اردو ناول کا تنقیدی جائیزہ 1980 کے بعد


مبصر: ڈاکٹر منور حسن کمال


03 May, 2018 | Total Views: 407

   
نام کتاب: اردوناول کا تنقیدی جائیزہ 1980 کے بعد
مصنف : ڈاکٹر احمد صغیر
صفحات : 432
قیمت : 450
ناشر : ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس دہلی -6
ڈاکٹر احمد صغیر نوجوان تخلیق کاروں کے اُس گروہ سے تعلق رکھتے ہیں جس نے اپنی تخلیقات سے اپنے ہم عصروں کو ہی نہیں اپنے پیش روؤں کو بھی متاثر کیا ہے۔ وہ اپنے اچھوتے اور جداگانہ طرز کے ناولوں ’’جنگ جاری ہے‘‘ 2002 ’’دروازہ ابھی بند ہے‘‘ 2008 اور ’’ایک بوند اُجالا ‘‘2013 کے سبب مقبول و معروف ہو چکے ہیں۔ اس سے قبل ’’انّا کو آنے دو‘‘ اور ان کی دیگر کہانیاں متوجہ کرتی رہی ہیں۔ احمد صغیر کی تنقید کی کتابوں میں ’’نئی کہانی نیا مزاج‘‘ ،’’جدید اُردو افسانے میں احتجاج کی بازگشت‘‘ ، ’’اُردو افسانے کا تنقیدی جائزہ 1980 کے بعد‘‘ اور ’’بہار میں اُردو فکشن ایک تنقیدی مطالعہ‘‘ طبع ہو کر احمد صغیر کی ناموری اور شہرت کا ذریعہ بن چکی ہیں۔
پیش نظر کتاب ’’اُردو ناول کا تنقیدی جائزہ 1980 کے بعد‘‘ اُن کی تازہ تصنیف ہے۔ اس کتاب میں بقول احمد صغیر اُردو زبان کی ابتدا سے لے کر 2014 تک کے ناولوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے حرف اوّل میں اس کتاب سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے تحریر کیا ہے :
’’
میرا مقصد 1980 کے بعد کے ناولوں کو متعارف کرانا ہے۔ نہ کہ اس پر تنقیدی نگاہ ڈالنا۔ کیونکہ میں ایک تخلیقکار ہوں ناقد نہیں۔ میں نے ان ناولوں کو ایک تخلیقکار کی نگاہ سے دیکھا ہے اور جو محسوس کیا ہے اُس پر خامہ فرسائی کی ہے۔‘‘
یہاں اُردو ادب کے گمشدہ قاری کے ذہن میں یہ سوال ابھرتا ہے کہ جب مصنف ناولوں کو متعارف کرا رہے ہیں اور ان پر تنقیدی نگاہ نہیں ڈال رہے ہیں تو پھر کتاب کا نام اُردو ناول کا تنقیدی جائزہ کے معنیٰ حقیقت سے دور ہو جاتے ہیں۔
اُردو ناول کا تنقیدی جائزہ 1980 کے بعد پانچ ابواب پر تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلے باب میں ناول کے فن پر گفتگو کی گئی ہے۔ اس کے تحت یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ ناول قصے‘ کہانی سے قدرے مختلف ہے اور شاید دنیا پہلا ناول نگار سروانٹس ہے اور اس کا ناول ’’ڈان کو ئکزٹ پہلا ناول ہے۔ یہ ناول 1605 میں اسپین میں شائع ہوا۔ یہ ناول عہد قدیم کی داستانوں پر مبنی ہے۔ انیسویں صدی میں رومانی تحریک کے اثر سے ناول میں تبدیلی آگئی اور یہ ناول نگاری کا زرّیں عہد ہے۔
دوسرا باب اُردو ناول آغاز اور ارتقا ہے۔ ناول داستان کی ترقیافتہ شکل ہے۔ اس باب میں مولوی نذیر احمد‘ عبدالحلیم شرر‘ محمد علی طبیب‘راشدالخیری اور مرزا ہادی رسوا کے ناولوں پر گفتگو کرتے ہوئے پریم چند‘ قاضی عبدالغفار‘ سجاد ظہیر‘ کرشن چندر‘ سعادت حسن منٹو‘ عصمت چغتائی‘ قاضی عبدالستار‘ اختر اورینوی‘ سہیل عظیم آبادی‘ خدیجہ مستور‘ خواجہ احمد عباس‘ صلاح الدین پرویز‘ الیاس احمد گدّی‘ پیغام آفاقی‘ اقبال مجید اور نورالحسنین وغیرہ کے ناولوں پر پُر مغز گفتگو کی گئی ہے۔ ساتھ ہی ان کے طرز تحریر اور ناولوں میں پائی جانے والی شکست و ریخت کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔
تیسرا باب اُردو ناول 1980 کے بعد ہے۔ اس باب میں عبدالصمد کا ’’دو گز زمین‘‘ اور ان کے دوسرے ناول‘ پیغام آفاقی کا ’’مکان‘‘ اور ’’پلیتہ‘‘ غضنفر کے ناول ‘ حسین الحق‘ اقبال مجید‘ بانو قدسیہ‘ انتظار حسین‘ صلاح الدین پرویز‘ جوگندر پال‘ الیاس احمد گدّی‘ رام لعل‘ پیغام آفاقی‘ شموئل احمد‘ سید محمد اشرف‘ ساجدہ زیدی‘ علی امام نقوی‘ نند کشور وکرم‘ نور الحسنین‘ ترنم ریاض‘ رحمن عباس‘ آنند لہر‘ ثروت خان‘ محمد حسن‘ ایم۔ مبین اور شائستہ فاخری وغیرہ مصنفین کے ساتھ ساتھ ان کی ناول نگاری پر جو گفتگو کی گئی ہے اس کو بھی شامل کر لیا ہے۔درج بالا ناول نگاروں اور ان کی تخلیقات کا تعارف پیش کرتے ہوئے احمد صغیر نے یہ بھی کوشش کی ہے کہ ان ناول نگاروں سے متعلق تنقید نگاروں کی آرا کو بھی شامل کتاب کیا جائے۔ احمد صغیر نے ناولوں پر زبان بیان سے متعلق بھی گفتگو کی ہے اور ان میں جذبات کی عکاسی کس حد تک پائی جاتی ہے اور ادبی آہنگ کی کیا کیفیت ہے۔ اس سے بھی روشناس کرایا ہے۔ ساتھ ہی ناول کے کرداروں کے اندرون کو بھی اُجاگر کرنے کی سعی کی گئی ہے۔ اس سے پورے ناول کی کیفیت ‘ کمیت اور کلیت واضح ہو جاتی ہے۔
چوتھا باب اُردو ناول کا تنقیدی جائزہ 1980 کے بعد ہے۔ اس باب میں ناول کے ارتقاء اس کے پھیلاؤ آزادی سے قبل اور آزادی کے بعد کا فرق‘ اصلاحی اور تعمیری ناولوں کے ساتھ ساتھ تاریخی ناولوں کا مختصراً جائزہ لیا گیا ہے۔ پانچویں باب میں ناول نگاروں کا تعارف پیش کیا گیا ہے۔
احمد صغیر چونکہ خود تخلیقکار ہیں ۔ اپنی تمام تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے انہوں نے کتاب میں شامل ناول نگاروں اور ان کی تخلیقات پر جو کارآمد گفتگو کی ہے۔ اس سے نہ صرف تخلیقات کے اجزائے ترکیبی کھل کر سامنے آگئے ہیں بلکہ اس سے مصنفین کی قوت متخیلہ اور قوت اختراع کا بھی پتہ چلتا ہے۔
احمد صغیر کی ذہانت کو داد دینے کو جی چاہتا ہے کہ انہوں نے اپنی غیر معمولی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اُردو ناول کے تنقیدی جائزے کو حقیقت پسندانہ اور تہہ دار تحریروں سے دلچسپ بنا دیا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ جس ادیب و ناقد کا مطالعہ اور تجزیہ جتنا وسیع اور تفصیلی ہوگا۔ اسی کی مناسبت سے وہ گفتگو کرے گا۔ احمد صغیر چونکہ ذاتی طور پر ایک اچھے تخلیقکار ہیں۔ اس وجہ سے ان کی گفتگو جامع بھی ہوتی ہے اور معیاری بھی۔
یقین کیا جانا چاہئے کہ ڈاکٹر احمد صغیر کی یہ کتاب بھی ان کی سابقہ کتابوں کی طرح قبول عام کی سند حاصل کرے گی اور ریسرج اسکالر مصنف کی اس سنجیدہ گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے ناول نگاروں اور ان کی تخلیقات پر مزید تحقیق کریں گے
ll
*******************************

Comment Form



اردو فکشن

© 2017 Urdu Fiction. All right reserved.

Developed By: Aytis Cloud Solutions Pvt. Ltd.