12 Sep, 2017 | Total Views: 131

فینسی ہیئر کٹنگ سیلون

غلام عباس

آبادیوں کی ادل بدل نے ایک دن ایک اجنبی شہر میں چار حجاموں کو اکٹھا کردیا۔ وہ ایک چھوٹی سی دکان پر چائے پینے آئے۔ جیسا کہ مثال ہے، ہم پیشہ لوگ جلد ہی ایک دوسرے کو پہچان لیتے ہیں۔ یہ لوگ بھی بہت جلد ایک دوسرے کو جان گئے۔ چاروں وطن سے لٹ لٹا کر آئے تھے۔ جب اپنی اپنی بپتا سنا چکے تو سوچنے لگے کہ اب کریں تو کیا کریں۔ تھوڑی تھوڑی سی پونجی اور اپنی اپنی کسبت ہر ایک کے پاس تھی ہی۔ صلاح ٹھہری کہ چاروں مل کر ایک دکان لیں اور ساجھے میں کام شروع کردیں۔
یہ تقسیم کے آغاز کا زمانہ تھا۔ شہروں میں افراتفری پھیلی ہوئی تھی۔ لوگ دلجمعی سے کوئی کام نہ کر پاتے تھے۔ تمام کاروبار سرد پڑے ہوئے تھے، پھر بھی اُن حجاموں کو دکان کے لیے کافی دوڑدھوپ کرنی پڑی۔ وہ کئی دن تک سرکاری دفتروں کے چکر کاٹتے رہے اور چھوٹے چھوٹے افسروں، کلرکوں اور چپراسیوں تک کو اپنی دکھ بھری کہانی بڑھا چڑھا کر سناتے رہے۔ آخرکار ایک افسر کا دل پسیج گیا اور اس نے ان چاروں کو شہر کے ایک اہم چوک میں ایک حجام ہی کی دکان دلا دی جو ہنگامہ کے دنوں میں تالا ڈال کر بھاگ گیا تھا۔
یہ دکان زیادہ بڑی تو نہ تھی، پر اس کے مالک نے اس میں اچھا خاصا سیلونوں کا سا ٹھاٹھ باٹھ کر رکھا تھا۔ دیواروں کے ساتھ ساتھ لکڑی کے تختے جوڑ اوپر سنگِ مر مر کی لمبی لمبی سلیں جما، ٹیبل سے بنا لیے تھے۔ تین ایک طرف اور دو ایک طرف۔ ہر ایک ٹیبل کے ساتھ دیوار میں جڑا ہوا ایک بڑا آئینہ تھا اور ایک اونچے پایوں کی کرسی جس کے پیچھے لکڑی کا گدی دار سٹینڈ لگا ہوا تھا۔ گاہک ٹھگنے قد کا ہوا تو اسٹینڈ کو نیچے سرکا لیا، لمبے قد کا ہوا تو اونچا کرلیا اور گدی پر اس کے سر کو ٹکا کر مزے سے ڈاڑھی مونڈنے لگے۔
ضرورت کی یہ سب چیزیں مہیا تو تھیں مگر تھیں ذرا پرانے فیشن کی اور ٹوٹی پھوٹی سنگ مر مر کی سِلوں کے کنارے اور کونے جگہ جگہ سے شکستہ تھے۔ آئینے تھے تو بڑے بڑے مگر ذرا پتلے، اس کی وجہ سے گاہکوں کو اپنی صورتیں چپٹی چپٹی سی نظر آتی تھیں۔ ایک آئینے کے بیچ میں کچھ اس طرح بل پڑ گیا تھا کہ دیکھنے والے کو اس میں بیک وقت ایک کے دو چہرے نظر آتے مگر دونوں ادھورے جو ایک دوسرے میں گڈمڈ ہو کر مضحکہ خیز صورت پیدا کرتے۔ چنانچہ اس آئینے کے سامنے بیٹھنے والا اپنی گردن کو تین چار مرتبہ مختلف زاویوں پر اونچا نیچا کیے بغیر نہ رہ سکتا۔ علاوہ ازیں اس دکان میں شیمپو کا بھی کوئی انتظام نہ تھا۔
لیکن حجاموں نے ان خامیوں کا کوئی زیادہ خیال نہ کیا۔ سچ یہ ہے کہ یہ بات ان کے وہم و خیال میں بھی نہ آ سکتی تھی کہ ایک دن انھیں یہ سب سامان بنا بنایا، مفت مل جائے گا۔ اپنے وطن میں وہ اب تک بڑی گمنامی کی زندگی بسر کرتے رہے تھے۔ ان میں ایک جو عمر میں سب سے بڑا تھا اور استاد کہلاتا تھا اس نے کچھ مستقل گاہک باندھ رکھے تھے جن کے گھر وہ ہر روز ایک دن چھوڑ کر ڈاڑھی مونڈنے جایا کرتا تھا۔
اس سے عمر میں دوسرے درجے پر جو حجام تھا اس نے ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر لاریوں کے اڈے بنا رکھے تھے۔ دن بھر کسبت گلے میں ڈالے ڈاڑھی بڑوں کی ٹوہ میں رہا کرتا اور دوسرے دو حجام جو نوعمر تھے ڈیڑھ ڈیڑھ، دو دو روپیہ یومیہ پر کبھی کسی دکان میں تو کبھی کسی دکان میں کام کیا کرتے تھے۔ اب اچانک قسمت نے ان لوگوں کو زندگی میں پہلی مرتبہ آزادی اور خودمختاری کا یہ موقع جو بخشا تو وہ بہت خوش ہوئے اور دکان کو اور زیادہ ترقی دینے اور اپنی حالت کو سنوارنے پر کمربستہ ہوگئے۔
سب سے پہلے ان لوگوں نے بازار سے ایک کوچی اور چونا لا کر خود ہی دکان میں سفیدی کی اور اس کے فرش کو خوب دھویا پونچھا۔ اس کے بعد نیلام گھر سے پرانے انگریزی کپڑوں کے دو تین گٹھڑ سستے داموں خریدے، ان میں سے قمیصوں اور پتلونوں کو چھانٹ کر الگ کیا۔ پھٹے کپڑوں کو سیا۔ جہاں جہاں پیوند لگانے کی ضرورت تھی وہاں پیوند کاری کی۔ جن حصوں کو چھوٹا کرنا تھا ان کو چھوٹا کیا اور یوں ہر ایک نے اپنے لیے دو دو تین تین جوڑے تیار کر لیے۔
اس کے علاوہ ہر ایک کو ایک ایک چادر کی بھی ضرورت تھی جسے بال کاٹنے کے وقت گاہک کے جسم پر گردن کے نیچے لپیٹنا ضروری ہوتا ہے۔ یہ ذرا مشکل کام تھا، مگر ان لوگوں نے شالوں، جمپروں، کوٹوں اور پتلونوں کو پھاڑ کر جیسے تیسے دو چادریں بنا ہی لیں۔ کپڑوں کے اسی ڈھیر میں انھیں ریشم کا سیاہ پردہ بھی ملا جس پر سنہرے رنگ میں تتلیاں بنی ہوئی تھیں، کپڑا تھا تو بوسیدہ مگر ابھی تک اس میں چمک دمک باقی تھی۔ اسے احتیاط سے دھو کر دکان کے دروازے پر لٹکا دیا۔
اپنے اپنے اوزار سب کے پاس تھے ہی، ان کی تو فکر نہ تھی، البتہ تھوڑے تھوڑے داموں والی کئی چیزیں خریدی گئیں مثلاً سلولائڈ کے پیالے صابن کے لیے، ڈاڑھی کے برش، پھٹکری، چھوٹی بڑی کنگھیاں، تولیے، دو تین تیز خوشبو والے دیسی تیلوں کی شیشیاں، ایک گھٹیا درجے کی کریم کی شیشی، ایک سستا سا پوڈر کا ڈبہ۔ علاوہ ازیں کباڑیوں کی دکانوں سے ولایتی لونڈر کی ٹیڑھی ترچھی خالی شیشیاں خرید ان میں سرسوں کا تیل بھر دیا۔
دکان کی آرایش کی طرف سے بھی یہ لوگ غافل نہ رہے۔ دکان کے پہلے مالک نے اس میں نہ جانے کس زمانے کی دقیانوسی مذہبی تصویریں لٹکا رکھی تھیں، ان کو اتار ڈالا اور ان کی جگہ دو ایک پرانے امریکن فلموں کے بڑے بڑے رنگدار پوسٹر جو ایک کباڑیے کے ہاں سے لے آئے تھے، دکان کے اندر دیواروں پر چسپاں کر دیے۔ علاوہ ازیں دو تین قطعات اور ایک کیلنڈر جس میں ملک کے بڑے بڑے سیاسی لیڈروں کے فوٹو تھے، دیوار پر ٹانگ دیے۔ دکان کو جلد چلانے کے خیال سے انھوں نے اجرتیں بہت کم رکھیں۔ مروجہ اجرتوں کے نصف سے کم، چنانچہ ایک گتے پر سیاہ روشنائی سے حجامت کی اجرتیں لکھوا کر اسے دیوار پر ایسی جگہ لٹکا دیا کہ گاہک جیسے ہی دکان میں داخل ہو اس کی نظر سب سے پہلے اسی پر پڑے۔
پہلے حجام نے اس دکان کا نام ’’فینسی ہیئرکٹنگ سیلون‘‘ رکھا تھا۔ یہ نام دکان کی پیشانی پر جلی حروف میں انگریزی اور اردو زبانوں میں لکھا ہوا تھا۔ ایک بابو سے ’’فینسی‘‘ کا مطلب معلوم کرکے بہت خوش ہوئے اور فیصلہ کیا کہ فی الحال اسی سے کام لیا جائے۔ کوئی نیا نام رکھتے تو اس کو مٹانے اور اس کو لکھوانے پر خاصی رقم خرچ کرنی پڑتی۔
جس روز باقاعدہ طور پر دکان کا افتتاح ہونا تھا، انھوں نے دوپہر کو بڑی محنت سے ایک دوسرے کی حجامتیں بنائیں، لمبی لمبی قلمیں رکھیں۔
گرم پانی سے خوب مل مل کر نہائے، صاف ستھری قمیصیں اور پتلونیں پہنیں، جن کو انھوں نے قریب کی ایک لانڈری سے دھلوایا تھا۔ بالوں میں تیل ڈالا، پٹیاں جمائیں، گردن اور چہرے پر ہلکا ہلکا پوڈر ملا اور یوں چاق و چوبند ہو، اگربتیوں کی بھینی بھینی خوشبو میں، استروں کو، جن کی دھار وہ رات بھر سِلوں پر تیز کرتے رہے تھے، ہتھیلیوں پر ہلکا ہلکا پٹکتے ہوئے خود کو خدمت خلق کے لیے پیش کردیا۔
پہلی شام کچھ زیادہ کامیاب ثابت نہ ہوئی۔ کل پانچ گاہک آئے، تین شیو اور دو بال کٹائی کے اور وہ بھی آدھ آدھ پائو پائو گھنٹے کے وقفے پر مگر یہ لوگ ذرا مایوس نہ ہوئے۔ ہر گاہک کا پُرجوش خیرمقدم کیا، اس کو بٹھانے سے پہلے کرسی کو دوبار جھاڑا پونچھا۔ اس کی ٹوپی پگڑی یا کوٹ لے کر احتیاط سے کھونٹی پر ٹانگ دیا۔ ڈاڑھی کے بال نرم کرنے کے لیے دیر تک برش سے جھاگ کو پھینٹا، بڑے نرم ہاتھ سے استرا چلایا اور اگر احتیاط کے باوجود کہیں ہلکا سا چرکا لگ بھی گیا تو بڑی چابک دستی سے خون کو صابن کے جھاگ میں چھپائے رکھا تا وقتیکہ پوری ڈاڑھی نہ مونڈ لی اور پھر اطمینان سے پھٹکری پھیر کر زخم کو نیست و نابود کردیا۔
ایک حجام نے اس خیال سے کہ بال کاٹنے میں زیادہ وقت لگایا جائے تو گاہک خوش ہوتا ہے، ایک دفعہ بال تراش کر دوبارہ تراشنے شروع کر دیے۔ آخر میں اس نے گاہک کے سر میں تیل ڈال یوں ہلکے ہلکے مزے سے ملنا شروع کیا کہ گاہک کی آنکھوں میں سرور کی سی کیفیت پیدا ہوگئی۔ اس کو محنت کا صلہ جلد ہی مل گیا۔ گاہک نے اجرت کے علاوہ ایک آنہ اسے ’’بخشیش‘‘ کے طور پر بھی دیا۔ اس شام کام کی کمی کے باوجود ان لوگوں نے دیر تک دکان کھلی رکھی، پھر دکان بَڑھانے کے بعد بھی وہ دیر تک جاگتے رہے اور ہنسی مذاق کی باتیں کرتے رہے۔
دوسرے دن دفتروں میں کوئی تعطیل تھی۔ صبح کو آٹھ بجے ہی سے گاہک آنے شروع ہوگئے۔ دس بجے کے بعد تو یہ کیفیت ہو گئی کہ ایک گیا نہیں کہ دوسرا آگیا، پھر بعض دفعہ تو تین تین کاریگر بیک وقت کام میں مصروف رہے۔ رات کو دکان بڑھا کر حساب کیا تو ہر ایک کے حصے میں تقریباً چار چار روپے آئے۔ تیسرے روز پھر مندا رہا مگر چوتھے روز پھر گاہکوں کی گہما گہمی دیکھ کر چاروں کو یقین ہوگیا کہ دکان قطعی طور پر چل نکلی ہے۔ یہ لوگ اس اجنبی شہر میں اکیلے ہی آئے تھے لہٰذا رات کو فرش پر بستر جما دکان ہی میں پڑے رہتے۔ ایک چھوٹی سی انگیٹھی، ایک کیتلی اور دو تین روغنی پرچ پیالیاں خرید لیں۔ صبح کو دکان ہی میں چائے بناتے اور ناشتہ کرتے، دوپہر کو تنور سے دو ایک قسم کے سالن اور روٹیاں لے آتے اور چاروں مل کر پیٹ بھرتے۔
دکان کو قائم ہوئے ابھی آٹھ دن ہی ہوئے تھے کہ ایک دن سہ پہر کو ایک ادھیڑ عمر دبلا پتلا شریف صورت آدمی دکان میں داخل ہوا۔ اس کے کپڑے میلے تھے، مگر پھٹے ہوئے نہ تھے۔ سر پر اس وضع کی پگڑی جیسے منشی لوگ باندھا کرتے ہیں، پائوں میں نَری کا جوتا۔ ڈاڑھی بڑھی ہوئی۔ یہ فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ اس میں سفید بال زیادہ ہیں یا کالے۔ ایک گھٹیا درجے کی عینک لگائے ہوئے تھا جس کی ایک کمانی ٹوٹی ہوئی تھی اور اسے دھاگے سے جوڑ رکھا تھا۔ ان لوگوں نے اسے کرسی پر بیٹھنے کو کہا۔ پہلے تو وہ جھجکا مگر پھر بیٹھ گیا۔
ایک حجام نے پوچھا، ’’شیو؟‘‘
اس نے کہا، ’’نہیں۔‘‘
’’بال؟‘‘
’’نہیں۔‘‘
’’اور پھر کیا چاہتے ہو؟‘‘ استاد نے پوچھا۔
’’مہربانی کرکے میرے ناخن کاٹ دو۔‘‘ اس نے کہا۔
ناخن کٹوانے کے بعد بھی وہ شخص وہیں بیٹھا رہا۔ آخر جب ان لوگوں نے بار بار اس کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا تو اس نے کہنا شروع کیا۔ ’’صاحب میں ایک غریب مہاجر ہوں، میں اپنے وطن میں ایک بنیے کا مُنشی تھا اس کے ہاں راشن کارڈوں کی پرچیاں لکھا کرتا تھا اور حساب کتاب کا کام بھی کیا کرتا تھا۔ وطن چھوٹا تو یہ روزگار بھی چھوٹ گیا۔ اس شہر میں کئی دن سے بے کار پھر رہا ہوں، کئی جگہ نوکری کی تلاش میں گیا مگر ہر جگہ پہلے ہی سے منشی موجود تھے۔ اگر آپ مجھے کوئی کام دلوادیں تو عمر بھر احسان نہ بھولوں گا۔ میں اس بے کاری سے ایسا تنگ آگیا ہوں کہ جو کام بھی آپ مجھے بتائیں گے دل و جان سے کروں گا۔ حساب کتاب کے کام کے علاوہ میں کھانا پکانا بھی جانتا ہوں۔‘‘
اس کی بات سن کر تھوڑی دیر یہ لوگ خاموش رہے اور آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک دوسرے سے صلاح و مشورہ کرتے رہے۔ آخر استاد نے زبان کھولی : ’’دیکھو میاں! ہم خود مہاجر ہیں اور نیا نیا کام شروع کیا ہے۔ تنخواہ تو ہم تم کو دینے کے نہیں، ہاں کھانا دونوں وقت ہمارے ساتھ کھائو بلکہ خود ہی پکائو کیونکہ تم ہمارے بھائی ہو۔ بس تھوڑا سا اپنی دکان کو جھاڑ پونچھ دیا کرنا۔ پھر جب کہیں تمھارا کام بن جائے تو شوق سے چلے جانا، ہم روکیں گے نہیں۔‘‘ اس شخص نے بڑی خوشی سے ان کی یہ شرط منظور کرلی۔ شکریہ ادا کیا اور وہیں رہ پڑا۔
دوسرے دن بازار سے ایلومینیم کی ایک دیگچی اور کچھ اور برتن خریدے گئے اور دکان میں ہنڈیا پکنے کا سامان ہونے لگا مگر پہلے ہی روز ان پر یہ بات ظاہر ہو گئی کہ یہ شخص کھانا پکانا کچھ واجبی سا ہی جانتا ہے تاہم اسے نکالا نہیں گیا۔ جھاڑنے پونچھنے میں وہ کافی چست تھا۔ بازار سے سودا بھی دوڑ کر لے آتا تھا۔ سچ یہ ہے کہ ایک شخص جو آٹھ پہر غلامی کرنے کو تیار تھا، خط پتر لکھ سکتا تھا، حساب کتاب جانتا تھا، آقائوں سے ادب سے پیش آتا تھا دو وقت کی روٹی پر کچھ مہنگا نہ تھا۔ یوں ہی دن گزرتے گئے، یہاں تک کہ دکان کھلے دو مہینے ہوگئے۔ اس عرصے میں دکان نے خاصی ترقی بھی کر لی تھی۔ ان لوگوں نے اس کے لیے کچھ نیا فرنیچر بھی خرید لیا تھا۔ شیمپو کے لیے بیسن وغیرہ بھی لگوا لیا تھا اور تھوڑی تھوڑی رقم ہر ایک نے بچا بھی لی تھی۔
تیسرا مہینہ ابھی آدھا گزرا تھا کہ ایک صبح ہی صبح استاد کو اپنے بیوی بچوں کی یاد بے طرح ستانے لگی۔ دوپہر ہوتے ہوتے وہ ٹھنڈے ٹھنڈے سانس لینے لگا۔ تیسرے پہر اس کی اداسی اور بھی بڑھ گئی۔ شام ہونے سے پہلے ہی اس نے اپنے ساتھیوں سے چار دن کی چھٹی لی اور بیوی بچوں کو لے آنے کے لیے روانہ ہو گیا جو کوئی ۲۰۰ میل دور کسی شہر میں اپنے کسی رشتہ دار کے دروازے پر ناخواندہ مہمان بنے پڑے تھے۔
استاد نے چار دن میں لوٹ آنے کا پکا وعدہ کیا تھا اور بڑی بڑی قسمیں کھائی تھیں مگر واپسی میں پورے پندرہ دن لگ گئے۔ بیوی بچوں کو تو اسٹیشن کے مسافر خانے ہی میں چھوڑا اور خود دکان پر جا پہنچا۔ اس نے اپنے ساتھیوں کو بیماریوں کی ایک طویل داستان سنائی جن میں اس کی بیوی اور چار بچے مبتلا تھے اور وہ تکلیفیں بھی بیان کیں جو بیوی بچوں کو یہاں تک لانے میں اسے اٹھانی پڑیں۔ آخر میں اس نے خرچ سے تنگی کا ذکر کیا اور روپیہ قرض مانگا۔
یہ بات تو ظاہر ہی تھی کہ جتنے روز استاد نے دکان میں کام نہیں کیا تھا اتنے روز کی آمدنی میں اس کا کوئی حصہ نہ تھا اور ایک کاریگر کے کم ہونے سے آمدنی بھی نسبتاً کم ہی ہوئی تھی مگر کچھ تو بزرگی کا لحاظ کرتے ہوئے اور کچھ مروت کی وجہ سے اس کے ساتھیوں نے اسے یہ بات نہ جتائی بلکہ ہر ایک نے اپنی اپنی جیب سے پانچ پانچ روپے نکال کر اس کے حوالے کر دیے۔ پندرہ روپے استاد کی ضرورتوں کے مقابلے میں بہت ہی کم تھے مگر وہ چپ چاپ یہ رقم لے کر چلا گیا۔
دوسرے دن سے پھر چاروں آدمی کام کرنے لگے۔ تب تک تو ان کا یہ قاعدہ رہا تھا کہ گاہکوں سے اجرتیں لے لے کر اپنے پاس ہی جمع کرتے رہتے اور رات کو دکان بڑھاتے وقت ساری رقم اکٹھی کرکے آپس میں برابر تقسیم کرلیتے۔ دکان کے رکھ رکھائو، ٹوٹ پھوٹ اور اپنے اور نوکر کے کھانے پینے پر جو رقم خرچ ہوتی اس میں وہ چاروں برابر کے ساجھی تھے مگر استاد نے دوسرے ہی دن باتوں باتوں میں اپنے ساتھیوں سے کہہ دیا کہ بھئی میں بیوی بچوں والا ہوں، پردیس کا معاملہ ہے، ان کو اکیلا کیسے چھوڑ سکتا ہوں، اس لیے رات کو میں ان کے پاس سویا کروں گا، دوسرے یہ کہ کھانا بھی میں ان کے ساتھ ہی کھایا کروں گا۔ آج سے تم کھانے پینے کے خرچ میں سے میرا نام نکال دو
اور بھائیو! یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ میں اِدھر تو تمھارے ساتھ خرچ کروں اور اُدھر گھر پر بھی۔ اس کے ساتھی یہ بات سن کر خاموش ہو رہے۔ اب استاد دوپہر کو کھانا کھانے گھر چلا جاتا جو اس نے قریب ہی کہیں لے لیا تھا دو گھنٹے بعد لوٹتا۔ رات کو بھی وہ جلد دکان بڑھوا، اپنا حصہ لے، چلتا بنتا۔ کوئی ہفتہ بھر تک یہی سلسلہ رہا مگر اس کے بعد استاد کے تینوں ساتھیوں کے طور ایک دم سے بدل گئے۔ اب وہ اکثر آپس میں کھسر پھسر کرتے اور چپکے چپکے استاد کی حرکات و سکنات کو غور سے دیکھتے رہتے۔ خصوصاً اس وقت جب حجامت کے بعد گاہک سے استاد اُجرت وصول کرتا وہ کن انکھیوں سے دیکھتے رہتے کہ استاد پیسے کس جیب میں ڈالتا ہے۔
ایک رات جب استاد دکان سے رخصت ہوا تو اس کے تینوں ساتھی دیر تک جاگتے اور آپس میں باتیں کرتے رہے۔ انھیں استاد کے خلاف کئی شکایتیں تھیں جنھیں وہ اب تک بڑے صبر سے درگزر کرتے رہے تھے مگر اب، جب اُنھوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ استاد روپے پیسوں کے معاملے میں بھی کھرا نہیں ہے تو وہ صبر نہ کرسکے۔ انھوں نے استاد کی اس دھوکہ بازی کی روک تھام کے لیے بہت سی تجویزیں سوچیں مگر کسی پر دل نہ جما، آخر بڑی رات گئے ایک ترکیب ان کے ذہن میں آئی اور وہ اطمینان سے سو گئے۔
دوسرے دن جب استاد دکان پر آیا تو ان تینوں نے آپس میں لڑنا جھگڑنا شروع کردیا، ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا : ’’میں نے خود اپنی گناہگار آنکھوں سے دیکھا ہے کہ رات تم نے گاہک سے چونی لے کر اپنی پتلون کی جیب میں ڈال لی حالانکہ سارے پیسے تم اپنی قمیص کی جیب میں ڈالا کرتے ہو۔‘‘ دوسرے نے کہا، ’’تم بکتے ہو۔ تم خود پکے بے ایمان ہو۔ پرسوں گاہک نے تمھیں ایک دونّی اور دو اکنّیاں دی تھیں۔ ایک دونّی اور ایک اکنّی تو تم نے جیب میں ڈال لی اور ایک اکنّی چالاکی سے انگلیوں کے بیچ ہی دبائے رکھی۔‘‘
اس پر تیسرے نے کہا ’’ارے میاں لڑتے جھگڑتے کیوں ہو، جو ہوا اس کو تو کرو معاف، آیندہ کے لیے میں تمھیں ایک ترکیب بتاتا ہوں کہ ہم میں سے کوئی چاہے بھی تو اس قسم کا دھوکا نہیں کر سکے گا، وہ یہ کہ دروازے کے قریب میز کرسی ڈال دو۔ کرسی پر تو منشی کو بٹھا دو اور میز پر ایک صندوقچی رکھ دو جس کے ڈھکنے میں سوراخ ہو۔ بس گاہک حجامت کے پیسے اس صندوقچی میں خود ہی ڈال دیا کرے۔ ہم میں کوئی خود ایک پائی بھی وصول نہ کرے۔ منشی مفت میں روٹیاں بٹورا کرتا ہے اس سے یہ کام کیوں نہ لیا جائے۔ یہ اس بات کا بھی دھیان رکھے گا کہ کوئی شخص بغیر اجرت دیے نہ چلا جائے یا کھوٹے سکے نہ دے دے۔ پھر چاہو تو منشی ساتھ ساتھ کاپی میں رقمیں بھی لکھتا جائے گا۔ آخر کس لیے رکھا ہے اس کو!‘‘
اس پر پہلے نے کہا، ’’بہت ٹھیک ۔ مجھے منظور ہے لیکن یہ نہیں مانے گا، بے ایمانی جو ٹھہری جی میں۔‘‘
اس پر دوسرے نے بھنّا کر کہا، ’’کیوں میں کیوں نہ مانوں گا۔ اچھا ہے ایسا ہو جائے۔ جھوٹ سچ آپ ظاہر ہو جائے گا۔‘‘
تیسرے نے استاد سے پوچھا، ’’کیوں استاد تمھاری کیا رائے ہے؟‘‘
استاد کچھ نہ کہہ سکا۔ نہ اس تجویز کے حق میں نہ اس کے خلاف۔ اس نے خاموش ہی رہنے میں مصلحت سمجھی۔
دوسرے ہی دن سے اس تجویز پر عمل درآمد شروع ہوگیا۔ ہر روز رات کو دن بھر کی آمدنی کا باقاعدہ حساب ہوتا اور اس میں سے ہر ایک کو پورا پورا حصہ ملتا۔ چار دن نہ گزرنے پائے تھے کہ اس میں اتنی ترمیم اور کر دی گئی کہ آمدنی کا حصہ بخرا روزانہ کے بجائے ہفتہ بعد کیا جائے، اس روز ہر شخص کو معقول رقم مل سکے گی۔ ہر روز جو تھوڑے تھوڑے پیسے ملتے ہیں ان سے تو کسی کی بھی پوری نہیں پڑتی۔ ہاں اگر ہفتہ ختم ہونے سے پہلے ہی کسی ساجھے دار کو کچھ رقم کی ضرورت پڑ جائے تو وہ منشی سے پرچی لکھوا کر پیشگی لے سکتا ہے۔ استاد نے اس کی بھی مخالفت نہ کی نہ موافقت کی۔ وہ خاموش ہی رہا۔مگر استاد اپنی خاموشی کو زیادہ دن قائم نہ رکھ سکا۔ ایک دن وہ صبح ہی صبح دکان پر آ پہنچا اور چموٹے پر استرے کی دھار گھسیٹتے ہوئے ایک دم اپنے ساتھیوں پر برس پڑا:
’’بس جی بس! میں تم لوگوں کے ساتھ کام نہیں کرسکتا۔ انصاف کا تو آج کل زمانہ ہی نہیں ہے۔ تم نے گدھے گھوڑے کو برابر سمجھ لیا ہے۔ تم میں سے نہ تو کوئی میرے جتنا پرانا کاریگر ہے اور نہ ہنرمند، پھر ڈاڑھی مونڈنے میں میرا ہاتھ ایسا ہلکا ہے کہ ہر شخص مجھی سے ڈاڑھی منڈانا چاہتا ہے۔ میں ایسے کئی آدمیوں کو جانتا ہوں کہ جب کام میں مصروف ہوتا ہوں تو وہ دکان میں آتے ہی نہیں۔ بلکہ باہر ہی باہر ٹہلتے رہتے ہیں کہ دوسرے سے ڈاڑھی نہ منڈانی پڑ جائے، پھر جہاں مجھے خالی ہوتے دیکھتے ہیں، لپک کر میری کرسی پر آ بیٹھتے ہیں۔ منشی اس بات کا گواہ ہے کہ میری روز کی کمائی تم لوگوں سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ اب تم ہی انصاف کرو کہ جب میں ہنر میں بھی تم سے بڑھ کر ہوں اور گاہک بھی زیادہ میرے ہی پاس آئیں۔
کام بھی زیادہ میں ہی کروں، کمائی بھی زیادہ میری ہی ہو، تو پھر اس کی کیا وجہ ہے کہ مجھے بھی اتنا ہی ملے جتنا تم سب کو ملتا ہے۔ بہتر یہ ہے کہ تم لوگ میر احصہ مجھے دے دو اور دکان خود سنبھال لو۔ اگر یہ نہیں تو کام کے لحاظ سے ہر ایک کی تنخواہ مقرر کردو۔ آمدنی میں سے تنخواہیں نکال کر جتنی رقم بچے گی وہ ہم چاروں آپس میں برابر برابر بانٹ لیا کریں گے۔ اگر تم کو یہ بات منظور ہو تو اس سے اچھی اور کوئی بات نہیں، ورنہ صاحب ایسی دکان اور ایسی ساجھے داری کو میرا دور ہی سے سلام۔ بندہ کہیں اور قسمت آزمائے گا۔ جتنے پیسے مجھے یہاں ملتے ہیں اس سے زیادہ تو میں آنکھ بند کرکے جس سیلون میں چلا جائوں، لے سکتا ہوں۔‘‘
استاد کی یہ تقریر اس کے تینوں ساجھیوں نے بہت غور اور توجہ سے سنی۔ اس میں کچھ باتیں ٹھیک بھی تھیں مثلاً ہنرمندی میں استاد واقعی ان تینوں سے کہیں بڑھ کر تھا مگر اس کا یہ مطلب تھوڑا ہی تھا کہ وہ ساجھے داری میں اپنی ہنرمندی کا ناجائز دبائو ڈالے۔ جب ساجھا ہی ٹھہرا تو ہنرمندی کی کون پروا کرتا ہے۔ ساجھا ایک کنبہ کی طرح ہے جس میں کمانے والے فرد اپنی اپنی بساط کے مطابق کنبہ کی پرورش کرتے ہیں۔ کم و بیش کمانے والوں یا نہ کمانے والوں میں کسی قسم کی تفریق نہیں کی جاتی اور یہ استاد کی حددرجہ کم ظرفی ہے کہ وہ زیادہ ہنرمند اور کم ہنرمند کا سوال اٹھا کر ساجھے میں تفریق پید اکرنا چاہتا ہے۔
استاد کی دکان سے قطع تعلق کرلینے کا مطلب بھی وہ خوب سمجھتے تھے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ ایک بھاری رقم بطور معاوضہ استاد کو دینا اور یہ رقم ان کے پاس نہ تھی، دوسری صورت یہ تھی کہ یہ تینوں دکان سے علحٰدہ ہوجاتے مگر علحٰدہ ہو کر جاتے تو کہاں جاتے۔ نہ کام ہی میں ایسی مہارت تھی کہ دوسری جگہ آسانی سے نوکری مل سکتی اور نہ سر چھپانے ہی کا کوئی ٹھکانہ تھا۔ لہٰذا گلے شکوے تو انھوں نے بہت کیے مگر انجام کار انھوں نے استاد کی تنخواہوں والی شرط مان ہی لی۔ تنخواہیں مقرر کرنے کے مسئلے نے خاصا طول کھینچا، آخر بحث و تمحیص کے بعد یہ طے پایا کہ استاد کو تو ڈیڑھ سو روپے ماہوار ملے اور اس سے نچلے کاریگر کو ایک سو بیس، تیسرے کو سو اور چوتھے کو اَسّی۔ ساتھ ہی یہ بھی قرار پایا کہ تنخواہوں کا حساب مہینے کے مہینے ہوا کرے۔
استاد دل میں بہت خوش تھا کہ بالآخراس نے اپنا تفُّوق اپنے ساتھیوں پر قائم کرلیا۔ ادھر اس کے ساتھی کچھ دن پژمردہ رہے مگر پھر مہینے کے بعد ایک معقول رقم ہاتھ آنے کے خیال نے رفتہ رفتہ ان کا غم دور کردیا اور وہ بڑی بے تابی سے مہینہ کے ختم ہونے کا انتظار کرنے لگے۔ خدا خدا کرکے جب مہینہ ختم ہوا اور تنخواہ کا دن آیا تو یہ دیکھ کر ان چاروں حجاموں کی حیرانی اور مایوسی کی کوئی حد نہ رہی کہ پچھلے مہینے دکان سے جو آمدنی ہوئی تھی اس میں سے ان کی آدھی آدھی تنخواہیں بھی نہیں نکلتی تھیں۔ ان لوگوں کو سب سے زیادہ اچنبھا اس بات پر ہوا کہ دکان پہلے سے زیادہ ترقی پر تھی۔ گاہک بھی پہلے سے زیادہ آ رہے تھے مگر اس کے باوجود انھیں جو رقم ملی اس کا یومیہ ابتدائی دنوں کے یومیہ سے بھی کم تھا۔ منشی کے کھاتے کی جانچ پڑتال کی گئی مگر اس نے پائی پائی کا حساب بتا دیا۔
ہر شخص کی روز کی کمائی ، چاروں کی روز کی کمائی، ہفتہ کی کمائی، مہینہ کی کمائی الگ الگ بھی اور مشترکہ بھی۔ پورا چٹھا کھول کر رکھ دیا۔ کیا مجال جو کوئی شخص اس کے حساب میں غلطی نکال سکے۔ قاعدہ ہے کہ روپیہ باہر آنے والا ہو یا بندھی ہوئی تنخواہ ہو تو انسان خواہ مخواہ اپنا خرچ بڑھا لیتا ہے، یا اس کے بھروسے قرض لے لیتا ہے۔ ان میں سے دو حجام، ایک استاد اسی امید پر محلے کے بعض دکان داروں کے مقروض ہو گئے۔ قرض خواہ کے تقاضے کا ڈر تو تھا ہی، آئندہ قرض کا دروازہ بند ہوجانے کا بھی احتمال تھا۔
اس روز رات کو جب وہ دکان بڑھانے لگے تو حددرجہ شکستہ دل اور مایوس نظر آتے تھے۔ سب سے زیادہ مسکین پن منشی کے چہرے سے ٹپک رہا تھا، ہر چند اس کی کوئی تنخواہ مقرر نہ تھی، پھر بھی اپنے آقائوں کی اس مصیبت میں وہ برابر کا شریک نظر آتا تھا۔ وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا ان کے قریب آیا اور درد میں ڈوبی ہوئی آواز میں جھجک جھجک کر کہنے لگا : ’’آپ لوگوں نے میرے ساتھ جو بھلائی کی ہے میں عمر بھر اسے نہیں بھول سکتا۔ آج آپ کو پریشان دیکھ کر میرا دل بے حد کڑھا ہے۔ اب میں آپ کو سچی بات بتاتا ہوں۔ وہ بات یہ ہے کہ جب میں اپنے وطن میں بنیے کے ہاں نوکر تھا تو ہر مہینے تنگی ترشی کرکے اپنی تنخواہ میں سے کچھ روپے بچا لیا کرتا تھا۔
چند مہینے میں خاصی پونجی جمع ہو گئی، وطن سے چلتے وقت ساتھ لیتا آیا اور یہاں ڈاکخانے میں جمع کرا دیا کہ آڑے وقت میں میرے کام آئے… مگر اب آپ کو پریشان دیکھ کر دل نے گوارا نہ کیا کہ میرے پاس روپیہ ہو اور میں اسے اپنے بھائیوں سے چھپائے رکھوں… اگر آپ کہیں تو کل میں ڈاکخانے سے اپنا روپیہ نکال لائوں۔ آپ اسے کام میں لائیے جب دکان کی آمدنی بڑھ جائے تو مجھے لوٹا دینا۔ میں کوئی نفع نہیں لوں گا۔ ’’تمھارے پاس کتنے روپیہ ہیں؟‘‘ حجاموں نے پوچھا۔ کچھ تامل کے بعد منشی نے دھیرے سے کہا، ’’۱۰۰ روپے!‘‘
دوسرے دن منشی ڈاک خانے سے سو روپے نکال لایا، اور ان سے الگ الگ رسید لے کر وہ رقم ان میں تقسیم کردی۔ اس طرح ان کی پریشانیاں کسی قدر دور ہو گئیں مگر اگلے مہینے دکان میں اس سے بھی کم آمدنی ہوئی۔ تب تو یہ لوگ بہت ہی گھبرائے۔ منشی نے بڑی چھان بین کے بعد آمدنی کے کم ہونے کی یہ وجہ دریافت کی کہ چونکہ چوک کے دوسرے ہیئرکٹنگ سیلونوں نے بھی ان کی دیکھا دیکھی یا مندے کی وجہ سے اپنے ہاں اجرتیں کم کر دی ہیں، اس لیے وہ گاہک جو کچھ کفایت کے خیال سے ان کے ہاں لپک آئے تھے۔ اب سب سیلونوں میں بٹ گئے ہیں۔
ان لوگوں نے منشی کی بات کا یقین کیا نہ کچھ کہا۔ بہرحال وہ اس سے زیادہ اور کر بھی کیا سکتے تھے چونکہ منشی اب کے اپنے ایک بھائی سے سو روپے قرض لے آیا تھا، اس لیے ان لوگوں کو زیادہ پریشانی نہ اٹھانی پڑی۔ تیسرے مہینے صورتِ حال کچھ کچھ سدھر گئی اور انھوں نے کسی قدر اطمینان کا سانس لیا مگر چوتھے مہینے آمدنی ایک دم پھر کم ہوگئی۔ اس پر ستم یہ ہوا کہ اس دفعہ منشی نے ان کی امداد کرنے سے بالکل معذوری ظاہر کر دی۔ اس نے کہا:
’’بھائیو! اگر میرے پاس روپیہ ہوتا یا میں کہیں سے لا سکتا تو میں آپ کے قدموں میں نچھاور کر دیتا۔ لیکن میرے پاس جو کچھ تھا، میں پہلے ہی آپ کی نذر کر چکا ہوں۔‘‘
اس روز تو انھوں نے زیادہ اصرار نہ کیا مگر دوسرے دن صبح ہوتے ہی چاروں کے چاروں نے پھر منشی کو آگھیرا، جب ان کی خوشامدوں اور التجائوں کی حد نہ رہی تو منشی نے کہا ’’اچھا بھائیو! شام تک صبر کرو۔‘‘ شام ہوئی تووہ چاروں حجاموں سے یوں مخاطب ہوا: ’’صاحبو! مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس دکان کی حالت کبھی نہیں سدھرے گی۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ لوگوں نے اپنی اپنی جو تنخواہیں مقرر کر رکھی ہیں، آمدنی سے کہیں زیادہ ہیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ دکان چلے اور آپ کی پریشانیاں دور ہوں تو سب سے پہلے آپ اپنی اصلاح کیجیے۔ میرا مطلب یہ ہے کہ آپ سب اپنے اپنے اخراجات کم کیجیے اور دوسرے یہ کہ اپنی اتنی ہی تنخواہیں مقرر کیجیے جتنی عام طور پر اس قسم کے سیلونوں میں ملازموں کو دی جاتی ہے۔ اگر آپ میری تجویز کی ہوئی تنخواہ منظور کریں تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں، بلکہ اس بات کا ٹھیکہ لیتا ہوں کہ ہر مہینے آپ کو پوری تنخواہ ملا کرے گی۔
میں تو یہاں تک کہتا ہوں کہ اگر آپ میرے کہنے پر چلیں تو آپ کو ہر مہینے کی پہلی کو پیشگی ہی تنخواہ مل جایا کرے گی۔ یہ روپیہ کہاں سے آئے گا، اس سے آپ کو مطلب نہیں، چاہے میں چوری کروں، ڈاکہ ڈالوں۔ مگر آپ کو تنخواہ پیشگی ہی ملتی رہے گی۔ آپ نے میرے ساتھ ایسی بھلائی کی ہے کہ میں عمر بھر نہیں بھول سکتا اور بھائیو! اگر آپ کو یہ شرط منظور نہ ہو تو آپ جانیں اور آپ کا کام۔ میں آپ کے لیے روپے کا بندوبست نہیں کر سکتا۔
چند لمحے خاموشی رہی۔ اس کے بعد استاد نے منشی سے پوچھا : ’’اچھا بتائو تو تم ہماری کیا کیا تنخواہ مقرر کرتے ہو؟‘‘منشی نے جواب دیا ’’گستاخی معاف! میں زیادہ سے زیادہ آپ کو اسی روپے دے سکتا ہوں۔ دوسرے نمبر والے کو ساٹھ، تیسرے کو پچاس اور چوتھے کو چالیس۔ اگر آپ لوگ یہ تنخواہیں منظور کریں تو ابھی جا کر، چاہے مجھے دُگنے تگنے سود پر قرض ہی لینا پڑے، آپ سب کے لیے دو سو تیس روپے بطور پیشگی تنخواہ کے لے آتا ہوں اور وعدہ کرتا ہوں کہ ہر مہینے اسی طرح آپ کو پیشگی تنخواہ ملا کرے گی۔
یاد رکھو میرے دوستو یہ تنخواہیں کسی بڑے ہیئرکٹنگ سیلون کے ملازموں کی تنخواہوں سے کم نہیں ہیں۔ آپ لوگ جا کر خود دریافت کر سکتے ہیں البتہ اپنے ملازموں کو پیشگی تنخواہ دینا صرف اسی سیلون کی خصوصیت ہوگی‘‘ منشی کی یہ تقریر سن کر چاروں حجام گم صم سے رہ گئے اور کسی نے اس کی بات کا جواب نہ دیا مگر یہ خاموشی بڑی صبرآزما تھی۔ انھوں نے بے بسی سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور پھر گردنیں جھکالیں۔

Comment Form