خوش تھے۔نائلہ رات کو جب اپنے کمرے میں جانے کے لیے ارم کے کمرے کی طرف بڑھی تو رو شان کی سر گوشی نے اس کے قدم روک لیے۔
’’ارم!‘‘رو شان دو نوں ہاتھوں سے ارم کو گھیرے کھڑاتھا۔
’’ارم آج میں بہت خوش ہوں،بہت زیادہ، خدا نے میری ساری دعائیں قبو ل کر لیں۔ ارم مجھے فخر ہے کہ تم میری بیوی ہو۔ خدا کا شکر ہے۔ پتہ ہے ارم یہ سب تمہاری قربا نی کا ثمرہ ہے جو تم نے نائلہ کے لیے دی ہے۔ سچ ارم!۔میں بہت خوش ہوں آج مجھے پتہ چلا کہباپ بننے کی خوشی کیا ہو تی ہے۔ یا اللہ تیرا.....‘‘ [ص39-94[
ارم کا اپنا بچہ، اپنے شو ہر رو شان کا بچہ۔ کیا اب حالات بدلنے وا لے ہیں؟ کیا ارم کے اندر تبدیلی آئے گی۔؟ کیاروشان بدل جائے گا؟ نائلہ اور اس کے بچوں کا کیا ہوگا؟ کیا ایک دوسرے کے لیے دی جانے وا لی قربا نیاں ضائع ہوجائیں گی۔ ارم کا اپنے بچے سے پیار فطری ہے تقا ضا ہے۔ لیکن کیا وہ نائلہ کے بچوں کے ساتھ اب بھی وہی رویہ برقرار رکھ پائے گی اورروشان کیا بھا بھی سے بیوی بنی نائلہ کے حقوق ادا کر پائے گا اور نائلہ جس نے قربانی دیتے ہوئے روشان کی صرف اوڑھنی لی تھی، باقی سارے حقوق بحق ارم، محفوظ رکھے۔ کیا اب اپنے اور اپنے بچوں کے لیے روشان کو راغب کر پا ئے گی؟۔ سوالوں کے ہجوم،جواب کی تلاش میں تھے کہ وقت دبے پاؤں چلتا رہا اور ارم کی ڈلیوری کا وقت قریب آگیا۔ قدرت کے آ گے سب بے بس ہیں۔ اس کی چال، بے آواز اور بے مثال ہو تی ہے۔ وہ ہوا جو شاید کسی نے نہ سوچا ہو۔ ارم کے بیٹے کی پیدا ئش ہوئی۔لیکن ڈا کٹر زپوری کوشش کے باوجود ارم کو نہیں بچا سکے۔ ایک بار پھر ارم نے اپنی ابدی قربانی دے کر خود کو سب سے آگے ثابت کردیا:
’’
ڈاکٹر‘‘ روشان نے آگے بڑھ کر ڈا کٹر کو پکڑ لیا۔
’’کیسی ہے ارم.......؟‘‘روشان نے ڈا کٹر کو ہلا تے ہوئے پوچھا...مگر ڈا کٹر خاموش تھی۔ڈا کٹر کی خاموشی نے روشان کو ہلا دیا اور وہ بری طرح اسے جھنجھوڑ نے لگا۔
’’ڈاکٹر کیسی ہے میری بیویْ‘‘
’’
آئی ایم سوری مسٹر.....روشان.....آپ کی بیوی کے جسم میں سیپٹک پھیل گیا تھا جس کے سبب ہم.....ہم....انہیں..... نہیں بچا سکے۔‘‘ [ص99]
ارم کا منظر سے ہٹ جانا،خود بخود بہت سارے پیدا ہونے وا لے مسائل کا حل ثا بت ہوا۔یہ سب قدرت کے فیصلے ہو تے ہیں۔لیکن یہاں بھی مصنف کی مرضی کا دخل زیادہ دکھائی دیتا ہے۔ صرف اس لیے کہ مصنفہ نے نائلہ کی زندگی کا فیصلہ کررکھا تھا اور ناولٹ کا انجام بھی،اسی لیے ارم کی قربا نی دے کر کہانی کو الجھنے سے بچا لیا گیا ہے جب کہ ارم کا زندہ رہنا، کہانی کو پیچیدگیوں سے رو برو کراتا اور زندگی کی الجھنیں مزید بڑھ جاتیں توناولٹ کا الگ ہی انجام ہو تا۔ بہر حال نصرت شمسی نے ناولٹ کا جو انجام پیش کیا ہے وہ ایک مثا لی اور مثبت انجام ہے جس میں زندگی اپنی روش پر لوٹ آتی ہے اور وہ اوڑھنی جو اس کے وجودکو سایہ بخش رہی تھی مگر وہ سایہ عارضی ساہی تھا بالکل چاند کی طرح نائلہ کی اپنی اوڑھنی ، اپنی نہیں تھی بلکہ وہ سو رج یعنی ارم کی محتاج تھی اور نصرت شمسی نے ناولٹ کوایساانجام دیا کہ نائلہ کی اوڑھنی مکمل طور پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس کی اور صرف اس کی ہو گئی:
’’
اس نے دوپٹہ اوڑھتے ہوئے اپنے آپ کو آئینے میں دیکھا۔ اسے لگا وہ ایک دم سے ہر طرف سے ڈھک گئی ہے۔اس نے عقیدت سے دو پٹہ آ نکھوں سے لگایا اور باہر رو شان کے پاس جانے کے لیے اٹھ گئی کہ وہ اب اس کی ذمہ داری تھا۔اس کی گود میں ارم کا بچہ تھا جو ارم ان دونوں کے بیچ اپنی یاد بنا کر چھوڑ گئی تھی۔‘‘ [ص 101[
اس طورکہانی ختم ہوئی۔ یعنی ارم،خالق حقیقی سے جاملی تو نا ئلہ خدا ئے مجازی سے جالگی اور ارم کہانی میں نہ رہ کر بھی ہمیشہ کے لیے بیٹے کی شکل میں یاد بن کردونوں کے درمیان آ گئی۔ اوڑھنی نے ایک بار پھر عورت کی عزت و ناموس کو اپنے وسیع و عریض وجود میں ڈھک لیا۔
ناولٹ کا جیسا میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ موضوع نیانہیں ہے،نہ ہی اس کا انداز بہت مختلف ہے۔یہ ایک معاشرتی ناولٹ ہے جو ایک مشرقی،مذہبی خصوصاً مسلم لڑ کی کی زندگی کی کشا کش کو پیش کرتا ہے اور عورت کے تحفظ کا سوال کھڑا کرتا ہے۔ ناولٹ میں تانثیت کے عناصر بھی موجود ہیں۔ خود نائلہ کا زندگی کے لیے جدو جہد کرنا بلکہ مرد سماج سے ٹکرا جانا خصوصی طور پر سکندر حیات جیسے اشخاص کے منہ پر طمانچہ مارنا، عورت کا بہت بڑ اا قدام ہے۔ یہ نئی نسل کے لیے بڑا سبق ہے جولڑ کیوں اور بچیوں میں حوصلہ اور ہمت بڑھا نے کا کام کرے گا۔ دوسرے ارم کا اقدام یعنی ایک عورت کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لیے دوسری عورت کا سامنے آ نا، صرف سامنے آنا ہی نہیں بلکہ اپنی عزیز ترین شے کو بطور قربانی پیش کردینا بہت بڑی بات ہے۔ناول مثبت قدروں کا تحفظ کرتا ہوا عورت کے مقام و مرتبے کو بلند کرتا ہے۔
ناولٹ میں مکالمے ضرورت کے مطابق ہیں۔ زبان اور اسلوب سادہ اور عام فہم ہے۔کہیں کوئی پیچ یا ابہام نہیں۔زندگی کا کوئی بڑا فلسفہ یا نفسیاتی بندش ایسی نہیں کہ عام قاری نہ سمجھ پائے۔ زندگی کا سیدھا سادا، طے شدہ راستوں پر چلنے کا ایک شو ہے جو اوڑھنی کی سما جی حیثیت اور حسیت کو عام کرتے ہوئے ثابت کرتاہے کہ عورت کے تحفظ کے لیے اوڑھنی کتنی ضروری ہے ۔بغیر اوڑھنی کے عورت، کھلے میں رکھا ہوا قیمتی سامان ہے جس پر ہر چلتے پھرتے کی نظر ہوتی ہے اور مالِ مفت دلِ بے رحم کے مصداق لوگ اسے ہڑپ جانے کو تیار رہتے ہیں۔نائلہ،ارم اور روشان جیسے کردار ہمارے سماج کا حصہ ہیں۔ناولٹ پڑھتے ہوئے محسوس ہو تا ہے کہ یہ سب ہمارے سماج کے مناظر ہیں۔ یہی کسی فن پارے کی کامیابی کی دلیل بھی ہے۔
***
Dr. Aslam Jamshedpuri
HOD, Urdu, CCS University, Meerut
aslamjamshedpuri@gmail.com
09456259850

 مضامین دیگر 

Comment Form