12 Sep, 2017 | Total Views: 336

پیتل کا گھنٹہ

قاضی عبدالستار

آٹھویں مرتبہ ہم سب مسافروں نے لاری کو دھکا دیا اور ڈھکیلتے ہوئے خاصی دور تک چلے گئے لیکن انجن گنگناتا تک نہیں۔ڈرائیور گردن ہلاتا ہوا اتر پڑا۔کنڈکٹر سڑک کے کنارے ایک درخت کی جڑ پر بیٹھ کر بیڑی سلگانے لگا۔مسافروں کی نظریں گالیاں دینے لگیں اور ہونٹ بڑبڑانے لگے میں بھی سڑک کے کنارے سوچتے ہوئے دوسرے پیڑ کی جڑ پر بیٹھ کر سگریٹ بنانے لگا۔ایک بار نگاہ اٹھی تو سامنے دو درختوں کی چوٹیوں پر مسجد کے مینار کھڑے تھے۔میں ابھی سگریٹ سلگا ہی رہا تھا کہ ایک مضبوط کھردرے دیہاتی ہاتھ نے میری چٹکیوں سے آدھی جلی ہوئی تیلی نکال لی۔میں اس کی بے تکلفی پر ناگواری کے ساتھ چونک پڑا۔مگر وہ اطمینان سے اپنی بیڑی جلا رہا تھا وہ میرے پاس ہی بیٹھ کر بیڑی پینے لگا یا بیڑی کھانے لگا۔
’’یہ کون گاؤں ہے؟‘‘میں نے مینار کی طرف اشارہ کر کے پوچھا۔
’’یو _______ یوبھسول ہے۔‘‘
بھسول کا نام سنتے ہی مجھے اپنی شادی یاد آ گئی ۔میں اندر سلام کرنے جا رہا تھا کہ ایک بزرگ نے ٹوک کر روک دیا۔وہ کلاسکی کاٹ کی بانات کی اچکن اور پورے پائچے کا پاجامہ اور فرکی ٹوپی پہنے میرے سامنے کھڑے تھے۔میں نے سر اٹھا کر ان کی سفید پوری مونچھیں اور حکومت سے سینچی ہوئی آنکھیں دیکھیں۔انہوں نے سامنے کھڑے ہوئے خدمت گاروں کے ہاتھوں سے پھولوں کی بدھیا لے لیں اور مجھے پہنانے لگے۔میں نے بل کھا کر اپنی بنارسی زری پوت کی جھلملاتی ہوئی شیروانی کی طرف اشارہ کر کے تلخی سے کہا۔’’کیا یہ کافی نہیں تھی؟‘‘_____وہ میری بات پی گئے۔بدھیا برابر کیں۔پھرمیرے ننگے سر پر ہاتھ پھیرا اور مسکرا کر کہا’’_____اب تشریف لے جایئے۔میں نے ڈیوڑھی پر کسی سے پوچھا کہ یہ کون بزرگ تھے۔بتایا گیا کہ یہ بھسول کے قاضی انعام حسین ہیں۔
بھسول کے قاضی انعام حسین ،جن کی حکومت اور دولت کے افسانے میں اپنے گھرمیں سن چکا تھا۔میرے بزرگوں سے ان کے جو مراسم تھے مجھے معلوم تھے۔میں اپنی گستاخ نگاہوں پر شرمندہ تھا۔میں نے اندر سے آکر کئی بار موقع ڈھونڈھ کر ان کی چھوٹی موٹی خدمتیں انجام دیں۔جب میں چلنے لگا تو انہوں نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ دی،مجھے بھسول آنے کی دعوت دیاور کہا کہ اس رشتے سے پہلے بھی تم میرے بہت کچھ تھے لیکن اب تو داماد ہو گئے ہو۔اس قسم کے رسمی جملے سبھی کہتے ہیں لیکن اس وقت ان کے لہجے میں خلوص کی ایسی گرمی تھی کہ کسی نے یہ جملے میرے دل پر لکھ دیے۔
میں تھوڑی دیر کھڑا بگڑی ’’بس‘‘کو دیکھتے رہا ۔پھر اپنا بیگ جھلاتا ہوا جتے ہوئے کھیتوں میں اٹھلاتی ہوئی پگڈنڈی پر چلنے لگا۔سامنے وہ شاندار مسجد کھڑی تھی ،جسے قاضی انعام حسین نے اپنی جوانی میں بنوایا تھا۔مسجد کے سامنے میدان کے دونوں طرف ٹوٹے پھوٹے مکان کا سلسلہ تھا،جن میں شاید کبھی بھسول کے جانور رہتے ہونگے،ڈیوڑھی کے بالکل سامنے دو اونچے آم کے درخت ٹرانک کے سپاہی کی طرح چھتری لگائے کھڑے تھے۔ان کے تنے جل گئے تھے۔جگہ جگہ مٹی بھری تھی۔ڈیوڑھی کے دونوں طرف عمارتوں کے بجائے عمارتوں کا ملبہ پڑا تھا۔دن کے تین بجے تھے۔وہاں اس وقت نہ کوئی آدم تھا نہ آدم زاد کہ ڈیوڑھی سے قاضی صاحب نکلے۔لمبے قد کے جھکے ہوئے،ڈوریے کی قمیض،میلا پائجامہ اور موٹر ٹائر کے تلوؤں کا پرانا پمپ پہنے ہوئے،ماتھے پر ہتھیلی کا چھجہ بنائے مجھے گھور رہے تھے میں نے سلام کیا ۔جواب دینے کے بجائے وہ میرے قریب آئے اور جیسے ایک دم کھل گئے ۔میرے ہاتھ سے میرا بیگ چھین لیا اور میرا ہاتھ پکڑے ہوئے ڈیوڑھی میں گھس گئے۔
ہم اس چکر دار ڈیوڑھی سے گزر رہے تھے جس کی اندھیری چھت کمان کی طرح جھکی ہوئی تھی ۔دھنیوں کو گھنے ہوئے بد صورت شہتیر رو کے ہوئے تھے ۔
وہ ڈیوڑھی سے چلائے ۔’’ارے سنتی ہو______’’دیکھ تو کون آیا ہے ۔میں نے کہا اگر صندوق وندوق کھولی بیٹھی ہو تو بند کر لوجلدی سے۔‘‘لیکن دادی تو سامنے ہی کھڑی تھیں ،دھلے ہوئے گھڑوں گھڑونچی کے پاس دادا ان کو دیکھ کر سٹپٹا گئے ۔وہ بھی شرمندہ کھڑی تھیں پھر انہوں نے لپک کر الگنی پر پڑی مارکین کی دھلی چادر گھسیٹ لی اور ڈوپٹہ کی طرح اوڑھ لی۔چادر کے ایک سرے کو اتنا لمبا کر دیا کہ کرتے کے دامن میں لگا دوسرے کپڑے کا چمکتا پیوند چھپ جائے۔
اس اہتمام کے بعد وہ میرے پاس آئیں ۔کانپتے ہاتھوں سے بلائیں لیں ۔سکھ اور دکھ کی گنگا جمنی آواز میں دعائیں دیں دادی کانون سے میری بات سن رہی تھیں لیکن ہاتھوں سے جن کی جھریاں بھری کھال جھول گئی گئی تھی دالان کے اکلوتے ثابت پلنگ کو صاف کر رہیں تھیں ۔جس پر میلے کپڑے ،کتھے چونے کی کلیاں اور پان کی ڈلیاں ڈھیر تھیں اور آنکھوں سے کچھ اور سوچ رہی تھیں ۔مجھے پلنگ پر بٹھا کر دوسرے جھولا جیسی پلنگ کے نیچے سے وہ پنکھا اٹھا لائیں جس کے چاروں طرف کالے کپڑوں کی گوٹ لگی تھی اور کھڑی ہوئی میرے اس وقت تک جھلتی رہیں جب تک میں نے چھین نہ لیا۔پھر وہ باورچی خانے میں چلی گئیں ۔وہ ایک تین دروں کا دالان تھا ۔بیچ میں مٹی کا چولہا بنا تھا ۔المونیم کی چند میلی پتیلیاں کچھ پیپے اور کچھ ڈبے کچھ شیشے بوتل اور دو چار اسی قسم کی چھوٹی موٹی چیزوں کے علاوہ وہاں کچھ بھی نہ تھا۔وہ میری طرف پیٹھ کئے چولہے کے سامنے بیٹھی تھیں ۔دادا نے کونے میں کھڑے ہوئے پرانے حقہ سے بے رنگ چلم اتاری اور باورچی خانہ میں گھس گئے ۔میں ان دونوں کی گھن گھن شرگوشیاں سنتا رہا۔ دادا کئی بار جلدی جلدی باہر گئے اور آئے ۔میں نے اپنی شیروانی اتاری ۔ادھر ادھر دیکھ کر چھ دروزوں والے کمروں کے کواڑ پر پر ٹانگ دی۔نقشیں کواڑ کو دیمک چاٹ گئی تھی۔ ایک جگہ لوہے کی پتی لگی تھی لیکن بیچوں بیچ گول دائرے میں ہاتھی دانت کا کام ،کتھے اور تیل کے دھبوں میں جگمگا رہا تھا۔بیگ کھول کر میں نے چپل نکالے اور اور جب تک میں دوڑوں دادا گھڑونچی سے گھڑا اٹھا کر اس لمبے کمرے میں رکھ آئے جس میں ایک بھی کیواڑ نہ تھا ۔صرف گھیرے لگے کھڑے تھے۔جب میں نہانے گیا تو دادا المونیم کا لوٹا میرے ہاتھوں میں پکڑا کر مجرم کی طرح بولے۔’’تم بیٹے اطمینان سے نہاؤ۔ادھر کوئی نہیں آئے گا۔پردے تو میں ڈال دوں لیکن اندھیرا ہوتے ہی چمگادڑ گھس آئے گی اور تم کو دق کرے گی۔ 
میں گھڑے کو ایک کونے میں اٹھا لے گیا۔وہاں دیوار سے لگا ،اچھی خاصی سینی کے برابر پیتل کا گھنٹہ کھڑا تھا۔میں نے جھک کر دیکھا ۔گھنٹے میں مونگریوں کی مار سے داغ پڑ گئے تھے۔دو انگل کا حاشیہ چھوڑ کر جو سووراخ تھا اس میں سوت کی کالی رسی بندھی تھی۔اس سوراخ کے برابر ایک بڑا سا چاند تھا اس کے اوپر سات پہل کا ستارہ تھا۔میں نے تولیہ کے کونے سے جھاڑ کر دیکھا تو وہ چاند تارا بھسول اسٹیٹ کا مونو گرام تھا۔عربی رسم الخط میں ’’قاضی انعام حسین آف بھسول اسٹیٹ اودھ‘‘کھدا ہوا تھا۔یہی وہ گھنٹہ تھاجو بھسول کی ڈیوڑھی پر اعلان ریاست کے طور پرتقریباً ایک صدی سے بجتا چلا آ رہا تھا۔میں نے اسے روشنی میں دیکھنے کے لئے اٹھا نا چاہالیکن ایک ہاتھ سے نہ اٹھ سکا۔دونوں ہاتھوں سے اٹھا کر دیکھتا رہا۔میں دیر تک نہاتا رہا ۔جب باہر نکلا تو آنگن میں قاضی انعام حسین پلنگ بچھا رہے تھے۔قاضی انعام حسین جن کی گدی نشینی ہوئی تھی۔جن کے لئے بندوقوں کا لائسنس لینا ضروری نہیں تھا۔جنہیں ہر عدالت طلب نہیں کر سکتی تھی ۔دونوں ہاتھوں پر خدمت گاروں کی طرح طباق اٹھائے ہوئے آئے۔جس میں الگ الگ رنگوں کی دو پیالیاں ’’لب سوز‘‘چائے سے لبریز رکھی تھیں ایک بڑی سی پلیٹ میں دو ابلے ہوئے انڈے کاٹ کر پھیلا دئے گئے تھے ۔شروع اکتوبر کی خوشگوار ہواکے جھونکوں میں ہم لوگ بیٹھے نمک پڑی ہوئی چائے کی چسکیاں لے رہے تھے کہ دروازے پر کسی بوڑھی نے ہانک لگائی۔
’’مالک‘‘
’’
کون‘‘
’’
مہتر ہے آپ کا _______ صاحب جی کا بلابے آئے ہے۔‘‘
دادا نے گھبرا کر احتیاط سے اپنی پیالی طباق میں رکھ دی اور جوتے پہنتے ہوئے باہر چلے گئے ۔اپنے بھلے دنوں میں اس طرح شاید وہ کمشنر کے آنے کی خبر سن کر بھی نہ نکلے ہونگے ۔
میں ایک لمبی ٹہل لگا کر جب واپس آیا تو ڈیوڑھی میں مٹی کے تیل کی ڈبیا جل رہی تھی ۔دادا باورچی خانے میں بیٹھے چولھے کی روشنی میں لالٹین کی چمنی جوڑ رہے تھے میں ڈیوڑھی سے ڈبیااٹھا لایا اور اصرار کرکے ان سے چمنی لے کر جوڑنے لگا ۔
ہاتھ بھر لمبی لالٹین کی تیز گلابی روشنی میں ہم لوگ دیر تک بیٹھے باتیں کرتے رہے۔دادا میرے بزرگوں سے اپنے تعلقات بتاتے رہے۔اپنی جوانی کے قصے سناتے رہے۔کوئی آدھی رات کے قریب دادای نے زمین پر چٹائی بچھائی اور دستر خوان لگایا۔بہت سی ان میل بے جوڑ اصلی چینی کی پلیٹوں میں بہت سی قسموں کا کھانا چنا تھا ۔شاید میں نے آج تک اتنا نفیس کھانا نہیں کھا یا۔صبح میں دیر سے اٹھا۔ یہاں سے وہاں تک پلنگ پر ناشتہ چنا ہوا تھا۔دیکھتے ہی میں سمجھ گیا کہ دادی نے رات بھر ناشتہ پکایا ہے۔_____جب میں اپنا جوتا پہننے لگا تو رات کی طرح اس وقت بھی دادای نے مجھے آنسو بھری آواز سے روکا ۔مین معافی مانگتا رہا دادی خاموش کھڑی رہیں ۔جب میں شیروانی پہن چکا دروازے پر یکہ آگیا ،تب دادی نے کانپتے ہاتھوں سے میرے بازو پر امام ضامن باندھا،ان کے چہرے پر چونا پتا ہوا تھا۔آنکھیں آنسوؤں سے چھلک رہی تھیں ۔انہوں نے رندھی ہوئی آواز میں کہا’’یہ اکاون روپے تمہاری مٹھائی کے ہیں اور دس کرائے کے۔‘‘
’’
ارے ______ارے دادی ______آپ کیا کر رہی ہیں !‘‘اپنی جیب میں جاتے ہوئے روپیوں کو میں نے پکڑ لیے۔
چپ رہو تم _________تمہاری دادی سے اچھے تو ایسے ویسے لوگ ہیں جو جس کا حق ہوتا ہے وہ دے تو دیتے ہیں _غضب خدا کا تم زندگی میں پہلی بار میرے گھر آؤ میں تم کو جوڑے کے نام پر ایک چٹ بھی نہ دے سکوں _______ میں ________بھیا _______تیری دادی تو بھکارن ہو گئی۔
معلوم نہیں کہاں کہاں کا زخم کھل گیا ۔وہ دھاروں دھاروں رو رہی تھیں ۔دادا میری طرف پشت کئے کھڑے تھے اور جلدی جلدی حقہ پی رہے تھے ۔مجھے رخصت کرنے دادی ڈیوڑھی تک آئیں لیکن منھ سے کچھ نہ بولیں ۔میری پیٹھ پر ہاتھ رکھ کر اور گردن ہلا کر رخصت کر دیا۔
دادا قاضی انعام حسین تعلقدار بھسول تھوڑی دیر تک یکہ کے ساتھ چلتے رہے لیکن نہ مجھ سے آنکھ ملائی نہ مجھ سے خدا حافظ کہا ایک بار نگاہ اٹھا کر دیکھا اور میرے سلام کے جواب میں گردن ہلا دی۔
سدھولی جہاں سے سیتا پور کے لئے مجھے بس ملتی ابھی دور تھا۔میں اپنے خیالوں میں ڈوبا ہوا تھا کہ میرے یکہ کو سڑک پر کھڑی ہوئی سواری نے روک لیا۔جب میں ہوش میںآیا تو میرا یکہ والا ہاتھ جوڑے مجھ سے کہہ رہا تھا _______میاں ______الی شاہ بھسول کے ساہوکار ہیں ان کے یکہ کا بم ٹوٹ گیا ہے،آپ برا نہ مانو تو الی شاہ بیٹھ جائیں ۔
میری اجازت پا کر اس نے شاہ جی کو آواز دی ۔شاہ جی ریشمی کرتا اور مہین دھوتی پہنے آئے اور میرے برابر بیٹھ گئے اور یکہ والے نے میرے اور ان کے سامنے ’’پیتل کا گھنٹہ‘‘دونوں ہاتھوں سے اٹھا کر رکھ دیا۔گھنٹے کے پیٹ میں مونگری کی چوٹ کا داغ بنا تھا۔دو انگل کے حاشئے پر سوراخ میں سوت کی رسی پڑی تھی۔اس کے سامنے قاضی انعام حسین آف بھسول اسٹیٹ اودھ کا چاند اور ستارے کا مونو گرام بنا ہوا تھا ۔میں اسے دیکھ رہا تھا اور شاہ جی مجھے دیکھ رہے تھے اور یکے والا ہم دونوں کو دیکھ رہا تھا ۔یکے والے سے رہا نہ گیا ۔اس نے پوچھ ہی لیا۔
’’کا شاہ جی گھنٹہ بھی خرید لایو؟‘‘
’’
ہاں کل شام معلوم نائی کاوقت پڑا ہے میاں پر کہ گھنٹہ دے دین بلائے کے ای ‘‘ 
ہاں وقت وقت کی بات ہے ________ شاہ جی ناہیں تو ای گھنٹہ_______ 
’’
اے گھوڑے کی دم راستہ دیکھ کے چل ‘‘ ________یہ کہ کر اس نے چابک جھاڑا۔
میں ________میاں کا برا وقت ________چوروں کی طرح بیٹھا ہوا تھا ________ 
مجھے معلوم ہوا کہ یہ چابک گھوڑے کے نہیں میری پیٹھ پر پڑا ہے۔

 

Md. Imran Quraishi
ماشا اللہ بے حد عمدہ کوشش ہے طلباء وطالبات کے ساتھ تحقیقی کام کرنے والوں کو بھی ان شاء اللہ بہت فائدہ پہنچے گا۔
2017-08-25 18:57:18

Masood Azhar
کافی عرصے سے اس افسانہ کے پڑھنے کا متمنی تھا.آج وہ تمنا بھر آئی.اللہ اس کوشش کو دوام بخشے
2017-09-26 20:40:24

انصار احمد
بہت ہی عمدہ کوششیں ہیں اعظم ایوبی صاحب کی
2017-09-26 20:39:57

md azam ayubi
شکریہ انصار احمد صاحب
2017-09-28 13:23:14

Comment Form