19 Jan, 2017 | Total Views: 321

مہا لکشمی کا پل

کرشن چندر

 اسٹیشن کے اس پار لکشمی جی کا ایک مندر ہے۔ اسے لوگ ریس کورس بھی کہتے ہیں۔ اس مندر میں پوجا کرنے والے ہارتے زیادہ ہیں جیتتے بہت کم ہیں۔ مہا لکشمی سٹیشن کے اس پار ایک بہت بڑی بدرو ہے جو انسانی جسموں کی غلاظت کو اپنے متعفن پانیوں میں گھولتی ہوئی شہر سے باہر چلی جاتی ہے۔ مندر میں انسان کے دل کی غلاظت دھلتی ہے اور اس بدرو میں انسان کے جسم کی غلاظت اور ان دونوں کے بیچ میں مہا لکشمی کا پل ہے۔ مہا لکشمی کے پل کے اوپر بائیں طرف لوہے کے جنگلے پر چھ ساڑھیاں لہرا رہی ہیں۔ پل کے اس طرح ہمیشہ اس مقام پر چند ساڑھیاں لہراتی رہتی ہیں۔ یہ ساڑھیاں کوئی بہت قیمتی نہیں ہیں۔ ان کے پہننے والے بھی کوئی بہت زیادہ قیمتی نہیں ہیں۔ یہ لوگ ہر روز ان ساڑھیوں کو دھو کر سوکھنے کے لئے ڈال دیتے ہیں اور ریلوے لائن کے آر پار جاتے ہوئے لوگ، مہا لکشمی اسٹیشن پر گاڑی کا انتظار کرتے ہوئے لوگ، گاڑی کی کھڑکی اور دروازوں سے جھانک کر باہر دیکھنے والے لوگ اکثر ان ساڑھیوں کو ہوا میں جھولتا ہوا دیکھتے ہیں۔ وہ ان کے مختلف رنگ دیکھتے ہیں۔ بھورا، گہرا بھورا، مٹ میلا نیلا، قرمزی بھورا، گندا سرخ کنارہ گہرا نیلا اور لال، وہ لوگ اکثر انہی رنگوں کو فضا میں پھیلے ہوئے دیکھتے ہیں۔ ایک لمحے کے لئے۔ دوسرے لمحے میں گاڑی پل کے نیچے سے گزر جاتی ہے۔ ان ساڑھیوں کے رنگ اب جاذبِ نظر نہیں رہے۔ کسی زمانہ میں ممکن ہے جب یہ نئی خریدی گئی ہوں، ان کے رنگ خوبصورت اور چمکتے ہوئے ہوں، مگر اب نہیں ہیں۔ متواتر دھوئے جانے سے ان کے رنگوں کی آب و تاب مر چکی ہے اور اب یہ ساڑھیاں اپنے پھیکے سیٹھے روزمرہ کے انداز کو لئے بڑی بے دلی سے جنگلے پر پڑی نظر آتی ہیں۔ آپ دن میں انہیں سو بار دیکھیں۔ یہ آپ کو کبھی خوب صورت دکھائی نہ دیں گی۔ نہ ان کا رنگ روپ اچھا ہے نہ ان کا کپڑا۔ یہ بڑی سستی، گھٹیا قسم کی ساڑھیاں ہیں۔ ہر روز دھلنے سے ان کا کپڑا بھی تار تار ہو رہا ہے۔ ان میں کہیں کہیں روزن بھی نظر آتے ہیں۔ کہیں ادھڑے ہوئے ٹانکے ہیں۔ کہیں بد نما داغ جو اس قدر پائیدار ہیں کہ دھوئے جانے سے بھی نہیں دھلتے بلکہ اور گہرے ہوتے جاتے ہیں۔ میں ان ساڑھیوں کی زندگی کو جانتا ہوں کیونکہ میں ان لوگوں کو جانتا ہوں جو ان ساڑھیوں کو استعمال کرتے ہیں۔ یہ لوگ مہا لکشمی کے پل کے قریب ہی بائیں طرف آٹھ نمبر کی چال میں رہتے ہیں۔ یہ چال متوالی نہیں ہے بڑی غریب کی چال ہے۔ میں بھی اسی چال میں رہتا ہوں، اس لئے آپ کو ان ساڑھیوں اور ان کے پہننے والوں کے متعلق سب کچھ بتا سکتا ہوں۔ ابھی وزیر اعظم کی گاڑی آنے میں بہت دیر ہے۔ آپ انتظار کرتے کرتے اکتا جائیں گے اس لئے اگر آپ ان چھ ساڑھیوں کی زندگی کے بارے میں مجھ سے کچھ سن لیں تو وقت آسانی سے کٹ جائے گا۔ ادھر یہ جو بھورے رنگ کی ساڑھی لٹک رہی ہے یہ شانتا بائی کی ساڑھی ہے۔ اس کے قریب جو ساڑھی لٹک رہی ہے وہ بھی آپ کو بھورے رنگ کی ساڑھی دکھائی دیتی ہو گی مگر وہ تو گہرے بھورے رنگ کی ہے۔ آپ نہیں میں اس کا گہرا بھورا رنگ دیکھ سکتا ہوں کیونکہ میں اسے اس وقت سے جانتا ہوں جب اس کا رنگ چمکتا ہوا گہرا بھورا تھا اور اب اس دوسری ساڑھی کا رنگ بھی ویسا ہی بھورا ہے جیسا شانتا بھائی کی ساڑھی کا اور شائد آپ ان دونوں ساڑھیوں میں بڑی مشکل سے کوئی فرق محسوس کر سکیں۔ میں بھی جب ان کے پہننے والوں کی زندگیوں کو دیکھتا ہوں تو بہت کم فرق محسوس کرتا ہوں مگر یہ پہلی ساڑھی جو بھورے رنگ کی ہے وہ شانتا بھائی کی ساڑھی ہے اور جو دوسری بھورے رنگ کی ہے اور جس کا گہرا رنگ بھورا صرف میری آنکھیں دیکھ سکتی ہیں۔ وہ جیونا بائی کی ساڑھی ہے۔ شانتا بائی کی زندگی بھی اس کی ساڑھی کے رنگ کی طرح بھوری ہے۔ شانتا بائی برتن مانجھنے کا کام کرتی ہے۔ اس کے تین بچے ہیں۔ ایک بڑی لڑکی ہے دو چھوٹے لڑکے ہیں۔ بڑی لڑکی کی عمر چھ سال ہو گی۔ سب سے چھوٹا لڑکا دو سال کا ہے۔ شانتا بائی کا خاوند سیون مل کے کپڑ کھاتے میں کام کرتا ہے۔ اسے بہت جلد جانا ہوتا ہے۔ اس لئے شانتا بائی اپنے خاوند کے لئے دوسرے دن کی دوپہر کا کھانا رات ہی کو پکا کے رکھتی ہے، کیونکہ صبح اسے خود برتن صاف کرنے کے لئے اور پانی ڈھونے کے لئے دوسروں کے گھروں میں جانا ہوتا ہے اور اب وہ ساتھ میں اپنے چھ برس کی بچی کو بھی لے جاتی ہے اور دوپہر کے قریب واپس چال میں آتی ہے۔ واپس آ کے وہ نہاتی ہے اور اپنی ساڑھی دھوتی ہے اور سکھانے کے لئے پل کے جنگلے پر ڈال دیتی ہے اور پھر ایک بے حد غلیظ اور پرانی دھوتی پہن کر کھانے پکانے میں لگ جاتی ہے۔ شانتا بائی کے گھر چولہا اس وقت سلگ سکتا ہے جب دوسروں کے ہاں چولھے ٹھنڈے ہو جائیں۔ یعنی دوپہر کو دو بجے اور رات کے نو بجے۔ ان اوقات میں ادھر اور ادھر سے دونوں وقت گھر سے باہر برتن مانجھنے اور پانی ڈھونے کا کام کرنا ہوتا ہے۔ اب تو چھوٹی لڑکی بھی اس کا ہاتھ بٹاتی ہے۔ شانتا بائی برتن صاف کرتی ہے۔ چھوٹی لڑکی برتن دھوتی جاتی ہے۔ دو تین بار ایسا ہوا کہ چھوٹی لڑکی کے ہاتھ سے چینی کے برتن گر کر ٹوٹ گئے۔ اب میں جب کبھی چھوٹی لڑکی کی آنکھیں سوجی ہوئی اور اس کے گال سرخ دیکھتا ہوں تو سمجھ جاتا ہوں کہ کسی بڑے گھر میں چینی کے برتن ٹوٹے ہیں اور اس وقت شانتا بھی میری نمستے کا جواب نہیں دیتی۔ جلتی بھنتی بڑبڑاتی چولہا سلگانے میں مصروف ہو جاتی ہے اور چولہے میں آگ کم اور دھواں زیادہ نکالنے میں کامیاب ہو جاتی ہے۔ چھوٹا لڑکا جو دو سال کا ہے دھوئیں سے اپنا دم گھٹتا دیکھ کر چیختا ہے تو شانتا بائی اس کے چینی ایسے نازک رخساروں پر زور زور کی چپتیں لگانے سے باز نہیں آتی اس پر بچہ اور زیادہ چیختا ہے۔ یوں تو یہ دن بھر روتا رہتا ہے کیونکہ اسے دودھ نہیں ملتا ہے اور اسے اکثر بھوک رہتی ہے اور دو سال کی عمر ہی میں اسے باجرے کی روٹی کھانا پڑتی ہے۔ اسے اپنی ماں کا دودھ دوسرے بھائی بہن کی طرح صرف پہلے چھ سات ماہ نصیب ہوا، وہ بھی بڑی مشکل سے۔ پھر یہ بھی خشک باجری اور ٹھنڈے پانی پر پلنے لگا۔ ہماری چال کے سارے بچے اسی خوراک پر پلتے ہیں۔ وہ دن بھر ننگے رہتے ہیں اور رات کو گدڑی اوڑھ کر سو جاتے ہیں۔ سوتے میں بھی وہ بھوکے رہتے ہیں اور جاگتے میں بھی بھوکے رہتے ہیں اور جب شانتا بائی کے خاوند کی طرح بڑے ہو جاتے ہیں تو پھر دن بھر باجری اور ٹھنڈا پانی پی پی کر کام کرتے جاتے ہیں اور ان کی بھوک بڑھتی جاتی ہے اور ہر وقت معدے کے اندر اور دل کے اندر اور دماغ کے اندر اک بوجھل سی دھمک محسوس کرتے ہیں اور جب پگار ملتی ہے تو ان میں سے کئی ایک سیدھے تاڑی خانے کا رخ کرتے ہیں۔ تاڑی پی کر چند گھنٹوں کے لئے یہ دھمک زائل ہو جاتی ہے لیکن آدمی ہمیشہ تو تاڑی نہیں پی سکتا۔ ایک دن پئے گا، دو دن پئے گا، تیسرے دن کی تاڑی کے پیسے کہاں سے لائے گا۔ آخر کھولی کا کرایہ دینا ہے۔ راشن کا خرچہ ہے۔ بھاجی ترکاری ہے۔ تیل اور نمک ہے۔ بجلی اور پانی ہے۔ شانتا بائی کی بھوری ساڑھی ہے جو چھٹے ساتویں ماہ تار تار ہو جاتی ہے۔ کبھی سات ماہ سے زیادہ نہیں چلتی۔ یہ مل والے بھی پانچ روپے چار آنے میں کیسی کھدی نکمی ساڑھی دیتے ہیں۔ ان کے کپڑے میں ذرا جان نہیں ہوتی۔ چھٹے ماہ سے جو تار تار ہونا شروع ہوتا ہے تو ساتویں ماہ بڑی مشکل سے سی کے، جوڑ کے، گانٹھ کے، ٹانگے لگا کے کام دیتا ہے اور پھر وہی پانچ روپے چار آنے خرچ کرنا پڑتے ہیں اور وہی بھورے رنگ کی ساڑھی آ جاتی ہے۔ شانتا کو یہ رنگ بہت پسند ہے اس لئے کہ یہ میلا بہت دیر میں ہوتا ہے۔ اسے گھروں میں جھاڑو دینا ہوتی ہے۔ برتن صاف کرنے ہوتے ہیں، تیسری چوتھی منزل تک پانی ڈھونا ہوتا ہے۔ وہ بھورا رنگ پسند نہیں کرے گی تو کیا کھلتے ہوئے شوخ رنگ گلابی، بسنتی، نارنجی پسند کرے گی۔ وہ اتنی بے وقوف نہیں ہے۔ وہ تین بچوں کی ماں ہے لیکن کبھی اس نے یہ شوخ رنگ بھی دیکھے تھے، پہنے تھے۔ انہیں اپنے دھڑکتے ہوئے دل کے ساتھ پیار کیا تھا۔ جب وہ دھار دار میں اپنے گاؤں میں تھی جہاں اس نے بادلوں میں شوخ رنگوں والی دھنک دیکھی تھی، جہاں میلوں میں اس نے شوخ رنگ ناچتے ہوئے دیکھے تھے، جہاں اس کے باپ کے دھان کے کھیت تھے، ایسے شوخ ہرے ہرے رنگ کے کھیت اور آنگن میں پیرو کا پیڑ جس کے ڈال ڈال سے وہ پیرو توڑ توڑ کر کھایا کرتی تھی۔ جانے اب پیروؤں میں وہ مزا ہی نہیں ہے، وہ شیرینی اور گھلاوٹ ہی نہیں ہے۔ وہ رنگ وہ چمک دمک کہاں جا کے مر گئی اور وہ سارے رنگ کیوں یک لخت بھورے ہو گئے۔ شانتا بائی کبھی برتن مانجھتے مانجھتے کھانا پکاتے، اپنی ساڑھی دھوتے، اسے پل کے جنگلے پر لا کر ڈالتے ہوئے یہ سوچا کرتی ہے اور اس کی بھوری ساڑھی سے پانی کے قطرے آنسوؤں کی طرح ریل کی پٹڑی پر بہتے جاتے ہیں اور دور سے دیکھنے والے لوگ ایک بھورے رنگ کی بد صورت عورت کو پل کے اوپر جنگلے پر ایک بھوری ساڑھی کو پھیلاتے دیکھتے ہیں اور بس دوسری لمحے گاڑی پل کے نیچے سے گزر جاتی ہے۔ جیونا بائی کی ساڑھی جو شانتا بائی کی ساڑھی کے ساتھ لٹک رہی ہے، گہرے بھورے رنگ کی ہے۔ بظاہر اس کا رنگ شانتا بائی کی ساڑھی سے بھی پھیکا نظر آئے گا لیکن اگر آپ غور سے دیکھیں تو اس پھیکے پن کے باوجود یہ آپ کو گہرے بھورے رنگ کی نظر آئے گی۔ یہ ساڑھی بھی پانچ روپے چار آنے کی ہے اور بڑی ہی بوسیدہ ہے۔ دو ایک جگہ سے پھٹی ہوئی تھی لیکن اب وہاں پر ٹانکے لگ گئے ہیں اور اتنی دور سے معلوم بھی نہیں ہوتے۔ ہاں آپ وہ بڑا ٹکڑا ضرور دیکھ سکتے ہیں جو گہرے نیلے رنگ کا ہے اور اس ساڑھی کے بیچ میں جہاں سے یہ ساڑھی بہت پھٹ چکی تھی لگایا گیا ہے۔ یہ ٹکڑا جیونا بائی کی اس سے پہلی ساڑھی کا ہے اور دوسری ساڑھی کو مضبوط بنانے کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔ جیونا بائی بیوہ ہے اور اس لئے وہ ہمیشہ پرانی چیزوں سے نئی چیزوں کو مضبوط بنانے کے ڈھنگ سوچا کرتی ہے۔ پرانی یادوں سے نئی یادوں کی تلخیوں کو بھول جانے کی کوشش کرتی ہے۔ جیونا بائی اپنے خاوند کے لئے روتی رہتی ہے، جس نے ایک دن اسے نشے میں مار مار کر اس کی آنکھ کانی کر دی تھی۔ وہ اس لئے نشے میں تھا کہ وہ اس روز مل سے نکالا گیا تھا۔ بڈھا ڈھونڈو اب مل میں کسی کام کا نہیں رہا تھا۔ گو وہ بہت تجربے کار تھا لیکن اس کے ہاتھوں میں اتنی طاقت نہ رہی تھی کہ وہ جوان مزدوروں کا مقابلہ کر سکتا بلکہ وہ تو اب دن رات کھانسی میں مبتلا رہنے لگا تھا۔ کپاس کے ننھے ننھے ریشے اس کے پھیپڑوں میں جا کے ایسے دھنس گئے تھے جیسے چرخیوں اور اینٹوں میں سوت کے چھوٹے چھوٹے مہین تاگے پھنس کر لگ جاتے ہیں۔ جب برسات آتی تو یہ ننھے منے ریشے اسے دمے میں مبتلا کر دیتے اور جب برسات نہ ہوتی تو وہ دن بھر اور رات بھر کھانستا۔ ایک خشک مسلسل کھنکار۔۔۔ گھر میں اور کارخانے میں جہاں وہ کام کرتا تھا۔۔۔ سنائی دیتی رہتی تھی۔ مل کے مالک نے اس کھانسی کی خطرناک گھنٹی کو سنا اور ڈھونڈو کو مل سے نکال دیا۔ ڈھونڈو اس کے چھ ماہ بعد مر گیا۔ جیونا بائی کو اس کے مرنے کا بہت غم ہوا۔ کیا ہوا اگر غصے میں آ کے ایک دن اس نے جیونا بائی کی آنکھ نکال دی۔ تیس سال کی شادی شدہ زندگی ایک لمحے پر قربان نہیں کی جا سکتی اور اس کا غصہ بجا تھا۔ اگر مل مالک ڈھونڈو کو یوں بے قصور نوکری سے الگ نہ کرتا تو کیا جیونا کی آنکھ نکل سکتی تھی۔ ڈھونڈو ایسا نہ تھا۔ اسے اپنی بیکاری کا غم تھا۔ اپنی پینتیس سالہ ملازمت سے برطرف ہونے کا رنج تھا اور سب سے بڑا رنج اسے اس بات کا تھا کہ مل مالک نے چلتے وقت اسے ایک دھیلہ بھی تو نہیں دیا تھا۔ پینتیس سال پہلے جیسے ڈھونڈو خالی ہاتھ مل میں کام کرنے آیا تھا اسی طرح خالی ہاتھ واپس لوٹا اور دروازے سے باہر نکلنے پر اور اپنا نمبری کارڈ پیچھے چھوڑ آنے پر اسے ایک دھچکا سا لگا۔ باہر آ کے اسے ایسا معلوم ہوا کہ جیسے ان پینتیس سالوں میں کسی نے اس کا سارا رنگ، اس کا سارا خون اس کا سارا رس چوس لیا ہو اور اسے بیکار سمجھ کر باہر کوڑے کرکٹ کے ڈھیر پر پھینک دیا اور ڈھونڈو بڑی حیرت سے مل کے دروازے کو اور اس بڑی چمنی کو دیکھنے لگا جو بالکل اس کے سر پر خوفناک دیو کی طرح آسمان سے لگی کھڑ ی تھی۔ یکایک ڈھونڈو نے غم اور غصے سے اپنے ہاتھ ملے، زمین پر زور سے تھوکا اور پھر تاڑی خانے چلا گیا۔ لیکن جیونا کی ایک آنکھ جب بھی نہ جاتی، اگر اس کے پاس علاج کے لئے پیسے ہوتے۔ وہ آنکھ تو گل گل کر، سڑ سڑ کر خیراتی ہسپتالوں میں ڈاکٹروں اور کمپونڈروں اور نرسوں کی بد احتیاطیوں، گالیوں اور لا پروائیوں کا شکار ہو گئی اور جب جیونا اچھی ہوئی تو ڈھونڈو بیمار پڑ گیا اور ایسا بیمار پڑاکہ پھر بستر سے نہ اٹھ سکا۔ ان دنوں جیونا اس کی دیکھ بھال کرتی تھی۔ شانتا بائی نے مدد کے طور پر اسے چند گھروں میں برتن مانجھنے کا کام دلوادیا تھا اور گو وہ اب بوڑھی تھی اور مشاقی اور صفائی سے برتنوں کو صاف نہ رکھ سکتی تھی پھر بھی وہ آہستہ آہستہ رینگ رینگ کر اپنے کمزور ہاتھوں میں جھوٹی طاقت کے بودے سہارے پر جیسے تیسے کام کرتی رہی۔ خوبصورت لباس پہننے والی، خوشبودار تیل لگانے والی بیویوں کی گالیاں سنتی رہی اور کام کرتی رہی۔کیونکہ اس کا ڈھونڈو بیمار تھا اور اسے اپنے آپ کو اور اپنے خاوند کو زندہ رکھنا تھا۔ لیکن ڈھونڈو زندہ نہ رہا اور اب جیونا بائی اکیلی تھی۔ خیریت اس میں تھی کہ وہ بالکل اکیلی تھی اور اب اسے صرف اپنا دھندا کرنا تھا۔ شادی کے دو سال بعد اس کے ہاں ایک لڑکی پیدا ہوئی لیکن جب وہ جوان ہوئی تو کسی بدمعاش کے ساتھ بھاگ گئی اور اس کا آج تک کسی کو پتہ نہ چلا کہ وہ کہاں ہے۔ پھر کسی نے بتایا اور پھر بعد میں بہت سے لوگوں نے بتایا کہ جیونا بائی کی بیٹی فارس روڈ پر چمکیلا بھڑکیلا ریشمی لباس پہنے بیٹھی ہے لیکن جیونا کو یقین نہ آیا۔ اس نے اپنی ساری زندگی پانچ روپے چار آنے کی دھوتی میں بسر کر دی تھی اور اسے یقین تھا کہ اس کی لڑکی بھی ایسا کرے گی۔ وہ ایسا نہیں کرے گی۔ اس کا اسے کبھی خیال نہ آیا تھا۔ وہ کبھی فارس روڈ نہیں گئی کیونکہ اسے یقین تھا کہ اس کی بیٹی وہاں نہیں ہے۔ بھلا اس کی بیٹی وہاں کیوں جانے لگی۔ یہاں اپنی کھولی میں کیا تھا۔ پانچ روپے چار آنے والی دھوتی تھی۔ باجرے کی روٹی تھی۔ ٹھنڈا پانی تھا۔ سوکھی عزت تھی۔ یہ سب کچھ چھوڑ کر فارس روڈ کیوں جانے لگی۔ اسے تو کوئی بدمعاش اپنی محبت کا سبز باغ دکھا کر لے گیا تھا کیونکہ عورت محبت کے لئے سب کچھ کر گزرتی ہے۔ خود وہ تیس سال پہلے اپنے ڈھونڈو کے لئے اپنے ماں باپ کا گھر چھوڑ کے چلی نہیں آئی تھی۔ جس دن ڈھونڈو مرا اور جب لوگ اس کی لاش جلانے کے لئے لے جانے لگے اور جیونا نے اپنی سیندور کی ڈبیا اپنی بیٹی کی انگیا پر انڈیل دی جو اس نے بڑی مدت سے ڈھونڈو کی نظروں سے چھپا رکھی تھی۔ عین اسی وقت ایک گدرائے ہوئے جسم کی بھاری عورت بڑا چمکیلا لباس پہنے اس سے آ کے لپٹ گئی اور پھوٹ پھوٹ کے رونے لگی اور اسے دیکھ کر جیونا کو یقین آگیا کہ جیسے اس کا سب کچھ مر گیا ہے۔ اس کا پتی اس کی بیٹی، اس کی عزتجیسے وہ زندگی بھر روٹی نہیں غلاظت کھاتی رہی ہے۔ جیسے اس کے پاس کچھ نہیں تھا۔ شروع دن ہی سے کچھ نہیں تھا۔ پیدا ہونے سے پہلے ہی اس سے سب کچھ چھین لیا گیا تھا۔ اسے نہتا، ننگا اور بے عزت کر دیا گیا تھا اور جیونا کو اسی ایک لمحے میں احساس ہوا کہ وہ جگہ جہاں اس کا خاوند زندگی بھر کام کرتا رہا اور وہ جگہ جہاں اس کی آنکھ اندھی ہو گئی اور وہ جگہ جہاں اس کی بیٹی اپنی دکان سجا کے بیٹھ گئی، ایک بہت بڑا کارخانہ تھا جس میں کوئی ظالم جابر ہاتھ انسانی جسموں کو لے کر گنے کا رس نکالنے والی چرخی میں ٹھونستا چلا جاتا ہے اور دوسرے ہاتھ سے توڑ مروڑ کر دوسری طرف پھینکتا جاتا ہے اور یکا یک جیونا اپنی بیٹی کو دھکا دے کر الگ کھڑی ہو گئی اور چیخیں مار مار کر رونے لگی۔ تیسری ساڑھی کا رنگ مٹ میلا نیلا ہے۔یعنی نیلا بھی ہے اور میلا بھی اور مٹیالا بھی ہے۔ کچھ ایسا عجب سا رنگ ہے جو بار بار دھونے پر بھی نہیں نکھرتا بلکہ غلیظ ہو جاتا ہے۔ یہ میری بیوی کی ساڑھی ہے۔ میں فورٹ میں دھنو بھائی کی فرم میں کلرکی کرتا ہوں مجھے پینسٹھ روپے تنخواہ ملتی ہے۔ سیون مل اور بکسریا مل کے مزدوروں کو یہی تنخواہ ملتی ہے اس لئے میں بھی ان کے ساتھ آٹھ نمبر کی چال کی ایک کھولی میں رہتا ہوں۔ مگر میں مزدور نہیں ہوں کلرک ہوں۔ میں فورٹ میں نوکر ہوں۔ میں دسویں پاس ہوں۔ میں ٹائپ کر سکتا ہوں۔ میں انگریزی میں عرضی بھی لکھ سکتا ہوں۔ میں اپنے وزیر اعظم کی تقریر جلسے میں سن کر سمجھ بھی لیتا ہوں۔ آج ان کی گاڑی تھوڑی دیر میں مہا لکشمی کے پل پر آئے گی، نہیں وہ ریس کورس نہیں جائیں گے۔ وہ سمندر کے کنارے ایک شاندار تقریر کریں گے۔ اس موقع پر لاکھوں آدمی جمع ہوں گے۔ ان لاکھوں میں میں بھی ایک ہوں گا۔ میری بیوی کو اپنی وزیر اعظم کی باتیں سننے کا بہت شوق ہے مگر میں اسے اپنے ساتھ نہیں لے جا سکتا کیونکہ ہمارے آٹھ بچے ہیں اور گھر میں ہر وقت پریشانی سی رہتی ہے۔ جب دیکھو کوئی نہ کوئی چیز کم ہو جاتی ہے۔ راشن تو روز کم پڑ جاتا ہے۔ اب نل میں پانی بھی کم آتا ہے۔ رات کو سونے کے لئے جگہ بھی کم پڑ جاتی ہے اور تنخواہ تو اس قدر کم پڑتی ہے کہ مہینے میں صرف پندرہ دن چلتی ہے۔ باقی پندرہ دن سود خور پٹھان چلاتا ہے اور وہ بھی کیسے گالیاں بکتے بکتے۔ گھسیٹ گھسیٹ کر، کسی سست رفتار گاڑی کی طرح یہ زندگی چلتی ہے۔ میرے آٹھ بچے ہیں، مگر یہ اسکول میں نہیں پڑھ سکتے۔ میرے پاس ان کی فیس کے پیسے کبھی نہ ہوں گے۔ پہلے پہل جب میں نے بیاہ کیا تھا اور ساوتری کو اپنے گھر یعنی اس کھولی میں لایا تھا تو میں نے بہت کچھ سوچا تھا۔ ان دنوں ساوتری بھی بڑی اچھی اچھی باتیں سوچا کرتی تھی۔ گوبھی کے نازک نازک ہرے ہرے پتوں کی طرح پیاری پیاری باتیں۔ جب وہ مسکراتی تھی تو سینما کی تصویر کی طرح خوبصورت دکھائی دیا کرتی تھی۔ اب وہ مسکراہٹ نہ جانے کہاں چلی گئی ہے۔ اس کی جگہ ایک مستقل تیوری نے لے لی ہے۔ وہ ذرا سی بات پر بچوں کو بے تحاشہ پیٹنا شروع کر دیتی ہے اور میں تو کچھ بھی کہوں، کیسے بھی کہوں، کتنی ہی لجاجت سے کہوں وہ بس کاٹ کھانے کو دوڑتی ہے۔ پتہ نہیں ساوتری کو کیا ہو گیا ہے۔ پتہ نہیں مجھے کیا ہو گیا ہے۔ میں دفتر میں سیٹھ کی گالیاں سنتا ہوں۔ گھر پر بیوی کی گالیاں سہتا ہوں اور ہمیشہ خاموش رہتا ہوں۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں، شاید میری بیوی کو ایک نئی ساڑھی کی ضرورت ہے، شاید اسے صرف ایک نئی ساڑھی ہی کی نہیں، اک نئے چہرے، ایک نئے گھر، ایک نئے ماحول، ایک نئی زندگی کی ضرورت ہے مگر اب ان باتوں کے سوچنے سے کیا ہوتا ہے۔ اب تو آزادی آ گئی ہے اور ہمارے وزیر اعظم نے یہ کہہ دیا ہے کہ اس نسل کو یعنی ہم لوگوں کو اپنی زندگی میں کوئی آرام نہیں مل سکتا۔ میں نے ساوتری کو اپنے وزیر اعظم کی تقریر جو اخبار میں چھپی تھی سنائی تو وہ اسے سن کر آگ بگولہ ہو گئی اور اس نے غصے میں آ کر چولہے کے قریب پڑا ہوا ایک چمٹا میرے سر پر دے مارا۔ زخم کا نشان جو آپ میرے ماتھے پر دیکھ رہے ہیں اسی کا نشان ہے۔ ساوتری کی مٹ میلی نیلی ساڑھی پر بھی ایسے کئی زخموں کے نشان ہیں مگر آپ انہیں دیکھ نہیں سکیں گے۔ میں دیکھ سکتا ہوں۔ ان میں سے ایک نشان تو اسی مونگیا رنگ کی جارجٹ کی ساڑھی کا ہے جو اس نے اوپیرا ہاؤس کے نزدیک بھوندو رام پارچہ فروش کی دکان پر دیکھی تھی۔ ایک نشان اس کھلونے کا ہے جو پچیس روپے کا تھا اور جسے دیکھ کر میرا پہلا بچہ خوشی سے کلکاریاں مارنے لگا تھا، لیکن جسے ہم خرید نہ سکے اور جسے نہ پا کر میرا بچہ دن بھر روتا رہا۔ ایک نشان اس تار کا ہے جو ایک دن جبل پور سے آیا تھا جس میں ساوتری کی ماں کی شدید علالت کی خبر تھی۔ ساوتری جبل پور جانا چاہتی تھی لیکن ہزار کوشش کے بعد بھی کسی سے مجھے روپے ادھار نہ مل سکے تھے اور ساوتری جبل پور نہ جا سکی تھی۔ ایک نشان اس تار کا تھا جس میں اس کی ماں کی موت کا ذکر تھا۔ ایک نشان۔۔۔ مگر میں کس کس نشان کا ذکر کروں۔ یہ نشان ان چتلے چتلے، گدلے گدلے غلیظ داغوں سے ساوتری کی پانچ روپے چار آنے والی ساڑھی بھری پڑی ہے۔ روز روز دھونے پر بھی یہ داغ نہیں چھوٹتے اور شاید جب تک یہ زندگی رہے یہ داغ یوں ہی رہیں گے۔ ایک ساڑھی سے دوسری ساڑھی میں منتقل ہوتے جائیں گے۔ چوتھی ساڑی قرمزی رنگ کی ہے اور قرمزی رنگ میں بھورا رنگ بھی جھلک رہا ہے۔ یوں تو یہ سب مختلف رنگوں والی ساڑھیاں ہیں،لیکن بھورا رنگ ان سب میں جھلکتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے ان سب کی زندگی ایک ہے۔ جیسے ان سب کی قیمت ایک ہے۔ جیسے یہ سب زمین سے کبھی اوپر نہیں اٹھیں گی۔ جیسے انہوں نے کبھی شبنم میں ہنستی ہوئی دھنک، افق پر چمکتی ہوئی شفق، بادلوں میں لہراتی ہوئی برق نہیں دیکھی۔ جیسے شانتا بائی کی جوانی ہے۔ وہ جیونا کا بڑھاپا ہے۔ وہ ساوتری کا ادھیڑ پن ہے۔ جیسے یہ سب ساڑھیاں، زندگیاں، ایک رنگ، ایک سطح، ایک تواتر، ایک تسلسل یکسانیت لئے ہوئے ہوا میں جھولتی جاتی ہیں۔ یہ قرمزی رنگ کی بھورے رنگ کی ساڑھی جھبو بھیئے کی عورت کی ہے۔ اس عورت سے میری بیوی کبھی بات نہیں کرتی کیونکہ ایک تو اس کے کوئی بچہ وچہ نہیں ہے اور ایسی عورت جس کے کوئی بچہ نہ ہو بڑی نحس ہوتی ہے۔ جادو ٹونے کر کے دوسروں کے بچوں کو مار ڈالتی ہے اور بد روحوں کو بلا کے اپنے گھر میں بسا لیتی ہے۔ میری بیوی اسے کبھی منہ نہیں لگاتی۔ یہ عورت جھبو بھیا نے خرید کر حاصل کی ہے۔ جھبو بھیا مراد آباد کا رہنے والا ہے لیکن بچپن ہی سے اپنا دیس چھوڑ کر ادھر چلا آیا۔ وہ مراٹھی اور گجراتی زبان میں بڑی مزے سے گفتگو کر سکتا ہے۔ اسی وجہ سے اسے بہت جلد پوار مل کے گنی کھاتے میں جگہ مل گئی۔ جھبو بھیا کو شروع ہی سے بیاہ کا شوق تھا۔ اسے بیڑی، کا تاڑی کا، کسی چیز کا شوق نہیں تھا۔ شوق تھا تو اس صرف اس بات کا کہ اس کی شادی جلد سے جلد ہو جائے۔ جب اس کے پاس ستر اسی روپے اکٹھے ہو گئے تو اس نے اپنے دیس جانے کی ٹھانی تاکہ وہاں اپنی برادری سے کسی کو بیاہ لائے، مگر پھر اس نے سوچا ان ستر اسی روپوں سے کیا ہو گا، آنے جانے کا کرایہ بھی بڑی مشکل سے پورا ہو گا۔ چار سال کی محنت کے بعد اس نے یہ رقم جوڑی تھی لیکن اس رقم سے وہ مراد آباد جا سکتا تھا، جا کے شادی نہیں کر سکتا تھا۔ اس لئے جھبو بھیا نے ایک بدمعاش سے بات چیت کر کے اس عورت کو سو روپے میں خرید لیا۔ اسی روپے اس نے نقد دئے۔ بیس روپے ادھار میں رہے جو اس نے ایک سال کے عرصے میں ادا کر دئے بعد میں جھبو بھیا کو معلوم ہوا کہ یہ عورت بھی مرادآباد کی رہنے والی تھی۔ دھیرج گاؤں کی اور اس کی برادری کی ہی تھی۔ جھبو بڑا خوش ہوا۔ چلو یہیں بیٹھے بیٹھے سب کام ہو گیا۔ اپنی جات برادری کی، اپنے ضلعے کی۔ اپنے دھرم کی عورت یہیں بیٹھے بٹھائے سو روپے میں مل گئی۔ اس نے بڑے چاؤ سے اپنا بیاہ رچایا اور پھر اسے معلوم ہوا کہ اس کی بیوی لڑیاؔ بہت اچھا گاتی ہے۔ وہ خود بھی اپنی پاٹ دار آواز میں زور سے گانے بلکہ گانے سے زیادہ چلانے کا شوقین تھا۔ اب تو کھولی میں دن رات گویا کسی نے ریڈیو کھول دیا ہو۔ دن میں کھولی میں لڑیا کام کرتے ہوئے گاتی تھی۔ رات کو جھبو اور لڑیا دونوں گاتے تھے۔ ان کے ہاں کوئی بچہ نہ تھا۔ اس لئے انہوں نے ایک طوطا پال رکھا تھا۔ میاں مٹھو خاوند اور بیوی کو گاتے دیکھ دیکھ کر خود بھی لہک لہک کر گانے لگے۔ لڑیا میں ایک اور بات بھی تھی۔ جھبو نہ بیڑی پیتا نہ سگریٹ نہ تاڑی نہ شراب۔ لڑیا بیڑی، سگریٹ، تاڑی سبھی کچھ پیتی تھی۔ کہتی تھی پہلے وہ یہ سب کچھ نہیں جانتی تھی مگر جب سے وہ بدمعاشوں کے پلے پڑی اسے یہ سب بری باتیں سیکھنا پڑیں اور اب وہ اور سب باتیں تو چھوڑ سکتی ہے مگر بیڑی اور تاڑی نہیں چھوڑ سکتی۔ کئی بار تاڑی پی کر لڑیا نے جھبو پر حملہ کر دیا اور جھبو نے اسے روئی کی طرح دھنک کر رکھ دیا۔ اس موقع پر طوطا بہت شور مچاتا تھا۔ رات کو دونوں کو گالیاں بکتے دیکھ کر خود بھی پنجرے میں ٹنگا ہوا زور زور سے وہی گالیاں بکتا جو وہ دونوں بکتے تھے ایک بار تو اس کی گالی سن کر جھبو غصے میں آ کے طوطے کو پنجرے سمیت بدرو میں پھینکنے لگا تھا مگر جیونا نے بیچ میں پڑ کے طوطے کو بچا لیا۔ طوطے کو مارنا پاپ ہے۔ جیونا نے کہا۔ تمہیں براہمنوں کو بلا کے پرائسچت کرنا پڑے گا۔ تمہارے پندرہ بیس روپے کھل جائیں گے۔ یہ سوچ کر جھبو نے طوطے کو بدرو میں غرق کر دینے کا خیال ترک کر دیا۔ شروع شروع میں تو جھبو کو ایسی شادی پر چاروں طرف سے گالیاں پڑیں۔ وہ خود بھی لڑیا کو بڑے شبہ کی نظروں سے دیکھتا اور کئی بار بلاوجہ اسے پیٹا اور خود بھی مل سے غیر حاضر رہ کر اس کی نگرانی کرتا رہا مگر آہستہ آہستہ لڑیا نے اپنا اعتبار ساری چال میں قائم کر لیا۔ لڑیا کہتی تھی کہ عورت سچے دل سے بد معاشوں کے پلے پڑنا پسند نہیں کرتی، وہ تو ایک گھر چاہتی ہے چاہے وہ چھوٹا ہی سا ہو۔ وہ ایک خاوند چاہتی ہے جو اس کا اپنا ہو۔ چاہے وہ جھبو بھیا ایسا ہر وقت شور مچانے والا، زبان دراز، شیخی خور ہی کیوں نہ ہو۔ وہ ایک ننھا بچہ چاہتی ہے چاہے وہ کتنا ہی بد صورت کیوں نہ ہو اور اب لڑیا کے پاس بھی گھر تھا اور جھبو بھی تھا اور اگر بچہ نہیں تھا تو کیا ہوا ہو جائے گا اور اگر نہیں ہوتا تو بھگوان کی مرضی۔ یہ میاں مٹھو ہی اس کا بیٹا بنے گا۔ ایک روز لڑیا اپنے میاں مٹھو کا پنجرا جھلا رہی تھی اور اسے چوری کھلا رہی تھی اور اپنے دل کے سپنوں میں ایسے ننھے سے بالک کو دیکھ رہی تھی جو فضا میں ہمکتا اس کی آغوش کی طرف بڑھتا چلا آ رہا تھا کہ چال میں شور بڑھنے لگا اور اس نے دروازے سے جھانک کر دیکھا کہ چند مزدور جھبو کو اٹھائے چلے آ رہے ہیں اور ان کے کپڑے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ لڑیا کا دل دھک سے رہ گیا۔ وہ بھاگتی بھاگتی نیچے گئی اور اس نے بڑی درشتی سے اپنے خاوند کو مزدوروں سے چھین کر اپنے کندھے پر اٹھا لیا اور اپنی کھولی میں لے آئی۔ پوچھنے پر پتہ چلا کہ جھبو سے گنی کھاتے کے مینجر نے کچھ ڈانٹ ڈپٹ کی۔ اس پر جھبو نے بھی اسے دو ہاتھ جڑ دئے۔ اس پر بہت واویلا مچا اور مینجر نے اپنے بد معاشوں کو بلا کر جھبو کی خوب پٹائی کی اور اسے مل سے باہر نکال دیا۔ خیریت ہوئی کہ جھبو بچ گیا ورنہ اس کے مرنے میں کوئی کسر نہ تھی۔ لڑیا نے بڑی ہمت سے کام لیا۔ اس نے اسی روز سے اپنے سر پر ٹوکری اٹھا لی اور گلی گلی ترکاری بھاجی بیچنے لگی، جیسے وہ زندگی میں یہی دھندا کرتی آئی ہے۔ اس طرح محنت مزدوری کر کے اس نے اپنے جھبو کو اچھا کر لیا۔ جھبو اب بھلا چنگا ہے مگر اب اسے کسی مل میں کام نہیں ملتا۔ وہ دن بھر اپنی کھولی میں کھڑا مہالکشمی کے اسٹیشن کے چاروں طرف بلند و بالا کارخانوں کی چمنیوں کو تکتا رہتا ہے۔ سیون مل، نیو مل،اولڈ مل، پوار مل، دھن راج مل لیکن اس کے لئے کسی مل میں جگہ نہیں ہے کیونکہ مزدور کو گالیاں کھانے کا حق ہے گالی دینے کا حق نہیں ہے۔ آج کل لڑیا بازاروں اور گلیوں میں آوازیں دے کر بھاجی ترکاری فروخت کرتی ہے اور گھر کا سارا کام کاج بھی کرتی ہے۔ اس نے بیڑی، تاڑی سب چھوڑ دی ہے۔ ہاں اس کی ساڑھی، قرمزی بھورے رنگ کی ساڑھی جگہ جگہ سے پھٹتی جا رہی ہے۔ تھوڑے دنوں تک اگر جھبو کو کام نہ ملا تو لڑیا کو اپنی ساڑھی پر پرانی ساڑھی کے ٹکڑے جوڑنا پڑیں گے اور اپنے میاں مٹھو کو چوری کھلانا بند کرنا پڑے گی۔ پانچویں ساڑھی کا کنارہ گہر ا نیلا ہے۔ ساڑھی کا رنگ گدلا سرخ ہے لیکن کنارہ گہر نیلا ہے اور اس نیلے میں اب بھی کہیں کہیں چمک باقی ہے۔ یہ ساڑھی دوسری ساڑھیوں سے بڑھیا ہے کیونکہ یہ ساڑھے پانچ روپے چار آنے کی نہیں ہے۔ اس کا کپڑا، اس کی چمک دمک کہے دیتی ہے کہ یہ ان سے ذرا مختلف ہے۔ آپ کو دور سے یہ مختلف معلوم نہیں ہوتی ہو گی مگر میں جانتا ہوں کہ یہ ان سے ذرا مختلف ہے۔ اس کا کپڑا بہتر ہے۔ اس کا کنارہ چمک دار ہے۔ اس کی قیمت پونے نو روپے ہے۔ یہ ساڑھی منجولا کی ہے۔ یہ ساڑھی منجولا کے بیاہ کی ہے۔ منجولا کے بیاہ کو ابھی چھ ماہ بھی نہیں ہوئے ہیں۔ اس کا خاوند گذشتہ ماہ چرخی کے گھومتے ہوئے پٹے کی لپیٹ میں آ کے مارا گیا تھا اور اب سولہ برس کی خوبصورت منجولا بیوہ ہے۔ اس کا دل جوان ہے۔ اس کا جسم جوان ہے۔ اس کی امنگیں جوان ہیں لیکن وہ اب کچھ نہیں کر سکتی کیونکہ اس کا خاوند مل کے ایک حادثے میں مر گیا ہے۔ وہ پٹہ بڑا ڈھیلا تھا اور گھومتے ہوئے بار بار پھٹپھٹاتا تھا اور کام کرنے والوں کے احتجاج کے باوجود اسے مل مالکوں نے نہیں بدلا تھا کیونکہ کام چل رہا تھا اور دوسری صورت میں تھوڑی دیر کے لئے کام بند کرنا پڑتا ہے۔ پٹے کو تبدیل کرنے کے لئے روپیہ خرچ ہوتا ہے۔ مزدور تو کسی وقت بھی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لئے روپیہ تھوڑی خرچ ہوتا ہے لیکن پٹہ تو بڑی قیمتی شے ہے۔ جب منجولا کا خاوند مارا گیا تو منجولا نے ہر جانے کی درخواست دی جو نا منظور ہوئی کیونکہ منجولا کا خاوند اپنی غفلت سے مرا تھا، اس لئے منجولا کو کوئی ہرجانہ نہ ملا اور وہ اپنی وہی نئی دلہن کی ساڑھی پہنے رہی جو اس کے خاوند نے پونے نور روپے میں اس کے لئے خریدی کی تھی۔ کیونکہ اس کے پاس کوئی دوسری ساڑھی نہ تھی جو وہ اپنے خاوند کی موت کے سوگ میں پہن سکتی۔ وہ اپنے خاوند کے مر جانے کے بعد بھی دلہن کا لباس پہننے پر مجبور تھی کیونکہ اس کے پاس کوئی دوسری ساڑھی نہ تھی اور جو ساڑھی تھی وہ یہی گدلے سرخ رنگ کی تھی۔ پونے نو روپے کی ساڑھی جس کا کنارہ گہرا نیلا ہے۔ شاید اب منجولا بھی پانچ روپے چار آنے کی ساڑھی پہنے گی۔ اس کا خاوند زندہ رہتا جب کبھی وہ دوسری ساڑھی پانچ روپے چار آنے کی لاتی، اس لحاظ سے اس کی زندگی میں کوئی خاص فرق نہیں آیا۔ مگر فرق اتنا ضرور ہوا ہے کہ وہ یہ ساڑھی آج پہننا چاہتی ہے۔ ایک سفید ساڑھی پانچ روپے چار آنے والی جسے پہن کر وہ دلہن نہیں بیوہ معلوم ہو سکے۔ یہ ساڑھی اسے دن رات کاٹ کھانے کو دوڑتی ہے۔ اس ساڑھی سے جیسے اس کے مرحوم خاوند کی بانہیں لپٹی ہیں، جیسے اس کے ہر تار پر اس کے شفاف بوسے مرقوم ہیں، جیسے اس کے تانے بانے میں اس کے خاوند کی گرم گرم سانسوں کی حدت آمیز غنودگی ہے۔ اس کے سیاہ بالوں والی چھاتی کا سارا پیار دفن ہے۔ جیسے اب یہ ساڑھی نہیں ہے، ایک گہری قبر ہے جس کی ہولناک پہنائیوں کو وہ ہر وقت اپنے جسم کے گرد لپیٹ لینے پر مجبور ہے۔ منجولا زندہ قبر میں گاڑی جا رہی ہے۔ چھٹی ساڑھی کا رنگ لال ہے لیکن اسے یہاں نہیں ہونا چاہئے کیونکہ اس کی پہننے والی مر چکی ہے پھر بھی یہ ساڑھی یہاں جنگلے پر بدستور موجود ہے۔ روز کی طرح دھلی دھلائی ہوا میں جھول رہی ہے۔ یہ مائی کی ساڑھی ہے جو ہماری چال کے دروازے کے قریب اندر کھلے آنگن میں رہا کرتی تھی۔ مائی کا ایک بیٹا ہے سیتو۔ وہ اب جیل میں ہے۔ ہاں سیتو کی بیوی اور اس کا لڑکا یہیں نیچے آنگن میں دروازے کے قریب نیچے پڑے رہتے ہیں۔ سیتو اور سیتو کی بیوی، ان کی لڑکی اور بڑھیا مائی، یہ سب لوگ ہماری چال کے بھنگی ہیں۔ ان کے لئے کھولی بھی نہیں ہے اور ان کے لئے اتنا کپڑا بھی نہیں ملتا جتنا ہم لوگوں کو ملتا ہے اس لئے یہ لوگ آنگن میں رہتے ہیں۔ وہیں کھانا کھاتے ہیں وہیں زمین پر پڑ کے سو رہتے ہیں۔ یہیں پہ یہ بڑھیا ماری گئی تھی، وہ بڑا سوراخ جو آپ اس ساڑھی میں دیکھ رہے ہیں پلو کے قریب۔ یہ گولی کا سوراخ ہے، یہ کارتوس کی گولی مائی کو بھنگیوں کی ہڑتال کے دنوں میں لگی تھی۔ نہیں وہ اس ہڑتال میں حصہ نہیں لے رہی تھی۔ وہ بے چاری تو بہت بوڑھی تھی، چل پھر بھی نہ سکتی تھی۔ اس ہڑتال میں تو اس کا بیٹا سیتو اور دوسرے بھنگی شامل تھے، یہ لوگ مہنگائی مانگتے تھے اور کھولی کا کرایہ مانگتے تھے یعنی اپنی زندگی کے لئے دو وقت کی روٹی، کپڑا اور سر پر ایک چھت چاہتے تھے۔ اس لئے ان لوگوں نے ہڑتال کی تھی اور جب ہڑتال خلافِ قانون قرار دے دی گئی تو ان لوگوں نے جلوس نکلا اور اس جلوس میں مائی کا بیٹا سیتو آگے آگے تھا اور خوب زور و شور سے نعرے لگاتا تھا۔ پھر جب جلوس بھی خلافِ قانون قرار دے دیا گیا تو گولی چلی اور ہماری چال کے سامنے چلی۔ ہم لوگوں نے اپنے دروازے بند کر لئے لیکن گھبراہٹ میں چال کا دروازہ بند کرنا کسی کو یاد نہ رہا اور پھر ہمیں بند کمروں میں ایسا معلوم ہوا گویا گولی اِدھر سے، اُدھر سے چاروں طرف سے چل رہی ہو۔ تھوڑی دیر کے بعد بالکل سناٹا ہو گیا اور جب ہم لوگوں نے ڈرتے ڈرتے دروازہ کھولا اور باہر جھانک کے دیکھا تو جلوس تتر بتر ہو چکا تھا اور ہماری چال کے قریب بڑھیا مری پڑی تھی۔ یہ اسی بڑھیاکی لال ساڑھی ہے جس کا بیٹا سیتو اب جیل میں ہے۔ اس لال ساڑھی کو اب بڑھیا کی بہو پہنتی ہے۔ اس ساڑھی کو بڑھیا کے ساتھ جلا دینا چاہئے تھا مگر کیا کیاجائے تن ڈھکنا زیادہ ضروری ہے۔ مُردوں کی عزت و احترام سے بھی کہیں زیادہ ضروری ہے کہ زندوں کا تن ڈھکا جائے۔ یہ ساڑھی جلنے جلانے کے لئے نہیں ہے۔ تن ڈھکے کے لئے ہے۔ ہاں کبھی کبھی سیتو کی بیوی اس کے پلو سے اپنے آنسو پونچھ لیتی ہے کیونکہ اس میں پچھلے اسی برسوں کے سارے آنسو اور ساری امنگیں اور ساری فتحیں اور شکستیں جذب ہیں۔ آنسو پونچھ کر سیتو کی بیوی پھر اسی ہمت سے کام کرنے لگتی ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ کہیں گولی نہیں چلی، کوئی جیل نہیں گیا۔ بھنگن کی جھاڑو اسی طرح چل رہی ہے۔ اے لو باتوں باتوں میں وزیر اعظم صاحب کی گاڑی نکل گئی۔ وہ یہاں نہیں ٹھہری۔ میں سمجھتا تھا وہ یہاں ضروری ٹھہرے گی۔ وزیر اعظم صاحب درشن دینے کے لئے گاڑی سے نکل کر تھوڑی دیر کے لئے پلیٹ فارم پر ٹہلیں گے اور شائد ہوا میں جھولتی ہوئی ان چھ ساڑھیوں کو بھی دیکھ لیں گے جو مہالکشمی کے پل کے بائیں طرف لٹک رہی ہیں۔ یہ چھ ساڑھیاں جو بہت معمولی عورتوں کی ساڑھیاں ہیں۔ ایسی معمولی عورتیں جن سے ہمارے دیس کے چھوٹے چھوٹے گھر بنتے ہیں۔ جہاں ایک کونے میں چولہا سلگتا ہے، ایک کونے میں پانی کا گھڑا رکھا ہے۔ اوپری طاقچے میں شیشہ ہے، کنگھی ہے، سندور کی ڈبیا ہے، کھاٹ پر ننھا سو رہا ہے۔ الگنی پر کپڑے سوکھ رہے ہیں۔ یہ ان چھوٹے چھوٹے لاکھوں کروڑوں، گھروں کو بنانے والی عورتوں کی ساڑھیاں ہیں جنہیں ہم ہندوستان کہتے ہیں۔ یہ عورتیں جو ہمارے پیارے پیارے بچوں کی مائیں ہیں، ہمارے بھولے بھائیوں کی عزیز بہنیں ہیں، ہماری معصوم محبتوں کا گیت ہیں، ہماری پانچ ہزار سالہ تہذیب کا سب سے اونچا نشان ہیں۔ وزیر اعظم صاحب! یہ ہوا میں جھولتی ہوئی ساڑھیاں تم سے کچھ کہنا چاہتی ہیں۔ تم کچھ مانگتی ہیں۔ یہ کوئی بہت بڑی قیمتی چیز تم سے نہیں مانگتی ہیں۔ یہ کوئی بڑا ملک، بڑا عہدہ اور بڑی موٹر کار، کوئی پرمٹ، کوئی ٹھیکہ، کوئی پراپرٹی، یہ ایسی کسی چیز کی طالب نہیں ہیں۔ یہ تو زندگی کی بہت چھوٹی چھوٹی چیزیں مانگتی ہیں۔ دیکھئے! یہ شانتا بائی کی ساڑھی ہے جو اپنے بچپن کی کھوئی ہوئی دھنک تم سے مانگتی ہے۔ یہ جیونا بائی کی ساڑھی ہے جو اپنی آنکھ کی روشنی اور اپنی بیٹی کی عزت مانگتی ہے۔ یہ ساوتری کی ساڑھی ہے جس کے گیت مر چکے ہیں اور جس کے پاس اپنے بچوں کے لئے اسکول کی فیس نہیں ہے۔ یہ لڑیا ہے جس کا خاوند بے کار ہے اور جس کے کمرے میں ایک طوطا ہے جو دو دن کا بھوکا ہے۔ یہ نئی دلہن کی ساڑھی ہے جس کے خاوند کی زندگی چمڑے کے پٹے سے بھی کم قیمتی ہے۔ یہ بڈھی بھنگن کی لال ساڑھی ہے جو بندوق کی گولی کو ہل کے پھال میں تبدیل کر دینا چاہتی ہے تاکہ دھرتی سے انسان کا لہو پھول بن کر کھل اٹھے اور گندم کے سنہرے خوشے ہنس کر لہرانے لگے۔ لیکن وزیر اعظم صاحب کی گاڑی نہیں رکی اور وہ ان چھ ساڑھیوں کو نہیں دیکھ سکتے اور تقریر کرنے کے لئے چوپاٹی چلے گئے، اس لئے اب میں آپ سے کہتا ہوں۔ اگر کبھی آپ کی گاڑی ادھر سے گزرے تو آپ ان چھ ساڑھیوں کو ضرور دیکھئے جو مہا لکشمی کے پل کے بائیں طرف لٹک رہی ہیں اور پھر ان رنگا رنگ ریشمی ساڑھیوں کو بھی دیکھئے جنہیں دھوبیو ں نے اسی پل کے دائیں طرف سوکھنے کے لئے لٹکا رکھا ہے اور جو ان گھروں سے آئی ہیں جہاں اونچی اونچی چمنیوں والے کارخانوں کے مالک یا اونچی اونچی تنخواہ پانے والے رہتے ہیں۔ آپ اس پل کے دائیں بائیں دونوں طرف ضرور دیکھئے اور پھر اپنے آپ سے پوچھئے کہ آپ کس طرف جانا چاہتے ہیں۔ دیکھئے! میں آپ سے اشتراکی بننے کے لئے نہیں کہہ رہا ہوں۔ میں آپ کو جماعتی جنگ کی تلقین بھی نہیں کر رہا ہوں۔ میں صرف یہ جاننا چاہتا ہوں کہ آپ مہا لکشمی پل کے دائیں طرف ہیں یا بائیں طرف؟

Comment Form